🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت علامہ مفتی عبد الہادی چانڈیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
مولانا مفتی محمد عبد الہادی بن مولانا حکیم الحاج مفتی محمد عبد الحق چانڈیو یکم جمادی الاول ۱۳۱۷ھ مطابق ۳ جون ۱۸۹۷ء بروز سوموار گوٹھ راوتسر ( تحصیل چھا چھر و ضلع تھر پار کر سندھ ) میں تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
اسلامی تعلیم و تربیت کیلئے والد صاحب نے صاحبزادے کو اپنے مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر میں داخل کر لیا ۔ مفتی عبد الہادی نے اپنے والد بزرگوار مفتی عبد الحق ، مولانا محمد امین گوہر ساند ، مولانا عبد الحکیم درس وغیرہ کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی ۔

مولانا مفتی عبد الہادی نہایت ذکی ذہین تھے دوران تعلیم پوری توجہ تعلیم کی جانب تھی، اس لئے جلد ہی کتابیں پوری کر لیں اور ۲۷ رجب المرجب ۱۳۴۲ھ / ۱۹۲۴ء کو ایک عظیم الشان جلسہ دستار فضیلت مدرسہ مظہر الحق والہدایہ کی جانب سے راوٗ تسر میں منعقد ہوا، جس میں سندھ کے نامور جید علماء و ممتاز خطباء نے شرکت کی اور دیگر طلباء کے ساتھ مولانا مفتی محمد عبد الہادی کی دستار فضیلت ہوئی ۔

دستار کا پہلا پیچ تھر کی نامور علمی شخصیت مولانا محمد عثمان قرانی مجددی نے باندھا تھا ۔ اس کے بعد مولانا عبدالہادی نے مسلم اسکول راوتسر سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی اور جائنل کی تیاری شروع کی اور مٹھی ( ضلع تھر پار کر کا صدر مقام ) سے فائنل کا امتحان پاس کیا ۔

درس و تدریس:
مولانا مفتی عبدالہادی بعد فراغت مادر علمی میں مدرس مقرر ہوئے اور زندگی بھر درس و تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ اس طرح تھر جیسے پسماندہ علاقہ میں علم دین کو فروغ ملا ۔ درس کے بعد اکثر وقت کتب بنیی میں صرف کرتے تھے ۔

سفر حج:
مولانا صاحب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۷ء میں حج بیت اللہ اور روضۂ رسول کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ۔ سفر حج میں حاجی الہہ دتہ مہران پوتہ ، حاجی یار محمد ٹالھی، حاجی مقیم میمن ٹالھی رفیق سفر تھے ۔ آپ نے دوران حج و منیٰ میں امام انقلاب ، حر تحریک کے سپہ سالار ، شیخ طریقت حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی شہید قدس سرہ سے شرف ملاقات و زیارت کی ۔

مدینہ منورہ میں جامعہ مدینہ کے شیخ سے ملاقات کی علمی مجلس قائم ہوئی ، شیخ نے آپ کے تجر علمی کی تعریف کی اور سند حدیث عطا فرمائی ۔

صدمے:
حج شریف سے واپسی ہوئی تو اپنے معمول کے مطابق دار العلوم میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۵۸ھ میں والد صاحب کا انتقال ہوا ۔پدری شفقت سے محروم ہو گئے ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد تمام کام کی ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوئیں ۔ آپ نے والد صاحب کے تمام کام جاری رکھے اور صحیح جانشین ثابت ہوئے ۔

آپ علیہ الرحمہ پہلے صدمہ سے ابھی سنھبلنے نہ پائے تھے کہ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا ۱۹ جمادی الاول ۱۳۶۰ھ میں انتقال ہوا ۔

تیسرا صدمہ مولانا مفتی عبد الہادی کو ۱۹۷۱ء کی جنگ میں ملا کہ مال اسباب ، مسجد ، مدرسہ ، گھر ، کتب خانہ ، پریس ، دوا خانہ ، ہینڈ پمپ اور ڈاک خانہ وغیرہ دینی ور فاہی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ۔ جنگ کے بعد مفتی عبد الہادی نے دو بارہ ان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی ۔

خدمات:
والد صاحب کے انتقال کے بعد مفتی عبد الہادی نے دوسرے نمبر بیٹے مولانا حاجی محمد عالم اور پوتے مولانا حاجی عبد الحق کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔

بہت سارے کام آپ کے ذمہ تھے مثلاً:
تین اسکول کے ہیڈ معلم ، دار العلوم کے مہتمم ، دوا سازی ، امامت ، خطابت ، شرعی فیصلے ، فتاویٰ نویسی ، ڈاک خانہ ، مطب اور دیگر رفاعی و سماجی خدمات سر انجام دیں ۔ اپنے والد مرحوم کی طرح خدمت کے جذبہ سے سر شار تھے ، تعمیری سوچ کے حامل تھے ، ملت کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔

مولوی آباد کا قیام:
ایک روز راوٗ تسر کی تمام ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے مولانا محمد عالم کے سپرد کر کے خود گوٹھ ہیرار گئے ( جو کہ آپ کا آبائی علاقہ تھا لیکن رہائش نہ ہوئی تھی ) ۔ آپ کے والد مرحوم کی خواہش تھی کہ گوٹھ ہیرار کے قریب ایک نئی بستی آباد کی جائے اس لئے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ’’ گوٹھ مولوی آباد ‘‘ قائم کیا ۔ گوٹھ کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنے خرچہ پر ایک کنواں کھدوایا ۔ مسجد و مدرسہ کی بنیاد رکھی اور برانچ پوسٹ آفس قائم کروائی ۔ گوٹھ کی چوڑی گلیاں اور آب نکاسی کا بہترین نظام قائم کیا اور درخت لگوائے ۔ مسجد شریف و مدرسہ کے لئے معلم مقرر کئے ۔ تھوڑے عر صہ میں گوٹھ آباد ہو گیا اور مولوی آباد میں بھی اسلام کی تعلیم کا چرچہ ہونے لگا ۔ اس کے بعد اپنے گوٹھ راوتسر واپس آ گئے ۔
1
تصنیف و تالیف:
بے شمار مصروفیات کے باوجود تصنیف کی جانب بھی توجہ دی ۔ درج ذیل تصنیف آپ کی یاد گار ہیں ۔

٭ فتاویٰ ھادیہ دو جلدیں
٭ وصیت نامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے عربی وصیت نامہ کا سندھی ترجمہ

عبادت:
مولانا عبد الہادی چانڈیو نے سن بلوغت سے لے کر آخر عمر تک زاہد پرہیز گار رہے ۔ نماز پنج گانہ ، تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوابین کے نوافل ، تلاوت کلام پاک اور دلائل الخیرات شریف کا ورد بلانا غہ جاری رکھا ۔ رات کا اکثر حصہ عبادت میں گذارتے تھے ، سواری پر بھی ذکر اذکار جاری رکھتے تھے، دعا کرتے وقت اکثر گریہ فرماتے تھے ۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۹۵ئ)

مفتی عبدالہادی اور ان کے والد ماجد دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے اس لئے اس کتاب سے ایک حدیث شریف تبر کا نقل کرتا ہوں :

عرض کی گئی رسول اللہ ﷺ سے ، کیا آپ جانتے ہیں انہیںجو آپ پر درود بھیجتے ہیں ، جو آپ سے غائب ہیں اور جو آئیں گے آپ کے بعد ، ان دو گروہوں کاحال کیسا ہے ، آپ کے نزدیک ؟

فقال اسمع صلوۃ اھل محبتی و اعر فھم و تعرض علی صلوۃ غیرھم عرضا ۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں سنتا ہوں محبت سے درود و سلام پیش کرتے ہیں حضو ر انور ﷺ ان کا درود و سلام یہاں کا خودوہاں سماعت فرماتے ہیں اور درودو سلام پڑھنے والوں کو پہچانتے ہیں ۔ معلوم ہوا آپ ﷺ دور سے سنتے ہیں ، غیب کا علم رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے اپنے غلاموں کو جانتے پہچانتے ہیں ۔ یہی مفتی عبد الہادی چانڈیو کا مسلک تھا ۔

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
( حدائق بخشش )

شاعری:
مولانا عبدالہادی سخی مرد ، مہمان نواز، حلیم طبع ، کم گو ، حاذق حکیم تھے ، مفت علاج کرتے تھے ۔ دینی طبی فیوض و برکات لٹاتے تھے، مفتی تھے دور دراز علاقہ سے لوگ الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا نے کیلئے آپ کے حضور میں آتے تھے ۔ حافظہ کی قوت کا اس سے اندازہ کریں کہ کتاب کا نامباب صفحہ اور سطر تک بتا دیتے تھے ۔ تھر پار کر ، عمر کوٹ اور میر پور خاص اضلاع سے عوام و خواص علمی مسائل میں آپ کی ہی جانب رجوع کرتے تھے ۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ حضور پر نور ﷺ کی محبت میں سر شاردل رکھتے تھے، حضور ﷺ کے ثناء خواں و نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی شاعری حمد ، نعت ، مولود ، مناجات ، منقبت پر مشتمل ہے۔ اکثر شاعری دیگر قلمی ذخیرہ کتب کے ساتھ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں تباہ ہو گیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

اولاد:
مولانا مفتی عبدالہادی کو دو بیٹے تولد ہوئے۔ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا جوانی میں لاولد انتقال ہوا ۔ دوسرے بیٹے مولانا حاجی محمد عالم مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر کے مدرس و مہتمم ہیں ۔

وصال:
مفتی عبد الہادی ہفتہ علالت میں گذار کر ۸۲سال کی عمر میں ۱۹، فروری ۱۹۷۹ء بمطابق ۲۱، ربیع الاول شریف ۱۳۹۹ھ سو موار کی شب داعی اجل کو لبیک کہہ کر حقیقی محبوب سے جا ملے ۔ گوٹھ راو تسر کے قبرستان میں والد ماجد کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جہاں آپ کی مزار شریف ہے ۔

سن رحلت فقیر عبدالہادی
مشرف شد بلطف جود ہادی
۱۳۹۹ھ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-hadi-chandio
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا سید اختصاص حسین پھپھوندوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید اختصاص حسین ۔ علاقہ "پھپھوند" کی نسبت سے پھپھوندوی کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید اختصاص حسین بن مولانا سید شاہ اختصاص حسین بن سید شاہ انوار حسین علیم الرحمہ ۔ آپ کا تعلق خاندانِ ساداتِ کے عظیم خانوادے سے ہے۔شاہ صاحب کا پورا خاندان علم و فضل ،تقویٰ و طہارت میں مشہور زمانہ تھا ۔ بالخصوص آپ کے والد گرامی مولانا سید شاہ انوار حسین صاحب سہسوانی علیہ الرحمہ جامع علوم نقلیہ وعقلیہ ،جامع شریعت و طریقت اور مرجع الخلائق تھے۔عالم ربانی حضرت علامہ مولانا خواجہ عبدالصمد سہسوانی علیہ الرحمہ مولانا سید اختصاص حسین علیہ الرحمہ کےنانا محترم ہیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ جمادی الاول/1318ھ کو پھپھوند ضلع اٹاوہ میں ہوئی۔

تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، قرآن مجید اپنے نانا کے محبوب و مخصوص مرید مولانا حکیم مومن سجاد سے ختم کیا۔ کچھ دنوں تک مدرسہ مسعودیہ بہرائج شریف میں تعلیم پائی، پھر مدرسہ قادریہ اور شمس العلوم بد ایوں کے علماء مولانا سید دیانت حسین وغیرہ سے پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔آپ نےکم سنی میں ہی مرتبۂ کمال کوپہنچے،علم وفضل میں اپنی مثال آپ بنے۔

بیعت وخلافت:
اپنے ماموں حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندوی سے بیعت ہوئے، اور اپنے والد گرامی سے اجازت و خلافت پائی ۔

سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الصلحاء، صاحبِ اوصافِ کثیرہ ،جامع شریعت طریقت حضرت علامہ مولانا سید شاہ اختصاص حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجید عالم دین ،حامی سنت اور ماحیِ بدعت تھے۔آپ کاپوراخاندان علم وفضل میں پورےہندوستان میں معروف تھا۔آپ کی ذات عوام وخواص میں مرجع الخلائق تھی۔اللہ جل شانہ نےکئی خوبیوں سے متصف فرمایا تھا۔آپ کابیان مرتب ومسلسل ہوتا تھا۔جو ایک مرتبہ آپ کابیان سن لیتاتھا پھر وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔بیان میں رد وہابیہ ودیابنہ پر خصوصی توجہ تھی۔عقائد و معمولات اہل سنت ایسے حسین اندازمیں بیان کرتے کہ سامعین عش عش کر اٹھتے،اور ردوہابیہ میں ایسے دلائل قاہرہ سےرد کرتے کہ مجلس وعظ میں ہی کئی بدمذہب تائب ہوجاتے،اور ان کی شقاوت سعادت میں تبدیل ہوجاتی تھی۔

آپ علیہ الرحمہ اخلاص و دفا کا نمونہ، حسن اخلاق میں ممتاز،غم گساری، درد مندی خصوصی اوصاف ومحاسن کےمالک تھے، شعر گوئی کا خصوصی ملکہ تھا،نہایت زودگو اور پر گو تھے،کلام زیادہ تر نعتیہ ہوتا تھا،بندہ،شاذ اور نادر تخلص رکھتے تھے۔وصال سے ایک سال قبل اپنی تقریروں میں فرمایا کرتے کہ میں نے اپنے وقت معینہ سے زیادہ تقریر کی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ موقع پھر نہ ملے۔یعنی باتوں باتوں میں اپنے وصال کی خبردےدیتے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 28/شعبان المعظم 1364ھ، مطابق 8 اگست 1945ء، بروز بدھ، بوقت غروب ِآفتاب، علم کا آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ikhtisas-hussain-phaphondvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
فاضلِ جلیل مولانا محمد شمس الزماں قادری، لاہور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

عمدۃ المدرسین حضرت مولانا ابوالبدر محمد شمس الزماں [۱] قادری رضوی بن میاں اللہ بخش (مرحوم) یکم جمادی الاوّل ۱۲ اگست ۱۳۵۳ھ/ ۱۹۳۴ء میں علاقہ کمالیہ ضلع فیصل آباد کے موضع شیخ برہان میں پیدا ہوئے۔

آپ کے آباؤ اجداد میں سے ایک بزرگ حاجی شیر المعروف دیوان چاولی مشائخ، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ کے ہم عصر گزرے ہیں ۔ موصوف زہد و تقویٰ کے مجسمہ تھے اور حضرت بابا صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں اکثر حاضر ہوا کرتے تھے ۔

علامہ شمس الزماں قادری کے والد میاں اللہ بخش مرحوم، حضرت پیر سید قطب علی شاہ رحمہ اللہ کے مریدِ خاص اور معتمد علیہ تھے، صاحب کشف بزرگ تھے، ذریعۂ معاش زراعت تھی اور علاقہ کے معروف کھلاڑی تھے۔

[۱۔ آپ کا نام محمد زمان تھا، لیکن حضرت محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ نے آپ کے نام کو شمس الزماں کے نام سے بدلا، اس تبدیلی کی وجہ علامہ موصوف نے یوں بیان فرمائی کہ دورۂ حدیث کے دوران فیصل آباد کے نواح میں ایک مقام پر حضرت محدثِ اعظم نے مجھے جمعہ پڑھانے کے لیے بھیجا ۔ اس علاقہ میں غیر مقلدوں کے دو مشہور مولوی، مولوی صمصام اور مولوی اکرام الحق رہتے تھے اور وہ اہل سنت کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف رہتے ۔

جب میں وہاں گیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے چند دنوں میں انقلاب برپا ہو گیا ۔ ایک وہابی مولوی نے توبہ کی اور ایک وہابی کو مناظرہ میں شکست کی بنا پر مسجد چھوڑنا پڑی، چنانچہ مولوی صمصام نے نہایت پریشان ہوکر مناظرہ کا چیلنج کیا، حضرت صاحب رحمہ اللہ نے خصوصی تربیت فرمائی اور الحمد للہ مناظرہ میں کامیابی نصیب ہوئی، وہابیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس پر حضرت صاحب نے فرمایا تم آج سے شمس الزماں ہو ۔ (مرتب سے حضرت علامہ کی گفتگو)]

مولانا شمس الزماں قادری رضوی نے درسِ نظامی کی تعلیم مختلف مدارس سے حاصل کی ۔ آغاز دربار پیرِ سیّد قطب علی شاہ سند ھلیانوالی، پیر محل ضلع فیصل آباد سے کیا، جہاں آپ نے تقریباً تین چار سال حضرت مولانا غلام مجتبیٰ سے علمی استفادہ کیا۔ ایک سال مدرسہ عربیہ انوارالعلوم میں حضرت علامہ مفتی مسعود علی رحمہ اللہ اور دیگر اساتذہ سے پڑھتے رہے۔ تین سال جامعہ سلیمانیہ دربار پیر صلاح الدین ماموں کانجمن میں حضرت مولانا محمد عظیم کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ ایک سال جامعہ کریمیہ رضویہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں حضرت علامہ مولانا ولی النبی سے تعلیم حاصل کیا ور آخری دو سال جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں گزارے جہاں میر زاہد، ملا حسن اور ہدایہ آخرین وغیرہا کتب حضرت مولانا مفتی نواب الدین اور حضرت مولانا مختارالحق سے پڑحیں، جبکہ توضیح تلویح، سراجی اور صحاح ستہ (کتبِ حدیث) حضرت محدثِ اعظم مولانا سردار احمد قدس سرہ سے پڑھ کر ۱۹۵۶ء میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

آپ نے دو سال جھنگ میں علومِ اسلامیہ کی تدریس فرمائی۔ ۶۰/ ۱۹۵۹ء میں جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔ ۱۹۶۲ء/ ۱۹۶۱ میں جامعہ نعیمیہ لاہور اور پھر ۶۴/ ۱۹۶۳ء میں دوبارہ جامعہ نطامیہ رضویہ لاہور میں درسِ نظامی کے مدرس رہےاور پھر ۱۹۶۵ء میں ’’غوث العلوم‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا۔ جہاں آپ جامعہ کے جملہ انتظامات کے علاوہ پڑھاتے بھی ہیں۔

پھر جامع مسجد بیڈن روڈ لاہور میں خطیب مقرر ہوئے۔ ۱۹۶۶ء جامع مسجد صدیقیہ سمن آباد میں بھی امامت و خطابت کے فرائض سنبھال لیے اور دارالعلوم کو بھی کرایہ کی جگہ سے اسی مسجد میں منتقل کیا جہاں آپ نے درسِ نظامی اور حفظ و قرأت کا معقول انتظام کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں مختلف مساجد میں درس قرآن بھی دیتے ہیں۔

تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹۷۷ء اور تحریکِ ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جگہ جگہ تقاریر کے ذریعے تحریک کے مقاصد سے لوگوں کو آگاہ کیا، تحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ پر ڈی۔ پی۔ آر کے تحت تین کیس بھی بنائے گئے۔

آپ جمعیت علماء پاکستان ضلع لاہور کے نائب صدر اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن رہ چکے ہیں۔ جماعتِ اہل سنّت ضلع لاہور کی صدارت بھی آپ کے ذمہ ہیں۔

مولانا شمس الزماں قادری نے ’’مناقب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پر ایک کتابچہ تحریر کرکے چھپوایا اور ذکر بالجہر پر ایک کتابچہ تحریر کیا، لیکن طباعت سے قبل مسودہ گم ہوگیا۔

دسمبر ۱۹۷۲ء میں آپ حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے ۔
1
بیعت و خلافت:
آپ کو سلسلہ قادریہ میں حضرت محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل ہے۔

یوں تو آپ سے علومِ اسلامیہ کا اکتساب کرنے والے اصحاب کثیر التعداد ہیں تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

۲۔ مولانا مفتی سید مزمل حسین شاہ، مہتمم جامعہ حسینیہ فیض العلوم ملتان روڈ لاہور

۳۔ مولانا مفتی محمد رمضان، خطیب جامع مسجد موضع شیخ برہان (کمالیہ)

۴۔ مولانا مفتی ہدایت اللہ پسروری، مہتمم مدرسہ غوثیہ ہدایت القرآن، ملتان

۵۔ قاری خوشی محمد (قاری ریڈیو و ٹیلی ویژن) لاہور، حال جامعہ ازہر، مصر

۶۔ مولانا عبدالتواب صدیقی، لاہور

۷۔ مولانا محمد سردار (ابن حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی) لاہور

۸۔ مولانا حافظ احمد یار جھنگوی، خطیب جامع مسجد مسلم کالونی، لاہور

۹۔ مولانا نذیر احمد

۱۰۔ مولانا جمیل احمد، کوٹ پنڈی داس، ضلع شیخوپورہ

۱۱۔ مولانا غلام ربانی، لاہور

۱۲۔ مولانا غلام فرید ہزاروی، ناظم دفتر جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور

حضرت مولانا شمس الزماں قادری کے ہاں ایک صاحبزادہ اور چھ صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔ صاحبزادہ محمد بدرالزماں نے میٹرک فسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور آج کل جامعہ غوثیہ بھیرہ میں زیرِ تعلیم ہیں۔[۱]

[۱۔ تمام کوائف مرتب نے حضرت مولانا موصوف سے براہِ راست غوث العلوم سمن آباد لاہور میں ۲۴؍نومبر ۱۹۷۸ء کو حاصل کیے۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shamsuzzaman-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تاج الدین حضرت عبداللہ ابنِ ترکمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
احمد بن عثمان بن ابراہیم بن مصطفیٰ ماردینی:

ولادت:
آپ قاہرہ میں شنبہ کی رات، بتاریخ ۲۵ ذی الحجہ ۶۸۱ھ میں پیدا ہوئے ۔

درس و تدریس:
فقہ اپنے باپ اور بھائی سے پڑھی اور حدیث کو دمیاطی اور ابنِ صواف سے سنا اور روایت کیا، مدت تک تدریس کی اور فتوےٰ دیا ۔

لقب:
تاج الدین لقب تھا، مگر ابن ترکمانی کے نام سے مشہور تھے ۔

تصنیفات:
تصانیف بہت عمدہ فقہ و اصول فقہ و حدیث و فرائض و نحو و ہئیت اور منطق وغیرہ میں کیں اور جامع کبیر و ہدایہ کی شرح تصنیف کی ـ

وصال:
اور غرہ ماہ جمادی الاولیٰ ۷۴۴ھ میں وفات پائی ۔ ’’معدن شرف‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/tajuddin-hazrat-abdullah-ibn-e-turkmani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-04-1445 ᴴ | 15-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-05-1445 ᴴ | 16-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1