Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ ۔ کانپور میں مستقل اقامت کی وجہ سے " کانپوری " کہلاتے ہیں ۔
مولد و موطن:
آپ کا تعلق " بہاولپور " پنجاب سے تھا ۔ شیخ المدرسین حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تحصیلِ علم کی غرض سے کانپور حاضر ہوئے، اور پھروہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ساری عمر دینِ متین خدمت کرتے رہے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری قدس سرہ کے درس کا شہرہ سن کر کانپور آئے، اور اخذ علوم کیا ۔ آپ اُستاذِ زمن کی درسگاہ سے فارغ ہونے والی پہلی جماعتِ علماء میں ممتاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، استاذ العلماء والفضلاء، سند الاتقیاء، حامیِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، ماحیِ بدعت، غیظ الوہابیین، حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مدرسین میں ہوتا تھا ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان استاذ العلماء مولانا شاہ مشتاق احمد کانپوری اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا نثار احمد مفتی آگرہ کی کی تعلیم و تربیت آپ کی سپرد کی تھی ۔ آپ کادرس استاذِ زمن کے درس کا کامل نمونہ ہوا کرتا تھا ۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سنت توسنت استحباب کا بھی خاص التزام تھا ۔ آپ کی مجلس اور درس کایہ فیض تھا جو شریکِ درس ہوتا وہ بھی پیکرِ صدق و صفا بن جاتا تھا ۔
مولانا محمود احمد قادری فرماتے ہیں: " یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر بنائے تصلبِ مذہبی، غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مسجد میں داخل ہونے پر دریوں سمیت مسجد کی دُھلائی کی ابتداء آپ ہی نے فرمائی تھی ۔ مسجد صوبے دار واقع اُرسلا ہسپتال کانپور جس میں آپ امام و خطیب تھے ۔ اس کا متولی غالی دیوبندی تھا ۔ مگر کبھی اس کو مسجد میں آنے کی جرأت نہ ہوئی، کیونکہ وہ بھی آپ کے ورع وتقویٰ سے مرعوب تھا " ۔ یعنی آپ کا سیرت و کردار ایسا بے داغ تھا کہ کسی بدمذہب کو بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آپ ہمہ وقت درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ۔ کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جس میں مسلکِ اہلسنت کی بقاء مضمر ہے ۔ آپ پیری مریدی نہیں کرتے تھے ۔ ساری زندگی کسی کو مرید نہیں کیا ۔ حالانکہ آپ کو خلافت حاصل تھی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1343ھ، مطابق دسمبر 1924ء کو ہوا ۔ کانپور کے بساطی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
فائدہ:
امینِ شریعت، بدر الاصفیاء حضرت شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ خصوصی طور پر آپ کے عرس میں شریک ہوتے تھے ۔ عرس کا تبرک یہ کہہ کر تقسیم فرماتے: " لو کھاؤ اس سے ایمان میں استحکام اور زیادتی نصیب ہوگی " ۔ آپ نے تجرد میں زندگی بسر فرمائی ۔ ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری (صاحبِ حیاتِ اعلیٰ حضرت) نے " ہدایہ آخرین " آپ سے پڑھی تھی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ubaidullah-kanpuri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ ۔ کانپور میں مستقل اقامت کی وجہ سے " کانپوری " کہلاتے ہیں ۔
مولد و موطن:
آپ کا تعلق " بہاولپور " پنجاب سے تھا ۔ شیخ المدرسین حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تحصیلِ علم کی غرض سے کانپور حاضر ہوئے، اور پھروہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ساری عمر دینِ متین خدمت کرتے رہے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری قدس سرہ کے درس کا شہرہ سن کر کانپور آئے، اور اخذ علوم کیا ۔ آپ اُستاذِ زمن کی درسگاہ سے فارغ ہونے والی پہلی جماعتِ علماء میں ممتاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، استاذ العلماء والفضلاء، سند الاتقیاء، حامیِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، ماحیِ بدعت، غیظ الوہابیین، حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مدرسین میں ہوتا تھا ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان استاذ العلماء مولانا شاہ مشتاق احمد کانپوری اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا نثار احمد مفتی آگرہ کی کی تعلیم و تربیت آپ کی سپرد کی تھی ۔ آپ کادرس استاذِ زمن کے درس کا کامل نمونہ ہوا کرتا تھا ۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سنت توسنت استحباب کا بھی خاص التزام تھا ۔ آپ کی مجلس اور درس کایہ فیض تھا جو شریکِ درس ہوتا وہ بھی پیکرِ صدق و صفا بن جاتا تھا ۔
مولانا محمود احمد قادری فرماتے ہیں: " یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر بنائے تصلبِ مذہبی، غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مسجد میں داخل ہونے پر دریوں سمیت مسجد کی دُھلائی کی ابتداء آپ ہی نے فرمائی تھی ۔ مسجد صوبے دار واقع اُرسلا ہسپتال کانپور جس میں آپ امام و خطیب تھے ۔ اس کا متولی غالی دیوبندی تھا ۔ مگر کبھی اس کو مسجد میں آنے کی جرأت نہ ہوئی، کیونکہ وہ بھی آپ کے ورع وتقویٰ سے مرعوب تھا " ۔ یعنی آپ کا سیرت و کردار ایسا بے داغ تھا کہ کسی بدمذہب کو بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آپ ہمہ وقت درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ۔ کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جس میں مسلکِ اہلسنت کی بقاء مضمر ہے ۔ آپ پیری مریدی نہیں کرتے تھے ۔ ساری زندگی کسی کو مرید نہیں کیا ۔ حالانکہ آپ کو خلافت حاصل تھی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1343ھ، مطابق دسمبر 1924ء کو ہوا ۔ کانپور کے بساطی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
فائدہ:
امینِ شریعت، بدر الاصفیاء حضرت شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ خصوصی طور پر آپ کے عرس میں شریک ہوتے تھے ۔ عرس کا تبرک یہ کہہ کر تقسیم فرماتے: " لو کھاؤ اس سے ایمان میں استحکام اور زیادتی نصیب ہوگی " ۔ آپ نے تجرد میں زندگی بسر فرمائی ۔ ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری (صاحبِ حیاتِ اعلیٰ حضرت) نے " ہدایہ آخرین " آپ سے پڑھی تھی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ubaidullah-kanpuri
❤2
حضرت خواجہ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ نور محمد نارو والہ ۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ۔ حضرت قبلۂ عالم سے بیعت ہونے سے قبل تدریس کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ نے حضرت قبلۂ عال خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے چند کتبِ تصوف کا درس لیا ہے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، ریاضت و مجاہدے کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سراپا نور و حکمت، شیخِ کامل، عالمِ اکمل، جامعِ شریعت و طریقت، حضرت شیخ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا اسم نور، مرشد نور، اور ایسا نور جس نے تمام عالم میں نورانی کرنیں بکھیر دیں، دنیا جن کو آج بھی قبلۂ عالم کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ شیخ نور محمد نارو والہ علیہ الرحمہ خواجہ نور محمد مہاروی کے ممتاز ترین خلفاء میں سے تھے ۔ آپ بہت بڑے عالم اور صاحبِ حال بزرگ تھے ۔ میاں نارو والہ حضرت خواجہ نور محمد سے بیعت ہونے سے قبل درس و تدریس کی خدمت انجام دیتے تھے ۔ لیکن جب آپ سلسلۂ چشتیۂ نظامیہ میں خواجہ نور محمد سے بیعت ہوئے تو اپنے شیخ سے کچھ کتابوں کا درس لیا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ اور علم کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔
حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی فرماتے ہیں: کہ میں اور نارو والہ صاحب اور قاضی عاقل محمد اپنے شیخ خواجہ نور محمد علیہ ارلحمہ سے لوائح، سواء السبیل، اور تسنیم وغیرہ پڑھتے تھے، لیکن پڑھنے کے بعد جب اپنے مقام پر واپس آتے تو ہم اس کی تحقیق میاں نارو والہ ہی سے کرتے تھے، اگرچہ ظاہر میں یہ فیض قبلۂ عالم (خواجہ نور محمد) کا ہوتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ تمام فیض اور ادراکِ مسائل میاں نارو والہ ہی سے حاصل ہوتا تھا، وہ ہر چیز کو نہایت وضاحت سے سمجھا دیتے تھے ۔
حضرت شاہ فخرالدین دہلوی کی خدمت میں حاضری: پہلی مرتبہ جب آپ کے پیر خواجہ نور محمد آپ کو لے کر اپنے پیر حضرت شاہ فخر الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پہلی ہی نظر میں شاہ فخر نے اُن کو دیکھتے ہی فرمایا: " مارا از چشمانِ ایشاں عشق بنظر می آید " یعنی ہمیں ان کو آنکھوں میں عشق نظر آتا ہے ۔ حضرت شاہ فخر آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ میاں نارو والہ سے بوئے شکر بار آتی ہے ۔
اتباعِ شریعت:
آپ حد درجہ متبعِ شریعت تھے، ہمیشہ با وضو رہتے اور مستحبات بھی آپ سے ترک نہ ہوتے تھے، ہمیشہ ریاضتوں اور مجاہدوں میں مشغول رہتے، خیر الاذکار کے مؤلف مولوی محمد صاحب کا بیان ہے: کہ حضرت، شریعت، طریقت اور حقیقت کے جامع تھے، ۔
شریعت کا احترام اس درجۂ اتم تک فرماتے کہ کوئی مستحب بھی فوت نہ ہوتا تھا، اور ہمیشہ با وضو رہتے مراتبِ طریقت اور آداب اور مجاہدوں اور ریاضتوں میں اِس قدر مصروف رہتے کہ کسی کو ہمّت نہ پڑ ہوتی تھی، کہ وہ آپ سے دُنیاوی باتیں کر سکے ۔
انکسار:
سلوک اور علم کے ان مدارج عالی پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے مزاج میں بے حد انکسار تھا، صاحبِ مناقب المحبوبین کا بیان ہے کہ: باوجود اس کمال کے اپنے آپ کو اتنا قاصر سمجھتے کہ گویا مبتدی ہیں ۔ مریدوں کی اصلاح و تربیت کی طرف بے حد توجہ فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک مرید کو لکھا ۔ اوقات کو تنظیم رکھو، تعلیم کے وقت تعلیم اور ذکر کے وقت ذکر ۔ یعنی ہر کام اپنے وقت پر کرو ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 6 جمادی الاوّل 1204ھ، مطابق جنوری 1790ء کو وفات پائی ۔ آپ کے مرشد حضرت قبلۂ عالم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا، اور آپ کی وفات کی خبر سُن کر فرمایا: " اگرمیاں نارو والہ صاحب کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو اپنے فیض سے ایک جہاں کو روشن کر دیتے " ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-noor-muhammad-narowal
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ نور محمد نارو والہ ۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ۔ حضرت قبلۂ عالم سے بیعت ہونے سے قبل تدریس کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ نے حضرت قبلۂ عال خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے چند کتبِ تصوف کا درس لیا ہے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، ریاضت و مجاہدے کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سراپا نور و حکمت، شیخِ کامل، عالمِ اکمل، جامعِ شریعت و طریقت، حضرت شیخ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا اسم نور، مرشد نور، اور ایسا نور جس نے تمام عالم میں نورانی کرنیں بکھیر دیں، دنیا جن کو آج بھی قبلۂ عالم کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ شیخ نور محمد نارو والہ علیہ الرحمہ خواجہ نور محمد مہاروی کے ممتاز ترین خلفاء میں سے تھے ۔ آپ بہت بڑے عالم اور صاحبِ حال بزرگ تھے ۔ میاں نارو والہ حضرت خواجہ نور محمد سے بیعت ہونے سے قبل درس و تدریس کی خدمت انجام دیتے تھے ۔ لیکن جب آپ سلسلۂ چشتیۂ نظامیہ میں خواجہ نور محمد سے بیعت ہوئے تو اپنے شیخ سے کچھ کتابوں کا درس لیا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ اور علم کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔
حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی فرماتے ہیں: کہ میں اور نارو والہ صاحب اور قاضی عاقل محمد اپنے شیخ خواجہ نور محمد علیہ ارلحمہ سے لوائح، سواء السبیل، اور تسنیم وغیرہ پڑھتے تھے، لیکن پڑھنے کے بعد جب اپنے مقام پر واپس آتے تو ہم اس کی تحقیق میاں نارو والہ ہی سے کرتے تھے، اگرچہ ظاہر میں یہ فیض قبلۂ عالم (خواجہ نور محمد) کا ہوتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ تمام فیض اور ادراکِ مسائل میاں نارو والہ ہی سے حاصل ہوتا تھا، وہ ہر چیز کو نہایت وضاحت سے سمجھا دیتے تھے ۔
حضرت شاہ فخرالدین دہلوی کی خدمت میں حاضری: پہلی مرتبہ جب آپ کے پیر خواجہ نور محمد آپ کو لے کر اپنے پیر حضرت شاہ فخر الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پہلی ہی نظر میں شاہ فخر نے اُن کو دیکھتے ہی فرمایا: " مارا از چشمانِ ایشاں عشق بنظر می آید " یعنی ہمیں ان کو آنکھوں میں عشق نظر آتا ہے ۔ حضرت شاہ فخر آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ میاں نارو والہ سے بوئے شکر بار آتی ہے ۔
اتباعِ شریعت:
آپ حد درجہ متبعِ شریعت تھے، ہمیشہ با وضو رہتے اور مستحبات بھی آپ سے ترک نہ ہوتے تھے، ہمیشہ ریاضتوں اور مجاہدوں میں مشغول رہتے، خیر الاذکار کے مؤلف مولوی محمد صاحب کا بیان ہے: کہ حضرت، شریعت، طریقت اور حقیقت کے جامع تھے، ۔
شریعت کا احترام اس درجۂ اتم تک فرماتے کہ کوئی مستحب بھی فوت نہ ہوتا تھا، اور ہمیشہ با وضو رہتے مراتبِ طریقت اور آداب اور مجاہدوں اور ریاضتوں میں اِس قدر مصروف رہتے کہ کسی کو ہمّت نہ پڑ ہوتی تھی، کہ وہ آپ سے دُنیاوی باتیں کر سکے ۔
انکسار:
سلوک اور علم کے ان مدارج عالی پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے مزاج میں بے حد انکسار تھا، صاحبِ مناقب المحبوبین کا بیان ہے کہ: باوجود اس کمال کے اپنے آپ کو اتنا قاصر سمجھتے کہ گویا مبتدی ہیں ۔ مریدوں کی اصلاح و تربیت کی طرف بے حد توجہ فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک مرید کو لکھا ۔ اوقات کو تنظیم رکھو، تعلیم کے وقت تعلیم اور ذکر کے وقت ذکر ۔ یعنی ہر کام اپنے وقت پر کرو ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 6 جمادی الاوّل 1204ھ، مطابق جنوری 1790ء کو وفات پائی ۔ آپ کے مرشد حضرت قبلۂ عالم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا، اور آپ کی وفات کی خبر سُن کر فرمایا: " اگرمیاں نارو والہ صاحب کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو اپنے فیض سے ایک جہاں کو روشن کر دیتے " ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-noor-muhammad-narowal
❤2
حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ عبید اللہ ۔ لقب: مظہر کلماتِ حق ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبید اللہ بن مولانا محمد قدرۃ اللہ بن مولانا محمد صالح بن مولانا محمد داؤد بن مولانا یار محمد بن مولانا گل محمد بن مولانا محمد عبدالقدوس بن مولانا محمد عبد الحق بن مولانا خدا بخش بن مولانا محمد عبد الغفور (رحمہم اللہ تعالٰی) ـ (سردلبراں:47) ـ
قبلہ مفتی محمد عبد الشکور ملتانی نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت خواجہ عبید اللہ فرمایا کرتے تھے: میری قوم " فقیر " اور اس کے ساتھ " قادری " کا اضافہ صرف اور صرف حضرت محبوبِ سجانی، شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے محبت اور ان سے نسبت قائم کرنے کی وجہ سے کرتا ہوں " ۔ (ایضاً)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1219ھ، مطابق 1804ء کو " مدینۃ الاولیاء ملتان " میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
بچپن ہی میں آپ حفظِ کلام اللہ شریف سے مشرف ہوئے، پھر ابتدائی علوم اپنے پدرِ بزرگوار سے حاصل فرمائے ۔ پدرِ بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ ملتان شریف ہی میں " درس والی مسجد " واقع دولت گیٹ میں فنافی الرسول حضرت مولانا خواجہ خدا بخش صاحب ملتانی ثم الخیر پوری کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوکر تحصیل علم کرنے لگے، پھر جب ملتان شریف پر سکھوں کا غلبہ ہوا تو آپ کے استادِ محترم خیر پور شریف ہجرت فرما گئے اور آپ کو ابھی علمِ حدیث و دیگر چند علوم میں کمال حاصل کرنا باقی تھا، چنانچہ آپ احمد پور میں حضرت خواجہ گل محمداحمد پوری علیہ الرحمہ کی خدمتِ با برکت میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ تک ان سے علمِ حدیث پڑھتے رہے ۔ یہاں آپ نے کچھ دن حضرت مولانا علی مردان اویسی رحمہ اللہ سے بھی استفادہ فرمایا ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو ئے اور خلافت سے مشرف ہو ئے ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ لیکن زیادہ انس سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے تھا اور اسی میں بیعت کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:
فانی فی اللہ، باقی باللہ، عمدۃ الاصفیاء، زبدۃ الاتقیاء، سلطان الاولیاء، مجمع البحرین، مرجع الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، قطب الواصلین، سند الکاملین، رئیس المتوکلین حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد سب علماء، صلحاء اور مقتدائے زمانہ گزرے ہیں، ۔ آپ کے آباء و اجداد کے فضل و کمال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بڑے بڑے علماء و صلحاء اپنی مجالس میں ان کے فضائل بیان فرمایا کرتے تھے ۔ سلسلۂ اویسیہ کے با کرامت بزرگ جناب صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ملتان تشریف لائے تو آپ کے والدِ بزرگوار نے ان کی دعوت کا اہتمام کیا اور اپنے نو مولود فرزند دِلبند کو اٹھا کر بغرض دُعا حضرت صاحب السّیر کی خدمت میں لے جا کر ان کے دامن مبارک میں ان کی نظر فیض اثر کے سامنے رکھ دیا ۔
اس پر حضرت صاحب السّیر علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: " مولانا قدرۃ اللہ مبارک ہو! یہ بچہ بہت سعاد ت مند ہے ۔ اس کی مبارک پیشانی سےعلم و فضل کا جو نور درخشاں دیکھتا ہوں ۔ اس کا اثر انشاء اللہ العزیز سات پشتوں تک رہے گا " ۔ (آپ کی یہ بات حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی چنانچہ آج آپ کی ساتویں پشت ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اور حسبِ سابق علم کا فیضان جاری وساری ہے جس سے تشنگانِ علوم سیراب ہو رہے ہیں اور امید ہے یہ سلسلہ آگے بھی جاری و ساری رہے گا، اور میں نے اس خانوادے سے بڑھ کر کوئی متقی و پرہیزگار نہیں دیکھا ۔ تونسوی غفرلہ) ـ
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔ ہندوستان میں فتنۂ وہابیت کے آنے کے بعد، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے پہلے بر صغیر میں جس نے عقائدِ اہلسنت کے تحفظ و دفاع اور وہابیوں کے خلاف سب سے زیادہ کتب تصنیف فرمائی ہیں، وہ آپ کی ذات گرامی ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ عبید اللہ ۔ لقب: مظہر کلماتِ حق ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبید اللہ بن مولانا محمد قدرۃ اللہ بن مولانا محمد صالح بن مولانا محمد داؤد بن مولانا یار محمد بن مولانا گل محمد بن مولانا محمد عبدالقدوس بن مولانا محمد عبد الحق بن مولانا خدا بخش بن مولانا محمد عبد الغفور (رحمہم اللہ تعالٰی) ـ (سردلبراں:47) ـ
قبلہ مفتی محمد عبد الشکور ملتانی نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت خواجہ عبید اللہ فرمایا کرتے تھے: میری قوم " فقیر " اور اس کے ساتھ " قادری " کا اضافہ صرف اور صرف حضرت محبوبِ سجانی، شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے محبت اور ان سے نسبت قائم کرنے کی وجہ سے کرتا ہوں " ۔ (ایضاً)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1219ھ، مطابق 1804ء کو " مدینۃ الاولیاء ملتان " میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
بچپن ہی میں آپ حفظِ کلام اللہ شریف سے مشرف ہوئے، پھر ابتدائی علوم اپنے پدرِ بزرگوار سے حاصل فرمائے ۔ پدرِ بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ ملتان شریف ہی میں " درس والی مسجد " واقع دولت گیٹ میں فنافی الرسول حضرت مولانا خواجہ خدا بخش صاحب ملتانی ثم الخیر پوری کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوکر تحصیل علم کرنے لگے، پھر جب ملتان شریف پر سکھوں کا غلبہ ہوا تو آپ کے استادِ محترم خیر پور شریف ہجرت فرما گئے اور آپ کو ابھی علمِ حدیث و دیگر چند علوم میں کمال حاصل کرنا باقی تھا، چنانچہ آپ احمد پور میں حضرت خواجہ گل محمداحمد پوری علیہ الرحمہ کی خدمتِ با برکت میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ تک ان سے علمِ حدیث پڑھتے رہے ۔ یہاں آپ نے کچھ دن حضرت مولانا علی مردان اویسی رحمہ اللہ سے بھی استفادہ فرمایا ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو ئے اور خلافت سے مشرف ہو ئے ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ لیکن زیادہ انس سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے تھا اور اسی میں بیعت کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:
فانی فی اللہ، باقی باللہ، عمدۃ الاصفیاء، زبدۃ الاتقیاء، سلطان الاولیاء، مجمع البحرین، مرجع الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، قطب الواصلین، سند الکاملین، رئیس المتوکلین حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد سب علماء، صلحاء اور مقتدائے زمانہ گزرے ہیں، ۔ آپ کے آباء و اجداد کے فضل و کمال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بڑے بڑے علماء و صلحاء اپنی مجالس میں ان کے فضائل بیان فرمایا کرتے تھے ۔ سلسلۂ اویسیہ کے با کرامت بزرگ جناب صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ملتان تشریف لائے تو آپ کے والدِ بزرگوار نے ان کی دعوت کا اہتمام کیا اور اپنے نو مولود فرزند دِلبند کو اٹھا کر بغرض دُعا حضرت صاحب السّیر کی خدمت میں لے جا کر ان کے دامن مبارک میں ان کی نظر فیض اثر کے سامنے رکھ دیا ۔
اس پر حضرت صاحب السّیر علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: " مولانا قدرۃ اللہ مبارک ہو! یہ بچہ بہت سعاد ت مند ہے ۔ اس کی مبارک پیشانی سےعلم و فضل کا جو نور درخشاں دیکھتا ہوں ۔ اس کا اثر انشاء اللہ العزیز سات پشتوں تک رہے گا " ۔ (آپ کی یہ بات حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی چنانچہ آج آپ کی ساتویں پشت ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اور حسبِ سابق علم کا فیضان جاری وساری ہے جس سے تشنگانِ علوم سیراب ہو رہے ہیں اور امید ہے یہ سلسلہ آگے بھی جاری و ساری رہے گا، اور میں نے اس خانوادے سے بڑھ کر کوئی متقی و پرہیزگار نہیں دیکھا ۔ تونسوی غفرلہ) ـ
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔ ہندوستان میں فتنۂ وہابیت کے آنے کے بعد، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے پہلے بر صغیر میں جس نے عقائدِ اہلسنت کے تحفظ و دفاع اور وہابیوں کے خلاف سب سے زیادہ کتب تصنیف فرمائی ہیں، وہ آپ کی ذات گرامی ہے ۔
معمولاتِ مبارکہ:
آپ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ اپنے اوقات کی بڑی حفاظت فرماتے تھے ۔ فضول کاموں، فارغ رہنے، اور فارغ رہنے والوں کو بالکل پسند نہ فرماتے ۔ آپ نے اپنے اوقات کو تقسیم کیا ہوا تھا، مثلاً درس و تدریس کا وقت، ورد و وظائف، تلاوتِ کلام اللہ شریف، تلقین و ارشاد اور تصنیف و تالیف کا وقت، ایک کام کے وقت میں دوسرا کام نہ فرماتے ۔ سونے سے پہلے آپ کے معمولاتِ شریفہ میں سورۃ الم سجدہ، سورۃ الدخان، اور سورۃ الملک کی تلاوت بھی منقول ہے ۔
یہ بھی آپ کی مستقل عادت تھی کہ نذرانہ دینے والے سے اس کا ذریعۂ معاش دریافت فرماتے، اگر اس کی آمدنی حلال سے ہوتی، بد مذہب اور سود خور نہ ہوتا تو پھر قرض کی بابت سوال فرماتے، اگر وہ مقروض ہوتا تو اس کی بھی نذر قبول نہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ خود اس کی امداد فرماتے اور دعائے خیر فرما کر اسے ادئیگی قرض کی سخت تنبیہ فرماتے کہ مجھے دینے سے بہتر ہے کہ قرض کا بوجھ اپنے سر سے اتارو ۔ اسی طرح جس مال میں یتیم کا حق ہوتا وہ بھی قبول نہ فرماتے ۔ اسی طرح ہمسایوں اور رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بھی سوال فرماتے اگر ان میں کوئی مستحقِ امداد و حاجت مند ہوتا تو پہلے اس کی امداد کا حکم فرما کر ارشاد فرماتے ـ
حق گوئی:
ایک مرتبہ ملتان کے ایک مشہور نواب ایک ھمیانی میں رقم حضور اعلیٰ کی خدمت میں لائے ۔ آپ اس وقت چار پائی پر آرام فرما تھے ۔ انہوں نے وہ ھمیانی آپ کی پائنتی کی طرف رکھ کر نذر قبول کرنے کی درخواست کی ۔ آپ نے بلا تأمل اس ھمیانی کو پاؤں مبارک سے ٹھو کر مار کر نیچے گرا دیا اور فرمایا : " غریبوں پر ظلم اور انگریز حکام کی خوشامد سے جو مال تمہیں حاصل ہوا وہ تمہارے لئے بھی حرام اور میرے لئے بھی حرام ہے، خود بھی حرام کھاتے ہو اور مجھے بھی حرام کھلاتے ہو، میں اس میں سے ذرہ بھر بھی قبول نہیں کروں گا ۔ " یہ سن کر وہ شرمندہ ہوا، اور چلا گیا ۔
روحانی کمالات:
ایک مرتبہ کسی انگریز افسر کی بکھی چلانے والا ملازم آپ علیہ الرحمہ کا غلام تھا ۔ ایک دن پریشانی کے عالم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا میاں! آج کیوں پریشان ہو؟ عرض کی حضور! میرا افسر کہتا ہے جو مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کرائےگا اسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، چنانچہ وہ لے آیا تو حاضر ہونے پر آپ نے اس کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہی شخص ہے جو اپنے اسلام کو حق تعالیٰ جل شانہ کی زیارت سے مشروط کرتا ہے؟ تو آپ کے محض اشارہ فرمانے پر ہی وہ بے خود ہو کر لوٹ پوٹ ہونے لگا، کافی دیر بعد جب ہوش میں آیا تو فوراً آپ کی قدموں میں گرکر مشرف بہ اسلام ہو گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول، 1305ھ، مطابق 20 جنوری 1888ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار، نزد سول ہسپتال ملتان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عباد الرحمن ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ سرد لبراں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ubaidullah-multani-chishti
آپ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ اپنے اوقات کی بڑی حفاظت فرماتے تھے ۔ فضول کاموں، فارغ رہنے، اور فارغ رہنے والوں کو بالکل پسند نہ فرماتے ۔ آپ نے اپنے اوقات کو تقسیم کیا ہوا تھا، مثلاً درس و تدریس کا وقت، ورد و وظائف، تلاوتِ کلام اللہ شریف، تلقین و ارشاد اور تصنیف و تالیف کا وقت، ایک کام کے وقت میں دوسرا کام نہ فرماتے ۔ سونے سے پہلے آپ کے معمولاتِ شریفہ میں سورۃ الم سجدہ، سورۃ الدخان، اور سورۃ الملک کی تلاوت بھی منقول ہے ۔
یہ بھی آپ کی مستقل عادت تھی کہ نذرانہ دینے والے سے اس کا ذریعۂ معاش دریافت فرماتے، اگر اس کی آمدنی حلال سے ہوتی، بد مذہب اور سود خور نہ ہوتا تو پھر قرض کی بابت سوال فرماتے، اگر وہ مقروض ہوتا تو اس کی بھی نذر قبول نہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ خود اس کی امداد فرماتے اور دعائے خیر فرما کر اسے ادئیگی قرض کی سخت تنبیہ فرماتے کہ مجھے دینے سے بہتر ہے کہ قرض کا بوجھ اپنے سر سے اتارو ۔ اسی طرح جس مال میں یتیم کا حق ہوتا وہ بھی قبول نہ فرماتے ۔ اسی طرح ہمسایوں اور رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بھی سوال فرماتے اگر ان میں کوئی مستحقِ امداد و حاجت مند ہوتا تو پہلے اس کی امداد کا حکم فرما کر ارشاد فرماتے ـ
حق گوئی:
ایک مرتبہ ملتان کے ایک مشہور نواب ایک ھمیانی میں رقم حضور اعلیٰ کی خدمت میں لائے ۔ آپ اس وقت چار پائی پر آرام فرما تھے ۔ انہوں نے وہ ھمیانی آپ کی پائنتی کی طرف رکھ کر نذر قبول کرنے کی درخواست کی ۔ آپ نے بلا تأمل اس ھمیانی کو پاؤں مبارک سے ٹھو کر مار کر نیچے گرا دیا اور فرمایا : " غریبوں پر ظلم اور انگریز حکام کی خوشامد سے جو مال تمہیں حاصل ہوا وہ تمہارے لئے بھی حرام اور میرے لئے بھی حرام ہے، خود بھی حرام کھاتے ہو اور مجھے بھی حرام کھلاتے ہو، میں اس میں سے ذرہ بھر بھی قبول نہیں کروں گا ۔ " یہ سن کر وہ شرمندہ ہوا، اور چلا گیا ۔
روحانی کمالات:
ایک مرتبہ کسی انگریز افسر کی بکھی چلانے والا ملازم آپ علیہ الرحمہ کا غلام تھا ۔ ایک دن پریشانی کے عالم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا میاں! آج کیوں پریشان ہو؟ عرض کی حضور! میرا افسر کہتا ہے جو مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کرائےگا اسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، چنانچہ وہ لے آیا تو حاضر ہونے پر آپ نے اس کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہی شخص ہے جو اپنے اسلام کو حق تعالیٰ جل شانہ کی زیارت سے مشروط کرتا ہے؟ تو آپ کے محض اشارہ فرمانے پر ہی وہ بے خود ہو کر لوٹ پوٹ ہونے لگا، کافی دیر بعد جب ہوش میں آیا تو فوراً آپ کی قدموں میں گرکر مشرف بہ اسلام ہو گیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول، 1305ھ، مطابق 20 جنوری 1888ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار، نزد سول ہسپتال ملتان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عباد الرحمن ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ سرد لبراں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ubaidullah-multani-chishti
❤2
حضرت پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔
آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔
وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ
بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔
آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ
تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔
وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ
بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
❤3
سیرت و خصائص:
سراج الملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، محسنِ ملک و ملت، جامع شریعت و طریقت، عالم و عارف، حضرت علامہ مولانا پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔
آپ امیر ملت، ابو العرب، حضرت سید پیر جماعت علی محدث علی پوری کے جانشینِ برحق، اور علوم و معارف کے وارثِ اکمل اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ نے جوانی میں ہی خدمتِ اسلام میں متحرک ہو گئے تھے ۔ پوری زندگی والدِ گرامی کی تعلیمات اور ان کے مشن کی ترویج و اشاعت میں گزار دی ۔ بیس سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل مکمل ہو گئی، اور فراغت کے بعد ہی خدمتِ دین میں مصروف ہو گئے ۔ حضرت امیر ملت نے علی پور شریف میں ’’ مدرسہ نقشبندیہ ‘‘ قائم کیا، اور آپ کو اس مہتمم مقرر کیا گیا ۔ آپ مدرسہ کے انتظام و انتصرام کے علاوہ طلباء کو علوم و فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے تھے ۔ عربی و فارسی پر آپ کو مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی۔ تحریر و تقریر میں اہلِ زبان کی طرح یدِ طُولیٰ حاصل تھا ۔ تمام عمر کبھی بول چال میں رکاوٹ نہ آئی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت پر بڑے بڑے علماء و فضلاء کو حیران ہو جاتے تھے، اور وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوتے تھے ۔
آپ عالم، فاضل، پیر، ادیب اور حکیم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مناظر بھی تھے ۔ آپ کو اکثر تحریری مناظروں کے مواقع ملے ۔ آپ نے مخالفین کی تحریروں میں ہمیشہ غلطیاں نکالیں، جس کی وہ کبھی توجیہ و تاویل نہ کر سکے، مگر آپ کی تحریر میں اُن کو نکتہ چینی اور خوردہ گیری کی جراْت نہ ہوئی ۔ آپ نے بار ہا چیلنج بھی کیا مگر معاندین کو چُپ سادھ لینے ہی میں عافیت نظر آئی ۔ ہر محاظ پر مسلکِ حق کا ہر لحاظ سے دفاع کیا ۔ جامعہ ازہر کے ایک استاد علی پور میں آئے، انہوں نے مسلکِ احناف پر اعتراض کیا ۔ تین دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا ۔ بالآخر وہ مصری عالم حنفی مسلک کی صحت کا قائل ہو گیا ۔ اسی طرح آپ کے فصیح و بلیغ عربی تکلم پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا ۔ (ایضا:529)
آپ کو کتابوں کی خریداری کا بہت شوق تھا ۔ جب حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے جاتے تو نایاب کتب خرید کر لاتے ۔ آپ ہزاروں روپے صَرف کرکے عربی کتب خرید کر لائے ۔ آپ کے اس ذوق و شوق کی حضرت امیر ملّت قدس سرّہ بڑی قدر فرمایا کرتے تھے ۔ کئی بار تحسین و آفرین کے کلمات ارشاد فرمائے ۔ ایک بار فرمایا کہ: ’’ لوگ ایسے تبرکات خریدتے ہیں جو فنا ہو جاتے ہیں صاحبزادہ نے ایسی چیزیں خریدیں ہیں جن کو بقاہے ‘‘ ۔ آپ کو فتویٰ نویسی میں خاص مہارت حاصل تھی ۔ آپ مشکل سے مشکل مسائل پر قلم برداشتہ فتویٰ لکھ دیتے تھے۔ حدیث و فقہ کی کتابوں پر ایسا عبور حاصل تھا کہ آپ کے فتوے قوی اور مضبوط دلائل اور حوالہ جات سے مزیّن ہوتے تھے، علم و فرائض بہت مشکل چیز ہے مگر آپ کو اس میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ میراث کے مسائل کا جواب برجستہ دیتے اور ترکہ کی تقسیم کے معاملات مدلّل طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوراً حل فرما دیتے تھے ۔ آپ جتنے جلیل القدر عالم تھے، اُتنے ہی پابندئِ شریعت اور اتباع سنّت کے عامل تھے ۔ شبِ بیداری، تہجد گزاری اور آہ وزاری تو اُن کا معمول تھا۔ عشقِ رسول ﷺ تو رگ رگ میں سمایا ہوا تھا ۔ ذکرِ مصطفےٰ ﷺ اور نعت شریف سُنتے ہوئے جُھوم تے تھے، اور یادِ مصطفیٰ ﷺ میں آنکھیں اشک بار ہو جایا کرتیں تھیں ۔
تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات:
آپ نے حضرت امیرِ ملّت قدس سرّہ کی زیر قیادت تمام دینی، ملّی، مذہبی، اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصّہ لیا ۔ انجمن خدّام الصوفیہ، فتنۂ ارتداد، تحریک خلافت، ساردا ایکٹ، تحریک کشمیر، تحریک شہید گنج، تحریکِ پاکستان اور دیگر تحریکوں میں بھرپُور کردار ادا کیا ۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں عرصہ تک آگرہ میں رونق افروز رہے اور ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کرکے ہندوؤں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا ۔ تحریک شہید گنج میں بڑی جانفشانی سے کام کیا ۔ تحریک پاکستان کا دور آیا تو حضرت امیر ملّت قدس سرہ اپنے صاحبزادوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے ۔ حضرت سراج الملت نے رات دن ایک کرکے مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں یارانِ طریقت اور عامۃ المسلمین کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنایا ۔ 1946ء کے تاریخی الیکشن میں ضلع رہتک (حال مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مسلم لیگی امید واروں کی حمایت میں دل کھول کر کام کیا پھر فیروز پور میں نواب افتخار حسین ممدوٹ کے حلقہ میں اس خوبی سے کام کیا کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔ بعد ازاں قصور میں بھی میاں افتخار الدین کے حلقہ میں بھرپور کام کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ آپ کے تینوں اُمیدوار غالب اکثریت سے کامیاب و کامران ہوئے ۔
سراج الملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، محسنِ ملک و ملت، جامع شریعت و طریقت، عالم و عارف، حضرت علامہ مولانا پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔
آپ امیر ملت، ابو العرب، حضرت سید پیر جماعت علی محدث علی پوری کے جانشینِ برحق، اور علوم و معارف کے وارثِ اکمل اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ نے جوانی میں ہی خدمتِ اسلام میں متحرک ہو گئے تھے ۔ پوری زندگی والدِ گرامی کی تعلیمات اور ان کے مشن کی ترویج و اشاعت میں گزار دی ۔ بیس سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل مکمل ہو گئی، اور فراغت کے بعد ہی خدمتِ دین میں مصروف ہو گئے ۔ حضرت امیر ملت نے علی پور شریف میں ’’ مدرسہ نقشبندیہ ‘‘ قائم کیا، اور آپ کو اس مہتمم مقرر کیا گیا ۔ آپ مدرسہ کے انتظام و انتصرام کے علاوہ طلباء کو علوم و فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے تھے ۔ عربی و فارسی پر آپ کو مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی۔ تحریر و تقریر میں اہلِ زبان کی طرح یدِ طُولیٰ حاصل تھا ۔ تمام عمر کبھی بول چال میں رکاوٹ نہ آئی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت پر بڑے بڑے علماء و فضلاء کو حیران ہو جاتے تھے، اور وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوتے تھے ۔
آپ عالم، فاضل، پیر، ادیب اور حکیم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مناظر بھی تھے ۔ آپ کو اکثر تحریری مناظروں کے مواقع ملے ۔ آپ نے مخالفین کی تحریروں میں ہمیشہ غلطیاں نکالیں، جس کی وہ کبھی توجیہ و تاویل نہ کر سکے، مگر آپ کی تحریر میں اُن کو نکتہ چینی اور خوردہ گیری کی جراْت نہ ہوئی ۔ آپ نے بار ہا چیلنج بھی کیا مگر معاندین کو چُپ سادھ لینے ہی میں عافیت نظر آئی ۔ ہر محاظ پر مسلکِ حق کا ہر لحاظ سے دفاع کیا ۔ جامعہ ازہر کے ایک استاد علی پور میں آئے، انہوں نے مسلکِ احناف پر اعتراض کیا ۔ تین دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا ۔ بالآخر وہ مصری عالم حنفی مسلک کی صحت کا قائل ہو گیا ۔ اسی طرح آپ کے فصیح و بلیغ عربی تکلم پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا ۔ (ایضا:529)
آپ کو کتابوں کی خریداری کا بہت شوق تھا ۔ جب حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے جاتے تو نایاب کتب خرید کر لاتے ۔ آپ ہزاروں روپے صَرف کرکے عربی کتب خرید کر لائے ۔ آپ کے اس ذوق و شوق کی حضرت امیر ملّت قدس سرّہ بڑی قدر فرمایا کرتے تھے ۔ کئی بار تحسین و آفرین کے کلمات ارشاد فرمائے ۔ ایک بار فرمایا کہ: ’’ لوگ ایسے تبرکات خریدتے ہیں جو فنا ہو جاتے ہیں صاحبزادہ نے ایسی چیزیں خریدیں ہیں جن کو بقاہے ‘‘ ۔ آپ کو فتویٰ نویسی میں خاص مہارت حاصل تھی ۔ آپ مشکل سے مشکل مسائل پر قلم برداشتہ فتویٰ لکھ دیتے تھے۔ حدیث و فقہ کی کتابوں پر ایسا عبور حاصل تھا کہ آپ کے فتوے قوی اور مضبوط دلائل اور حوالہ جات سے مزیّن ہوتے تھے، علم و فرائض بہت مشکل چیز ہے مگر آپ کو اس میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ میراث کے مسائل کا جواب برجستہ دیتے اور ترکہ کی تقسیم کے معاملات مدلّل طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوراً حل فرما دیتے تھے ۔ آپ جتنے جلیل القدر عالم تھے، اُتنے ہی پابندئِ شریعت اور اتباع سنّت کے عامل تھے ۔ شبِ بیداری، تہجد گزاری اور آہ وزاری تو اُن کا معمول تھا۔ عشقِ رسول ﷺ تو رگ رگ میں سمایا ہوا تھا ۔ ذکرِ مصطفےٰ ﷺ اور نعت شریف سُنتے ہوئے جُھوم تے تھے، اور یادِ مصطفیٰ ﷺ میں آنکھیں اشک بار ہو جایا کرتیں تھیں ۔
تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات:
آپ نے حضرت امیرِ ملّت قدس سرّہ کی زیر قیادت تمام دینی، ملّی، مذہبی، اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصّہ لیا ۔ انجمن خدّام الصوفیہ، فتنۂ ارتداد، تحریک خلافت، ساردا ایکٹ، تحریک کشمیر، تحریک شہید گنج، تحریکِ پاکستان اور دیگر تحریکوں میں بھرپُور کردار ادا کیا ۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں عرصہ تک آگرہ میں رونق افروز رہے اور ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کرکے ہندوؤں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا ۔ تحریک شہید گنج میں بڑی جانفشانی سے کام کیا ۔ تحریک پاکستان کا دور آیا تو حضرت امیر ملّت قدس سرہ اپنے صاحبزادوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے ۔ حضرت سراج الملت نے رات دن ایک کرکے مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں یارانِ طریقت اور عامۃ المسلمین کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنایا ۔ 1946ء کے تاریخی الیکشن میں ضلع رہتک (حال مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مسلم لیگی امید واروں کی حمایت میں دل کھول کر کام کیا پھر فیروز پور میں نواب افتخار حسین ممدوٹ کے حلقہ میں اس خوبی سے کام کیا کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔ بعد ازاں قصور میں بھی میاں افتخار الدین کے حلقہ میں بھرپور کام کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ آپ کے تینوں اُمیدوار غالب اکثریت سے کامیاب و کامران ہوئے ۔
❤2
قائدِ اعظم محمد علی جناح کو تمغہ پہنایا: جب 24 نومبر 1945ء کو حضرت پیر امین الحسنات المعروف پیر صاحب مانکی شریف نے مانکی شریف میں حضرت قائدِ اعظم کی ایک شاندار دعوت کی تو ایک عدیم المثال جلسۂ عام کا انعقاد بھی کیا ۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ کی خدمت میں جلسہ کی صدارت کے لیے درخواست کی گئی مگر حضرت ناسازیِ طبع کے باعث تشریف نہ لے جا سکے اور اپنی جگہ حضرت سراج الملت کو قائدِ اعظم کے لیے سونے کا ایک تمغہ، تین سو روپے کی ایک تھیلی اور کئی دوسرے تحائف دے کر بھیجا ۔
پیر صاحب مانکی شریف نے حضرت سراج الملّت کی بڑی عزّت افزائی کی اور جلسہ کی صدارت آپ کے سپرد کی ۔ جب قائدِ اعظم جلسہ گاہ میں آئے تو حضرت سراج الملّت آگے بڑھے اور سونے کا تمغہ (جس پر کلمہِ طیّبہ کندہ تھا) قائدِ اعظم کی طرف بڑھاتے ہُوئے کہا کہ: ’’ میرے والد ماجد (حضرت امیر ملّت) نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ‘‘ ۔ یہ سُن کر قائدِ اعظم بہت خوش ہُوئے، کُرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہا: ’’ پھر تو میں کامیاب ہُوں، آپ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجیے ‘‘ ۔(ایضا:532) ـ
آپ بھی حضرت امیر ملت کی طرح بڑے سخی اور جوّاد تھے ۔ یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے تھے ۔ مدرسہ کے طلباء کی ہر قسم کی ضروریات کا اہتمام فرماتے ۔ ان تمام کاموں پر جو روپیہ صَرف ہوتا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہ ہوتا ۔
ایک دفعہ آپ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی معیّت میں حج بیت اللہ و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کے لیے گئے ہُوئے تھے ۔ مدینہ منوّرہ میں ایک دن حضرت امیر ملّت ﷺ نے قطبِ مدینہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے صاحبزادہ سے ملاقات کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! مُلاقات ہوئی مَیں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا ہُوں ۔ وہ بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ آپ کے صحیح جانشین ہوں گے ۔حضرت امیر ملت نے فرمایا: ’’ مولانا صاحب! بعض باتوں میں وہ مجھ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو لوگ ایک کے چار کر کے بتاتے ہیں، مگر وہ دائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہونے دیتا ‘‘ ۔ (ایضا: 532)
آپ خوارک بہت سادہ پسند فرماتے تھے، اُبلے ہوئے چاول اور سادہ گوشت بہت پسند فرماتے تھے ۔ سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق لوکی خصوصی طور پر مرغوب تھا ۔ آپ کا لباس سفید ہوتا تھا، کُرتہ بہت کُھلا (اکثر و بیشتر چکن کا کپڑا استعمال فرماتے تھے) سفر میں سفید شلوار حضر میں سفید چادر، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں کھسّہ، ہاتھ میں عصا ۔ آپ والد گرامی کے مظہر اُتم تھے ۔ چہرہ پُر نور، جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا ۔ گفتگو فقیروں جیسی، چال شہنشاہوں جیسی، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ سخاوت میں اپنے وقت کے حاتم طائی تھے ۔ آخیر عمر میں بصارت میں فرق آ گیا تھا مگر صحت قابلِ رشک تھی ۔ تہجّد کی نماز کبھی قضا نہیں کی ۔
آخیر عمر میں رات کا اکثر و بیشتر حصّہ بیدار رہتے تھے ۔ عموماً نصف رات مطالعہ کتب اور حل مسائل میں صرف ہوتا تھا ۔ بعد ازاں تھوڑا سا لیٹ کر تہجّد پڑھتے تھے ۔ صبح کی نماز کے بعد طلباء کو درسِ قرآن دیتے تھے ۔ آپ تقریر و تدریس کے علاوہ میدانِ تحریر کے بھی شاہسوار تھے ۔ ماہنامہ ’’ انوار الصوفیہ ‘‘ (لاہور، سیال کوٹ، قصور) میں آپ کے گران قدر مضامین زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر علماء و فضلاء سے خراجِ تحسین حاصل کرتے رہے ۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’ افضل الرُسل ‘‘ کئی بار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر جامعیت اور انفرادیّت کے لحاظ سے اپنی عظمت کا لوہا منوا چکی ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1381ھ مطابق 16 اکتوبر بروز پیر بوقت ساڑھے پانچ بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ علی پور سیداں میں حضرت امیر ملت کے پہلو میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hussain-shah-ali-puri
پیر صاحب مانکی شریف نے حضرت سراج الملّت کی بڑی عزّت افزائی کی اور جلسہ کی صدارت آپ کے سپرد کی ۔ جب قائدِ اعظم جلسہ گاہ میں آئے تو حضرت سراج الملّت آگے بڑھے اور سونے کا تمغہ (جس پر کلمہِ طیّبہ کندہ تھا) قائدِ اعظم کی طرف بڑھاتے ہُوئے کہا کہ: ’’ میرے والد ماجد (حضرت امیر ملّت) نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ‘‘ ۔ یہ سُن کر قائدِ اعظم بہت خوش ہُوئے، کُرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہا: ’’ پھر تو میں کامیاب ہُوں، آپ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجیے ‘‘ ۔(ایضا:532) ـ
آپ بھی حضرت امیر ملت کی طرح بڑے سخی اور جوّاد تھے ۔ یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے تھے ۔ مدرسہ کے طلباء کی ہر قسم کی ضروریات کا اہتمام فرماتے ۔ ان تمام کاموں پر جو روپیہ صَرف ہوتا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہ ہوتا ۔
ایک دفعہ آپ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی معیّت میں حج بیت اللہ و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کے لیے گئے ہُوئے تھے ۔ مدینہ منوّرہ میں ایک دن حضرت امیر ملّت ﷺ نے قطبِ مدینہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی سے دریافت کیا کہ ’’ آپ نے صاحبزادہ سے ملاقات کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! مُلاقات ہوئی مَیں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا ہُوں ۔ وہ بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ آپ کے صحیح جانشین ہوں گے ۔حضرت امیر ملت نے فرمایا: ’’ مولانا صاحب! بعض باتوں میں وہ مجھ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو لوگ ایک کے چار کر کے بتاتے ہیں، مگر وہ دائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہونے دیتا ‘‘ ۔ (ایضا: 532)
آپ خوارک بہت سادہ پسند فرماتے تھے، اُبلے ہوئے چاول اور سادہ گوشت بہت پسند فرماتے تھے ۔ سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق لوکی خصوصی طور پر مرغوب تھا ۔ آپ کا لباس سفید ہوتا تھا، کُرتہ بہت کُھلا (اکثر و بیشتر چکن کا کپڑا استعمال فرماتے تھے) سفر میں سفید شلوار حضر میں سفید چادر، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں کھسّہ، ہاتھ میں عصا ۔ آپ والد گرامی کے مظہر اُتم تھے ۔ چہرہ پُر نور، جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا ۔ گفتگو فقیروں جیسی، چال شہنشاہوں جیسی، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ سخاوت میں اپنے وقت کے حاتم طائی تھے ۔ آخیر عمر میں بصارت میں فرق آ گیا تھا مگر صحت قابلِ رشک تھی ۔ تہجّد کی نماز کبھی قضا نہیں کی ۔
آخیر عمر میں رات کا اکثر و بیشتر حصّہ بیدار رہتے تھے ۔ عموماً نصف رات مطالعہ کتب اور حل مسائل میں صرف ہوتا تھا ۔ بعد ازاں تھوڑا سا لیٹ کر تہجّد پڑھتے تھے ۔ صبح کی نماز کے بعد طلباء کو درسِ قرآن دیتے تھے ۔ آپ تقریر و تدریس کے علاوہ میدانِ تحریر کے بھی شاہسوار تھے ۔ ماہنامہ ’’ انوار الصوفیہ ‘‘ (لاہور، سیال کوٹ، قصور) میں آپ کے گران قدر مضامین زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر علماء و فضلاء سے خراجِ تحسین حاصل کرتے رہے ۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’ افضل الرُسل ‘‘ کئی بار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر جامعیت اور انفرادیّت کے لحاظ سے اپنی عظمت کا لوہا منوا چکی ہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1381ھ مطابق 16 اکتوبر بروز پیر بوقت ساڑھے پانچ بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ علی پور سیداں میں حضرت امیر ملت کے پہلو میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہل سنت ۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔ از مولانا محمد صادق قصوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hussain-shah-ali-puri
scholars.pk
Hazrat Syed Muhammad Hussain Shah Ali Puri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید حمزہ علی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
موت العالم موت العالم
اہلسنّت کی عظیم علمی و روحانی شخصیت پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید حمزہ علی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بروز بدھ بعد نمازِ عصر مورخہ 06 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بمطابق 24 جنوری 2018ء اس دارِ فانی سے انتقال فرماگئے ۔
حضرت کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ ظہر دار العلوم امجدیہ کے قریب عالمگیر چورنگی پر آپ کے پیر زادے حضرت علامہ قاضی سید عبد الاحد رشیدی قدیری صاحب زید مجدہ نے پڑھائی، جس میں انجمن ضیائے طیبہ کے بانی، چئیرمین، سرپرستِ اعلیٰ اور دیگر اراکین و عملہ نے بھی شرکت کی سعادت حاصل کی ۔
دعا ہے اللہ پاک حضرت قبلہ کی بخشش و مغفرت فرما کر بلند درجات عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں ابدی ٹھکانہ بنائے اور اہل خانہ و دیگر لواحقین مریدین محبین کو صبر جمیل اور حضرت قبلہ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے ۔ (آمین بجاہ النبی الامین ﷺ) ـ
انا للہ وانا الیہ راجعون
چل دیے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر
رنج فرقت کا ہر اک سینہ میں شعلہ چھوڑ کر
موت عالِم سے بندھی ہے موت عالَم بے گماں
روح عالَم چل دیا عالَم کو مردہ چھوڑ کر
(از: تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان بریلوی مد ظلہ العالی)
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-allama-molana-syed-hamza-ali-qadri
موت العالم موت العالم
اہلسنّت کی عظیم علمی و روحانی شخصیت پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید حمزہ علی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بروز بدھ بعد نمازِ عصر مورخہ 06 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بمطابق 24 جنوری 2018ء اس دارِ فانی سے انتقال فرماگئے ۔
حضرت کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ ظہر دار العلوم امجدیہ کے قریب عالمگیر چورنگی پر آپ کے پیر زادے حضرت علامہ قاضی سید عبد الاحد رشیدی قدیری صاحب زید مجدہ نے پڑھائی، جس میں انجمن ضیائے طیبہ کے بانی، چئیرمین، سرپرستِ اعلیٰ اور دیگر اراکین و عملہ نے بھی شرکت کی سعادت حاصل کی ۔
دعا ہے اللہ پاک حضرت قبلہ کی بخشش و مغفرت فرما کر بلند درجات عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں ابدی ٹھکانہ بنائے اور اہل خانہ و دیگر لواحقین مریدین محبین کو صبر جمیل اور حضرت قبلہ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے ۔ (آمین بجاہ النبی الامین ﷺ) ـ
انا للہ وانا الیہ راجعون
چل دیے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر
رنج فرقت کا ہر اک سینہ میں شعلہ چھوڑ کر
موت عالِم سے بندھی ہے موت عالَم بے گماں
روح عالَم چل دیا عالَم کو مردہ چھوڑ کر
(از: تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان بریلوی مد ظلہ العالی)
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-allama-molana-syed-hamza-ali-qadri
❤2