🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-04-1445 ᴴ | 15-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-04-1445 ᴴ | 15-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-04-1445 ᴴ | 15-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-04-1445 ᴴ | 15-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت علامہ مفتی عبد الہادی چانڈیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا مفتی محمد عبد الہادی بن مولانا حکیم الحاج مفتی محمد عبد الحق چانڈیو یکم جمادی الاول ۱۳۱۷ھ مطابق ۳ جون ۱۸۹۷ء بروز سوموار گوٹھ راوتسر ( تحصیل چھا چھر و ضلع تھر پار کر سندھ ) میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
اسلامی تعلیم و تربیت کیلئے والد صاحب نے صاحبزادے کو اپنے مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر میں داخل کر لیا ۔ مفتی عبد الہادی نے اپنے والد بزرگوار مفتی عبد الحق ، مولانا محمد امین گوہر ساند ، مولانا عبد الحکیم درس وغیرہ کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی ۔
مولانا مفتی عبد الہادی نہایت ذکی ذہین تھے دوران تعلیم پوری توجہ تعلیم کی جانب تھی، اس لئے جلد ہی کتابیں پوری کر لیں اور ۲۷ رجب المرجب ۱۳۴۲ھ / ۱۹۲۴ء کو ایک عظیم الشان جلسہ دستار فضیلت مدرسہ مظہر الحق والہدایہ کی جانب سے راوٗ تسر میں منعقد ہوا، جس میں سندھ کے نامور جید علماء و ممتاز خطباء نے شرکت کی اور دیگر طلباء کے ساتھ مولانا مفتی محمد عبد الہادی کی دستار فضیلت ہوئی ۔
دستار کا پہلا پیچ تھر کی نامور علمی شخصیت مولانا محمد عثمان قرانی مجددی نے باندھا تھا ۔ اس کے بعد مولانا عبدالہادی نے مسلم اسکول راوتسر سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی اور جائنل کی تیاری شروع کی اور مٹھی ( ضلع تھر پار کر کا صدر مقام ) سے فائنل کا امتحان پاس کیا ۔
درس و تدریس:
مولانا مفتی عبدالہادی بعد فراغت مادر علمی میں مدرس مقرر ہوئے اور زندگی بھر درس و تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ اس طرح تھر جیسے پسماندہ علاقہ میں علم دین کو فروغ ملا ۔ درس کے بعد اکثر وقت کتب بنیی میں صرف کرتے تھے ۔
سفر حج:
مولانا صاحب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۷ء میں حج بیت اللہ اور روضۂ رسول کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ۔ سفر حج میں حاجی الہہ دتہ مہران پوتہ ، حاجی یار محمد ٹالھی، حاجی مقیم میمن ٹالھی رفیق سفر تھے ۔ آپ نے دوران حج و منیٰ میں امام انقلاب ، حر تحریک کے سپہ سالار ، شیخ طریقت حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی شہید قدس سرہ سے شرف ملاقات و زیارت کی ۔
مدینہ منورہ میں جامعہ مدینہ کے شیخ سے ملاقات کی علمی مجلس قائم ہوئی ، شیخ نے آپ کے تجر علمی کی تعریف کی اور سند حدیث عطا فرمائی ۔
صدمے:
حج شریف سے واپسی ہوئی تو اپنے معمول کے مطابق دار العلوم میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۵۸ھ میں والد صاحب کا انتقال ہوا ۔پدری شفقت سے محروم ہو گئے ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد تمام کام کی ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوئیں ۔ آپ نے والد صاحب کے تمام کام جاری رکھے اور صحیح جانشین ثابت ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ پہلے صدمہ سے ابھی سنھبلنے نہ پائے تھے کہ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا ۱۹ جمادی الاول ۱۳۶۰ھ میں انتقال ہوا ۔
تیسرا صدمہ مولانا مفتی عبد الہادی کو ۱۹۷۱ء کی جنگ میں ملا کہ مال اسباب ، مسجد ، مدرسہ ، گھر ، کتب خانہ ، پریس ، دوا خانہ ، ہینڈ پمپ اور ڈاک خانہ وغیرہ دینی ور فاہی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ۔ جنگ کے بعد مفتی عبد الہادی نے دو بارہ ان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی ۔
خدمات:
والد صاحب کے انتقال کے بعد مفتی عبد الہادی نے دوسرے نمبر بیٹے مولانا حاجی محمد عالم اور پوتے مولانا حاجی عبد الحق کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔
بہت سارے کام آپ کے ذمہ تھے مثلاً:
تین اسکول کے ہیڈ معلم ، دار العلوم کے مہتمم ، دوا سازی ، امامت ، خطابت ، شرعی فیصلے ، فتاویٰ نویسی ، ڈاک خانہ ، مطب اور دیگر رفاعی و سماجی خدمات سر انجام دیں ۔ اپنے والد مرحوم کی طرح خدمت کے جذبہ سے سر شار تھے ، تعمیری سوچ کے حامل تھے ، ملت کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔
مولوی آباد کا قیام:
ایک روز راوٗ تسر کی تمام ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے مولانا محمد عالم کے سپرد کر کے خود گوٹھ ہیرار گئے ( جو کہ آپ کا آبائی علاقہ تھا لیکن رہائش نہ ہوئی تھی ) ۔ آپ کے والد مرحوم کی خواہش تھی کہ گوٹھ ہیرار کے قریب ایک نئی بستی آباد کی جائے اس لئے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ’’ گوٹھ مولوی آباد ‘‘ قائم کیا ۔ گوٹھ کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنے خرچہ پر ایک کنواں کھدوایا ۔ مسجد و مدرسہ کی بنیاد رکھی اور برانچ پوسٹ آفس قائم کروائی ۔ گوٹھ کی چوڑی گلیاں اور آب نکاسی کا بہترین نظام قائم کیا اور درخت لگوائے ۔ مسجد شریف و مدرسہ کے لئے معلم مقرر کئے ۔ تھوڑے عر صہ میں گوٹھ آباد ہو گیا اور مولوی آباد میں بھی اسلام کی تعلیم کا چرچہ ہونے لگا ۔ اس کے بعد اپنے گوٹھ راوتسر واپس آ گئے ۔
ولادت:
مولانا مفتی محمد عبد الہادی بن مولانا حکیم الحاج مفتی محمد عبد الحق چانڈیو یکم جمادی الاول ۱۳۱۷ھ مطابق ۳ جون ۱۸۹۷ء بروز سوموار گوٹھ راوتسر ( تحصیل چھا چھر و ضلع تھر پار کر سندھ ) میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
اسلامی تعلیم و تربیت کیلئے والد صاحب نے صاحبزادے کو اپنے مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر میں داخل کر لیا ۔ مفتی عبد الہادی نے اپنے والد بزرگوار مفتی عبد الحق ، مولانا محمد امین گوہر ساند ، مولانا عبد الحکیم درس وغیرہ کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی ۔
مولانا مفتی عبد الہادی نہایت ذکی ذہین تھے دوران تعلیم پوری توجہ تعلیم کی جانب تھی، اس لئے جلد ہی کتابیں پوری کر لیں اور ۲۷ رجب المرجب ۱۳۴۲ھ / ۱۹۲۴ء کو ایک عظیم الشان جلسہ دستار فضیلت مدرسہ مظہر الحق والہدایہ کی جانب سے راوٗ تسر میں منعقد ہوا، جس میں سندھ کے نامور جید علماء و ممتاز خطباء نے شرکت کی اور دیگر طلباء کے ساتھ مولانا مفتی محمد عبد الہادی کی دستار فضیلت ہوئی ۔
دستار کا پہلا پیچ تھر کی نامور علمی شخصیت مولانا محمد عثمان قرانی مجددی نے باندھا تھا ۔ اس کے بعد مولانا عبدالہادی نے مسلم اسکول راوتسر سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی اور جائنل کی تیاری شروع کی اور مٹھی ( ضلع تھر پار کر کا صدر مقام ) سے فائنل کا امتحان پاس کیا ۔
درس و تدریس:
مولانا مفتی عبدالہادی بعد فراغت مادر علمی میں مدرس مقرر ہوئے اور زندگی بھر درس و تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ اس طرح تھر جیسے پسماندہ علاقہ میں علم دین کو فروغ ملا ۔ درس کے بعد اکثر وقت کتب بنیی میں صرف کرتے تھے ۔
سفر حج:
مولانا صاحب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۷ء میں حج بیت اللہ اور روضۂ رسول کریم ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ۔ سفر حج میں حاجی الہہ دتہ مہران پوتہ ، حاجی یار محمد ٹالھی، حاجی مقیم میمن ٹالھی رفیق سفر تھے ۔ آپ نے دوران حج و منیٰ میں امام انقلاب ، حر تحریک کے سپہ سالار ، شیخ طریقت حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی شہید قدس سرہ سے شرف ملاقات و زیارت کی ۔
مدینہ منورہ میں جامعہ مدینہ کے شیخ سے ملاقات کی علمی مجلس قائم ہوئی ، شیخ نے آپ کے تجر علمی کی تعریف کی اور سند حدیث عطا فرمائی ۔
صدمے:
حج شریف سے واپسی ہوئی تو اپنے معمول کے مطابق دار العلوم میں تدریس کا مشغلہ جاری رکھا ۔ ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۵۸ھ میں والد صاحب کا انتقال ہوا ۔پدری شفقت سے محروم ہو گئے ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد تمام کام کی ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوئیں ۔ آپ نے والد صاحب کے تمام کام جاری رکھے اور صحیح جانشین ثابت ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ پہلے صدمہ سے ابھی سنھبلنے نہ پائے تھے کہ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا ۱۹ جمادی الاول ۱۳۶۰ھ میں انتقال ہوا ۔
تیسرا صدمہ مولانا مفتی عبد الہادی کو ۱۹۷۱ء کی جنگ میں ملا کہ مال اسباب ، مسجد ، مدرسہ ، گھر ، کتب خانہ ، پریس ، دوا خانہ ، ہینڈ پمپ اور ڈاک خانہ وغیرہ دینی ور فاہی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ۔ جنگ کے بعد مفتی عبد الہادی نے دو بارہ ان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی ۔
خدمات:
والد صاحب کے انتقال کے بعد مفتی عبد الہادی نے دوسرے نمبر بیٹے مولانا حاجی محمد عالم اور پوتے مولانا حاجی عبد الحق کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔
بہت سارے کام آپ کے ذمہ تھے مثلاً:
تین اسکول کے ہیڈ معلم ، دار العلوم کے مہتمم ، دوا سازی ، امامت ، خطابت ، شرعی فیصلے ، فتاویٰ نویسی ، ڈاک خانہ ، مطب اور دیگر رفاعی و سماجی خدمات سر انجام دیں ۔ اپنے والد مرحوم کی طرح خدمت کے جذبہ سے سر شار تھے ، تعمیری سوچ کے حامل تھے ، ملت کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔
مولوی آباد کا قیام:
ایک روز راوٗ تسر کی تمام ذمہ داریاں اپنے صاحبزادے مولانا محمد عالم کے سپرد کر کے خود گوٹھ ہیرار گئے ( جو کہ آپ کا آبائی علاقہ تھا لیکن رہائش نہ ہوئی تھی ) ۔ آپ کے والد مرحوم کی خواہش تھی کہ گوٹھ ہیرار کے قریب ایک نئی بستی آباد کی جائے اس لئے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ’’ گوٹھ مولوی آباد ‘‘ قائم کیا ۔ گوٹھ کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنے خرچہ پر ایک کنواں کھدوایا ۔ مسجد و مدرسہ کی بنیاد رکھی اور برانچ پوسٹ آفس قائم کروائی ۔ گوٹھ کی چوڑی گلیاں اور آب نکاسی کا بہترین نظام قائم کیا اور درخت لگوائے ۔ مسجد شریف و مدرسہ کے لئے معلم مقرر کئے ۔ تھوڑے عر صہ میں گوٹھ آباد ہو گیا اور مولوی آباد میں بھی اسلام کی تعلیم کا چرچہ ہونے لگا ۔ اس کے بعد اپنے گوٹھ راوتسر واپس آ گئے ۔
❤1
تصنیف و تالیف:
بے شمار مصروفیات کے باوجود تصنیف کی جانب بھی توجہ دی ۔ درج ذیل تصنیف آپ کی یاد گار ہیں ۔
٭ فتاویٰ ھادیہ دو جلدیں
٭ وصیت نامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے عربی وصیت نامہ کا سندھی ترجمہ
عبادت:
مولانا عبد الہادی چانڈیو نے سن بلوغت سے لے کر آخر عمر تک زاہد پرہیز گار رہے ۔ نماز پنج گانہ ، تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوابین کے نوافل ، تلاوت کلام پاک اور دلائل الخیرات شریف کا ورد بلانا غہ جاری رکھا ۔ رات کا اکثر حصہ عبادت میں گذارتے تھے ، سواری پر بھی ذکر اذکار جاری رکھتے تھے، دعا کرتے وقت اکثر گریہ فرماتے تھے ۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۹۵ئ)
مفتی عبدالہادی اور ان کے والد ماجد دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے اس لئے اس کتاب سے ایک حدیث شریف تبر کا نقل کرتا ہوں :
عرض کی گئی رسول اللہ ﷺ سے ، کیا آپ جانتے ہیں انہیںجو آپ پر درود بھیجتے ہیں ، جو آپ سے غائب ہیں اور جو آئیں گے آپ کے بعد ، ان دو گروہوں کاحال کیسا ہے ، آپ کے نزدیک ؟
فقال اسمع صلوۃ اھل محبتی و اعر فھم و تعرض علی صلوۃ غیرھم عرضا ۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں سنتا ہوں محبت سے درود و سلام پیش کرتے ہیں حضو ر انور ﷺ ان کا درود و سلام یہاں کا خودوہاں سماعت فرماتے ہیں اور درودو سلام پڑھنے والوں کو پہچانتے ہیں ۔ معلوم ہوا آپ ﷺ دور سے سنتے ہیں ، غیب کا علم رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے اپنے غلاموں کو جانتے پہچانتے ہیں ۔ یہی مفتی عبد الہادی چانڈیو کا مسلک تھا ۔
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
( حدائق بخشش )
شاعری:
مولانا عبدالہادی سخی مرد ، مہمان نواز، حلیم طبع ، کم گو ، حاذق حکیم تھے ، مفت علاج کرتے تھے ۔ دینی طبی فیوض و برکات لٹاتے تھے، مفتی تھے دور دراز علاقہ سے لوگ الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا نے کیلئے آپ کے حضور میں آتے تھے ۔ حافظہ کی قوت کا اس سے اندازہ کریں کہ کتاب کا نامباب صفحہ اور سطر تک بتا دیتے تھے ۔ تھر پار کر ، عمر کوٹ اور میر پور خاص اضلاع سے عوام و خواص علمی مسائل میں آپ کی ہی جانب رجوع کرتے تھے ۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ حضور پر نور ﷺ کی محبت میں سر شاردل رکھتے تھے، حضور ﷺ کے ثناء خواں و نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی شاعری حمد ، نعت ، مولود ، مناجات ، منقبت پر مشتمل ہے۔ اکثر شاعری دیگر قلمی ذخیرہ کتب کے ساتھ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں تباہ ہو گیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
اولاد:
مولانا مفتی عبدالہادی کو دو بیٹے تولد ہوئے۔ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا جوانی میں لاولد انتقال ہوا ۔ دوسرے بیٹے مولانا حاجی محمد عالم مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر کے مدرس و مہتمم ہیں ۔
وصال:
مفتی عبد الہادی ہفتہ علالت میں گذار کر ۸۲سال کی عمر میں ۱۹، فروری ۱۹۷۹ء بمطابق ۲۱، ربیع الاول شریف ۱۳۹۹ھ سو موار کی شب داعی اجل کو لبیک کہہ کر حقیقی محبوب سے جا ملے ۔ گوٹھ راو تسر کے قبرستان میں والد ماجد کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جہاں آپ کی مزار شریف ہے ۔
سن رحلت فقیر عبدالہادی
مشرف شد بلطف جود ہادی
۱۳۹۹ھ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-hadi-chandio
بے شمار مصروفیات کے باوجود تصنیف کی جانب بھی توجہ دی ۔ درج ذیل تصنیف آپ کی یاد گار ہیں ۔
٭ فتاویٰ ھادیہ دو جلدیں
٭ وصیت نامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے عربی وصیت نامہ کا سندھی ترجمہ
عبادت:
مولانا عبد الہادی چانڈیو نے سن بلوغت سے لے کر آخر عمر تک زاہد پرہیز گار رہے ۔ نماز پنج گانہ ، تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوابین کے نوافل ، تلاوت کلام پاک اور دلائل الخیرات شریف کا ورد بلانا غہ جاری رکھا ۔ رات کا اکثر حصہ عبادت میں گذارتے تھے ، سواری پر بھی ذکر اذکار جاری رکھتے تھے، دعا کرتے وقت اکثر گریہ فرماتے تھے ۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۹۵ئ)
مفتی عبدالہادی اور ان کے والد ماجد دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے اس لئے اس کتاب سے ایک حدیث شریف تبر کا نقل کرتا ہوں :
عرض کی گئی رسول اللہ ﷺ سے ، کیا آپ جانتے ہیں انہیںجو آپ پر درود بھیجتے ہیں ، جو آپ سے غائب ہیں اور جو آئیں گے آپ کے بعد ، ان دو گروہوں کاحال کیسا ہے ، آپ کے نزدیک ؟
فقال اسمع صلوۃ اھل محبتی و اعر فھم و تعرض علی صلوۃ غیرھم عرضا ۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں سنتا ہوں محبت سے درود و سلام پیش کرتے ہیں حضو ر انور ﷺ ان کا درود و سلام یہاں کا خودوہاں سماعت فرماتے ہیں اور درودو سلام پڑھنے والوں کو پہچانتے ہیں ۔ معلوم ہوا آپ ﷺ دور سے سنتے ہیں ، غیب کا علم رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے اپنے غلاموں کو جانتے پہچانتے ہیں ۔ یہی مفتی عبد الہادی چانڈیو کا مسلک تھا ۔
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
( حدائق بخشش )
شاعری:
مولانا عبدالہادی سخی مرد ، مہمان نواز، حلیم طبع ، کم گو ، حاذق حکیم تھے ، مفت علاج کرتے تھے ۔ دینی طبی فیوض و برکات لٹاتے تھے، مفتی تھے دور دراز علاقہ سے لوگ الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا نے کیلئے آپ کے حضور میں آتے تھے ۔ حافظہ کی قوت کا اس سے اندازہ کریں کہ کتاب کا نامباب صفحہ اور سطر تک بتا دیتے تھے ۔ تھر پار کر ، عمر کوٹ اور میر پور خاص اضلاع سے عوام و خواص علمی مسائل میں آپ کی ہی جانب رجوع کرتے تھے ۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ حضور پر نور ﷺ کی محبت میں سر شاردل رکھتے تھے، حضور ﷺ کے ثناء خواں و نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کی شاعری حمد ، نعت ، مولود ، مناجات ، منقبت پر مشتمل ہے۔ اکثر شاعری دیگر قلمی ذخیرہ کتب کے ساتھ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں تباہ ہو گیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
اولاد:
مولانا مفتی عبدالہادی کو دو بیٹے تولد ہوئے۔ بڑے بیٹے مولانا احمد علی اصغر کا جوانی میں لاولد انتقال ہوا ۔ دوسرے بیٹے مولانا حاجی محمد عالم مدرسہ مظہر الحق والہدایہ راوتسر کے مدرس و مہتمم ہیں ۔
وصال:
مفتی عبد الہادی ہفتہ علالت میں گذار کر ۸۲سال کی عمر میں ۱۹، فروری ۱۹۷۹ء بمطابق ۲۱، ربیع الاول شریف ۱۳۹۹ھ سو موار کی شب داعی اجل کو لبیک کہہ کر حقیقی محبوب سے جا ملے ۔ گوٹھ راو تسر کے قبرستان میں والد ماجد کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جہاں آپ کی مزار شریف ہے ۔
سن رحلت فقیر عبدالہادی
مشرف شد بلطف جود ہادی
۱۳۹۹ھ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-hadi-chandio
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Abdul Hadi Chandio
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2