🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجہ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ خاص تھے، آپ کا خطاب خطیب اور قطب تھا ۔ آپ کا نسب نامہ چند واسطوں سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔

شیخ فرید الدین گنج شکر نے آپ کی روحانی تربیت میں اتنی توجہ فرمائی کہ خود بارہ سال تک ہانسی میں قیام فرمایا اور آپ کے حق میں فرمایا کرتے تھے کہ شیخِ جمال جمالِ ما است، آپ اکثر فرمایا کرتے جمال الدین میرا دل چاہتا ہے کہ تیرا طواف کروں، حضرت خواجہ گنج شکر جس کو خلافت نامہ تحریر کرکے دیتے تو اُسے شیخ جمال الدین کے پاس بھیجتے، اگر وہ منظور فرما کر دستخط کر دیتے تو پھر اُس کو خلافت نامہ کی منظور ہوتی ورنہ شیخ فرید الدین بھی اسے رد فرما دیتے اور آپ فرماتے کہ جس خلافت نامہ کو جمال الدین نے پھاڑ دیا ہے فرید اُس کو نہیں سی سکتا ۔

شیخ جمال الدین نے جس وقت یہ حدیث پڑھی تو عذابِ قبر سے بے پناہ ڈرنے لگے القبر روضۃ من ریاض الجنۃ ولحضرۃ من حضراۃ الیزان (قبر جنت کے باغوں سے ایک باغ ہے اور قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے) جس وقت آپ کا انتقال ہوا کچھ عرصے کے بعد آپ کی قبر پر گنبد تعمیر کرنے لگے، بنیاد کھود رہے تھے کہ مزار سے ایک روشن دان نمودار ہوا جس سے جنت کے باغوں کی خوشبو آ رہی تھی، لوگوں نے اُسے اُسی وقت بند کر دیا ۔

شیخ جمال الدین کی تصانیف میں سے چند رسالے ملتے ہیں اُن میں سے ایک رسالہ بڑی خوبصورت عربی میں لکھا ہوا ہے اس کا نام ملحمات تھا، اس کی عبارت نہیں ہی مرغوب اور پسندیدہ تھی ۔

وصال:
حضرت جمال الدین چھ سو اُنسٹھ ہجری ⁶⁵⁹ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار گوہر بار ہانسی میں ہے ـ

وفات کے بعد حضرت شیخ کو لوگوں نے خواب میں دیکھا اور آپ کے احوال کے متعلق پوچھا فرمایا جب مجھے قبر میں دفنایا گیا تو عذاب کے دو فرشتے آئے وہ مجھے عذاب دینا چاہتے تھے تو اُن کے پیچھے دو اور فرشتے آئے انہوں نے اللہ کا فرمان پہنچایا کہ اس شخص کو بخش دیا گیا ہے ۔ یہ شام کی سنتوں کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتا تھا جس میں سورہ بروج اور والطارق پڑھا کرتا تھا پھر یہ فرض نماز کے بعد آیت الکرسی بھی پڑھا کرتا تھا ۔

رفت چوں از جہاں بخلد بریں
آں جمال و کمال دینِ نبی
گفت سرور بسال رحلت او
عارفِ حق جمال دینِ نبی ۶۵۹ھ
2