Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا سماء الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
آپ ظاہری اور معنوی علوم کےماہر تھے، متقی اور پرہیز گار تھے، دینا کی قطعاً خواہش نہ رکھتے تھے، صرف ضروریات کی حد تک دنیا کی چیزورں کو استعمال کرتے تھے، آپ مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری کے پوتے شیخ کبیرکے مرید تھے، کہتے ہیں کہ میر سید شریف جر جانی کے تلمیذ مولانا سناء الدین نے آپ سے علوم کی تحصیل کی تھی ملتان کی خانہ جنگیوں اور خلفشاریوں کی وجہ سے ملتان سے سکونت ترک کر کے کچھ عرصہ رنتھور اور بیانہ وغیرہ میں رہے اور اس کے بعد اور اس کے بعد دہلی میں سکونت پذیر ہوگئے چونکہ عمر بہت زیادہ ہوچکی تھی اس لیے آخری عمر میں آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی تھی لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بغیر کسی علاج کے دوبارہ بینائی عطا کردی تھی ۔
آپ اپنے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی تمام مخلوق پر سب سے زیادہ مہربانی یہ ہے کہ مخلوق کی سماءالدین کی آنکھوں میں راہ دیدی ہے، آپ نے شیخ فخر الدین کی مشہور کتاب لمعات کا حاشیہ لکھا ہے۔ جو اس کے معانی کی تشریح و توضیح کے لیے بہت کافی ہے آپ کا ایک اور رسالہ بنام مفتاح الاسرار بھی ہے جس کی اکثر عبارتیں پوری کی پوری شیخ عزیز نسفی کے رسالوں سے نقل کی گئی ہیں، آپ نے 17 جمادی الاول 901ھ میں وفات پائی، آپ کا مقبرہ دہلی میں شمسی حوض پر ہے جہاں آپ کی اولاد کی قبریں لائنوں اور صفوں میں موجود ہیں ۔
آپ نے شیخ عزیز نسفی کے مکتوبات میں سے ایک مکتوب کو مفتاح الاسرار میں اس طرح نقل کیا ہے کہ انسان کے انتہائی معنی میں، اہل شرعت اہل حکمت اور اہل وحدت کا اختلاف ہے، اہل شریعت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم بنانے سے کئی ہزار برس پہلے روح کو پیدا کیا اور ہر ایک کے لیے ایک مقام مقرر کردیا جہاں وہ روح لوٹ کر واپس آئے گی اور رہے گی جیسا کہ ارشاد ہے یعنی روح جب اپنے مقام ایمان سے جدا ہوتی ہے تو پھر لوٹ کر آسمان اول پر آتی ہے اور روح جبکہ مقام عبادت سے جدائی اختیار کرتی ہے تو وہ دوسرے آسمان کی طرف لَوٹتی ہے، اور روح اگر مقام زہد و تقوی سے جدا ہوتی ہے تو تیسرے آسمان پر آجاتی ہے اور جو روح مقام معرفت سے جدا ہوتی ہے تو وہ چوتھے آسمان پر رونق افروز ہو جاتی ہے، اور جو روح ولایت کے مقام سے الگ ہوتی ہے تو وہ پانچویں آسمان کی طرف چلی جاتی، اور جو روح مقام نبوت سے ہٹ جاتی ہے تو وہ چھٹے آسمان پر جلوہ فگن ہوتی ہے اور جو روح مقام رسالت سے الگ ہوتی ہے وہ ساتویں آسمان کی طرف گھوم جاتی ہے اور جو روح مقام اولو العزمی سے جدا ہوتی ہے تو وہ مقام کرسی کی جانب چلی جاتی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کہ جس نے مقام ختم نبوت سے جدائی اختیار کی ہے وہ عرش کی طرف پر واز کر گئی ہے اور روح جس مقام سے اتری ہے وہیں چڑھ جاتی ہے اور اپنا دائرہ پورا کر لیتی ہے اور یہ کیفیت نو بار واقع ہوتی ہے، لیکن جو شخص ایمان کے مقام تک رسائی نہیں کر پاتا اس کی روح کی پرواز کسی صورت میں بھی آسمان کی طرف نہیں ہوتی کیونکہ یہ مقامات و درجات نہ کسبی ہیں نہ خلقی اور اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کوئی تبدل و تغیر نہیں کرتا، صحیح اور حق راستہ یہ ہے کہ اگر ان مراتب میں سے کوئی مرتبہ اور درجہ بھی کسبی ہوتا تو ممکن تھا کہ کوئی نہ کوئی آج تک اپنے کسب سے اپنے سے اونچے مرتبے تک پہنچ جاتا اور اسی طرح کوئی نہ کوئی مسلمان اپنے کسب و عمل کے ذریعہ مقام نبوت تک بھی رسائی حاصل کرلیتا، حالانکہ کوئی مسلمان آج تک مَقامِ نبوت و رسالت تک نہیں پہنچ سکا ۔
اس گروہ کے نزدیک سلوک سے مراد یہ ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے مقام بازگشت کا معائنہ کرلیا جائے اور علم یقینی کے بجائے علم مشاہدی حاصل کرے ۔ اور نبیاء کی معراج دو قسم کی ہے، ایک معراج روحانی بلا جسد اور دوسری معراج جسمانی مع الروح اور اولیا ئے کرام کو صرف ایک ہی قسم کی معراج ہوتی ہے اور وہ معراج روحانی ہے ۔
آپ ظاہری اور معنوی علوم کےماہر تھے، متقی اور پرہیز گار تھے، دینا کی قطعاً خواہش نہ رکھتے تھے، صرف ضروریات کی حد تک دنیا کی چیزورں کو استعمال کرتے تھے، آپ مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری کے پوتے شیخ کبیرکے مرید تھے، کہتے ہیں کہ میر سید شریف جر جانی کے تلمیذ مولانا سناء الدین نے آپ سے علوم کی تحصیل کی تھی ملتان کی خانہ جنگیوں اور خلفشاریوں کی وجہ سے ملتان سے سکونت ترک کر کے کچھ عرصہ رنتھور اور بیانہ وغیرہ میں رہے اور اس کے بعد اور اس کے بعد دہلی میں سکونت پذیر ہوگئے چونکہ عمر بہت زیادہ ہوچکی تھی اس لیے آخری عمر میں آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی تھی لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بغیر کسی علاج کے دوبارہ بینائی عطا کردی تھی ۔
آپ اپنے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی تمام مخلوق پر سب سے زیادہ مہربانی یہ ہے کہ مخلوق کی سماءالدین کی آنکھوں میں راہ دیدی ہے، آپ نے شیخ فخر الدین کی مشہور کتاب لمعات کا حاشیہ لکھا ہے۔ جو اس کے معانی کی تشریح و توضیح کے لیے بہت کافی ہے آپ کا ایک اور رسالہ بنام مفتاح الاسرار بھی ہے جس کی اکثر عبارتیں پوری کی پوری شیخ عزیز نسفی کے رسالوں سے نقل کی گئی ہیں، آپ نے 17 جمادی الاول 901ھ میں وفات پائی، آپ کا مقبرہ دہلی میں شمسی حوض پر ہے جہاں آپ کی اولاد کی قبریں لائنوں اور صفوں میں موجود ہیں ۔
آپ نے شیخ عزیز نسفی کے مکتوبات میں سے ایک مکتوب کو مفتاح الاسرار میں اس طرح نقل کیا ہے کہ انسان کے انتہائی معنی میں، اہل شرعت اہل حکمت اور اہل وحدت کا اختلاف ہے، اہل شریعت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم بنانے سے کئی ہزار برس پہلے روح کو پیدا کیا اور ہر ایک کے لیے ایک مقام مقرر کردیا جہاں وہ روح لوٹ کر واپس آئے گی اور رہے گی جیسا کہ ارشاد ہے یعنی روح جب اپنے مقام ایمان سے جدا ہوتی ہے تو پھر لوٹ کر آسمان اول پر آتی ہے اور روح جبکہ مقام عبادت سے جدائی اختیار کرتی ہے تو وہ دوسرے آسمان کی طرف لَوٹتی ہے، اور روح اگر مقام زہد و تقوی سے جدا ہوتی ہے تو تیسرے آسمان پر آجاتی ہے اور جو روح مقام معرفت سے جدا ہوتی ہے تو وہ چوتھے آسمان پر رونق افروز ہو جاتی ہے، اور جو روح ولایت کے مقام سے الگ ہوتی ہے تو وہ پانچویں آسمان کی طرف چلی جاتی، اور جو روح مقام نبوت سے ہٹ جاتی ہے تو وہ چھٹے آسمان پر جلوہ فگن ہوتی ہے اور جو روح مقام رسالت سے الگ ہوتی ہے وہ ساتویں آسمان کی طرف گھوم جاتی ہے اور جو روح مقام اولو العزمی سے جدا ہوتی ہے تو وہ مقام کرسی کی جانب چلی جاتی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کہ جس نے مقام ختم نبوت سے جدائی اختیار کی ہے وہ عرش کی طرف پر واز کر گئی ہے اور روح جس مقام سے اتری ہے وہیں چڑھ جاتی ہے اور اپنا دائرہ پورا کر لیتی ہے اور یہ کیفیت نو بار واقع ہوتی ہے، لیکن جو شخص ایمان کے مقام تک رسائی نہیں کر پاتا اس کی روح کی پرواز کسی صورت میں بھی آسمان کی طرف نہیں ہوتی کیونکہ یہ مقامات و درجات نہ کسبی ہیں نہ خلقی اور اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کوئی تبدل و تغیر نہیں کرتا، صحیح اور حق راستہ یہ ہے کہ اگر ان مراتب میں سے کوئی مرتبہ اور درجہ بھی کسبی ہوتا تو ممکن تھا کہ کوئی نہ کوئی آج تک اپنے کسب سے اپنے سے اونچے مرتبے تک پہنچ جاتا اور اسی طرح کوئی نہ کوئی مسلمان اپنے کسب و عمل کے ذریعہ مقام نبوت تک بھی رسائی حاصل کرلیتا، حالانکہ کوئی مسلمان آج تک مَقامِ نبوت و رسالت تک نہیں پہنچ سکا ۔
اس گروہ کے نزدیک سلوک سے مراد یہ ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے مقام بازگشت کا معائنہ کرلیا جائے اور علم یقینی کے بجائے علم مشاہدی حاصل کرے ۔ اور نبیاء کی معراج دو قسم کی ہے، ایک معراج روحانی بلا جسد اور دوسری معراج جسمانی مع الروح اور اولیا ئے کرام کو صرف ایک ہی قسم کی معراج ہوتی ہے اور وہ معراج روحانی ہے ۔
❤1
اہل حکمت کہتے ہیں کہ اجسام سے پہلے چونکہ ارواح موجود نہ تھیں اس لیے ان کو اپنا مقام بھی معلوم نہیں اسی لیے دنیا میں آکر وہ اپنا مقام پیدا کرتی ہیں اجسام سے پہلے بالفعل روح کا موجود ہونا محال اور نا ممکنات میں سے ہے کیونکہ روح اگر بالفعل موجود مانی جائے تو اس کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ ان میں باہمی طور پر فرق ہوگا، دوئم ان میں باہمی فرق مراتب نہیں ہوگا، اگر ان میں کوئی فرق نہیں تو تمام مل کر ایک ہی ہوگی اور یہ نا ممکن ہے اور اگر ان میں باہمی افتراق تسلیم کر لیا جائے تو وہ چیزیں جن میں مغائرت ہوتی وہ ایک دوسری کی عین نہیں ہوا کرتیں اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ روح مرکب ہے حالانکہ تمام کے نزدیک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ روح مرکب نہیں پس ثابت ہوا کہ ہر ایک کی روح اس کے جسم کے ساتھ موجود ہے اور جسم سے الگ ہوجانے کے بعد روح باقی رہتی ہے اگر جسم کمال حاصل کرچکا ہے تو روح کی پرواز عالم علوی کی جانب ہوگی بمع عقل و نفس کے اور عقل و نفس ہمیشہ پاک ہوتے ہیں اور کسب و علم نور کے اقتباس میں مصروف رہتے ہیں اور طہارت حاصل کرتے رہتے ہیں سو جس شخص کو عقل و نفس پاکیزہ میسر ہوجائے تو وہ اگر اپنے جسم سے جدائی اختیار کرے تو اس کی عقل اور پاکیزہ نفس اس کو عالم علوی کی طرف کھینچ لے، حالانکہ ایسا بھی کوئی واقاعہ آج تک ظہور میں نہیں آیا۔
شفاعت کے معنی یہ ہیں کہ جس آدمی کے اندر جیسی نسبت ہوگی تو اس کی پر واز بھی اسی نسبت کے مقام کی طرف ہوگی یعنی کسی نے اگر اپنے اندر قمر کی نسبت پیدا کرلی تو وہ اس سے فیضیاب ہوسکتا ہے اور جب اس مہارت نامہ کے ہوتے ہوئے اس کی روح اس سے جدا ہوتی ہے تو اس کا نفس اس کو قمر تک پہنچا دیتا ہے اور اگر کسی نے اس حال میں مفارقت نہ کی اور حالانکہ اس نے علم و طہارت میں کمال حاصل کرلیا تھا یعنی اس کو فلک الافلاک سے نسبت ہوگئی تھی تو وہ فلک الا فلاک سے فیوض حاصل کرتا ہے جب اس حالت میں مفارقت کرتا ہے تو اس کا نفس فلک الا فلاک کی طرف لوٹ آتا ہے جب آپ نے اول و آخر کو سمجھ لیا تو باقی کو اسی پر قیاس کرلیں۔
کہتے ہیں کہ جو کوئی ریاضت اور مجاہدات اقتباس انوار وعلوم کے ذریعہ اپنے نفس کو فلک الا فلاک تک پہنچادیتا ہے تو اس کی روح کی پرواز فلک الا فلاک کی طرف ہوگی اور جوشخص ریاضت و مجاہد، اقتباس انوار و علوم نہ کرے تو وہ فلک قمر کے نیچے جہاں دوزخ ہے پڑا رہے گا اور علم علوی جہاں جنت ہے اس کی طرف ہرگز ہرگز رسائی حاصل نہیں کر سکے گا اور جوکوئی مقام انسانیت تک علم و پاکیزگی کو پہنچائے اور اس عالم صغیر سے عالم کبیر میں چلا جائے تو وہ شخص اللہ کا خلیفہ کہلوانے کا مستحق ہے وہی اکبر اعظم اور جام جہاں نما ہے، اس عالم میں پہنچ کر یہ پاکیزہ عبادت گزار کبھی عقل و ادراک کے ذریعہ اور کبھی شعور اور لاشعور کے ذریعہ اللہ سے باتیں کرتا اور اللہ کی باتیں سنتا ہے، اس مَقام تک پہنچنے والے کی روح جب جدا ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ اللہ کی رحمت کے زیر سایہ مسرور و شاداں رہتا ہے اور اللہ کا مقرب کہلاتا ہے اسی کو بہشت کہتے ہیں اور یہ بہشت ایسے ہی کامل بزرگوں کے لیے ہے۔
اہل وحدت کہتے ہیں کہ ترقی و عروج میں آدمی کی کوئی حد مقرر نہیں اگر کوئی مستعد آدمی پوری محنت سے ایک ہزار سال تک بھی ریاضت و مجاہد کرتا رہے تو ہر آنے والے دن میں وہ ایک نئی اور عجیب کیفیت محسوس کرے گا جو گذشتہ دن اس کو معلوم نہ تھی اس لیے کہ اللہ کے علم و قدرت کی کوئی انتہا نہیں، اہل وحدت کے نزدیک انسان سے بڑھ کر اور کوئی چیز اشرف و باعظمت نہیں، اسی لیے انسان کی بازگشت میدان حشر میں آدمی ہی کے وجود میں ہوگی ۔
اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-samauddin-dehlvi
شفاعت کے معنی یہ ہیں کہ جس آدمی کے اندر جیسی نسبت ہوگی تو اس کی پر واز بھی اسی نسبت کے مقام کی طرف ہوگی یعنی کسی نے اگر اپنے اندر قمر کی نسبت پیدا کرلی تو وہ اس سے فیضیاب ہوسکتا ہے اور جب اس مہارت نامہ کے ہوتے ہوئے اس کی روح اس سے جدا ہوتی ہے تو اس کا نفس اس کو قمر تک پہنچا دیتا ہے اور اگر کسی نے اس حال میں مفارقت نہ کی اور حالانکہ اس نے علم و طہارت میں کمال حاصل کرلیا تھا یعنی اس کو فلک الافلاک سے نسبت ہوگئی تھی تو وہ فلک الا فلاک سے فیوض حاصل کرتا ہے جب اس حالت میں مفارقت کرتا ہے تو اس کا نفس فلک الا فلاک کی طرف لوٹ آتا ہے جب آپ نے اول و آخر کو سمجھ لیا تو باقی کو اسی پر قیاس کرلیں۔
کہتے ہیں کہ جو کوئی ریاضت اور مجاہدات اقتباس انوار وعلوم کے ذریعہ اپنے نفس کو فلک الا فلاک تک پہنچادیتا ہے تو اس کی روح کی پرواز فلک الا فلاک کی طرف ہوگی اور جوشخص ریاضت و مجاہد، اقتباس انوار و علوم نہ کرے تو وہ فلک قمر کے نیچے جہاں دوزخ ہے پڑا رہے گا اور علم علوی جہاں جنت ہے اس کی طرف ہرگز ہرگز رسائی حاصل نہیں کر سکے گا اور جوکوئی مقام انسانیت تک علم و پاکیزگی کو پہنچائے اور اس عالم صغیر سے عالم کبیر میں چلا جائے تو وہ شخص اللہ کا خلیفہ کہلوانے کا مستحق ہے وہی اکبر اعظم اور جام جہاں نما ہے، اس عالم میں پہنچ کر یہ پاکیزہ عبادت گزار کبھی عقل و ادراک کے ذریعہ اور کبھی شعور اور لاشعور کے ذریعہ اللہ سے باتیں کرتا اور اللہ کی باتیں سنتا ہے، اس مَقام تک پہنچنے والے کی روح جب جدا ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ اللہ کی رحمت کے زیر سایہ مسرور و شاداں رہتا ہے اور اللہ کا مقرب کہلاتا ہے اسی کو بہشت کہتے ہیں اور یہ بہشت ایسے ہی کامل بزرگوں کے لیے ہے۔
اہل وحدت کہتے ہیں کہ ترقی و عروج میں آدمی کی کوئی حد مقرر نہیں اگر کوئی مستعد آدمی پوری محنت سے ایک ہزار سال تک بھی ریاضت و مجاہد کرتا رہے تو ہر آنے والے دن میں وہ ایک نئی اور عجیب کیفیت محسوس کرے گا جو گذشتہ دن اس کو معلوم نہ تھی اس لیے کہ اللہ کے علم و قدرت کی کوئی انتہا نہیں، اہل وحدت کے نزدیک انسان سے بڑھ کر اور کوئی چیز اشرف و باعظمت نہیں، اسی لیے انسان کی بازگشت میدان حشر میں آدمی ہی کے وجود میں ہوگی ۔
اخبار الاخیار
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-samauddin-dehlvi
❤1
قطبِ ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف شاہ جیلانی ابن حضرت سید حسین اشر ف شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہما ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 12 ربیع الاول 1305ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد سے حاصل کی ۔ ترکیۂ نفس کے ابتدائی مراحل بھی انہی سے طے کئے ۔والد گرامی کے وصال کے بعد جامع فتح پوری سے ملحقہ مدرسہ میں مولانا مفتی غلام حبیب احمد علوی سے دینی علوم کی تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
جب مرجع المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو ابو مخدوم سید طاہر اشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کیا، سلسۂ عالیہ قادریہ، سراجیہ ، اشرفیہ، میں اجازت و خلافت سے مشرف فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولیٔ کامل، مرشدِ واصل اور مظہرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تھے ۔ اپنے پیر و مرشد سے انتہا درجے کی عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔ مرشد کامل کے ارشاد پر عاز م کشمیر ہوئے اور بارہ سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے۔ لاکھوں مسلمان آپ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اور صد ہا غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
آپ چار دفعہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے اور بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کی ۔ 1945ء میں تقسیمِ ملک پر اہل و عیال سمیت ہجرت کر کے کراچی تشریف لے آئے ۔ ابتداءً کمباؤنڈ ملٹری ہاسپٹل" میں قیام رہا، بعد ازاں "فردوس کا لونی" میں "مسکنِ سادات اشرفیہ" کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی طبیعت سادگی اور نفاست کا بہترین مرقع تھی۔اقوال و افعال اور نشت و بر خاست میں سنتِ مبارکہ کی پیروی کو مدِ نظر رکھتے ۔
آپ کے مریدین کا وسیع سلسلہ پاک و ہند کے طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے ۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکی تسکین کے لئے ہر امکانی سعی فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا ہمیشہ کے لئے آ پ کا عقیدت مندبن جاتا تھا۔
اور ادو وظائف ادا کرنے کے علاوہ پابندی کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کی محفل منعقد فرماتے ، دعاء ،تعویذ اور دم کے ذریوے اہل حاجت کی دستگیری فرماتے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت سید محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 جمادی الاولیٰ 1381ھ / بمطابق اکتوبر 1961ء کو ہوا ۔ اور "فردوس کالونی" کراچی میں محواستراحتِ ابدی ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اکابرِ اہلسنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-tahir-ashraf-ashrafi-jilani
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف شاہ جیلانی ابن حضرت سید حسین اشر ف شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہما ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 12 ربیع الاول 1305ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد سے حاصل کی ۔ ترکیۂ نفس کے ابتدائی مراحل بھی انہی سے طے کئے ۔والد گرامی کے وصال کے بعد جامع فتح پوری سے ملحقہ مدرسہ میں مولانا مفتی غلام حبیب احمد علوی سے دینی علوم کی تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
جب مرجع المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین شاہ اشرفی رحمۃ اللہ علیہ دہلی تشریف لائے تو ابو مخدوم سید طاہر اشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو بیعت کیا، سلسۂ عالیہ قادریہ، سراجیہ ، اشرفیہ، میں اجازت و خلافت سے مشرف فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ ربانی سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولیٔ کامل، مرشدِ واصل اور مظہرِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تھے ۔ اپنے پیر و مرشد سے انتہا درجے کی عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔ مرشد کامل کے ارشاد پر عاز م کشمیر ہوئے اور بارہ سال تک ریاضت و مجاہدہ میں مصروف رہے۔ لاکھوں مسلمان آپ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے اور صد ہا غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
آپ چار دفعہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے اور بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کی ۔ 1945ء میں تقسیمِ ملک پر اہل و عیال سمیت ہجرت کر کے کراچی تشریف لے آئے ۔ ابتداءً کمباؤنڈ ملٹری ہاسپٹل" میں قیام رہا، بعد ازاں "فردوس کا لونی" میں "مسکنِ سادات اشرفیہ" کی بنیاد ڈالی۔ آپ کی طبیعت سادگی اور نفاست کا بہترین مرقع تھی۔اقوال و افعال اور نشت و بر خاست میں سنتِ مبارکہ کی پیروی کو مدِ نظر رکھتے ۔
آپ کے مریدین کا وسیع سلسلہ پاک و ہند کے طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے ۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اسکی تسکین کے لئے ہر امکانی سعی فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضری دینے والا ہمیشہ کے لئے آ پ کا عقیدت مندبن جاتا تھا۔
اور ادو وظائف ادا کرنے کے علاوہ پابندی کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کی محفل منعقد فرماتے ، دعاء ،تعویذ اور دم کے ذریوے اہل حاجت کی دستگیری فرماتے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت سید محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 جمادی الاولیٰ 1381ھ / بمطابق اکتوبر 1961ء کو ہوا ۔ اور "فردوس کالونی" کراچی میں محواستراحتِ ابدی ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ اکابرِ اہلسنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-tahir-ashraf-ashrafi-jilani
scholars.pk
Hazrat Syed Muhammad Tahir Ashraf Ashrafi Jilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور حجۃ الاسلام ، جمال الانام ، جانشینِ اعلیٰ حضرت ، الشاہ الامام مفتی محمد حامد رضا خان قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ رب محمد صلی علیہ وسلما
نحن عباد محمد صلی علیہ وسلما
ولادت:
ربیع الاول ۱۲۹۲ھ بمطابق ۱۸۷۵ء
وصال: ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ
بمطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء
ولادت شریف:
آپ کی ولادت باسعادت شہر بریلی میں ماہ ربیع الاول ۱۲۹۲ھ (۱۸۷۵ئ) میں ہوئی۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
اسم مبارک و خطاب:
عقیقہ میں آپ کا نام حسب دستور خاندانی محمد رکھا گیا۔ جن کے اعداد ۹۲ ہیں۔ اور یہی نام آپ کا تاریخی ہو گیا ۔ اور عرفی نام حامد رضا اور خطاب آپ کا حجۃ الاسلام ہے ۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
تعلیم و تربیت:
آپ کی تعلیم و تربیت آغوش والد ماجد امام اہلسنت شاہ احمد رضا فاضل بریلوی میں ہوئی ۔ والد ماجد آپ سے بڑی محبت فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ: ’’حامد منی وانا امنی حامد ‘‘جملہ علوم و فنون آپ نے اپنے والد ماجد سے پڑھے۔ یہاں تک کہ حدیث، تفسیر، فقہ و کتب معقول و منقول کو پڑھ کر صرف ۱۹ سال کی عمر شریف میں فارغ التحصیل ہو گئے۔ ( فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۵۳)
بیعت و خلافت:
آپ مرید و خلیفہ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ کے تھے اور والد ماجد اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضاعلیہ الرحمہ سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی۔ (تذکرہ علمائے اہلسنّت ص: ۸۱)
فضائل:
رئیس العلماء، تاج الاتقیاء، آفتاب شریعت و طریقت، شیخ المحدثین، راس المفسرین، مفکر اسلام، عالم علوم اسلام حضرت علامہ الشاہ حجۃ الاسلام مولانا الحاج قاری محمد حامد رضا خاں –
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چالیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔
آپ خلف اکبر امام اہلسنت شیخ الاسلام و المسلمین الشاہ احمد رضا خاں -کے ہیں۔ آپ اپنے والد ماجد کی تمام خوبیوں کے جامع تھے آپ کی شخصیت و حقانیت اسلام کی منہ بولتی تصویر تھی ۔ بیشتر غیر مسلم آپ کے چہرئہ انور کو دیکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حسن ظاہری کا یہ عالم تھا کہ ایک نظر میں دیکھنے والا پکار اٹھتا تھا کہ : ’’ھذا حجۃ الاسلام‘‘ (یہ اسلام کی دلیل ہیں) اور حرمین طیبین کی حاضری پر حضرت شیخ سید حسین دباغ اور سید مالکی ترکی علیہ الرحمہ نے آپ کی قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’ہم نے ہند وستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا‘‘۔
آپ کمالات باطنی کے جامع تھے۔ اپنے عہد کے لاثانی اور بے نظیر مدرس تھے، حدیث و تفسیر کا درس خاص طور پر مشہور تھا۔ اور عربی ادب میں منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ شعر و ادب کا بہت نازک اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ آپ نے مسلک اہلِ سنت و سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی بے مثال خدمت انجام دی۔ اور ساری عمر مسلمانانِ عالم اسلام کی فلاح و ترقی میں کوشاں رہے۔
عادات کریمہ:
آپ اپنے اسلاف و آبا و اجداد کے مکمل نمونہ تھے۔ اخلاق و عادات کے جامع تھے۔ آپ جب بات کرتے تو تبسم فرماتے ہوئے، لہجہ انتہائی محبت آمیز ہوتا۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت کا برتاؤ آپ کس شرست کے نمایاں جوہر تھے۔ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے۔ درود شریف کا اکثر ورد فرماتے یہی وجہ ہے کہ اکثر آپ کو نیند کے عالم میں بھی درود شریف پڑھتے دیکھا گیا۔ آپ کی طبیعت انتہائی نفاست پسند تھی چنانچہ آپ کا لباس آپ کی نفاست کا بہترین نمونہ ہوتا تھا۔ انگریز اور اس کی معاشرت کے آپ اپنے والد ماجد کی طرح شدید مخالف رہے۔ اور اس میں نمایاں کام انجام دیئے۔
انکساری:
حجۃ اسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ علوم و فنون کے شہنشاہ، زہد و تقویٰ میں یگانہ اور خطابت کے شہ سوار تھے۔ آپ نے اپنے اخلاق و کردار سے اپنے اسلاف کا جو نمونہ قوم کے سامنے چھوڑا ہے وہ ایک عینی شاہد کی زبانی ملاحظہ ہو،شیخ الدلائل مدنی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نورانی شکل و صورت والے ہیں۔ میری اتنی عزت کرتے کہ جب میں مدینہ طیبہ سے ان کے یہاں گیا۔ کپڑا لے کر میری جوتیاں تک صاف کرتے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے، ہر طرح خدمت کرتے کچھ روز کے قیام کے بعد جب میں بریلی شریف سے واپس عازم مدینہ ہونے لگا تو حضرت حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: مدینہ طیبہ میں سرکار اعظم میں میرا سلام عرض کرنا اور ؎
اب تو مدینے لے بلا، گنبد سبز دے دکھا
حامدؔ و مصطفیٰ تیرے ہند میں ہیں غلام دو
حسنِ سیرت:
جس طرح حجۃ الاسلام کا چہرہ خوبصورت تھا، اسی طرح ان کا دل بھی حسین تھا۔ وہ ہر ایک سے حسین تھے۔ صورت و سیرت، اخلاق و کردار، گفتار و رفتار، علم و فضل، تقویٰ و زہد سب حسین و خوبصورت، حجۃ الاسلامr بلند پایہ کردار اور پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ متواضع اور خلیق، مہربان اور رحیم و کریم، اپنے تو اپنے بیگانے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ رب محمد صلی علیہ وسلما
نحن عباد محمد صلی علیہ وسلما
ولادت:
ربیع الاول ۱۲۹۲ھ بمطابق ۱۸۷۵ء
وصال: ۱۷ جمادی الاول ۱۳۶۲ھ
بمطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء
ولادت شریف:
آپ کی ولادت باسعادت شہر بریلی میں ماہ ربیع الاول ۱۲۹۲ھ (۱۸۷۵ئ) میں ہوئی۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
اسم مبارک و خطاب:
عقیقہ میں آپ کا نام حسب دستور خاندانی محمد رکھا گیا۔ جن کے اعداد ۹۲ ہیں۔ اور یہی نام آپ کا تاریخی ہو گیا ۔ اور عرفی نام حامد رضا اور خطاب آپ کا حجۃ الاسلام ہے ۔
( تذکرہ علماء اہلسنّت ص: ۸۱، و فقیہہ اسلام ص: ۲۳۷، و فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۸۲)
تعلیم و تربیت:
آپ کی تعلیم و تربیت آغوش والد ماجد امام اہلسنت شاہ احمد رضا فاضل بریلوی میں ہوئی ۔ والد ماجد آپ سے بڑی محبت فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ: ’’حامد منی وانا امنی حامد ‘‘جملہ علوم و فنون آپ نے اپنے والد ماجد سے پڑھے۔ یہاں تک کہ حدیث، تفسیر، فقہ و کتب معقول و منقول کو پڑھ کر صرف ۱۹ سال کی عمر شریف میں فارغ التحصیل ہو گئے۔ ( فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں ص: ۵۳)
بیعت و خلافت:
آپ مرید و خلیفہ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ کے تھے اور والد ماجد اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضاعلیہ الرحمہ سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل تھی۔ (تذکرہ علمائے اہلسنّت ص: ۸۱)
فضائل:
رئیس العلماء، تاج الاتقیاء، آفتاب شریعت و طریقت، شیخ المحدثین، راس المفسرین، مفکر اسلام، عالم علوم اسلام حضرت علامہ الشاہ حجۃ الاسلام مولانا الحاج قاری محمد حامد رضا خاں –
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے چالیسویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔
آپ خلف اکبر امام اہلسنت شیخ الاسلام و المسلمین الشاہ احمد رضا خاں -کے ہیں۔ آپ اپنے والد ماجد کی تمام خوبیوں کے جامع تھے آپ کی شخصیت و حقانیت اسلام کی منہ بولتی تصویر تھی ۔ بیشتر غیر مسلم آپ کے چہرئہ انور کو دیکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حسن ظاہری کا یہ عالم تھا کہ ایک نظر میں دیکھنے والا پکار اٹھتا تھا کہ : ’’ھذا حجۃ الاسلام‘‘ (یہ اسلام کی دلیل ہیں) اور حرمین طیبین کی حاضری پر حضرت شیخ سید حسین دباغ اور سید مالکی ترکی علیہ الرحمہ نے آپ کی قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’ہم نے ہند وستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا‘‘۔
آپ کمالات باطنی کے جامع تھے۔ اپنے عہد کے لاثانی اور بے نظیر مدرس تھے، حدیث و تفسیر کا درس خاص طور پر مشہور تھا۔ اور عربی ادب میں منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ شعر و ادب کا بہت نازک اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ آپ نے مسلک اہلِ سنت و سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی بے مثال خدمت انجام دی۔ اور ساری عمر مسلمانانِ عالم اسلام کی فلاح و ترقی میں کوشاں رہے۔
عادات کریمہ:
آپ اپنے اسلاف و آبا و اجداد کے مکمل نمونہ تھے۔ اخلاق و عادات کے جامع تھے۔ آپ جب بات کرتے تو تبسم فرماتے ہوئے، لہجہ انتہائی محبت آمیز ہوتا۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت کا برتاؤ آپ کس شرست کے نمایاں جوہر تھے۔ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے۔ درود شریف کا اکثر ورد فرماتے یہی وجہ ہے کہ اکثر آپ کو نیند کے عالم میں بھی درود شریف پڑھتے دیکھا گیا۔ آپ کی طبیعت انتہائی نفاست پسند تھی چنانچہ آپ کا لباس آپ کی نفاست کا بہترین نمونہ ہوتا تھا۔ انگریز اور اس کی معاشرت کے آپ اپنے والد ماجد کی طرح شدید مخالف رہے۔ اور اس میں نمایاں کام انجام دیئے۔
انکساری:
حجۃ اسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ علوم و فنون کے شہنشاہ، زہد و تقویٰ میں یگانہ اور خطابت کے شہ سوار تھے۔ آپ نے اپنے اخلاق و کردار سے اپنے اسلاف کا جو نمونہ قوم کے سامنے چھوڑا ہے وہ ایک عینی شاہد کی زبانی ملاحظہ ہو،شیخ الدلائل مدنی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نورانی شکل و صورت والے ہیں۔ میری اتنی عزت کرتے کہ جب میں مدینہ طیبہ سے ان کے یہاں گیا۔ کپڑا لے کر میری جوتیاں تک صاف کرتے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے، ہر طرح خدمت کرتے کچھ روز کے قیام کے بعد جب میں بریلی شریف سے واپس عازم مدینہ ہونے لگا تو حضرت حجۃ الاسلام (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: مدینہ طیبہ میں سرکار اعظم میں میرا سلام عرض کرنا اور ؎
اب تو مدینے لے بلا، گنبد سبز دے دکھا
حامدؔ و مصطفیٰ تیرے ہند میں ہیں غلام دو
حسنِ سیرت:
جس طرح حجۃ الاسلام کا چہرہ خوبصورت تھا، اسی طرح ان کا دل بھی حسین تھا۔ وہ ہر ایک سے حسین تھے۔ صورت و سیرت، اخلاق و کردار، گفتار و رفتار، علم و فضل، تقویٰ و زہد سب حسین و خوبصورت، حجۃ الاسلامr بلند پایہ کردار اور پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔ متواضع اور خلیق، مہربان اور رحیم و کریم، اپنے تو اپنے بیگانے
❤1
بھی ان کے حسن سیرت اور اخلاق کی بلندی کے معترف تھے۔ البتہ آپ دشمنان دین و سنیّت اور گستاخان خدا اور رسول کے لئے برہنہ شمشیر تھے۔ اور غلامانِ مصطفیٰ کے لئے شاخ گل کی مانند لچک دار اور نرم۔
شب برات آتی تو سب سے معافی مانگتے۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچوں اور خادماؤں اور خادموں اور مریدوں سے بھی فرماتے کہ اگر میری طرف سے کوئی بات ہوگئی ہو تو معاف کر دو اور کسی کا حق رہ گیا ہو تو بتا دو۔ آپ الحب ﷲ و البغض ﷲ اور اشداء علی الکفار و رحماء بینھم کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ اپنے شاگردوں اور مریدوں سے بھی بڑے لطف و کرم اور محبت سے پیش آتے تھے۔ اور ہر مرید اور شاگرد یہی سمجھتا تھا کہ اسی سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ آپ لمبے سفر سے بریلی واپس ہوئے۔ ابھی گھر پر اترے بھی نہ تھے اور تانگہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ بہاری پور بریلی کے ایک شخص نے جس کا بڑا بھائی آپ کا مرید تھا اور اس وقت بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔ آپ سے عرض کیا کہ حضور روز ہی آکر دیکھ جاتا ہوں لیکن چونکہ حضور سفر پر تھے اس لئے دولت کدے پر معلوم کر کے ناامید لوٹ جاتا تھا میرے بھائی سرکار کے مرید ہیں اور سخت بیمار ہیں چل پھر نہیں سکتے۔ ان کی بڑی تمنا ہے کہ کسی صورت اپنے مرشد کا دیدار کر لیں۔ اتنا کہنا تھا کہ آپ نے گھر کے سامنے تانگہ رکوا کر اسی پر بیٹھے ہی بیٹھے اپنے چھوٹے صاحبزادے نعمانی میاں صاحب کو آواز دی اور کہا کہ سامان اتر والو، میں بیمار کی عیادت کر کے ابھی آتا ہوںاور آپ فوراً اپنے مرید کی عیادت کیلئے چلے گئے۔
بنارس کے مرید آپ کے بہت منہ چڑھے تھے اور آپ سے بے پناہ عقیدت بھی رکھتے تھے۔ اور محبت بھی کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے دعوت کی مریدوں میں گھرے رہنے کے سبب آپ ان کے یہاں وقت سے کھانے میں نہ پہنچ سکے۔ ان صاحب نے کافی انتظار کیا اور جب آپ نہ پہنچے تو گھر میں تالا لگا کر اور بچوں کو لے کر کہیں چلے گئے۔ آپ جب ان کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ تالا بند ہے۔ مسکراتے ہوئے لوٹ آئے بعد میں ملاقات ہونے پر انہوں نے ناراضگی بھی ظاہر کی اور روٹھنے کی وجہ بھی بتائی۔ آپ نے بجائے ان پر ناراض ہونے یا اسے اپنی ہتک سمجھنے کیلئے الٹا منایا اور دلجوئی کی۔
آپ خلفائے اعلیٰ حضرت اور اپنے ہم عصر علماء سے نہ صرف محبت کرتے بلکہ ان کا احترام بھی کرتے تھے جب کہ بیشتر آپ سے عمر اور تقریباً سب ہی علم و فضل میں آپ سے چھوٹے اور کم پایہ کے تھے۔ سادات کرام خصوصاً مارہرہ مطہرہ کے مخدوم زادگان کے سامنے توبچھ جاتے تھے۔ اور آقاؤں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔
حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بڑی انسیت تھی۔ اور دونوں میں اچھے اور گہرے مراسم بھی تھے ان کو آپ ہی نے ’’شبیہ غوث اعظم‘‘ کہا۔ آپ ہر جلسہ اور خصوصاً بریلی کی تقریبات میں ان کا بہت شاندار تعارف کرتے تھے۔ محدث اعظم ہند سے بھی اچھے مراسم تھے۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی اور صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی صاحب رضی اللہ عنہما کو بہت مانتے اور چاہتے۔ شیر بشیۂ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ سے بڑے لطف و عنایت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ آپ کی شادی میں حضور حجۃ الاسلام نے شرکت کی۔
حافظ ملت حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب بانی الجامعہ الاشرفیہ مبارکپور پر بھی خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ ان کی دعوت پر اپنے فرزند اصغر حضرت نعمانی کے ہمراہ ۱۳۳۴ھ میں آپ مبارک پور تشریف لے گئے۔آپ کو اپنے داماد شاگرداور خلیفہ حضرت مولانا تقدس علی خاں سے بھی بڑی محبت تھی۔ مولانا تقدس علی خاں سفر میں آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے۔( ماہانہ حجاز جدید اپریل ۱۹۸۹ء ص:۵۰،۵۱)
زہد و تقویٰ:
حضور حجۃ الاسلام-نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے۔ علمی و تبلیغی کاموں سے فرصت پاتے تو ذکر الہٰی اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہو جاتے۔ آپ کے جسمِ اقدس پر ایک پھوڑا ہوگیا تھا۔ جس کا آپریشن ناگزیر تھا۔ ڈاکٹر نے بے ہوشی کا انجکشن لگانا چاہا تو منع فرمادیا اور صاف کہہ دیا کہ میں نشے والا ٹیکہ نہیں لگواؤں گا۔ عالم ہوش میں دو تین گھنٹے تک آپریشن ہوتا رہا۔ درود و شریف کا ورد کرتے رہے اور کسی بھی درد و کرب کا اظہار نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر آپ کی ہمت اور استقامت اور تقویٰ پر ششدر رہ گیا۔ (ماہانہ حجاز جدید دہلی اپریل ۱۹۸۹ئ ص: ۵۱)
علمی و تبلیغی کارنامے:
حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ خطیب، مایہ ناز ادیب اور یگانۂ روزگار عالم و فاضل تھے۔ دین متین کی خدمت و تبلیغ، ناموس مصطفیٰ کی حفاظت، قوم کی فلاح و بہبود ان کی زندگی کے اصل مقاصد تھے اور یہی سچ ہے کہ وہ غلبۂ اسلام کی خاطر زندہ رہے اور سفر آخرت فرمایا تو پرچم اسلام بلند کر کے اس دنیا سے سرخرو و کامران ہوکر گئے۔ اس صدی کے مجدد ان کے والد محترم سیدنا اعلیٰ حضرت نے خود ان کی علمی و دینی خدمت کو سراہا ہے اور ان پر ناز کیا ہے۔ مسلکِ اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کی خاطر آپ نے برصغیر کے مختلف شہروں اور قصبوں کے دورے
شب برات آتی تو سب سے معافی مانگتے۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچوں اور خادماؤں اور خادموں اور مریدوں سے بھی فرماتے کہ اگر میری طرف سے کوئی بات ہوگئی ہو تو معاف کر دو اور کسی کا حق رہ گیا ہو تو بتا دو۔ آپ الحب ﷲ و البغض ﷲ اور اشداء علی الکفار و رحماء بینھم کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ اپنے شاگردوں اور مریدوں سے بھی بڑے لطف و کرم اور محبت سے پیش آتے تھے۔ اور ہر مرید اور شاگرد یہی سمجھتا تھا کہ اسی سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ آپ لمبے سفر سے بریلی واپس ہوئے۔ ابھی گھر پر اترے بھی نہ تھے اور تانگہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ بہاری پور بریلی کے ایک شخص نے جس کا بڑا بھائی آپ کا مرید تھا اور اس وقت بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔ آپ سے عرض کیا کہ حضور روز ہی آکر دیکھ جاتا ہوں لیکن چونکہ حضور سفر پر تھے اس لئے دولت کدے پر معلوم کر کے ناامید لوٹ جاتا تھا میرے بھائی سرکار کے مرید ہیں اور سخت بیمار ہیں چل پھر نہیں سکتے۔ ان کی بڑی تمنا ہے کہ کسی صورت اپنے مرشد کا دیدار کر لیں۔ اتنا کہنا تھا کہ آپ نے گھر کے سامنے تانگہ رکوا کر اسی پر بیٹھے ہی بیٹھے اپنے چھوٹے صاحبزادے نعمانی میاں صاحب کو آواز دی اور کہا کہ سامان اتر والو، میں بیمار کی عیادت کر کے ابھی آتا ہوںاور آپ فوراً اپنے مرید کی عیادت کیلئے چلے گئے۔
بنارس کے مرید آپ کے بہت منہ چڑھے تھے اور آپ سے بے پناہ عقیدت بھی رکھتے تھے۔ اور محبت بھی کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے دعوت کی مریدوں میں گھرے رہنے کے سبب آپ ان کے یہاں وقت سے کھانے میں نہ پہنچ سکے۔ ان صاحب نے کافی انتظار کیا اور جب آپ نہ پہنچے تو گھر میں تالا لگا کر اور بچوں کو لے کر کہیں چلے گئے۔ آپ جب ان کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ تالا بند ہے۔ مسکراتے ہوئے لوٹ آئے بعد میں ملاقات ہونے پر انہوں نے ناراضگی بھی ظاہر کی اور روٹھنے کی وجہ بھی بتائی۔ آپ نے بجائے ان پر ناراض ہونے یا اسے اپنی ہتک سمجھنے کیلئے الٹا منایا اور دلجوئی کی۔
آپ خلفائے اعلیٰ حضرت اور اپنے ہم عصر علماء سے نہ صرف محبت کرتے بلکہ ان کا احترام بھی کرتے تھے جب کہ بیشتر آپ سے عمر اور تقریباً سب ہی علم و فضل میں آپ سے چھوٹے اور کم پایہ کے تھے۔ سادات کرام خصوصاً مارہرہ مطہرہ کے مخدوم زادگان کے سامنے توبچھ جاتے تھے۔ اور آقاؤں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔
حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بڑی انسیت تھی۔ اور دونوں میں اچھے اور گہرے مراسم بھی تھے ان کو آپ ہی نے ’’شبیہ غوث اعظم‘‘ کہا۔ آپ ہر جلسہ اور خصوصاً بریلی کی تقریبات میں ان کا بہت شاندار تعارف کرتے تھے۔ محدث اعظم ہند سے بھی اچھے مراسم تھے۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی اور صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی صاحب رضی اللہ عنہما کو بہت مانتے اور چاہتے۔ شیر بشیۂ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ سے بڑے لطف و عنایت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ آپ کی شادی میں حضور حجۃ الاسلام نے شرکت کی۔
حافظ ملت حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب بانی الجامعہ الاشرفیہ مبارکپور پر بھی خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ ان کی دعوت پر اپنے فرزند اصغر حضرت نعمانی کے ہمراہ ۱۳۳۴ھ میں آپ مبارک پور تشریف لے گئے۔آپ کو اپنے داماد شاگرداور خلیفہ حضرت مولانا تقدس علی خاں سے بھی بڑی محبت تھی۔ مولانا تقدس علی خاں سفر میں آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے۔( ماہانہ حجاز جدید اپریل ۱۹۸۹ء ص:۵۰،۵۱)
زہد و تقویٰ:
حضور حجۃ الاسلام-نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے۔ علمی و تبلیغی کاموں سے فرصت پاتے تو ذکر الہٰی اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہو جاتے۔ آپ کے جسمِ اقدس پر ایک پھوڑا ہوگیا تھا۔ جس کا آپریشن ناگزیر تھا۔ ڈاکٹر نے بے ہوشی کا انجکشن لگانا چاہا تو منع فرمادیا اور صاف کہہ دیا کہ میں نشے والا ٹیکہ نہیں لگواؤں گا۔ عالم ہوش میں دو تین گھنٹے تک آپریشن ہوتا رہا۔ درود و شریف کا ورد کرتے رہے اور کسی بھی درد و کرب کا اظہار نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر آپ کی ہمت اور استقامت اور تقویٰ پر ششدر رہ گیا۔ (ماہانہ حجاز جدید دہلی اپریل ۱۹۸۹ئ ص: ۵۱)
علمی و تبلیغی کارنامے:
حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ خطیب، مایہ ناز ادیب اور یگانۂ روزگار عالم و فاضل تھے۔ دین متین کی خدمت و تبلیغ، ناموس مصطفیٰ کی حفاظت، قوم کی فلاح و بہبود ان کی زندگی کے اصل مقاصد تھے اور یہی سچ ہے کہ وہ غلبۂ اسلام کی خاطر زندہ رہے اور سفر آخرت فرمایا تو پرچم اسلام بلند کر کے اس دنیا سے سرخرو و کامران ہوکر گئے۔ اس صدی کے مجدد ان کے والد محترم سیدنا اعلیٰ حضرت نے خود ان کی علمی و دینی خدمت کو سراہا ہے اور ان پر ناز کیا ہے۔ مسلکِ اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کی خاطر آپ نے برصغیر کے مختلف شہروں اور قصبوں کے دورے
❤1