🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
تلامذہ:
یوں تو بے شمار طلباء آپ سے اکتساب فیض کر چکے ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۲۔ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی، مجاہدِ تحریک نظام مصطفےٰ ہری پور (ہزارہ)
۳۔ حضرت مولاناسید  مزمل حسین شاہ، ناظم اعلیٰ جامعہ حسینیہ رضویہ ،لاہور
۴۔ حضرت مولانا محمد صدیق، انگلینڈ
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب صدیقی اچھرہ، لاہور
۶۔ حضرت مولانا گل محمد صاحب عتیقی، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۷۔ حضرت مولانا مفتی ہدایت اللہ، مدرس جامعہ رضویہ مظہرالعلوم ملتان
۸۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب، دوبئی
۹۔ حضرت مولانامفتی محمد منیب الرحمٰن ہزاروی ایم اے، مدرس دارالعلوم نعیمیہ کراچی
۱۰۔ حضرت مولانا محمد طفیل، ناظمِ اعلیٰ شمس العلوم جامعہ رضویہ کراچی
۱۱۔ حضرت مولانا سید خادم حسین شاہ، مدرس کاہنہ نو
۱۲۔ حضرت مولانا قاری عبدالرشید سیالوی، ناظمِ اعلیٰ دارالعلوم غوثیہ بندر روڈ شیراکوٹ لاہور
۱۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالستار نظامی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۴۔ حضرت مولانا سیّد غلام مصطفےٰ بخاری، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۵۔ محمد صدیق ہزاروی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۶۔ مولانا محمد بشیر نقشبندی، خطیب، لاہور
۱۷۔ مولانا حافظ احسان اللہ ہزاروی [۱]

[۱] ۔ یہ تمام کوائف حضرت استاد محترم مدظلہ سے براہ راست حاصل کیے ـ (مرتب)

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-qayyum-hazarvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ

ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ

حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ

حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ

کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔

ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔



بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم﷜ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم﷜ نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)

وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3👍1