🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت مولانا شاہ محمد معین الدین آروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

زبد ۃ الاصفیاء حضرت مولانا شاہ محمد مصلح الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے محمد معین الدین احمد نام، معین تخلص، عاشق رسول لقب ـ

ولادت:
۱۳۰۵ھ میں آرہ میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم و تربیت:
تربیت آرہ میں پائی، ابتدائی تعلیم، فارسی، عربی اور خوش نویسی اپنے خاندانی بزرگوں سے حاصل کی، عربی درس نظامی کی تکمیل مولوی حکیم عبد الوہاب آردی، مولوی ماجد علی جونپوری، مولانا مفتی رحیم بخش آروی سے کی، دستار بندی اور سند فراغ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی رضی اللہ تعالیٰ دنہ نے مدرسہ فیض الغرباء آرہ کے جلسۂ عام میں دی، بعد فراغ دہلی جاکر طب پڑھی اور بند تکمیل شفاء الملک حکیم رضی الدین خاں مرحوم سے حاصل کی ـ

بیعت و خلافت:
تحصیل علوم ظاہری کے بعد والد ماجد قدس سرہٗ سے سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ میں بیعت کی اور تکمیل سلوک کے ۳۰ سال بعد سلاسل قادریہ نقشبندیہ، چشتیہ کی اجازت سے مشرف ہوئے ـ

رشد و ہدایت، تبلیغ میں بقیہ عمر صرف کی قادریہ نقشبندیہ، چشتیہ کی اجازت سے مشرف ہوئے رشد و ہدایت، تبلیغ میں بقیہ عمر صرف کی ـ

سیرت و خصائص:
شیریں زبان، سحر البیان واعظ، خوش نو الغمت گو شاعر، صاحب عرفان و طریقت ہوئے ہیں ـ

وصال:
۱۱ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۸ھ میں بروز شنبہ تین ماہ دس دن بیمار رہ کر رحلت کی ـ

مزارِ مبارک:
آرہ محلہ بھلوئی پورہ دہ میں مزار ہے، ۱۱ جمادی الاولیٰ کو خانقاہ قصبہ رائن ضلع مونگیری میں عرس ہوتا ہے ـ

تصانیف:
تصنیفات میں میلاد تحفۃ الرسول، رسالہ اذان درتائید فاضل بریلوی ہیں، تذکرۃ السعدین مؤلفہ حضرت مولوی شاہ محمد جعفر علی فریدی قدس سرہٗ یں تفصیلی ذکر خیر ہے، حضرت مولانا مفتی شاہ محمد ابراہیم فریدی سمتی پوری شیخ الحدیث و مفتی بدایوں نے زیل کا قطعۂ تاریخ کہا:

قطب دیں شاہِ معین الدین نام
شیخ دوراں عابد مرد خدا

باخدا پیوست، خو درا واگذاشت
قصر ج نت بہر اوشد متکاء

گفت ابراہیم سال رحلتش
وارث دین رسول دوسرا

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-moinuddin-arvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
مبلغ اسلام مولانا ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا محمد فضل الرحمن انصاری ۔ لقب: مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، سفیرِ اسلام ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا خلیل الرحمن انصاری علیہ الرحمہ ۔

آپ کا سلسلۂ نسب صحابی و میزبان ِرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔

آپ کے بزرگوں میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ (ہرات ۔ افغانستان) اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے حضرت مولانا کریم بخش انصاری المعروف میاں جی رحمۃ اللہ علیہ (مظفر نگر بھارت) اپنے دور کی مشہور شخصیات ہوئے ہیں ۔ (انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص: 567) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 شعبان المعظم 1333ھ / 25 جون 1915ء کو " مظفر نگر " انڈیا میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
مولانا فضل الرحمن انصاری نے نو عمری میں قرآن پاک حفظ کیا، پھر درس نظامی کی کتب پر عبور حاصل کیا ، 1933ء میں آپ نے میرٹھ کالج سے ایف ۔ ایس ۔ سی کا امتحان پاس کیا اور اسی سال مدرسہ اسلامیہ میرٹھ سے فارغ التحصیل ہو کر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا ۔

1935ء میں آپ نے بی ۔ ایس۔ سی کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا، دوسراگولڈ میڈل فلسفہ میں 98 فی صد نمبر حاصل کرنے پر ملا ۔ بر صغیر میں فلسفہ میں اتنے نمبر حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک بر قرار ہے ۔

آپ نے علامہ سید سلیمان اشرف بہاری صدر شعبہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ کی نگرانی میں قرآن و حدیث کے علاوہ علم الکلام اور تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کیا ۔ 1941ء میں آپ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے علوم دینیہ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ (ایضاً)

آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی جانا چاہتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ مولانا فرماتے تھے:"جامعہ علی گڑھ سے سائنس میں فیکلٹی سے انٹر پاس کرنے کے بعد اسلامی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب شکوک و شبہات دل میں پیدا ہونے لگے تھے بلکہ ایک وقت تو دماغ انکار پر مائل ہو گیا تھا " ۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، عالمِ اسلام کے عظیم مبلغ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قدس سرہ سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی نگاہِ کیمیا اثر نے دل و دماغ کی کایا پلٹ دی اور فکر و نظر کا دھارا صحیح سمت کو موڑ دیا، جو دل انکار اسلام پر مائل تھا، دین فطرت کی محبت اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بن گیا ۔ (تذکرہ اکابرِ اہلسنت، ص:380) ـ

بیعت و خلافت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری کے خلیفہ، سفیرِ اسلام، شیخِ طریقت حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ نے حطیمِ کعبہ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ چشتیہ اور شاذلیہ میں بیعت کیا اور خلافت سے سر فراز فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
سیاحِ عالم، مبلغ، مفکر، محقق، مصنف، جامع علومِ شرقیہ و غربیہ، عالمِ شریعت، سالکِ راہِ طریقت، فاضلِ فلسفہ جدیدہ و قدیمہ، عالمی مبلغِ اسلام، ضیغمِ اسلام، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دنیائے اسلام کے مایۂ ناز مبلغ اور بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے ۔ انہوں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کا اکثر حصہ تبلیغ اسلام میں صرف کیا ۔ پاکستان کے علاوہ افریقہ، امریکہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا ۔ مولانا انصاری اپنی دینی خدمات کی بنا پر عالم اسلام میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔

مولانا فضل الرحمن انصاری انگریزی میں سحر انگیز تقریر فرماتے تھے ۔ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ممتاز اہل علم کے سامنے آپ نے بارہا تقریریں کیں، اور بے شمار اہلِ علم آپ کی تقریر سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔

قدرت نے آپ کو تحریر و تقریر میں یکساں کمال عطا فرمایا تھا ۔ آپ نے تقریباً 25 کتابیں دعوت اسلام کی تشریح اور افکار باطلہ کی تردید میں انگریزی زبان میں لکھیں اور اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیا ۔
پروفیسر ڈاکٹر محمود حسین صدیقی فرماتے ہیں: مولانا کی ذات وہ مرکز تھی جہاں عشق و عقل دونوں آکر ملتے ہیں ، سیاح عالم مولانا حافظ شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قادری کی چشم کرم نے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے قلب و دماغ کو حضور اکرم ﷺ کی محبت کے نور سے منور کر دیا تھا ـ

ایک مبلغ اسلام کی خصوصیات میں بنیادی چیز حضور اکرم ﷺ سے والہانہ محبت ہے اور یہ محبت کی چنگاری کسی محبت میں فنا ہونے والی نظر سے ہی منتقل ہوتی ہے اور پھر شعلہ بن کر جسد خاکی کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے ۔ تب ہی تو حضور ﷺ کے کام سے وابستگی اور اس میں ہمہ تن انہماک پیدا ہوتا ہے ۔

غیر مسلم ان کی علمی بصیرت کے اس قدر مداح تھے کہ ان کو " Great Thinker " ( عظیم مفکر ) کا خطاب دیا گیا ۔ وہ کوئی سیاسی شخصیت یا سرمایہ دار نہیں تھے ۔ لیکن عالم اسلام میں لاکھوں افراد کے دلوں میں ان کا ایک مقام ہے ۔ (ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری، ص:285) ـ

مولان انصاری کا یہ کار نامہ نا قابل فراموش ہے کہ آپ نے شمالی ناظم آباد، کراچی میں ایک ادارہ " المرکز الاسلای " قائم کیا جہاں سے زیادہ تر غیر ملکی طلباء حالات حاضرہ کی ضروریات کے مطابق تبلیغ اسلام کی تربیت حاصل کر کے اپنے اپنے علاقوں میں فرائض تبلیغ انجام دیتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطاء فرمائے ۔ (آمین)

تاریخِ وصال:
بروز پیر 11 جمادی الاول 1394ھ، مطابق 3 جون 1974ء کو " اسم اللہ ذات " کا ورد کرتے ہوئے منزلِ مقصود کو پہنچے ۔ آپ کا مزار پر انوار " المرکز الاسلامی " بلاک، بی، ناظم آباد کراچی میں ہے ۔

جناب حافظ عبد الغفار حافظؔ فرماتے ہیں:
جان ریاضت، شانِ فصاحت، فضل الرحمن انصاری ۔۔۔ پیرِ طریقت، شیخِ شریعت، فضل الرحمن انصاری ـ

دنیا کا ہر برِ اعظم اس کی گواہی دیتا ہے ۔۔۔ کی ہے جو اسلام کی خدمت فضل الرحمن انصاری ـ

فلسفہ ہو یا علمِ تقابل، منطق ہو، یا علمِ کلام ۔۔۔۔۔ ہر اک فن میں صاحبِ عظمت، فضل الرحمن انصاری ـ

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری کی حیات و خدمات ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-doctor-fazal-ur-rehman-ansari
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-05-1445 ᴴ | 25-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-05-1445 ᴴ | 26-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2