حضرت شاہ رضا شطاری (لاہور) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اپنے عہد کے صوفیِٔ کمال، جیّد عالم اور صاحبِ فتویٰ بزرگ تھے ۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ۔
دُور دُور سے طالبانِ علم و ہدایت آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض یاب ہوتے ۔ زہدہ عبادت اور دعوتِ اسمائے الٰہی میں بے نظیر تھے ۔ مستجاب الدعوات تھے ۔
بیعت و خلافت:
مولانا شیخ محمد فاضل لاہوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔ سلسلۂ بیعت حضرت شیخ وجیہہ الدین گجراتی تک منتہی ہوتا ہے جو شیخ محمد غوث گوالیاری کے مرید تھے ۔
وصال:
۱۱۱۸ھ میں وفات پائی۔
مزار مبارک:
مزار لاہور میں ہے ۔
با نعمتِ خلد گشت راضی
دل گفت کہ آفتابِ خلد است ۱۱۱۸ھ
چوں شاہ رضا والئِ والا
تاریخِ وصالِ آں معلّٰی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-raza-shattari-lahore
اپنے عہد کے صوفیِٔ کمال، جیّد عالم اور صاحبِ فتویٰ بزرگ تھے ۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ۔
دُور دُور سے طالبانِ علم و ہدایت آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض یاب ہوتے ۔ زہدہ عبادت اور دعوتِ اسمائے الٰہی میں بے نظیر تھے ۔ مستجاب الدعوات تھے ۔
بیعت و خلافت:
مولانا شیخ محمد فاضل لاہوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔ سلسلۂ بیعت حضرت شیخ وجیہہ الدین گجراتی تک منتہی ہوتا ہے جو شیخ محمد غوث گوالیاری کے مرید تھے ۔
وصال:
۱۱۱۸ھ میں وفات پائی۔
مزار مبارک:
مزار لاہور میں ہے ۔
با نعمتِ خلد گشت راضی
دل گفت کہ آفتابِ خلد است ۱۱۱۸ھ
چوں شاہ رضا والئِ والا
تاریخِ وصالِ آں معلّٰی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-raza-shattari-lahore
❤2
حضرت مولانا ظہور الحسین رام پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین علیہ الرحمۃ کے بھانجے، ۱۸۵۷ھ میں رام پور میں ولادت ہوئی اپنے والد مولوی نیاز اللہ بن مولوی عظمت اللہ فاروقی مجددی سے فارسی اور مولانا امداد حسین سے عربی نحو پڑھی، حضرت شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی سے اول سے آخر تک کتب معقولات کا درس لیا، دینیات حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین سے پڑھی، بعض کتب کا مولانا مفتی سعد اللہ سے درس لیا، صحاح ستہ کی سند حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن سے پائی، مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف میں صدر مدرس تھے، شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی کو درسی قوت و صلاحیت پر پورا اعتماد تھا اپنے شاگردوں کو آپ کے سپرد کر دیتے تھے ۔۔۔۔
تذکرۂ کاملان رام پور میں ہے کہ ۱۳۱۹ھ میں شمس العلماء نے مدرسہ عالیہ کے مدرسین کو نواب حامد علی خاں دائی رام پور کے سامنے بغرض امتحان پیش کیا، مولانا کی باری آئی تو شمس العلماء نے ان سے قاضی سے الکلیۃ والجزئیۃ قبل صفۃ العلم کے مطالب و مفاہیم بیان کرنے کے لیے فرمایا، آپ نے مالہٗ وما علیہ کے ساتھ ایسی تحقیق فرمائی کہ شمس العلماء نواب سےکہنے لگے ‘‘ قاضی پڑھانا اس کو کہتے ہیں ’’
مولانا حکیم برکات احمد نے حسرۃ العلماء میں آپ کو شمس العلماء کا خاص شاگرد لکھا ہے ۱۳۲۲ھ میں نواب راندیر نے بلایا، اور جماعت علماء کے ساتھ شاندار استقبال کیا، علماء ذوی الاحرام نے جلسۂ عام میں شمس العلماء کا خطاب دیا ـ
وصال:
۱۲ جمادی الاخریٰ ۱۳۴۲ھ میں وفات ہوئی، تصانیف میں شرح قاضی مبارک شرح میر زاہد، حاشیہ فق المبین ہے، مگر غیر مطبوعہ ـ
( تذکرہ کا حلال رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zahoor-ul-hussain-rampuri
ولادت:
حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین علیہ الرحمۃ کے بھانجے، ۱۸۵۷ھ میں رام پور میں ولادت ہوئی اپنے والد مولوی نیاز اللہ بن مولوی عظمت اللہ فاروقی مجددی سے فارسی اور مولانا امداد حسین سے عربی نحو پڑھی، حضرت شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی سے اول سے آخر تک کتب معقولات کا درس لیا، دینیات حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین سے پڑھی، بعض کتب کا مولانا مفتی سعد اللہ سے درس لیا، صحاح ستہ کی سند حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن سے پائی، مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف میں صدر مدرس تھے، شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی کو درسی قوت و صلاحیت پر پورا اعتماد تھا اپنے شاگردوں کو آپ کے سپرد کر دیتے تھے ۔۔۔۔
تذکرۂ کاملان رام پور میں ہے کہ ۱۳۱۹ھ میں شمس العلماء نے مدرسہ عالیہ کے مدرسین کو نواب حامد علی خاں دائی رام پور کے سامنے بغرض امتحان پیش کیا، مولانا کی باری آئی تو شمس العلماء نے ان سے قاضی سے الکلیۃ والجزئیۃ قبل صفۃ العلم کے مطالب و مفاہیم بیان کرنے کے لیے فرمایا، آپ نے مالہٗ وما علیہ کے ساتھ ایسی تحقیق فرمائی کہ شمس العلماء نواب سےکہنے لگے ‘‘ قاضی پڑھانا اس کو کہتے ہیں ’’
مولانا حکیم برکات احمد نے حسرۃ العلماء میں آپ کو شمس العلماء کا خاص شاگرد لکھا ہے ۱۳۲۲ھ میں نواب راندیر نے بلایا، اور جماعت علماء کے ساتھ شاندار استقبال کیا، علماء ذوی الاحرام نے جلسۂ عام میں شمس العلماء کا خطاب دیا ـ
وصال:
۱۲ جمادی الاخریٰ ۱۳۴۲ھ میں وفات ہوئی، تصانیف میں شرح قاضی مبارک شرح میر زاہد، حاشیہ فق المبین ہے، مگر غیر مطبوعہ ـ
( تذکرہ کا حلال رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zahoor-ul-hussain-rampuri
❤2
حضرت مولانا شاہ محمد علی حسین مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا محمد علی حسین صاحب ابن حضرت مولانا شاہ اعظم حسین خیر آبادی قدس سرہما ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ میں بھوپال میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
اُردو فارسی کی ابتدائی تعلیم مولانا یُد اللہ سنبھلی سے حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا، معقول و منقول کی تکمیل والد ماجد سے کی ـ
۱۹۰۳ء میں والد ماجد کے ساتھ مدینہ طیّبہ چلے گئے، اور وہیں سے بلاد عرب عراق و شام و مصر کا سفر کیا، اور عتبات عالیہ کی زیارت کی ـ
۱۳۳۶ھ میں آپ نے دمشق میں امام الدھر حافظ العصر شیخ بدر الدین دمشقی سے اُن کے صاحبزادے مولانا تاج الدین کی معیت میں شرح وقایہ کا درس لیا، حضرت مولانا محمد عبد الباقی فرنگی محلی مدنی المتوفی ۱۳۶۴ھ کے درس میں مختصر المعانی، تلخیص المفتاح پڑھی، صحیح مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث کا حضرت مولانا شاہ محمد معصوم ابن شاہ عبد الرشید ابن حضرت شاہ احمد سعید مجددی سے درس لیا، شیخ المحدثین مدینہ منورہ سید علی بن ظاہر الوتری سے بھی کسب فیض کیا ـ
۱۳۲۷ھ میں حضرت مولانا شاہ محمد نعیم نبیرہ حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی نے فاتحۂ تشکر کے بعد دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی ـ
فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ تک درس دیا، نجدی تسلط کے بعد اپنے مکان پر یہ سلسلہ جاری رکھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے اپنے والد ماجد سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت و خلافت تھی، ان کے علاوہ (۱) حضرت شاہ معصوم (۲) مولانا عبد الباقی (۳) سید علی الوتری (۴) امام الدھر شیخ بدر الدین الحسنی الدمشقی (۵) شیخ عبد الحکیم افغانی (۶) شیخ احمد شمس مالکی قادری (۷) علامہ شیخ صلاح (۸) شیخ علی مبارک المغربی (۹) حضرت امین رضوان شیخ الدلائل مدینہ منورہ (۱۰) حسان الزمان مدافع عن سید الاکوان صلی اللہ علیہ وسلم شیخ یوسف بن اسمٰعیل النہبانی سے بھی اجازت و خلافت تھی، مگر آپ بیعت والد ماجد کے طریقہ قادری میں کرتے تھے ـ
مدینہ طیّبہ کے آداب میں آپ کے اطوار امام مالک جیسے تھے، جہاں بھی ہوتے ہمیشہ یہ خیال رکھتے کہ حرم شریف کی طرف پیٹھ نہ ہو (۲) جس راستہ سے بھی گذر ہوتا اور گنبد خضراء نظر آتا تو آپ فوراً مؤدب دست بستہ سلام عرض کرتے، پھر آگے پڑھتے، (۳) مسجد نبوی میں داخل ہونے سے پہلے سلام عرض کر کے داخلہ کی درخواست کرتے اور تھوڑا وقفہ ٹھہر کر قدم بڑھاتے، عموماً نمازیں حجرۂ سید النساء کے متصل ادا کرتے، (۴) حرم شریف نبوی میں سر جھکائے رکھتے، اور کسی سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرتے، سلام کا جواب اشارہ سے دیتے، اور اگر کوئی گفتگو کی کوشش کرتا تو اشارے سے بتاتے کہ گھر پر آو، (۵) نجدی اندامات قبور کے بعد جنۃ البقیع میں کبھی داخل نہیں ہوئے (۶) فصیل شہر اقدس کے اندر کبھی سواری کا استعمال نہیں کیا (۷) امر بالمعروف اور نہی من المنکر آپ کا خاص شیوہ تھا، اس میں امیر و غریب کی کوئی قید نہ تھی، جس کو غلطی کرتے دیکھتے فوراً ٹوک دیتے (۸) بد مذہبوں سے آپ کو سخت نفرت تھی، نجدی عقائد کے متبعین کو ابن تیمیہ وغیرہ کے اقوال ہی سے قائل کر دیتے، آپ کو معاملات فقہی پر غیر معمولی عبور تھا، مقدمات میں شرعی نکات معلوم کرنے والوں کا آپ کے یہاں مجمع لگا رہتا تھا، نجدی قاضی و علماء آپ سے بہت گھبراتے تھے، اختلاف عقائد و مسلک کے باوجود سلاطین نجد آپ کے تبحر علمی سے مرعوب تھے ۔
وصال:
۱۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۴ھ کو بعد فجر اللہ اللہ کہتے ہوئے جاں بحق ہوئے ۔ اور سیدنا ابراہیم ابن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جوار میں اپنے والد ماجد کے قریب دفن کیے گئے، اسی روز ریڈیو جدّہ نے آپ کے وفات کی خبر نشر کی ـ
تصانیف:
(۱) الصواعق الملکوت علی استاذ شلتوت المصری ثبوت حیات سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کے بارے میںشیخ الازہر شلتوت مصری کے فاسد عقائد کا رد (عربی)
(۲) سیرت شیخ یوسف النبہانی (غیر مطبوع، عربی) (۳) سیرت اعظم حسین رحمۃ اللہ علیہ (عربی، غیر مطبوعہ) (۴) رد تجدید و احیاء دین، ابو الاعلیٰ مودودی کے مزعومات کا رد (اُردو مطبوعہ) آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد علاء الدین مدنی مالک فندق طیبہ مدینہ طیّبہ اعلیٰ اخلاق واوصاف اور فقہی مہارت میں نامور ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mohammad-ali-hussain-madani
ولادت:
مولانا محمد علی حسین صاحب ابن حضرت مولانا شاہ اعظم حسین خیر آبادی قدس سرہما ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ میں بھوپال میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
اُردو فارسی کی ابتدائی تعلیم مولانا یُد اللہ سنبھلی سے حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا، معقول و منقول کی تکمیل والد ماجد سے کی ـ
۱۹۰۳ء میں والد ماجد کے ساتھ مدینہ طیّبہ چلے گئے، اور وہیں سے بلاد عرب عراق و شام و مصر کا سفر کیا، اور عتبات عالیہ کی زیارت کی ـ
۱۳۳۶ھ میں آپ نے دمشق میں امام الدھر حافظ العصر شیخ بدر الدین دمشقی سے اُن کے صاحبزادے مولانا تاج الدین کی معیت میں شرح وقایہ کا درس لیا، حضرت مولانا محمد عبد الباقی فرنگی محلی مدنی المتوفی ۱۳۶۴ھ کے درس میں مختصر المعانی، تلخیص المفتاح پڑھی، صحیح مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث کا حضرت مولانا شاہ محمد معصوم ابن شاہ عبد الرشید ابن حضرت شاہ احمد سعید مجددی سے درس لیا، شیخ المحدثین مدینہ منورہ سید علی بن ظاہر الوتری سے بھی کسب فیض کیا ـ
۱۳۲۷ھ میں حضرت مولانا شاہ محمد نعیم نبیرہ حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی نے فاتحۂ تشکر کے بعد دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی ـ
فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ تک درس دیا، نجدی تسلط کے بعد اپنے مکان پر یہ سلسلہ جاری رکھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے اپنے والد ماجد سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت و خلافت تھی، ان کے علاوہ (۱) حضرت شاہ معصوم (۲) مولانا عبد الباقی (۳) سید علی الوتری (۴) امام الدھر شیخ بدر الدین الحسنی الدمشقی (۵) شیخ عبد الحکیم افغانی (۶) شیخ احمد شمس مالکی قادری (۷) علامہ شیخ صلاح (۸) شیخ علی مبارک المغربی (۹) حضرت امین رضوان شیخ الدلائل مدینہ منورہ (۱۰) حسان الزمان مدافع عن سید الاکوان صلی اللہ علیہ وسلم شیخ یوسف بن اسمٰعیل النہبانی سے بھی اجازت و خلافت تھی، مگر آپ بیعت والد ماجد کے طریقہ قادری میں کرتے تھے ـ
مدینہ طیّبہ کے آداب میں آپ کے اطوار امام مالک جیسے تھے، جہاں بھی ہوتے ہمیشہ یہ خیال رکھتے کہ حرم شریف کی طرف پیٹھ نہ ہو (۲) جس راستہ سے بھی گذر ہوتا اور گنبد خضراء نظر آتا تو آپ فوراً مؤدب دست بستہ سلام عرض کرتے، پھر آگے پڑھتے، (۳) مسجد نبوی میں داخل ہونے سے پہلے سلام عرض کر کے داخلہ کی درخواست کرتے اور تھوڑا وقفہ ٹھہر کر قدم بڑھاتے، عموماً نمازیں حجرۂ سید النساء کے متصل ادا کرتے، (۴) حرم شریف نبوی میں سر جھکائے رکھتے، اور کسی سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرتے، سلام کا جواب اشارہ سے دیتے، اور اگر کوئی گفتگو کی کوشش کرتا تو اشارے سے بتاتے کہ گھر پر آو، (۵) نجدی اندامات قبور کے بعد جنۃ البقیع میں کبھی داخل نہیں ہوئے (۶) فصیل شہر اقدس کے اندر کبھی سواری کا استعمال نہیں کیا (۷) امر بالمعروف اور نہی من المنکر آپ کا خاص شیوہ تھا، اس میں امیر و غریب کی کوئی قید نہ تھی، جس کو غلطی کرتے دیکھتے فوراً ٹوک دیتے (۸) بد مذہبوں سے آپ کو سخت نفرت تھی، نجدی عقائد کے متبعین کو ابن تیمیہ وغیرہ کے اقوال ہی سے قائل کر دیتے، آپ کو معاملات فقہی پر غیر معمولی عبور تھا، مقدمات میں شرعی نکات معلوم کرنے والوں کا آپ کے یہاں مجمع لگا رہتا تھا، نجدی قاضی و علماء آپ سے بہت گھبراتے تھے، اختلاف عقائد و مسلک کے باوجود سلاطین نجد آپ کے تبحر علمی سے مرعوب تھے ۔
وصال:
۱۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۴ھ کو بعد فجر اللہ اللہ کہتے ہوئے جاں بحق ہوئے ۔ اور سیدنا ابراہیم ابن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جوار میں اپنے والد ماجد کے قریب دفن کیے گئے، اسی روز ریڈیو جدّہ نے آپ کے وفات کی خبر نشر کی ـ
تصانیف:
(۱) الصواعق الملکوت علی استاذ شلتوت المصری ثبوت حیات سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کے بارے میںشیخ الازہر شلتوت مصری کے فاسد عقائد کا رد (عربی)
(۲) سیرت شیخ یوسف النبہانی (غیر مطبوع، عربی) (۳) سیرت اعظم حسین رحمۃ اللہ علیہ (عربی، غیر مطبوعہ) (۴) رد تجدید و احیاء دین، ابو الاعلیٰ مودودی کے مزعومات کا رد (اُردو مطبوعہ) آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد علاء الدین مدنی مالک فندق طیبہ مدینہ طیّبہ اعلیٰ اخلاق واوصاف اور فقہی مہارت میں نامور ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mohammad-ali-hussain-madani
❤1
حافظ غلام محمود چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حافظ غلام محمود چشتی نظامی ۔ لقب: حافظ جی ۔ والد کا اسم گرامی: گوہر دین علیہ الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1314ھ، مطابق 1923ء کو ضلع اٹک پنجاب میں ہوئی ۔
عطائے محمود:
آپ کے والد گرامی کے بڑے صاحبزادے کی ولادت کےتیرہ سال بعد تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ بالآخر آپ کے والد صاحب اپنے مرشد حضرت خواجہ محمود تونسوی (سجادہ نشین حضرت پیر پٹھان علیہ الرحمہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اولاد کے حصول کے لئے دعا کی درخواست فرمائی ۔
حضرت خواجہ صاحب نے دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا: ’’ تمھارے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، اگر اس کے دائیں بازو پر انگوٹھے کا نشان ہو تو یہ سمجھنا کہ تمھارے پیر و مرشد نے خدا سے دلوایا ہے، اور اس کا نام میرے نام پر ’’ محمود ‘‘ رکھنا ۔
چنانچہ جب آپ کی پیدائش مبارکہ ہوئی تو آپ کے سیدھے بازو پر انگوٹھے کا نشان تھا، یہ انگوٹھے کا نشان آپ کے وصال تک رہا، کبھی کبھی محفلِ میلاد میں آئے حضرات کو اس کی زیارت کراتے تھے، خواجہ محمود صاحب علیہ الرحمہ کے نام پر آپ کا نام ’ غلام محمود ‘ رکھا گیا ‘‘ ۔ (بشر ی المسعود فی رؤیاتِ حافظ غلام محمود، ص:62) ـ
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی حصولِ علم کا بہت زیادہ شوق تھا ۔ مولانا حافظ نواب الدین علیہ الرحمہ جو ایک باعمل عالم دین اور مکھڈ شریف میں مدرس تھے ۔ ان سے قرآن مجید حفظ کیا ۔ ابتدائی دینی تعلیم بھی انہیں سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت پیر زین الدین چشتی علیہ الرحمہ (ترگ شریف ضلع میانوالی)(خلیفہ حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی علیہ الرحمہ) سے بیعت ہوئے، اور ان کے صاحبزادے خواجہ غلام معین الدین چشتی نظامی سے خلافت پائی ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ زماں، محبوب صاحبِ کون و مکاں، ہادیِ ناقصاں، حاضر بارگاہِ رسالت ہر آن، شاہد صاحبِ فرقان، مخدومِ جہاں، صاحبِ اوصافِ کثیرہ و حمیدہ، شیخِ طریقت، عاملِ شریعت، عاشق رسول ﷺ، حضرت حافظ غلام محمود رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ان بزرگان دین اور اولیائے کاملین میں سے ہوئے ہیں، جو مدتِ مدید کے بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ جن کی نگاہِ بصیرت باریک سے باریک حقیقت کو دیکھتی ہے، اور جن کے قلوب انوارِ سبحانیہ کے معدن اور اسرار ربانیہ کے مخزن ہوتے ہیں ۔ وہ ایک طرف اپنا تعلق محبوبِ حقیقی سے استوار رکھتے ہیں، تو دوسری طرف نوع انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے پیش پیش رہتے ہیں ۔ ان کا وجود اسلام اور بانیِ اسلام کے غیر فانی کمالات کا نمونہ اور ان کا خلق اخلاقِ خدا وندی کا نمونہ ہوتا ہے ۔
عبادت و ریاضت:
حضرت حافظ جی سرکار علیہ الرحمہ کی عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ حالتِ شباب میں 20 سال تک نماز عشاء کے وضو سے نماز فجر ادا کی، قرآن پاک سے آپ کو قلبی لگاؤ تھا ۔ آپ نماز عشاء سے فجر تک عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے، اور بیس سال تک ایک وضو میں مکمل قرآن مجید ختم فرماتے، آپ کو طیِ لسانی حاصل تھا، صرف ساڑھے تین گھنٹوں میں قرآن مجید مکمل ختم فرما لیتے تھے ۔ اسی طرح ایام منہیہ کے علاوہ سارا سال روزے رکھنے کا معمول تھا ۔ ترکِ دنیا کی ایسی عادت کہ تمام عمر کرائے کے مکان میں بسر کی، بڑے بڑے لوگ آپ کی جوتیاں سیدھی کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، لیکن علماء کرام و سادات و مشائخ عظام کا ایسا ادب کرتے تھے کہ جس کی مثال فی زمانہ بہت مشکل ہے ۔ عاجزی و انکساری آپ کا نشانِ امتیاز تھا ۔ مخلوقِ خدا کا جم غفیر آپ کی خدمت میں موجود رہتا، جو افسردہ آتا، مسکراتا ہوا واپس جاتا، سینکڑوں لا علاج مریضوں کو آپ کے در سے شفاء ملی ـ
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے آپ کو مخلوقِ خدا کی خدمت میں وقف کیا ہوا تھا ۔ حافظ جی کا زیادہ تر وقت چونکہ قرآن مجید کی تلاوت میں گزرتا تھا اور وہ کبھی کبھی ایک وضو سے ایک قرآن مجید کی تلاوت بھی کرتے تھے ۔ لہذا قرآن مجید ان کے قلب سے جاری ہو گیا تھا اور بعض اوقات آپ خاموش ہوتے یا سو رہے ہوتے، تو آپ کو اپنے وجود سے قرآن مجید کی تلاوت کی آواز سنائی دیتی تھی ۔
نام ونسب:
اسم گرامی: حافظ غلام محمود چشتی نظامی ۔ لقب: حافظ جی ۔ والد کا اسم گرامی: گوہر دین علیہ الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت 1314ھ، مطابق 1923ء کو ضلع اٹک پنجاب میں ہوئی ۔
عطائے محمود:
آپ کے والد گرامی کے بڑے صاحبزادے کی ولادت کےتیرہ سال بعد تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ بالآخر آپ کے والد صاحب اپنے مرشد حضرت خواجہ محمود تونسوی (سجادہ نشین حضرت پیر پٹھان علیہ الرحمہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اولاد کے حصول کے لئے دعا کی درخواست فرمائی ۔
حضرت خواجہ صاحب نے دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا: ’’ تمھارے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، اگر اس کے دائیں بازو پر انگوٹھے کا نشان ہو تو یہ سمجھنا کہ تمھارے پیر و مرشد نے خدا سے دلوایا ہے، اور اس کا نام میرے نام پر ’’ محمود ‘‘ رکھنا ۔
چنانچہ جب آپ کی پیدائش مبارکہ ہوئی تو آپ کے سیدھے بازو پر انگوٹھے کا نشان تھا، یہ انگوٹھے کا نشان آپ کے وصال تک رہا، کبھی کبھی محفلِ میلاد میں آئے حضرات کو اس کی زیارت کراتے تھے، خواجہ محمود صاحب علیہ الرحمہ کے نام پر آپ کا نام ’ غلام محمود ‘ رکھا گیا ‘‘ ۔ (بشر ی المسعود فی رؤیاتِ حافظ غلام محمود، ص:62) ـ
تحصیلِ علم:
بچپن میں ہی حصولِ علم کا بہت زیادہ شوق تھا ۔ مولانا حافظ نواب الدین علیہ الرحمہ جو ایک باعمل عالم دین اور مکھڈ شریف میں مدرس تھے ۔ ان سے قرآن مجید حفظ کیا ۔ ابتدائی دینی تعلیم بھی انہیں سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت پیر زین الدین چشتی علیہ الرحمہ (ترگ شریف ضلع میانوالی)(خلیفہ حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی علیہ الرحمہ) سے بیعت ہوئے، اور ان کے صاحبزادے خواجہ غلام معین الدین چشتی نظامی سے خلافت پائی ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ زماں، محبوب صاحبِ کون و مکاں، ہادیِ ناقصاں، حاضر بارگاہِ رسالت ہر آن، شاہد صاحبِ فرقان، مخدومِ جہاں، صاحبِ اوصافِ کثیرہ و حمیدہ، شیخِ طریقت، عاملِ شریعت، عاشق رسول ﷺ، حضرت حافظ غلام محمود رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ ان بزرگان دین اور اولیائے کاملین میں سے ہوئے ہیں، جو مدتِ مدید کے بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ جن کی نگاہِ بصیرت باریک سے باریک حقیقت کو دیکھتی ہے، اور جن کے قلوب انوارِ سبحانیہ کے معدن اور اسرار ربانیہ کے مخزن ہوتے ہیں ۔ وہ ایک طرف اپنا تعلق محبوبِ حقیقی سے استوار رکھتے ہیں، تو دوسری طرف نوع انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے پیش پیش رہتے ہیں ۔ ان کا وجود اسلام اور بانیِ اسلام کے غیر فانی کمالات کا نمونہ اور ان کا خلق اخلاقِ خدا وندی کا نمونہ ہوتا ہے ۔
عبادت و ریاضت:
حضرت حافظ جی سرکار علیہ الرحمہ کی عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ حالتِ شباب میں 20 سال تک نماز عشاء کے وضو سے نماز فجر ادا کی، قرآن پاک سے آپ کو قلبی لگاؤ تھا ۔ آپ نماز عشاء سے فجر تک عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے، اور بیس سال تک ایک وضو میں مکمل قرآن مجید ختم فرماتے، آپ کو طیِ لسانی حاصل تھا، صرف ساڑھے تین گھنٹوں میں قرآن مجید مکمل ختم فرما لیتے تھے ۔ اسی طرح ایام منہیہ کے علاوہ سارا سال روزے رکھنے کا معمول تھا ۔ ترکِ دنیا کی ایسی عادت کہ تمام عمر کرائے کے مکان میں بسر کی، بڑے بڑے لوگ آپ کی جوتیاں سیدھی کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، لیکن علماء کرام و سادات و مشائخ عظام کا ایسا ادب کرتے تھے کہ جس کی مثال فی زمانہ بہت مشکل ہے ۔ عاجزی و انکساری آپ کا نشانِ امتیاز تھا ۔ مخلوقِ خدا کا جم غفیر آپ کی خدمت میں موجود رہتا، جو افسردہ آتا، مسکراتا ہوا واپس جاتا، سینکڑوں لا علاج مریضوں کو آپ کے در سے شفاء ملی ـ
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے آپ کو مخلوقِ خدا کی خدمت میں وقف کیا ہوا تھا ۔ حافظ جی کا زیادہ تر وقت چونکہ قرآن مجید کی تلاوت میں گزرتا تھا اور وہ کبھی کبھی ایک وضو سے ایک قرآن مجید کی تلاوت بھی کرتے تھے ۔ لہذا قرآن مجید ان کے قلب سے جاری ہو گیا تھا اور بعض اوقات آپ خاموش ہوتے یا سو رہے ہوتے، تو آپ کو اپنے وجود سے قرآن مجید کی تلاوت کی آواز سنائی دیتی تھی ۔
❤1
دیدارِ رسول و صحابہ و بزرگانِ دین:
حضرت حافظ غلام محمود چشتی نظامی علیہ الرحمہ پر اللہ جل شانہ اور اس کے حبیب پاک ﷺ کا خاص کرم اور فضل تھا، انہوں نے حالتِ بیداری اور خواب میں سینکڑوں مرتبہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی زیارت مبارکہ سے بہرہ ور ہوئے ـ
آپ کو کشف میں کمال حاصل تھا، کئی اکابرین اولیاء اللہ تعالیٰ، اور صحابہ کرام سے روحانی طور پر اور بیداری کے عالم میں ملاقاتیں ہوئیں ـ
جس مزار پر تشریف لے جاتے آپ اس سے ملاقات کرکے واپس آتے، اپنا کام ان سے حل کرواتے، بلکہ کبھی کبھی تو اکابرین اولیاء آپ پر خاص کرم فرماتے، اپنے مزار پر ملاقات کی دعوت بھی ارشاد فرماتے ـ
ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ مدت سے مجھے فرما رہے ہیں، کہ حافظ جی میرے پاس کیوں نہیں آتے، پھر جب میں مزار شریف پر گیا اور مین جنوبی گیٹ سے داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی چلہ گاہ کے پاس ایک ستون کے ساتھ حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کھڑے میرا انتظار فرما رہے تھے۔اسی طرح ایک مرتبہ حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ اسٹیشن سے آپ کو مزار تک لے گئے ۔ (البشری المسعود: 113/119)
ایک مرتبہ خواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم فرمایا کہ حافظ جی آپ بیعت کیا کریں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حکم دیا کہ حافظ جی کی دستار بندی کریں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کی دستار بندی کی پھر کوئی غیبی آواز آئی کہ آپ ظاہری طور پر بھی کسی سے دستار بندی کروالیں اور چند بزرگوں کے نام لیے گئے مگر حافظ جی نے منع کر دیا۔ پھر جب آپ کے پیر زادہ خواجہ غلام معین الدین چشتی نظامی کا نام لیا گیا تو آپ نے حامی بھر لی۔ پھر ظاہری طور پر آپ کی دستار بندی مسجد فیض محمدی (گلشن اقبال بلاک 13-D، کراچی) میں کی گئی۔ جب سے وصال تک بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔
رسول اکرم ﷺ نے آپ کو میلاد کرنے کاحکم دیا اور فرمایا ”جسے میں چاہوں گا، وہ آئے گا“ اور انتظامات کے حوالے سے فرمایا کہ ”ہم کوئی وسیلہ بنا دیں گے“ اور جب سے اب تک ہر اتوار کو بعد نماز مغرب میلاد کا سلسلہ جاری ہے۔ایک مرتبہ 2002ء میں میلاد کے دوران حافظ جی دروازے پر تشریف لے گئے۔ پھر واپس آکر فرمایا کہ حضور سید عالم ﷺ تشریف لائے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ حاضرین محفل کو بھی زیارت کروائیں لیکن آپﷺ نے زیارت عام سے منع فرما دیا۔ایک مرتبہ فرمایا جہاں میں جاؤں گا وہیں میلاد بھی جائےگا۔ ایسا ہی ہوا اب بھی ہفتے میں آپ کے مزار شریف پر دو مرتبہ جمعرات اور اتوار کو محفلِ میلاد ہوتی ہے ۔
شب براءت 2003ء کو رات بھر آپ کے مزار شریف پر محفل نعت جاری رہی اور صرف آپ کے مرقد پر رات دس بجے سے صبح فجر تک ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہی، جو ارد گرد کہیں نہیں تھی۔ جب کہ ایک نعت خواں نے حافظ جی کو اپنے برابر میں نعت سنتے ہوئے دیکھا۔ جب اس نے ارادہ کیا کہ محفل کے اختتام پر ان ہی بزرگ سے دعا کروائیں گے تو وہ غائب ہو گئے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے“ ص 375-374)
الحمد للہ یہ فقیر آپ کے پڑوس سیکٹر 5/G نیو کراچی میں مقیم ہے، اور آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر سکون محسوس کرتا ہے، اور آپ کاسلسلہ طریقت حضرت پیر پٹھان خواجہ شاہ سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ سے ہے،اور میرا وطن اصلی تونسہ شریف ہے۔اس لئے بھی آپ سے قلبی عقیدت ہے۔اللہ جل شانہ آپ کےوسیلے سےدعا قبول فرماتا ہے۔آپ کے رؤیاتِ صادقہ اور مناقب ِ جلیلہ کےلئے’’البشری المسعود فی رؤیاتِ سیدی حافظ غلام محمود‘‘ مؤلفہ حضرت مفتی محمد رفیق الحسنی مدظلہ کامطالعہ نہایت مفید ہے ۔ (محمد رمضان تونسوی غفرلہ)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الاول 1424ھ، مطابق 13 جولائی 2003ء، بوقت سوا تین بجے، تہجد کے لئے غسل فرمایا، اسی پاکیزہ حالت میں دارِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ کی نماز جنازہ دار العلوم نعیمیہ کراچی میں اداکی گئی ۔ آپ کا مزار پر انوار سیکٹر 1-11 عقب تھانہ نیو کراچی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
البشری المسعود ۔ روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hafiz-ghulam-mehmood-chishti-nizami
حضرت حافظ غلام محمود چشتی نظامی علیہ الرحمہ پر اللہ جل شانہ اور اس کے حبیب پاک ﷺ کا خاص کرم اور فضل تھا، انہوں نے حالتِ بیداری اور خواب میں سینکڑوں مرتبہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی زیارت مبارکہ سے بہرہ ور ہوئے ـ
آپ کو کشف میں کمال حاصل تھا، کئی اکابرین اولیاء اللہ تعالیٰ، اور صحابہ کرام سے روحانی طور پر اور بیداری کے عالم میں ملاقاتیں ہوئیں ـ
جس مزار پر تشریف لے جاتے آپ اس سے ملاقات کرکے واپس آتے، اپنا کام ان سے حل کرواتے، بلکہ کبھی کبھی تو اکابرین اولیاء آپ پر خاص کرم فرماتے، اپنے مزار پر ملاقات کی دعوت بھی ارشاد فرماتے ـ
ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ مدت سے مجھے فرما رہے ہیں، کہ حافظ جی میرے پاس کیوں نہیں آتے، پھر جب میں مزار شریف پر گیا اور مین جنوبی گیٹ سے داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی چلہ گاہ کے پاس ایک ستون کے ساتھ حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کھڑے میرا انتظار فرما رہے تھے۔اسی طرح ایک مرتبہ حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ اسٹیشن سے آپ کو مزار تک لے گئے ۔ (البشری المسعود: 113/119)
ایک مرتبہ خواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم فرمایا کہ حافظ جی آپ بیعت کیا کریں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حکم دیا کہ حافظ جی کی دستار بندی کریں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کی دستار بندی کی پھر کوئی غیبی آواز آئی کہ آپ ظاہری طور پر بھی کسی سے دستار بندی کروالیں اور چند بزرگوں کے نام لیے گئے مگر حافظ جی نے منع کر دیا۔ پھر جب آپ کے پیر زادہ خواجہ غلام معین الدین چشتی نظامی کا نام لیا گیا تو آپ نے حامی بھر لی۔ پھر ظاہری طور پر آپ کی دستار بندی مسجد فیض محمدی (گلشن اقبال بلاک 13-D، کراچی) میں کی گئی۔ جب سے وصال تک بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔
رسول اکرم ﷺ نے آپ کو میلاد کرنے کاحکم دیا اور فرمایا ”جسے میں چاہوں گا، وہ آئے گا“ اور انتظامات کے حوالے سے فرمایا کہ ”ہم کوئی وسیلہ بنا دیں گے“ اور جب سے اب تک ہر اتوار کو بعد نماز مغرب میلاد کا سلسلہ جاری ہے۔ایک مرتبہ 2002ء میں میلاد کے دوران حافظ جی دروازے پر تشریف لے گئے۔ پھر واپس آکر فرمایا کہ حضور سید عالم ﷺ تشریف لائے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ حاضرین محفل کو بھی زیارت کروائیں لیکن آپﷺ نے زیارت عام سے منع فرما دیا۔ایک مرتبہ فرمایا جہاں میں جاؤں گا وہیں میلاد بھی جائےگا۔ ایسا ہی ہوا اب بھی ہفتے میں آپ کے مزار شریف پر دو مرتبہ جمعرات اور اتوار کو محفلِ میلاد ہوتی ہے ۔
شب براءت 2003ء کو رات بھر آپ کے مزار شریف پر محفل نعت جاری رہی اور صرف آپ کے مرقد پر رات دس بجے سے صبح فجر تک ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہی، جو ارد گرد کہیں نہیں تھی۔ جب کہ ایک نعت خواں نے حافظ جی کو اپنے برابر میں نعت سنتے ہوئے دیکھا۔ جب اس نے ارادہ کیا کہ محفل کے اختتام پر ان ہی بزرگ سے دعا کروائیں گے تو وہ غائب ہو گئے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے“ ص 375-374)
الحمد للہ یہ فقیر آپ کے پڑوس سیکٹر 5/G نیو کراچی میں مقیم ہے، اور آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر سکون محسوس کرتا ہے، اور آپ کاسلسلہ طریقت حضرت پیر پٹھان خواجہ شاہ سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ سے ہے،اور میرا وطن اصلی تونسہ شریف ہے۔اس لئے بھی آپ سے قلبی عقیدت ہے۔اللہ جل شانہ آپ کےوسیلے سےدعا قبول فرماتا ہے۔آپ کے رؤیاتِ صادقہ اور مناقب ِ جلیلہ کےلئے’’البشری المسعود فی رؤیاتِ سیدی حافظ غلام محمود‘‘ مؤلفہ حضرت مفتی محمد رفیق الحسنی مدظلہ کامطالعہ نہایت مفید ہے ۔ (محمد رمضان تونسوی غفرلہ)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 جمادی الاول 1424ھ، مطابق 13 جولائی 2003ء، بوقت سوا تین بجے، تہجد کے لئے غسل فرمایا، اسی پاکیزہ حالت میں دارِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ کی نماز جنازہ دار العلوم نعیمیہ کراچی میں اداکی گئی ۔ آپ کا مزار پر انوار سیکٹر 1-11 عقب تھانہ نیو کراچی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
البشری المسعود ۔ روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hafiz-ghulam-mehmood-chishti-nizami
❤1
حضرت سید غلام نبی شاہ بن حضرت سید غلام محمد شاہ کشمیری علیہم الرحمہ
ولادت:
آپ سری نگر ( مقبوضہ کشمیر ) میں تولد ہوئے ۔ کشمیر کے نامور بزرگ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت صوفی سید سلامت علی شاہ المعروف چھتری والی سرکار ( آستانہ عالیہ راوی روڈ لاہور ) سے دست بیعت اور منظور نظر تھے ۔
شادی و اولاد:
کشمیر میں آپ نے شادی کی جس سے ایک بچی تولد ہوئی ۔ شیرخواری میں ان کو ان کی والدہ کے پاس کشمیر چھوڑ کر خود ۱۹۶۷ء کو کراچی ( سندھ) تشریف لے آئے ۔
عادات و خصائل:
آپ تارک الدنیا صوفی تھے۔ سخت مجاہدے کئے سمندر کے کنارے ویرانے میں ، دہشت ناک پہاڑوں میں چلے کاٹے ۔ عوام الناس اور دنیا کی تمام سہولیات سے دور ساحل سمندر پر طبعا سخی تھے جو نذرانہ نذر ہوتا وہ راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھے کل کے لئے جمع کرنا عادت نہ تھی ۔ متوکل تھے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر کا مل بھروسہ رکھتے تھے کہ آج اس ویرانہ میں عطا کر رہا ہے وہ کل بھی عطا کرے گا ۔ شب و روز اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا میں بسر کئے ۔ نفس کے تزکیہ و تصفیہ کے لئے بڑے بڑے مجاہدے کئے۔ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔
ابتدا میں آپ مقبوضہ کشمیر میں لکڑی پر بہترین نقش و نگار تراشنے ، قالین کے خوبصورت ڈیزائن وغیرہ کا کام کرتے تھے ۔
تعمیر مساجد:
ساحل کلفٹن ’’ مسجد عرفات ‘‘ تعمیر کی ۔ گلشن حدید بن قاسم کراچی سے آگے اس لنک روڈ پر ایک مقام ہے جو نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کو باہم ملاتی ہے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بعد میں آپ کا مزار مبارک بنا۔ وہاں بھی ’’مسجد علی ‘‘ تعمیر فرمائی جس کے برابر میں پہاڑ کے اندر ایک چھجا نما غار بنا ہوا ہے جس میں آپ نے چلہ کیا تھا۔ آج وہ یاد گار ایک کمرے کی شکل میں محفوظ ہے۔
کنویں کی کھدائی:
آپ نے مسجد علی ( موجودہ آستانہ ) کے ساتھ ۱۹۸۷ء کو خود اپنے ہاتھوں سے کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا۔ آج اسی کنویں کا میٹھا پانی زائرین استعمال کرتے ہیں ۔
وصال:
حضرت سید غلام نبی شاہ کشمیری نے ۱۲ جمادی الاول ۱۴۱۳ھ بمطابق ۸ نومبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار بمقام مسجد عرفات کلفٹن میں تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کی خانقاہ شریف پر آپ کا چلہ گاہ ، کنواں ، مسجد علی اور وسیع و عریض صحن زائرین کی روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ آپ نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ یا سجادہ نشین نہیں مقرر کیا۔ خانقاہ شریف کا انتظام ایک کمیٹی کے سپرد ہے ۔
(ماخوذ: حیات مبارکہ سمندر والی سر کار ، تالیف : سلیم احمد ، مطبوعہ کراچی ، ۲۰۰۱) ـ
(انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-nabi-shah-kashmiri-samandari-baba
ولادت:
آپ سری نگر ( مقبوضہ کشمیر ) میں تولد ہوئے ۔ کشمیر کے نامور بزرگ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں سے تھے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت صوفی سید سلامت علی شاہ المعروف چھتری والی سرکار ( آستانہ عالیہ راوی روڈ لاہور ) سے دست بیعت اور منظور نظر تھے ۔
شادی و اولاد:
کشمیر میں آپ نے شادی کی جس سے ایک بچی تولد ہوئی ۔ شیرخواری میں ان کو ان کی والدہ کے پاس کشمیر چھوڑ کر خود ۱۹۶۷ء کو کراچی ( سندھ) تشریف لے آئے ۔
عادات و خصائل:
آپ تارک الدنیا صوفی تھے۔ سخت مجاہدے کئے سمندر کے کنارے ویرانے میں ، دہشت ناک پہاڑوں میں چلے کاٹے ۔ عوام الناس اور دنیا کی تمام سہولیات سے دور ساحل سمندر پر طبعا سخی تھے جو نذرانہ نذر ہوتا وہ راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھے کل کے لئے جمع کرنا عادت نہ تھی ۔ متوکل تھے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر کا مل بھروسہ رکھتے تھے کہ آج اس ویرانہ میں عطا کر رہا ہے وہ کل بھی عطا کرے گا ۔ شب و روز اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا میں بسر کئے ۔ نفس کے تزکیہ و تصفیہ کے لئے بڑے بڑے مجاہدے کئے۔ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔
ابتدا میں آپ مقبوضہ کشمیر میں لکڑی پر بہترین نقش و نگار تراشنے ، قالین کے خوبصورت ڈیزائن وغیرہ کا کام کرتے تھے ۔
تعمیر مساجد:
ساحل کلفٹن ’’ مسجد عرفات ‘‘ تعمیر کی ۔ گلشن حدید بن قاسم کراچی سے آگے اس لنک روڈ پر ایک مقام ہے جو نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کو باہم ملاتی ہے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بعد میں آپ کا مزار مبارک بنا۔ وہاں بھی ’’مسجد علی ‘‘ تعمیر فرمائی جس کے برابر میں پہاڑ کے اندر ایک چھجا نما غار بنا ہوا ہے جس میں آپ نے چلہ کیا تھا۔ آج وہ یاد گار ایک کمرے کی شکل میں محفوظ ہے۔
کنویں کی کھدائی:
آپ نے مسجد علی ( موجودہ آستانہ ) کے ساتھ ۱۹۸۷ء کو خود اپنے ہاتھوں سے کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا۔ آج اسی کنویں کا میٹھا پانی زائرین استعمال کرتے ہیں ۔
وصال:
حضرت سید غلام نبی شاہ کشمیری نے ۱۲ جمادی الاول ۱۴۱۳ھ بمطابق ۸ نومبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار بمقام مسجد عرفات کلفٹن میں تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ آپ کی خانقاہ شریف پر آپ کا چلہ گاہ ، کنواں ، مسجد علی اور وسیع و عریض صحن زائرین کی روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ آپ نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ یا سجادہ نشین نہیں مقرر کیا۔ خانقاہ شریف کا انتظام ایک کمیٹی کے سپرد ہے ۔
(ماخوذ: حیات مبارکہ سمندر والی سر کار ، تالیف : سلیم احمد ، مطبوعہ کراچی ، ۲۰۰۱) ـ
(انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-nabi-shah-kashmiri-samandari-baba
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔
ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔
آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔
حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔
بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔
وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔
ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔
آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔
حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔
بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔
وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
❤2
سید الاولیاء شیخ الکبیر حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمۃ
نام و لقب:
السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، عارف باللہ، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس احمد الرفاعی ۔ اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہباً شافعی، بلداً واسطی، بانیِ سلسلہ رفاعی ۔
ولادت:
امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15رجب) کو 512ھ میں مستر شد باللہ عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے ۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے ۔
سیرت و کردار:
سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجد سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے ۔ سنت و شریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت و عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا ۔ آپ فرماتے! طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو ۔ ہمت سستی پر غالب ہو ۔ عمل ریا سے پاک ہو ۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو ۔ اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو ۔ خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے ۔
اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے ۔ اور (بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے ۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں ۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے ۔
شیخِ اجل کے لئے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا:
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎.
ترجمہ:
یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کر بھیجتے، جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو ۔
(۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ ج:۲۲، ص:۳۷۵، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحوالہ:
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
وصال:
66 سال کی عمر پا کر جمعرات 12 جمادی الاولی 578ھ کو شریعت و طریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہر خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-ahmed-kabir-rifai
نام و لقب:
السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین، عارف باللہ، بحر شریعت و طریقت ابوالعباس احمد الرفاعی ۔ اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہباً شافعی، بلداً واسطی، بانیِ سلسلہ رفاعی ۔
ولادت:
امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15رجب) کو 512ھ میں مستر شد باللہ عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے ۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے ۔
سیرت و کردار:
سیرت و کردار میں آپ اپنے جد امجد سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے ۔ سنت و شریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت و عظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا ۔ آپ فرماتے! طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو ۔ ہمت سستی پر غالب ہو ۔ عمل ریا سے پاک ہو ۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو ۔ اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو ۔ خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے ۔
اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے ۔ اور (بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے ۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں ۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے ۔
شیخِ اجل کے لئے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا:
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
؎ فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎.
ترجمہ:
یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کر بھیجتے، جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو ۔
(۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ ج:۲۲، ص:۳۷۵، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحوالہ:
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲)
وصال:
66 سال کی عمر پا کر جمعرات 12 جمادی الاولی 578ھ کو شریعت و طریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہر خاص و عام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-syed-ahmed-kabir-rifai
❤1