🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-05-1445 ᴴ | 19-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-05-1445 ᴴ | 19-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت عبید اللہ بن ابراہیم عبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

عبید اللہ بن ابراہیم بن احمد بن عبد الملک بن دمر بن عبد العزیز بن محمد جمال الدین المحبوبی العبادی نسب آپ کا عبادہ بن الصامت صحابی کی طرف منتہی ہوتا ہے اس لیے آپ کو عبادی کہتے تھے اور چونکہ محبوب بھی آپ کے اجداد میں سے ایک کا نام تھاا س لیے محبوبی بھی کہتے تھے۔۵؍جمادی الاولیٰ۵۴۶ھ میں پیدا ہوئے۔

علم امام زادہ محمد بن ابی بکر صاحب شرعۃ الاسلام اور شمس الائمہ عماد الدین عمر بن کر زر نجری اور فقہ قاضی خان اوزجندی سے حاصل کی یہاں تک کہ امام کامل اور فاضل بے مثل ہوئے معرفت مذہب و خلاف میں یکتائے روزگار اور ثقہ تھے،ماوراء النہر میں ان شیوخ حنفیہ میں سے گذرے ہیں جن پر مذہب کی معرفت منتہی ہوئی تھی۔جمال الدین لقب تھا اور ابی حنفیہ ثانی کے نام سے مشہور تھے،شرح جامع صغیر اور کتاب الفروق آپ کی تصنیفات میں سے ہیں۔آپ سے آپ کے بیٹے احمد والد تاج الشریعہ صاحب وقایہ اور حافظ الدین کبیر محمد بخاری اور حمید الدین صریر علی بن محمد بخاری اور بہاء الدین محمد بن احمد اسپیجابی اور ظہیر ابو بکر احمد بن علی بلخی وغیرہ علماء نے فقہ حاصل کی ـ

وصال:
چوراسی برس کے ہوکر بخارا میں ماہ جمادی الاولیٰ ۶۳۰ھ میں وفات پائی ۔ ’’ بحر ہدایت ‘‘ اور ’’ حقائق شناس ‘‘ تاریخ وفات ہیں ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ubaidullah-bin-ibrahim-ibadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا حکیم حبیب علی علوی کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی ۔ لقب: علویط، کاکوروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: حکیم مشتاق علی علیہ الرحمہ ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 5 جمادی الاول 1264ھ، بمطابق اپریل 1848ء کو " کاکوری " (ضلع لکھنؤ، اتر پردیش ، انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے مولانا مفتی عنایت احمد ، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا شاہ علی اکبر کاکوروی سے درسیات پڑھی، 17 برس کی عمر میں درسیات تمام کر کے سند فضیلت حاصل کی ۔ طب والد سے پڑھی ۔

بیعت و خلافت:
آپ مولانا شاہ حیدر علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حضرت علامہ مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علماء حقہ میں سے ہیں، آپ کا تعلق ان وارثانِ منبرومحراب سے ہے،جن کونائبِ مصطفیٰ ﷺ کہا جاتا ہے ۔ آپ نے باطل کا مقابلہ، اور حق کا ساتھ دیا ۔

ابتداءً آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے رکنِ خاص تھے ۔ لیکن جب ان کے مقاصد معلوم ہوئے، جو کہ سراسر اہلیانِ اسلام کے خلاف اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے، تو آپ نے علماء حقہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ آپ کی ساری زندگی شریعتِ اسلامیہ کی ترویج میں گزری ۔ کوئی ایسا کام جو خلاف شریعت ہوتا آپ اس کو ناقابلِ برداشت سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ اٹاوہ اور مین پوری میں احکام شریعت کی پابندی آپ کی ذات سے بہت ہوئی تھی ۔

مسلمانوں کو شریعت پر سختی سےعمل کی تلقین کرتے ، اور اغیار کی تقلید سے منع کرتے تھے ۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے، اس کے ماسوا میں ذلت ہی ذلت ہے ۔

اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجدد دین وملت علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں تاریخ وفات کہی ہے:

محب، حبیب اللہ یعلو فمن ھنا
حبیب علیٍّ کان خادم سُنۃ

حبیب لبیب بالذکاء ذکی
یقول أسیً فی عام رحلۃ الرضا

حبیب علیٍّ بالحبیب علیٍ
وھادم بدعاتِ وذاک جلی

سمی مُنًی بالسناء بھی
حبیب علی فی الولا لرضی

وصال:
آپ کا وصال 64 برس کی عمر میں فالج کے مرض سے بروز ہفتہ 25 ذیقعدہ 1330ھ، بمطابق نومبر 1912ء کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-habib-ali-alvi-kakorvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
سید میراں محمد شاہ ٹکھڑائی رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240 ھ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں " ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔

بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔

سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلندوبالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے باکمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔ انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب ومدون کیاان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔

چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کھانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی۔آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔

تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309 ھ / بمطابق دسمبر 1891 ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہوکر واصل باللہ ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
خواجہ غلام فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: حضرت محبوب الہٰی خواجہ خدا بخش چشتی نظامی بن قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلۂ عالم علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1234ھ، مطابق 1818ء کو ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ کی ظاہری و باطنی تربیت و تعلیم اپنے والدِ گرامی حضرت محبوب الہٰی کے ہاتھوں ہوئی ۔ والد گرامی نے آپ کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے کر آپ کو علم و عرفان کا وہ نگینہ بنا دیا کہ خانقاہ چاچڑاں شریف ہو یا کوٹ مٹھن شریف یا شیدانی شریف کا دربارِ گوہر بار ، آپ پورے خانوادے میں نمایاں اور افضل نظر آتے تھے ۔ حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ نے آپ سے کسبِ علوم کیا تھا ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت خواجہ خدابخش علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے، والد ِ ماجد نے راہ سلوک کی منازل طے کرانے کے بعد آپ کو اپنی حیات مبارکہ میں ہی خرقہ خلافت سے سرفراز فرما کر صاحب ِارشاد کردیا تھا ۔

سیرت و خصائص:
پیشوائے ارباب ِطریقت و شریعت، عالم علومِ ربانی ، طائر ہوائے لامکانی، سائر عمان سبحانی، مرشدِ لاثانی حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ بہت بڑے عالم تھے ۔ آپ کی عظمت وفضیلت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ آپ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ اور پیر و مرشد ہیں ۔ آپ انتہا درجہ کے عابد و زاہد، متقی و پرہیز گار اور شریعت و طریقت کے پابند بزرگ تھے ۔ پوری زندگی میں صرف تین نمازیں فوت ہوئیں جن کی قضا وصال سے قبل ہی ادا کر دی تھی ۔

آپ اپنے اسلاف کی زندگی کا عملی نمونہ ارو اپنے خواجگان کے طریقہ پر سختی سے پابند تھے۔ پوری زندگی میں کوئی کام خلاف شرع سرزد نہ ہونے دیا اور نہ کسی کو خلاف شریعت کام کرنے دیتے تھے۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ تصوف کی بنیاد ہی شریعت ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو عمارت کیسے مضبوط رہے گی ۔ ہمارے تمام بزرگان دین نے شریعت کی سیڑھی سے ہی طریقت کی منزل کو حاصل کیا ہے۔آپ نے اپنے شیخ کامل کے طریقہ کے مطابق زندگی، اصول اور عبادت و ریاضت اور خانقاہی نظام کو چلایا ۔ حتیٰ کہ ہر شعبۂ زندگی میں شریعت کے متبع تھے ۔

آپ کی عظمت اہل حق کی نظر میں:
آپ کے مرید و خلیفہ اور برادرِ اصغر حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ ہمارے شیخ اکبر خواجۂ بزرگ بلند مقام کے حامل ہیں۔ ان کے متعلق حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمۃ کے سجادہ نشین خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :کہ "دراصل مشائخ ِ چشتیہ اور پیرانِ طریقت کے سجادۂ مشیخیت پر خواجہ فخر الدین قدس سرہ متمکن ہیں نہ ہم اورنہ دوسرا کوئی"۔

خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ؏:

فخر جہاں قبول کیتو سے
واقف کل اسرار تھیو سے

خاص فرید غلام فخر دا
باندا بردااس دے در دا

گھول گھتاں میں فخر جہاں توں
جنت حور قصور

یارفرید کوں ایویں ساڑیو
جیویں جلیا کوہِ طور

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 5 جمادی الاول 1288ھ، مطابق ماہِ جولائی1871ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار کوٹ مٹھن شریف میں مرجع ِخاص و عام ہے۔ جہاں آج بھی اہل دل حضرات حاضری دے کر آپ کے نورانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:4 ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghulam-fakhruddin-fakhar-jahan
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ محکم الدین صاحب السیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ سلسلہ اویسیہ کے ممتاز مشائخ اور خلفاء میں شمار ہوتے ہیں اپنے عم زاد حضرت شیخ عبدالحق اویسی قدس سرہ کے مرید اور خلیفہ تھے اپنے مرشد سے بڑا روحانی فیض حاصل کیا، صاحب وجد و سماع ہوئے، اور اکثر حالت سکر و جذب میں رہتے تھے، آپ کا استغراق اور مستی حد کمال کو پہنچی ہوئی تھی، سارے عالم اسلام کی سیاحت کی، اس سیر و سیاحت کی وجہ سے آپ کا خطاب صاحب السیر پڑ گیا تھا۔

آپ جس دن بیعت ہوئے تو حضرت خواجہ عبدالخالق اویسی نے آپ کو حکم دیا کہ حضرت چاولہ کے روضہ پر جاکر اعتکاف بیٹھ جاؤ حضرت چاولہ قدس سرہ اولیائے مستور میں سے تھے آ پ کا مزار زیارت گاہ خلق تھا، شیخ محکم الدین وہاں گئے اور معتکف ہوئے، چالیس دن تک بلا کھائے پیے اعتکاف میں رہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور کمالات کے مقام حاصل کرلیے خلوت کدہ سے نکلے روزہ افطار کرنا چاہا، دل میں خیال ہے کہ سامنے بیری کے درخت کے ساتھ سرخ بیر لگے ہیں، ان سے افطار کیا جائے ناگاہ ایک سفیدپوش شخص غیب سے نمودار ہوا اور چند دانے بیر پیش کیے اور فرمایالے لیں ان میووں سے روزہ افطار فرمائیں اور اب یہاں سے چلے جاؤ، کیونکہ تمہارا مقصد پورا ہوگیا ہے حضرت نے روزہ افطار کیا اور وہاں سے روانہ ہوکر حضرت پیر و مرشد خواجہ عبدالخالق قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت نے دیکھتے ہی فرمایا کہ جب ہم روزہ افطار کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کو حکم دیا کہ سدرہ المنتہیٰ سے بیر لے کو افطاری کے لیے جائیں، حضرت خضر نے تکمیل حکم خداوندی کے طور پر تمہارے سامنے بیر لاکر رکھے۔

جب حضرت صاحب ایستر کوہستان کے علاقہ میں بمقام سنہگل کدہ پہنچے تو وہاں ایک ہندو پنڈت رہا کرتا تھا یہ پنڈت جوگی کی حیثیت سے مجاہدہ کر رہا تھا، اس نے دیکھا کہ آنے والے بزرگ بھی صاحب کرامت ہیں، آگے بڑھا اور کہنے لگا حضرت یہاں رہنے کے لیے تو کوئی کرامت دکھانا پڑے گی، آپ نے فرمایا: ہم اللہ کے دروازے کے فقیر ہیں، کرامت نمائی ہمارا کام نہیں ہے اگر تم کچھ دکھانا چاہتے ہو تو دکھاؤ، جو گی اپنے استدراج کے زور سے دیکھتے دیکھتے اور چند لمحوں بعد پھر ظاہر ہوگیا اس نے ایسا کئی بار کیا، حضرت اسیر نے جوگی سے پوچھا یہ کمال استدراج تمہیں کیسے حاصل ہوا کہنے لگا آج تک میرے نفس یادل نے جو بات کہی میں نے اس کے خلاف ہی کام کیا میں ساری عمر خواہش کے خلاف کام کرتا رہا، اس طرح مجھے یہ کمال حاصل ہوا، آپ نے فرمایا: کیا تم اسلام قبول کرنے کی خواہش رکھتے ہو، اور کیا تمہارا دل چاہتا ہے کہ مشرف باسلام ہوجاؤ، کہنے لگا نہیں میرا دل نہیں چاہتا، آپ نے فرمایا: پھر تم دل کی خواہش کے خلاف کام کرو اور مسلمان ہوجاؤ، جوگی اپنے دل کی خواہش کے خلاف اقدام کرنے سے رک گیا، آپ نے فرمایا: اب تم اپنی خواہش کے خلاف نہیں جاتے تو غائب ہوکر دکھاؤ اس نے سارا زور لگایا مگر قوت استدراج سے محروم ہوگیا، اور اپنے آپ کو غائب نہ کرسکا، لاجواب اور عاجز ہوکر سر قدموں میں رکھ دیا، اور اسلام قبول کرلیا آپ نے ایک نگاہ سے اسے فیض باطنی سے نوازا اور کمالات تک پہنچایا پھر اس کا نام عبدالسلام رکھا اور اس علاقے کے لوگوں کی ہدایت پر مامور فرمادیا، اس وقت تک حضرت عبدالسلام کا مزار زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔

ایک بار دوران سفر جب کہ آپ کا خادم محمد وارث آپ کے ساتھ تھا ایک سائل حاضر ہوا اور کہنے لگا حضرت میری چند نوجوان بیٹیاں ہیں، غربت کی وجہ سے ان کی شادی نہیں کرسکتا اگر آپ کرم فرمائیں تو مجھے پانچ سو روپیہ عطا فرمائیں تاکہ ان کی شادی کرسکوں، آپ اس وقت بڑے خوش وقت تھے اپنا عصاء محمد وارث کے ہاتھ سے لیا، اور زمین پر نوک گاڑ کر کہا یہاں سے کھود کر پانچ سو روپے کی تھیلی نکال لو تھیلی نکالی، اور سائل کو دے دی، سائل لے کر چلا گیا، اور بے دریغ خرچ کرتا رہا، اس کو غلط فہمی ہوئی کہ اس جگہ بہت سا مال دبا ہوا ہے، اب میں جس جگہ رہوں گا جاکر اکھاڑ لاؤں گا، حضرت تو وہاں سے روانہ ہوگئے وہ ایک دن اسی مقام پر پہنچا اور زمین کھودنے لگا مگر بڑامایوس ہوا وہاں سے کچھ نہ نکلا پہلا روپیہ بھی خرچ کرچکا تھا، رونا دھونا شروع کیا، حضرت کے پیچھے بھاگا حضرت رک گئے اور پوچھا اب تمہیں کیا ہوا کہنے لگا حضور میں نے طمع کیا اور طمع کے تینوں الفاظ خالی ہوتے ہیں، میں بھی آپ کے انعام سے محروم ہوگیا ہوں سارا واقعہ سنایا حضرت شیخ کو اس پر ترس آگیا، پھر آپ نے اپنا عصاء زمین پر مارا، اور وہی تھیلی نکالکر اس کے حوالے کر دی ۔
2
حضرت صاحب ایسر پر حالتِ سُکر یا کیفیت استغراق طاری ہوئی، تو آپ ایک ایک دن ایک ایک ماہ بلکہ بعض اوقات چار چار ماہ تک بے ہوش رہتے، اس کیفیت میں آپ کو ظاہری دنیا کی قطعاً کوئی خبر نہ ہوتی، آپ راٹھی شہر کے قریب ایک تالاب کے کنارے بیٹھ جاتے اس تالب میں بڑا گہرا پانی تھا، بارش کے موسم میں یہ تالاب لبالب ہوتا، آپ سماع کی مجلس جماتے، حالت وجد میں کود کر تالاب میں کود جاتے، ایک بار مجلس سماع برپا تھی، آپ پر وجد و حال کی کیفیت طاری ہوئی، ہزاروں حاضرین کے ہوتے ہوئے آپ عالم استغراق میں تالاب میں کود گئے اور دیکھتے دیکھتے پانی کی تہہ میں چلے گئے لوگوں نے جستجو کی غوطہ خوروں نے سارے تالاب کو چھان مارا مگر ناکام رہے، آخر ہار کر صبر کرلیا اور لوگوں نے یہ مشہور کردیا، کہ آپ بھی حضرت شیخ قطب الدین بن خواجہ عبدالخالق قدس سرہ کی طرح ظاہر ین آنکھوں سے غائب ہوکر رجال الغیب یا ابدال جہاں کے ساتھ جا ملے ہیں، چار پانچ ماہ گزرے، تالاب کا پانی خشک ہوا، گاؤں کے زمینداروں نے تالاب کی مٹی کو اٹھا اٹھا کر اپنے کام میں لانا شروع کردیا کہ ایک کدالی کو کوئی چیز لگی، غور سے دیکھا کہ کوئی انسانی بدن زیر زمین دفن ہے، نہایت احتیاط سے اس جسم کو مٹی سے اٹھایا گیا، تو حضور صاحب السیر اویسی قدس سرہ کا مجسم جسم تھا، آپ اسی طرح حالت استغراق اور سکر میں ہیں، قوالوں کو بلایا گیا، نعت رسول شروع ہوئی تو آپ نے آنکھیں کھولیں، ہوش میں آئے تو لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ صحیح سالم ہیں۔

حضرت خواجہ سلیمان قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میں ابھی بچہ ہی تھا کہ حضرت صاحب السیر شیخ محکم الدین قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت تونسہ کی مسجد میں نماز ظہر ادا کرنے کے بعد مراقبہ میں بیٹھے تھے، میں نے دیکھا کہ ایک کابلی پٹھان آپ کے پاس آیا، سلام عرض کرنے کے بعد پاس ہی بیٹھ گیا اور کہنے لگا حضرت میں کسی مرد حق کی تلاش میں ملک بہ ملک پھر رہا ہوں، اب قطع مسافت کرتے کرتے پنجاب پہنچا ہوں، ابھی تک میر دامنِ مراد خالی ہے، آپ نے سن کر فرمایا مردان حق سے نہ دنیا خالی ہے اور نہ کوئی ملک یا شہر ان کے غیر آباد رہ سکتا ہے وہ ہر ملک اور ہر شہر میں موجود ہوتے ہیں، صرف نظر حق بین چاہیے، نظر باطن ہو تومحروم نہیں رہتا، اس افغان نے کہا: حضور اب میں یہاں سے محروم نہیں جاؤں گا، آپ نے فرمایا: تمہارا حصۃ تو ایک عرصہ سے ہمارے پاس امانت ہے کیا اپنا حصہ اکٹھا لینے کے خواہاں ہو یا آہستہ آہستہ پٹھان کو بڑا اشتیاق تھا کہنے لگا نہیں حضور میں اسی وقت امانت چاہتا ہوں آپ نے فرمایا تم اس بار گران کی برداشت نہیں رکھتے اگر لے بھی لو، تو برداشت نہیں کرسکو گے کہنے لگا میری جان نا تو ان مشعوق حقیقی کے قربان ہے، آپ نے فرمایا اچھا، آگے آہو اور کلمہ لا الہ الا اللہ زبان سے پڑھو، جب اس نے پڑھا شیخ نے بھی اس کے ساتھ پڑھا مگر لا الہ الا اللہ کی ضرب جو لگائی تو سائل تڑپ کر زمین پر گر پڑا اور مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگا، آخر کار افتاں و خیزاں اور تڑپتے تڑپتے حوض میں جاگرا وہ پانی میں گرا ہی تھا کہ حوض کا پانی جوش مارنے لگا یوں معلوم ہوتا تھا کہ دیگ میں پانی ابل رہا ہے حضرت شیخ کی خانقاہ کے درویش بڑی مشکل سے اسے پانی سے نکالنے میں کامیاب ہوئے، چند لمحے گزرے تو وہ واصل بحق ہو گیا، حضور نے اس شہید عشق الٰہی کی تجہیز و تکفین کی اور سپرد خاک کیا۔

حضرت خواجہ سلیمان یہ واقعہ بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ مجذوب افغان حوض کے پانی میں گرا، تو ایک چڑیا نے حوض کے کنارے سے چونچ بھر کر پانی پی لیا، اسی وقت مست ہوگئی اسی مستی کے عالم میں اڑی اور مسجد کے مینار پر جا بیٹھی، عصر کی نماز کے وقت امام نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو چڑیا حالت وجد میں آگئی نیچے آئی اور عالم مستی میں زمین پر تڑپنے لگی، پھر پرواز کیا اور مینار پر جا بیٹھی، اسی طرح امام اللہ اکبر کہتا تو چڑیا زمین پر آگرتی تڑپتی اور اڑ کر مینار پر جا بیٹھتی ۔
2
حضرت محکم الدین صاحب السیر قدس سرہ کے نو خلفا تھے یہ خلفا بڑے بلند مراتب ہوئے انہیں حضور کی فیض تربیت سے خاصا حصہ ملا تھا۔

۱۔ حافظ قمر الدین ساکن کوٹھ قائم رئیس (آپ نواب سرفراز خان حاکم ملتان کے پیرو مرشد تھے)۔

۲۔ شیخ محمد سلیم قریشی ثانی قدس سرہ

۳۔ شاہ ابوالفتح ساکن مو (قدس سرہ)

۴۔ خواجہ سلیمان قدس سرہ (ان کا مزار آپ کے پہلو میں ہے)

۵۔ شیخ محمد انور ملتانی (آپ بھی حضرت کے پہلو میں آسودہ خاک ہیں)

۶۔ شیخ اللہ داد قدس سرہ آپ ڈیرہ غازی خاں کے تھے، مگر آپ کا مزار بھی ملتان میں ہے۔

۷۔ دیوان محمد غوث جلال پور پیروالہ (آپ پیر قتال کی اولاد میں سے تھے)۔

۸۔ شیخ دوست محمد قدس سرہ (آپ کا مزا ر موضع جہانگڑ میں زیارت گاہ خلق ہے)

۹۔ حافظ عبدالکریم قاری قدس سرہ (آپ قرآن کی قرأت اور خوش آوازی میں سارے پنجاب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے بعض تذکرہ نگار شیخ جوگی عبدالسلام جن کا واقعہ سابقہ صفحات پر گزرا ہے کوئی بھی آپ خلیفہ و ہم شمار کرتے ہیں ۔

وصال:
آپ کا وصال پنجم جمادی الثانی ۱۱۹۷ھ میں ہوا، مزار پر انوار کوٹ بخشا متصل بہاول پور میں ہے، حضرت شیخ غلام اویس اویسی قدس سرہ نے آپ کی وفات پر یہ قطع تاریخ لکھا تھا۔

پیر محکم الدین برفت افسوس شد
از وصالش ہاتفم تاریخ گفت

روح پاکش طاہر فردوس شد
لحد آں گل گلشنِ فردوس شد
۱۱۹۷ھ

( خذینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-mohkumuddin-sahib-ul-seer
2