🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حافظ محمد جمال اللہ ـ لقب: ملتان کی نسبت سے " ملتانی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا حافظ محمد جمال اللہ بن محمد یوسف بن حافظ عبد الرشید علیہم الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ تقریباً 1160ھ، مطابق 1747ء کو ملتان شریف میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ اپنے دور کے اجلہ فضلاء سے علوم دفنون کی تحصیل کی ۔ آپ دور طالب علمی ہی میں علم و فضل ، ذکاوت و فطانت میں تمام طلبہ پر فوقیت رکھتے تھے۔ جو بھی آپ سے مباحثہ کرتا اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ۔ حضرت حافظ صاحب علم و فضل کے بحر ِذخار تھے ۔ دقیق سےدقیق مسائل کو اس طرح بیان کرتے کہ کند ذہن طلبہ بھی بآسانی سمجھ لیتے ۔ مسئلہ وحدۃ الوجود پر حیرت انگیز عبور رکھتے تھے ۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اور مولانا جامی کی کتابوں کو بہت محبوب رکھتے تھے ۔ نفحات الانس ، مثنوی شریف ، لوائح جامی ، اشعۃ اللمعات اور فصوص الحکم نہایت ہی پسند تھیں ۔خاص طور پر فصوص الحکم کے فص محمدی سے تو یہان تک محبت تھی کہ اگر کوئی شخص آپ کے سامنے ذکر بھی کر دیتا تو جھوم جاتے ۔

بیعت و خلافت:
مرشد کامل کا شوق پیدا ہوا ۔ اسی تلاش میں حضرت شیخ الاسلام شاہ رکن عالم ملتانی قدسرہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے ۔ ہر روز ایک قرآن کریم ختم کرتے اور پیر کامل کیلئے دعا مانگ کر سو جاتے ۔ ایک رات حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ نور محمد مہاروی قدس سرہ کی خدمت میں حاضری کا ارشاد ہوا ۔ فوراً مہار شریف حاضر ہوئے اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں مرید ہو گئے ۔ مجاہدات کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔

سیرت و خصائص:
تاج الاصفیاء، امام لاولیاء، شیخ المشائخ، غیاث العاشقین، سند الکاملین، محب اللہ بالکمال، خواجۂ خواجگان، حضرت سیدنا خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے عظیم مشائخ میں سے تھے ۔ عالمِ باکمال تھے ۔ علم کی ترویج واشاعت آپ کا محبوب مشغلہ تھا ۔ اللہ جل شانہ کی ذات پر کامل بھروسہ رکھتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے عاشقِ صادق تھے ۔ اپنے شیخ حضرت قبلۂ عالم سے حضرت حافظ صاحب کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ سفرمیں حاضر ِخدمت رہتے اور وضو کرانے کی خدمت انجام دیتے ۔

آپ نہایت با اخلاق شخصیت کے مالک تھے ۔ بچوں کے ساتھ حددرجہ شفقت سے پیش آتے۔ غرباء کی دلجوئی کو بہت اہمیت دیتے۔اگر کسی غریب کے ہاں دعوت پر تشریف لےجاتے تو خوشی کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوتے۔ایک دفعہ روزہ سے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو مدعو کیا ۔ آ پ اسی طرح تشریف لے گئے ۔ کھانے کے وقت روٹی کے لقمے توڑ توڑ کر رکھتے رہے اور پاس بیٹھے ہوئے احباب کھاتے رہے حتی کہ چند ہمراہیوں کے علاہ کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ آپ نے کھانا نہیں کھایا۔شریعت پر سختی سے عمل پیراتھے۔سنت کامقام توبہت بلند ہے، مستحبات پربھی عمل تھا ۔

قبلہ حافظ صاحب علیہ الرحمہ کامعمول تھا جب بھی وضو کرتے،توہروضو میں میں مسواک لازمی کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے"لا وُضوءَ لِمَن لا سِواکَ لہ"یعنی جو شخص مسواک نہیں کرتا اس کا وضو مکمل نہیں ہوتا ہے ۔ (روحانیت کے اعتبار سے) اسی طرح یہ بھی آپ کا ارشاد ہے " الوضوءُ سِلاحُ المؤمنین " وضو مومنوں کا اسلحہ ہے ۔ آپ نے فرمایا: ہمیشہ با وضو رہنے سے مصائب اور تنگیِ رزق قریب بھی نہیں بھٹکتے ۔ حافظ صاحب علیہ الرحمہ صاحبِ کمال ہونے کے باوجود اپنے کمالات چھپاتے تھے ۔ (آج کل کے پیر صاحبان؟ اپنی کرامات و کمالات خود بیان کرتے ہیں ۔) ـ

آپ فرماتے تھے:
کہ خرقِ عادت یہ ہے کہ نفس کی عادات مثلاً شکم سیری ، بے فائدہ گفتگو اور عبادات میں سستی کو خوراک کی کمی ، خاموشی اور ریاضت سے توڑ دیاجائے۔ نیز فرمایا کرتے تھے :جوا مربھی ظاہر ہو یہی سمجھنا چاہئے کہ یہ د ر حقیقت اللہ عزوجل کا فعل ہے اور ماو شما صرف وہم وخیالِ باطل ہے۔

مردِ میدان:
حضرت حافظ محمد جمال اللہ علیہ الرحمہ علامۂ وقت اور شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ مردِ حق اور مرد میدان بھی تھے ۔ آپ کے دور میں پنجاب سکھوں کے تسلط میں آچکا تھا۔ سکھوں نے کئی مرتبہ ملتان پرحملہ کیالیکن آپ کی زندگی میں ملتان پر قابض نہ ہو سکے ۔ ایک رات آپ کو معلوم ہوا کہ سکھ ملتان کا محاصرہ کر کے حملہ کرنے والے ہیں ۔ یہ خبر ملتے ہی آپ شمشیر و سنان سےمسلح ہو کر جوانوں سے بھی آگے نکل گئے اور ڈٹ کر کفار کا مقابلہ کیا ۔ محاصرہ سے پہلے بعض لوگوں نے کہا کہ ہمیں یہاں سے دوسری جگہ جانا چاہئے تاکہ کافروں کےحملے سے محفوظ رہیں ۔
2
اس پر حضرت حافظ صاحب نے فرمایا: "اب عام ابتلاء کا دور ہے اور جہاد فرضِ عین ہو چکا ہے ۔ اس وقت ہم کہیں نہیں جائیں گے ۔اب ہمارے لئے دوہی محمود انجام ہیں کہ ہم غازی ہوں گے یا شہید"۔حضرت حافظ صاحب خوف و ہر اس سے نا آشنا تھے ۔ تیر اندازی میں اس قدر ماہر تھے کہ دوسروں کو یہ فن سکھایا کرتے تھے ۔ (آج کل صوفی اور پیر اس کو کہتے ہیں، جو بالکل بے ضرر ہو ۔ یہودیوں کے سرمائے سے نام نہاد " صوفیاء کانفرنسز " کا انعقاد اسی سلسلے کی کڑی ہیں، کہ صاحبِ شریعت ﷺ کی ناموس پر کفار حملے کرتے رہیں، اور مسلمانوں کی عزتیں تار تار کرتے رہیں، اسلامی ممالک میں ہی شریعتِ اسلامیہ کامذاق اڑایا جاتا رہے، بس پیر صاحب کا کام یہ ہو کہ صرف مریدین سے نذرانے وصول کرتے رہیں، اور غیروں کے ایماء سے "مسلمانوں کے خون پر امن کا درس الاپتے رہیں " اگریہ پیر ہیں، تو حافظ جمال اللہ اور دیگر اولیاء کبار کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جن کے نزدیک صرف دو ہی راستے ہیں ۔ غازی، یا شہید)

قطبِ ملتان:
جب حضور قبلۂ عالم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حافظ جمال اللہ کو خلافت سے نواز اور آپ کو ملتان شریف جانے کا حکم دیا تو حضرت حافظ صاحب علیہ الرحمہ نے عرض کی حضور! وہاں حضرت غوث العالمین غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کا مکمل روحانی تصرف ہے۔وہاں کسی اور کاتصرف نہیں چلتا۔حضور قبلۂ عالم مہاوری رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:حافظ صاحب!ایک رات صبر فرمالیں۔

صبح کو آپ نے ارشاد فرمایا: "آج رات حضرت محب النبی مولانا فخر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور سید العالمینﷺسے ملتان ہم کو لے کردے دیا ہے۔ آپ جائیں اور حضرت غوث العالمین رحمۃ اللہ علیہ کے دربار شریف ہی میں بیعت کریں وہ اب آپ کو نہیں روکیں گے"۔توقبلہ حافظ صاحب نے سب سے پہلے حضرت خواجہ خدابخش خیرپوری کو حضرت شیخ الاسلام کےمزارکےزیرِ سایہ بیعت فرمایا۔حضرت حافظ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سلا سل اربعہ میں مجاز تھے، لیکن سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے زیادہ انس رکھتے تھے ۔اس لئے اکثر و بیشتر اسی سلسلہ میں مرید کیا کرتے تھے۔

آپ بہت لطیف مزاج کےمالک تھے ۔ عمدہ لباس زیب تن فرماتے ، آپ کی انگوٹھی پر" ان اللہ جمیل یحب الجمال "نقش تھا۔علامۂ زمان، فخر المحققین، امام المتکلمین حضرت علامہ شیخ عبد العزیز پرھاروی علیہ الرحمہ (صاحبِ نبراس) اور شیخ القرآن ،فنا فی الرسول ﷺ حضرت خواجہ خدا بخش خیرپوری علیہ الرحمہ ۔آپ کے مرید اور فیض یافتہ تھے ۔

تاریخِ وصال:
5 جمادی الاول 1226ھ، مطابق 1811ء، کو آپ نے وصال فرمایا اور مدینۃ الاولیاء ملتان میں محو استراحت ابدی ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت ۔ سر دلبراں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-muhammad-jamaluddin-multani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں قدس سرہٗ

ولادتِ با سعادت:
حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں کی ولادت 21 ربیع الآخر 1177ھ کو ہوئی ۔

والد کا اسم گرامی:
سید شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔

سکونت:
چھ برس کی عمر میں آپ کے ماموں نواب سید نور الحسن خاں صاحب منھ بولا بیٹا بنا کر اپنے ساتھ اپنی جاگیر واقع صوبہ بہار لے گئے، اور آپ نے وہیں پر عمر گزار دی ۔ آپ کبھی مارہرہ واپس نہیں آئے ۔ آپ کے بھائی آپ سے ملنے بہار جاتے تھے ۔

زوجہ کا نام:
سیدہ خیر الفاطمہ بنت سید نور الحسن خاں ۔

اولادِ امجاد:
دو صاحبزادے:
(۱) حضرت سید محمد سعید خاں
(۲) حضرت سید محمد تقی خاں ـ

بیعت و اجازت:
والدِ ماجد حضرت سید شاہ حمزہ عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ۔

اہم کار نامہ:
آپ کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ اپنے مامو ں کی مسند ریاست (واقع صوبہ بہار) پر بیٹھنے کے باوجود آپ نے پوری عمر عبادت و ریاضت اور یاد الہی میں بسر فرمائی ۔

تاریخ وفات:
5 جمادی الاولیٰ 1235ھ ۔

مزار پاک:
کوات میں نواب نور الحسن کے مقبرہ کے نیچے جانب شمال میں ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ ـ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aal-e-hussain-sachay-miyan
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا حکیم حبیب علی علوی کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی ۔ لقب: علویط، کاکوروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: حکیم مشتاق علی علیہ الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 5 جمادی الاول 1264ھ، بمطابق اپریل 1848ء کو " کاکوری " (ضلع لکھنؤ، اتر پردیش ، انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے مولانا مفتی عنایت احمد ، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا شاہ علی اکبر کاکوروی سے درسیات پڑھی، 17 برس کی عمر میں درسیات تمام کر کے سند فضیلت حاصل کی ۔ طب والد سے پڑھی ۔

بیعت و خلافت:
آپ مولانا شاہ حیدر علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حضرت علامہ مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علماء حقہ میں سے ہیں، آپ کا تعلق ان وارثانِ منبرومحراب سے ہے،جن کونائبِ مصطفیٰ ﷺ کہا جاتا ہے ۔ آپ نے باطل کا مقابلہ، اور حق کا ساتھ دیا ۔

ابتداءً آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے رکنِ خاص تھے ۔ لیکن جب ان کے مقاصد معلوم ہوئے، جو کہ سراسر اہلیانِ اسلام کے خلاف اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے، تو آپ نے علماء حقہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ آپ کی ساری زندگی شریعتِ اسلامیہ کی ترویج میں گزری ۔ کوئی ایسا کام جو خلاف شریعت ہوتا آپ اس کو ناقابلِ برداشت سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ اٹاوہ اور مین پوری میں احکام شریعت کی پابندی آپ کی ذات سے بہت ہوئی تھی ۔

مسلمانوں کو شریعت پر سختی سےعمل کی تلقین کرتے ، اور اغیار کی تقلید سے منع کرتے تھے ۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے، اس کے ماسوا میں ذلت ہی ذلت ہے ۔

اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجدد دین وملت علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں تاریخ وفات کہی ہے:

محب، حبیب اللہ یعلو فمن ھنا
حبیب علیٍّ کان خادم سُنۃ

حبیب لبیب بالذکاء ذکی
یقول أسیً فی عام رحلۃ الرضا

حبیب علیٍّ بالحبیب علیٍ
وھادم بدعاتِ وذاک جلی

سمی مُنًی بالسناء بھی
حبیب علی فی الولا لرضی

وصال:
آپ کا وصال 64 برس کی عمر میں فالج کے مرض سے بروز ہفتہ 25 ذیقعدہ 1330ھ، بمطابق نومبر 1912ء کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-habib-ali-alvi-kakorvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-05-1445 ᴴ | 19-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-05-1445 ᴴ | 20-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2