🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شاہ رضا شطاری (لاہور) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اپنے عہد کے صوفیِٔ کمال، جیّد عالم اور صاحبِ فتویٰ بزرگ تھے ۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ۔
دُور دُور سے طالبانِ علم و ہدایت آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض یاب ہوتے ۔ زہدہ عبادت اور دعوتِ اسمائے الٰہی میں بے نظیر تھے ۔ مستجاب الدعوات تھے ۔
بیعت و خلافت:
مولانا شیخ محمد فاضل لاہوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔ سلسلۂ بیعت حضرت شیخ وجیہہ الدین گجراتی تک منتہی ہوتا ہے جو شیخ محمد غوث گوالیاری کے مرید تھے ۔
وصال:
۱۱۱۸ھ میں وفات پائی۔
مزار مبارک:
مزار لاہور میں ہے ۔
با نعمتِ خلد گشت راضی
دل گفت کہ آفتابِ خلد است ۱۱۱۸ھ
چوں شاہ رضا والئِ والا
تاریخِ وصالِ آں معلّٰی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-raza-shattari-lahore
اپنے عہد کے صوفیِٔ کمال، جیّد عالم اور صاحبِ فتویٰ بزرگ تھے ۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ۔
دُور دُور سے طالبانِ علم و ہدایت آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض یاب ہوتے ۔ زہدہ عبادت اور دعوتِ اسمائے الٰہی میں بے نظیر تھے ۔ مستجاب الدعوات تھے ۔
بیعت و خلافت:
مولانا شیخ محمد فاضل لاہوری کے مرید و خلیفہ تھے ۔ سلسلۂ بیعت حضرت شیخ وجیہہ الدین گجراتی تک منتہی ہوتا ہے جو شیخ محمد غوث گوالیاری کے مرید تھے ۔
وصال:
۱۱۱۸ھ میں وفات پائی۔
مزار مبارک:
مزار لاہور میں ہے ۔
با نعمتِ خلد گشت راضی
دل گفت کہ آفتابِ خلد است ۱۱۱۸ھ
چوں شاہ رضا والئِ والا
تاریخِ وصالِ آں معلّٰی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-raza-shattari-lahore
❤2
حضرت مولانا ظہور الحسین رام پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین علیہ الرحمۃ کے بھانجے، ۱۸۵۷ھ میں رام پور میں ولادت ہوئی اپنے والد مولوی نیاز اللہ بن مولوی عظمت اللہ فاروقی مجددی سے فارسی اور مولانا امداد حسین سے عربی نحو پڑھی، حضرت شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی سے اول سے آخر تک کتب معقولات کا درس لیا، دینیات حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین سے پڑھی، بعض کتب کا مولانا مفتی سعد اللہ سے درس لیا، صحاح ستہ کی سند حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن سے پائی، مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف میں صدر مدرس تھے، شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی کو درسی قوت و صلاحیت پر پورا اعتماد تھا اپنے شاگردوں کو آپ کے سپرد کر دیتے تھے ۔۔۔۔
تذکرۂ کاملان رام پور میں ہے کہ ۱۳۱۹ھ میں شمس العلماء نے مدرسہ عالیہ کے مدرسین کو نواب حامد علی خاں دائی رام پور کے سامنے بغرض امتحان پیش کیا، مولانا کی باری آئی تو شمس العلماء نے ان سے قاضی سے الکلیۃ والجزئیۃ قبل صفۃ العلم کے مطالب و مفاہیم بیان کرنے کے لیے فرمایا، آپ نے مالہٗ وما علیہ کے ساتھ ایسی تحقیق فرمائی کہ شمس العلماء نواب سےکہنے لگے ‘‘ قاضی پڑھانا اس کو کہتے ہیں ’’
مولانا حکیم برکات احمد نے حسرۃ العلماء میں آپ کو شمس العلماء کا خاص شاگرد لکھا ہے ۱۳۲۲ھ میں نواب راندیر نے بلایا، اور جماعت علماء کے ساتھ شاندار استقبال کیا، علماء ذوی الاحرام نے جلسۂ عام میں شمس العلماء کا خطاب دیا ـ
وصال:
۱۲ جمادی الاخریٰ ۱۳۴۲ھ میں وفات ہوئی، تصانیف میں شرح قاضی مبارک شرح میر زاہد، حاشیہ فق المبین ہے، مگر غیر مطبوعہ ـ
( تذکرہ کا حلال رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zahoor-ul-hussain-rampuri
ولادت:
حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین علیہ الرحمۃ کے بھانجے، ۱۸۵۷ھ میں رام پور میں ولادت ہوئی اپنے والد مولوی نیاز اللہ بن مولوی عظمت اللہ فاروقی مجددی سے فارسی اور مولانا امداد حسین سے عربی نحو پڑھی، حضرت شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی سے اول سے آخر تک کتب معقولات کا درس لیا، دینیات حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین سے پڑھی، بعض کتب کا مولانا مفتی سعد اللہ سے درس لیا، صحاح ستہ کی سند حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن سے پائی، مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف میں صدر مدرس تھے، شمس العلماء مولانا عبد الحق خیر آبادی کو درسی قوت و صلاحیت پر پورا اعتماد تھا اپنے شاگردوں کو آپ کے سپرد کر دیتے تھے ۔۔۔۔
تذکرۂ کاملان رام پور میں ہے کہ ۱۳۱۹ھ میں شمس العلماء نے مدرسہ عالیہ کے مدرسین کو نواب حامد علی خاں دائی رام پور کے سامنے بغرض امتحان پیش کیا، مولانا کی باری آئی تو شمس العلماء نے ان سے قاضی سے الکلیۃ والجزئیۃ قبل صفۃ العلم کے مطالب و مفاہیم بیان کرنے کے لیے فرمایا، آپ نے مالہٗ وما علیہ کے ساتھ ایسی تحقیق فرمائی کہ شمس العلماء نواب سےکہنے لگے ‘‘ قاضی پڑھانا اس کو کہتے ہیں ’’
مولانا حکیم برکات احمد نے حسرۃ العلماء میں آپ کو شمس العلماء کا خاص شاگرد لکھا ہے ۱۳۲۲ھ میں نواب راندیر نے بلایا، اور جماعت علماء کے ساتھ شاندار استقبال کیا، علماء ذوی الاحرام نے جلسۂ عام میں شمس العلماء کا خطاب دیا ـ
وصال:
۱۲ جمادی الاخریٰ ۱۳۴۲ھ میں وفات ہوئی، تصانیف میں شرح قاضی مبارک شرح میر زاہد، حاشیہ فق المبین ہے، مگر غیر مطبوعہ ـ
( تذکرہ کا حلال رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-zahoor-ul-hussain-rampuri
❤2
حضرت مولانا شاہ محمد علی حسین مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا محمد علی حسین صاحب ابن حضرت مولانا شاہ اعظم حسین خیر آبادی قدس سرہما ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ میں بھوپال میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
اُردو فارسی کی ابتدائی تعلیم مولانا یُد اللہ سنبھلی سے حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا، معقول و منقول کی تکمیل والد ماجد سے کی ـ
۱۹۰۳ء میں والد ماجد کے ساتھ مدینہ طیّبہ چلے گئے، اور وہیں سے بلاد عرب عراق و شام و مصر کا سفر کیا، اور عتبات عالیہ کی زیارت کی ـ
۱۳۳۶ھ میں آپ نے دمشق میں امام الدھر حافظ العصر شیخ بدر الدین دمشقی سے اُن کے صاحبزادے مولانا تاج الدین کی معیت میں شرح وقایہ کا درس لیا، حضرت مولانا محمد عبد الباقی فرنگی محلی مدنی المتوفی ۱۳۶۴ھ کے درس میں مختصر المعانی، تلخیص المفتاح پڑھی، صحیح مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث کا حضرت مولانا شاہ محمد معصوم ابن شاہ عبد الرشید ابن حضرت شاہ احمد سعید مجددی سے درس لیا، شیخ المحدثین مدینہ منورہ سید علی بن ظاہر الوتری سے بھی کسب فیض کیا ـ
۱۳۲۷ھ میں حضرت مولانا شاہ محمد نعیم نبیرہ حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی نے فاتحۂ تشکر کے بعد دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی ـ
فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ تک درس دیا، نجدی تسلط کے بعد اپنے مکان پر یہ سلسلہ جاری رکھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے اپنے والد ماجد سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت و خلافت تھی، ان کے علاوہ (۱) حضرت شاہ معصوم (۲) مولانا عبد الباقی (۳) سید علی الوتری (۴) امام الدھر شیخ بدر الدین الحسنی الدمشقی (۵) شیخ عبد الحکیم افغانی (۶) شیخ احمد شمس مالکی قادری (۷) علامہ شیخ صلاح (۸) شیخ علی مبارک المغربی (۹) حضرت امین رضوان شیخ الدلائل مدینہ منورہ (۱۰) حسان الزمان مدافع عن سید الاکوان صلی اللہ علیہ وسلم شیخ یوسف بن اسمٰعیل النہبانی سے بھی اجازت و خلافت تھی، مگر آپ بیعت والد ماجد کے طریقہ قادری میں کرتے تھے ـ
مدینہ طیّبہ کے آداب میں آپ کے اطوار امام مالک جیسے تھے، جہاں بھی ہوتے ہمیشہ یہ خیال رکھتے کہ حرم شریف کی طرف پیٹھ نہ ہو (۲) جس راستہ سے بھی گذر ہوتا اور گنبد خضراء نظر آتا تو آپ فوراً مؤدب دست بستہ سلام عرض کرتے، پھر آگے پڑھتے، (۳) مسجد نبوی میں داخل ہونے سے پہلے سلام عرض کر کے داخلہ کی درخواست کرتے اور تھوڑا وقفہ ٹھہر کر قدم بڑھاتے، عموماً نمازیں حجرۂ سید النساء کے متصل ادا کرتے، (۴) حرم شریف نبوی میں سر جھکائے رکھتے، اور کسی سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرتے، سلام کا جواب اشارہ سے دیتے، اور اگر کوئی گفتگو کی کوشش کرتا تو اشارے سے بتاتے کہ گھر پر آو، (۵) نجدی اندامات قبور کے بعد جنۃ البقیع میں کبھی داخل نہیں ہوئے (۶) فصیل شہر اقدس کے اندر کبھی سواری کا استعمال نہیں کیا (۷) امر بالمعروف اور نہی من المنکر آپ کا خاص شیوہ تھا، اس میں امیر و غریب کی کوئی قید نہ تھی، جس کو غلطی کرتے دیکھتے فوراً ٹوک دیتے (۸) بد مذہبوں سے آپ کو سخت نفرت تھی، نجدی عقائد کے متبعین کو ابن تیمیہ وغیرہ کے اقوال ہی سے قائل کر دیتے، آپ کو معاملات فقہی پر غیر معمولی عبور تھا، مقدمات میں شرعی نکات معلوم کرنے والوں کا آپ کے یہاں مجمع لگا رہتا تھا، نجدی قاضی و علماء آپ سے بہت گھبراتے تھے، اختلاف عقائد و مسلک کے باوجود سلاطین نجد آپ کے تبحر علمی سے مرعوب تھے ۔
وصال:
۱۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۴ھ کو بعد فجر اللہ اللہ کہتے ہوئے جاں بحق ہوئے ۔ اور سیدنا ابراہیم ابن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جوار میں اپنے والد ماجد کے قریب دفن کیے گئے، اسی روز ریڈیو جدّہ نے آپ کے وفات کی خبر نشر کی ـ
تصانیف:
(۱) الصواعق الملکوت علی استاذ شلتوت المصری ثبوت حیات سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کے بارے میںشیخ الازہر شلتوت مصری کے فاسد عقائد کا رد (عربی)
(۲) سیرت شیخ یوسف النبہانی (غیر مطبوع، عربی) (۳) سیرت اعظم حسین رحمۃ اللہ علیہ (عربی، غیر مطبوعہ) (۴) رد تجدید و احیاء دین، ابو الاعلیٰ مودودی کے مزعومات کا رد (اُردو مطبوعہ) آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد علاء الدین مدنی مالک فندق طیبہ مدینہ طیّبہ اعلیٰ اخلاق واوصاف اور فقہی مہارت میں نامور ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mohammad-ali-hussain-madani
ولادت:
مولانا محمد علی حسین صاحب ابن حضرت مولانا شاہ اعظم حسین خیر آبادی قدس سرہما ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ میں بھوپال میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
اُردو فارسی کی ابتدائی تعلیم مولانا یُد اللہ سنبھلی سے حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا، معقول و منقول کی تکمیل والد ماجد سے کی ـ
۱۹۰۳ء میں والد ماجد کے ساتھ مدینہ طیّبہ چلے گئے، اور وہیں سے بلاد عرب عراق و شام و مصر کا سفر کیا، اور عتبات عالیہ کی زیارت کی ـ
۱۳۳۶ھ میں آپ نے دمشق میں امام الدھر حافظ العصر شیخ بدر الدین دمشقی سے اُن کے صاحبزادے مولانا تاج الدین کی معیت میں شرح وقایہ کا درس لیا، حضرت مولانا محمد عبد الباقی فرنگی محلی مدنی المتوفی ۱۳۶۴ھ کے درس میں مختصر المعانی، تلخیص المفتاح پڑھی، صحیح مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث کا حضرت مولانا شاہ محمد معصوم ابن شاہ عبد الرشید ابن حضرت شاہ احمد سعید مجددی سے درس لیا، شیخ المحدثین مدینہ منورہ سید علی بن ظاہر الوتری سے بھی کسب فیض کیا ـ
۱۳۲۷ھ میں حضرت مولانا شاہ محمد نعیم نبیرہ حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی نے فاتحۂ تشکر کے بعد دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی ـ
فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ تک درس دیا، نجدی تسلط کے بعد اپنے مکان پر یہ سلسلہ جاری رکھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کے اپنے والد ماجد سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت و خلافت تھی، ان کے علاوہ (۱) حضرت شاہ معصوم (۲) مولانا عبد الباقی (۳) سید علی الوتری (۴) امام الدھر شیخ بدر الدین الحسنی الدمشقی (۵) شیخ عبد الحکیم افغانی (۶) شیخ احمد شمس مالکی قادری (۷) علامہ شیخ صلاح (۸) شیخ علی مبارک المغربی (۹) حضرت امین رضوان شیخ الدلائل مدینہ منورہ (۱۰) حسان الزمان مدافع عن سید الاکوان صلی اللہ علیہ وسلم شیخ یوسف بن اسمٰعیل النہبانی سے بھی اجازت و خلافت تھی، مگر آپ بیعت والد ماجد کے طریقہ قادری میں کرتے تھے ـ
مدینہ طیّبہ کے آداب میں آپ کے اطوار امام مالک جیسے تھے، جہاں بھی ہوتے ہمیشہ یہ خیال رکھتے کہ حرم شریف کی طرف پیٹھ نہ ہو (۲) جس راستہ سے بھی گذر ہوتا اور گنبد خضراء نظر آتا تو آپ فوراً مؤدب دست بستہ سلام عرض کرتے، پھر آگے پڑھتے، (۳) مسجد نبوی میں داخل ہونے سے پہلے سلام عرض کر کے داخلہ کی درخواست کرتے اور تھوڑا وقفہ ٹھہر کر قدم بڑھاتے، عموماً نمازیں حجرۂ سید النساء کے متصل ادا کرتے، (۴) حرم شریف نبوی میں سر جھکائے رکھتے، اور کسی سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرتے، سلام کا جواب اشارہ سے دیتے، اور اگر کوئی گفتگو کی کوشش کرتا تو اشارے سے بتاتے کہ گھر پر آو، (۵) نجدی اندامات قبور کے بعد جنۃ البقیع میں کبھی داخل نہیں ہوئے (۶) فصیل شہر اقدس کے اندر کبھی سواری کا استعمال نہیں کیا (۷) امر بالمعروف اور نہی من المنکر آپ کا خاص شیوہ تھا، اس میں امیر و غریب کی کوئی قید نہ تھی، جس کو غلطی کرتے دیکھتے فوراً ٹوک دیتے (۸) بد مذہبوں سے آپ کو سخت نفرت تھی، نجدی عقائد کے متبعین کو ابن تیمیہ وغیرہ کے اقوال ہی سے قائل کر دیتے، آپ کو معاملات فقہی پر غیر معمولی عبور تھا، مقدمات میں شرعی نکات معلوم کرنے والوں کا آپ کے یہاں مجمع لگا رہتا تھا، نجدی قاضی و علماء آپ سے بہت گھبراتے تھے، اختلاف عقائد و مسلک کے باوجود سلاطین نجد آپ کے تبحر علمی سے مرعوب تھے ۔
وصال:
۱۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۴ھ کو بعد فجر اللہ اللہ کہتے ہوئے جاں بحق ہوئے ۔ اور سیدنا ابراہیم ابن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جوار میں اپنے والد ماجد کے قریب دفن کیے گئے، اسی روز ریڈیو جدّہ نے آپ کے وفات کی خبر نشر کی ـ
تصانیف:
(۱) الصواعق الملکوت علی استاذ شلتوت المصری ثبوت حیات سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کے بارے میںشیخ الازہر شلتوت مصری کے فاسد عقائد کا رد (عربی)
(۲) سیرت شیخ یوسف النبہانی (غیر مطبوع، عربی) (۳) سیرت اعظم حسین رحمۃ اللہ علیہ (عربی، غیر مطبوعہ) (۴) رد تجدید و احیاء دین، ابو الاعلیٰ مودودی کے مزعومات کا رد (اُردو مطبوعہ) آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد علاء الدین مدنی مالک فندق طیبہ مدینہ طیّبہ اعلیٰ اخلاق واوصاف اور فقہی مہارت میں نامور ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mohammad-ali-hussain-madani
❤1