🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کیا عورتوں کو مہندی لگانا جائز ہے؟
کیمکل والی مہندی لگانے کے بعد وضو اور غسل کا حکم ... جدید مہندی ... نئی مہندی ... آج کل کی مہندی ... یہ فتویٰ فوٹو نمبر ❻ مِیں ہے ...
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
قاضی حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسم گرامی: محمد ۔ لقب: قاضی حمید الدین ۔ اسی لقب سے مشہور ہوئے ۔ والد کا اسم گرامی: عطاء اللہ محمود ۔ بخاراکے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ سلطان معز الدین کے زمانے میں بخارا سے دہلی آئے ۔ (علیہما الرحمہ)…
حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا لقب سلطان العارفین اور کنیت ابو احمد تھی ۔ آپ حضرت خواجہ معین الدین حسن اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ بڑے اعلیٰ ہمت اور اعلیٰ شان والے تھے ۔

آپ سیّد الدین زید کی اولاد میں سے تھے جو جناب رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عشرہ مبشرہ میں سے تھے آپ کا شمار قدیم مشائخ ہند میں ہوتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی طویل عمر عطا فرمائی آپ خواجہ معین الدین حسن سنجری کے زمانے سے لے کر سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کے زمانے تک زندہ رہے ۔

ایک دن خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بڑے اچھے مزاج میں تشریف فرما تھے ۔ آپ نے حاضرین کو کہا جو چیز چاہو مانگو، اس وقت مقبولیت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔

ایک شخص نے اُٹھ کر دنیا کی دولت مانگی ۔ دوسرے نے اٹھ کر عقبیٰ کی رہائی مانگی دونوں کی باتیں قبول ہوئیں ـ

پھر حضرت خواجہ معین الدین نے شیخ حمید الدین صوفی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دنیا اور عقبیٰ دونوں مانگی ہیں ۔ تم دونوں میں معزز اور مکرم رہوگے ـ

شیخ حمید الدین نے عرض کیا حضور بندے کی کیا مجال ہے کہ سوال زبان پر لائے جو کچھ میرے مولا کو منظور ہے  وہی مجھے بھی منظور ہے حضرت خواجہ معین الدین نے خواجہ قطب الدین بختیار اوشی کو مخاطب کیا اور ارشاد فرمایا کہ تم بھی جو کچھ چاہتے ہو مانگو ـ

آپ نے عرض کی:
ہرچہ تو خواہی بخواہم ال سر بر آستانم
بندہ را فرماں نباشد ہرچہ فرمائی بر آنم

حضرت خواجہ معین الدین ان دونوں بزرگوں پر بڑے خوش ہوئے کیونکہ انہیں نہ دنیا کی خواہش رہی اور نہ عقبیٰ سے ڈر، یہ صرف اللہ کی طلب پر اکتفاء کرتے تھے ۔

سلطان العارفین حمید الدین صوفی اور قدوت الواصلین ۔ قطب الاقطاب، قطب الدین بختیار اوشی اس دن سے شیخ حمید الدین مخاطب با خطاب سلطان العارفین ہو گئے ۔

یوم وصال:
صحیح اقوال میں شیخ حمید الدین کی تاریخِ وفات انتیس ربیع الثانی چھ سو تہتر ہجری ہے ۔ 29 ربیع الآخر 673ھ ـ

مزارِ مبارک:
آپ کا مرقدِ منور ناگور میں ہے ۔ آپ کی شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے فقر و غنا پر خط و کتابت رہی ۔ شیخ بہاؤ الدین نے اپنے مکتوبات میں بہت کچھ لکھا، مگر جواب کا حق ادا نہ ہوا ۔

چوں حمیدالدین صوفی شیخ دین
زیں جہاں در روضۂ جنت رسید
طرفہ پیر عقل قطب العاشقین
برتارِ بخشش ندا رد دل شنید ۶۷۳ھ
2
حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت صوفی حمید الدین ناگوری اولیائے کبار میں سے ہیں ۔

خاندانی حالات:
آپ حضرت سعد بن زید (رضی اللہ عنہ) کی اولاد سے ہیں، جن کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے ۔

نام:
آپ کا نام حمید الدین ہے ۔

کنیت:
آپ کی کنیت " ابو احمد " ہے ۔

لقب کی وجہ تسمیہ:
ایک دن کا واقعہ ہے کہ خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی (رحمتہ اللہ علیہ) بہت خوش تھے ۔ حاضرین سے فرمایا کہ اس وقت اجازت کے دروازے کھلے ہیں، جس کو جو دل چاہے، جو مانگے سو پائے ۔

ایک شخص نے دنیا مانگی اور دوسرے نے عقبیٰ کی خواہش ظاہر کی ۔

حضرت خواجہ غریب نواز نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔

" تم کیا چاہتے ہو ؟
کیا تم دنیا اور عقبیٰ میں عزت و مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہو " ۔ آپ نے نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا ۔ ۱؎

" بندہ را خواستی نبا شد خواست مولیٰ ست " ۔

ترجمہ:
بندہ کی کوئی خواہش نہیں ہے، جو خواہش ہے، وہ مولیٰ کی خواہش کے مطابق ہے ۔

یہ سن کر حضرت خواجہ غریب نواز بہت خوش ہوئے اور فرمایا ۔ ۲؎

" اَلتَّارِکَ الدُّنیَا وَالفَارِغ عَنِ العُقبٰی سلطان التارکین حمید الدین الصوفی " ۔

پس خواجہ غریب نواز کے عطا کردہ لقب " سلطان التارکین " سے آپ مشہور ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) کے مرید اور خلیفہ ہیں ۔

ذریعۂ معاش:
موضع سوالی (ناگور) میں آپ کے پاس کچھ زمین تھی ۔ آپ کاشت کرتے تھے، آپ خود چلاتے تھے ۔

وصال:
آپ ۲۹ ربیع الآخر ۶۷۳ھ کو واصل بحق ہوئے ۔ ۳؎ مزار ناگور میں واقع ہے ۔

سیرت:
آپ بہت بڑے عالم، صوفی اور صاحبِ دل اور صاحبِ نسبت بزرگ تھے ۔ طریقت میں آپ کا مقام اونچا ہے، آپ کی بہت سی تصانیف ہیں، آپ کی سب سے زیادہ مشہور کتاب " اصول طریقہ " ہے آپ شاعر بھی تھے، آپ کے مکتوبات تصوف کا خزانہ ہیں ۔

تعلیمات:
آپ فرماتے ہیں ۔ ۴؎

" مرداں راجن کا مقصد درگاہ الٰہی تک رسائی حاصل کرنا ہے، تین گروہوں میں تقسیم ہیں، جیسا کہ کلام مجید میں آیا ہے ۔

الذین اصطفینا من عبادنا منھم ظالم لنفسہ و منھم مقتصد و منھم سابق بالخیرات ۔

ترجمہ:
ہم نے اپنے بندوں کو چن لیا ہے، جن میں  کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس پر زیادتی کرتے ہیں، کچھ بہت محتاط ہیں اور کچھ نیکیوں میں بہت سبقت لے جاتے ہیں ۔

" یعنی معذور، مشکور اور فانی " ۔

آپ فرماتے ہیں:
" مراتب راہ کا پہلا مرتبہ علم ہے، علم حاصل کرنا ضروری ہے، کیوں کہ علم کے بغیر عمل درست نہیں ہوتا ۔

مراتبِ طریقت کا دوسرا مرتبہ عمل ہے، کیوں کہ عمل کے بغیر نیت کا وجود نہیں ۔

مراتبِ راہ کا تیسرا مرتبہ نیت ہے، نیت صحیح ہونی چاہیے کیوں کہ صحیح نیت کے بغیر باطل کے سوا اور کوئی عمل نہیں ہوتا ۔

چوتھا مرتبہ صدق ہے، صدق کا ہونا ضروری ہے، کیوں کہ اس کے بغیر عشق رونما نہیں ہوتا ۔

پانچواں مرتبہ عشق ہے، عشق اس لئے ہونا چاہیے کیوں کہ اس کے بغیر توجہ درست نہیں ہوتی ۔

چھٹا مرتبہ توجہ ہے، توجہ اس لئے ضروری ہے کیوں کہ اس کے بغیر سلوک حاصل نہیں ہوتا ۔

ساتواں مرتبہ سلوک ہے، سلوک اس لئے درکار ہے، کیوں کہ اس کے بغیر پیش گاہ کا دروازہ نہیں کھلتا ۔

آٹھواں مرتبہ پیش گاہ کا کھلنا ہے، پیش گاہ کا دروازہ کھلنا چاہیے، تاکہ مقصود ظاہر ہو ۔

اقوال:
جو شخص محبت کا دعویٰ کرے اور جب رات آئے تو اپنے محبوب کے ساتھ نہ سوئے، اس کا نام جھوٹوں کے دفتر میں لکھا جائےگا ۔

اربابِ شریعت کی راہ منزل تو نفس و مال سے باہر آنا ہے اور نعیم مقام میں داخل ہونا ہے ـ

اور اصحابِ طریقت کی راہ منزل جان و دل سے باہر آنا ہے اور وحدت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جانا ہے ۔

حواشی:
۱؎ اخبار الاخیار (اردو ترجمہ) ص۶۷
۲؎ اصول الطریقہ
۳؎ اخبارالاخیار (اردو ترجمہ) ص:۶۷
۴؎ اخبار الاخیار (اردوترجمہ) ص۶۷

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hameeduddin-sufi-nagori
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-04-1445 ᴴ | 14-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2