🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-05-1445 ᴴ | 18-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-05-1445 ᴴ | 18-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-05-1445 ᴴ | 18-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-05-1445 ᴴ | 18-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ عبد اللطیف المعروف امام بری سرکار رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ عبد الطیف ۔ لقب: امام بری سرکار ( خشکی کے امام ) ۔ لقب سے ہی معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید عبد الطیف امام برّی بن سید محمود بن سید حامد بن سید بودلہ بن سید شاہ سکندر ۔ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کے والدِ ماجد سید سخی محمود کاظمی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔
( ان کا مزار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر ہے ) ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1026ھ، مطابق 1617ء کو موضع کرسال تحصیل چکوال ضلع جہلم (پاکستان) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ مزید علم حاصل کرنے کے لیے آپ کو غور غشتی ضلع کیمل پور بھیجا گیا ۔ جو اس زمانے میں علم کا مرکز تھا ۔ وہاں آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور ریاضی وغیرہ علوم کی مکمل تحصیل کی ۔ اس کے علاوہ علم ِطب بھی حاصل کیا ۔ ظاہری علوم حاصل کرنے کے بعد آپ کشمیر، بدخشاں، مشہد، نجف اشرف، کربلا معلیٰ، بغداد، بخارا، مصر، دمشق کی سیر و سیاحت کرتے رہے پھر وہاں سے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت حیات المیر رحمۃ اللہ علیہ کے دست پر بیعت ہوئے اور مجاہدات کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، شیخ الاتقیاء، عارفِ شریعت و طریقت و حقیقت، واصل باللہ حضرت شاہ عبداللطیف المعروف امام بری سرکار رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت امام بری اپنے عہد کے عظیم اور مشہور اولیاء میں سے ہیں ۔ آپ کا تعلق سلسلۂ قادریہ سے ہے آپ کی زندگی میں زہد اور جذب بہت نمایاں ہے آپ کی بزرگی اور عظمت کا چرچہ عام ہے ۔
اللہ جل شانہ کچھ بندوں کو خصوصی نوازتا ہے، اور ان کو شروع سے ہی اپنی ذات کے لئے منتخب فرما لیتا ہے ۔ ان ہستیوں میں سے ایک عظیم ہستی حضرت امام بری علیہ الرحمہ کی ذاتِ گرامی ہے ۔
آپ پر بچپن سے ہی ولایت کے آثار نمایاں تھے ۔ آپ کا بچپن عام بچوں سے قطعاً مختلف تھا ۔ بچپن ہی میں آپ کا رحجان زہد و تقویٰ ترکِ دنیا اور مذہب کی طرف مائل تھا ۔ گاؤں کے دیگر بچوں سے مل کر نہیں کھیلتے تھے، بلکہ اپنے مویشیوں کو لےکر گاؤں سے دور نکل جاتے تھے، اور علیحدگی میں بیٹھ کر عبادتِ الہٰی میں مشغول ہو جاتے اور مویشی ادھر ادھر چرتے رہتے اور شام کو انہیں جمع کرکے واپس گھر لے جاتے ۔
بچپن میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی کو گالی دی، اور نہ کبھی غیبت کی، اور شرارت سے ہمیشہ دور رہتے تھے ۔ آپ کے اس رحجان اور مالکِ حقیقی سے عشقِ صادق کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ چھوٹی سی عمر میں اللہ کے محبوب بن گئے اور آپ کی زبان میں ایسی تاثیر پیدا ہو گئی تھی جو بات منہ سے نکالتے پوری ہو جاتی تھی ۔
حالتِ جذب سے پہلے آپ نے " چور پور " میں قیام کی جو بعد میں آپ کی برکت سے " نور پور شاہاں " کے نام سے مشہور ہوا ۔ یہاں آپ نے رشد و ہدایت کا سلسلہ احسن طریقہ سے شروع کیا ۔ دینِ مبین کو منظم انداز میں جاری کرنے کے لیے دروس کا سلسلہ شروع کیا ۔ آپ کی روحانیت و علم کی شہرت سن کر دور دراز سے لوگ آپ کے درس میں شرکت کے لیے آیا کرتے تھے ۔ آپ نے اپنی درسگاہ میں طلباء کے لیے ان کی خورد و نوش کا بھی انتظام کر رکھا تھا ۔ جس کے اخراجات اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں سے پورے کرتا تھا ۔
آپ ایک عالمِ با عمل تھے ۔ حقیقت و طریقت آپ پر روز روشن کی طرح عیاں تھی ۔ نوجوانوں کی زندگی اور ان کے تخیل کی رفعت و پابندی آپ کی تربیت پر منحصر تھی ۔
آپ کی زندگی اتباع رسول ﷺ کا کامل نمونہ تھی ۔ آپ نے پوٹھوہار کے خطہ میں رشد و ہدایت کے وہ چراغ روشن کیے کہ تمام علاقے کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ آپ نے بے لوث دینی خدمات سر انجام دیں ۔ آپ کے دمِ قدم سے کفر اور ظلمتوں کے بادل چھٹ گئے ۔ آپ نے لوگوں کو جہاں اخلاقی، اسلامی اور مذہبی تعلیم دی ۔ وہاں تصوف اور روحانیت کے جام بھی لٹائے ۔ آپ ایک انقلاب آفریں ہستی تھے ۔ آپ کی نادر روزگار درسگاہ نے اسلام کو بہت ترقی دی، آپ نے اسلام کی حقیقی خدمت کرکے خدا کی رضا حاصل کی ۔ آپ کی تبلیغ سے سینکڑوں غیر مسلم دولتِ اسلام سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح اس وقت کے حکمرانوں کے عوام پر ظلم و ستم کے خلاف آپ کی آواز ایک اثر رکھتی تھی ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ عبد الطیف ۔ لقب: امام بری سرکار ( خشکی کے امام ) ۔ لقب سے ہی معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید عبد الطیف امام برّی بن سید محمود بن سید حامد بن سید بودلہ بن سید شاہ سکندر ۔ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کے والدِ ماجد سید سخی محمود کاظمی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔
( ان کا مزار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر ہے ) ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1026ھ، مطابق 1617ء کو موضع کرسال تحصیل چکوال ضلع جہلم (پاکستان) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ مزید علم حاصل کرنے کے لیے آپ کو غور غشتی ضلع کیمل پور بھیجا گیا ۔ جو اس زمانے میں علم کا مرکز تھا ۔ وہاں آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور ریاضی وغیرہ علوم کی مکمل تحصیل کی ۔ اس کے علاوہ علم ِطب بھی حاصل کیا ۔ ظاہری علوم حاصل کرنے کے بعد آپ کشمیر، بدخشاں، مشہد، نجف اشرف، کربلا معلیٰ، بغداد، بخارا، مصر، دمشق کی سیر و سیاحت کرتے رہے پھر وہاں سے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت حیات المیر رحمۃ اللہ علیہ کے دست پر بیعت ہوئے اور مجاہدات کے بعد خلافت سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، امام الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، شیخ الاتقیاء، عارفِ شریعت و طریقت و حقیقت، واصل باللہ حضرت شاہ عبداللطیف المعروف امام بری سرکار رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت امام بری اپنے عہد کے عظیم اور مشہور اولیاء میں سے ہیں ۔ آپ کا تعلق سلسلۂ قادریہ سے ہے آپ کی زندگی میں زہد اور جذب بہت نمایاں ہے آپ کی بزرگی اور عظمت کا چرچہ عام ہے ۔
اللہ جل شانہ کچھ بندوں کو خصوصی نوازتا ہے، اور ان کو شروع سے ہی اپنی ذات کے لئے منتخب فرما لیتا ہے ۔ ان ہستیوں میں سے ایک عظیم ہستی حضرت امام بری علیہ الرحمہ کی ذاتِ گرامی ہے ۔
آپ پر بچپن سے ہی ولایت کے آثار نمایاں تھے ۔ آپ کا بچپن عام بچوں سے قطعاً مختلف تھا ۔ بچپن ہی میں آپ کا رحجان زہد و تقویٰ ترکِ دنیا اور مذہب کی طرف مائل تھا ۔ گاؤں کے دیگر بچوں سے مل کر نہیں کھیلتے تھے، بلکہ اپنے مویشیوں کو لےکر گاؤں سے دور نکل جاتے تھے، اور علیحدگی میں بیٹھ کر عبادتِ الہٰی میں مشغول ہو جاتے اور مویشی ادھر ادھر چرتے رہتے اور شام کو انہیں جمع کرکے واپس گھر لے جاتے ۔
بچپن میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی کو گالی دی، اور نہ کبھی غیبت کی، اور شرارت سے ہمیشہ دور رہتے تھے ۔ آپ کے اس رحجان اور مالکِ حقیقی سے عشقِ صادق کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ چھوٹی سی عمر میں اللہ کے محبوب بن گئے اور آپ کی زبان میں ایسی تاثیر پیدا ہو گئی تھی جو بات منہ سے نکالتے پوری ہو جاتی تھی ۔
حالتِ جذب سے پہلے آپ نے " چور پور " میں قیام کی جو بعد میں آپ کی برکت سے " نور پور شاہاں " کے نام سے مشہور ہوا ۔ یہاں آپ نے رشد و ہدایت کا سلسلہ احسن طریقہ سے شروع کیا ۔ دینِ مبین کو منظم انداز میں جاری کرنے کے لیے دروس کا سلسلہ شروع کیا ۔ آپ کی روحانیت و علم کی شہرت سن کر دور دراز سے لوگ آپ کے درس میں شرکت کے لیے آیا کرتے تھے ۔ آپ نے اپنی درسگاہ میں طلباء کے لیے ان کی خورد و نوش کا بھی انتظام کر رکھا تھا ۔ جس کے اخراجات اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں سے پورے کرتا تھا ۔
آپ ایک عالمِ با عمل تھے ۔ حقیقت و طریقت آپ پر روز روشن کی طرح عیاں تھی ۔ نوجوانوں کی زندگی اور ان کے تخیل کی رفعت و پابندی آپ کی تربیت پر منحصر تھی ۔
آپ کی زندگی اتباع رسول ﷺ کا کامل نمونہ تھی ۔ آپ نے پوٹھوہار کے خطہ میں رشد و ہدایت کے وہ چراغ روشن کیے کہ تمام علاقے کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ آپ نے بے لوث دینی خدمات سر انجام دیں ۔ آپ کے دمِ قدم سے کفر اور ظلمتوں کے بادل چھٹ گئے ۔ آپ نے لوگوں کو جہاں اخلاقی، اسلامی اور مذہبی تعلیم دی ۔ وہاں تصوف اور روحانیت کے جام بھی لٹائے ۔ آپ ایک انقلاب آفریں ہستی تھے ۔ آپ کی نادر روزگار درسگاہ نے اسلام کو بہت ترقی دی، آپ نے اسلام کی حقیقی خدمت کرکے خدا کی رضا حاصل کی ۔ آپ کی تبلیغ سے سینکڑوں غیر مسلم دولتِ اسلام سے مشرف ہوئے ۔ اسی طرح اس وقت کے حکمرانوں کے عوام پر ظلم و ستم کے خلاف آپ کی آواز ایک اثر رکھتی تھی ۔
❤2
بادشاہِ ہند حضرت اورنگ زیب:
حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تھے، اس وقت آپ درسِ قرآن دے رہے تھے ۔ لیکن آپ نے اپنے درس کو جاری رکھا ۔ وہ کھڑے ہو کر سنتے رہے ۔ انہوں نے آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے پڑھا: اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم ۔
آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
ہم اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں مستغرق ہیں، ہمیں " اولی الامر " کی فرصت ہی نہیں ہے ۔
شہزادہ عالمگیر آپ کی خود داری، اور دین داری سے متاثر ہوئے ۔ آپ نے انہیں پورے ہندوستان کے بادشاہ بننے کی خوش خبری دی، اور ساتھ یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا، اور مخلوقِ خدا پر ظلم نہ کرنا، رزقِ حلال کھانا حرام سے بچنا ۔
( بادشاہ بننے کے بعد حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ نے ان تمام باتوں پر عمل کیا ) ـ
آخر میں جب وہ نذرانہ دینے لگے، تو آپ نے فرمایا: ہمیں ان سکوں کی ضرورت نہیں ہے، اس ملک میں بھوکے بہت ہیں ان کو دے دینا ۔
یہ تھے ہمارے اسلاف اولیاء اللہ جن کی زندگی کا ایک ایک باب روشن ہے ۔ لیکن اس وقت بقول مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ ؎
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن ۔ جو شاہینوں کے نشیمن تھے ، آج وہاں پہ گرگسوں نے قبضے جما لیے ہیں ۔
اسلام آباد:
قطب الاقطاب حضرت سید شاہ عبد اللطیف کاظمی المعروف امام بری نے آج (1438ھ) سے تین سو اکیس سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ نور پور پوٹھوہار ( موجودہ اسلام آباد ) کا یہ خطہ ایک دن نہ صرف فرزندانِ توحید کا مرکز بلکہ عالی شان چمکتا دمکتا شہر بن جائے گا اور اس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا ۔
حضرت امام بری سرکار کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور یہاں اسلام آباد کے نام سے ایک شہر آباد ہو گیا جو آج مملکت خدا داد پاکستان کا دار الحکومت ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سطح پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے ترجمان کے عظیم شرف سے ہمکنار بھی ہے ۔
ربِّ ذو الجلال سے دعا ہے کہ پرور دگارِ عالم! اسلام آباد کو اسم با مسمیّٰ بنا کر اس مملکتِ خدا داد کو نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بنائے ۔ (آمین ) ـ
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 1117ھ، میں وفات پائی ۔ آپ کا مزار شریف اسلام آباد میں زیارت گاہ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاکستان ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔ فیضانِ بری امام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-imam-bari-sarkar
حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تھے، اس وقت آپ درسِ قرآن دے رہے تھے ۔ لیکن آپ نے اپنے درس کو جاری رکھا ۔ وہ کھڑے ہو کر سنتے رہے ۔ انہوں نے آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے پڑھا: اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم ۔
آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
ہم اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں مستغرق ہیں، ہمیں " اولی الامر " کی فرصت ہی نہیں ہے ۔
شہزادہ عالمگیر آپ کی خود داری، اور دین داری سے متاثر ہوئے ۔ آپ نے انہیں پورے ہندوستان کے بادشاہ بننے کی خوش خبری دی، اور ساتھ یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا، اور مخلوقِ خدا پر ظلم نہ کرنا، رزقِ حلال کھانا حرام سے بچنا ۔
( بادشاہ بننے کے بعد حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ نے ان تمام باتوں پر عمل کیا ) ـ
آخر میں جب وہ نذرانہ دینے لگے، تو آپ نے فرمایا: ہمیں ان سکوں کی ضرورت نہیں ہے، اس ملک میں بھوکے بہت ہیں ان کو دے دینا ۔
یہ تھے ہمارے اسلاف اولیاء اللہ جن کی زندگی کا ایک ایک باب روشن ہے ۔ لیکن اس وقت بقول مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ ؎
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن ۔ جو شاہینوں کے نشیمن تھے ، آج وہاں پہ گرگسوں نے قبضے جما لیے ہیں ۔
اسلام آباد:
قطب الاقطاب حضرت سید شاہ عبد اللطیف کاظمی المعروف امام بری نے آج (1438ھ) سے تین سو اکیس سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ نور پور پوٹھوہار ( موجودہ اسلام آباد ) کا یہ خطہ ایک دن نہ صرف فرزندانِ توحید کا مرکز بلکہ عالی شان چمکتا دمکتا شہر بن جائے گا اور اس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا ۔
حضرت امام بری سرکار کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور یہاں اسلام آباد کے نام سے ایک شہر آباد ہو گیا جو آج مملکت خدا داد پاکستان کا دار الحکومت ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سطح پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے ترجمان کے عظیم شرف سے ہمکنار بھی ہے ۔
ربِّ ذو الجلال سے دعا ہے کہ پرور دگارِ عالم! اسلام آباد کو اسم با مسمیّٰ بنا کر اس مملکتِ خدا داد کو نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا گہوارہ بنائے ۔ (آمین ) ـ
وصال:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 1117ھ، میں وفات پائی ۔ آپ کا مزار شریف اسلام آباد میں زیارت گاہ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاکستان ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔ فیضانِ بری امام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-imam-bari-sarkar
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Latif Imam Bari Sarkar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2