🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
کے ساتھ ایک جماعت جمعیۃ العلماء کے نام سے شامل ہوئی جس میں تقریباً سب کے سب یا… زیادہ وہابی اور غیرمقلد ہیں، نادر ہی کوئی دوسرا شخص ہو تو ہو۔ اس جماعت نے خلافت کی تائید کو تو عنوان بنایا ، عوام کے سامنے نمائش کیلئے تو یہ مقصد پیش کیا مگر کام اہل سنت کے رد، اور ان کی بیخ کنی کا انجام دیا۔ اپنے مذہب کی ترویج اسی پردہ میں خوب کی۔ میرے پاس جناب مولوی احمد مختار صاحب صدر جمعیۃ العلماء صوبہ بمبئی کا ایک خط آیا ہے جو انہوں نے مدارس کا دورہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ وہابی اس صوبہ میں اس قومی روپیہ سے جو ترکوں کے دردناک حالات بیان کر کے وصول کیا گیا تھا۔ اب تک دو لاکھ ’’تقویۃ الایمان‘‘ چھپا کر مفت تقسیم کر چکے ہیں۔ اب بتائیے کہ ان جماعتوں کا ملانا ’’زردا دن دردِ سرخریدن‘‘ ہوا یا نہیں۔ اپنے ہی روپے سے اپنے ہی مذہب کا نقصان ہوا‘‘۔ (خطبۂ حجۃ الاسلام/ص :۳۱،۳۲)

تعلیم نسواں:
پر آپ نے اپنے خطبہ صدارت میں کافی زور دیا ہے بلکہ لڑکیوں کی تعلیم اور اس کی فلاح و ترقی کیلئے بھی آپ بے حد کوشاں رہے۔ اور صنفِ نازک کی بقا و استحکام نیز اس کے تعلیم کے فوائد پر آپ بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے کتنے ملک گیر دورے اسی مقصد کے تحت ہوئے آپ کے ٹھوس تاثرات و تجاویزات جو کانفرنسوں میں پاس ہوتے جن کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے آپ کے دل میں قوم مسلم کی بقا و ترقی کا کتنا درد و دیعت فرمایا تھا۔ ذیل میں کانفرنس مراد آباد کی تجاویز اس کی روشن دلیل ہے، فرماتے ہیں:

’’ لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام بھی نہایت ضروری ہے اور اس میں دینیات کے علاوہ سوزن کاری اور معمولی… خانہ داری کی تعلیم تابحد امکان لازمی ہے۔ پردے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ّ(خطبۂ حجۃ الاسلام/ص :۱۸)

المختصر یہ کہ خطبۂ صدارت مراد آباد آپ کی ذہانت اور قائدانہ صلاحیت کی بھرپور و روشن دلیل ہے۔ جس کا مطالعہ ہر ذی علم اور قومی و علمی کام کرنے والوں کیلئے از حد ضروری ہے جس میں سمندر کو کوزے میں بھر دیا ہے۔

ذوق شاعری:
آپ عربی، فارسی، اردو نظم و نثر میں منفرد اسلوب بیان رکھتے تھے۔ حمد و نعت و دیگر اصنافِ شاعری کے بیشتر اشعار آپ کے دیوان میں محفوظ ہیں۔ ذیل میں چند کلام پیش کیئے جاتے ہیں جس سے آپ کا ادبی ذوق و قابلیت و عشق رسول ﷺکا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔

دل میرا گدگداتی رہی آرزو
آنکھ پھر پھر کے کرتی رہی جستجو
عرش تا فرش ڈھونڈ آیا میں تجھ کو تو
نکلا اَقْرَبْ زِحَبْلِ وَ رِیْدِ گَلُو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
رہ کے پردوں میں تو جلوہ آرا ہوا
بس کے آنکھوں میں آنکھوں سے پردہ کیا
آنکھ کا پردہ، پردہ ہوا آنکھ کا
بند آنکھیں ہوئیں تو، نظر آیا تو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
کعبۂ کعبہ ہے کعبۂ دل میرا
کعبہ پتھر کا دل جلوہ گاہ خدا
ایک دل پر ہزاروں ہی کعبے فدا
کعبۂ جان و دل کعبے کی آبرو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
طور سینا پہ تو جلوہ آرا ہوا
صاف موسیٰ سے فرما دیا لَنْ تَرَا
اور اِنِّیٓ اَنَا اﷲ شجر بول اٹھا
تیرے جلوؤں کی نیرنگیاں سو بسو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
کون تھا جس نے سُبْحَانِیْ فرما دیا
اور مَا اَعْظَمَ شَانِیْ کس نے کہا
با یزید اور بسطام میں کون تھا
کب اَنَا الْحَقْ تھی منصور کی گفتگو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
یا الٰہی دکھا ہم کو وہ دن بھی تو
آبِ زم زم سے کر کے حرم میں وضو
با ادب شوق سے بیٹھ کر قبلہ رو
مل کے ہم سب کہیں یک زباں ہو بہو
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
میں نے مانا کہ حامد گنہگار ہے
معصیت کیش ہے اور خطا کار ہے
میرے مولیٰ مگر تو ، تو غَفَّارہے
کہتی رحمت ہے مجرم سے لَا تَقْنَطُوْا
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
………… …………
1
گناہگاروں کا روزِ محشر
شفیع خیر الانام ہوگا
دلہن شفاعت بنے گی،
دولہا نبی علیہ السلام ہوگا

کبھی تو چمکے گا نجم قسمت،
ہلال ماہ تمام ہوگا
کبھی تو ذرے پہ مہر ہوگی ،
وہ مہر ادھر خوش خرام ہوگا

پڑا ہوں میں ان کی رہ گزر میں
پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
دل و جگر فرش رہ بنیں گے
یہ دیدہ مشق خرام ہوگا

وہی ہے شافع ، وہی ہے مشفع،
اسی شفاعت سے کام ہوگا
ہماری بگڑی بنے گی اس دن ،
وہی مدار المھام ہوگا

انہیں کا منہ سب تکیں گے اس دن
جو وہ کریں گے وہ کام
دہائی سب ان کی دیتے ہوں گے
انہیں کا ہر لب پہ نام ہوگا

اَنَا لَہَا کہہ کے عاصیوں کو
وہ لیں گے آغوشِ مرحمت میں
عزیز اکلوتا جیسے ماں کو
انہیں ہر ایک یوں غلام ہوگا

ادھر وہ گرتوں کو تھام لیں گے
ادھر پیاسوں کو جام دینگے
صراط و میزان و حوضِ کوثر
یہیں وہ عالی مقام ہوگا

کہیں وہ جلتے بجھاتے ہوں گے
کہیں وہ روتے ہنساتے ہوں گے
وہ پائے نازک پہ دوڑنا اور
بعید ہر ایک مقام ہوگا

ہوئی جو مجرم کو باریابی
تو خوفِ عصیاں سے دھج یہ ہوگی
خمیدہ سر ، آبدیدہ آنکھیں ،
لرزتا ہندی غلام ہوگا

حضورِ مرشد کھڑا رہوں گا
کھڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
نگاہ لطف و کرم اٹھے گی
تو جھک کے میرا سلام ہوگا

خدا کی مرضی ہے ان کی مرضی ،
ہے ان کی مرضی خدا کی مرضی
انہیں کی مرضی پہ ہو رہا ہے ،
انہیں کی مرضی پہ کام ہوگا

جدھر خدا ہے ادھر نبی ہے ،
جدھر نبی ہے ادھر خدا ہے
خدائی بھر سب ادھر پھرے گی ،
جدھر وہ عالی مقام ہوگا

اسی تمنا میں دم پڑا ہے ،
یہی سہارا ہے زندگی کا
بلالو مجھ کو مدینے سرور ،
نہیں تو جینا حرام ہوگا

حضورِ روضہ ہوا جو حاضر ،
تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامدؔ
خمیدہ سر ، آنکھ بند ،
لب پر میرے درود و سلام ہوگا
………… …………
محمد مصطفی نورِ خدا ، نامِ خدا تم ہو
شہ ِ خیر الوریٰ ، شانِ خدا ، صَلِّ عَلیٰ تم ہو
شکیبِ دل ، قرارِ جاں ، محمد مصطفی (ﷺ) تم ہو
طبیبِ دردِ دل تم ہو ، میرے دل کی دوا تم ہو
غریبوں درد مندوں کی ، دوا تم ہو دعا تم ہو
فقیروں بے نواؤں کی ، صدا تم ہو ندا تم ہو
حبیبِ کبریا تم ہو ، امام الانبیاء تم ہو
محمد مصطفی (ﷺ) تم ہو ، محمد مجتبیٰ (ﷺ) تم ہو
نہ کوئی ماہ وش تم سا ، نہ کوئی مہ جبیں تم سا
حسینوں میں ہو تم ایسے کہ محبوبِ خدا تم ہو
میں صدقے انبیاء کے یوں تو سب محبوب ہیں لیکن
جو سب پیاروں سے پیارا ہے ، وہ محبوبِ خدا تم ہو
تمہارے حسن رنگیں کی جھلک ہے سب حسینوں میں
بہاروں کی بہاروں میں ، بہار جانفزا تم ہو
زمیں میں ہے چمک کس کی ، فلک پر ہے جھلک کس کی
مہ و خورشید ، سیاروں ، ستاروں کی ضیاء تم ہو
وہ لاثانی ہو تم آقا ، نہیں ثانی کوئی جس کا
اگر ہے دوسرا کوئی ، تو اپنا دوسرا تم ہو
ھُوَ الْاَوَّل ، ھُوَ الْآخِر ، ھُوَ الظَّاہِر ، ہُوَ الْبَاطِن
بِکُلِّ شَیٍٔ عَلِیْم ، لوح محفوظِ خدا تم ہو
نہ ہوسکتے ہیں دو اوّل ، نہ ہوسکتے ہیں دو آخر
تم اوّل اور آخر ، ابتداء تم انتہا تم ہو
خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی
خدا پر اس کو چھوڑا ہے، وہی جانے کہ کیا تم ہو
اَنَا مِنْ حَامِدٌ وَ حَامِدْ رَضَا مِنِّی کے جلوؤں سے
بحمد اللہ! رضا ، حامد ہیں اور حامدؔ رضا تم ہو
………… …………

فن تاریخ گوئی میں کمال:
والد ماجد اعلیٰ حضرت کی طرح حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کو بھی تاریخ گوئی کے فن میں کمال حاصل تھا۔ حضرت مولانا عبد الکریمؔ درس رضی اللہ عنہ کے وصال (متوفی ۱۳۴۴ھ) پر حجۃ اسلام رضی اللہ عنہ نے طویل تاریخیں لکھی ہیں۔ یونہی بنیاد مسجد پر بھی آپ نے بہترین تاریخیں لکھی ہیں جو اس طرح ہیں ۔

من بناہ بنی لہ اللہ
بیت در بحنۃ الماویٰ

قلت سبحٰن ربی الاعلیٰ ۴۷۴
مسجدُ اسد علیٰ تقویٰ ۸۵۴

تصنیفی و علمی کارنامے:
حضرت حجۃ الاسلام - صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ آپ کی علمی جلالت کا صحیح پتہ اور علم تو آپ کی تصانیف سے زیادہ ممکن ہے۔ ذیل میں آپ کی قلمی یادگار کی نشاندہی کی جاتی ہے قارئین اصل کتب کی طرف مراجعت کریں۔

۱۔ الصارم الربانی علیٰ اسراف القادیانی(سب سے پہلے آپ نے ۱۳۱۵ھ، ۱۸۹۷ء میں قادیانیوں کا رد لکھا۔)
۲۔ ترجمہ الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبہ
۳۔ ترجمہ حسام الحرمین علی منحر الفکر و المبین
۴۔ حاشیہ ملا جلال
۵۔ مقدمہ الاجازات المتینہ
۶۔ نعتیہ دیوان
۷۔ مجموعہ فتاویٰ
1
کشف و کرامات:
آپ کے کشف و کرامات میں سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ مذہب اہلسنت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور نبی کریم کی سنت آپ کے ہر عمل سے ہویدا تھی۔ تاہم چند کرامات مندرجہ ذیل ہیں:

باکرامت مدرس:
حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد ر ضا -ایک تجربہ کار مدرس اور تدریسی امور میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک بار دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف کے چند اہم مدرسین مدرسہ چھوڑ کر چلے گئے۔ تو حضور حجۃ الاسلام -نے علوم و فنون کی تمام اہم کتابیں خود پڑھانی شروع کر دیں اور اس طرح پڑھائیں کہ ان مدرسین کا وہ خیال غلط ثابت ہوا جو یہ کہتے تھے کہ ہمارے بغیر طلباء مدرسہ چھوڑ دیں گے۔ بلکہ آپ کی تدریسی مہارت اور علمی قابلیت کا شہرہ سن کر بہت سے دوسرے قابل طلباء دارالعلوم میں مزید داخل ہوئے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت ماہ اپریل ۱۹۸۶ئ/ ص: ۲۵)

قبر اصلی جگہ پر نہیں:
راقم سے جناب حاجی محمد اسمعٰیل بن حاجی عبدالغفور صاحب مدنپورہ ،بنارس نے بیان کیا کہ:’’ ایک مرتبہ حضور حجۃ الاسلام مدنپورہ بنارس میں تشریف لائے۔ ادائے نماز کیلئے مسجد برتلہ میں تشریف لے گئے۔ بعد نماز مسجد مذکور میں واقع مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے لگے۔ چند ہی لمحوں کے بعد اچانک آپ نے قدم کو پیچھے ہٹا لیااور ارشاد فرمایا:’’ یہ قبر اپنی اصلی جگہ پر نہیں ہے‘‘؟ لوگوں نے جب اس بات کو سنا تو کہا کہ:’’ حضور! صف میں دشواری ہو رہی تھی جس کی وجہ سے تابوت کو ذرا کھسکا دیا گیا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا کہ:’’ ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ فوراً اس تابوت کو اس کے اصل جگہ پر رکھا جائے‘‘۔

جن و آسیب کو بھگانے میں شانِ مسیحائی:
ایک مرتبہ آپ مدنپورہ، بنارس تشریف لائے۔ لوگوں کو جب علم ہوا کہ حضرت آسیب زدہ کو فی الفور صحت یاب فرما دیتے ہیں۔ تو لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور متعدد لوگوں نے اپنی حاجت بیان کی۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ مریض کے کپڑے کو سامنے لاؤ، آناً فاناً کپڑوں کا انبار لگ گیا۔ آپ نے ان تمام کپڑوں کو بنظر غور دیکھا اور اس میں سے چند کپڑوں کو الگ کر کے ارشاد فرمایا کہ یہی لوگ اصلی مریض ہیں، باقی سب یوں ہی ہیں، ان کو آسیب کا کوئی عارضہ نہیں ہے۔ ان کپڑوں پر آپ نے کچھ پڑھا۔ چند ہی دنوں میں وہ تمام مریض صحت یاب ہوگئے اور بھی کبھی آسیبی خلل میں گرفتار نہ ہوئے۔ انہیں میں سے ایک شخص پر اتنا خطرناک قسم کا جن تھا جو رات میں چھتوں کی منڈیر پر خوب دوڑتا تھا۔ گھر والے اس کی حرکت سے کافی پریشان تھے اور ہمہ وقت خطرہ لاحق رہتا کہ کہیں چھت سے نیچے گر کر ہلاک نہ ہوجائے۔ حضرت کی دعا سے وہ خبیث جن بھی تائب ہوا اور اس مذکورہ شخص کو چھوڑ دیا جس سے وہ صحت یاب ہوگیا ۔

دیوبندی گستاخ پر غیبی عتاب:
حضرت علامہ شیخ عبدالمعبود جیلانی مکی روایت کرتے ہیں کہ:’’ میں جب بریلی شریف گیا تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا – اپنی مشہور نعت و ہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں، کا گیارہواں شعر لکھ رہے تھے۔ چونکہ میں گیارہویں والے سرکار حضور غوث اعظم کی اولاد سے ہوں ۔اس لئے اس کو میں نے اپنے لئے فال نیک سمجھا۔ بہرحال ان چند دنوں میں حضور حجۃ الاسلام سے بھی بہت قریب رہا ، مجھے یقین کرنا پڑا کہ حجۃ الاسلام صاحبِ کرامت بزرگ ہیں۔ ان کی کرامت کا اندازہ مجھے اس واقعہ سے ہوا کہ جب میں بریلی شریف سے دہلی آیا تو دہلی میں جس مکان میں میرا قیام تھا اسی سے متصل دیو بندیوں کا جلسہ ہورہا تھا۔ دورانِ تقریر ایک مولوی نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ مولانا حامدؔ رضا حامد نہیں ہیں بلکہ جامد ہیں‘‘۔ (معاذ اللہ) اس مولوی دیوبندی نجدی نے سرکار حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) کا نام نامی بے ادبی و گستاخی سے لیا اور حامد کے بجائے جامد کہا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد لوگوں نے دیکھا کہ اس بے ادب گستاخ مقرر کی زبان جامد ہوگئی اور وہ خود جامد ہوگیا۔ اور چند ہی لمحے کے بعد موت نے اس کو ہمیشہ کیلئے جامد کر دیا۔ اس واقعہ سے جلسہ میں کہرام مچ گیا یہاں تک کہ اس نے کچھ بولنا چاہا مگر بول نہ سکا تو اشارہ سے قلم دوات طلب کیا اور ایک کاغذ پر مرنے سے قبل یہ لکھ کر مرا :

’’ میں مولانا حامدؔ رضا خاں صاحب کی بے ادبی سے توبہ کرتا ہوں ‘‘ ۔ ( ماہنامہ اعلیٰ حضرت ، بریلی شریف اپریل۱۹۸۶ئ/ ص: ۲۶،۲۷)
1
مریدین خلفائے کرام تلامذہ:
حجۃ الاسلام کے مریدین کی تعداد یوں تو لاکھوں میں تھی۔ لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں ان کے مریدین موجود ہیں چتوڑ گڑھ، جے پور، اودے پور، جودھپور، سلطان پور، بریلی و اطراف کانپور، فتح پور، بنارس اور صوبہ بہار وغیرہ میں ان کے مریدین زیادہ ہیں۔ کراچی میں بھی حامدیوں کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔

ان کے خلفاء اور تلامذہ میں محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب رضی اللہ عنہ سرفہرست ہیں۔انکے علاوہ حضور مجاہد ملّت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب، حضرت مولانا شاہ رفاقت حسین صاحب، حضرت مولانا شاہ حشمت علی خاں صاحب، حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں صاحب، خلفِ اصغر حماد رضا صاحب، حضرت مولانا احسان علی صاحب فیض پوری سابق شیخ الحدیث دارالعلوم منظر اسلام بریلی، حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ صاحب ازہری( تذکرہ علمائے اہلسنّت/ص:۸۲)

حضرت مفتی تقدس علی خاں صاحب، حضرت مولانا عنایت محمد خاں صاحب غوری، حضرت مولانا عبدالغفور صاحب ہزاروی، حضرت مولانا محمد سعید شبلی صاحب فرید کوٹی، حضرت مولانا ولی الرحمن صاحب پوکھریروی، حضرت مولانا حافظ محمدؔ میاں صاحب اشرفی رضوی، حضرت مولانا ابو الخلیل انیسؔ عالم صاحب سیوانی، حضرت مولانا قاضی فضل کریم صاحب بہاری حضرت مولانا رضی احمدصاحب وغیرہ ۔ پاکستان کے مشہور شاعر حسان العصر جناب اختر الحامدی مرحوم بھی حجۃ الاسلام رضی اللہ عنہ کے مرید تھے۔(ماہنامہ حجاز جدید ،دہلی/ اپریل ۱۹۸۹ئ/ ص: ۵۰)

اولاد امجاد:
حضور حجۃ الاسلام - کے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں صاحبزادگان کے نام یہ ہیں ۔

۱۔ مفسر اعظم ہند حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں –
۲۔ حضرت مولانا حماد رضا خاں نعمانی میاں –
(ماہنامہ حجاز جدید ،دہلی/ اپریل ۱۹۸۹ئ/ ص: ۵۳)

ذکر وصال:
جب تیری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
  جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے
           (از حسن رضا خاں)

آپ اپنی کیفیت وصال بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ زبان ذکر ورسولg وصلوٰۃ و سلام میں مشغول ہوگی اور روح قرب وصال کے چھلکتے کیف و سرور کے جام سے محظوظ ہوگی۔

حضورِ روضہ ہوا جو حاضر ، تو اپنی سج دھج یہ ہوگی حامد
خمیدہ سر بند آنکھیں لب پہ میرے درود و سلام ہوگا

(فقیہ اسلام ص:۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص:۸۲)

وصال:
آپ ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ مطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء بعمر ۷۰ سال عین حالت نماز میں دوران تشہد دس بجکر ۴۵ منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔ (فقیہ اسلام ص:۲۳۷، وفاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص:۸۲)

نماز جنازہ:جنازے کی نماز آپ کے خلیفۂ خاص حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد-نے مجمع کثیر میں پڑھائی۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت/ جون ۱۹۶۳ء/ص: ۱۸)

مزار مبارک:
آپ کا مزار مبارک خانقاہ رضویہ بریلی شریف میں والد ماجد کے پہلو میں ہے۔ ہر سال عرس کی تاریخ میں بے شمار علماء و مشائخ کے ساتھ عوام شریک ہوتے ہیں۔ اور اپنے اپنے دامن گوہر مراد سے پر کرتے ہیں۔ بریلی شریف کی خانقاہ کے علاوہ بھی برصغیر پاک و ہند میں آپ کے بے شمار متوسلین مذکورہ تاریخ پر آپ کی روحانی فیض سے مستفیض ہوتے ہیں اور مقالے و تقریر سے آپ کی علمی، دینی و تصوفانہ کارنامے کو پیش کرتے ہیں۔

مادۂ تاریخ:
از: مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب فریدی سمتی پوری

دے ز بزم جہاں رفت بہ بزم جنا
مفتیٔ دین متین مولوی حامد رضا

صاحب زہد و ورع، عالم اتقاء
پیشروِ اہل دیں، ہادیٔ راہِ خدا

عابد شب زندہ دار، صوفی و صافی منش
رہر وِ راہِ سلوک، صاحب رشد و ہدا

برسرِ عرشِ ہدیٰ ماہ شرف ذاتِ او
نجم صداقت پئے مطلع صدق و صفا

داغ فراقِ رضا، باز بدل تازہ شد
وارثِ فضل رضا رفتہ بہ قرب رضا

مرگ کزیں عالمے، مرگِ جہاں ہم بود
ماتم او ماتم دہر بود بر ملا

غیر رضا بالقضا، چارئہ دل، ہیچ نیست
شیوئہ ایماں بود، صبر دم ابتلا

اسم محمد شدہ عہد ولادت نگر ۱۲۹۲ھ
سیزدہ صد شش و دو دیدہ گزید آں سرا
۱۳۶۲ھ

شب زمہ پنج میں ہیزدہ ہم آمدہ
چوں زفنائے مکاں رفتہ بدار بقا ۱۹۴۳

کلک فریدی نوشت از پئے سال وصال
بیں جناں آمدہ مولوی حامد رضا ۱۳۶۲ھ

حضرت علامہ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی علیہ الرحمہ

www.muftiakhtarrazakhan.com – A project of Taaj-al-Shari’ah Foundation, Karachi, Pakistan. Cell: 92 303 2886671 Mail: markweb1011@gmail.com

Website URL ↷
https://muftiakhtarrazakhan.com/hujjaul-islam-taaruf/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
@Aalaa_Hazrat_Library
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
تذکرہ علامہ حامد رضا خان بریلوی
https://t.me/islaamic_Knowledge/41798
1
تذکرۂ مشائخ قادریہ 40.pdf
679.6 KB
اسے اردو میں اپڈیٹ کرنا ہے
1
@Aalaa_Hazrat_Library
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
تذکرہ علامہ حامد رضا خان بریلوی
https://t.me/islaamic_Knowledge/41800
1
تذکرۂ مشائخ قادریہ 40.pdf
679.6 KB
یہ انگلش میں ہے
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حجۃ الاسلام ، علامہ حامد رضا خاں بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے بڑے شہزادے ۔ نام: محمد ـ معروف بہ حامد رضا ـ لقب: حجۃ الاسلام ۔

تاریخِ ولادت:
ماہ ربیع الاول 1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنے دادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آباؤ اجداد کی شاندار روایات کے مطابق درسیات تمام و کمال والد ماجد سے پڑھی 19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سے فارغ التحصیل ہوۓ ۔ علم وعمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین، عربی نظم و نثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے ۔ زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ، خیالی، توضیح تلویح، ہدایہ اخیرین، صحیح بخاری پر حواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے " قال الولد الاعز " لکھ کر اپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی ۔ جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین و ملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں! " حامد منی وانا من حامد " فرما کر آپ کی عظمت و فضیلت پر مہر ثبت کردی ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی ۔

سیرت:
حسن معنوی کے ساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے ۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک ، تلامذہ ، مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا ۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہئے تھیں۔تحریک پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے،ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کے اثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے ۔

وصال:
17 جمادی الاول 1362ھ، کو وصال فرمایا ۔ مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-hamid-raza-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ السلام
علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ
یوم وصال 17 جمادی الاولیٰ ¹³⁶²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ حامدیہ مکمل 13.9MB
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5083
الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5092
الصارم الربانی علی اسراف القادیانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5098
الصارم الربانی علی ..... انگلش
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5117
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5102
خطبۂ صدارت علامہ حامد رضا
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5104
بیاض پاک نعتیہ دیوان اردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5106
بیاض پاک نعتیہ دیوان رومن
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5114
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آسمان رضویت کا نیر تاباں
ابو کلیم محمد صدیق فانی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5108
تذکرۂ جمیل حیات حامد رضا
مولانا ابراہیم خوشتر رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5110
جانشین اعلیٰ حضرت حامد رضا
حضرت مولانا داؤد رضوی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5112
تذکرۂ حامد رضا اردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5119
تذکرۂ حامد رضا انگلش Click
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-05-1445 ᴴ | 02-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1