🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-05-1445 ᴴ | 27-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-05-1445 ᴴ | 27-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تعارف:
سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ اویس زمانہ عارف یگانہ مولانا حضرت شاہ فضل الرحمٰن نقشبندی گنج مراد آبادی کے پوتے اور ان کے دوسرے سجادہ نشین شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی ـ

وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ایک سو پانچ سال کی عمر میں 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء وصال ہوگیا ہے ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

ان کی تدفین 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء بعد نماز عصر بمقام آستانۂ عالیہ رحمانیہ، گنج مراد آباد ضلع اناو میں کی گئی ۔

اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے آمین ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-e-tariqat-hazrat-molana-shah-afzaal-ur-rehman-urf-fazlo-miyan-naqshbandi-rehmani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت حکیم قاری احمد پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا قاری احمد ۱۹۱۱ء کو گنج مراد آباد، ضلع اوٹاوا ، انڈیا اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولانا عبدالاحد پیلی بھیتی تھا جو اپنے دور کے ممتاز محدث مولانا وصی احمد سورتی (بانی مدسۃ الحدیث ، پیلی بھیت) کے صاحبزادے اور امام احمد رضا خان محدث بریولی کے شاگرد خلیفہ تھے ۔

قاری احمد کی والدہ محترمہ تیرہویں صدی کے والی کامل حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی کی نواسی اور ممتاز عالم دین مولانا عبدالکریم گنج مراد آبادی کی صاحبزادی تھیں۔ قاری احمد کے والد مولانا عبدالاحد کو ان کے مخصوص انداز خطابت اور شعلہ بیانی کی وجہ سے امام احمد رضا بریلوی نے ’’سلطان الواعظین‘‘ کا خطاب مرحمت فرمایا تھا۔

تعلیم و تربیت:
حکیم قاری احمد نے ابتدائی تعلیم مدرسۃ الحدیث ، پیلی بھیت میں مولانا عبد الحئی پیلی بھیتی خلف الرشید مولانا عبد الطیف سورتی اور ابو المساکین مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی سے حاصل کی گولڑ شریف میں قیام کے دوران سرزمین پنجاب کے نامور قاری مولانا غلام رسول سے قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ رامپور کے مدرسہ عالیہ میں مولانا افضال الحق سے صرف و نحو مکمل کیا ۔ ۱۹۲۳ء کو معرسہ امینیہ دہلی میں قیام کے دوران آپ نے مختلف علوم و فنون میں مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا ضیاء الحق اور مولانا عبدالغفور سے بھی استفادہ کیا۔ ۱۹۳۶ء میں طیبہ کالج لکھنو سے حکمت کی سند حاصل کی اور پھر اپنے آبائی شہر پیلی بھیت میں طبابت کا آغاز کیا ۔

دوران تعلیم ۱۹۲۷ء کو گولڑا شریف کا سفر اختیار کیا اور حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی (گولڑہ شریف) کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں سعادت بیعت حاصل کی ۔

سیاسی خدمات:
قاری احمد مذہب و سیاست کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے اسلئے پیلی بھیت میں مسلم لیگ کی کامیابی و کامرانی کیلئے مقدور بھر کوششیں کیں۔ سٹی مسلم لیگ کے صدر منتخب ہو کر گرانقدر خدمات انجام دیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب ۱۹۳۹ء میں علی گڑھ سے واپسی پر مسلک لیگ کے تنظیمی دورے پر بریلی شریف تشریف لائے تو مولانا قاری احمد صدہا کارکنوں کا ایک جلوس لے کر پیلی بھیت سے بریلی شریف پہنچے اور قائد اعظم کے پر جوش استقبال میں حصہ لیا ۔ قائد اعظم کی بریلی آمد کی تفصیلات آپ نے اپنی کتاب ’’تاریخ پاک و ہند ص ۳۹۵‘‘ میں درج کی ہیں ۔

۱۹۳۹ء کے اواخر میں کانگریس حکومت کے خاتمہ پر مسلمانان ہند نے قائد اعظم کی اپیل پر نہایت جوش و خروش کے ساتھ یوم نجات منایا۔ پیلی بھیت میں یوم نجات کے موقعہ پر قاری احمد نے ایک طویل جلوس نکالا اور جلسہ منعقد کیا۔ نتیجتاً گرفتار ہوئے ۔

قیام پاکستان کے بعد قاری احمد کراچی شفٹ ہوکر آئے۔ مجاہد ملت علامہ عبد الحامد بدایونی سے دیرینہ مراسم کی بنا پر ’’جمعیت علماء پاکستان‘‘ کی سرگرمیوں میں پر جوش حصہ لیا ۔ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت کے مبصر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور قرار دادِ مقاصد کی تائید کی ۔
1
تصنیف و تالیف:
۱۹۵۰ء میں کراچی سے جاری ہونے والے ایک مذہبی ماہنامہ ’’ الاسلام ‘‘ کے نائب مدیر مقرر ہوئے اور مذہبی و تاریخی موضوعات پر مختلف مضامین قلم بند کئے۔ ۱۹۵۳ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے اور ’’ مشاہدات حرمین ‘‘ کے نام سے سفر نامہ حج تحریر کیا جو قیام پاکستان کے بعد کراچی سے شائع ہونے والا پہلا سفر نامہ حج تھا۔ کراچی کے اہل محبت عوام نے اونٹ گاڑیوں کے جلوس کی صورت میں کراچی بندرگاہ پر آپ کو حج کیلئے الوداع کہا، ۱۹۵۵ء میں قرآن محل کراچی کے مالک محمد سعید کی فرمائش پر ماہنامہ ’’پیام حق‘‘ کی ادارت سنبھالی اور خاموشی کے ساتھ اس حیثیت سے تا دم مرگ کام کرتے رہے ۔ (اکابر تحریک پاکستان) ـ

ایک درجن سے زائد کتابوں پر مبسوط مقدمے تحریر فرمائے۔ ان کتابوں میں مسند امام اعظم، ابن تیمیہ کی سیاعت شرعیہ، ابن خلدون کی سیرت الانبیائ، امام ابن جزری کی حصن حصین، مولانا امجد علی کی اصول حدیث اور مفتی انتظام اللہ شہابی کی مجالس المومنین وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا نے مذہبی و تاریخی موضوعات پر تقریباً بائیس کتابیں تحریر کیں ۔ مثلاً

۱۔ بخاری شریف جلد اول کا ترجمہ
۲۔ اکمال فی اسماء الرجال از شیخ ولی الدین الخطیب صاحب مشکوٰۃ کااردو ترجمہ
۳۔ مشاہدات حرمین
۴۔ تاریخ رو ہیکھنڈ
۵۔ قادیانی فتنہ کا ارتداد
۶۔ علماء تابعین
۷۔ تاریخ ہند وپاک

مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل اردو بازار کراچی ۔ غالباً ۱۹۷۶ء

۸۔ تاریخ مسلمانان عالم
۹۔ سوانح حیات حضرت لعل شہباز قلندر (پوری کتاب کو عالم فقری نے ’’ اولیائے پاکستان ‘‘ میں شامل کر دیا ہے) ـ
۱۰۔ سوانح حیات اعلیٰ حضرت بریلوی از: الحاج مانا میاں پیلی بھیتی۔  آپ نے مرتبہ فرما کر شائع کی ۔

سورتی دوا خانہ:
تصنیف و تالیف کے علاوہ قاری احمد ایک اچھے طبیب و خطیب تھے۔ کراچی کے علاقہ کاغذی بازار میٹھا در، صدر ٹائون میں ’’ سورتی دواخانہ ‘‘ کے نام سے پابندی کے ساتھ گذشتہ ۲۵ سال سے مطب کر رہے تھے جو مولانا کا ذریعہ معاش تھا ۔ بادامی مسجد میٹھا در ، ترک مسجد لی مارکیٹ اور رحمت مسجد بھیم پورہ سے آپ بحیثیت خطیب وابستہ رہے ۔

اولاد:
آپ کو تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ سب سے بڑے بیٹے محترم جناب خواجہ رضی حیدر صاحب نے آپ کی علمی مسند کو سنبھالا ہے۔ اور کئی کتابوں کے مصنف و مؤلف ہیں اور منجھے ہوئے قلم کار ہیں ۔

وصال:
مولانا قاری احمد نے ۱۳ جمادی الاول ۱۳۹۶ھ بمطابق ۱۴ مئی ۱۹۷۶ء کو اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-qari-ahmad-pilibhiti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت فاضلِ شہیر مولانا الحاج محمد عبد الرشید جھنگوی، جھنگ علیہ الرحمہ


استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔

آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]

[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]

تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔

کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔

تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔

۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔

۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔

اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔

اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔

آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔

آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔

بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔

چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر

اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ

[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
نجیبِ مصطفیٰ حضرت علامہ محمد عبد الحکیم جوش صدّیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
قائدِ ملّتِ اسلامیہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی کے دادا حضور، نجیبِ مصطفیٰ حضرت علّامہ شاہ محمد عبد الحکیم جوؔش صدّیقی میرٹھی قُدِّسَ سِرُّہٗ میرٹھ میں پیدا ہوئے ۔

آپ میرٹھ کی شاہی مسجد التمش کے امام و خطیب تھے، خود بھی شاعر تھے اور معروف شاعر مولانا محمد اسماعیل میرٹھی کے بڑے بھائی تھے، درس و تدریس فرماتے تھے ۔

نام: محمد عبد الحکیم ۔ لقب: نجیبِ مصطفیٰ ۔ خطاب: حکیم اللہ شاہ ۔

شجرۂ نسب:
آپ نسباً صدّیقی تھے، حضرت سیّدنا محمد بن سیّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہھما کی اولاد سے تھے ۔

آپ كا شجرۂ نسب یہ ہے:
’’ شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ صدّیقی بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن مولانا محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبد اللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد بن مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدّیقی خجندی بن حضرت منصور خجندی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم) ۔ ‘‘ [1]

تاریخِ ولادت:
حضرت شاہ عبدالحکیم جوش صدّیقی کے فرزندِ ارجمند حضرت علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمۃ لكھتے ہیں:

’’ راقمِ آثم ابو یحییٰ محمد بشیر الصدیقی عرف غلامِ مصطفیٰ (۱۳۰۰ھ)، ۱۳ جمادی الاخریٰ ۱۳۰۰ھ بروز سہ شنبہ (منگل) صبح صادق كے وقت ۲۱؍ مارچ ۱۸۸۳ع كو عالمِ وجود میں آیا ۔ اُس روز حضرت والد صاحب قبلہ قُدِّسَ سِرُّہٗ كی عمر شریف بحسابِ قمری پورے پچاس (۵۰) سال كی تھی ۔ ‘‘ [2]

اس سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت شاہ عبد الحكیم جؔوش صدّیقی كی ولادتِ باسعادت ۱۲۵۰ھ میں ہوئی تھی؛ نیز، حضرتِ بشیر نے دوسرے مقام پر صراحت كے ساتھ، آپ كا سالِ ولادت: ’’ ۱۲۵۰ھ ‘‘ لكھا بھی ہے ۔ [3]

لہٰذا، علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمۃ كی دستی تحریركے مطابق حضرت شاہ عبدالحكیم جؔوش صدّیقی كی تاریخِ ولادت: ’’ ۱۳ جُمادی الاخریٰ ۱۲۵۰ھ ‘‘ ہے؛ اور آن لائن كیلنڈر كے مطابق’’ ۱۳ جُمادی الاخریٰ ۱۲۵۰ھ ‘‘ كو عیسوی تاریخ: ’’ ۱۷ اكتوبر ۱۸۳۴ء ‘‘ تھی اور دن تھا جمعۃ المبارك ۔

اس طرح حضرتِ حكیم كی مكمّل تاریخِ ولادت یہ ہوئی:

’’ جمعۃ المبارك، ۱۳ جُمادَی الاخریٰ ۱۲۵۰ھ مطابق ۱۷ اكتوبر ۱۸۳۴ء ۔

بیعت و خلافت:
حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی کو حضرت سیّدنا سیّد غوث علی شاہ قلندر پانی پتی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے شرفِ بیعت و خلافت حاصل تھا؛ علاوہ ازیں، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اورحضرت سیّد شاہ علی حُسین اشرفی الجیلانی عرف اشرفی میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما ایسی بلند ہستیوں سےبھی آپ كو شرفِ خلافت حاصل تھا۔

حضور اشرفی میاں کے5 خلفا: شاہ عبدالحکیم اور اُن کے4 فرزند:

علّامہ شاہ محمود احمد قادری رفاقتی کان پوری دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ رقم طراز ہیں:

’’حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ شاعر بھی تھے اور ’’حکیم‘‘ اور ’’جوش‘‘ تخلص کرتے تھے۔ ان کو بیعت ِ اِرادت کا شرف حضرت حاجی شاہ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ سے حاصل ہوا تھا۔ حضورِ پُرنور حضرت مخدوم الاولیا (حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں) علیہ الرحمۃ کی شرفِ زیارت سے مشرف ہوئے تو طالبِ ارشاد ہوئے، عقیدت و محبّت اور تعلّقِ قلبی نے رنگ جمایا تو حضور نے حلقِ راس کر ا کر خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا؛ حضورِ پُر نور کے حکم سے خلفائے کرام کی فہرست (ب)، جو طبقۂ علما کے ساتھ مخصوص ہے، حضرت مولانا شاہ عبد الحکیم کا نامِ نامی پہلے نمبر پر درج ہوا۔ اس فہرست میں درجِ ذیل الفاظ ہیں:

’’مولانا مولوی عبد الحکیم صاحب خجندؔی المخاطب بہ ’حکیم اللہ شاہ‘، محلّہ مشائخاں (کو) بعطائے تاج دلق و مثالِ خلافت و عملِ مقراض جمیع سلاسل عطا فرمائی گئی۔ ۲۷؍ ذی قعدہ ۱۳۲۳ہجری‘۔‘‘[4]

حضور اشرفی میاں قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز کے خلفائے کرام کی جو فہرست طبقۂ علما سے مخصوص ہے اُس کے سرِفہرست یعنی سب سے پہلے حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی کام نامِ مبارک اس طرح درج ہے:

’’مولانا مولوی عبد الحکیم صاحب خجندی المخاطب بہ ’حکیم اللہ شاہ‘، محلّہ مشائخاں (کو) بعطائے تاج دلق و مثالِ خلافت و عملِ مقراض خلافت جمیع سلاسل عطا فرمائی گئی۔ ۲۷؍ ذی قعدہ ۱۳۲۳ہجری میں مُجاز و ماذون فرمائے گئے۔‘‘[5]

پھر آگے چل كر، اِسی فہرست میں حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کا اسمِ مبارک دوبارہ یوں مذکور ہے:

’’ مولوی عبد الحکیم المخاطب بہ ’حکیم اللہ شاہ‘ ۲۷ ذی القعدہ شاہ جہاں پور، ضلع میرٹھ، مدرّسِ اوّل مدرسۂ حنفیّہ ، قصور، لاہور ۔ ‘‘ [6]
1
’’ حکیم اللہ شاہ ‘‘ کا خطاب:
مندرجۂ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ حضور اشرفی میاں نے حضرت شاہ عبد الحکیم صدّیقی علیہما الرحمۃ کو ’’حکیم اللہ شاہ‘‘ کےخطاب سے نوازا  تھا۔

حضرت شاہ عبدالحکیم صدّیقی کے چارفرزندانِ گرامی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا مبلغِ اسلام حضرت  علّامہ شاہ احمد مختار صدّیقی، علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مدنی علیہم الرحمۃ) بھی حضور اشرفی میاں سے شرفِ خلافت رکھتے تھے، جس سے متعلّق عبارات چوتھے (بیعت اور اجازت و خلافت) اوردسویں باب (بہن بھائی) میں نقل کی جائیں گی ۔

ایك قادر الکلام شاعر:
خطیب العلما حضرت علّامہ مولانا نذیر احمد خجندؔی علیہ الرحمۃ کی سرپرستی میں بمبئی سے ایك ماہ نامہ ’’ شاہ راہ ‘‘ كے نام سے بھی نكلتا تھا، اُس میں آپ كے والدِ ماجد حضرت علّامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمۃ کاحسبِ ذیل ایک نعتیہ قصیدہ شائع ہوا تھا، جو اُسی ماہ نامے كی سرخی (Heading) كے ساتھ ہدیۂ قارئین کیا جاتا ہے:

’’ ذوق شوق
جذباتِ قبلۂ کونین و کعبۂ دارین، زبدۃ العارفین، سراج السالکین، عارف باللہ نجیب رسالت پناہ حضرت مولانا الحاج شاہ محمد عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَظِیْم

الٰہی! نعتِ احمد سے بیاں شیریں زباں تر ہو
سخن مقبول و تکرارِ سخن قندِ مقرر ہو

قریبِ روضۂ اقدس اگر مدفن میسّر ہو
دلِ مضطر کو آغوشِ لحد آغوشِ مادر ہو

اگر خاکِ مدینہ خوبیِ قسمت سے بستر ہو
وہ ہم سے خاکساروں کے لیے پھولوں کی چادر ہو

تِری بوئے محبّت سے دماغِ جاں معطّر ہو
تِری شمعِ تجلّی سے حریمِ دل منوّر ہو

الٰہی! لطف سے تیرے مقدّر یار و یاور ہو
حکیمِ جبہ فرسا ہو رسول اللہ کا در ہو

عیاں ہے شانِ حق، نامِ خدا کیا شان پائی ہے
تمھیں شایاں ہے رمزِ ’مَنْ رَّاٰنِیْ‘ گر زباں پر ہو

تمھارے نام کے صدقے تمھاری شان کے قرباں
نبی اللہ احمد ہو مقدّس ہو مطہر ہو

محمد مصطفیٰ خیر البریّہ رحمتِ عالم
امام الانبیا سیّد شفیعِ روزِ محشر ہو

تمھیں پایا خدا پایا تمھیں دیکھا خدا دیکھا
جمالِ حق نما اپنا دکھا دو تم کہ مظہر ہو

تمھارے دیکھنے والے لحد میں بھی نہ گھبرائیں
وہاں بھی جوشِ الفت سے خیالِ روئے انور ہو

مِری چشم تمنّا شکلِ آئینہ ہوئی حیراں
تمھاری خاکِ پا، یا مصطفیٰ! [7] کحل الجواہر ہو

ہماری سجدہ ریزی بھی کبھی تو کام آ جائے
برنگِ نقشِ پا، یا رب! درِ حضرت پہ یہ سر ہو

تِرے کوچے کی مٹّی ہی مجھے اکسیرِ اعظم ہے
الٰہی! زرد رو وہ ہو جسے کچھ خواہشِ زر ہو

تمھارے طالبوں کو تشنہ کامی کا گلہ کیوں ہو
عنایت آپ سے جو ہو وہ جامِ حوضِ کوثر ہو

جہاں کے مال و دولت کو نہ دیکھے آنکھ اُٹھا کر وہ
تمھارے عشق کی دولت سے جس کا دل تونگر ہو

تم اپنے خاکساروں کو نگاہِ مہر سے دیکھو
کہ ذرّہ ذرّہ اُن کی خاک کا خورشیدِ خاور ہو

جمالِ حق نما اپنا دِکھا دو، یا حبیب اللہ!
ہمہ تن چشم ہوں، چشمِ تمنّا اب منوّر ہو

پھروں یوں در بہ در کیوں ہند میں، اے رحمتِ عالم!
مِرا ملجا و ماویٰ یا حرم یا آپ کا در ہو

نسیمِ شہر ِ احمد سے کِھلے [8] یہ غنچۂ خاطر
دلِ شیدا بہ رنگِ بوئے گُل جامہ سے باہر ہو

دِکھایا جلوۂ برقِ تجلّی ایک عالم کو
اگر مومن کے دل میں ہو منافق کی زباں پر ہو

کہاں ہم اور کہاں ’لَا تَقْنَطُوْا‘ یہ فیضِ حضرت ہے
نزولِ رحمتِ حق آپ پر، اے بندہ پرور! ہو

گنہگارانِ اُمّت میں سے مَیں بھی ایک عاصی ہوں
لوائے حمد روزِ حشر مجھ پر سایہ گستر ہو

رسول اللہ! اب مجھ کو مدینے میں بُلا لیجے
کہ ہر دم روضۂ اطہر کا نظّارہ میسّر ہو

حکیمِؔ شیفتہ دردِ جدائی سے تڑپتا ہے
کرم فرما، رسول اللہ! کرم فرما کہ جاں بر ہو

خداوندا! بہ حقِّ شاہِ بطحا احمدِ مُرسل
دمِ آخر زبانِ جؔوش پر اَللّٰہُ اَکْبَر ہو ‘‘ [9]

اَولادِ امجاد:
آپ کے سات بیٹے اور سات ہی بیٹیاں تھیں ۔ سات بیٹوں میں سے مندرج:

ذیل چار فرزندانِ گرامی نے آفاقی شہرت پائی:

خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا مبلغِ اسلام حضرت علّامہ شاہ احمد مختار صدّیقی، الحاج علّامہ محمد بشیر صدّیقی، علّامہ نذیر احمد خجندی اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت مبلغِ اسلام علّامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدّیقی میرٹھی مدنی ۔ (علیہم الرحمہ)
1
وصالِ مبارک:
آپ کا وصال 3 جمادی الاُخری کو ہُوا۔  آپ کے سالِ وصال میں تین روایات نظر سے گزری ہیں: 1322ھ، 1323ھ اور  1324ھ ۔

مزارِ مبارك:
نجیبِ مصطفیٰ حضرت علامہ شاہ محمد عبد الحكیم جؔوش صدّیقی علیہ الرحمۃ كی قبرِ مبارك احاطۂ چشتی پہلوان شاہ، میرٹھ (ہندوستان) میں واقع ہے ۔ [10]

اللہ تبارك و  تعالٰی آپ كی مرقدِ مبارك پر، تا  صبحِ قیامت اپنی رحمتوں كی بركھا نازل فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ رَحْمَۃٍ لِّلْعَالَمِیْن ﷺ!

ماخوذ:
’’ علامہ حاجی محمد بشیر صدّیقی کا سفرِ زندگی ‘‘ (ملقب بہ لقبِ تاریخی ’’ یک اجل تحریر در حیاتِ بشیر (۲۰۱۷ء) ‘‘ از: ندیم احمد نؔدیم نورانی، تاریخ اشاعت: 1438ھ/ 2017ء،  شائع کردۂ بزمِ چشتیہ صابریہ، دار العلوم نعیمیہ، کراچی، باہتمام جمیلِ ملّت حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی ضیائی چشتی صابری ۔

[1] ’’ حیاتِ اسماعیل ‘‘، ص۳۰؛ دستی تحریرِ علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمۃ ۔
[2] دستی تحریرِ علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمہ ۔
[3] دستی تحریرِ علامہ محمد بشیر صدّیقی علیہ الرحمہ ۔
[4] ’’ حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۳۶ ۔
[5] ’’ حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی‘‘، ص ۳۰۰ ۔
[6] ’’ حیاتِ مخدوم الاولیاء محبوبِ ربّانی ‘‘، ص ۳۱۰ ۔
[7] ماہ نامہ ’’ شاہ راہ ‘‘ میں اِس مقام پر ’’ خاکِ پا، یا مصطفیٰ ‘‘ کی جگہ ’’ خاکِ پایا ۔ مصطفیٰ ‘‘

تھا ۔ اگلے شمارے (یعنی ربیع الثانی ۱۳۵۶ھ) میں حضرت علامہ غلام بھیک نیرنگ

کا ایک خط شائع ہوا، جس میں ’’ شاہ راہ ‘‘ ربیع الاوّل کی چند اغلاط کی نشان دِہی کے ساتھ اُن کی تصحیح بھی کی گئی تھی۔ اُسی کے مطابق یہاں تصحیح کر لی گئی ہے ۔ (ندیم نورانی)
[8] ماہ نامہ ’’ شاہ راہ ‘‘ میں اِس مقام پر ’’ کِھلے‘‘ کی جگہ ’’ کُھلے ‘‘ تھا۔ حسبِ سابق تصحیح کر لی گئی ۔ (ندیم نورانی)
[9] ماہ نامہ ’’ شاہ راہ ‘‘ ، بمبئی، ربیع الاوّل ۱۳۵۶ھ، ص ۳ ۔

نوٹ:
مبلغِ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیفِ لطیف ’’ ذکرِ حبیب ﷺ ‘‘ (حصّۂ دوم) کے ابتدائی صفحات میں اِس نعت شریف کے صرف سات منتخب اشعار درج فرمائے ہیں؛ اِس انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ’’ ذکرِ حبیب ﷺ ‘‘ میں حضرت علامہ شاہ محمد عبد الحکیم صدّیقی علیہ الرحمہ کے جو کلام شامل فرمائے ہیں، شاید وہ منتخب اشعار پر مشتمل ہوں ۔ (ندیم نورانی)
[10] ’’ تذكرۂ خانوادۂ علیمیہ، ص۴۱؛ ماہ نامہ ’’پیامِ حرم‘‘ جمدا شاہی (انڈیا) كا مبلغ ِ اسلام نمبر، مارچ ۲۰۱۵ء، ص 7 اور 89 ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/abdul-hakeem-josh-siddeeqi-najeeb-e-mustafa-shah-muhammad
1