🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-05-1445 ᴴ | 20-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-05-1445 ᴴ | 20-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ ۔ کانپور میں مستقل اقامت کی وجہ سے " کانپوری " کہلاتے ہیں ۔

مولد و موطن:
آپ کا تعلق " بہاولپور " پنجاب سے تھا ۔ شیخ المدرسین حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں تحصیلِ علم کی غرض سے کانپور حاضر ہوئے، اور پھروہیں مستقل رہائش اختیار کر لی ۔ ساری عمر دینِ متین خدمت کرتے رہے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد مزید تحصیلِ علم کے لیے حضرت مولانا شاہ احمد حسن کانپوری قدس سرہ کے درس کا شہرہ سن کر کانپور آئے، اور اخذ علوم کیا ۔ آپ اُستاذِ زمن کی درسگاہ سے فارغ ہونے والی پہلی جماعتِ علماء میں ممتاز تھے ۔

سیرت و خصائص:
فاضلِ اکمل، عالمِ متبحر، استاذ العلماء والفضلاء، سند الاتقیاء، حامیِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، ماحیِ بدعت، غیظ الوہابیین، حضرت مولانا شاہ محمد عبید اللہ کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء و مدرسین میں ہوتا تھا ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ استادِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ نے اپنے دونوں صاحبزادگان استاذ العلماء مولانا شاہ مشتاق احمد کانپوری اور مفسرِ قرآن حضرت مولانا نثار احمد مفتی آگرہ کی کی تعلیم و تربیت آپ کی سپرد کی تھی ۔ آپ کادرس استاذِ زمن کے درس کا کامل نمونہ ہوا کرتا تھا ۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سنت توسنت استحباب کا بھی خاص التزام تھا ۔ آپ کی مجلس اور درس کایہ فیض تھا جو شریکِ درس ہوتا وہ بھی پیکرِ صدق و صفا بن جاتا تھا ۔

مولانا محمود احمد قادری فرماتے ہیں: " یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر بنائے تصلبِ مذہبی، غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مسجد میں داخل ہونے پر دریوں سمیت مسجد کی دُھلائی کی ابتداء آپ ہی نے فرمائی تھی ۔ مسجد صوبے دار واقع اُرسلا ہسپتال کانپور جس میں آپ امام و خطیب تھے ۔ اس کا متولی غالی دیوبندی تھا ۔ مگر کبھی اس کو مسجد میں آنے کی جرأت نہ ہوئی، کیونکہ وہ بھی آپ کے ورع وتقویٰ سے مرعوب تھا " ۔ یعنی آپ کا سیرت و کردار ایسا بے داغ تھا کہ کسی بدمذہب کو بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آپ ہمہ وقت درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ۔ کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جس میں مسلکِ اہلسنت کی بقاء مضمر ہے ۔ آپ پیری مریدی نہیں کرتے تھے ۔ ساری زندگی کسی کو مرید نہیں کیا ۔ حالانکہ آپ کو خلافت حاصل تھی ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 6 جمادی الاول 1343ھ، مطابق دسمبر 1924ء کو ہوا ۔ کانپور کے بساطی قبرستان میں مدفون ہیں ۔

فائدہ:
امینِ شریعت، بدر الاصفیاء حضرت شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ خصوصی طور پر آپ کے عرس میں شریک ہوتے تھے ۔ عرس کا تبرک یہ کہہ کر تقسیم فرماتے: " لو کھاؤ اس سے ایمان میں استحکام اور زیادتی نصیب ہوگی " ۔ آپ نے تجرد میں زندگی بسر فرمائی ۔ ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری (صاحبِ حیاتِ اعلیٰ حضرت) نے " ہدایہ آخرین " آپ سے پڑھی تھی ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ubaidullah-kanpuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2