تنظیم المدارس کو فعال اور مزید موثر بنانے کے لیے آپ نے ۵؍ فروری ۱۹۷۸ء کو مدارس سندھ کا اجلاس کراچی میں بلایا اور آپ نے اپنے اس دورے میں نہ صرف تنظیم المدارس کی کارکردگی کو تیز کرنے پر زور دیا، بلکہ کراچی کے تمام سنی مدارس کا معائنہ فرمایا، ممتاز شخصیات سے ملاقات کی اور سنی رسائل و جرائد اور کتب کی ضرورتِ اشاعت کا احساس دلایا۔ اس دورہ میں مولانا غلام رسول سعیدی، مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، اور مولانا محمد منشا تابش قصوری آپ کے ہمراہ تھے۔ اسی دوران سنی رسائل نے آپ سے دینی مدارس کی اہمیت اور دیگر معاملات پر انٹرویو لیے۔ اس سے قبل بھی آپ تنظیم کو فعال بنانے کی خاطر ۔۔۱۹ء میں کراچی اور مئی ۱۹۷۶ء میں صوبہ بلوچستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ آپ کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں تنظیم ترقی پذیر ہے۔
جامعہ کے انتظامی تدریسی اُمور کے علاوہ ملک کے اطراف و اکناف سے آنے والے سوالات کے جواب میں فقہ حنفی کے مطابق فتاویٰ جاری کرنا ایسی مصروفیات ہیں جن کی بناء پر آپ مستقلاً سیاست میں حصہ نہیں لیتے، لیکن بایں ہمہ جمعیت علماء پاکستان کی صاف ستھری سیاست مقامِ مصطفےٰ کا تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ کا نفاذ کی خاطر آپ کسی قسم کی خدمت سے نہیں ہچکچاتے۔ جب بعض مفاد پرست افراد نے جمعیت علماء پاکستان کو ذاتی اعراض کے لیے استعمال کرکے علماء اہل سنّت کے بے داغ ماضی کو داغدار کرنے کی غلطی کا ارتکاب کیا تو مخلص علماء اہل سنت اسے برداشت نہ کرسکے اور ۱۹۶۸ء میں جمعیت کی تطہیر کے لیے تحریک چلائی گئی۔ اس تحریک کا کنویز حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی مقرر ہوئے۔ اس وقت آپ نے شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی، حضرت علامہ عبدالنبی کوکب رحمہما اللہ حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، حضرت صاحبزادہ قاضی محمد فضلِ رسول اور حضرت مولانا احمد علی قصوری وغیرہم کے ساتھ مل کر ملک بھر کے دورے کیے اور ایک عظیم الشان کنونشن جامعہ نعیمیہ میں منعقد ہوا، جس میں حضرت شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کو صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر چنا گیا۔
اسی کنونشن میں آپ کو جمعیت علماء پاکستان لاہور کا صدر اور مرکزی ناظم نشر و اشاعت مقرر کیا گیا۔ اس وقت بحالیٔ جمہوریت کی تحریک کے آغاز کا سہرا جمعیت علماء پاکستان کے سر ہے اور اس سلسلے میں نکالے جانے والے مختلف جلوسوں میں سے مرکزی جلوس جامعہ نظامیہ رضویہ سے ۱۷؍جنوری ۱۹۶۹ء کو آپ کی قیادت میں نکالا گیا۔ جب خانیوال کنونشن میں حضرت علامہ شاہ احمد نورانی جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر اور مجاہدِ ملت علامہ عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تو لاہور میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں آپ کو خازن بنانے کی پیشکش کی گئی، لیکن آپ بوجہ مصروفیات معذرت خواہ ہوئے۔
۱۹۷۷ء کے آخر میں قائدین جمعیت صوبہ سرحد اور بلوچستان کا دورہ کرکے دونوں صوبوں میں جمعیت کا قیام عمل میں لائے۔ ان دوروں کی کامیابی میں آپ کی کاوشوں کا بہت بڑا دخل ہے۔
تنظیم المدارس (اہل سنّت) پاکستان کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آپ نے ایک طرف قائدینِ جمعیت کو دعوت دی اور دوسری طرف صوبہ سرحد اور بلوچستان کے علماء کو بلایا اور ہر دو صوبوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اجلاس رکھ کر قائدین سے تعارف اور مجوزہ دوروں کے لیے پروگرام تشکیل دیا گیا علاوہ ازیں ہزارہ ڈویژن کے دورہ میں آپ بھی قائدین کے ساتھ رہے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ کی ہدایت کے مطابق جامعہ کے طلباء، مدرسین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حتی کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
قومی اسمبلی میں حوالہ جات کے لیے کتب کی ضرورت میں آپ نے حضرت قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی حتی الامکان معاونت کی۔ مرزائیوں کے شرعی بائیکاٹ کے بارے میں ایک مدلل فتویٰ جاری کیا جسے انجمن طلباء اسلام نے شائع کیا۔
تحریکِ نظامِ مصطفےٰ ۱۹۷۷ء میں بھی آپ کی دلچسپی اور ہدایات کے مطابق مدرسین و طلباء جامعہ نے پوری قوم کے دوش بدوش تحریک میں حصّہ لیا۔ یہاں تک کہ سانحۂ مسلم مسجد میں جامعہ کے دو مدرسین اور گیارہ طلباء زخمی ہوئے اور گرفتار بھی ہوئے۔
۹؍اپریل کو جعلی اسمبلی کے ڈھونگ رچانے پر جب پوری قوم میدانِ عمل میں آئی، تو جامعہ کے تمام اساتذہ اور طلباء نے حصہ لیا۔
آپ نے ۱۹۵۳ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
آپ کے چار صاحبزادے (محمد سعید، محمد عبدالمصطفےٰ، محمد عبدالمجتبیٰ اور محمد عبدالمرتضیٰ) اور چار صاحبزادیاں ہیں بڑے صاحبزادے محمد سعید احمد بیرونِ ملک ہیں اور باقی صاحبزادے ابھی کمسن ہیں۔ (اللہ تعالیٰ تمام صاحبزادگان کو آپ کا صحیح جانشین بنائے، آمین)
جامعہ کے انتظامی تدریسی اُمور کے علاوہ ملک کے اطراف و اکناف سے آنے والے سوالات کے جواب میں فقہ حنفی کے مطابق فتاویٰ جاری کرنا ایسی مصروفیات ہیں جن کی بناء پر آپ مستقلاً سیاست میں حصہ نہیں لیتے، لیکن بایں ہمہ جمعیت علماء پاکستان کی صاف ستھری سیاست مقامِ مصطفےٰ کا تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ کا نفاذ کی خاطر آپ کسی قسم کی خدمت سے نہیں ہچکچاتے۔ جب بعض مفاد پرست افراد نے جمعیت علماء پاکستان کو ذاتی اعراض کے لیے استعمال کرکے علماء اہل سنّت کے بے داغ ماضی کو داغدار کرنے کی غلطی کا ارتکاب کیا تو مخلص علماء اہل سنت اسے برداشت نہ کرسکے اور ۱۹۶۸ء میں جمعیت کی تطہیر کے لیے تحریک چلائی گئی۔ اس تحریک کا کنویز حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی مقرر ہوئے۔ اس وقت آپ نے شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی، حضرت علامہ عبدالنبی کوکب رحمہما اللہ حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، حضرت صاحبزادہ قاضی محمد فضلِ رسول اور حضرت مولانا احمد علی قصوری وغیرہم کے ساتھ مل کر ملک بھر کے دورے کیے اور ایک عظیم الشان کنونشن جامعہ نعیمیہ میں منعقد ہوا، جس میں حضرت شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کو صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر چنا گیا۔
اسی کنونشن میں آپ کو جمعیت علماء پاکستان لاہور کا صدر اور مرکزی ناظم نشر و اشاعت مقرر کیا گیا۔ اس وقت بحالیٔ جمہوریت کی تحریک کے آغاز کا سہرا جمعیت علماء پاکستان کے سر ہے اور اس سلسلے میں نکالے جانے والے مختلف جلوسوں میں سے مرکزی جلوس جامعہ نظامیہ رضویہ سے ۱۷؍جنوری ۱۹۶۹ء کو آپ کی قیادت میں نکالا گیا۔ جب خانیوال کنونشن میں حضرت علامہ شاہ احمد نورانی جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر اور مجاہدِ ملت علامہ عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تو لاہور میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں آپ کو خازن بنانے کی پیشکش کی گئی، لیکن آپ بوجہ مصروفیات معذرت خواہ ہوئے۔
۱۹۷۷ء کے آخر میں قائدین جمعیت صوبہ سرحد اور بلوچستان کا دورہ کرکے دونوں صوبوں میں جمعیت کا قیام عمل میں لائے۔ ان دوروں کی کامیابی میں آپ کی کاوشوں کا بہت بڑا دخل ہے۔
تنظیم المدارس (اہل سنّت) پاکستان کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آپ نے ایک طرف قائدینِ جمعیت کو دعوت دی اور دوسری طرف صوبہ سرحد اور بلوچستان کے علماء کو بلایا اور ہر دو صوبوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اجلاس رکھ کر قائدین سے تعارف اور مجوزہ دوروں کے لیے پروگرام تشکیل دیا گیا علاوہ ازیں ہزارہ ڈویژن کے دورہ میں آپ بھی قائدین کے ساتھ رہے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ کی ہدایت کے مطابق جامعہ کے طلباء، مدرسین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حتی کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
قومی اسمبلی میں حوالہ جات کے لیے کتب کی ضرورت میں آپ نے حضرت قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی حتی الامکان معاونت کی۔ مرزائیوں کے شرعی بائیکاٹ کے بارے میں ایک مدلل فتویٰ جاری کیا جسے انجمن طلباء اسلام نے شائع کیا۔
تحریکِ نظامِ مصطفےٰ ۱۹۷۷ء میں بھی آپ کی دلچسپی اور ہدایات کے مطابق مدرسین و طلباء جامعہ نے پوری قوم کے دوش بدوش تحریک میں حصّہ لیا۔ یہاں تک کہ سانحۂ مسلم مسجد میں جامعہ کے دو مدرسین اور گیارہ طلباء زخمی ہوئے اور گرفتار بھی ہوئے۔
۹؍اپریل کو جعلی اسمبلی کے ڈھونگ رچانے پر جب پوری قوم میدانِ عمل میں آئی، تو جامعہ کے تمام اساتذہ اور طلباء نے حصہ لیا۔
آپ نے ۱۹۵۳ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
آپ کے چار صاحبزادے (محمد سعید، محمد عبدالمصطفےٰ، محمد عبدالمجتبیٰ اور محمد عبدالمرتضیٰ) اور چار صاحبزادیاں ہیں بڑے صاحبزادے محمد سعید احمد بیرونِ ملک ہیں اور باقی صاحبزادے ابھی کمسن ہیں۔ (اللہ تعالیٰ تمام صاحبزادگان کو آپ کا صحیح جانشین بنائے، آمین)
❤2
تلامذہ:
یوں تو بے شمار طلباء آپ سے اکتساب فیض کر چکے ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۲۔ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی، مجاہدِ تحریک نظام مصطفےٰ ہری پور (ہزارہ)
۳۔ حضرت مولاناسید مزمل حسین شاہ، ناظم اعلیٰ جامعہ حسینیہ رضویہ ،لاہور
۴۔ حضرت مولانا محمد صدیق، انگلینڈ
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب صدیقی اچھرہ، لاہور
۶۔ حضرت مولانا گل محمد صاحب عتیقی، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۷۔ حضرت مولانا مفتی ہدایت اللہ، مدرس جامعہ رضویہ مظہرالعلوم ملتان
۸۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب، دوبئی
۹۔ حضرت مولانامفتی محمد منیب الرحمٰن ہزاروی ایم اے، مدرس دارالعلوم نعیمیہ کراچی
۱۰۔ حضرت مولانا محمد طفیل، ناظمِ اعلیٰ شمس العلوم جامعہ رضویہ کراچی
۱۱۔ حضرت مولانا سید خادم حسین شاہ، مدرس کاہنہ نو
۱۲۔ حضرت مولانا قاری عبدالرشید سیالوی، ناظمِ اعلیٰ دارالعلوم غوثیہ بندر روڈ شیراکوٹ لاہور
۱۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالستار نظامی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۴۔ حضرت مولانا سیّد غلام مصطفےٰ بخاری، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۵۔ محمد صدیق ہزاروی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۶۔ مولانا محمد بشیر نقشبندی، خطیب، لاہور
۱۷۔ مولانا حافظ احسان اللہ ہزاروی [۱]
[۱] ۔ یہ تمام کوائف حضرت استاد محترم مدظلہ سے براہ راست حاصل کیے ـ (مرتب)
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-qayyum-hazarvi
یوں تو بے شمار طلباء آپ سے اکتساب فیض کر چکے ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۲۔ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی، مجاہدِ تحریک نظام مصطفےٰ ہری پور (ہزارہ)
۳۔ حضرت مولاناسید مزمل حسین شاہ، ناظم اعلیٰ جامعہ حسینیہ رضویہ ،لاہور
۴۔ حضرت مولانا محمد صدیق، انگلینڈ
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب صدیقی اچھرہ، لاہور
۶۔ حضرت مولانا گل محمد صاحب عتیقی، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۷۔ حضرت مولانا مفتی ہدایت اللہ، مدرس جامعہ رضویہ مظہرالعلوم ملتان
۸۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب، دوبئی
۹۔ حضرت مولانامفتی محمد منیب الرحمٰن ہزاروی ایم اے، مدرس دارالعلوم نعیمیہ کراچی
۱۰۔ حضرت مولانا محمد طفیل، ناظمِ اعلیٰ شمس العلوم جامعہ رضویہ کراچی
۱۱۔ حضرت مولانا سید خادم حسین شاہ، مدرس کاہنہ نو
۱۲۔ حضرت مولانا قاری عبدالرشید سیالوی، ناظمِ اعلیٰ دارالعلوم غوثیہ بندر روڈ شیراکوٹ لاہور
۱۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالستار نظامی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۴۔ حضرت مولانا سیّد غلام مصطفےٰ بخاری، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۵۔ محمد صدیق ہزاروی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۶۔ مولانا محمد بشیر نقشبندی، خطیب، لاہور
۱۷۔ مولانا حافظ احسان اللہ ہزاروی [۱]
[۱] ۔ یہ تمام کوائف حضرت استاد محترم مدظلہ سے براہ راست حاصل کیے ـ (مرتب)
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-qayyum-hazarvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Mufti Muhammad Abdul Qayyum Hazarwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ
ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ
حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ
ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ
حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Ajmal Sumbhuli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
scholars.pk
Hazrat Mohiuddin Ibne Arabi Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام و نسب: الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب…
سید الکاشفین سیدنا ابو عبد اللہ شیخ اکبر ابو عبد اللہ محی الدین ابن العربی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/63095
ولادت: 17 رمضان المبارک 860ھ
یوم وصال: 28 ربیع الآخر 638 ھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/63095
ولادت: 17 رمضان المبارک 860ھ
یوم وصال: 28 ربیع الآخر 638 ھ
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-04-1445 ᴴ | 13-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍1