🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-05-1445 ᴴ | 01-12-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا سماء الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
آپ ظاہری اور معنوی علوم کےماہر تھے، متقی اور پرہیز گار تھے، دینا کی قطعاً خواہش نہ رکھتے تھے، صرف ضروریات کی حد تک دنیا کی چیزورں کو استعمال کرتے تھے، آپ مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری کے پوتے شیخ کبیرکے مرید تھے، کہتے ہیں کہ میر سید شریف جر جانی کے تلمیذ مولانا سناء الدین نے آپ سے علوم کی تحصیل کی تھی ملتان کی خانہ جنگیوں اور خلفشاریوں کی وجہ سے ملتان سے سکونت ترک کر کے کچھ عرصہ رنتھور اور بیانہ وغیرہ میں رہے اور اس کے بعد اور اس کے بعد دہلی میں سکونت پذیر ہوگئے چونکہ عمر بہت زیادہ ہوچکی تھی اس لیے آخری عمر میں آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی تھی لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بغیر کسی علاج کے دوبارہ بینائی عطا کردی تھی ۔
آپ اپنے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی تمام مخلوق پر سب سے زیادہ مہربانی یہ ہے کہ مخلوق کی سماءالدین کی آنکھوں میں راہ دیدی ہے، آپ نے شیخ فخر الدین کی مشہور کتاب لمعات کا حاشیہ لکھا ہے۔ جو اس کے معانی کی تشریح و توضیح کے لیے بہت کافی ہے آپ کا ایک اور رسالہ بنام مفتاح الاسرار بھی ہے جس کی اکثر عبارتیں پوری کی پوری شیخ عزیز نسفی کے رسالوں سے نقل کی گئی ہیں، آپ نے 17 جمادی الاول 901ھ میں وفات پائی، آپ کا مقبرہ دہلی میں شمسی حوض پر ہے جہاں آپ کی اولاد کی قبریں لائنوں اور صفوں میں موجود ہیں ۔
آپ نے شیخ عزیز نسفی کے مکتوبات میں سے ایک مکتوب کو مفتاح الاسرار میں اس طرح نقل کیا ہے کہ انسان کے انتہائی معنی میں، اہل شرعت اہل حکمت اور اہل وحدت کا اختلاف ہے، اہل شریعت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم بنانے سے کئی ہزار برس پہلے روح کو پیدا کیا اور ہر ایک کے لیے ایک مقام مقرر کردیا جہاں وہ روح لوٹ کر واپس آئے گی اور رہے گی جیسا کہ ارشاد ہے یعنی روح جب اپنے مقام ایمان سے جدا ہوتی ہے تو پھر لوٹ کر آسمان اول پر آتی ہے اور روح جبکہ مقام عبادت سے جدائی اختیار کرتی ہے تو وہ دوسرے آسمان کی طرف لَوٹتی ہے، اور روح اگر مقام زہد و تقوی سے جدا ہوتی ہے تو تیسرے آسمان پر آجاتی ہے اور جو روح مقام معرفت سے جدا ہوتی ہے تو وہ چوتھے آسمان پر رونق افروز ہو جاتی ہے، اور جو روح ولایت کے مقام سے الگ ہوتی ہے تو وہ پانچویں آسمان کی طرف چلی جاتی، اور جو روح مقام نبوت سے ہٹ جاتی ہے تو وہ چھٹے آسمان پر جلوہ فگن ہوتی ہے اور جو روح مقام رسالت سے الگ ہوتی ہے وہ ساتویں آسمان کی طرف گھوم جاتی ہے اور جو روح مقام اولو العزمی سے جدا ہوتی ہے تو وہ مقام کرسی کی جانب چلی جاتی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کہ جس نے مقام ختم نبوت سے جدائی اختیار کی ہے وہ عرش کی طرف پر واز کر گئی ہے اور روح جس مقام سے اتری ہے وہیں چڑھ جاتی ہے اور اپنا دائرہ پورا کر لیتی ہے اور یہ کیفیت نو بار واقع ہوتی ہے، لیکن جو شخص ایمان کے مقام تک رسائی نہیں کر پاتا اس کی روح کی پرواز کسی صورت میں بھی آسمان کی طرف نہیں ہوتی کیونکہ یہ مقامات و درجات نہ کسبی ہیں نہ خلقی اور اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کوئی تبدل و تغیر نہیں کرتا، صحیح اور حق راستہ یہ ہے کہ اگر ان مراتب میں سے کوئی مرتبہ اور درجہ بھی کسبی ہوتا تو ممکن تھا کہ کوئی نہ کوئی آج تک اپنے کسب سے اپنے سے اونچے مرتبے تک پہنچ جاتا اور اسی طرح کوئی نہ کوئی مسلمان اپنے کسب و عمل کے ذریعہ مقام نبوت تک بھی رسائی حاصل کرلیتا، حالانکہ کوئی مسلمان آج تک مَقامِ نبوت و رسالت تک نہیں پہنچ سکا ۔
اس گروہ کے نزدیک سلوک سے مراد یہ ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے مقام بازگشت کا معائنہ کرلیا جائے اور علم یقینی کے بجائے علم مشاہدی حاصل کرے ۔ اور نبیاء کی معراج دو قسم کی ہے، ایک معراج روحانی بلا جسد اور دوسری معراج جسمانی مع الروح اور اولیا ئے کرام کو صرف ایک ہی قسم کی معراج ہوتی ہے اور وہ معراج روحانی ہے ۔
آپ ظاہری اور معنوی علوم کےماہر تھے، متقی اور پرہیز گار تھے، دینا کی قطعاً خواہش نہ رکھتے تھے، صرف ضروریات کی حد تک دنیا کی چیزورں کو استعمال کرتے تھے، آپ مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری کے پوتے شیخ کبیرکے مرید تھے، کہتے ہیں کہ میر سید شریف جر جانی کے تلمیذ مولانا سناء الدین نے آپ سے علوم کی تحصیل کی تھی ملتان کی خانہ جنگیوں اور خلفشاریوں کی وجہ سے ملتان سے سکونت ترک کر کے کچھ عرصہ رنتھور اور بیانہ وغیرہ میں رہے اور اس کے بعد اور اس کے بعد دہلی میں سکونت پذیر ہوگئے چونکہ عمر بہت زیادہ ہوچکی تھی اس لیے آخری عمر میں آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی تھی لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بغیر کسی علاج کے دوبارہ بینائی عطا کردی تھی ۔
آپ اپنے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی تمام مخلوق پر سب سے زیادہ مہربانی یہ ہے کہ مخلوق کی سماءالدین کی آنکھوں میں راہ دیدی ہے، آپ نے شیخ فخر الدین کی مشہور کتاب لمعات کا حاشیہ لکھا ہے۔ جو اس کے معانی کی تشریح و توضیح کے لیے بہت کافی ہے آپ کا ایک اور رسالہ بنام مفتاح الاسرار بھی ہے جس کی اکثر عبارتیں پوری کی پوری شیخ عزیز نسفی کے رسالوں سے نقل کی گئی ہیں، آپ نے 17 جمادی الاول 901ھ میں وفات پائی، آپ کا مقبرہ دہلی میں شمسی حوض پر ہے جہاں آپ کی اولاد کی قبریں لائنوں اور صفوں میں موجود ہیں ۔
آپ نے شیخ عزیز نسفی کے مکتوبات میں سے ایک مکتوب کو مفتاح الاسرار میں اس طرح نقل کیا ہے کہ انسان کے انتہائی معنی میں، اہل شرعت اہل حکمت اور اہل وحدت کا اختلاف ہے، اہل شریعت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم بنانے سے کئی ہزار برس پہلے روح کو پیدا کیا اور ہر ایک کے لیے ایک مقام مقرر کردیا جہاں وہ روح لوٹ کر واپس آئے گی اور رہے گی جیسا کہ ارشاد ہے یعنی روح جب اپنے مقام ایمان سے جدا ہوتی ہے تو پھر لوٹ کر آسمان اول پر آتی ہے اور روح جبکہ مقام عبادت سے جدائی اختیار کرتی ہے تو وہ دوسرے آسمان کی طرف لَوٹتی ہے، اور روح اگر مقام زہد و تقوی سے جدا ہوتی ہے تو تیسرے آسمان پر آجاتی ہے اور جو روح مقام معرفت سے جدا ہوتی ہے تو وہ چوتھے آسمان پر رونق افروز ہو جاتی ہے، اور جو روح ولایت کے مقام سے الگ ہوتی ہے تو وہ پانچویں آسمان کی طرف چلی جاتی، اور جو روح مقام نبوت سے ہٹ جاتی ہے تو وہ چھٹے آسمان پر جلوہ فگن ہوتی ہے اور جو روح مقام رسالت سے الگ ہوتی ہے وہ ساتویں آسمان کی طرف گھوم جاتی ہے اور جو روح مقام اولو العزمی سے جدا ہوتی ہے تو وہ مقام کرسی کی جانب چلی جاتی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کہ جس نے مقام ختم نبوت سے جدائی اختیار کی ہے وہ عرش کی طرف پر واز کر گئی ہے اور روح جس مقام سے اتری ہے وہیں چڑھ جاتی ہے اور اپنا دائرہ پورا کر لیتی ہے اور یہ کیفیت نو بار واقع ہوتی ہے، لیکن جو شخص ایمان کے مقام تک رسائی نہیں کر پاتا اس کی روح کی پرواز کسی صورت میں بھی آسمان کی طرف نہیں ہوتی کیونکہ یہ مقامات و درجات نہ کسبی ہیں نہ خلقی اور اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کوئی تبدل و تغیر نہیں کرتا، صحیح اور حق راستہ یہ ہے کہ اگر ان مراتب میں سے کوئی مرتبہ اور درجہ بھی کسبی ہوتا تو ممکن تھا کہ کوئی نہ کوئی آج تک اپنے کسب سے اپنے سے اونچے مرتبے تک پہنچ جاتا اور اسی طرح کوئی نہ کوئی مسلمان اپنے کسب و عمل کے ذریعہ مقام نبوت تک بھی رسائی حاصل کرلیتا، حالانکہ کوئی مسلمان آج تک مَقامِ نبوت و رسالت تک نہیں پہنچ سکا ۔
اس گروہ کے نزدیک سلوک سے مراد یہ ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے مقام بازگشت کا معائنہ کرلیا جائے اور علم یقینی کے بجائے علم مشاہدی حاصل کرے ۔ اور نبیاء کی معراج دو قسم کی ہے، ایک معراج روحانی بلا جسد اور دوسری معراج جسمانی مع الروح اور اولیا ئے کرام کو صرف ایک ہی قسم کی معراج ہوتی ہے اور وہ معراج روحانی ہے ۔
❤1