🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ ۔ کانپور میں مستقل اقامت کی وجہ سے " کانپوری " کہلاتے ہیں ۔

مولد و موطن:
آپ کا تعلق " بہاولپور " پنجاب سے تھا ۔ شیخ المدرسین حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تحصیلِ علم کی غرض سے کانپور حاضر ہوئے، اور پھروہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ساری عمر دینِ متین خدمت کرتے رہے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری قدس سرہ کے درس کا شہرہ سن کر کانپور آئے، اور اخذ علوم کیا ۔ آپ اُستاذِ زمن کی درسگاہ سے فارغ ہونے والی پہلی جماعتِ علماء میں ممتاز تھے ۔

سیرت و خصائص:
فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، استاذ العلماء والفضلاء، سند الاتقیاء، حامیِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، ماحیِ بدعت، غیظ الوہابیین، حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مدرسین میں ہوتا تھا ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان استاذ العلماء مولانا شاہ مشتاق احمد کانپوری اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا نثار احمد مفتی آگرہ کی کی تعلیم و تربیت آپ کی سپرد کی تھی ۔ آپ کادرس استاذِ زمن کے درس کا کامل نمونہ ہوا کرتا تھا ۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سنت توسنت استحباب کا بھی خاص التزام تھا ۔ آپ کی مجلس اور درس کایہ فیض تھا جو شریکِ درس ہوتا وہ بھی پیکرِ صدق و صفا بن جاتا تھا ۔

مولانا محمود احمد قادری فرماتے ہیں: " یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر بنائے تصلبِ مذہبی، غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مسجد میں داخل ہونے پر دریوں سمیت مسجد کی دُھلائی کی ابتداء آپ ہی نے فرمائی تھی ۔ مسجد صوبے دار واقع اُرسلا ہسپتال کانپور جس میں آپ امام و خطیب تھے ۔ اس کا متولی غالی دیوبندی تھا ۔ مگر کبھی اس کو مسجد میں آنے کی جرأت نہ ہوئی، کیونکہ وہ بھی آپ کے ورع وتقویٰ سے مرعوب تھا " ۔ یعنی آپ کا سیرت و کردار ایسا بے داغ تھا کہ کسی بدمذہب کو بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آپ ہمہ وقت درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ۔ کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جس میں مسلکِ اہلسنت کی بقاء مضمر ہے ۔ آپ پیری مریدی نہیں کرتے تھے ۔ ساری زندگی کسی کو مرید نہیں کیا ۔ حالانکہ آپ کو خلافت حاصل تھی ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1343ھ، مطابق دسمبر 1924ء کو ہوا ۔ کانپور کے بساطی قبرستان میں مدفون ہیں ۔

فائدہ:
امینِ شریعت، بدر الاصفیاء حضرت شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ خصوصی طور پر آپ کے عرس میں شریک ہوتے تھے ۔ عرس کا تبرک یہ کہہ کر تقسیم فرماتے: " لو کھاؤ اس سے ایمان میں استحکام اور زیادتی نصیب ہوگی " ۔ آپ نے تجرد میں زندگی بسر فرمائی ۔ ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری (صاحبِ حیاتِ اعلیٰ حضرت) نے " ہدایہ آخرین " آپ سے پڑھی تھی ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ubaidullah-kanpuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شیخ نور محمد نارو والہ ۔

تحصیلِ علم:
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ۔ حضرت قبلۂ عالم سے بیعت ہونے سے قبل تدریس کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ نے حضرت قبلۂ عال خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے چند کتبِ تصوف کا درس لیا ہے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، ریاضت و مجاہدے کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
سراپا نور و حکمت، شیخِ کامل، عالمِ اکمل، جامعِ شریعت و طریقت، حضرت شیخ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا اسم نور، مرشد نور، اور ایسا نور جس نے تمام عالم میں نورانی کرنیں بکھیر دیں، دنیا جن کو آج بھی قبلۂ عالم کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ شیخ نور محمد نارو والہ علیہ الرحمہ خواجہ نور محمد مہاروی کے ممتاز ترین خلفاء میں سے تھے ۔ آپ بہت بڑے عالم اور صاحبِ حال بزرگ تھے ۔ میاں نارو والہ حضرت خواجہ نور محمد سے بیعت ہونے سے قبل درس و تدریس کی خدمت انجام دیتے تھے ۔ لیکن جب آپ سلسلۂ چشتیۂ نظامیہ میں خواجہ نور محمد سے بیعت ہوئے تو اپنے شیخ سے کچھ کتابوں کا درس لیا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ اور علم کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔

حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی فرماتے ہیں: کہ میں اور نارو والہ صاحب اور قاضی عاقل محمد اپنے شیخ خواجہ نور محمد علیہ ارلحمہ سے لوائح، سواء السبیل، اور تسنیم وغیرہ پڑھتے تھے، لیکن پڑھنے کے بعد جب اپنے مقام پر واپس آتے تو ہم اس کی تحقیق میاں نارو والہ ہی سے کرتے تھے، اگرچہ ظاہر میں یہ فیض قبلۂ عالم (خواجہ نور محمد) کا ہوتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ تمام فیض اور ادراکِ مسائل میاں نارو والہ ہی سے حاصل ہوتا تھا، وہ ہر چیز کو نہایت وضاحت سے سمجھا دیتے تھے ۔

حضرت شاہ فخرالدین دہلوی کی خدمت میں حاضری: پہلی مرتبہ جب آپ کے پیر خواجہ نور محمد آپ کو لے کر اپنے پیر حضرت شاہ فخر الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پہلی ہی نظر میں شاہ فخر نے اُن کو دیکھتے ہی فرمایا: " مارا از چشمانِ ایشاں عشق بنظر می آید " یعنی ہمیں ان کو آنکھوں میں عشق نظر آتا ہے ۔ حضرت شاہ فخر آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ میاں نارو والہ سے بوئے شکر بار آتی ہے ۔

اتباعِ شریعت:
آپ حد درجہ متبعِ شریعت تھے، ہمیشہ با وضو رہتے اور مستحبات بھی آپ سے ترک نہ ہوتے تھے، ہمیشہ ریاضتوں اور مجاہدوں میں مشغول رہتے، خیر الاذکار کے مؤلف مولوی محمد صاحب کا بیان ہے: کہ حضرت، شریعت، طریقت اور حقیقت کے جامع تھے، ۔

شریعت کا احترام اس درجۂ اتم تک فرماتے کہ کوئی مستحب بھی فوت نہ ہوتا تھا، اور ہمیشہ با وضو رہتے مراتبِ طریقت اور آداب اور مجاہدوں اور ریاضتوں میں اِس قدر مصروف رہتے کہ کسی کو ہمّت نہ پڑ ہوتی تھی، کہ وہ آپ سے دُنیاوی باتیں کر سکے ۔

انکسار:
سلوک اور علم کے ان مدارج عالی پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے مزاج میں بے حد انکسار تھا، صاحبِ مناقب المحبوبین کا بیان ہے کہ: باوجود اس کمال کے اپنے آپ کو اتنا قاصر سمجھتے کہ گویا مبتدی ہیں ۔ مریدوں کی اصلاح و تربیت کی طرف بے حد توجہ فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک مرید کو لکھا ۔ اوقات کو تنظیم رکھو، تعلیم کے وقت تعلیم اور ذکر کے وقت ذکر ۔ یعنی ہر کام اپنے وقت پر کرو ۔

تاریخِ وصال:
آپ نے 6 جمادی الاوّل 1204ھ، مطابق جنوری 1790ء کو وفات پائی ۔ آپ کے مرشد حضرت قبلۂ عالم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا، اور آپ کی وفات کی خبر سُن کر فرمایا: " اگرمیاں نارو والہ صاحب کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو اپنے فیض سے ایک جہاں کو روشن کر دیتے " ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-noor-muhammad-narowal
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
خواجہ عبید اللہ ۔ لقب: مظہر کلماتِ حق ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا عبید اللہ بن مولانا محمد قدرۃ اللہ بن مولانا محمد صالح بن مولانا محمد داؤد بن مولانا یار محمد بن مولانا گل محمد بن مولانا محمد عبدالقدوس بن مولانا محمد عبد الحق بن مولانا خدا بخش بن مولانا محمد عبد الغفور (رحمہم اللہ تعالٰی) ـ (سردلبراں:47) ـ

قبلہ مفتی محمد عبد الشکور ملتانی نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت خواجہ عبید اللہ فرمایا کرتے تھے: میری قوم " فقیر " اور اس کے ساتھ " قادری " کا اضافہ صرف اور صرف حضرت محبوبِ سجانی، شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے محبت اور ان سے نسبت قائم کرنے کی وجہ سے کرتا ہوں " ۔ (ایضاً)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1219ھ، مطابق 1804ء کو " مدینۃ الاولیاء ملتان " میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
بچپن ہی میں آپ حفظِ کلام اللہ شریف سے مشرف ہوئے، پھر ابتدائی علوم اپنے پدرِ بزرگوار سے حاصل فرمائے ۔ پدرِ بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ ملتان شریف ہی میں " درس والی مسجد " واقع دولت گیٹ میں فنافی الرسول حضرت مولانا خواجہ خدا بخش صاحب ملتانی ثم الخیر پوری کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوکر تحصیل علم کرنے لگے، پھر جب ملتان شریف پر سکھوں کا غلبہ ہوا تو آپ کے استادِ محترم خیر پور شریف ہجرت فرما گئے اور آپ کو ابھی علمِ حدیث و دیگر چند علوم میں کمال حاصل کرنا باقی تھا، چنانچہ آپ احمد پور میں حضرت خواجہ گل محمداحمد پوری علیہ الرحمہ کی خدمتِ با برکت میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ تک ان سے علمِ حدیث پڑھتے رہے ۔ یہاں آپ نے کچھ دن حضرت مولانا علی مردان اویسی رحمہ اللہ سے بھی استفادہ فرمایا ۔

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو ئے اور خلافت سے مشرف ہو ئے ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ لیکن زیادہ انس سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے تھا اور اسی میں بیعت کرتے تھے ۔

سیرت و خصائص:
فانی فی اللہ، باقی باللہ، عمدۃ الاصفیاء، زبدۃ الاتقیاء، سلطان الاولیاء، مجمع البحرین، مرجع الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، قطب الواصلین، سند الکاملین، رئیس المتوکلین حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد سب علماء، صلحاء اور مقتدائے زمانہ گزرے ہیں، ۔ آپ کے آباء و اجداد کے فضل و کمال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بڑے بڑے علماء و صلحاء اپنی مجالس میں ان کے فضائل بیان فرمایا کرتے تھے ۔ سلسلۂ اویسیہ کے با کرامت بزرگ جناب صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ملتان تشریف لائے تو آپ کے والدِ بزرگوار نے ان کی دعوت کا اہتمام کیا اور اپنے نو مولود فرزند دِلبند کو اٹھا کر بغرض دُعا حضرت صاحب السّیر کی خدمت میں لے جا کر ان کے دامن مبارک میں ان کی نظر فیض اثر کے سامنے رکھ دیا ۔

اس پر حضرت صاحب السّیر علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: " مولانا قدرۃ اللہ مبارک ہو! یہ بچہ بہت سعاد ت مند ہے ۔ اس کی مبارک پیشانی سےعلم و فضل کا جو نور درخشاں دیکھتا ہوں ۔ اس کا اثر انشاء اللہ العزیز سات پشتوں تک رہے گا " ۔ (آپ کی یہ بات حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی چنانچہ آج آپ کی ساتویں پشت ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اور حسبِ سابق علم کا فیضان جاری وساری ہے جس سے تشنگانِ علوم سیراب ہو رہے ہیں اور امید ہے یہ سلسلہ آگے بھی جاری و ساری رہے گا، اور میں نے اس خانوادے سے بڑھ کر کوئی متقی و پرہیزگار نہیں دیکھا ۔ تونسوی غفرلہ) ـ

آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری رحمۃ اللہ علیہ کے محبوب اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔ ہندوستان میں فتنۂ وہابیت کے آنے کے بعد، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے پہلے بر صغیر میں جس نے عقائدِ اہلسنت کے تحفظ و دفاع اور وہابیوں کے خلاف سب سے زیادہ کتب تصنیف فرمائی ہیں، وہ آپ کی ذات گرامی ہے ۔
معمولاتِ مبارکہ:
آپ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ اپنے اوقات کی بڑی حفاظت فرماتے تھے ۔ فضول کاموں، فارغ رہنے، اور فارغ رہنے والوں کو بالکل پسند نہ فرماتے ۔ آپ نے اپنے اوقات کو تقسیم کیا ہوا تھا، مثلاً درس و تدریس کا وقت، ورد و وظائف، تلاوتِ کلام اللہ شریف، تلقین و ارشاد اور تصنیف و تالیف کا وقت، ایک کام کے وقت میں دوسرا کام نہ فرماتے ۔ سونے سے پہلے آپ کے معمولاتِ شریفہ میں سورۃ الم سجدہ، سورۃ الدخان، اور سورۃ الملک کی تلاوت بھی منقول ہے ۔

یہ بھی آپ کی مستقل عادت تھی کہ نذرانہ دینے والے سے اس کا ذریعۂ معاش دریافت فرماتے، اگر اس کی آمدنی حلال سے ہوتی، بد مذہب اور سود خور نہ ہوتا تو پھر قرض کی بابت سوال فرماتے، اگر وہ مقروض ہوتا تو اس کی بھی نذر قبول نہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ خود اس کی امداد فرماتے اور دعائے خیر فرما کر اسے ادئیگی قرض کی سخت تنبیہ فرماتے کہ مجھے دینے سے بہتر ہے کہ قرض کا بوجھ اپنے سر سے اتارو ۔ اسی طرح جس مال میں یتیم کا حق ہوتا وہ بھی قبول نہ فرماتے ۔ اسی طرح ہمسایوں اور رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بھی سوال فرماتے اگر ان میں کوئی مستحقِ امداد و حاجت مند ہوتا تو پہلے اس کی امداد کا حکم فرما کر ارشاد فرماتے ـ

حق گوئی:
ایک مرتبہ ملتان کے ایک مشہور نواب ایک ھمیانی میں رقم حضور اعلیٰ کی خدمت میں لائے ۔ آپ اس وقت چار پائی پر آرام فرما تھے ۔ انہوں نے وہ ھمیانی آپ کی پائنتی کی طرف رکھ کر نذر قبول کرنے کی درخواست کی ۔ آپ نے بلا تأمل اس ھمیانی کو پاؤں مبارک سے ٹھو کر مار کر نیچے گرا دیا اور فرمایا : " غریبوں پر ظلم اور انگریز حکام کی خوشامد سے جو مال تمہیں حاصل ہوا وہ تمہارے لئے بھی حرام اور میرے لئے بھی حرام ہے، خود بھی حرام کھاتے ہو اور مجھے بھی حرام کھلاتے ہو، میں اس میں سے ذرہ بھر بھی قبول نہیں کروں گا ۔ " یہ سن کر وہ شرمندہ ہوا، اور چلا گیا ۔

روحانی کمالات:
ایک مرتبہ کسی انگریز افسر کی بکھی چلانے والا ملازم آپ علیہ الرحمہ کا غلام تھا ۔ ایک دن پریشانی کے عالم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا میاں! آج کیوں پریشان ہو؟ عرض کی حضور! میرا افسر کہتا ہے جو مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کرائےگا اسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، چنانچہ وہ لے آیا تو حاضر ہونے پر آپ نے اس کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہی شخص ہے جو اپنے اسلام کو حق تعالیٰ جل شانہ کی زیارت سے مشروط کرتا ہے؟ تو آپ کے محض اشارہ فرمانے پر ہی وہ بے خود ہو کر لوٹ پوٹ ہونے لگا، کافی دیر بعد جب ہوش میں آیا تو فوراً آپ کی قدموں میں گرکر مشرف بہ اسلام ہو گیا ۔



تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول، 1305ھ، مطابق 20 جنوری 1888ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار، نزد سول ہسپتال ملتان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
عباد الرحمن ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ سرد لبراں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ubaidullah-multani-chishti
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری ۔ لقب: سراج الملت، محسن الامت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید محمد حسین بن پیر سید جماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبد الرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔ آپ ’’ نجیب الطرفین سید ‘‘ اور ساداتِ شیراز سے آپ کا تعلق ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند، ص:526) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کے گھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں، بوقتِ صبح صادق، ساعتِ سعید میں ہوئی ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہو کر گود میں اٹھا لیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ۔ اور پھر دعائے خیر کی ۔ (ایضا:526) ۔

آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’ اس پر دَم کر دیجیے ۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے ‘‘ ۔ حضرت بابا جی نے دم کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش و خرم رہےگا ‘‘ ۔ (ایضا:526) ـ

تحصیلِ علم:
آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا، اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے ۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے ۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجید کے حفظ کے لیے بٹھایا گیا، اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد علی پور سیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا، اور دینیات کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا عبد الرشید صدیقی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذ العلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری (محشی مکتوبات شریف، پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ آپ مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، سے علوم دینیہ حاصل کیے ۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ۔ (علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا ۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی ۔

وصال:
آپ کی وفات 14 جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتسابِ علم کرتے رہے ۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دار العلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا ۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی ۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے ۔ (ایضا: 527) ـ

بیعت و خلافت:
شروع میں آپ نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے، اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہو کر 11 مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی ۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو گئے ۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے ۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ (ایضا:528) ـ
3