🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ غلام رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سولجر بازار، قادری مسجد)
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت مولانا الحاج حافظ قاری غلام رسول قادری بن حافظ قاری علم الدین قادری رحمۃ اللہ علیہما تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1306ھ میں کراچی" صدر" میں مسجد قصابان سے ملحقہ مکان میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت خود آپ کے والد ماجد حافظ قاری علم الدین قادری کی زیر نگرانی انہی کے ’’مدرسہ العلمیہ قادریہ ‘‘متصل مسجد قصابان صدر میں ہوئی آپ نے علوم دینی کے ساتھ ساتھ تجوید و حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ اپنے والد کے علاوہ بھی آپ نے جید قراء و علما ء ِدین سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں اٹھارہ سال تک بہت بڑے جید قاری نظام محمد صاحب سے قرآن مجید پڑھتا رہا ہوں "۔
بیعت و خلافت:
آپ نے جوانی میں روضہ نبوی ﷺ کے زیر سایہ"باب الرحمت"میں حضرت مولانا عبداللطیف قادری مہاجر مدنی سے سلسلہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے جو کہ ہندوستان سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں اپنے خاندانی بزرگ، ماموں و خسر حضرت صوفی سائیں عبدالغفار قادری قلندری سے بھی آپ نے حصولِ برکت کے لئے بیعت کی۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
سیرت و خصائص:
حضرت شاہ غلام رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کواوائل عمر ہی سے دینی تعلیم کا ذوق اور فقر و درویشی سے شغف رہا ۔ آپ نہ صرف مختلف زبانوں پر مہارت تامہ رکھتے تھے بلکہ ایک شعلہ بیان خطیب ، بہترین نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی تمام عمر مواعظہ حسنہ اور تبلیغ و اشاعتِ دین میں گذری ۔ آپ نے عہد جوانی میں فرئیر اسٹریٹ صدر کراچی میں"انجمن حزب الاحناف "کی بنیاد 1913ء میں رکھی، جس کے آپ صدر تھے۔ جمعیت الاحناف کے تحت ہر ماہ جامع مسجد قصا بان ( صدر، کراچی) میں ایک جلسہ کا انعقاد ہوتا تھا ۔اسی طرح جمعیت الاحناف کے صدر دفتر میں سالانہ عظیم الشان جلسہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں اندرون و بیرونِ شہر سے علماءِ اہل سنت و عمائدینِ ملت بھی مدعو کئے جاتے ۔ جلسہ میں نعرہ تکبیر و رسالت، تسبیح و تحمید استغفار و اذکار کاشغل، صلوۃ و سلام کا ورد ، آیاتِ قرآن مجید کی تلاوت اور مختصر وعظ اور وعظ سے قبل اور بعد نعت خوانی اور اختتام پر سلام و قیام بھی قواعد و ضوابط میں شامل تھا۔ آپ کے تبلیغ دین کے ذرائع میں بڑے بڑے مذہبی تہوار مثلاً میلاد النبی ﷺ، معراج النبی ﷺ شب برات ، شب قدر ، گیارہویں شریف اور ہفتہ وار حلقہ ذکر شریف شامل تھے۔ علاوہ ازیں آپ روزانہ بعد نماز عصر خصوصی طور پر حاضرین سے خطاب فرماتے تھے۔ محرم الحرام کی چاند رات سے عاشورہ تک آپ حضور اکرام ﷺ سے لے کر خلفائے راشدین ، اہل بیت عظام خصوصاً حسنین کریمین شہدائے کربلا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے شہادت کے واقعات بیان فرماتے تھے۔
تحریک پاکستان کے موقع پر قاری غلام رسول نے قیام پاکستان کے حوالہ سے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ نے ہم عصر مقتدر علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ مل کر عوام میں دینی و روحانی شعور بیدار فرمایا اور دینی جلسوں کی صدارت فرماتے ہوئے تحریکِ پاکستان کو بھر پور تقویت فراہم کی۔ 12، 13 اکتوبر 1946ء میں "سنی کانفرنس کراچی" آپ ہی کی صدارت میں منعقد کی گئی تھی ۔ جس میں پاکستان بنانے پر زور دیا گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال طویل علالت کے بعد 18جمادی الاول 1391ھ / بمطابق جولائی1971ء بروز منگل تقریباً ساڑھے آٹھ بجے شب ہوا ۔ بروز بدھ بعد نمازِ ظہر مریدین و معتقد ین اور علماء و مشائخ کی موجودگی میں کراچی کے مشہور پارک" نشتر پارک" کے میدان میں حضرت مولانا سید محمد یوسف عزیز الملک سلیمانی کی اقتداء میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ آپ کا مزار شریف آپ کی قائم کردہ "قادری مسجد" ( سولجر بازار کراچی ) کے احاطہ میں مرجع عام و خاص ہے۔
ماخذ و مراجع: انوارِ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-rasool-qadri
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت مولانا الحاج حافظ قاری غلام رسول قادری بن حافظ قاری علم الدین قادری رحمۃ اللہ علیہما تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1306ھ میں کراچی" صدر" میں مسجد قصابان سے ملحقہ مکان میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت خود آپ کے والد ماجد حافظ قاری علم الدین قادری کی زیر نگرانی انہی کے ’’مدرسہ العلمیہ قادریہ ‘‘متصل مسجد قصابان صدر میں ہوئی آپ نے علوم دینی کے ساتھ ساتھ تجوید و حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ اپنے والد کے علاوہ بھی آپ نے جید قراء و علما ء ِدین سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں اٹھارہ سال تک بہت بڑے جید قاری نظام محمد صاحب سے قرآن مجید پڑھتا رہا ہوں "۔
بیعت و خلافت:
آپ نے جوانی میں روضہ نبوی ﷺ کے زیر سایہ"باب الرحمت"میں حضرت مولانا عبداللطیف قادری مہاجر مدنی سے سلسلہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے جو کہ ہندوستان سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں اپنے خاندانی بزرگ، ماموں و خسر حضرت صوفی سائیں عبدالغفار قادری قلندری سے بھی آپ نے حصولِ برکت کے لئے بیعت کی۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
سیرت و خصائص:
حضرت شاہ غلام رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کواوائل عمر ہی سے دینی تعلیم کا ذوق اور فقر و درویشی سے شغف رہا ۔ آپ نہ صرف مختلف زبانوں پر مہارت تامہ رکھتے تھے بلکہ ایک شعلہ بیان خطیب ، بہترین نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی تمام عمر مواعظہ حسنہ اور تبلیغ و اشاعتِ دین میں گذری ۔ آپ نے عہد جوانی میں فرئیر اسٹریٹ صدر کراچی میں"انجمن حزب الاحناف "کی بنیاد 1913ء میں رکھی، جس کے آپ صدر تھے۔ جمعیت الاحناف کے تحت ہر ماہ جامع مسجد قصا بان ( صدر، کراچی) میں ایک جلسہ کا انعقاد ہوتا تھا ۔اسی طرح جمعیت الاحناف کے صدر دفتر میں سالانہ عظیم الشان جلسہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں اندرون و بیرونِ شہر سے علماءِ اہل سنت و عمائدینِ ملت بھی مدعو کئے جاتے ۔ جلسہ میں نعرہ تکبیر و رسالت، تسبیح و تحمید استغفار و اذکار کاشغل، صلوۃ و سلام کا ورد ، آیاتِ قرآن مجید کی تلاوت اور مختصر وعظ اور وعظ سے قبل اور بعد نعت خوانی اور اختتام پر سلام و قیام بھی قواعد و ضوابط میں شامل تھا۔ آپ کے تبلیغ دین کے ذرائع میں بڑے بڑے مذہبی تہوار مثلاً میلاد النبی ﷺ، معراج النبی ﷺ شب برات ، شب قدر ، گیارہویں شریف اور ہفتہ وار حلقہ ذکر شریف شامل تھے۔ علاوہ ازیں آپ روزانہ بعد نماز عصر خصوصی طور پر حاضرین سے خطاب فرماتے تھے۔ محرم الحرام کی چاند رات سے عاشورہ تک آپ حضور اکرام ﷺ سے لے کر خلفائے راشدین ، اہل بیت عظام خصوصاً حسنین کریمین شہدائے کربلا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے شہادت کے واقعات بیان فرماتے تھے۔
تحریک پاکستان کے موقع پر قاری غلام رسول نے قیام پاکستان کے حوالہ سے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ نے ہم عصر مقتدر علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ مل کر عوام میں دینی و روحانی شعور بیدار فرمایا اور دینی جلسوں کی صدارت فرماتے ہوئے تحریکِ پاکستان کو بھر پور تقویت فراہم کی۔ 12، 13 اکتوبر 1946ء میں "سنی کانفرنس کراچی" آپ ہی کی صدارت میں منعقد کی گئی تھی ۔ جس میں پاکستان بنانے پر زور دیا گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال طویل علالت کے بعد 18جمادی الاول 1391ھ / بمطابق جولائی1971ء بروز منگل تقریباً ساڑھے آٹھ بجے شب ہوا ۔ بروز بدھ بعد نمازِ ظہر مریدین و معتقد ین اور علماء و مشائخ کی موجودگی میں کراچی کے مشہور پارک" نشتر پارک" کے میدان میں حضرت مولانا سید محمد یوسف عزیز الملک سلیمانی کی اقتداء میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ آپ کا مزار شریف آپ کی قائم کردہ "قادری مسجد" ( سولجر بازار کراچی ) کے احاطہ میں مرجع عام و خاص ہے۔
ماخذ و مراجع: انوارِ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-rasool-qadri
❤2
حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اولیاء ہند میں کبار مشائخ میں شمار ہوتے تھے ۔ بڑی بڑی عجیب و غریب کرامات کا اظہار ہوتا ہے مقامات ارجمند پر فائز تھے ۔ حضرت شیخ مدار کی بزرگی احاطہ تحریر میں نہیں آ سکتی ـ
اخبار الاخیار ۔ معارج الولایت ۔ تذکرہ العاشقین اور مناقب الاولیاء جیسی کتابوں کی سند سے یہ بات صحیح ہے کہ آپ مقام صمدیت پر فائز تھے ۔
بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا ۔ ایک بار جو لباس پہن لیا وہ کبھی میلا نہیں ہوا ۔ آپ اپنے چہرہ منور کو حجاب میں رکھا کرتے تھے ۔ ان کے حسن و جمال میں اتنی کشش تھی کہ جو کوئی آپ کو دیکھتا سجدہ میں گر جاتا ۔ آپ کا سلسلۂ خلافت پیرانِ کبرویہ سے ہوتا ہوا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے ملتا ہے ۔
بیعت:
صاحب معارج الولایت نے کشف انعمات کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ شیخ عبد اللہ مکی خلیفہ حضرت شیخ طیفور شامی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصاحب تھے کے مرید تھے ۔
شیخ طیفور شامی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے معجزانہ کمال سے زندہ رکھا اور انہیں حکم دیا تھا ۔ کہ فلاں پہاڑ کی غار میں چھپ رہو ایک وقت آئے گا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوگا ان کے ہاتھ پر بیعت ہونا چنانچہ حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ حاضر دربار رسالت ہوئے اور حضور ﷺ سے کمالات باطنی حاصل کیے ۔
حضرت شاہ بدیع الزماں مدار قدس سرہٗ رسول خدا ﷺ کے اویسی تھے ۔ سید اشرف جہانگیر قدس سرہٗ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ شیخ سعد اللہ کیسہ دار کنتسوری نے چہار دہ خانوادہ سلسلہ تصوف میں سے تھے ۔ حضرت شاہ بدیع الزمّاں مدار نے بھی اسستفادہ کیا ان کے جواب میں ایک مکتوب لکھا تھا جس کا لُب لباب یہ ہے کہ مشائخ میں ایک خانوادہ اویسی ہے جس میں اکثر مشائخ عظام ہوئے ہیں اس سلسلۂ عالیہ کے سردار حضرت خواجہ اویس قرنی ہیں ۔ جو باطنی طور پر حضور کی صحبت کے تربیت یافتہ تھے چنانچہ جو ولی باطنی طور پر حضور نبی کریم ﷺ سے استفادہ کرتا ہے یا کسی دوسرے بزرگ سے فیضان حاصل کرتا ہے اور روحانی طور پر بیعت ہوتا ہے وہ اویسی کہلاتا ہے چنانچہ شاہ مدار بھی ایسے پیر ہیں ۔ جنہوں نے باطنی اور روحانی طور پر حضور ﷺ سے تربیت پائی اور اویسی کہلائے بزرگان دین میں سے حضرت ابو القاسم گرگانی ۔ شیخ ابو الحسن خرقانی بھی اویسی ہیں شیخ نظام الدین گنجوی بھی اویسی تھے ۔ انہوں نے بھی باطنی فیض حضور سرور کائنات ﷺ کی روح پر فتوح سے حاصل کیا تھا ۔ حافظ شیرازی جو اپنے زمانہ کے مقتدائے مخدومان عالم اسلام تھے ۔ حضور ﷺ سے براہ راست روحانی فیض یافتہ تھے ۔ آپ کو لسان الغیب کا خطاب اسی وجہ سے ملا تھا ۔
خواجہ محمد رشید اپنا سلسلۂ مداریہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
بندہ امید وار رحمتِ کر دگار محمد رشید مصطفیٰ جمال کہتا ہے کہ میں نے اس سلسلہ میں اپنے بھائی محمد تقی سے اجازت حاصل کی تھی ۔ انہوں نے شمس الدین محمد الحسینی البخاری انہوں نے حاجی الحرمین الشرفین بایزید انہوں نے شاہ فخرالدین زندہ دل سے انہوں نے سیّد جمن جتی سے انہوں نے قطب الارشاد بدیع الدین مدار سے اور انہوں نے حضرت رسالت مآب ﷺ سے اجازتِ سلسلہ حاصل کی تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
کہتے ہیں کہ شاہ مدار بر صغیر ہندوستان میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ اجمیر شریف حاضر ہوئے اور خواجہ بزرگ سید حسن سنجری معین الدین اجمیری چشتی کے مزار پاک پر پہنچے اور کوہ کوکلایک پر ایک چلہ کاٹا ۔ اس استفادہ اور حصولِ برکات کے بعد کالیجا کی طرف روانہ ہوئے ـ
صاحب معارج الولایت نے آپ کا شجرۂ نسب ازطرف والد اور والدہ یوں درج کیا ہے:
’’ شیخ بدیع الدین بن شیخ علی بن شاہ طیفور بن شاہ کافور بن قطب بن اسماعیل بن محمد حسن بن علی بن طیفور بن بہاؤ الدین محمد شاہ بن بدر الدین بن قطب الدین بن عماد الدین بن عبد الحافظ بن شہاب الدین طاہر بن عبد الرحمٰن بن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔ ‘‘ اس طرح آپ کا شجرۂ نسب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ـ
آپ کی والدہ کا اسم گرامی بی بی حاجرہ تھا ۔ والدہ ماجدہ کی نسبت سے آپ کا ان واسطوں کے ساتھ شجرۂ نسب حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ـ بی بی حاجرہ بنت حامد بن محمود بن عبد اللہ بن احمد بن آدم بن محمد بن فخر الدین بن طیفور بن محمد بن قوام الدین بن شمس الدین بن سراج الدین بن عبد الرحمٰن بن بلخور بن عبد الرشید بن عبد الجلیل بن عبد الرحمٰن بن عوف ۔ ‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ـ
آپ اولیاء ہند میں کبار مشائخ میں شمار ہوتے تھے ۔ بڑی بڑی عجیب و غریب کرامات کا اظہار ہوتا ہے مقامات ارجمند پر فائز تھے ۔ حضرت شیخ مدار کی بزرگی احاطہ تحریر میں نہیں آ سکتی ـ
اخبار الاخیار ۔ معارج الولایت ۔ تذکرہ العاشقین اور مناقب الاولیاء جیسی کتابوں کی سند سے یہ بات صحیح ہے کہ آپ مقام صمدیت پر فائز تھے ۔
بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا ۔ ایک بار جو لباس پہن لیا وہ کبھی میلا نہیں ہوا ۔ آپ اپنے چہرہ منور کو حجاب میں رکھا کرتے تھے ۔ ان کے حسن و جمال میں اتنی کشش تھی کہ جو کوئی آپ کو دیکھتا سجدہ میں گر جاتا ۔ آپ کا سلسلۂ خلافت پیرانِ کبرویہ سے ہوتا ہوا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے ملتا ہے ۔
بیعت:
صاحب معارج الولایت نے کشف انعمات کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ شیخ عبد اللہ مکی خلیفہ حضرت شیخ طیفور شامی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصاحب تھے کے مرید تھے ۔
شیخ طیفور شامی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے معجزانہ کمال سے زندہ رکھا اور انہیں حکم دیا تھا ۔ کہ فلاں پہاڑ کی غار میں چھپ رہو ایک وقت آئے گا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوگا ان کے ہاتھ پر بیعت ہونا چنانچہ حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ حاضر دربار رسالت ہوئے اور حضور ﷺ سے کمالات باطنی حاصل کیے ۔
حضرت شاہ بدیع الزماں مدار قدس سرہٗ رسول خدا ﷺ کے اویسی تھے ۔ سید اشرف جہانگیر قدس سرہٗ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ شیخ سعد اللہ کیسہ دار کنتسوری نے چہار دہ خانوادہ سلسلہ تصوف میں سے تھے ۔ حضرت شاہ بدیع الزمّاں مدار نے بھی اسستفادہ کیا ان کے جواب میں ایک مکتوب لکھا تھا جس کا لُب لباب یہ ہے کہ مشائخ میں ایک خانوادہ اویسی ہے جس میں اکثر مشائخ عظام ہوئے ہیں اس سلسلۂ عالیہ کے سردار حضرت خواجہ اویس قرنی ہیں ۔ جو باطنی طور پر حضور کی صحبت کے تربیت یافتہ تھے چنانچہ جو ولی باطنی طور پر حضور نبی کریم ﷺ سے استفادہ کرتا ہے یا کسی دوسرے بزرگ سے فیضان حاصل کرتا ہے اور روحانی طور پر بیعت ہوتا ہے وہ اویسی کہلاتا ہے چنانچہ شاہ مدار بھی ایسے پیر ہیں ۔ جنہوں نے باطنی اور روحانی طور پر حضور ﷺ سے تربیت پائی اور اویسی کہلائے بزرگان دین میں سے حضرت ابو القاسم گرگانی ۔ شیخ ابو الحسن خرقانی بھی اویسی ہیں شیخ نظام الدین گنجوی بھی اویسی تھے ۔ انہوں نے بھی باطنی فیض حضور سرور کائنات ﷺ کی روح پر فتوح سے حاصل کیا تھا ۔ حافظ شیرازی جو اپنے زمانہ کے مقتدائے مخدومان عالم اسلام تھے ۔ حضور ﷺ سے براہ راست روحانی فیض یافتہ تھے ۔ آپ کو لسان الغیب کا خطاب اسی وجہ سے ملا تھا ۔
خواجہ محمد رشید اپنا سلسلۂ مداریہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
بندہ امید وار رحمتِ کر دگار محمد رشید مصطفیٰ جمال کہتا ہے کہ میں نے اس سلسلہ میں اپنے بھائی محمد تقی سے اجازت حاصل کی تھی ۔ انہوں نے شمس الدین محمد الحسینی البخاری انہوں نے حاجی الحرمین الشرفین بایزید انہوں نے شاہ فخرالدین زندہ دل سے انہوں نے سیّد جمن جتی سے انہوں نے قطب الارشاد بدیع الدین مدار سے اور انہوں نے حضرت رسالت مآب ﷺ سے اجازتِ سلسلہ حاصل کی تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
کہتے ہیں کہ شاہ مدار بر صغیر ہندوستان میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ اجمیر شریف حاضر ہوئے اور خواجہ بزرگ سید حسن سنجری معین الدین اجمیری چشتی کے مزار پاک پر پہنچے اور کوہ کوکلایک پر ایک چلہ کاٹا ۔ اس استفادہ اور حصولِ برکات کے بعد کالیجا کی طرف روانہ ہوئے ـ
صاحب معارج الولایت نے آپ کا شجرۂ نسب ازطرف والد اور والدہ یوں درج کیا ہے:
’’ شیخ بدیع الدین بن شیخ علی بن شاہ طیفور بن شاہ کافور بن قطب بن اسماعیل بن محمد حسن بن علی بن طیفور بن بہاؤ الدین محمد شاہ بن بدر الدین بن قطب الدین بن عماد الدین بن عبد الحافظ بن شہاب الدین طاہر بن عبد الرحمٰن بن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔ ‘‘ اس طرح آپ کا شجرۂ نسب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ـ
آپ کی والدہ کا اسم گرامی بی بی حاجرہ تھا ۔ والدہ ماجدہ کی نسبت سے آپ کا ان واسطوں کے ساتھ شجرۂ نسب حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ـ بی بی حاجرہ بنت حامد بن محمود بن عبد اللہ بن احمد بن آدم بن محمد بن فخر الدین بن طیفور بن محمد بن قوام الدین بن شمس الدین بن سراج الدین بن عبد الرحمٰن بن بلخور بن عبد الرشید بن عبد الجلیل بن عبد الرحمٰن بن عوف ۔ ‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ـ
❤3
وصال:
شاہ بدیع الزمان ۸۴۰ھ میں فوت ہوئے صاحب معارج الولایت نے آپ کی عمر دو سو پچاس (۲۵۰) لکھی ہے ۔ مخبر الواصلین نے آپ کا سال ولادت ۷۱۶ھ تحریر کیا ہے ۔ اور وفات بتاریخ ۱۸ جمادی الاوّل بروز جمعۃ المبارک ۸۴۰ھ کی ہے۔ اس طرح آپ کی عمر شریف ایک سو چوبیس سال تحریر کی گئی ہے (واللہَ عَلم بَصورت حَالٰہ) ـ
شیخ عالم راہنمائے دوجہاں
ہست تولیدش فنا شیخ العلوم ۷۱۶ھ
رحلتش سلطان مخدوم است و نیز ۸۴۰ھ
آن بدیع الدین ولی کا مگار
ہم امام خلد گوئی با وقار ۷۱۶ھ
مہرباں والی حق قطب مدار ۸۴۰ھ
پار سا سلطان بدیع الدین مدار
بدر خلد ۸۴۰ھ / سخی حق بیں ۸۴۰ھ
سے بھی تواریخ وصال برآمد ہوتی ہیں ۔
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-badiuddin-zinda-shah-madar
شاہ بدیع الزمان ۸۴۰ھ میں فوت ہوئے صاحب معارج الولایت نے آپ کی عمر دو سو پچاس (۲۵۰) لکھی ہے ۔ مخبر الواصلین نے آپ کا سال ولادت ۷۱۶ھ تحریر کیا ہے ۔ اور وفات بتاریخ ۱۸ جمادی الاوّل بروز جمعۃ المبارک ۸۴۰ھ کی ہے۔ اس طرح آپ کی عمر شریف ایک سو چوبیس سال تحریر کی گئی ہے (واللہَ عَلم بَصورت حَالٰہ) ـ
شیخ عالم راہنمائے دوجہاں
ہست تولیدش فنا شیخ العلوم ۷۱۶ھ
رحلتش سلطان مخدوم است و نیز ۸۴۰ھ
آن بدیع الدین ولی کا مگار
ہم امام خلد گوئی با وقار ۷۱۶ھ
مہرباں والی حق قطب مدار ۸۴۰ھ
پار سا سلطان بدیع الدین مدار
بدر خلد ۸۴۰ھ / سخی حق بیں ۸۴۰ھ
سے بھی تواریخ وصال برآمد ہوتی ہیں ۔
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-badiuddin-zinda-shah-madar
❤2
حضرت شاہ بدیع الدین مدار (رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شاہ بدیع الدین مدار ولی زماں اور قدوہ کاملاں تھے ۔
خاندانی حالات:
آپ ہاشمی ہیں اور سادات بنی فاطمہ ہیں ۔ ۱؎
والد ماجد:
آپ کے والد ماجد کا نام سید علی ہے ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ ثانی کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، ان کے والد کا نام عبد اللہ تھا ۔
ولادت باسعادت:
آپ حلب میں یکم شوال ۴۴۲ھ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔ ۲؎
نام نامی:
آپ کا نام بدیع الدین ہے ۔
لقب:
آپ " قطب مدار " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی عمرجب پانچ سال کی ہوئی تو آپ کے والد بزرگوار نے آپ کی بسم اللہ کے بعد آپ کو مولانا حذیفہ شامی کے سپرد کیا، آپ کی تعلیم مولانا حذیفہ شامی کی نگرانی میں شروع ہوئی، آپ نے بہت جلد قرآن شریف ختم کیا، بارہ سال کی عمر میں آپ نے مختلف علوم میں اچھی خاصی استعداد حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ میں کمال حاصل کیا اور محدث مشہور ہوئے ۔ چودہ سال کی عمر میں آپ کا شمار علماء میں ہونے لگا ۔ آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ علم سیمیا ، علم کیمیا اور علم ریمیا میں بھی دستگاہ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
بعد تحصیل علوم ظاہری جذبہ الٰہی نے آپ کو علم باطن کے حصول کی طرف متوجہ کیا ۔ آپ حضرت طیفور شامی سے بیعت ہوئے ۔ ۳؎ اور بعد میں خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے، آپ کے پیر و دستگیر نے آپ کو جس دم کی تعلیم فرمائی، آپ حکم بجا لائے اور اس قدر حبس دم کیا کہ کھانے پینے کی خواہش جاتی رہی ۔
زیارت حرمین شریف:
مکہ معظمہ پہنچ کر آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا، کچھ دن وہاں قیام کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ دربارِ رسالت میں باطنی نعمتوں سے مستفید و مستفیض ہوئے، نسبت محمدی سے آپ کا لقب روشن ہوا ۔
فرمان:
ایک دن آپ دربار رسالت میں حاضر تھے ۔ مراقب ہوئے ۔ حضوری ہوئی، سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا ۔ " بدیع الدین! تم ہندوستان جاؤ اور وہاں جاکر مخلوق کی ہدایت میں کوشش کرو ۔
ہندوستان میں آمد:
آپ پہلی بار جب ہندوستان تشریف لائے تو گجرات میں کچھ عرصہ قیام فرمایا ۔ گجرات سے روانہ ہو کر اور شہروں کو زینت بخشی ۔
روانگی:
کچھ دن ہندوستان میں رہ کر اور مختلف شہروں میں گھوم کر آپ مکہ معظمہ چلے گئے ۔ حج کیا اور پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ بعد ازاں کاظمین، بغداد، نجف اشرف ہوتے ہوئے پھر ہندوستان تشریف لائے اور بغداد میں حضرت غوث الاعظم سے ملاقات کی " ۔۵؎
اس مرتبہ جو ہندوستان تشریف لائے تو دیگر مقامات کی سیر کی، پھر اجمیر پہنچے، اجمیر میں کوکلا پہاڑی پر آپ نے قیام فرمایا ۔ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ ۶؎ اجمیر سے روانہ ہو کر دیگر مقامات کو شرف بخشا ۔
حج:
حرمیں شریفین کی زیارت کا شوق پھر دامن گیر ہوا ۔ آپ حرمین شریفین کی زیارت اور حج سے فارغ ہو کر نجف اشرف گئے ۔ وہاں سے اپنے وطن حلب آئے ۔ حلب سے چنار گئے، وہاں کچھ دن قیام فرمانے کے بعد آپ اپنے عزیز سید عبد اللہ کے تینوں لڑکوں سید ابو محمد ارغون، سید ابو تراب فصور اور سید ابو الحسن طیغور کو ہمراہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ایک عرصے تک انوار محمدی سے منور و روشن ہوتے رہے اور مستفید ہوتے رہے ۔
ارشاد عالی:
ایک روز دربار رسالت سے آپ کو حکم ملاکہ ۷؎
" بدیع الدین! ہم نے تمہارے قیام کے لئے ہندوستان کو تجویز کیا ہے ۔ وہیں تم جاؤ اور رہو سہو اور دین محمدی کو پھیلاؤ اور اس کی کوشش میں دقیقہ نہ اٹھا رکھو " ۔
ہندوستان میں سکونت کے متعلق آپ کو دربار رسالت سے یہ حکم ملا قنوج کے میدان میں جنوب کی طرف جو تالاب ہے، اس کی لہروں سے یا عزیز کی آواز آتی ہے، وہ زمین ان کے رہنے کے لئے مناسب ہے، ان کا مسکن اور ان کا مدفن وہیں ہوگا " ۔
ہندوستان میں:
حکم پاکر ہندوستان روانہ ہوئے ۔ ممالک عرب، عجم، خراسان کی سیر و سیاحت فرماتے ہوئے، اجمیر آئے اور اجمیر سے کالپی چلے گئے ۔ کالپی سے جونپور ہوتے ہوئے مکن پور پہنچے، وہاں سے کنتور گئے، پھر گھاٹم پور ہوتے ہوئے سورت میں رونق افروز ہوئے ۔
آخری حج:
آپ زیارتِ حرمین شریف کے مقصد سے روانہ ہوئے ۔ حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور دربار نبوی کی عنایت سے سرفراز ہوئے ۔
مکن پور میں مستقل قیام:
ہندوستان واپس تشریف لائے اور مکن پور میں مستقل سکونت اختیار کی ۔ ۸؎
وصیت:
آپ نے وصیت فرمائی کہ ۔ ۹؎ " سید محمد ارغون، سید ابو تراب فصور، سید ابو الحسن طیفور کو میں نے اپنا جانشین کیا ۔ ان تینوں کو بجائے میرے تصور کرنا اور جو کوئی مشکل پیش آئے تو ان کی طرف رجوع کرنا " ۔ دوسری وصیت آپ نے یہ فرمائی کہ ۔ " میرے جنازے کی نماز مولانا حسام الدین سلامتی پڑھائیں گے " ۔
وصال:
آپ نے ۱۷ جمادی الاول ۸۳۸ھ کو وصال فرمایا ۔ مزار پر انوار مکن پور میں واقع ہے۔ ۱۰؎ " ساکن بہشت " مادہ تاریخ وفات ہے ۔
حضرت شاہ بدیع الدین مدار ولی زماں اور قدوہ کاملاں تھے ۔
خاندانی حالات:
آپ ہاشمی ہیں اور سادات بنی فاطمہ ہیں ۔ ۱؎
والد ماجد:
آپ کے والد ماجد کا نام سید علی ہے ۔
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ ثانی کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، ان کے والد کا نام عبد اللہ تھا ۔
ولادت باسعادت:
آپ حلب میں یکم شوال ۴۴۲ھ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔ ۲؎
نام نامی:
آپ کا نام بدیع الدین ہے ۔
لقب:
آپ " قطب مدار " کے لقب سے مشہور ہیں ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی عمرجب پانچ سال کی ہوئی تو آپ کے والد بزرگوار نے آپ کی بسم اللہ کے بعد آپ کو مولانا حذیفہ شامی کے سپرد کیا، آپ کی تعلیم مولانا حذیفہ شامی کی نگرانی میں شروع ہوئی، آپ نے بہت جلد قرآن شریف ختم کیا، بارہ سال کی عمر میں آپ نے مختلف علوم میں اچھی خاصی استعداد حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ میں کمال حاصل کیا اور محدث مشہور ہوئے ۔ چودہ سال کی عمر میں آپ کا شمار علماء میں ہونے لگا ۔ آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ علم سیمیا ، علم کیمیا اور علم ریمیا میں بھی دستگاہ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
بعد تحصیل علوم ظاہری جذبہ الٰہی نے آپ کو علم باطن کے حصول کی طرف متوجہ کیا ۔ آپ حضرت طیفور شامی سے بیعت ہوئے ۔ ۳؎ اور بعد میں خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے، آپ کے پیر و دستگیر نے آپ کو جس دم کی تعلیم فرمائی، آپ حکم بجا لائے اور اس قدر حبس دم کیا کہ کھانے پینے کی خواہش جاتی رہی ۔
زیارت حرمین شریف:
مکہ معظمہ پہنچ کر آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا، کچھ دن وہاں قیام کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ دربارِ رسالت میں باطنی نعمتوں سے مستفید و مستفیض ہوئے، نسبت محمدی سے آپ کا لقب روشن ہوا ۔
فرمان:
ایک دن آپ دربار رسالت میں حاضر تھے ۔ مراقب ہوئے ۔ حضوری ہوئی، سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا ۔ " بدیع الدین! تم ہندوستان جاؤ اور وہاں جاکر مخلوق کی ہدایت میں کوشش کرو ۔
ہندوستان میں آمد:
آپ پہلی بار جب ہندوستان تشریف لائے تو گجرات میں کچھ عرصہ قیام فرمایا ۔ گجرات سے روانہ ہو کر اور شہروں کو زینت بخشی ۔
روانگی:
کچھ دن ہندوستان میں رہ کر اور مختلف شہروں میں گھوم کر آپ مکہ معظمہ چلے گئے ۔ حج کیا اور پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ بعد ازاں کاظمین، بغداد، نجف اشرف ہوتے ہوئے پھر ہندوستان تشریف لائے اور بغداد میں حضرت غوث الاعظم سے ملاقات کی " ۔۵؎
اس مرتبہ جو ہندوستان تشریف لائے تو دیگر مقامات کی سیر کی، پھر اجمیر پہنچے، اجمیر میں کوکلا پہاڑی پر آپ نے قیام فرمایا ۔ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ ۶؎ اجمیر سے روانہ ہو کر دیگر مقامات کو شرف بخشا ۔
حج:
حرمیں شریفین کی زیارت کا شوق پھر دامن گیر ہوا ۔ آپ حرمین شریفین کی زیارت اور حج سے فارغ ہو کر نجف اشرف گئے ۔ وہاں سے اپنے وطن حلب آئے ۔ حلب سے چنار گئے، وہاں کچھ دن قیام فرمانے کے بعد آپ اپنے عزیز سید عبد اللہ کے تینوں لڑکوں سید ابو محمد ارغون، سید ابو تراب فصور اور سید ابو الحسن طیغور کو ہمراہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ایک عرصے تک انوار محمدی سے منور و روشن ہوتے رہے اور مستفید ہوتے رہے ۔
ارشاد عالی:
ایک روز دربار رسالت سے آپ کو حکم ملاکہ ۷؎
" بدیع الدین! ہم نے تمہارے قیام کے لئے ہندوستان کو تجویز کیا ہے ۔ وہیں تم جاؤ اور رہو سہو اور دین محمدی کو پھیلاؤ اور اس کی کوشش میں دقیقہ نہ اٹھا رکھو " ۔
ہندوستان میں سکونت کے متعلق آپ کو دربار رسالت سے یہ حکم ملا قنوج کے میدان میں جنوب کی طرف جو تالاب ہے، اس کی لہروں سے یا عزیز کی آواز آتی ہے، وہ زمین ان کے رہنے کے لئے مناسب ہے، ان کا مسکن اور ان کا مدفن وہیں ہوگا " ۔
ہندوستان میں:
حکم پاکر ہندوستان روانہ ہوئے ۔ ممالک عرب، عجم، خراسان کی سیر و سیاحت فرماتے ہوئے، اجمیر آئے اور اجمیر سے کالپی چلے گئے ۔ کالپی سے جونپور ہوتے ہوئے مکن پور پہنچے، وہاں سے کنتور گئے، پھر گھاٹم پور ہوتے ہوئے سورت میں رونق افروز ہوئے ۔
آخری حج:
آپ زیارتِ حرمین شریف کے مقصد سے روانہ ہوئے ۔ حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور دربار نبوی کی عنایت سے سرفراز ہوئے ۔
مکن پور میں مستقل قیام:
ہندوستان واپس تشریف لائے اور مکن پور میں مستقل سکونت اختیار کی ۔ ۸؎
وصیت:
آپ نے وصیت فرمائی کہ ۔ ۹؎ " سید محمد ارغون، سید ابو تراب فصور، سید ابو الحسن طیفور کو میں نے اپنا جانشین کیا ۔ ان تینوں کو بجائے میرے تصور کرنا اور جو کوئی مشکل پیش آئے تو ان کی طرف رجوع کرنا " ۔ دوسری وصیت آپ نے یہ فرمائی کہ ۔ " میرے جنازے کی نماز مولانا حسام الدین سلامتی پڑھائیں گے " ۔
وصال:
آپ نے ۱۷ جمادی الاول ۸۳۸ھ کو وصال فرمایا ۔ مزار پر انوار مکن پور میں واقع ہے۔ ۱۰؎ " ساکن بہشت " مادہ تاریخ وفات ہے ۔
❤2