🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-05-1445 ᴴ | 27-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-05-1445 ᴴ | 27-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
تعارف:
سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ اویس زمانہ عارف یگانہ مولانا حضرت شاہ فضل الرحمٰن نقشبندی گنج مراد آبادی کے پوتے اور ان کے دوسرے سجادہ نشین شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی ـ
وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ایک سو پانچ سال کی عمر میں 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء وصال ہوگیا ہے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ان کی تدفین 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء بعد نماز عصر بمقام آستانۂ عالیہ رحمانیہ، گنج مراد آباد ضلع اناو میں کی گئی ۔
اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے آمین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-e-tariqat-hazrat-molana-shah-afzaal-ur-rehman-urf-fazlo-miyan-naqshbandi-rehmani
تعارف:
سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ اویس زمانہ عارف یگانہ مولانا حضرت شاہ فضل الرحمٰن نقشبندی گنج مراد آبادی کے پوتے اور ان کے دوسرے سجادہ نشین شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی ـ
وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ایک سو پانچ سال کی عمر میں 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء وصال ہوگیا ہے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ان کی تدفین 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء بعد نماز عصر بمقام آستانۂ عالیہ رحمانیہ، گنج مراد آباد ضلع اناو میں کی گئی ۔
اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے آمین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-e-tariqat-hazrat-molana-shah-afzaal-ur-rehman-urf-fazlo-miyan-naqshbandi-rehmani
❤1
حضرت حکیم قاری احمد پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا قاری احمد ۱۹۱۱ء کو گنج مراد آباد، ضلع اوٹاوا ، انڈیا اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولانا عبدالاحد پیلی بھیتی تھا جو اپنے دور کے ممتاز محدث مولانا وصی احمد سورتی (بانی مدسۃ الحدیث ، پیلی بھیت) کے صاحبزادے اور امام احمد رضا خان محدث بریولی کے شاگرد خلیفہ تھے ۔
قاری احمد کی والدہ محترمہ تیرہویں صدی کے والی کامل حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی کی نواسی اور ممتاز عالم دین مولانا عبدالکریم گنج مراد آبادی کی صاحبزادی تھیں۔ قاری احمد کے والد مولانا عبدالاحد کو ان کے مخصوص انداز خطابت اور شعلہ بیانی کی وجہ سے امام احمد رضا بریلوی نے ’’سلطان الواعظین‘‘ کا خطاب مرحمت فرمایا تھا۔
تعلیم و تربیت:
حکیم قاری احمد نے ابتدائی تعلیم مدرسۃ الحدیث ، پیلی بھیت میں مولانا عبد الحئی پیلی بھیتی خلف الرشید مولانا عبد الطیف سورتی اور ابو المساکین مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی سے حاصل کی گولڑ شریف میں قیام کے دوران سرزمین پنجاب کے نامور قاری مولانا غلام رسول سے قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ رامپور کے مدرسہ عالیہ میں مولانا افضال الحق سے صرف و نحو مکمل کیا ۔ ۱۹۲۳ء کو معرسہ امینیہ دہلی میں قیام کے دوران آپ نے مختلف علوم و فنون میں مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا ضیاء الحق اور مولانا عبدالغفور سے بھی استفادہ کیا۔ ۱۹۳۶ء میں طیبہ کالج لکھنو سے حکمت کی سند حاصل کی اور پھر اپنے آبائی شہر پیلی بھیت میں طبابت کا آغاز کیا ۔
دوران تعلیم ۱۹۲۷ء کو گولڑا شریف کا سفر اختیار کیا اور حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی (گولڑہ شریف) کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں سعادت بیعت حاصل کی ۔
سیاسی خدمات:
قاری احمد مذہب و سیاست کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے اسلئے پیلی بھیت میں مسلم لیگ کی کامیابی و کامرانی کیلئے مقدور بھر کوششیں کیں۔ سٹی مسلم لیگ کے صدر منتخب ہو کر گرانقدر خدمات انجام دیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب ۱۹۳۹ء میں علی گڑھ سے واپسی پر مسلک لیگ کے تنظیمی دورے پر بریلی شریف تشریف لائے تو مولانا قاری احمد صدہا کارکنوں کا ایک جلوس لے کر پیلی بھیت سے بریلی شریف پہنچے اور قائد اعظم کے پر جوش استقبال میں حصہ لیا ۔ قائد اعظم کی بریلی آمد کی تفصیلات آپ نے اپنی کتاب ’’تاریخ پاک و ہند ص ۳۹۵‘‘ میں درج کی ہیں ۔
۱۹۳۹ء کے اواخر میں کانگریس حکومت کے خاتمہ پر مسلمانان ہند نے قائد اعظم کی اپیل پر نہایت جوش و خروش کے ساتھ یوم نجات منایا۔ پیلی بھیت میں یوم نجات کے موقعہ پر قاری احمد نے ایک طویل جلوس نکالا اور جلسہ منعقد کیا۔ نتیجتاً گرفتار ہوئے ۔
قیام پاکستان کے بعد قاری احمد کراچی شفٹ ہوکر آئے۔ مجاہد ملت علامہ عبد الحامد بدایونی سے دیرینہ مراسم کی بنا پر ’’جمعیت علماء پاکستان‘‘ کی سرگرمیوں میں پر جوش حصہ لیا ۔ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت کے مبصر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور قرار دادِ مقاصد کی تائید کی ۔
مولانا قاری احمد ۱۹۱۱ء کو گنج مراد آباد، ضلع اوٹاوا ، انڈیا اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولانا عبدالاحد پیلی بھیتی تھا جو اپنے دور کے ممتاز محدث مولانا وصی احمد سورتی (بانی مدسۃ الحدیث ، پیلی بھیت) کے صاحبزادے اور امام احمد رضا خان محدث بریولی کے شاگرد خلیفہ تھے ۔
قاری احمد کی والدہ محترمہ تیرہویں صدی کے والی کامل حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی کی نواسی اور ممتاز عالم دین مولانا عبدالکریم گنج مراد آبادی کی صاحبزادی تھیں۔ قاری احمد کے والد مولانا عبدالاحد کو ان کے مخصوص انداز خطابت اور شعلہ بیانی کی وجہ سے امام احمد رضا بریلوی نے ’’سلطان الواعظین‘‘ کا خطاب مرحمت فرمایا تھا۔
تعلیم و تربیت:
حکیم قاری احمد نے ابتدائی تعلیم مدرسۃ الحدیث ، پیلی بھیت میں مولانا عبد الحئی پیلی بھیتی خلف الرشید مولانا عبد الطیف سورتی اور ابو المساکین مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی سے حاصل کی گولڑ شریف میں قیام کے دوران سرزمین پنجاب کے نامور قاری مولانا غلام رسول سے قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ رامپور کے مدرسہ عالیہ میں مولانا افضال الحق سے صرف و نحو مکمل کیا ۔ ۱۹۲۳ء کو معرسہ امینیہ دہلی میں قیام کے دوران آپ نے مختلف علوم و فنون میں مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا ضیاء الحق اور مولانا عبدالغفور سے بھی استفادہ کیا۔ ۱۹۳۶ء میں طیبہ کالج لکھنو سے حکمت کی سند حاصل کی اور پھر اپنے آبائی شہر پیلی بھیت میں طبابت کا آغاز کیا ۔
دوران تعلیم ۱۹۲۷ء کو گولڑا شریف کا سفر اختیار کیا اور حضرت قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی (گولڑہ شریف) کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں سعادت بیعت حاصل کی ۔
سیاسی خدمات:
قاری احمد مذہب و سیاست کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے اسلئے پیلی بھیت میں مسلم لیگ کی کامیابی و کامرانی کیلئے مقدور بھر کوششیں کیں۔ سٹی مسلم لیگ کے صدر منتخب ہو کر گرانقدر خدمات انجام دیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب ۱۹۳۹ء میں علی گڑھ سے واپسی پر مسلک لیگ کے تنظیمی دورے پر بریلی شریف تشریف لائے تو مولانا قاری احمد صدہا کارکنوں کا ایک جلوس لے کر پیلی بھیت سے بریلی شریف پہنچے اور قائد اعظم کے پر جوش استقبال میں حصہ لیا ۔ قائد اعظم کی بریلی آمد کی تفصیلات آپ نے اپنی کتاب ’’تاریخ پاک و ہند ص ۳۹۵‘‘ میں درج کی ہیں ۔
۱۹۳۹ء کے اواخر میں کانگریس حکومت کے خاتمہ پر مسلمانان ہند نے قائد اعظم کی اپیل پر نہایت جوش و خروش کے ساتھ یوم نجات منایا۔ پیلی بھیت میں یوم نجات کے موقعہ پر قاری احمد نے ایک طویل جلوس نکالا اور جلسہ منعقد کیا۔ نتیجتاً گرفتار ہوئے ۔
قیام پاکستان کے بعد قاری احمد کراچی شفٹ ہوکر آئے۔ مجاہد ملت علامہ عبد الحامد بدایونی سے دیرینہ مراسم کی بنا پر ’’جمعیت علماء پاکستان‘‘ کی سرگرمیوں میں پر جوش حصہ لیا ۔ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت کے مبصر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور قرار دادِ مقاصد کی تائید کی ۔
❤1
تصنیف و تالیف:
۱۹۵۰ء میں کراچی سے جاری ہونے والے ایک مذہبی ماہنامہ ’’ الاسلام ‘‘ کے نائب مدیر مقرر ہوئے اور مذہبی و تاریخی موضوعات پر مختلف مضامین قلم بند کئے۔ ۱۹۵۳ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے اور ’’ مشاہدات حرمین ‘‘ کے نام سے سفر نامہ حج تحریر کیا جو قیام پاکستان کے بعد کراچی سے شائع ہونے والا پہلا سفر نامہ حج تھا۔ کراچی کے اہل محبت عوام نے اونٹ گاڑیوں کے جلوس کی صورت میں کراچی بندرگاہ پر آپ کو حج کیلئے الوداع کہا، ۱۹۵۵ء میں قرآن محل کراچی کے مالک محمد سعید کی فرمائش پر ماہنامہ ’’پیام حق‘‘ کی ادارت سنبھالی اور خاموشی کے ساتھ اس حیثیت سے تا دم مرگ کام کرتے رہے ۔ (اکابر تحریک پاکستان) ـ
ایک درجن سے زائد کتابوں پر مبسوط مقدمے تحریر فرمائے۔ ان کتابوں میں مسند امام اعظم، ابن تیمیہ کی سیاعت شرعیہ، ابن خلدون کی سیرت الانبیائ، امام ابن جزری کی حصن حصین، مولانا امجد علی کی اصول حدیث اور مفتی انتظام اللہ شہابی کی مجالس المومنین وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا نے مذہبی و تاریخی موضوعات پر تقریباً بائیس کتابیں تحریر کیں ۔ مثلاً
۱۔ بخاری شریف جلد اول کا ترجمہ
۲۔ اکمال فی اسماء الرجال از شیخ ولی الدین الخطیب صاحب مشکوٰۃ کااردو ترجمہ
۳۔ مشاہدات حرمین
۴۔ تاریخ رو ہیکھنڈ
۵۔ قادیانی فتنہ کا ارتداد
۶۔ علماء تابعین
۷۔ تاریخ ہند وپاک
مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل اردو بازار کراچی ۔ غالباً ۱۹۷۶ء
۸۔ تاریخ مسلمانان عالم
۹۔ سوانح حیات حضرت لعل شہباز قلندر (پوری کتاب کو عالم فقری نے ’’ اولیائے پاکستان ‘‘ میں شامل کر دیا ہے) ـ
۱۰۔ سوانح حیات اعلیٰ حضرت بریلوی از: الحاج مانا میاں پیلی بھیتی۔ آپ نے مرتبہ فرما کر شائع کی ۔
سورتی دوا خانہ:
تصنیف و تالیف کے علاوہ قاری احمد ایک اچھے طبیب و خطیب تھے۔ کراچی کے علاقہ کاغذی بازار میٹھا در، صدر ٹائون میں ’’ سورتی دواخانہ ‘‘ کے نام سے پابندی کے ساتھ گذشتہ ۲۵ سال سے مطب کر رہے تھے جو مولانا کا ذریعہ معاش تھا ۔ بادامی مسجد میٹھا در ، ترک مسجد لی مارکیٹ اور رحمت مسجد بھیم پورہ سے آپ بحیثیت خطیب وابستہ رہے ۔
اولاد:
آپ کو تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ سب سے بڑے بیٹے محترم جناب خواجہ رضی حیدر صاحب نے آپ کی علمی مسند کو سنبھالا ہے۔ اور کئی کتابوں کے مصنف و مؤلف ہیں اور منجھے ہوئے قلم کار ہیں ۔
وصال:
مولانا قاری احمد نے ۱۳ جمادی الاول ۱۳۹۶ھ بمطابق ۱۴ مئی ۱۹۷۶ء کو اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-qari-ahmad-pilibhiti
۱۹۵۰ء میں کراچی سے جاری ہونے والے ایک مذہبی ماہنامہ ’’ الاسلام ‘‘ کے نائب مدیر مقرر ہوئے اور مذہبی و تاریخی موضوعات پر مختلف مضامین قلم بند کئے۔ ۱۹۵۳ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے اور ’’ مشاہدات حرمین ‘‘ کے نام سے سفر نامہ حج تحریر کیا جو قیام پاکستان کے بعد کراچی سے شائع ہونے والا پہلا سفر نامہ حج تھا۔ کراچی کے اہل محبت عوام نے اونٹ گاڑیوں کے جلوس کی صورت میں کراچی بندرگاہ پر آپ کو حج کیلئے الوداع کہا، ۱۹۵۵ء میں قرآن محل کراچی کے مالک محمد سعید کی فرمائش پر ماہنامہ ’’پیام حق‘‘ کی ادارت سنبھالی اور خاموشی کے ساتھ اس حیثیت سے تا دم مرگ کام کرتے رہے ۔ (اکابر تحریک پاکستان) ـ
ایک درجن سے زائد کتابوں پر مبسوط مقدمے تحریر فرمائے۔ ان کتابوں میں مسند امام اعظم، ابن تیمیہ کی سیاعت شرعیہ، ابن خلدون کی سیرت الانبیائ، امام ابن جزری کی حصن حصین، مولانا امجد علی کی اصول حدیث اور مفتی انتظام اللہ شہابی کی مجالس المومنین وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا نے مذہبی و تاریخی موضوعات پر تقریباً بائیس کتابیں تحریر کیں ۔ مثلاً
۱۔ بخاری شریف جلد اول کا ترجمہ
۲۔ اکمال فی اسماء الرجال از شیخ ولی الدین الخطیب صاحب مشکوٰۃ کااردو ترجمہ
۳۔ مشاہدات حرمین
۴۔ تاریخ رو ہیکھنڈ
۵۔ قادیانی فتنہ کا ارتداد
۶۔ علماء تابعین
۷۔ تاریخ ہند وپاک
مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل اردو بازار کراچی ۔ غالباً ۱۹۷۶ء
۸۔ تاریخ مسلمانان عالم
۹۔ سوانح حیات حضرت لعل شہباز قلندر (پوری کتاب کو عالم فقری نے ’’ اولیائے پاکستان ‘‘ میں شامل کر دیا ہے) ـ
۱۰۔ سوانح حیات اعلیٰ حضرت بریلوی از: الحاج مانا میاں پیلی بھیتی۔ آپ نے مرتبہ فرما کر شائع کی ۔
سورتی دوا خانہ:
تصنیف و تالیف کے علاوہ قاری احمد ایک اچھے طبیب و خطیب تھے۔ کراچی کے علاقہ کاغذی بازار میٹھا در، صدر ٹائون میں ’’ سورتی دواخانہ ‘‘ کے نام سے پابندی کے ساتھ گذشتہ ۲۵ سال سے مطب کر رہے تھے جو مولانا کا ذریعہ معاش تھا ۔ بادامی مسجد میٹھا در ، ترک مسجد لی مارکیٹ اور رحمت مسجد بھیم پورہ سے آپ بحیثیت خطیب وابستہ رہے ۔
اولاد:
آپ کو تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ سب سے بڑے بیٹے محترم جناب خواجہ رضی حیدر صاحب نے آپ کی علمی مسند کو سنبھالا ہے۔ اور کئی کتابوں کے مصنف و مؤلف ہیں اور منجھے ہوئے قلم کار ہیں ۔
وصال:
مولانا قاری احمد نے ۱۳ جمادی الاول ۱۳۹۶ھ بمطابق ۱۴ مئی ۱۹۷۶ء کو اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-qari-ahmad-pilibhiti
❤1
حضرت فاضلِ شہیر مولانا الحاج محمد عبد الرشید جھنگوی، جھنگ علیہ الرحمہ
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]
[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]
تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔
کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔
۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔
۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔
اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔
اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔
آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔
آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔
چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ
[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد عبدالرشید بن مولانا حکیم قطب الدین ابن مولوی احمد بخش ۱۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ / ۳ فروری ۱۹۲۰ء میں چک ۲۳۳ ضلع جھنگ کے ایک عظیم علمی گھرانے میں تولد ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد حضرت مولانا علامہ محمد قطب الدین قدس سرہ (م۵ ربیع الثانی ۱۳۷۹ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۹ء) بہت بڑے مناظر، منفرد انشاء پرداز، صاحبِ قلم اور کامل طبیب تھے ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام اور مسلکِ اہل سنّت و جماعت کے تحفظ اور اشاعتِ دین میں بسر کی ۔ [۱]
[۱۔ عبدالحکیم شرف قادری، مولانا: تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص۴۰۱ تا ۴۰۴]
تعلیم و تربیت:
چونکہ حضرت مولانا عبد الرشید مدظلہ کے والد ماجد خود ایک جلیل فاضل تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی کافیہ تک اپنے والد محترم قدس سرہ کے پاس پڑھیں ۔ ایک سال مدسہ ریاض الاسلام (جھنگ) میں مولانا غلام فرید قریشی سے اکتسابِ فیض کیا ۔ علاوہ ازیں جامعہ محمدیہ جھنگ اور اوچھالہ تحصیل خوشاب (ضلع سرگودھا) میں بھی حضرت مولانا احمد شاہ اور حضرت مولانا قطب الدین (آپ کے والد نہیں) سے بھی پڑھتے رہے ۔
کتب احادیث کا درس لینے کے لیے بریلی شریف حاضر ہوئے اور محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سرار احمد قدس سرہ سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد ۱۹۴۵ء میں سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
تدریس:
آپ نے فراغت پاتے ہی تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا، چودہ سال تک دار العلوم نقشبندیہ جماعتیہ علی پور شریف (ضلع سیالکوٹ) میں پڑھاتے رہے ۔ ایک سال ۱۹۵۸ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی موجودگی میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سر انجام دیے ۔
۱۹۵۹ء میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد قطب الدین جھنگوی کا انتقال ہوگیا، جس کی بناء پر آپ کو گھر آنا پڑا۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ نے اپنے والد مکرم کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ قطبیہ رضویہ کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور اس کا انتظام و انصرام (اور تدریس بھی) اپنے ذمہ لیا ۔
۱۹۷۲ء سے آپ سنی رضوی جامع مسجد فیصل آباد میں خطابت کے فرائض اسر انجام دے رہے ہیں ۔
اہلِ باطل سے مناظرے کی قوت آپ کو اللہ تعالیٰ نے وراثتاً عطا فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے شیعہ مکتبۂ فکر کے بہت بڑے مناظر اسماعیل کے تلمیذ تاج حیدری کو موضع سو ہادہ میں مسئلہ خلافت پر مناظرہ کرکے شکست دی ۔
اسی طرح اسماعیل کے دیگر شاگردوں سے جامعہ رضویہ میں مسئلہ ماتم پر مناطرہ ہوا اور آپ نے دندان شکن جواب دے کر ان کو مبہوت کیا ۔
آپ نے روافض کے ردّ میں کچھ مضامین بھی تحریر کیے جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہیں اور زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے ۔
آپ ۱۹۴۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔
بیعت:
آپ کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے شرف بیعت حاصل ہے ۔
چند مشہور تلامذہ:
آپ کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا محمد شریف، ڈسکہ
۲۔ مولانا ابوداؤد محمد صادق، گوجرانوالہ
۳۔ صوفی محمد بخش، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۴۔ مولانا اللہ بخش اویسی، کراچی
۵۔ مولانا غلام سیرانی، رحیم یار خان
۶۔ مولانا محمد عجیب، جھنگ صدر
اولاد:
آپ کے تین صاحبزادے (صاحبزادہ ضیاء المصطفےٰ، صاحبزادہ عطاء المصطفےٰ اور صاحبزادہ انوار المصطفےٰ) اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ ان میں سے دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں قرآن پاک کی حافظ ہیں ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ـ
[۱۔ یہ تمام کوائف ۱۸ جولائی ۱۹۷۷ء کو عرس محدثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے موقع پر مولانا محمد فاضل صمدانی، متعلم جامعہ رضویہ فیصل آباد کے ذریعے حاصل ہوئے ۔ (مرتب) ]
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rasheed-jhangvi
❤1