🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ غلام رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سولجر بازار، قادری مسجد)

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی حضرت مولانا الحاج حافظ قاری غلام رسول قادری بن حافظ قاری علم الدین قادری رحمۃ اللہ علیہما تھا ۔



تاریخِ ولادت:
آپ 1306ھ میں کراچی" صدر" میں مسجد قصابان سے ملحقہ مکان میں تولد ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت خود آپ کے والد ماجد حافظ قاری علم الدین قادری کی زیر نگرانی انہی کے ’’مدرسہ العلمیہ قادریہ ‘‘متصل مسجد قصابان صدر میں ہوئی آپ نے علوم دینی کے ساتھ ساتھ تجوید و حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ اپنے والد کے علاوہ بھی آپ نے جید قراء و علما ء ِدین سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں اٹھارہ سال تک بہت بڑے جید قاری نظام محمد صاحب سے قرآن مجید پڑھتا رہا ہوں "۔

بیعت و خلافت:
آپ نے جوانی میں روضہ نبوی ﷺ کے زیر سایہ"باب الرحمت"میں حضرت مولانا عبداللطیف قادری مہاجر مدنی سے سلسلہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے جو کہ ہندوستان سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں اپنے خاندانی بزرگ، ماموں و خسر حضرت صوفی سائیں عبدالغفار قادری قلندری سے بھی آپ نے حصولِ برکت کے لئے بیعت کی۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین

سیرت و خصائص:
حضرت شاہ غلام رسول قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کواوائل عمر ہی سے دینی تعلیم کا ذوق اور فقر و درویشی سے شغف رہا ۔ آپ نہ صرف مختلف زبانوں پر مہارت تامہ رکھتے تھے بلکہ ایک شعلہ بیان خطیب ، بہترین نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی تمام عمر مواعظہ حسنہ اور تبلیغ و اشاعتِ دین میں گذری ۔ آپ نے عہد جوانی میں فرئیر اسٹریٹ صدر کراچی میں"انجمن حزب الاحناف "کی بنیاد 1913ء میں رکھی، جس کے آپ صدر تھے۔ جمعیت الاحناف کے تحت ہر ماہ جامع مسجد قصا بان ( صدر، کراچی) میں ایک جلسہ کا انعقاد ہوتا تھا ۔اسی طرح جمعیت الاحناف کے صدر دفتر میں سالانہ عظیم الشان جلسہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں اندرون و بیرونِ شہر سے علماءِ اہل سنت و عمائدینِ ملت بھی مدعو کئے جاتے ۔ جلسہ میں نعرہ تکبیر و رسالت، تسبیح و تحمید استغفار و اذکار کاشغل، صلوۃ و سلام کا ورد ، آیاتِ قرآن مجید کی تلاوت اور مختصر وعظ اور وعظ سے قبل اور بعد نعت خوانی اور اختتام پر سلام و قیام بھی قواعد و ضوابط میں شامل تھا۔ آپ کے تبلیغ دین کے ذرائع میں بڑے بڑے مذہبی تہوار مثلاً میلاد النبی ﷺ، معراج النبی ﷺ شب برات ، شب قدر ، گیارہویں شریف اور ہفتہ وار حلقہ ذکر شریف شامل تھے۔ علاوہ ازیں آپ روزانہ بعد نماز عصر خصوصی طور پر حاضرین سے خطاب فرماتے تھے۔ محرم الحرام کی چاند رات سے عاشورہ تک آپ حضور اکرام ﷺ سے لے کر خلفائے راشدین ، اہل بیت عظام خصوصاً حسنین کریمین شہدائے کربلا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے شہادت کے واقعات بیان فرماتے تھے۔

تحریک پاکستان کے موقع پر قاری غلام رسول نے قیام پاکستان کے حوالہ سے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ نے ہم عصر مقتدر علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ مل کر عوام میں دینی و روحانی شعور بیدار فرمایا اور دینی جلسوں کی صدارت فرماتے ہوئے تحریکِ پاکستان کو بھر پور تقویت فراہم کی۔ 12، 13 اکتوبر 1946ء میں "سنی کانفرنس کراچی" آپ ہی کی صدارت میں منعقد کی گئی تھی ۔ جس میں پاکستان بنانے پر زور دیا گیا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال طویل علالت کے بعد 18جمادی الاول 1391ھ / بمطابق جولائی1971ء بروز منگل تقریباً ساڑھے آٹھ بجے شب ہوا ۔ بروز بدھ بعد نمازِ ظہر مریدین و معتقد ین اور علماء و مشائخ کی موجودگی میں کراچی کے مشہور پارک" نشتر پارک" کے میدان میں حضرت مولانا سید محمد یوسف عزیز الملک سلیمانی کی اقتداء میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ آپ کا مزار شریف آپ کی قائم کردہ "قادری مسجد" ( سولجر بازار کراچی ) کے احاطہ میں مرجع عام و خاص ہے۔

ماخذ و مراجع: انوارِ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-rasool-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ اولیاء ہند میں کبار مشائخ میں شمار ہوتے تھے ۔ بڑی بڑی عجیب و غریب کرامات کا اظہار ہوتا ہے مقامات ارجمند پر فائز تھے ۔ حضرت شیخ مدار کی بزرگی احاطہ تحریر میں نہیں آ سکتی ـ

اخبار الاخیار ۔ معارج الولایت ۔ تذکرہ العاشقین اور مناقب الاولیاء جیسی کتابوں کی سند سے یہ بات صحیح ہے کہ آپ مقام صمدیت پر فائز تھے ۔

بارہ سال تک کھانا نہیں کھایا ۔ ایک بار جو لباس پہن لیا وہ کبھی میلا نہیں ہوا ۔ آپ اپنے چہرہ منور کو حجاب میں رکھا کرتے تھے ۔ ان کے حسن و جمال میں اتنی کشش تھی کہ جو کوئی آپ کو دیکھتا سجدہ میں گر جاتا ۔ آپ کا سلسلۂ خلافت پیرانِ کبرویہ سے ہوتا ہوا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے ملتا ہے ۔

بیعت:
صاحب معارج الولایت نے کشف انعمات کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ شیخ عبد اللہ مکی خلیفہ حضرت شیخ طیفور شامی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصاحب تھے کے مرید تھے ۔

شیخ طیفور شامی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے معجزانہ کمال سے زندہ رکھا اور انہیں حکم دیا تھا ۔ کہ فلاں پہاڑ کی غار میں چھپ رہو ایک وقت آئے گا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوگا ان کے ہاتھ پر بیعت ہونا چنانچہ حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ حاضر دربار رسالت ہوئے اور حضور ﷺ سے کمالات باطنی حاصل کیے ۔

حضرت شاہ بدیع الزماں مدار قدس سرہٗ رسول خدا ﷺ کے اویسی تھے ۔ سید اشرف جہانگیر قدس سرہٗ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ شیخ سعد اللہ کیسہ دار کنتسوری نے چہار دہ خانوادہ سلسلہ تصوف میں سے تھے ۔ حضرت شاہ بدیع الزمّاں مدار نے بھی اسستفادہ کیا ان کے جواب میں ایک مکتوب لکھا تھا جس کا لُب لباب یہ ہے کہ مشائخ میں ایک خانوادہ اویسی ہے جس میں اکثر مشائخ عظام ہوئے ہیں اس سلسلۂ عالیہ کے سردار حضرت خواجہ اویس قرنی ہیں ۔ جو باطنی طور پر حضور کی صحبت کے تربیت یافتہ تھے چنانچہ جو ولی باطنی طور پر حضور نبی کریم ﷺ سے استفادہ کرتا ہے یا کسی دوسرے بزرگ سے فیضان حاصل کرتا ہے اور روحانی طور پر بیعت ہوتا ہے وہ اویسی کہلاتا ہے چنانچہ شاہ مدار بھی ایسے پیر ہیں ۔ جنہوں نے باطنی اور روحانی طور پر حضور ﷺ سے تربیت پائی اور اویسی کہلائے بزرگان دین میں سے حضرت ابو القاسم گرگانی ۔ شیخ ابو الحسن خرقانی بھی اویسی ہیں شیخ نظام الدین گنجوی بھی اویسی تھے ۔ انہوں نے بھی باطنی فیض حضور سرور کائنات ﷺ کی روح پر فتوح سے حاصل کیا تھا ۔ حافظ شیرازی جو اپنے زمانہ کے مقتدائے مخدومان عالم اسلام تھے ۔ حضور ﷺ سے براہ راست روحانی فیض یافتہ تھے ۔ آپ کو لسان الغیب کا خطاب اسی وجہ سے ملا تھا ۔

خواجہ محمد رشید اپنا سلسلۂ مداریہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

بندہ امید وار رحمتِ کر دگار محمد رشید مصطفیٰ جمال کہتا ہے کہ میں نے اس سلسلہ میں اپنے بھائی محمد تقی سے اجازت حاصل کی تھی ۔ انہوں نے شمس الدین محمد الحسینی البخاری انہوں نے حاجی الحرمین الشرفین بایزید انہوں نے شاہ فخرالدین زندہ دل سے انہوں نے سیّد جمن جتی سے انہوں نے قطب الارشاد بدیع الدین مدار سے اور انہوں نے حضرت رسالت مآب ﷺ سے اجازتِ سلسلہ حاصل کی تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ

کہتے ہیں کہ شاہ مدار بر صغیر ہندوستان میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ اجمیر شریف حاضر ہوئے اور خواجہ بزرگ سید حسن سنجری معین الدین اجمیری چشتی کے مزار پاک پر پہنچے اور کوہ کوکلایک پر ایک چلہ کاٹا ۔ اس استفادہ اور حصولِ برکات کے بعد کالیجا کی طرف روانہ ہوئے ـ

صاحب معارج الولایت نے آپ کا شجرۂ نسب ازطرف والد اور والدہ یوں درج کیا ہے:

’’ شیخ بدیع الدین بن شیخ علی بن شاہ طیفور بن شاہ کافور بن قطب بن اسماعیل بن محمد حسن بن علی بن طیفور بن بہاؤ الدین محمد شاہ بن بدر الدین بن قطب الدین بن عماد الدین بن عبد الحافظ بن شہاب الدین طاہر بن عبد الرحمٰن بن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔ ‘‘ اس طرح آپ کا شجرۂ نسب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ـ

آپ کی والدہ کا اسم گرامی بی بی حاجرہ تھا ۔ والدہ ماجدہ کی نسبت سے آپ کا ان واسطوں کے ساتھ شجرۂ نسب حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ـ بی بی حاجرہ بنت حامد بن محمود بن عبد اللہ بن احمد بن آدم بن محمد بن فخر الدین بن طیفور بن محمد بن قوام الدین بن شمس الدین بن سراج الدین بن عبد الرحمٰن بن بلخور بن عبد الرشید بن عبد الجلیل بن عبد الرحمٰن بن عوف ۔ ‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ـ
3