🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-05-1445 ᴴ | 20-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-05-1445 ᴴ | 20-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ ۔ کانپور میں مستقل اقامت کی وجہ سے " کانپوری " کہلاتے ہیں ۔
مولد و موطن:
آپ کا تعلق " بہاولپور " پنجاب سے تھا ۔ شیخ المدرسین حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تحصیلِ علم کی غرض سے کانپور حاضر ہوئے، اور پھروہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ساری عمر دینِ متین خدمت کرتے رہے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری قدس سرہ کے درس کا شہرہ سن کر کانپور آئے، اور اخذ علوم کیا ۔ آپ اُستاذِ زمن کی درسگاہ سے فارغ ہونے والی پہلی جماعتِ علماء میں ممتاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، استاذ العلماء والفضلاء، سند الاتقیاء، حامیِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، ماحیِ بدعت، غیظ الوہابیین، حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مدرسین میں ہوتا تھا ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان استاذ العلماء مولانا شاہ مشتاق احمد کانپوری اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا نثار احمد مفتی آگرہ کی کی تعلیم و تربیت آپ کی سپرد کی تھی ۔ آپ کادرس استاذِ زمن کے درس کا کامل نمونہ ہوا کرتا تھا ۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سنت توسنت استحباب کا بھی خاص التزام تھا ۔ آپ کی مجلس اور درس کایہ فیض تھا جو شریکِ درس ہوتا وہ بھی پیکرِ صدق و صفا بن جاتا تھا ۔
مولانا محمود احمد قادری فرماتے ہیں: " یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر بنائے تصلبِ مذہبی، غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مسجد میں داخل ہونے پر دریوں سمیت مسجد کی دُھلائی کی ابتداء آپ ہی نے فرمائی تھی ۔ مسجد صوبے دار واقع اُرسلا ہسپتال کانپور جس میں آپ امام و خطیب تھے ۔ اس کا متولی غالی دیوبندی تھا ۔ مگر کبھی اس کو مسجد میں آنے کی جرأت نہ ہوئی، کیونکہ وہ بھی آپ کے ورع وتقویٰ سے مرعوب تھا " ۔ یعنی آپ کا سیرت و کردار ایسا بے داغ تھا کہ کسی بدمذہب کو بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آپ ہمہ وقت درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ۔ کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جس میں مسلکِ اہلسنت کی بقاء مضمر ہے ۔ آپ پیری مریدی نہیں کرتے تھے ۔ ساری زندگی کسی کو مرید نہیں کیا ۔ حالانکہ آپ کو خلافت حاصل تھی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1343ھ، مطابق دسمبر 1924ء کو ہوا ۔ کانپور کے بساطی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
فائدہ:
امینِ شریعت، بدر الاصفیاء حضرت شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ خصوصی طور پر آپ کے عرس میں شریک ہوتے تھے ۔ عرس کا تبرک یہ کہہ کر تقسیم فرماتے: " لو کھاؤ اس سے ایمان میں استحکام اور زیادتی نصیب ہوگی " ۔ آپ نے تجرد میں زندگی بسر فرمائی ۔ ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری (صاحبِ حیاتِ اعلیٰ حضرت) نے " ہدایہ آخرین " آپ سے پڑھی تھی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ubaidullah-kanpuri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ ۔ کانپور میں مستقل اقامت کی وجہ سے " کانپوری " کہلاتے ہیں ۔
مولد و موطن:
آپ کا تعلق " بہاولپور " پنجاب سے تھا ۔ شیخ المدرسین حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تحصیلِ علم کی غرض سے کانپور حاضر ہوئے، اور پھروہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ساری عمر دینِ متین خدمت کرتے رہے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری قدس سرہ کے درس کا شہرہ سن کر کانپور آئے، اور اخذ علوم کیا ۔ آپ اُستاذِ زمن کی درسگاہ سے فارغ ہونے والی پہلی جماعتِ علماء میں ممتاز تھے ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، استاذ العلماء والفضلاء، سند الاتقیاء، حامیِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، ماحیِ بدعت، غیظ الوہابیین، حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مدرسین میں ہوتا تھا ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان استاذ العلماء مولانا شاہ مشتاق احمد کانپوری اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا نثار احمد مفتی آگرہ کی کی تعلیم و تربیت آپ کی سپرد کی تھی ۔ آپ کادرس استاذِ زمن کے درس کا کامل نمونہ ہوا کرتا تھا ۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سنت توسنت استحباب کا بھی خاص التزام تھا ۔ آپ کی مجلس اور درس کایہ فیض تھا جو شریکِ درس ہوتا وہ بھی پیکرِ صدق و صفا بن جاتا تھا ۔
مولانا محمود احمد قادری فرماتے ہیں: " یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر بنائے تصلبِ مذہبی، غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مسجد میں داخل ہونے پر دریوں سمیت مسجد کی دُھلائی کی ابتداء آپ ہی نے فرمائی تھی ۔ مسجد صوبے دار واقع اُرسلا ہسپتال کانپور جس میں آپ امام و خطیب تھے ۔ اس کا متولی غالی دیوبندی تھا ۔ مگر کبھی اس کو مسجد میں آنے کی جرأت نہ ہوئی، کیونکہ وہ بھی آپ کے ورع وتقویٰ سے مرعوب تھا " ۔ یعنی آپ کا سیرت و کردار ایسا بے داغ تھا کہ کسی بدمذہب کو بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آپ ہمہ وقت درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ۔ کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جس میں مسلکِ اہلسنت کی بقاء مضمر ہے ۔ آپ پیری مریدی نہیں کرتے تھے ۔ ساری زندگی کسی کو مرید نہیں کیا ۔ حالانکہ آپ کو خلافت حاصل تھی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1343ھ، مطابق دسمبر 1924ء کو ہوا ۔ کانپور کے بساطی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
فائدہ:
امینِ شریعت، بدر الاصفیاء حضرت شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ خصوصی طور پر آپ کے عرس میں شریک ہوتے تھے ۔ عرس کا تبرک یہ کہہ کر تقسیم فرماتے: " لو کھاؤ اس سے ایمان میں استحکام اور زیادتی نصیب ہوگی " ۔ آپ نے تجرد میں زندگی بسر فرمائی ۔ ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری (صاحبِ حیاتِ اعلیٰ حضرت) نے " ہدایہ آخرین " آپ سے پڑھی تھی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ubaidullah-kanpuri
❤2
حضرت خواجہ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ نور محمد نارو والہ ۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ۔ حضرت قبلۂ عالم سے بیعت ہونے سے قبل تدریس کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ نے حضرت قبلۂ عال خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے چند کتبِ تصوف کا درس لیا ہے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، ریاضت و مجاہدے کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سراپا نور و حکمت، شیخِ کامل، عالمِ اکمل، جامعِ شریعت و طریقت، حضرت شیخ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا اسم نور، مرشد نور، اور ایسا نور جس نے تمام عالم میں نورانی کرنیں بکھیر دیں، دنیا جن کو آج بھی قبلۂ عالم کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ شیخ نور محمد نارو والہ علیہ الرحمہ خواجہ نور محمد مہاروی کے ممتاز ترین خلفاء میں سے تھے ۔ آپ بہت بڑے عالم اور صاحبِ حال بزرگ تھے ۔ میاں نارو والہ حضرت خواجہ نور محمد سے بیعت ہونے سے قبل درس و تدریس کی خدمت انجام دیتے تھے ۔ لیکن جب آپ سلسلۂ چشتیۂ نظامیہ میں خواجہ نور محمد سے بیعت ہوئے تو اپنے شیخ سے کچھ کتابوں کا درس لیا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ اور علم کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔
حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی فرماتے ہیں: کہ میں اور نارو والہ صاحب اور قاضی عاقل محمد اپنے شیخ خواجہ نور محمد علیہ ارلحمہ سے لوائح، سواء السبیل، اور تسنیم وغیرہ پڑھتے تھے، لیکن پڑھنے کے بعد جب اپنے مقام پر واپس آتے تو ہم اس کی تحقیق میاں نارو والہ ہی سے کرتے تھے، اگرچہ ظاہر میں یہ فیض قبلۂ عالم (خواجہ نور محمد) کا ہوتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ تمام فیض اور ادراکِ مسائل میاں نارو والہ ہی سے حاصل ہوتا تھا، وہ ہر چیز کو نہایت وضاحت سے سمجھا دیتے تھے ۔
حضرت شاہ فخرالدین دہلوی کی خدمت میں حاضری: پہلی مرتبہ جب آپ کے پیر خواجہ نور محمد آپ کو لے کر اپنے پیر حضرت شاہ فخر الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پہلی ہی نظر میں شاہ فخر نے اُن کو دیکھتے ہی فرمایا: " مارا از چشمانِ ایشاں عشق بنظر می آید " یعنی ہمیں ان کو آنکھوں میں عشق نظر آتا ہے ۔ حضرت شاہ فخر آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ میاں نارو والہ سے بوئے شکر بار آتی ہے ۔
اتباعِ شریعت:
آپ حد درجہ متبعِ شریعت تھے، ہمیشہ با وضو رہتے اور مستحبات بھی آپ سے ترک نہ ہوتے تھے، ہمیشہ ریاضتوں اور مجاہدوں میں مشغول رہتے، خیر الاذکار کے مؤلف مولوی محمد صاحب کا بیان ہے: کہ حضرت، شریعت، طریقت اور حقیقت کے جامع تھے، ۔
شریعت کا احترام اس درجۂ اتم تک فرماتے کہ کوئی مستحب بھی فوت نہ ہوتا تھا، اور ہمیشہ با وضو رہتے مراتبِ طریقت اور آداب اور مجاہدوں اور ریاضتوں میں اِس قدر مصروف رہتے کہ کسی کو ہمّت نہ پڑ ہوتی تھی، کہ وہ آپ سے دُنیاوی باتیں کر سکے ۔
انکسار:
سلوک اور علم کے ان مدارج عالی پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے مزاج میں بے حد انکسار تھا، صاحبِ مناقب المحبوبین کا بیان ہے کہ: باوجود اس کمال کے اپنے آپ کو اتنا قاصر سمجھتے کہ گویا مبتدی ہیں ۔ مریدوں کی اصلاح و تربیت کی طرف بے حد توجہ فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک مرید کو لکھا ۔ اوقات کو تنظیم رکھو، تعلیم کے وقت تعلیم اور ذکر کے وقت ذکر ۔ یعنی ہر کام اپنے وقت پر کرو ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 6 جمادی الاوّل 1204ھ، مطابق جنوری 1790ء کو وفات پائی ۔ آپ کے مرشد حضرت قبلۂ عالم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا، اور آپ کی وفات کی خبر سُن کر فرمایا: " اگرمیاں نارو والہ صاحب کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو اپنے فیض سے ایک جہاں کو روشن کر دیتے " ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-noor-muhammad-narowal
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ نور محمد نارو والہ ۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے ۔ حضرت قبلۂ عالم سے بیعت ہونے سے قبل تدریس کرتے تھے ۔ اسی طرح آپ نے حضرت قبلۂ عال خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے چند کتبِ تصوف کا درس لیا ہے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، ریاضت و مجاہدے کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سراپا نور و حکمت، شیخِ کامل، عالمِ اکمل، جامعِ شریعت و طریقت، حضرت شیخ نور محمد نارو والہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا اسم نور، مرشد نور، اور ایسا نور جس نے تمام عالم میں نورانی کرنیں بکھیر دیں، دنیا جن کو آج بھی قبلۂ عالم کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ شیخ نور محمد نارو والہ علیہ الرحمہ خواجہ نور محمد مہاروی کے ممتاز ترین خلفاء میں سے تھے ۔ آپ بہت بڑے عالم اور صاحبِ حال بزرگ تھے ۔ میاں نارو والہ حضرت خواجہ نور محمد سے بیعت ہونے سے قبل درس و تدریس کی خدمت انجام دیتے تھے ۔ لیکن جب آپ سلسلۂ چشتیۂ نظامیہ میں خواجہ نور محمد سے بیعت ہوئے تو اپنے شیخ سے کچھ کتابوں کا درس لیا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ اور علم کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔
حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی فرماتے ہیں: کہ میں اور نارو والہ صاحب اور قاضی عاقل محمد اپنے شیخ خواجہ نور محمد علیہ ارلحمہ سے لوائح، سواء السبیل، اور تسنیم وغیرہ پڑھتے تھے، لیکن پڑھنے کے بعد جب اپنے مقام پر واپس آتے تو ہم اس کی تحقیق میاں نارو والہ ہی سے کرتے تھے، اگرچہ ظاہر میں یہ فیض قبلۂ عالم (خواجہ نور محمد) کا ہوتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ تمام فیض اور ادراکِ مسائل میاں نارو والہ ہی سے حاصل ہوتا تھا، وہ ہر چیز کو نہایت وضاحت سے سمجھا دیتے تھے ۔
حضرت شاہ فخرالدین دہلوی کی خدمت میں حاضری: پہلی مرتبہ جب آپ کے پیر خواجہ نور محمد آپ کو لے کر اپنے پیر حضرت شاہ فخر الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پہلی ہی نظر میں شاہ فخر نے اُن کو دیکھتے ہی فرمایا: " مارا از چشمانِ ایشاں عشق بنظر می آید " یعنی ہمیں ان کو آنکھوں میں عشق نظر آتا ہے ۔ حضرت شاہ فخر آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ اکثر فرمایا کرتے تھے: کہ میاں نارو والہ سے بوئے شکر بار آتی ہے ۔
اتباعِ شریعت:
آپ حد درجہ متبعِ شریعت تھے، ہمیشہ با وضو رہتے اور مستحبات بھی آپ سے ترک نہ ہوتے تھے، ہمیشہ ریاضتوں اور مجاہدوں میں مشغول رہتے، خیر الاذکار کے مؤلف مولوی محمد صاحب کا بیان ہے: کہ حضرت، شریعت، طریقت اور حقیقت کے جامع تھے، ۔
شریعت کا احترام اس درجۂ اتم تک فرماتے کہ کوئی مستحب بھی فوت نہ ہوتا تھا، اور ہمیشہ با وضو رہتے مراتبِ طریقت اور آداب اور مجاہدوں اور ریاضتوں میں اِس قدر مصروف رہتے کہ کسی کو ہمّت نہ پڑ ہوتی تھی، کہ وہ آپ سے دُنیاوی باتیں کر سکے ۔
انکسار:
سلوک اور علم کے ان مدارج عالی پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے مزاج میں بے حد انکسار تھا، صاحبِ مناقب المحبوبین کا بیان ہے کہ: باوجود اس کمال کے اپنے آپ کو اتنا قاصر سمجھتے کہ گویا مبتدی ہیں ۔ مریدوں کی اصلاح و تربیت کی طرف بے حد توجہ فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک مرید کو لکھا ۔ اوقات کو تنظیم رکھو، تعلیم کے وقت تعلیم اور ذکر کے وقت ذکر ۔ یعنی ہر کام اپنے وقت پر کرو ۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 6 جمادی الاوّل 1204ھ، مطابق جنوری 1790ء کو وفات پائی ۔ آپ کے مرشد حضرت قبلۂ عالم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا، اور آپ کی وفات کی خبر سُن کر فرمایا: " اگرمیاں نارو والہ صاحب کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو اپنے فیض سے ایک جہاں کو روشن کر دیتے " ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ صوفیائے پنجاب ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-noor-muhammad-narowal
❤2