حضرت شاہ بدیع الدین مدار (رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شاہ بدیع الدین مدار ولی زماں اور قدوہ کاملاں تھے ۔
خاندانی حالات:
آپ ہاشمی ہیں اور سادات بنی فاطمہ ہیں ۔ ۱؎
والد ماجد:
آپ کے والد ماجد کا نام سید علی ہے ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ ثانی کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، ان کے والد کا نام عبد اللہ تھا ۔
ولادت باسعادت:
آپ حلب میں یکم شوال ۴۴۲ھ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔ ۲؎
نام نامی:
آپ کا نام بدیع الدین ہے ۔
لقب:
آپ " قطب مدار " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی عمرجب پانچ سال کی ہوئی تو آپ کے والد بزرگوار نے آپ کی بسم اللہ کے بعد آپ کو مولانا حذیفہ شامی کے سپرد کیا، آپ کی تعلیم مولانا حذیفہ شامی کی نگرانی میں شروع ہوئی، آپ نے بہت جلد قرآن شریف ختم کیا، بارہ سال کی عمر میں آپ نے مختلف علوم میں اچھی خاصی استعداد حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ میں کمال حاصل کیا اور محدث مشہور ہوئے ۔ چودہ سال کی عمر میں آپ کا شمار علماء میں ہونے لگا ۔ آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ علم سیمیا ، علم کیمیا اور علم ریمیا میں بھی دستگاہ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
بعد تحصیل علوم ظاہری جذبہ الٰہی نے آپ کو علم باطن کے حصول کی طرف متوجہ کیا ۔ آپ حضرت طیفور شامی سے بیعت ہوئے ۔ ۳؎ اور بعد میں خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے، آپ کے پیر و دستگیر نے آپ کو جس دم کی تعلیم فرمائی، آپ حکم بجا لائے اور اس قدر حبس دم کیا کہ کھانے پینے کی خواہش جاتی رہی ۔
زیارت حرمین شریف:
مکہ معظمہ پہنچ کر آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا، کچھ دن وہاں قیام کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ دربارِ رسالت میں باطنی نعمتوں سے مستفید و مستفیض ہوئے، نسبت محمدی سے آپ کا لقب روشن ہوا ۔
فرمان:
ایک دن آپ دربار رسالت میں حاضر تھے ۔ مراقب ہوئے ۔ حضوری ہوئی، سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا ۔ " بدیع الدین! تم ہندوستان جاؤ اور وہاں جاکر مخلوق کی ہدایت میں کوشش کرو ۔
ہندوستان میں آمد:
آپ پہلی بار جب ہندوستان تشریف لائے تو گجرات میں کچھ عرصہ قیام فرمایا ۔ گجرات سے روانہ ہو کر اور شہروں کو زینت بخشی ۔
روانگی:
کچھ دن ہندوستان میں رہ کر اور مختلف شہروں میں گھوم کر آپ مکہ معظمہ چلے گئے ۔ حج کیا اور پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ بعد ازاں کاظمین، بغداد، نجف اشرف ہوتے ہوئے پھر ہندوستان تشریف لائے اور بغداد میں حضرت غوث الاعظم سے ملاقات کی " ۔۵؎
اس مرتبہ جو ہندوستان تشریف لائے تو دیگر مقامات کی سیر کی، پھر اجمیر پہنچے، اجمیر میں کوکلا پہاڑی پر آپ نے قیام فرمایا ۔ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ ۶؎ اجمیر سے روانہ ہو کر دیگر مقامات کو شرف بخشا ۔
حج:
حرمیں شریفین کی زیارت کا شوق پھر دامن گیر ہوا ۔ آپ حرمین شریفین کی زیارت اور حج سے فارغ ہو کر نجف اشرف گئے ۔ وہاں سے اپنے وطن حلب آئے ۔ حلب سے چنار گئے، وہاں کچھ دن قیام فرمانے کے بعد آپ اپنے عزیز سید عبد اللہ کے تینوں لڑکوں سید ابو محمد ارغون، سید ابو تراب فصور اور سید ابو الحسن طیغور کو ہمراہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ایک عرصے تک انوار محمدی سے منور و روشن ہوتے رہے اور مستفید ہوتے رہے ۔
ارشاد عالی:
ایک روز دربار رسالت سے آپ کو حکم ملاکہ ۷؎
" بدیع الدین! ہم نے تمہارے قیام کے لئے ہندوستان کو تجویز کیا ہے ۔ وہیں تم جاؤ اور رہو سہو اور دین محمدی کو پھیلاؤ اور اس کی کوشش میں دقیقہ نہ اٹھا رکھو " ۔
ہندوستان میں سکونت کے متعلق آپ کو دربار رسالت سے یہ حکم ملا قنوج کے میدان میں جنوب کی طرف جو تالاب ہے، اس کی لہروں سے یا عزیز کی آواز آتی ہے، وہ زمین ان کے رہنے کے لئے مناسب ہے، ان کا مسکن اور ان کا مدفن وہیں ہوگا " ۔
ہندوستان میں:
حکم پاکر ہندوستان روانہ ہوئے ۔ ممالک عرب، عجم، خراسان کی سیر و سیاحت فرماتے ہوئے، اجمیر آئے اور اجمیر سے کالپی چلے گئے ۔ کالپی سے جونپور ہوتے ہوئے مکن پور پہنچے، وہاں سے کنتور گئے، پھر گھاٹم پور ہوتے ہوئے سورت میں رونق افروز ہوئے ۔
آخری حج:
آپ زیارتِ حرمین شریف کے مقصد سے روانہ ہوئے ۔ حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور دربار نبوی کی عنایت سے سرفراز ہوئے ۔
مکن پور میں مستقل قیام:
ہندوستان واپس تشریف لائے اور مکن پور میں مستقل سکونت اختیار کی ۔ ۸؎
وصیت:
آپ نے وصیت فرمائی کہ ۔ ۹؎ " سید محمد ارغون، سید ابو تراب فصور، سید ابو الحسن طیفور کو میں نے اپنا جانشین کیا ۔ ان تینوں کو بجائے میرے تصور کرنا اور جو کوئی مشکل پیش آئے تو ان کی طرف رجوع کرنا " ۔ دوسری وصیت آپ نے یہ فرمائی کہ ۔ " میرے جنازے کی نماز مولانا حسام الدین سلامتی پڑھائیں گے " ۔
وصال:
آپ نے ۱۷ جمادی الاول ۸۳۸ھ کو وصال فرمایا ۔ مزار پر انوار مکن پور میں واقع ہے۔ ۱۰؎ " ساکن بہشت " مادہ تاریخ وفات ہے ۔
حضرت شاہ بدیع الدین مدار ولی زماں اور قدوہ کاملاں تھے ۔
خاندانی حالات:
آپ ہاشمی ہیں اور سادات بنی فاطمہ ہیں ۔ ۱؎
والد ماجد:
آپ کے والد ماجد کا نام سید علی ہے ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ ثانی کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، ان کے والد کا نام عبد اللہ تھا ۔
ولادت باسعادت:
آپ حلب میں یکم شوال ۴۴۲ھ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔ ۲؎
نام نامی:
آپ کا نام بدیع الدین ہے ۔
لقب:
آپ " قطب مدار " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی عمرجب پانچ سال کی ہوئی تو آپ کے والد بزرگوار نے آپ کی بسم اللہ کے بعد آپ کو مولانا حذیفہ شامی کے سپرد کیا، آپ کی تعلیم مولانا حذیفہ شامی کی نگرانی میں شروع ہوئی، آپ نے بہت جلد قرآن شریف ختم کیا، بارہ سال کی عمر میں آپ نے مختلف علوم میں اچھی خاصی استعداد حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ میں کمال حاصل کیا اور محدث مشہور ہوئے ۔ چودہ سال کی عمر میں آپ کا شمار علماء میں ہونے لگا ۔ آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ علم سیمیا ، علم کیمیا اور علم ریمیا میں بھی دستگاہ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
بعد تحصیل علوم ظاہری جذبہ الٰہی نے آپ کو علم باطن کے حصول کی طرف متوجہ کیا ۔ آپ حضرت طیفور شامی سے بیعت ہوئے ۔ ۳؎ اور بعد میں خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے، آپ کے پیر و دستگیر نے آپ کو جس دم کی تعلیم فرمائی، آپ حکم بجا لائے اور اس قدر حبس دم کیا کہ کھانے پینے کی خواہش جاتی رہی ۔
زیارت حرمین شریف:
مکہ معظمہ پہنچ کر آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا، کچھ دن وہاں قیام کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ دربارِ رسالت میں باطنی نعمتوں سے مستفید و مستفیض ہوئے، نسبت محمدی سے آپ کا لقب روشن ہوا ۔
فرمان:
ایک دن آپ دربار رسالت میں حاضر تھے ۔ مراقب ہوئے ۔ حضوری ہوئی، سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا ۔ " بدیع الدین! تم ہندوستان جاؤ اور وہاں جاکر مخلوق کی ہدایت میں کوشش کرو ۔
ہندوستان میں آمد:
آپ پہلی بار جب ہندوستان تشریف لائے تو گجرات میں کچھ عرصہ قیام فرمایا ۔ گجرات سے روانہ ہو کر اور شہروں کو زینت بخشی ۔
روانگی:
کچھ دن ہندوستان میں رہ کر اور مختلف شہروں میں گھوم کر آپ مکہ معظمہ چلے گئے ۔ حج کیا اور پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ بعد ازاں کاظمین، بغداد، نجف اشرف ہوتے ہوئے پھر ہندوستان تشریف لائے اور بغداد میں حضرت غوث الاعظم سے ملاقات کی " ۔۵؎
اس مرتبہ جو ہندوستان تشریف لائے تو دیگر مقامات کی سیر کی، پھر اجمیر پہنچے، اجمیر میں کوکلا پہاڑی پر آپ نے قیام فرمایا ۔ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ ۶؎ اجمیر سے روانہ ہو کر دیگر مقامات کو شرف بخشا ۔
حج:
حرمیں شریفین کی زیارت کا شوق پھر دامن گیر ہوا ۔ آپ حرمین شریفین کی زیارت اور حج سے فارغ ہو کر نجف اشرف گئے ۔ وہاں سے اپنے وطن حلب آئے ۔ حلب سے چنار گئے، وہاں کچھ دن قیام فرمانے کے بعد آپ اپنے عزیز سید عبد اللہ کے تینوں لڑکوں سید ابو محمد ارغون، سید ابو تراب فصور اور سید ابو الحسن طیغور کو ہمراہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ایک عرصے تک انوار محمدی سے منور و روشن ہوتے رہے اور مستفید ہوتے رہے ۔
ارشاد عالی:
ایک روز دربار رسالت سے آپ کو حکم ملاکہ ۷؎
" بدیع الدین! ہم نے تمہارے قیام کے لئے ہندوستان کو تجویز کیا ہے ۔ وہیں تم جاؤ اور رہو سہو اور دین محمدی کو پھیلاؤ اور اس کی کوشش میں دقیقہ نہ اٹھا رکھو " ۔
ہندوستان میں سکونت کے متعلق آپ کو دربار رسالت سے یہ حکم ملا قنوج کے میدان میں جنوب کی طرف جو تالاب ہے، اس کی لہروں سے یا عزیز کی آواز آتی ہے، وہ زمین ان کے رہنے کے لئے مناسب ہے، ان کا مسکن اور ان کا مدفن وہیں ہوگا " ۔
ہندوستان میں:
حکم پاکر ہندوستان روانہ ہوئے ۔ ممالک عرب، عجم، خراسان کی سیر و سیاحت فرماتے ہوئے، اجمیر آئے اور اجمیر سے کالپی چلے گئے ۔ کالپی سے جونپور ہوتے ہوئے مکن پور پہنچے، وہاں سے کنتور گئے، پھر گھاٹم پور ہوتے ہوئے سورت میں رونق افروز ہوئے ۔
آخری حج:
آپ زیارتِ حرمین شریف کے مقصد سے روانہ ہوئے ۔ حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور دربار نبوی کی عنایت سے سرفراز ہوئے ۔
مکن پور میں مستقل قیام:
ہندوستان واپس تشریف لائے اور مکن پور میں مستقل سکونت اختیار کی ۔ ۸؎
وصیت:
آپ نے وصیت فرمائی کہ ۔ ۹؎ " سید محمد ارغون، سید ابو تراب فصور، سید ابو الحسن طیفور کو میں نے اپنا جانشین کیا ۔ ان تینوں کو بجائے میرے تصور کرنا اور جو کوئی مشکل پیش آئے تو ان کی طرف رجوع کرنا " ۔ دوسری وصیت آپ نے یہ فرمائی کہ ۔ " میرے جنازے کی نماز مولانا حسام الدین سلامتی پڑھائیں گے " ۔
وصال:
آپ نے ۱۷ جمادی الاول ۸۳۸ھ کو وصال فرمایا ۔ مزار پر انوار مکن پور میں واقع ہے۔ ۱۰؎ " ساکن بہشت " مادہ تاریخ وفات ہے ۔
❤2
خلفاء:
تین حضرت کو آپ کی خلافت و جانشینی کا شرف حاصل ہوا ۔ ان تین حضرات کو " کنفس واحدہ " مانا جاتا ہے اور ایک ہی لقب سے تینوں پکارے جاتے ہیں ۔ ان تین حضرات کے نام حسب ذیل ہیں ۔ ۱۱؎
❶ حضرت خواجہ سید ابو محمد ارغوں ، ❷ حضرت سید ابو تراب فصور ، ❸ حضرت سید ابو الحسن طیفور ۔
آپ کے ممتاز خلفاء حسب ذیل ہیں: ۱۲؎
❶ حضرت قاضی محمود
❷ حضرت سید اجمل جونپوری
❸ حضرت قاضی مطہر ـ
ان کے علاوہ حسب ذیل حضرات کو آپ
کا خلیفہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ ۱۳؎
❹ سید پولاد شمس ثانی چوبدار
❺ حضرت قاضی شہاب الدین پر کالہ آتش
❻ سید صدر الدین
❼ شیخ حسین بلخی
❽ سید صدر جہاں
❾ شیخ آدم صوفی
❿ سلطان شہباز
⓫ سلطان حسن عربی
⓬ میاں سیف اللہ
⓭ شیخ فخر الدین
⓮ عادل شاہ ۔
سیرت پاک:
آپ کو مقام صمدیت حاصل تھا، آپ حبس دم بہت فرماتے تھے، آپ کی عمر بہت ہوئی، آپ کھانے پینے کی خواہش سے مدتوں بے نیاز رہتے تھے، آپ سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض یافتہ تھے، آپ اویسی تھے ۔ ۱۴؎
مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار:
یہ مثال " مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار " زبان زد خاص و عام ہے ۔ جب کوئی شخص کسی تکلیف یا مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے اور اس پر کوئی نئی مصیبت یا تکلیف وارد ہوتی ہے یا اس پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ " مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار " اس کے معنی، مضمرات اور متعلقات سے بہت ہی کم لوگ واقف ہیں ۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ شاہ مدار رحمۃ اللہ علیہ کو یہ قدرت حاصل تھی کہ جو صوفی مرتبہ فنا میں ہوتے تھے، آپ ان کو اس مقام سے نکال کر مرتبہ فناء الفنا میں پہنچا دیتے ہیں ۔
تعلیمات:
آپ کی تعلیمات معرفت خزینہ ہیں ۔
خدا طلبی:
آپ نے حضرت شاہ فضل اللہ بدخشانی سے فرمایا کہ ۔ ۱۵؎ " اے عزیز! تم نے اس کوچے میں قدم رکھا ہے ۔ جو ایک دریائے ناپیدا کنار ہے ۔ جس میں بلا اندر بلا ہے ۔ جو لوگ ہوشیار ہوتے ہیں، وہ جرات و ہمت کو اپنا شعار کرکے پار ہو جاتے ہیں اور حیات ابدی حاصل کرتے ہیں ۔ اس میں راحت و آرام کو خیر آباد کہنا ہوتا ہے اور جیتے جی مصیبت میں مبتلا ہونا پڑتا ہے " ۔
تین حضرت کو آپ کی خلافت و جانشینی کا شرف حاصل ہوا ۔ ان تین حضرات کو " کنفس واحدہ " مانا جاتا ہے اور ایک ہی لقب سے تینوں پکارے جاتے ہیں ۔ ان تین حضرات کے نام حسب ذیل ہیں ۔ ۱۱؎
❶ حضرت خواجہ سید ابو محمد ارغوں ، ❷ حضرت سید ابو تراب فصور ، ❸ حضرت سید ابو الحسن طیفور ۔
آپ کے ممتاز خلفاء حسب ذیل ہیں: ۱۲؎
❶ حضرت قاضی محمود
❷ حضرت سید اجمل جونپوری
❸ حضرت قاضی مطہر ـ
ان کے علاوہ حسب ذیل حضرات کو آپ
کا خلیفہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ ۱۳؎
❹ سید پولاد شمس ثانی چوبدار
❺ حضرت قاضی شہاب الدین پر کالہ آتش
❻ سید صدر الدین
❼ شیخ حسین بلخی
❽ سید صدر جہاں
❾ شیخ آدم صوفی
❿ سلطان شہباز
⓫ سلطان حسن عربی
⓬ میاں سیف اللہ
⓭ شیخ فخر الدین
⓮ عادل شاہ ۔
سیرت پاک:
آپ کو مقام صمدیت حاصل تھا، آپ حبس دم بہت فرماتے تھے، آپ کی عمر بہت ہوئی، آپ کھانے پینے کی خواہش سے مدتوں بے نیاز رہتے تھے، آپ سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض یافتہ تھے، آپ اویسی تھے ۔ ۱۴؎
مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار:
یہ مثال " مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار " زبان زد خاص و عام ہے ۔ جب کوئی شخص کسی تکلیف یا مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے اور اس پر کوئی نئی مصیبت یا تکلیف وارد ہوتی ہے یا اس پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ " مرتے کو ماریں زندہ شاہ مدار " اس کے معنی، مضمرات اور متعلقات سے بہت ہی کم لوگ واقف ہیں ۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ شاہ مدار رحمۃ اللہ علیہ کو یہ قدرت حاصل تھی کہ جو صوفی مرتبہ فنا میں ہوتے تھے، آپ ان کو اس مقام سے نکال کر مرتبہ فناء الفنا میں پہنچا دیتے ہیں ۔
تعلیمات:
آپ کی تعلیمات معرفت خزینہ ہیں ۔
خدا طلبی:
آپ نے حضرت شاہ فضل اللہ بدخشانی سے فرمایا کہ ۔ ۱۵؎ " اے عزیز! تم نے اس کوچے میں قدم رکھا ہے ۔ جو ایک دریائے ناپیدا کنار ہے ۔ جس میں بلا اندر بلا ہے ۔ جو لوگ ہوشیار ہوتے ہیں، وہ جرات و ہمت کو اپنا شعار کرکے پار ہو جاتے ہیں اور حیات ابدی حاصل کرتے ہیں ۔ اس میں راحت و آرام کو خیر آباد کہنا ہوتا ہے اور جیتے جی مصیبت میں مبتلا ہونا پڑتا ہے " ۔
❤2
معرفت خدا وندی:
آپ فرماتے ہیں ۔ ۱۶؎ " اول اپنے آپ کو پہچانو خدا کو پہچان لوگے ۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہتم کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو، کہاں جانا ہے ۔ اس عالم میں کس لئے آئے تھے اور خدا وند تعالیٰ نے تم کو کس لئے پیدا کیا ہے اور نیک بختی اور بد بختی کیا ہے ۔ اول تم کو ان چیزوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور تمہاری صفات بعض حیوانی ہیں، بعض شیطانی، بعض ملکی " ۔
" تم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمہاری اصل صفات کون ہیں ۔ یاد رکھو کھانا، پینا، سونا، فربہ ہونا، غصہ کرنا یہ حیوانی صفات ہیں ۔ مکر و فریب کرنا، فتنہ برپا کرنا، یہ شیطانی صفات ہیں، اگر ان صفات کے تم تابع ہوگے تو حق تعالیٰ کی معرفت تم کو حاصل نہیں ہو سکتی، ہاں اگر صفات ملکوتی تم حاصل کر لوگے تو کیا عجب کہ معرفت خدا وندی سے تمہارا قلب روشن ہو جائے ۔ تم کو کوشش کرنی چاہیے کہ صفات حیوانی و شیطانی سے نکل کر صفات ملکوتی حاصل کرو " ۔
" دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم کو دو چیزوں سے بنایا ہے " ۔ ایک بدن اور دوسری روح ۔ " روح کی دو قسمیں ہیں ۔ حیوانی، انسانی، روحِ حیوانی تمام جانوروں کو عنایت ہوئی ہے اور روحِ انسانی انسان کے ساتھ خاص ہے ۔ جب تک روحِ انسانی سے کام نہ لوگے، انسان نہیں ہو سکتے اور نہ معرفتِ خدا وندی حاصل ہو سکتی ہے " ۔
اقوال:
❶ آدمی پر ذات کا پر تو ہے اور کعبہ پر صفات کا ۔ ❷ وحدت نقطہ سے زیادہ نہیں ہے ۔ ❸ قلندر وہ ہوتا ہے، جو صفات الٰہی کے ساتھ متصف ہو، بفحوائے حدیث پاک ـ واتصفوا بصفات اللّٰہ یا تخلقوا باخلاق اللّٰہ او کما قال ـ یعنی: خدا کی عادت اور صفات کے ساتھ تم کو اپنی عادت کرنی چاہیے ۔ دل کی حفاظت کرو، سالک وہ ہوتا ہے کہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چلا جائے ۔
کشف و کرامات:
بی بی نصیبہ کے کوئی لڑکا نہیں تھا ۔ جب بغداد تشریف لے گئے، بی بی نصیبہ آپ سے دعا کی طالب ہوئیں، آپ کی دعا سے دو لڑکے ہوئے ۔ ۱۷؎
ایک روز کا واقعہ ہے کہ آپ دریا کے کنارے رونق افروز تھے، ایک سودا گر اپنا مال کشتی میں رکھ کر روانہ ہوا، کچھ دور جاکر وہ کشتی دریا میں ڈوب گئی، ایک شخص نے جو وہاں موجود تھا ۔ اس حادثے کی خبر آپ کو دی، آپ نے ایک مٹھی خاک اس کو دی اور دریا میں ڈالنے کی تاکید فرمائی اس نے وہ مٹھی خاک دریا میں ڈالی، کشتی بر آمد ہو گئی ۔ ۱۸؎
حواشی:
۱؎ سفینتہ الاولیاء (فارسی) تذکرہ الکرام تاریخ خلفاء عرب والاسلام، مدار اعظم ص۲۸
۲؎ مدار اعظم ص۳۹،۳۴
۳؎ مدار اعظم ص ۳۴،۲۹
۴؎ مدار اعظم ص۲۴،۲۳
۵؎ ثمرۃ القدس، تحفتہ المداریہ، ذو الفقار بدیع ص۸۳
۶؎ مدار اعظم ص۵۶
۷؎ مدار اعظم ص۸۷،۵۹
۸؎ مدار اعظم ص۸۸،۸۷
۹؎ مدار اعظم ص۱۲۰
۱۰؎ مدار اعظم ص۱۳۱،۱۲۲
۱۱؎ یحفتہ الابرار، تحفتہ المداریہ، ذولفقار بدیع ص۵۵
۱۲؎ لطائف اشرفی
۱۳؎ مدار اعظم ص۹۳
۱۴؎ مدار اعظم ص۵۷
۱۵؎ ذو الفقار بدیع ص۴۵،۴۳
۱۶؎ مدار اعظم ص۹۱،۹۰
۱۷؎ ذوالفقار بدیع ص۴۵،۴۳
۱۸؎ مدار اعظم ص۹۱،۹۰
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
لوگ آپ کے متعلق بڑے بڑے عجیب و غریب واقعات نقل کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ آپ سمندر میں رہا کرتے تھے جو صوفیوں کا ایک مقام ہے، آپ نے بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا، ایک بار جس کپڑے کو پہنتے پھر دھونے کی غرض سے اتارتے نہ تھے، اکثر کپڑے سے چہرہ ڈھانپے رہتے تھے، آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑ جاتی تو وہ بے اختیار ہو کر آپ کی غایت درجہ تعظیم و تکریم کرتا ۔
عمر کے طویل ہونے یا کسی اور وجہ سے آپ کا سلسلہ پانچ یا چھ واسطوں سے رسول کریم ﷺ تک مل جاتا ہے اور سلسلۂ مداری کے بعض لوگ تو آپ کو بغیر کسی واسطہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے ہیں، بعضے کچھ اور کہتے ہیں لیکن یہ سب باتیں حدود شریعت سے خارج اور بے اصل ہیں واللہ اعلم بالصواب ۔
قاضی شہاب الدین دولت آبادی بھی آپ ہی کے ہم عصر تھے، ایک خط کے متعلق لوگوں میں بہت مشہور ہے کہ یہ خط شاہ بدیع الدین نے قاضی شہاب الدین کو لکھا تھا اور جو کچھ شیخ سراج سوختہ کے متعلق لکھا گیا ہے وہ کالپی کے بعض بڑے فضلا سے منقول ہے، یہی فضلاء فرماتے ہیں کہ اس خط کا قصہ ہمارے دیار میں بھی مشہور ہے لیکن یہ بلا سند بات ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
اخبار الاخیار ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-badiuddin-zinda-shah-madar
آپ فرماتے ہیں ۔ ۱۶؎ " اول اپنے آپ کو پہچانو خدا کو پہچان لوگے ۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہتم کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو، کہاں جانا ہے ۔ اس عالم میں کس لئے آئے تھے اور خدا وند تعالیٰ نے تم کو کس لئے پیدا کیا ہے اور نیک بختی اور بد بختی کیا ہے ۔ اول تم کو ان چیزوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور تمہاری صفات بعض حیوانی ہیں، بعض شیطانی، بعض ملکی " ۔
" تم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمہاری اصل صفات کون ہیں ۔ یاد رکھو کھانا، پینا، سونا، فربہ ہونا، غصہ کرنا یہ حیوانی صفات ہیں ۔ مکر و فریب کرنا، فتنہ برپا کرنا، یہ شیطانی صفات ہیں، اگر ان صفات کے تم تابع ہوگے تو حق تعالیٰ کی معرفت تم کو حاصل نہیں ہو سکتی، ہاں اگر صفات ملکوتی تم حاصل کر لوگے تو کیا عجب کہ معرفت خدا وندی سے تمہارا قلب روشن ہو جائے ۔ تم کو کوشش کرنی چاہیے کہ صفات حیوانی و شیطانی سے نکل کر صفات ملکوتی حاصل کرو " ۔
" دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم کو دو چیزوں سے بنایا ہے " ۔ ایک بدن اور دوسری روح ۔ " روح کی دو قسمیں ہیں ۔ حیوانی، انسانی، روحِ حیوانی تمام جانوروں کو عنایت ہوئی ہے اور روحِ انسانی انسان کے ساتھ خاص ہے ۔ جب تک روحِ انسانی سے کام نہ لوگے، انسان نہیں ہو سکتے اور نہ معرفتِ خدا وندی حاصل ہو سکتی ہے " ۔
اقوال:
❶ آدمی پر ذات کا پر تو ہے اور کعبہ پر صفات کا ۔ ❷ وحدت نقطہ سے زیادہ نہیں ہے ۔ ❸ قلندر وہ ہوتا ہے، جو صفات الٰہی کے ساتھ متصف ہو، بفحوائے حدیث پاک ـ واتصفوا بصفات اللّٰہ یا تخلقوا باخلاق اللّٰہ او کما قال ـ یعنی: خدا کی عادت اور صفات کے ساتھ تم کو اپنی عادت کرنی چاہیے ۔ دل کی حفاظت کرو، سالک وہ ہوتا ہے کہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چلا جائے ۔
کشف و کرامات:
بی بی نصیبہ کے کوئی لڑکا نہیں تھا ۔ جب بغداد تشریف لے گئے، بی بی نصیبہ آپ سے دعا کی طالب ہوئیں، آپ کی دعا سے دو لڑکے ہوئے ۔ ۱۷؎
ایک روز کا واقعہ ہے کہ آپ دریا کے کنارے رونق افروز تھے، ایک سودا گر اپنا مال کشتی میں رکھ کر روانہ ہوا، کچھ دور جاکر وہ کشتی دریا میں ڈوب گئی، ایک شخص نے جو وہاں موجود تھا ۔ اس حادثے کی خبر آپ کو دی، آپ نے ایک مٹھی خاک اس کو دی اور دریا میں ڈالنے کی تاکید فرمائی اس نے وہ مٹھی خاک دریا میں ڈالی، کشتی بر آمد ہو گئی ۔ ۱۸؎
حواشی:
۱؎ سفینتہ الاولیاء (فارسی) تذکرہ الکرام تاریخ خلفاء عرب والاسلام، مدار اعظم ص۲۸
۲؎ مدار اعظم ص۳۹،۳۴
۳؎ مدار اعظم ص ۳۴،۲۹
۴؎ مدار اعظم ص۲۴،۲۳
۵؎ ثمرۃ القدس، تحفتہ المداریہ، ذو الفقار بدیع ص۸۳
۶؎ مدار اعظم ص۵۶
۷؎ مدار اعظم ص۸۷،۵۹
۸؎ مدار اعظم ص۸۸،۸۷
۹؎ مدار اعظم ص۱۲۰
۱۰؎ مدار اعظم ص۱۳۱،۱۲۲
۱۱؎ یحفتہ الابرار، تحفتہ المداریہ، ذولفقار بدیع ص۵۵
۱۲؎ لطائف اشرفی
۱۳؎ مدار اعظم ص۹۳
۱۴؎ مدار اعظم ص۵۷
۱۵؎ ذو الفقار بدیع ص۴۵،۴۳
۱۶؎ مدار اعظم ص۹۱،۹۰
۱۷؎ ذوالفقار بدیع ص۴۵،۴۳
۱۸؎ مدار اعظم ص۹۱،۹۰
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
لوگ آپ کے متعلق بڑے بڑے عجیب و غریب واقعات نقل کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ آپ سمندر میں رہا کرتے تھے جو صوفیوں کا ایک مقام ہے، آپ نے بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا، ایک بار جس کپڑے کو پہنتے پھر دھونے کی غرض سے اتارتے نہ تھے، اکثر کپڑے سے چہرہ ڈھانپے رہتے تھے، آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑ جاتی تو وہ بے اختیار ہو کر آپ کی غایت درجہ تعظیم و تکریم کرتا ۔
عمر کے طویل ہونے یا کسی اور وجہ سے آپ کا سلسلہ پانچ یا چھ واسطوں سے رسول کریم ﷺ تک مل جاتا ہے اور سلسلۂ مداری کے بعض لوگ تو آپ کو بغیر کسی واسطہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے ہیں، بعضے کچھ اور کہتے ہیں لیکن یہ سب باتیں حدود شریعت سے خارج اور بے اصل ہیں واللہ اعلم بالصواب ۔
قاضی شہاب الدین دولت آبادی بھی آپ ہی کے ہم عصر تھے، ایک خط کے متعلق لوگوں میں بہت مشہور ہے کہ یہ خط شاہ بدیع الدین نے قاضی شہاب الدین کو لکھا تھا اور جو کچھ شیخ سراج سوختہ کے متعلق لکھا گیا ہے وہ کالپی کے بعض بڑے فضلا سے منقول ہے، یہی فضلاء فرماتے ہیں کہ اس خط کا قصہ ہمارے دیار میں بھی مشہور ہے لیکن یہ بلا سند بات ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
اخبار الاخیار ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-badiuddin-zinda-shah-madar
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ اولیاء ہند میں کبار مشائخ میں شمار ہوتے تھے ۔ بڑی بڑی عجیب و غریب کرامات کا اظہار ہوتا ہے مقامات ارجمند پر فائز تھے ۔ حضرت شیخ مدار کی بزرگی احاطہ تحریر میں نہیں آ سکتی ـ اخبار الاخیار ۔ معارج الولایت…
حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مکن پور شریف
https://t.me/islaamic_Knowledge/64380
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📋 مداریوں کا رد ضروری ہے 📋
مداریوں کے رد پر کچھ پوسٹیں
از ✍ مولانا حسن نوری گونڈوی
@islaamic_Knowledge
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے ـ جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں ـ
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء ﷺ و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں ـ
✍ مولانا حسن نوری گونڈوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قسط ❶ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41806
قسط ❷ ہندی
https://t.me/islaamic_Knowledge/41807
قسط ❸ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41809
قسط ❹ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41810
قسط ❺ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41811
قسط ❻ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41813
قسط ❼ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41814
قسط ❽ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41815
قسط ❾ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41816
قسط ❿ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41817
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تحریر از مفتی مقصود عالم
https://t.me/islaamic_Knowledge/41819
https://t.me/islaamic_Knowledge/64380
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📋 مداریوں کا رد ضروری ہے 📋
مداریوں کے رد پر کچھ پوسٹیں
از ✍ مولانا حسن نوری گونڈوی
@islaamic_Knowledge
ہمیں اختلاف سرکار مدار سے نہیں بلکہ مداریوں سے ہے ـ جو بزرگوں کی صریح توہین کرتے ہیں ـ
سرکار زندہ شاہ مدار کی محبت کی آڑ میں امام الانبیاء ﷺ و سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں ـ
✍ مولانا حسن نوری گونڈوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قسط ❶ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41806
قسط ❷ ہندی
https://t.me/islaamic_Knowledge/41807
قسط ❸ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41809
قسط ❹ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41810
قسط ❺ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41811
قسط ❻ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41813
قسط ❼ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41814
قسط ❽ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41815
قسط ❾ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41816
قسط ❿ اردو
https://t.me/islaamic_Knowledge/41817
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تحریر از مفتی مقصود عالم
https://t.me/islaamic_Knowledge/41819
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-05-1445 ᴴ | 03-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-05-1445 ᴴ | 03-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-05-1445 ᴴ | 03-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1