🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-05-1445 ᴴ | 19-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-05-1445 ᴴ | 19-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت عبید اللہ بن ابراہیم عبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
عبید اللہ بن ابراہیم بن احمد بن عبد الملک بن دمر بن عبد العزیز بن محمد جمال الدین المحبوبی العبادی نسب آپ کا عبادہ بن الصامت صحابی کی طرف منتہی ہوتا ہے اس لیے آپ کو عبادی کہتے تھے اور چونکہ محبوب بھی آپ کے اجداد میں سے ایک کا نام تھاا س لیے محبوبی بھی کہتے تھے۔۵؍جمادی الاولیٰ۵۴۶ھ میں پیدا ہوئے۔
علم امام زادہ محمد بن ابی بکر صاحب شرعۃ الاسلام اور شمس الائمہ عماد الدین عمر بن کر زر نجری اور فقہ قاضی خان اوزجندی سے حاصل کی یہاں تک کہ امام کامل اور فاضل بے مثل ہوئے معرفت مذہب و خلاف میں یکتائے روزگار اور ثقہ تھے،ماوراء النہر میں ان شیوخ حنفیہ میں سے گذرے ہیں جن پر مذہب کی معرفت منتہی ہوئی تھی۔جمال الدین لقب تھا اور ابی حنفیہ ثانی کے نام سے مشہور تھے،شرح جامع صغیر اور کتاب الفروق آپ کی تصنیفات میں سے ہیں۔آپ سے آپ کے بیٹے احمد والد تاج الشریعہ صاحب وقایہ اور حافظ الدین کبیر محمد بخاری اور حمید الدین صریر علی بن محمد بخاری اور بہاء الدین محمد بن احمد اسپیجابی اور ظہیر ابو بکر احمد بن علی بلخی وغیرہ علماء نے فقہ حاصل کی ـ
وصال:
چوراسی برس کے ہوکر بخارا میں ماہ جمادی الاولیٰ ۶۳۰ھ میں وفات پائی ۔ ’’ بحر ہدایت ‘‘ اور ’’ حقائق شناس ‘‘ تاریخ وفات ہیں ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ubaidullah-bin-ibrahim-ibadi
عبید اللہ بن ابراہیم بن احمد بن عبد الملک بن دمر بن عبد العزیز بن محمد جمال الدین المحبوبی العبادی نسب آپ کا عبادہ بن الصامت صحابی کی طرف منتہی ہوتا ہے اس لیے آپ کو عبادی کہتے تھے اور چونکہ محبوب بھی آپ کے اجداد میں سے ایک کا نام تھاا س لیے محبوبی بھی کہتے تھے۔۵؍جمادی الاولیٰ۵۴۶ھ میں پیدا ہوئے۔
علم امام زادہ محمد بن ابی بکر صاحب شرعۃ الاسلام اور شمس الائمہ عماد الدین عمر بن کر زر نجری اور فقہ قاضی خان اوزجندی سے حاصل کی یہاں تک کہ امام کامل اور فاضل بے مثل ہوئے معرفت مذہب و خلاف میں یکتائے روزگار اور ثقہ تھے،ماوراء النہر میں ان شیوخ حنفیہ میں سے گذرے ہیں جن پر مذہب کی معرفت منتہی ہوئی تھی۔جمال الدین لقب تھا اور ابی حنفیہ ثانی کے نام سے مشہور تھے،شرح جامع صغیر اور کتاب الفروق آپ کی تصنیفات میں سے ہیں۔آپ سے آپ کے بیٹے احمد والد تاج الشریعہ صاحب وقایہ اور حافظ الدین کبیر محمد بخاری اور حمید الدین صریر علی بن محمد بخاری اور بہاء الدین محمد بن احمد اسپیجابی اور ظہیر ابو بکر احمد بن علی بلخی وغیرہ علماء نے فقہ حاصل کی ـ
وصال:
چوراسی برس کے ہوکر بخارا میں ماہ جمادی الاولیٰ ۶۳۰ھ میں وفات پائی ۔ ’’ بحر ہدایت ‘‘ اور ’’ حقائق شناس ‘‘ تاریخ وفات ہیں ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ubaidullah-bin-ibrahim-ibadi
❤2
حضرت مولانا حکیم حبیب علی علوی کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی ۔ لقب: علویط، کاکوروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: حکیم مشتاق علی علیہ الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 5 جمادی الاول 1264ھ، بمطابق اپریل 1848ء کو " کاکوری " (ضلع لکھنؤ، اتر پردیش ، انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے مولانا مفتی عنایت احمد ، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا شاہ علی اکبر کاکوروی سے درسیات پڑھی، 17 برس کی عمر میں درسیات تمام کر کے سند فضیلت حاصل کی ۔ طب والد سے پڑھی ۔
بیعت و خلافت:
آپ مولانا شاہ حیدر علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حضرت علامہ مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علماء حقہ میں سے ہیں، آپ کا تعلق ان وارثانِ منبرومحراب سے ہے،جن کونائبِ مصطفیٰ ﷺ کہا جاتا ہے ۔ آپ نے باطل کا مقابلہ، اور حق کا ساتھ دیا ۔
ابتداءً آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے رکنِ خاص تھے ۔ لیکن جب ان کے مقاصد معلوم ہوئے، جو کہ سراسر اہلیانِ اسلام کے خلاف اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے، تو آپ نے علماء حقہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ آپ کی ساری زندگی شریعتِ اسلامیہ کی ترویج میں گزری ۔ کوئی ایسا کام جو خلاف شریعت ہوتا آپ اس کو ناقابلِ برداشت سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ اٹاوہ اور مین پوری میں احکام شریعت کی پابندی آپ کی ذات سے بہت ہوئی تھی ۔
مسلمانوں کو شریعت پر سختی سےعمل کی تلقین کرتے ، اور اغیار کی تقلید سے منع کرتے تھے ۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے، اس کے ماسوا میں ذلت ہی ذلت ہے ۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجدد دین وملت علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں تاریخ وفات کہی ہے:
محب، حبیب اللہ یعلو فمن ھنا
حبیب علیٍّ کان خادم سُنۃ
حبیب لبیب بالذکاء ذکی
یقول أسیً فی عام رحلۃ الرضا
حبیب علیٍّ بالحبیب علیٍ
وھادم بدعاتِ وذاک جلی
سمی مُنًی بالسناء بھی
حبیب علی فی الولا لرضی
وصال:
آپ کا وصال 64 برس کی عمر میں فالج کے مرض سے بروز ہفتہ 25 ذیقعدہ 1330ھ، بمطابق نومبر 1912ء کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-habib-ali-alvi-kakorvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی ۔ لقب: علویط، کاکوروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: حکیم مشتاق علی علیہ الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 5 جمادی الاول 1264ھ، بمطابق اپریل 1848ء کو " کاکوری " (ضلع لکھنؤ، اتر پردیش ، انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے مولانا مفتی عنایت احمد ، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی، مولانا شاہ علی اکبر کاکوروی سے درسیات پڑھی، 17 برس کی عمر میں درسیات تمام کر کے سند فضیلت حاصل کی ۔ طب والد سے پڑھی ۔
بیعت و خلافت:
آپ مولانا شاہ حیدر علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حضرت علامہ مولانا حکیم حبیب علی کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علماء حقہ میں سے ہیں، آپ کا تعلق ان وارثانِ منبرومحراب سے ہے،جن کونائبِ مصطفیٰ ﷺ کہا جاتا ہے ۔ آپ نے باطل کا مقابلہ، اور حق کا ساتھ دیا ۔
ابتداءً آپ " مجلس ندوۃ العلماء " کے رکنِ خاص تھے ۔ لیکن جب ان کے مقاصد معلوم ہوئے، جو کہ سراسر اہلیانِ اسلام کے خلاف اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے، تو آپ نے علماء حقہ کا ساتھ دیتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ آپ کی ساری زندگی شریعتِ اسلامیہ کی ترویج میں گزری ۔ کوئی ایسا کام جو خلاف شریعت ہوتا آپ اس کو ناقابلِ برداشت سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ اٹاوہ اور مین پوری میں احکام شریعت کی پابندی آپ کی ذات سے بہت ہوئی تھی ۔
مسلمانوں کو شریعت پر سختی سےعمل کی تلقین کرتے ، اور اغیار کی تقلید سے منع کرتے تھے ۔ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے، اس کے ماسوا میں ذلت ہی ذلت ہے ۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مجدد دین وملت علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں تاریخ وفات کہی ہے:
محب، حبیب اللہ یعلو فمن ھنا
حبیب علیٍّ کان خادم سُنۃ
حبیب لبیب بالذکاء ذکی
یقول أسیً فی عام رحلۃ الرضا
حبیب علیٍّ بالحبیب علیٍ
وھادم بدعاتِ وذاک جلی
سمی مُنًی بالسناء بھی
حبیب علی فی الولا لرضی
وصال:
آپ کا وصال 64 برس کی عمر میں فالج کے مرض سے بروز ہفتہ 25 ذیقعدہ 1330ھ، بمطابق نومبر 1912ء کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-habib-ali-alvi-kakorvi
❤2
سید میراں محمد شاہ ٹکھڑائی رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240 ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں " ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔
سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلندوبالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے باکمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔ انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب ومدون کیاان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔
چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کھانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی۔آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔
تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309 ھ / بمطابق دسمبر 1891 ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہوکر واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240 ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں " ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔
سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلندوبالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے باکمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔ انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب ومدون کیاان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔
چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کھانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی۔آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔
تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309 ھ / بمطابق دسمبر 1891 ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہوکر واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
❤2
حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ غلام فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: حضرت محبوب الہٰی خواجہ خدا بخش چشتی نظامی بن قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلۂ عالم علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1234ھ، مطابق 1818ء کو ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ظاہری و باطنی تربیت و تعلیم اپنے والدِ گرامی حضرت محبوب الہٰی کے ہاتھوں ہوئی ۔ والد گرامی نے آپ کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے کر آپ کو علم و عرفان کا وہ نگینہ بنا دیا کہ خانقاہ چاچڑاں شریف ہو یا کوٹ مٹھن شریف یا شیدانی شریف کا دربارِ گوہر بار ، آپ پورے خانوادے میں نمایاں اور افضل نظر آتے تھے ۔ حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ نے آپ سے کسبِ علوم کیا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت خواجہ خدابخش علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے، والد ِ ماجد نے راہ سلوک کی منازل طے کرانے کے بعد آپ کو اپنی حیات مبارکہ میں ہی خرقہ خلافت سے سرفراز فرما کر صاحب ِارشاد کردیا تھا ۔
سیرت و خصائص:
پیشوائے ارباب ِطریقت و شریعت، عالم علومِ ربانی ، طائر ہوائے لامکانی، سائر عمان سبحانی، مرشدِ لاثانی حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ بہت بڑے عالم تھے ۔ آپ کی عظمت وفضیلت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ آپ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ اور پیر و مرشد ہیں ۔ آپ انتہا درجہ کے عابد و زاہد، متقی و پرہیز گار اور شریعت و طریقت کے پابند بزرگ تھے ۔ پوری زندگی میں صرف تین نمازیں فوت ہوئیں جن کی قضا وصال سے قبل ہی ادا کر دی تھی ۔
آپ اپنے اسلاف کی زندگی کا عملی نمونہ ارو اپنے خواجگان کے طریقہ پر سختی سے پابند تھے۔ پوری زندگی میں کوئی کام خلاف شرع سرزد نہ ہونے دیا اور نہ کسی کو خلاف شریعت کام کرنے دیتے تھے۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ تصوف کی بنیاد ہی شریعت ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو عمارت کیسے مضبوط رہے گی ۔ ہمارے تمام بزرگان دین نے شریعت کی سیڑھی سے ہی طریقت کی منزل کو حاصل کیا ہے۔آپ نے اپنے شیخ کامل کے طریقہ کے مطابق زندگی، اصول اور عبادت و ریاضت اور خانقاہی نظام کو چلایا ۔ حتیٰ کہ ہر شعبۂ زندگی میں شریعت کے متبع تھے ۔
آپ کی عظمت اہل حق کی نظر میں:
آپ کے مرید و خلیفہ اور برادرِ اصغر حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ ہمارے شیخ اکبر خواجۂ بزرگ بلند مقام کے حامل ہیں۔ ان کے متعلق حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمۃ کے سجادہ نشین خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :کہ "دراصل مشائخ ِ چشتیہ اور پیرانِ طریقت کے سجادۂ مشیخیت پر خواجہ فخر الدین قدس سرہ متمکن ہیں نہ ہم اورنہ دوسرا کوئی"۔
خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ؏:
فخر جہاں قبول کیتو سے
واقف کل اسرار تھیو سے
خاص فرید غلام فخر دا
باندا بردااس دے در دا
گھول گھتاں میں فخر جہاں توں
جنت حور قصور
یارفرید کوں ایویں ساڑیو
جیویں جلیا کوہِ طور
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 5 جمادی الاول 1288ھ، مطابق ماہِ جولائی1871ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار کوٹ مٹھن شریف میں مرجع ِخاص و عام ہے۔ جہاں آج بھی اہل دل حضرات حاضری دے کر آپ کے نورانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:4 ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghulam-fakhruddin-fakhar-jahan
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ غلام فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: حضرت محبوب الہٰی خواجہ خدا بخش چشتی نظامی بن قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلۂ عالم علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1234ھ، مطابق 1818ء کو ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ظاہری و باطنی تربیت و تعلیم اپنے والدِ گرامی حضرت محبوب الہٰی کے ہاتھوں ہوئی ۔ والد گرامی نے آپ کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے کر آپ کو علم و عرفان کا وہ نگینہ بنا دیا کہ خانقاہ چاچڑاں شریف ہو یا کوٹ مٹھن شریف یا شیدانی شریف کا دربارِ گوہر بار ، آپ پورے خانوادے میں نمایاں اور افضل نظر آتے تھے ۔ حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ نے آپ سے کسبِ علوم کیا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی حضرت خواجہ خدابخش علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے، والد ِ ماجد نے راہ سلوک کی منازل طے کرانے کے بعد آپ کو اپنی حیات مبارکہ میں ہی خرقہ خلافت سے سرفراز فرما کر صاحب ِارشاد کردیا تھا ۔
سیرت و خصائص:
پیشوائے ارباب ِطریقت و شریعت، عالم علومِ ربانی ، طائر ہوائے لامکانی، سائر عمان سبحانی، مرشدِ لاثانی حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ بہت بڑے عالم تھے ۔ آپ کی عظمت وفضیلت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ آپ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ اور پیر و مرشد ہیں ۔ آپ انتہا درجہ کے عابد و زاہد، متقی و پرہیز گار اور شریعت و طریقت کے پابند بزرگ تھے ۔ پوری زندگی میں صرف تین نمازیں فوت ہوئیں جن کی قضا وصال سے قبل ہی ادا کر دی تھی ۔
آپ اپنے اسلاف کی زندگی کا عملی نمونہ ارو اپنے خواجگان کے طریقہ پر سختی سے پابند تھے۔ پوری زندگی میں کوئی کام خلاف شرع سرزد نہ ہونے دیا اور نہ کسی کو خلاف شریعت کام کرنے دیتے تھے۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ تصوف کی بنیاد ہی شریعت ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو عمارت کیسے مضبوط رہے گی ۔ ہمارے تمام بزرگان دین نے شریعت کی سیڑھی سے ہی طریقت کی منزل کو حاصل کیا ہے۔آپ نے اپنے شیخ کامل کے طریقہ کے مطابق زندگی، اصول اور عبادت و ریاضت اور خانقاہی نظام کو چلایا ۔ حتیٰ کہ ہر شعبۂ زندگی میں شریعت کے متبع تھے ۔
آپ کی عظمت اہل حق کی نظر میں:
آپ کے مرید و خلیفہ اور برادرِ اصغر حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ ہمارے شیخ اکبر خواجۂ بزرگ بلند مقام کے حامل ہیں۔ ان کے متعلق حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمۃ کے سجادہ نشین خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :کہ "دراصل مشائخ ِ چشتیہ اور پیرانِ طریقت کے سجادۂ مشیخیت پر خواجہ فخر الدین قدس سرہ متمکن ہیں نہ ہم اورنہ دوسرا کوئی"۔
خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ؏:
فخر جہاں قبول کیتو سے
واقف کل اسرار تھیو سے
خاص فرید غلام فخر دا
باندا بردااس دے در دا
گھول گھتاں میں فخر جہاں توں
جنت حور قصور
یارفرید کوں ایویں ساڑیو
جیویں جلیا کوہِ طور
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 5 جمادی الاول 1288ھ، مطابق ماہِ جولائی1871ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار کوٹ مٹھن شریف میں مرجع ِخاص و عام ہے۔ جہاں آج بھی اہل دل حضرات حاضری دے کر آپ کے نورانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:4 ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ghulam-fakhruddin-fakhar-jahan
❤2