🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔

آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ

تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔

وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ

بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
3
سیرت و خصائص:
سراج الملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، محسنِ ملک و ملت، جامع شریعت و طریقت، عالم و عارف، حضرت علامہ مولانا پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔

آپ امیر ملت، ابو العرب، حضرت سید پیر جماعت علی محدث علی پوری کے جانشینِ برحق، اور علوم و معارف کے وارثِ اکمل اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ نے جوانی میں ہی خدمتِ اسلام میں متحرک ہو گئے تھے ۔ پوری زندگی والدِ گرامی کی تعلیمات اور ان کے مشن کی ترویج و اشاعت میں گزار دی ۔ بیس سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل مکمل ہو گئی، اور فراغت کے بعد ہی خدمتِ دین میں مصروف ہو گئے ۔ حضرت امیر ملت نے علی پور شریف میں ’’ مدرسہ نقشبندیہ ‘‘ قائم کیا، اور آپ کو اس مہتمم مقرر کیا گیا ۔ آپ مدرسہ کے انتظام و انتصرام کے علاوہ طلباء کو علوم و فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے تھے ۔ عربی و فارسی پر آپ کو مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی۔ تحریر و تقریر میں اہلِ زبان کی طرح یدِ طُولیٰ حاصل تھا ۔ تمام عمر کبھی بول چال میں رکاوٹ نہ آئی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت پر بڑے بڑے علماء و فضلاء کو حیران ہو جاتے تھے، اور وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوتے تھے ۔

آپ عالم، فاضل، پیر، ادیب اور حکیم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مناظر بھی تھے ۔ آپ کو اکثر تحریری مناظروں کے مواقع ملے ۔ آپ نے مخالفین کی تحریروں میں ہمیشہ غلطیاں نکالیں، جس کی وہ کبھی توجیہ و تاویل نہ کر سکے، مگر آپ کی تحریر میں اُن کو نکتہ چینی اور خوردہ گیری کی جراْت نہ ہوئی ۔ آپ نے بار ہا چیلنج بھی کیا مگر معاندین کو چُپ سادھ لینے ہی میں عافیت نظر آئی ۔ ہر محاظ پر مسلکِ حق کا ہر لحاظ سے دفاع کیا ۔ جامعہ ازہر کے ایک استاد علی پور میں آئے، انہوں نے مسلکِ احناف پر اعتراض کیا ۔ تین دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا ۔ بالآخر وہ مصری عالم حنفی مسلک کی صحت کا قائل ہو گیا ۔ اسی طرح آپ کے فصیح و بلیغ عربی تکلم پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا ۔ (ایضا:529)

آپ کو کتابوں کی خریداری کا بہت شوق تھا ۔ جب حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے جاتے تو نایاب کتب خرید کر لاتے ۔ آپ ہزاروں روپے صَرف کرکے عربی کتب خرید کر لائے ۔ آپ کے اس ذوق و شوق کی حضرت امیر ملّت قدس سرّہ بڑی قدر فرمایا کرتے تھے ۔ کئی بار تحسین و آفرین کے کلمات ارشاد فرمائے ۔ ایک بار فرمایا کہ: ’’ لوگ ایسے تبرکات خریدتے ہیں جو فنا ہو جاتے ہیں صاحبزادہ نے ایسی چیزیں خریدیں ہیں جن کو بقاہے ‘‘ ۔ آپ کو فتویٰ نویسی میں خاص مہارت حاصل تھی ۔ آپ مشکل سے مشکل مسائل پر قلم برداشتہ فتویٰ لکھ دیتے تھے۔ حدیث و فقہ کی کتابوں پر ایسا عبور حاصل تھا کہ آپ کے فتوے قوی اور مضبوط دلائل اور حوالہ جات سے مزیّن ہوتے تھے، علم و فرائض بہت مشکل چیز ہے مگر آپ کو اس میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ میراث کے مسائل کا جواب برجستہ دیتے اور ترکہ کی تقسیم کے معاملات مدلّل طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوراً حل فرما دیتے تھے ۔ آپ جتنے جلیل القدر عالم تھے، اُتنے ہی پابندئِ شریعت اور اتباع سنّت کے عامل تھے ۔ شبِ بیداری، تہجد گزاری اور آہ وزاری تو اُن کا معمول تھا۔ عشقِ رسول ﷺ تو رگ رگ میں سمایا ہوا تھا ۔ ذکرِ مصطفےٰ ﷺ اور نعت شریف سُنتے ہوئے جُھوم تے تھے، اور یادِ مصطفیٰ ﷺ میں آنکھیں اشک بار ہو جایا کرتیں تھیں ۔

تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات:
آپ نے حضرت امیرِ ملّت قدس سرّہ کی زیر قیادت تمام دینی، ملّی، مذہبی، اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصّہ لیا ۔ انجمن خدّام الصوفیہ، فتنۂ ارتداد، تحریک خلافت، ساردا ایکٹ، تحریک کشمیر، تحریک شہید گنج، تحریکِ پاکستان اور دیگر تحریکوں میں بھرپُور کردار ادا کیا ۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں عرصہ تک آگرہ میں رونق افروز رہے اور ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کرکے ہندوؤں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا ۔ تحریک شہید گنج میں بڑی جانفشانی سے کام کیا ۔ تحریک پاکستان کا دور آیا تو حضرت امیر ملّت قدس سرہ اپنے صاحبزادوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے ۔ حضرت سراج الملت نے رات دن ایک کرکے مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں یارانِ طریقت اور عامۃ المسلمین کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنایا ۔ 1946ء کے تاریخی الیکشن میں ضلع رہتک (حال مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مسلم لیگی امید واروں کی حمایت میں دل کھول کر کام کیا پھر فیروز پور میں نواب افتخار حسین ممدوٹ کے حلقہ میں اس خوبی سے کام کیا کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔ بعد ازاں قصور میں بھی میاں افتخار الدین کے حلقہ میں بھرپور کام کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ آپ کے تینوں اُمیدوار غالب اکثریت سے کامیاب و کامران ہوئے ۔
2
قائدِ اعظم محمد علی جناح کو تمغہ پہنایا: جب 24 نومبر 1945ء کو حضرت پیر امین الحسنات المعروف پیر صاحب مانکی شریف نے مانکی شریف میں حضرت قائدِ اعظم کی ایک شاندار دعوت کی تو ایک عدیم المثال جلسۂ عام کا انعقاد بھی کیا ۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ کی خدمت میں جلسہ کی صدارت کے لیے درخواست کی گئی مگر حضرت ناسازیِ طبع کے باعث تشریف نہ لے جا سکے اور اپنی جگہ حضرت سراج الملت کو قائدِ اعظم کے لیے سونے کا ایک تمغہ، تین سو روپے کی ایک تھیلی اور کئی دوسرے تحائف دے کر بھیجا ۔

پیر صاحب مانکی شریف نے حضرت سراج الملّت کی بڑی عزّت افزائی کی اور جلسہ کی صدارت آپ کے سپرد کی ۔ جب قائدِ اعظم جلسہ گاہ میں آئے تو حضرت سراج الملّت آگے بڑھے اور  سونے کا تمغہ (جس پر کلمہِ طیّبہ کندہ تھا) قائدِ اعظم کی طرف بڑھاتے ہُوئے کہا کہ: ’’ میرے والد ماجد (حضرت امیر ملّت) نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ‘‘ ۔ یہ سُن کر قائدِ اعظم بہت خوش ہُوئے، کُرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہا: ’’ پھر تو میں کامیاب ہُوں، آپ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجیے ‘‘ ۔(ایضا:532) ـ

آپ بھی حضرت امیر ملت کی طرح بڑے سخی اور جوّاد تھے ۔ یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے تھے ۔ مدرسہ  کے طلباء کی ہر قسم کی ضروریات کا اہتمام فرماتے ۔ ان تمام کاموں پر جو روپیہ صَرف ہوتا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہ ہوتا ۔

ایک دفعہ آپ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی معیّت میں حج بیت اللہ و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کے لیے گئے ہُوئے تھے ۔ مدینہ منوّرہ میں ایک دن حضرت امیر ملّت ﷺ نے قطبِ مدینہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے صاحبزادہ سے ملاقات کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! مُلاقات ہوئی مَیں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا ہُوں ۔ وہ بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ آپ کے صحیح جانشین ہوں گے ۔حضرت امیر ملت نے فرمایا: ’’ مولانا صاحب! بعض باتوں میں وہ مجھ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو لوگ ایک کے چار کر کے بتاتے ہیں، مگر وہ دائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہونے دیتا ‘‘ ۔ (ایضا: 532)

آپ خوارک بہت سادہ پسند فرماتے تھے، اُبلے ہوئے چاول اور سادہ گوشت بہت پسند فرماتے تھے ۔ سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق لوکی خصوصی طور پر مرغوب تھا ۔ آپ کا لباس سفید ہوتا تھا، کُرتہ بہت کُھلا (اکثر و بیشتر چکن کا کپڑا استعمال فرماتے تھے) سفر میں سفید شلوار حضر میں سفید چادر، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں کھسّہ، ہاتھ میں عصا ۔ آپ والد گرامی کے مظہر اُتم تھے ۔ چہرہ پُر نور، جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا ۔ گفتگو فقیروں جیسی، چال شہنشاہوں جیسی، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ سخاوت میں اپنے وقت کے حاتم طائی تھے ۔ آخیر عمر میں بصارت میں فرق آ گیا تھا مگر صحت قابلِ رشک تھی ۔ تہجّد کی نماز کبھی قضا نہیں کی ۔

آخیر عمر میں رات کا اکثر و بیشتر حصّہ بیدار رہتے تھے ۔ عموماً نصف رات مطالعہ کتب اور حل مسائل میں صرف ہوتا تھا ۔ بعد ازاں تھوڑا سا لیٹ کر تہجّد پڑھتے تھے ۔ صبح کی نماز کے بعد طلباء کو درسِ قرآن دیتے تھے ۔ آپ تقریر و تدریس کے علاوہ میدانِ تحریر کے بھی شاہسوار تھے ۔ ماہنامہ ’’ انوار الصوفیہ ‘‘ (لاہور، سیال کوٹ، قصور) میں آپ کے گران قدر مضامین زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر علماء و فضلاء سے خراجِ تحسین حاصل کرتے رہے ۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’ افضل الرُسل ‘‘ کئی بار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر جامعیت اور انفرادیّت کے لحاظ سے اپنی عظمت کا لوہا منوا چکی ہے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1381ھ مطابق 16 اکتوبر بروز پیر بوقت ساڑھے پانچ بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ علی پور سیداں میں حضرت امیر ملت کے پہلو میں آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ از مولانا محمد صادق قصوری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hussain-shah-ali-puri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید حمزہ علی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

موت العالم موت العالم

اہلسنّت کی عظیم علمی و روحانی شخصیت پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید حمزہ علی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بروز بدھ بعد نمازِ عصر مورخہ 06 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بمطابق 24 جنوری 2018ء اس دارِ فانی سے انتقال فرماگئے ۔

حضرت کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ ظہر دار العلوم امجدیہ کے قریب عالمگیر چورنگی پر آپ کے پیر زادے حضرت علامہ قاضی سید عبد الاحد رشیدی قدیری صاحب زید مجدہ نے پڑھائی، جس میں انجمن ضیائے طیبہ کے بانی، چئیرمین، سرپرستِ اعلیٰ اور دیگر اراکین و عملہ نے بھی شرکت کی سعادت حاصل کی ۔

دعا ہے اللہ پاک حضرت قبلہ کی بخشش و مغفرت فرما کر بلند درجات عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں ابدی ٹھکانہ بنائے اور اہل خانہ و دیگر لواحقین مریدین محبین کو صبر جمیل اور حضرت قبلہ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے ۔ (آمین بجاہ النبی الامین ﷺ) ـ

انا للہ وانا الیہ راجعون

چل دیے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر
رنج فرقت کا ہر اک سینہ میں شعلہ چھوڑ کر

موت عالِم سے بندھی ہے موت عالَم بے گماں
روح عالَم چل دیا عالَم کو مردہ چھوڑ کر

(از: تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان بریلوی مد ظلہ العالی)

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-allama-molana-syed-hamza-ali-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شاہ حبیب الرحمن اڑیسوی قادری
یوم وصال 06 جمادى الأولى 1401
یوم پیدائش 08 محرم الحرام 1322

خلیفۂ حضور اشرفی میاں و خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام، رئیس التارکین، حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ

نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی حبیب الرحمٰن قادری ہے ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب عمِ رسول ﷺ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ 8 محرم الحرام 1322ھ بروز شنبہ بوقتِ صبحِ صادق، قصبہ دھام نگر، صوبۂ اڑیسہ (موجودہ نام اوڈیشا) انڈیا میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتداءً لوگوں نےحضرت مجاہد ملت کو انگریزی تعلیم پڑھانا شروع کر دیا جس کو حضرت مجاہد ملت نے بادل ناخواستہ قبول کر لیا ۔ مگر چند دنوں بعد آپ نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے انکار کر دیا ۔

پھر حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ کے والد ماجد کی خواہش کے مطابق دینی تعلیم کے لیے مامور کیا گیا ۔ اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ گھر پر ہی جاری رہا ۔ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخلہ لیا، چند سال وہاں تعلیم حاصل کی، مدرسہ سبحانیہ کے اساتذہ اور مہتمم مدرسہ سے علوم و فنون حاصل کیے ۔ لیکن وہاں کے اساتذۂ کرام مجاہد ملت کے ذہن و صلاحیت کے مطابق زیادہ با فیض ثابت نہ ہو سکے ۔

اس بناء پر حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ زیادہ دِنوں تک وہاں نہ رہ کر اجمیر شریف جامعہ عثمانیہ میں حضور صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اساتذۂ دار العلوم جامعہ عثمانیہ سے اکتساب کیا ۔

اور یہاں سے اپنی علمی پیاس بجھا کر جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں حضور صدر الافاضل حضرت مولانا الشاہ نعیم الدین رضوی مراد آبادی کی خدمت گرامی میں حاضری دی اور اکتسابِ علوم کیا، پھر مراد آباد سے ہی سلسلۂ تعلیم ختم کیا ـ

بیعت و خلافت:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ کو شرف بیعت و اجازت حضرت شیخ مخدوم الشاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے حاصل ہوئی ۔ اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلافت و اجازت سے سر فراز فرمایا ـ

سیرت و خصائص:
رئیس التارکین، مجاہد ملت، حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن ہاشمی عباسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ایک عرصہ دراز تک مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد کے صدر مدرس رہے ۔ بعدہٗ آپ نے تبلیغِ حق اختیار کی، مختلف دینی خدمات انجام دیں ۔

اسلامی تحریکات سے وابسگتی اور گمراہ فرقوں کی سر کو بی مجاہد ملت کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ملک بھر میں آپ نے دینی ادارے اور انجمنیں قائم کرنے کا ایک عظیم سلسلہ شروع کیا ۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے مجاہد ملت کو دولتِ علم و عمل سے نوازا تھا وہی دنیوی مال و متاع سے بھی مالا مال کیا تھا ۔ آپ کو دیکھ کر ان متقدمین اولیاء کی یاد تازہ ہوتی ہے، جنہوں نے رئیسانہ زندگی ترک کر کے فقیرانہ زندگی کو پسند فرمایا اور نفس کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیا ۔

حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے کئی دیوبندیوں سے مناظرہ بھی کیا اور اس میں فتح و کامرانی ہوئی ۔ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے ریاست و امارت، علم و فضل دونوں طرح کی نعمتوں سے حصہ پایا تھا ۔ مگر علم و فضل اور عشق و عرفان کو دنیاوی امارت وریاست پر ہمیشہ غالب رکھا۔

آپ کی زندگی کا سر سری مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحائف و نذر کی صورت میں جو کچھ مجاہد ملت کے پاس آیا اُن سب کو اللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ فرما دیا کرتے تھے بلکہ مزید گھر سے بھی خرچ فرماتے ۔ اسی وجہ سے مجاہد ملت کو زمانے کا رئیس التارکین اور رئیس اعظم اُڑیسہ کہا جانے لگا ۔

جو صرف ایک تعریفی خطاب نہ تھا بلکہ آپ اس کے صحیح مصداق تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے پٹنہ میں ہونے والی کانفرنس میں اپنی اہلیہ محترمہ کے تمام زیورات کو لاکر پیش کر دیا ۔ منتظمینِ کانفرنس نے جب ان زیورات کو قبول نہ کیا تو ارشاد فرمایا کہ "اب تو یہ گھر سے نکل چکا ہے واپس نہیں جا سکتا ہے" ـ

حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ نہایت ذہین، دقیقہ رس، دور اندیش اور معاملہ فہم تھے ۔ درس نظامی کے جملہ فنون میں ماہر کامل اور فائق الاقران تھے ۔ علم و فضل کا چرچہ پورے ملک ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا ۔ تشنگانِ علوم کو تشفی بخش درس دیتےتھے ۔

تاریخِ وصال:
حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا انتقال 6 جمادی الاولیٰ 1401ھ / بمطابق مارچ 1981ء بروز جمعہ، شام، اسمٰعیل ہوٹل، بمبئی میں ہوا ۔ وہاں سے نعش مبارک بذریعہ طیارہ کلکتہ لائی گئی ۔ پھر وہاں سے آپ کے وطن مالوف کٹک اُڑیسہ لے جائی گئی ۔ اور تیسرے دن اتوار کی شام تقریباً 5 بجے دھام نگر خانقاہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-millat-hazrat-shah-habib-ul-rehman-qadri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت انوار رضا خاں علیہ الرحمہ

ولادت:
مولانا محمد رضا خاں صاحب کے صاحب زادے انوار رضا خاں 6 جمادی الاولیٰ 1350ھ میں تولّد ہوئے؛

مگر ابھی زندگی کی دو بہاریں بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہ قاصدِ اجل آ پہنچا،

وصال:
اور 9 محرم الحرام 1352ھ کو راہیِ ملکِ بقا ہو گئے، اپنے پر دادا مولانا نقی علی خاں کے پائنتی میں مدفون ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/anwar-raza-khan
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-05-1445 ᴴ | 20-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-05-1445 ᴴ | 21-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2