حضرت سید غلام نبی شاہ بن حضرت سید غلام محمد شاہ کشمیری علیہم الرحمہ
ولادت:
آپ سری نگر ( مقبوضہ کشمیر ) میں تولد ہوئے ۔ کشمیر کے نامور بزرگ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت صوفی سید سلامت علی شاہ المعروف چھتری والی سرکار ( آستانہ عالیہ راوی روڈ لاہور ) سے دست بیعت اور منظور نظر تھے ۔
شادی و اولاد:
کشمیر میں آپ نے شادی کی جس سے ایک بچی تولد ہوئی ۔ شیرخواری میں ان کو ان کی والدہ کے پاس کشمیر چھوڑ کر خود ۱۹۶۷ء کو کراچی ( سندھ) تشریف لے آئے ۔
عادات و خصائل:
آپ تارک الدنیا صوفی تھے۔ سخت مجاہدے کئے سمندر کے کنارے ویرانے میں ، دہشت ناک پہاڑوں میں چلے کاٹے ۔ عوام الناس اور دنیا کی تمام سہولیات سے دور ساحل سمندر پر طبعا سخی تھے جو نذرانہ نذر ہوتا وہ راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھے کل کے لئے جمع کرنا عادت نہ تھی ۔ متوکل تھے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر کا مل بھروسہ رکھتے تھے کہ آج اس ویرانہ میں عطا کر رہا ہے وہ کل بھی عطا کرے گا ۔ شب و روز اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا میں بسر کئے ۔ نفس کے تزکیہ و تصفیہ کے لئے بڑے بڑے مجاہدے کئے۔ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔
ابتدا میں آپ مقبوضہ کشمیر میں لکڑی پر بہترین نقش و نگار تراشنے ، قالین کے خوبصورت ڈیزائن وغیرہ کا کام کرتے تھے ۔
تعمیر مساجد:
ساحل کلفٹن ’’ مسجد عرفات ‘‘ تعمیر کی ۔ گلشن حدید بن قاسم کراچی سے آگے اس لنک روڈ پر ایک مقام ہے جو نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کو باہم ملاتی ہے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بعد میں آپ کا مزار مبارک بنا۔ وہاں بھی ’’مسجد علی ‘‘ تعمیر فرمائی جس کے برابر میں پہاڑ کے اندر ایک چھجا نما غار بنا ہوا ہے جس میں آپ نے چلہ کیا تھا۔ آج وہ یاد گار ایک کمرے کی شکل میں محفوظ ہے۔
کنویں کی کھدائی:
آپ نے مسجد علی ( موجودہ آستانہ ) کے ساتھ ۱۹۸۷ء کو خود اپنے ہاتھوں سے کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا۔ آج اسی کنویں کا میٹھا پانی زائرین استعمال کرتے ہیں ۔
وصال:
حضرت سید غلام نبی شاہ کشمیری نے ۱۲ جمادی الاول ۱۴۱۳ھ بمطابق ۸ نومبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار بمقام مسجد عرفات کلفٹن میں تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کی خانقاہ شریف پر آپ کا چلہ گاہ ، کنواں ، مسجد علی اور وسیع و عریض صحن زائرین کی روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ آپ نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ یا سجادہ نشین نہیں مقرر کیا۔ خانقاہ شریف کا انتظام ایک کمیٹی کے سپرد ہے ۔
(ماخوذ: حیات مبارکہ سمندر والی سر کار ، تالیف : سلیم احمد ، مطبوعہ کراچی ، ۲۰۰۱) ـ
(انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-nabi-shah-kashmiri-samandari-baba
ولادت:
آپ سری نگر ( مقبوضہ کشمیر ) میں تولد ہوئے ۔ کشمیر کے نامور بزرگ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت صوفی سید سلامت علی شاہ المعروف چھتری والی سرکار ( آستانہ عالیہ راوی روڈ لاہور ) سے دست بیعت اور منظور نظر تھے ۔
شادی و اولاد:
کشمیر میں آپ نے شادی کی جس سے ایک بچی تولد ہوئی ۔ شیرخواری میں ان کو ان کی والدہ کے پاس کشمیر چھوڑ کر خود ۱۹۶۷ء کو کراچی ( سندھ) تشریف لے آئے ۔
عادات و خصائل:
آپ تارک الدنیا صوفی تھے۔ سخت مجاہدے کئے سمندر کے کنارے ویرانے میں ، دہشت ناک پہاڑوں میں چلے کاٹے ۔ عوام الناس اور دنیا کی تمام سہولیات سے دور ساحل سمندر پر طبعا سخی تھے جو نذرانہ نذر ہوتا وہ راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھے کل کے لئے جمع کرنا عادت نہ تھی ۔ متوکل تھے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر کا مل بھروسہ رکھتے تھے کہ آج اس ویرانہ میں عطا کر رہا ہے وہ کل بھی عطا کرے گا ۔ شب و روز اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا میں بسر کئے ۔ نفس کے تزکیہ و تصفیہ کے لئے بڑے بڑے مجاہدے کئے۔ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔
ابتدا میں آپ مقبوضہ کشمیر میں لکڑی پر بہترین نقش و نگار تراشنے ، قالین کے خوبصورت ڈیزائن وغیرہ کا کام کرتے تھے ۔
تعمیر مساجد:
ساحل کلفٹن ’’ مسجد عرفات ‘‘ تعمیر کی ۔ گلشن حدید بن قاسم کراچی سے آگے اس لنک روڈ پر ایک مقام ہے جو نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کو باہم ملاتی ہے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بعد میں آپ کا مزار مبارک بنا۔ وہاں بھی ’’مسجد علی ‘‘ تعمیر فرمائی جس کے برابر میں پہاڑ کے اندر ایک چھجا نما غار بنا ہوا ہے جس میں آپ نے چلہ کیا تھا۔ آج وہ یاد گار ایک کمرے کی شکل میں محفوظ ہے۔
کنویں کی کھدائی:
آپ نے مسجد علی ( موجودہ آستانہ ) کے ساتھ ۱۹۸۷ء کو خود اپنے ہاتھوں سے کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا۔ آج اسی کنویں کا میٹھا پانی زائرین استعمال کرتے ہیں ۔
وصال:
حضرت سید غلام نبی شاہ کشمیری نے ۱۲ جمادی الاول ۱۴۱۳ھ بمطابق ۸ نومبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار بمقام مسجد عرفات کلفٹن میں تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کی خانقاہ شریف پر آپ کا چلہ گاہ ، کنواں ، مسجد علی اور وسیع و عریض صحن زائرین کی روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ آپ نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ یا سجادہ نشین نہیں مقرر کیا۔ خانقاہ شریف کا انتظام ایک کمیٹی کے سپرد ہے ۔
(ماخوذ: حیات مبارکہ سمندر والی سر کار ، تالیف : سلیم احمد ، مطبوعہ کراچی ، ۲۰۰۱) ـ
(انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-nabi-shah-kashmiri-samandari-baba
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔
ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔
آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔
حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔
بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔
وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔
ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔
آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔
حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔
بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔
وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
❤2
سید الاولیاء شیخ الکبیر حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمۃ
نام و لقب:
السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، عارف باللہ، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس احمد الرفاعی ۔ اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہباً شافعی، بلداً واسطی، بانیِ سلسلہ رفاعی ۔
ولادت:
امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15رجب) کو 512ھ میں مستر شد باللہ عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے ۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے ۔
سیرت و کردار:
سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجد سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے ۔ سنت و شریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت و عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا ۔ آپ فرماتے! طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو ۔ ہمت سستی پر غالب ہو ۔ عمل ریا سے پاک ہو ۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو ۔ اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو ۔ خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے ۔
اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے ۔ اور (بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے ۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں ۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے ۔
شیخِ اجل کے لئے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا:
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎.
ترجمہ:
یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کر بھیجتے، جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو ۔
(۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ ج:۲۲، ص:۳۷۵، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحوالہ:
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
وصال:
66 سال کی عمر پا کر جمعرات 12 جمادی الاولی 578ھ کو شریعت و طریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہر خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-ahmed-kabir-rifai
نام و لقب:
السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، عارف باللہ، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس احمد الرفاعی ۔ اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہباً شافعی، بلداً واسطی، بانیِ سلسلہ رفاعی ۔
ولادت:
امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15رجب) کو 512ھ میں مستر شد باللہ عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے ۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے ۔
سیرت و کردار:
سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجد سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے ۔ سنت و شریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت و عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا ۔ آپ فرماتے! طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو ۔ ہمت سستی پر غالب ہو ۔ عمل ریا سے پاک ہو ۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو ۔ اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو ۔ خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے ۔
اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے ۔ اور (بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے ۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں ۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے ۔
شیخِ اجل کے لئے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا:
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎.
ترجمہ:
یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کر بھیجتے، جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو ۔
(۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ ج:۲۲، ص:۳۷۵، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحوالہ:
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
وصال:
66 سال کی عمر پا کر جمعرات 12 جمادی الاولی 578ھ کو شریعت و طریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہر خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-ahmed-kabir-rifai
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-05-1445 ᴴ | 27-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1