🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجہ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ خاص تھے، آپ کا خطاب خطیب اور قطب تھا ۔ آپ کا نسب نامہ چند واسطوں سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔

شیخ فرید الدین گنج شکر نے آپ کی روحانی تربیت میں اتنی توجہ فرمائی کہ خود بارہ سال تک ہانسی میں قیام فرمایا اور آپ کے حق میں فرمایا کرتے تھے کہ شیخِ جمال جمالِ ما است، آپ اکثر فرمایا کرتے جمال الدین میرا دل چاہتا ہے کہ تیرا طواف کروں، حضرت خواجہ گنج شکر جس کو خلافت نامہ تحریر کرکے دیتے تو اُسے شیخ جمال الدین کے پاس بھیجتے، اگر وہ منظور فرما کر دستخط کر دیتے تو پھر اُس کو خلافت نامہ کی منظور ہوتی ورنہ شیخ فرید الدین بھی اسے رد فرما دیتے اور آپ فرماتے کہ جس خلافت نامہ کو جمال الدین نے پھاڑ دیا ہے فرید اُس کو نہیں سی سکتا ۔

شیخ جمال الدین نے جس وقت یہ حدیث پڑھی تو عذابِ قبر سے بے پناہ ڈرنے لگے القبر روضۃ من ریاض الجنۃ ولحضرۃ من حضراۃ الیزان (قبر جنت کے باغوں سے ایک باغ ہے اور قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے) جس وقت آپ کا انتقال ہوا کچھ عرصے کے بعد آپ کی قبر پر گنبد تعمیر کرنے لگے، بنیاد کھود رہے تھے کہ مزار سے ایک روشن دان نمودار ہوا جس سے جنت کے باغوں کی خوشبو آ رہی تھی، لوگوں نے اُسے اُسی وقت بند کر دیا ۔

شیخ جمال الدین کی تصانیف میں سے چند رسالے ملتے ہیں اُن میں سے ایک رسالہ بڑی خوبصورت عربی میں لکھا ہوا ہے اس کا نام ملحمات تھا، اس کی عبارت نہیں ہی مرغوب اور پسندیدہ تھی ۔

وصال:
حضرت جمال الدین چھ سو اُنسٹھ ہجری ⁶⁵⁹ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار گوہر بار ہانسی میں ہے ـ

وفات کے بعد حضرت شیخ کو لوگوں نے خواب میں دیکھا اور آپ کے احوال کے متعلق پوچھا فرمایا جب مجھے قبر میں دفنایا گیا تو عذاب کے دو فرشتے آئے وہ مجھے عذاب دینا چاہتے تھے تو اُن کے پیچھے دو اور فرشتے آئے انہوں نے اللہ کا فرمان پہنچایا کہ اس شخص کو بخش دیا گیا ہے ۔ یہ شام کی سنتوں کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتا تھا جس میں سورہ بروج اور والطارق پڑھا کرتا تھا پھر یہ فرض نماز کے بعد آیت الکرسی بھی پڑھا کرتا تھا ۔

رفت چوں از جہاں بخلد بریں
آں جمال و کمال دینِ نبی
گفت سرور بسال رحلت او
عارفِ حق جمال دینِ نبی ۶۵۹ھ
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ خواجہ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ خاص تھے، آپ کا خطاب خطیب اور قطب تھا ۔ آپ کا نسب نامہ چند واسطوں سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔ شیخ فرید الدین گنج شکر نے آپ کی…
حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی (رحمتہ اللہ علیہ)

حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی پیشوائے اہل تمکین ہیں ۔

خاندانی حالات:
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت امام ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ) پر منتہی ہوتا ہے ۔ ۱؎

نام:
آپ کا نام جمال الدین ہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر (رحمتہ اللہ علیہ) کے مرید اور خلیفہ ہیں ۔

پیر و مرشد کی شفقت:
حضرت بابا صاحب آپ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ آپ کی خاطر بارہ سال ہانسی میں رہے ۔ ۲؎ کبھی آپ کے متعلق فرماتے تھے ۔ ۳؎

" جمال جمال ماست "
          ( جمال ہمارا جمال ہے )

اور کبھی فرماتے تھے کہ:
" جمال میخواہم کہ گردسرتوبگردم "
(جمال چاہتا ہوں کہ تیرے گرد طواف کروں)

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر (رحمۃ اللہ علیہ) جب کسی کو خلافت نامہ عطا فرماتے اس شخص کو تاکید فرماتے کہ ہانسی جاکر آپ (شیخ جمال رحمۃ اللہ علیہ) سے مہر لگواؤ، اگر آپ مہر لگا دیتے تو اس کا خلافت نامہ مستند سمجھا جاتا اور اگر آپ مہر نہیں لگاتے تو حضرت بابا صاحب بھی قبول نہ فرماتے اور صاف کہہ دیتے کہ ۔ ۴؎

" پارہ کردۂ جمال رانتوانیم دوخت "۔
( جمال کے پارہ کئے ہوئے کہ ہم نہیں سی سکتے )

عبادت و ریاضت:
آپ کے یہاں ایک کنیز تھیں ۔۔ وہ پاک دامن خاتون تھیں ۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر (رحمۃ اللہ علیہ) ان کو " مادر مومناں " کہہ کر پکارتے تھے، ایک مرتبہ وہ حضرت بابا صاحب کے پاس ہانسی سے آئیں ۔ حضرت بابا صاحب نے ان سے دریافت کیا ۔

"مادر مومناں! جمال ماچہ می کند"۔
(مادر مومناں! ہمارا جمال کیا کرتا ہے)

مادر مومناں نے عرض کیا کہ جس روز سے وہ ان (حضرت بابا صاحب سے ملے ہیں، انہوں نے گاؤں، اسباب، جائیداد اور شغل خطابت کو بالکل ترک کر دیا ہے ۔ فاقہ کشی اور محنت پر کمر باندھی ہے ۔

حضرت بابا صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے فرمایا ۔ ۵؎

" الحمد اللہ ، خوش می باشد " ۔
( الحمد للہ ، کیا ہی اچھا ہے )

شادی اور اولاد:
آپ کے ایک صاحب زادے دیوانے ہو گئے تھے ۔ حضرت نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں، کبھی کبھی ہوش میں آتے اور ایسی باتیں کرتے، گویا بالکل اچھے ہیں، ایک دن جب ہوش میں آئے تو انہوں نے فرمایا ۔

اَلعِلم حِجَابُ اللّٰہُ الاَکبَر
(علم اللہ کا بہت بڑا حجاب ہے)

اس کلام کی وضاحت انہوں نے اس طرح کی کہ ۔ ۶؎

" علم ودن حق است و ہرچہ و دن حق است حجاب حق است " ۔

( علم غیر حق ہے او رجو کچھ غیر حق ہے، وہی حجاب حق ہے )

حضرت نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ ۔

" میں سمجھ گیا کہ یہ حقیقی مجذوب ہیں "۔

دوسرے فرزند شیخ برہان الدین صوفی آپ کے وصال کے وقت کم سن تھے ۔ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کے حال پر نہایت لطف و کرم فرمایا ۔ نعمت فقر سے جوان کے والد کو دی تھی، ان کو بھی سرفراز فرمایا ۔ ان کو خرقہ خلافت اور عصا عنایت فرمایا اور ان کو ہدایت فرمائی کہ کچھ مدت حضرت نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) کی خدمت با برکت میں رہیں ۔

وصال:
آپ نے ۶۵۹ھ میں وصال فرمایا ۔ مزار آپ کا ہانسی میں واقع ہے ۔
2
سیرت:
آپ ایک اچھےخطیب تھے۔حضرت بابا صاحب کی خدمت میں پیوست ہونےکےبعدخطابت چھوڑ دی تھی۔فقروفاقہ کوتاج وتخت پر فوقیت دیتےتھے۔علم ترک وتجرید آپ کاشعارتھا۔آپ کمالات ظاہری و باطنی میں بےنظیرتھے۔

بےقراری:

ایک روزآپ نےحسب ذیل حدیث سنی۔

القبر روضۃ من ریاض الجنۃ واحفرۃ من حفرۃ النسیران

(قبرجنت کےباغات میں سےایک باغ ہےاوردوزخ کےگڑھوں میں سے ایک گڑھا)۔

اس حدیث سےآپ بہت متاثرہوئے،آپ نےچین و بےقراررہنےلگے۔

علمی ذوق:

آپ ایک اچھے عالم بھی تھے۔آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں،"ملہمات"آپ کی مشہورکتاب ہے۔

شعروشاعری:

آپ شاعربھی تھے۔

تعلیم:

آپ فرماتےہیں کہ فقیرکامل میں چندصفات کاہوناضروری ہے،جس میں وہ صفات نہ ہوں،وہ فقیر کامل نہیں کہاجاسکتا۔ان صفات کےمتعلق جن کافقیرکامل میں ہوناضروری ہے،آپ فرماتے ہیں۔

"فقیرایک خلق شریف ہے،جس سےصلاح،عفت،زہد،ورع،تقویٰ،طاعت،عبادت،جوع،فاقہ، مسکنت،قناعت،مروت،فتوت،دیانت،صیانت،قمانت،طاعت،خضوع،خشوع،تذلل،تواضع، افصال،صدق،صبر،سکوت،علم،رضا،حیا،بذل،جودوسخاوت،خشیت،خوف،رجا،ریا،رصنت، مجاہدہ،مراقبہ،موافقت،مرافقت،مداومت،معاملت،توحید،تہذیب،تجرید،تفرید،سکوت،وقار، مدارات،مواسات،عنایت،رعایت،شفقت،شفاعت،لطف،کرم،تفقد،شکر،فکر،ذکر،حرمت،

ادب،اعتصام،احترام،طلب،رغبت،غیرت،عبرت،بصیرت،تیقظ،حکمت،جست،ہمت،

معرفت،حقیقت،خدمت،تسلیم،تفویض،توکل،قبل،یقین،لقت،غنا،استقامت اورحسن خلق پیداہوتاہے،پس ان صفات کاہوناضروری ہے"۔

درود شریف:

آپ نمازشام کی سنت سےمتصل دورکعت صلوٰۃ البروج پڑھتےتھےاورہرفرض سے متصل آیتہ

الکرسی پڑھتےتھے۔۷؎

کرامت:

ایک گاؤں میں آپ کی ایک شخص نےدعوت کی۔کھانےسےفارغ ہوکرآپ نےاجازت چاہی۔ میزبان نےکہا،جب تک بارش نہیں ہوگی نہ جانےدوں گا۔اس سال بارش نہیں ہوئ تھی اور قحط کےآثارنمایاں تھے۔میزبان کےاصرارپرآپ وہیں بیٹھ گئے۔اسی رات کوخوب بارش ہوئی۔آپ گھوڑےپرہانسی واپس تشریف لائے۔۸؎

حواشی

۱؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۷۸

۲؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۷۸

۳؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)ص۱۴۶

۴؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۷۹

۵؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۸۱

۶؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۸۴

۷؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۸۲

(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)

آپ بہت بڑے خطیب و مقرر تھے، آپ کا سلسلہ نسب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے ۔ شیخ فریدالدین گنج شکر کے بڑے خلفاء میں سے تھے، کمالات ظاہریہ اور باطنیہ کے حامل تھے۔

جمال ہمارا جمال ہے:

شیخ فرید کو آپ سے بڑی محبت تھی اسی وجہ سے انہوں نے بارہ برس آپ کے پاس ہانسی میں گزار دیے، وہ آپ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ’’جمال ہمارا جمال ہے‘‘ اور کبھی یوں فرماتے کہ جمال، میری خواہش ہے کہ تمہارے اردگرد چکر لگایا کروں، شیخ فرید جس کسی کو خلافت دیتے اسے جمال کے پاس بھیج دیتے، اگر شیخ جمال اس کو قبول کرلیتے تو خلافت کو قائم رکھتے ور اگر شیخ جمال اس کو ناپسند کرتے تو اس کی خلافت ختم کردیتے تھے اور پھر شیخ فرید اسے دوبارہ قبول نہ فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ جس کو جمال پھاڑ دے اسے فرید نہیں سی سکتا۔ اللہ اکبر عزوجل

ایک دن ایک آدمی ہانسی سے شیخ فرید کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کہ ہمارے جمال کا کیا حال ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ہمارے مخدوم (یعنی شیخ جمال) نے جس روز سے آپ سے تعلق قائم کیا ہے اس وقت سے ریاضت اور مجاہدہ میں مصروف رہتے ہیں، آنا جانا سب کچھ ترک کردیا ہے اور فاقے سہتے ہیں، شیخ فرید یہ سن کر خوش ہوئے اور کہا الحمدللہ عزوجل (اور پھر دعا دی کہ خدا انہیں) خوش رکھے، منقول ہے کہ ایک دن شیخ جمال احمد ہانسوی نے یہ حدیث سنی کہ (قبریں جنت کے باغوں میں سے باغ ہوتی ہیں یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا) تو بہت پریشان و حیران ہوئے اور (حدیث کی) اس تنبیہ کو سننے کے بعد بے قرار رہنے لگے، آپ کے انتقال کے بعد لوگوں نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ آپ کی قبر پر گنبد بنادیں، آخر کار گنبد بنانے کے لیے کھدائی کی گئی، جب کھدائی کرتے کرتے لوگ لحد کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ قبلہ کی جانب ایک کھڑکی ہے جس میں سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے، چنانچہ لوگوں نے اسی وقت اس کھڑکی کو بند کردیا اور وہاں سے ہٹ گئے، پھر قبر کو اوپر سے بند کرکے گنبد بنادیا

مرقد میں بندوں کو تھپک کر
میٹھی نیند سلاتے یہ ہیں

(الاستمداد)

فقیر کی صفات کا بیان:

شیخ احمد ہانسوی کے متعدد رسالے اور اشعار ہیں، ایک رسالہ عربی میں بھی ہے جس میں مختلف کلمات کو بحیثیت سجع جمع کیا گیا ہے جس کا نام ’’ملہمات‘‘ ہے، آپ نے ایک جگہ اس میں لکھا ہے کہ فقر ایک عمدہ اور بہترین خصلت ہے جس سے یہ صفات معرض وجود میں آتی ہیں۔ صلاحیت، عفت، زہد، پاکیزگی، تقویٰ، طاعت، عبادت، فاقہ کشی، مسکنت و قناعت، مروت و جوان مردی، دیانت و حفاظت، امان و بیداری، تہجد
2
و خضوع، خشوع و عاجزی، تواضع و تحمل، برداشت و عفو اور چشم پوشی، مہربانی و انفاق فی سبیل اللہ، ایثار و کھانا کھلانا، اکرام و احسان ، ماسویٰ اللہ سے نفرت اور خدا کی عبادت میں اخلاص، انقطاع و جدائی، سچائی و صبر، خاموشی و بربادی، رضا و حیاء، سخاوت و ناداری، خوف و امید، ریاضت و مجاہدہ اور مراقبہ، موافقت و دوستی اور مداومت علی العبادۃ اور معاملت، توحید و تہذیب، تجرید و تفرید، سکوت و وقار ، مدارات، محبت و الفت، عنایت، رعایت، شفقت، سفارش، لطف و کرم، مجاہدہ شکر، فکر، ذکر، عزت، ادب و احترام، طلب و رغبت، غیرت و عبرت، بصیرت و بیداری، حکمت، للہیت، ہمت و معرفت و حقیقت،خدمت و تسلیم، توکل، پریشانی یقین و اعتماد ، غناد و ثبات اور حسن خلق۔

(ہر وہ فقیر جس کے اندر یہ جملہ صفات ہوں گی وہ کامل فقیر ہوگا اور جس کے اندر یہ صفات نہ ہوں گی وہ فقیر کہلانے کا حقدار نہیں)۔

شیخ جمال احمد کا مزار ہانسی میں ہے جو اپنے تین بچوں سمیت ایک ہی گنبد میں آرام فرما رہے ہیں۔ منقول ہے کہ شیخ احمد ہانسوی کی وفات کے بعد لوگوں نے آپ کو خواب میں دیکھ کر حالات پوچھے تو آپ نے فرمایا کہ قبر میں دفن کرنے کے بعد عذاب کے دو فرشتے میرے پاس آئے اور ان کے بعد ہی فوراً دو فرشتے اور یہ حکم لائے کہ ہم نے اسے بخش دیا یہ مغرب کی نماز کے فوراً بعد ہی دو رکعت صلوۃ بروج جس میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بروج اور سورۂ طارق ہے پڑھا کرتا تھا اور ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا تھا۔

اس بے کسی میں دل کو میرے ٹیک لگ گئی
شہرہ سنا جو رحمت بے کس نواز کا

(ذوقِ نعت)

اخبار الاخیار

شیخ با کرامت تکلف و بناوٹ سے بیزار شیخ جمال الملۃ والدّین ہانسوی ہیں جن کا دلِ مبارک غیر حق سے سلامت تھا اور جو اہل حقیقت کے جمال اور صاحبانِ اہل طریقت کے مقتدا تھے۔ علم و تقوی اور لطافتِ طبع میں بے نظیر اور درویشی کے ساتھ مخصوص تھے۔ آپ کی نظم جو عاشقانِ خدا کے لیے ایک قانوں ہے آپ کے کمالِ عشق پر دلالت کرتی ہے۔ یہ بزرگوار شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک نہایت ممتاز و اولعزم خلیفہ تھے اور مشائخ کبارے کے مرتبہ کو پہنچ گئے تھے۔ شیخ شیوخ العالم کامل بارہ سال تک آپ کی محبت میں ہانسی میں سکونت پزیر رہے آپ کی نسبت شیخ شیوخ العالم نے بہت دفعہ فرمایا ہے کہ جمال حقیقت میں ہمارا جمال ہے اور کبھی کبھی فرمایا کرتے تھے کہ جمال! میں چاہتا ہوں کہ تمہارے سر پر سے قربان ہو جاؤں شیخ شیوخ العالم کا یہ ارشاد صاف طور پر آپ کی بزرگی و عظمت پر دلالت کرتا ہے اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ شیخ شیوخ العالم کے نزدیک بہت کچھ قدر و منزلت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ شیوخ العالم نے ایک شخص کو خلافت نامہ دے کر فرمایا کہ جب تم ہانسی میں پہنچو تو اسے ہمارے جمال کو دکھا دینا چنانچہ جب وہ شخص ہانسی گیا اور شیخ شیوخ العالم کا عنایت کیا ہوا خلافت نامہ شیخ جمال الملۃ والدین کو دکھایا تو آپ نے اس خلافت نامہ کو پارہ پارہ کر ڈالا اور فرمایا کہ تو خلافت کے قابل نہیں ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ اس شخص نے التماس و اصرار کے ساتھ شیخ شیوخ العالم سے خلافت نامہ پایا تھا ورنہ حقیقت میں وہ اس قابل نہ تھا الغرض یہ شخص پھر ہانسی سے اجودھن آیا اور جس خلافت نامہ کو کہ شیخ جمال الدین نے چاک کردیا تھا شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پیش کیا اس پر شیخ شیوخ العالم نے فرمایا کہ جمال کے چاک کیے ہوئے خلافت نامہ کو ہم جوڑ نہیں سکتے۔ شیخ جمال الدین ہانسوی کی عظمت و بزرگی اس قدر تھی کہ سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ جب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز نے مجھے اپنی دولتِ خلافت سے سرفراز فرمایا تو ارشاد کیا کہ اس خلافت نامہ کو ہانسی میں مولانا جمال الدین کو دکھا دینا۔ چنانچہ یہ کیفیت نہایت بسط و شرح کے ساتھ سلطان المشائخ کے حالات میں لکھی جا چکی ہے سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ منصب خلافت کے عطا ہونے سے پیشتر جس وقت میں مولانا جمال الدین کی خدمت میں جایا کرتا تھا آپ میری تعظیم کے لیے سر و قد کھڑے ہو جایا کرتے تھے لیکن خلافت کا منصب پانے کے بعد جب میں ایک دن آپ کے پاس گیا تو آپ بیٹھے رہے۔ میرے دل میں فوراً کھٹکا ہوا کہ شاید میری خلافت آپ کے ناگوار خاطر ہے۔ شیخ جمال الدین نے نور باطن سے اس میرے خطرہ کو تاڑ لیا اور فرمایا۔ مولانا نظام الدین اس سے پیشتر جو میں تمہاری تعظیم کے لیے کھڑا ہو جایا کرتا تھا اس کا اور سبب تھا لیکن جب مجھ میں اور تم میں محبت ہوگئی تو میں اور تم ایک ہوگئے اب مجھے تمہارے آگے کھڑا ہونا کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔ شیخ سعدی کہتے ہیں۔

قیام خواستمت گرد عقل مے گوید
مکن کہ شرط ادب نیست پیش سر و قیام

سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں اور شیخ جمال الدین ہانسوی اور خواجہ شمس الدین دبیرا اور دیگر یاروں اور عزیزوں کی ایک جماعت جناب شیخ شیوخ العالم فرید الدین قدس اللہ سرہ العزی
2