🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
علی اصغر سید قادری جیلانی علیہ الرحمۃ ف ۱۲۰۰ھ
آپ حضور غوث الاعظم محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہیں ۔ علی اصغر بن فتح محمد شاہ جیلانی بن نور محمد شاہ جیلانی بن سید اسماعیل شاہ جیلانی بن شیخ سید شیخ ابو الوفا قادری شیخ سید شہاب الدین بن سید شیخ بدر الدین بن سید شیخ علاؤ الدین بن شیخ سید چراغ الدین بن شیخ سید محمد ثمین الدین بن شیخ سید قاضی القضاۃ عماد الدین بن شیخ سید ابو بکر تاج الدین بن حضرت شیخ الشیوخ سیدنا عبد الرزاق بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سید ابو محمد عبد القادر جیلانی قدس اللہ اسرارھم ۔
حضرت سید علی اصغر جیلانی المعروف، دریا کا پیر رحمہ اللہ کا شمار بڑے باکمال اولیاء کاملین و عارفین میں ہوتا ہے ۔ آپ نے اپنے برادر اکبر حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی رحمہ اللہ کے ساتھ دریائے مہران کے کنارہ درگاہ نوارئی شریف میں ایک اوطاق (بیٹھک) بنائی ہوئی تھی اس میں رہتے اور ریاضت و عبادت کرتے اور اپنے چشمہ فیض سے پیاسوں کو سیراب کرتے۔
حضرت مولانا سید محمد بخش جیلانی علیہ الرحمہ جو حضرت علی اصغر کے دربار کے صاحب سجادہ اور چشم و چراغ تھے، کا بیان ہے کہ ایک دن ایک بڑھیا روتی ہوئی آپ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ میرے تمام گھر والے اب سے تھوڑی دیر پہلے کشتی میں سوار تھے اور کشتی سمیت ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ اگر آپ واقعی اس پیران پیر کی اولاد سے ہیں جس نے مجھ جیسی بڑھیا کا ڈوبا ہوا بیڑا ترایا تھا تو خدا را میرا بیڑ بھی پار کیجیے ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالیے ۔
حضرت سید علی اکبر نے اپنے برادر اصغر حضرت سید علی اصغر جیلانی سے فرمایا تم دریا میں جاؤ اور کشتی نکلوا لاؤ۔ حضر ت علی اصغر جیلانی نے فوراً اپنے بھائی کےحکم کی تعمیل کی اور گھوڑےپر سوار ہو کردریا میں اسی مقام سے داخل ہوئے جہاں کشتی ڈوبی تھی۔ شاہ صاحب کا دریامیں جانا تھا کہ کشتی باسلامت باہر نکل آئی لیکن حضرت خود باہر نہ آئے! تمام لوگ لب دریا جمع ہوگئے اور حضرت کے نکلنے کا شدت سے انتظار کرنے کرنے لگے لوگوں کو حضرت کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔
غوطہ لگانے والوں نے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا لیکن حضرت کا کہیں بھی سراغ نہ مل سکا۔ اسی حالت میں چالیس دن گذرے کہ اچانک گھوڑے پر سوار باہر آئے آپ کے آتے ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ آپ سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت حضر علیہ السلام کے عطا کردہ چند تحائف بھی اپنے ساتھ لائے ، جائے نماز ایک ہزار دانوں والی تسبیح ،حمائل شریف اور ایک کشکول جو کہ آپ کے خاندان میں موجود تھے لیکن کسی ظالم نے اشیاء مذکورہ چرالیں اس واقعہ کے بعد آپ نے بحری زندگی اختیار کرلی۔ اور ایک کشتی کو اپنا مسکن بنایا اس ی میں اپنی زوجہ کے ساتھ رہتے اور عبادت و ریاضت کرتے اور اسی سبب سے آپ دریا کا پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔
اب دنیا آپ دریا کے پیر کے نام سے جانتی ہے اپ کو کوئی اولانہ ہوئی دربارنورائی شریف آپ کےنام سے مشہور ہوئی۔ آخر آپ نے کشتی میں ہی ۲۸ ربیع الاخر ۱۲۰۰ ھ میں وفات فرمائی۔ دریائے سندھ کے کنارے کوٹری پل سے متصل مشرقی جانب آپ کو چھ ماہ کے لیے بطور امانت مدفون کیاگیا ۔ (اور یہ مقام اب بھی موجود ہے جو دریا کے پیر کا تکیہ کہلاتا ہے وہاں پر آپ ہی کے خاندان میں سے حضرت فتح محمد شاہ جیلانی ثالث کا مزار زیارت خاص و عام ہے) چھ ماہ کے بعد آپ کی نعش مبارک کو نکال کر اس اوطاق (بیٹھک) نورائی شریف میں دفن کیا گیا جس میں آپ پہلے رہا کرتے تھے آپ کا مزار مقدس مرجع خلائق اور پریشانیوں کا حل ہے۔ تحفۃ الکرام جلد دوم میں حضرت کا تزکرہ موجود ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-asghar-syed-qadri-jilani
آپ حضور غوث الاعظم محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہیں ۔ علی اصغر بن فتح محمد شاہ جیلانی بن نور محمد شاہ جیلانی بن سید اسماعیل شاہ جیلانی بن شیخ سید شیخ ابو الوفا قادری شیخ سید شہاب الدین بن سید شیخ بدر الدین بن سید شیخ علاؤ الدین بن شیخ سید چراغ الدین بن شیخ سید محمد ثمین الدین بن شیخ سید قاضی القضاۃ عماد الدین بن شیخ سید ابو بکر تاج الدین بن حضرت شیخ الشیوخ سیدنا عبد الرزاق بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سید ابو محمد عبد القادر جیلانی قدس اللہ اسرارھم ۔
حضرت سید علی اصغر جیلانی المعروف، دریا کا پیر رحمہ اللہ کا شمار بڑے باکمال اولیاء کاملین و عارفین میں ہوتا ہے ۔ آپ نے اپنے برادر اکبر حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی رحمہ اللہ کے ساتھ دریائے مہران کے کنارہ درگاہ نوارئی شریف میں ایک اوطاق (بیٹھک) بنائی ہوئی تھی اس میں رہتے اور ریاضت و عبادت کرتے اور اپنے چشمہ فیض سے پیاسوں کو سیراب کرتے۔
حضرت مولانا سید محمد بخش جیلانی علیہ الرحمہ جو حضرت علی اصغر کے دربار کے صاحب سجادہ اور چشم و چراغ تھے، کا بیان ہے کہ ایک دن ایک بڑھیا روتی ہوئی آپ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ میرے تمام گھر والے اب سے تھوڑی دیر پہلے کشتی میں سوار تھے اور کشتی سمیت ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ اگر آپ واقعی اس پیران پیر کی اولاد سے ہیں جس نے مجھ جیسی بڑھیا کا ڈوبا ہوا بیڑا ترایا تھا تو خدا را میرا بیڑ بھی پار کیجیے ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالیے ۔
حضرت سید علی اکبر نے اپنے برادر اصغر حضرت سید علی اصغر جیلانی سے فرمایا تم دریا میں جاؤ اور کشتی نکلوا لاؤ۔ حضر ت علی اصغر جیلانی نے فوراً اپنے بھائی کےحکم کی تعمیل کی اور گھوڑےپر سوار ہو کردریا میں اسی مقام سے داخل ہوئے جہاں کشتی ڈوبی تھی۔ شاہ صاحب کا دریامیں جانا تھا کہ کشتی باسلامت باہر نکل آئی لیکن حضرت خود باہر نہ آئے! تمام لوگ لب دریا جمع ہوگئے اور حضرت کے نکلنے کا شدت سے انتظار کرنے کرنے لگے لوگوں کو حضرت کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔
غوطہ لگانے والوں نے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا لیکن حضرت کا کہیں بھی سراغ نہ مل سکا۔ اسی حالت میں چالیس دن گذرے کہ اچانک گھوڑے پر سوار باہر آئے آپ کے آتے ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ آپ سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت حضر علیہ السلام کے عطا کردہ چند تحائف بھی اپنے ساتھ لائے ، جائے نماز ایک ہزار دانوں والی تسبیح ،حمائل شریف اور ایک کشکول جو کہ آپ کے خاندان میں موجود تھے لیکن کسی ظالم نے اشیاء مذکورہ چرالیں اس واقعہ کے بعد آپ نے بحری زندگی اختیار کرلی۔ اور ایک کشتی کو اپنا مسکن بنایا اس ی میں اپنی زوجہ کے ساتھ رہتے اور عبادت و ریاضت کرتے اور اسی سبب سے آپ دریا کا پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔
اب دنیا آپ دریا کے پیر کے نام سے جانتی ہے اپ کو کوئی اولانہ ہوئی دربارنورائی شریف آپ کےنام سے مشہور ہوئی۔ آخر آپ نے کشتی میں ہی ۲۸ ربیع الاخر ۱۲۰۰ ھ میں وفات فرمائی۔ دریائے سندھ کے کنارے کوٹری پل سے متصل مشرقی جانب آپ کو چھ ماہ کے لیے بطور امانت مدفون کیاگیا ۔ (اور یہ مقام اب بھی موجود ہے جو دریا کے پیر کا تکیہ کہلاتا ہے وہاں پر آپ ہی کے خاندان میں سے حضرت فتح محمد شاہ جیلانی ثالث کا مزار زیارت خاص و عام ہے) چھ ماہ کے بعد آپ کی نعش مبارک کو نکال کر اس اوطاق (بیٹھک) نورائی شریف میں دفن کیا گیا جس میں آپ پہلے رہا کرتے تھے آپ کا مزار مقدس مرجع خلائق اور پریشانیوں کا حل ہے۔ تحفۃ الکرام جلد دوم میں حضرت کا تزکرہ موجود ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-asghar-syed-qadri-jilani
❤2
استاذ العلماء ، فاضل شہر ، حضرت علامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ولادت:
استاذ العماء حضرت علامہ مولانا ابو سعید مفتی عبدالقیوم ہزاروی بن مولانا حمید اللہ ۲۹؍شعبان المعظم ۱۳۵۲ھ / ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۳ء میں بمقام میراہ علاقہ اپر تناول، مانسہرہ (ہزارہ) پیدا ہوئے۔
علمی خاندان:
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علم دین اور حفظِ قرآن کی لا زوال دولت سے بہرہ ور ہیں۔
تعلیم:
آپ نے ابتدائی کتب فارسی، جنیدھیڑ شریف ضلع گجرات میں اپنے چچا مولانا محبوب الرحمٰن سے پڑھیں، جبکہ مولانا مذکور انتہائی کتب وہاں مولانا محب النبی سے پڑھا کرتے تھے۔ فنون کی ابتدائی کتب مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب سے پڑھنے کے بعد باقی تمام کتب متداولہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب (فیصل آباد) سے دار العلوم جامعہ رضویہ منظرِ اسلام ہارون آباد (بہاول نگر) مدرسہ احیاء العلوم بورے والہ (ملتان) اور دارالعلوم حزب الاحناف میں پڑھیں۔ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات سید احمد مدظلہ سے دار العلوم حزب الاحناف میں اور پھر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہر اسلام (فیصل آباد) میں درسِ حدیث لے کر ہر دو اداروں سے ۱۹۵۵ء اور ۱۹۵۶ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
دارالعلوم حزب الاحناف میں آپ کی رسم دستار بندی کے موقع پر دیگر اکابر علماء اہل سنت کے علاوہ حضرت محدث کچھوچھوی اور قائدِ تحریک ختمِ نبوت حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہما اللہ، علامہ عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ اور علامہ سید احمد سعید کاظمی بھی موجود تھے۔
ابھی آپ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں درجہ حدیث کے متعلم تھے کہ جامعہ حنفیہ قصور کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب ایک مدرس کی تلاش میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور تشریف لائے، چنانچہ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات مد ظلہ نے آپ کو حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب کے ہمراہ جامعہ حنفیہ قصور میں تدریس کے لیے بھیجا، جہاں تقریباً بائیس اسباق کی تدریس آپ سے متعلق ہو گئی ۔ کثرتِ اسباق کی وجہ سے آپ بیمار پڑ گئے، چنانچہ دوسرے سال آپ کی خرابیٔ صحت کی بنا پر گھر آ گئے ۔ اسی دوران حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو فیصل آباد بُلا کر سمندری ضلع فیصل آباد میں خطابت اور قیامِ مدرسہ کے لیے بھیجا۔ چونکہ آپ کی طبیعت کا رجحان امامت و خطابت کی بجائے تدریس کی طرف زیادہ تھا، اس لیے چند دن بعد آپ واپس فیصل آباد آ کر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے دورۂ حدیث میں شامل ہو گئے ۔ جلسہ دستار فضیلت کے موقع پر حضرت مولانا عبد الغفور مہتمم جامعہ غوثیہ رضویہ غلہ منڈی پیر محل دارالعلوم کے لیے قابلِ مدرس حاصل کرنے کے لیے فیصل آباد آئے۔ جب طلباء سے آپ کی قابلیت اور لیاقت کا علم ہوا، تو حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے آپ کو بطور مدرس پیر محل لے گئے ۔ چونکہ یہ شعبان المعظم کا مہینہ تھا، اس لیے آپ نے تدریسی چارج سنبھالا اور رمضان المبارک کی تعطیل گزارنے اپنے گاؤں تشریف لائے۔
اسی دوران آپ کے استاذِ محترم حضرت علامہ مولانا غلام رسول (شیخ الحدیث) جامعہ رضویہ فیصل آباد) نے جامع مسجد خراسیاں لاہور میں ’’جامعہ نظامیہ رضویہ‘‘ کے نام سے ایک دارالعلوم کی بنیاد رکھی اور اپنی معاونت کے لیے آپ کو طلب کرنے کی غرض سے فیصل آباد خط لکھا خط ملنے پر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے حضرت مفتی صاحب کو فیصل آباد بُلا کر صورتِ حال پیش کی اور آپ سے رائے طلب کی۔ آپ نے کہا جس طرح حکم ہو، میں حاضر ہوں، جب بار بار طلب رائے پر حکم کے لیے اسرار بڑھا، تو محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو لاہور میں جا کر اپنے استاذِ محترم کی معاونت میں کام کرنے کا حکم فرمایا۔
چنانچہ آپ نے لاہور پہنچ کر تدریسی فرائض سر انجام دینے کے علاوہ جامعہ کے انتظامی معاملات اور سرمایہ کی فراہمی میں بھی حصہ لیا، بلکہ قلیل مشاہرہ کی صورت میں جملہ تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اسی دوران آپ نے دو سال موچی دروازہ اور پانچ سال تک آخری بس اسٹاپ کرشن نگر لاہور میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
یوں تو آپ جامعہ نظامیہ رضویہ کے قیام سے ہی جملہ انتظام و انصرام حتی کہ قابل مدرسین کے انتخاب و تقرری تک میں شریک کار رہے، لیکن جب یکم شعبان ۱۳۸۲ھ/ ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۲ء کو حضرت محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ وصال فرماکر اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے اور ان کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان جاری رکھنے کے لیے حضرت استاذ العلماء مولانا غلام رسول مدظلہ جامعہ رضویہ مظہراسلام فیصل آباد تشریف لے گئے، تو جامعہ نظامیہ رضویہ کے جملہ انتظامات آپ کے سپرد کیے گئے۔
ولادت:
استاذ العماء حضرت علامہ مولانا ابو سعید مفتی عبدالقیوم ہزاروی بن مولانا حمید اللہ ۲۹؍شعبان المعظم ۱۳۵۲ھ / ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۳ء میں بمقام میراہ علاقہ اپر تناول، مانسہرہ (ہزارہ) پیدا ہوئے۔
علمی خاندان:
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علم دین اور حفظِ قرآن کی لا زوال دولت سے بہرہ ور ہیں۔
تعلیم:
آپ نے ابتدائی کتب فارسی، جنیدھیڑ شریف ضلع گجرات میں اپنے چچا مولانا محبوب الرحمٰن سے پڑھیں، جبکہ مولانا مذکور انتہائی کتب وہاں مولانا محب النبی سے پڑھا کرتے تھے۔ فنون کی ابتدائی کتب مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب سے پڑھنے کے بعد باقی تمام کتب متداولہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب (فیصل آباد) سے دار العلوم جامعہ رضویہ منظرِ اسلام ہارون آباد (بہاول نگر) مدرسہ احیاء العلوم بورے والہ (ملتان) اور دارالعلوم حزب الاحناف میں پڑھیں۔ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات سید احمد مدظلہ سے دار العلوم حزب الاحناف میں اور پھر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہر اسلام (فیصل آباد) میں درسِ حدیث لے کر ہر دو اداروں سے ۱۹۵۵ء اور ۱۹۵۶ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
دارالعلوم حزب الاحناف میں آپ کی رسم دستار بندی کے موقع پر دیگر اکابر علماء اہل سنت کے علاوہ حضرت محدث کچھوچھوی اور قائدِ تحریک ختمِ نبوت حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہما اللہ، علامہ عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ اور علامہ سید احمد سعید کاظمی بھی موجود تھے۔
ابھی آپ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں درجہ حدیث کے متعلم تھے کہ جامعہ حنفیہ قصور کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب ایک مدرس کی تلاش میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور تشریف لائے، چنانچہ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات مد ظلہ نے آپ کو حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب کے ہمراہ جامعہ حنفیہ قصور میں تدریس کے لیے بھیجا، جہاں تقریباً بائیس اسباق کی تدریس آپ سے متعلق ہو گئی ۔ کثرتِ اسباق کی وجہ سے آپ بیمار پڑ گئے، چنانچہ دوسرے سال آپ کی خرابیٔ صحت کی بنا پر گھر آ گئے ۔ اسی دوران حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو فیصل آباد بُلا کر سمندری ضلع فیصل آباد میں خطابت اور قیامِ مدرسہ کے لیے بھیجا۔ چونکہ آپ کی طبیعت کا رجحان امامت و خطابت کی بجائے تدریس کی طرف زیادہ تھا، اس لیے چند دن بعد آپ واپس فیصل آباد آ کر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے دورۂ حدیث میں شامل ہو گئے ۔ جلسہ دستار فضیلت کے موقع پر حضرت مولانا عبد الغفور مہتمم جامعہ غوثیہ رضویہ غلہ منڈی پیر محل دارالعلوم کے لیے قابلِ مدرس حاصل کرنے کے لیے فیصل آباد آئے۔ جب طلباء سے آپ کی قابلیت اور لیاقت کا علم ہوا، تو حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے آپ کو بطور مدرس پیر محل لے گئے ۔ چونکہ یہ شعبان المعظم کا مہینہ تھا، اس لیے آپ نے تدریسی چارج سنبھالا اور رمضان المبارک کی تعطیل گزارنے اپنے گاؤں تشریف لائے۔
اسی دوران آپ کے استاذِ محترم حضرت علامہ مولانا غلام رسول (شیخ الحدیث) جامعہ رضویہ فیصل آباد) نے جامع مسجد خراسیاں لاہور میں ’’جامعہ نظامیہ رضویہ‘‘ کے نام سے ایک دارالعلوم کی بنیاد رکھی اور اپنی معاونت کے لیے آپ کو طلب کرنے کی غرض سے فیصل آباد خط لکھا خط ملنے پر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے حضرت مفتی صاحب کو فیصل آباد بُلا کر صورتِ حال پیش کی اور آپ سے رائے طلب کی۔ آپ نے کہا جس طرح حکم ہو، میں حاضر ہوں، جب بار بار طلب رائے پر حکم کے لیے اسرار بڑھا، تو محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو لاہور میں جا کر اپنے استاذِ محترم کی معاونت میں کام کرنے کا حکم فرمایا۔
چنانچہ آپ نے لاہور پہنچ کر تدریسی فرائض سر انجام دینے کے علاوہ جامعہ کے انتظامی معاملات اور سرمایہ کی فراہمی میں بھی حصہ لیا، بلکہ قلیل مشاہرہ کی صورت میں جملہ تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اسی دوران آپ نے دو سال موچی دروازہ اور پانچ سال تک آخری بس اسٹاپ کرشن نگر لاہور میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
یوں تو آپ جامعہ نظامیہ رضویہ کے قیام سے ہی جملہ انتظام و انصرام حتی کہ قابل مدرسین کے انتخاب و تقرری تک میں شریک کار رہے، لیکن جب یکم شعبان ۱۳۸۲ھ/ ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۲ء کو حضرت محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ وصال فرماکر اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے اور ان کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان جاری رکھنے کے لیے حضرت استاذ العلماء مولانا غلام رسول مدظلہ جامعہ رضویہ مظہراسلام فیصل آباد تشریف لے گئے، تو جامعہ نظامیہ رضویہ کے جملہ انتظامات آپ کے سپرد کیے گئے۔
❤2
جامعہ نظامیہ رضویہ کی تاریخ، مصائب و آلام کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان ہے۔ جس باغیچی میں جامعہ قائم ہے۔ وہ غنڈہ گردی، بد معاشی، شراب نوشی غرضیکہ ہر قسم کے فسق و فجور کا مرکز بنی ہوئی تھی، جس کا مقابلہ کسی کے بس کا روگ نہ تھا۔ زمین کے حقوقِ دوامی پٹہ کی جامعہ کے نام منتقلی، نقشہ کی منظوری اور پھر تعمیریہ تینوں ادوار اپنی اپنی جگہ مستقل صبر آزما مراحل ہیں۔ علاوہ ازیں غنڈہ گردی کا مقابلہ، جامعہ کی ضروریات کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور پھر تدریس جس کے لیے ولولہ انگیز جذبات اور منصوبے، ان تمام حالات کے سامنے جس طرح آپ کوہِ گراں بن کر کھڑے ہوئے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔
اہلِ محلہ کا رویہ بعض اوقات نہایت شرمناک ہوتا جس سے طلبا کے جذبات بھڑک اٹھتے، لیکن حضرت مفتی صاحب کا مقصد عظیم کے حصول کی خاطر استقلال، طلباء اور آپ کے رفقا کو بھی خاموشی پر مجبور کردیتا۔
دس بارہ سال تک عدالتوں اور دفاتر کے چکر کاٹنے کے بعد نقشہ کی منظوری ہوئی اور پھر ناجائز قابضین سے جگہ خالی کرانے کے بعد تعمیر کی خاطر دوبارہ عدالتوں کے دروازوں پر دستک دی، پیپلز پارٹی کے بدمعاش وزیروں اور کارندوں کا مقابلہ کیا۔ بالآخر آپ کا حوصلہ استقلال اور یقینِ محکم رنگ لایا اور ۵؍جون ۱۹۷۲ء کو جامعہ کی دو منزلہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ایک سال میں نقشے کے مطابق عمارت کا نصف حصہ مکمل کرلیا گیا۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنی بڑی عمارت کی تعمیر، باوجودیکہ جامعہ کے دیگر شعبوں کے سالانہ اخراجات ڈیڑھ لاکھ روپے سے تجاوز کر رہے ہیں۔ آپ کی ہمت اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جامعہ کی ترقی اور دیگر دینی و مسلکی امور میں آپ کی دلچسپی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ نے گھریلو معاملات تک کو دینی خدمات پر قربان کر رکھا ہے اور صبح سے لے کر شام تک آپ کا عام وقت جامعہ میں یا کسی ملکی و ملی پروگرام میں صرف ہوتا ہے۔
۱۹۷۶ء میں آپ نے جامعہ کی طرف سے درجہ حدیث کی جماعت (جس میں راقم بھی شامل تھا) کو پنجاب کے مختلف مدارس اہل سنت کا تربیتی و معلوماتی دورہ کراکے تاریخِ مدارسِ عربیہ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
آپ جامع مسجد خراسیاں کی خطابت کے سلسلہ میں محکمہ اوقاف سے بھی منسلک رہے اور حق گوئی و جرأت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ محکمہ کی طرف سے کسی ناروا پابندی کو ہرگز قبول نہ کیا۔
مئی ۱۹۶۰ء میں تنظیم المدارس الاسلامیہ پاکستان کے نام سے سنی مدارس کی ایک تنظیم قائم ہوئی۔ قواعد و ضوابط مرتب ہوئے، لیکن بوجوہ وہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔
۱۹۷۳ء میں تنظیم المدارس کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے دارالعلوم امجدیہ کراچی سے تحریک پیدا ہوئی۔ شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری کی سر پرستی میں کراچی اور سندھ کے علماء کی مجلسِ مشاورت میں یہ طے پایا کہ تنظیم کے احیاء کے لیے ملک گیر کنونشن بلایا جائے۔ نیز تحریک کا دفتر پنجاب میں ہو۔ چنانچہ سوچ و بچار کے بعد قرعۂ فال آپ کے نام نکلا اور یہ کام آپ کے سپرد کر دیا گیا۔
چنانچہ اکابر علماء کے انتخاب اور اعتماد کے مطابق آپ نے شب و روز کی انتھک جدوجہد کے بعد جامعہ نظامیہ رضویہ میں ۱۴؍ذو الحجہ ۱۳۹۳ھ/ ۹؍جنوری ۱۹۷۴ء بروز بدھ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے سنی مدارس کا کنونشن بلایا اور علماء کرام کے اس جم غفیر میں آپ کو تنظیم المدارس کا ناظم اعلیٰ (مرکزی) مقرر کیا گیا۔
آپ نے نہایت محنت اور خلوص سے تنظیم کے کام کو چلایا یہاں تک کہ پہلے ہی سال ملکی سطح پر درجہ حدیث کے امتحان کا اہتمام کیا۔ پرچوں کی طباعت، مراکز اور ناظمین کا تعین، پرچوں پر نمبر لگانے اور نتیجہ کی تیاری تک تمام امور نہایت رازداری کے ساتھ طے پائے۔ تنظیم کے لیے قواعد و ضوابط اور نصابِ تعلیم مرتب کیے گئے۔
قومی اسمبلی اور سینٹ میں تنظیم المدارس کی سند ایم اے کے برابر قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرائی گئیں۔ صوبہ بلوچستان کے کئی مدارس کی سندات کو محکمہ تعلیم نے منظور کیا اور آپ کی انتھک جدوجہد سے سالوں کا کام مہینوں میں اور مہینوں کا کام دنوں میں ہوا اور الحمدللہ آج اہل سنت کے مدارس ایک لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ آپ کی اسی کوشش کے پیش نظر جب تنظیم کا باقاعدہ قواعد کے مطابق ۱۹۷۵ء میں انتخاب ہوا، تو علماء نے پھر آپ پر ہی اعتماد کیا اور جب ۱۹۷۷ء میں انتخابات کا مرحلہ آیا، تو باوجود یکہ سہ بارہ کسی عہدیدار کا انتخاب ضوابط کے خلاف تھا آپ کے عہدہ کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط میں ترمیم کردی گئی اور آپ کو پھر ناظمِ اعلیٰ مقرر کر دیا گیا اور آج آپ کا شمار ملک کے جید اور اکابر علماء میں ہوتا ہے اور اس طرح انجمن نعمانیہ کے دبیر کی وہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی جو اس نے آپ کو طالب علمی کے زمانے میں آپ کی پیشانی دیکھ کر کہی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر عظیم شخصیت بنے گا۔ والحمد للہ علیٰ ذالک۔
اہلِ محلہ کا رویہ بعض اوقات نہایت شرمناک ہوتا جس سے طلبا کے جذبات بھڑک اٹھتے، لیکن حضرت مفتی صاحب کا مقصد عظیم کے حصول کی خاطر استقلال، طلباء اور آپ کے رفقا کو بھی خاموشی پر مجبور کردیتا۔
دس بارہ سال تک عدالتوں اور دفاتر کے چکر کاٹنے کے بعد نقشہ کی منظوری ہوئی اور پھر ناجائز قابضین سے جگہ خالی کرانے کے بعد تعمیر کی خاطر دوبارہ عدالتوں کے دروازوں پر دستک دی، پیپلز پارٹی کے بدمعاش وزیروں اور کارندوں کا مقابلہ کیا۔ بالآخر آپ کا حوصلہ استقلال اور یقینِ محکم رنگ لایا اور ۵؍جون ۱۹۷۲ء کو جامعہ کی دو منزلہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ایک سال میں نقشے کے مطابق عمارت کا نصف حصہ مکمل کرلیا گیا۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنی بڑی عمارت کی تعمیر، باوجودیکہ جامعہ کے دیگر شعبوں کے سالانہ اخراجات ڈیڑھ لاکھ روپے سے تجاوز کر رہے ہیں۔ آپ کی ہمت اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جامعہ کی ترقی اور دیگر دینی و مسلکی امور میں آپ کی دلچسپی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ نے گھریلو معاملات تک کو دینی خدمات پر قربان کر رکھا ہے اور صبح سے لے کر شام تک آپ کا عام وقت جامعہ میں یا کسی ملکی و ملی پروگرام میں صرف ہوتا ہے۔
۱۹۷۶ء میں آپ نے جامعہ کی طرف سے درجہ حدیث کی جماعت (جس میں راقم بھی شامل تھا) کو پنجاب کے مختلف مدارس اہل سنت کا تربیتی و معلوماتی دورہ کراکے تاریخِ مدارسِ عربیہ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
آپ جامع مسجد خراسیاں کی خطابت کے سلسلہ میں محکمہ اوقاف سے بھی منسلک رہے اور حق گوئی و جرأت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ محکمہ کی طرف سے کسی ناروا پابندی کو ہرگز قبول نہ کیا۔
مئی ۱۹۶۰ء میں تنظیم المدارس الاسلامیہ پاکستان کے نام سے سنی مدارس کی ایک تنظیم قائم ہوئی۔ قواعد و ضوابط مرتب ہوئے، لیکن بوجوہ وہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔
۱۹۷۳ء میں تنظیم المدارس کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے دارالعلوم امجدیہ کراچی سے تحریک پیدا ہوئی۔ شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری کی سر پرستی میں کراچی اور سندھ کے علماء کی مجلسِ مشاورت میں یہ طے پایا کہ تنظیم کے احیاء کے لیے ملک گیر کنونشن بلایا جائے۔ نیز تحریک کا دفتر پنجاب میں ہو۔ چنانچہ سوچ و بچار کے بعد قرعۂ فال آپ کے نام نکلا اور یہ کام آپ کے سپرد کر دیا گیا۔
چنانچہ اکابر علماء کے انتخاب اور اعتماد کے مطابق آپ نے شب و روز کی انتھک جدوجہد کے بعد جامعہ نظامیہ رضویہ میں ۱۴؍ذو الحجہ ۱۳۹۳ھ/ ۹؍جنوری ۱۹۷۴ء بروز بدھ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے سنی مدارس کا کنونشن بلایا اور علماء کرام کے اس جم غفیر میں آپ کو تنظیم المدارس کا ناظم اعلیٰ (مرکزی) مقرر کیا گیا۔
آپ نے نہایت محنت اور خلوص سے تنظیم کے کام کو چلایا یہاں تک کہ پہلے ہی سال ملکی سطح پر درجہ حدیث کے امتحان کا اہتمام کیا۔ پرچوں کی طباعت، مراکز اور ناظمین کا تعین، پرچوں پر نمبر لگانے اور نتیجہ کی تیاری تک تمام امور نہایت رازداری کے ساتھ طے پائے۔ تنظیم کے لیے قواعد و ضوابط اور نصابِ تعلیم مرتب کیے گئے۔
قومی اسمبلی اور سینٹ میں تنظیم المدارس کی سند ایم اے کے برابر قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرائی گئیں۔ صوبہ بلوچستان کے کئی مدارس کی سندات کو محکمہ تعلیم نے منظور کیا اور آپ کی انتھک جدوجہد سے سالوں کا کام مہینوں میں اور مہینوں کا کام دنوں میں ہوا اور الحمدللہ آج اہل سنت کے مدارس ایک لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ آپ کی اسی کوشش کے پیش نظر جب تنظیم کا باقاعدہ قواعد کے مطابق ۱۹۷۵ء میں انتخاب ہوا، تو علماء نے پھر آپ پر ہی اعتماد کیا اور جب ۱۹۷۷ء میں انتخابات کا مرحلہ آیا، تو باوجود یکہ سہ بارہ کسی عہدیدار کا انتخاب ضوابط کے خلاف تھا آپ کے عہدہ کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط میں ترمیم کردی گئی اور آپ کو پھر ناظمِ اعلیٰ مقرر کر دیا گیا اور آج آپ کا شمار ملک کے جید اور اکابر علماء میں ہوتا ہے اور اس طرح انجمن نعمانیہ کے دبیر کی وہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی جو اس نے آپ کو طالب علمی کے زمانے میں آپ کی پیشانی دیکھ کر کہی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر عظیم شخصیت بنے گا۔ والحمد للہ علیٰ ذالک۔
❤2
تنظیم المدارس کو فعال اور مزید موثر بنانے کے لیے آپ نے ۵؍ فروری ۱۹۷۸ء کو مدارس سندھ کا اجلاس کراچی میں بلایا اور آپ نے اپنے اس دورے میں نہ صرف تنظیم المدارس کی کارکردگی کو تیز کرنے پر زور دیا، بلکہ کراچی کے تمام سنی مدارس کا معائنہ فرمایا، ممتاز شخصیات سے ملاقات کی اور سنی رسائل و جرائد اور کتب کی ضرورتِ اشاعت کا احساس دلایا۔ اس دورہ میں مولانا غلام رسول سعیدی، مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، اور مولانا محمد منشا تابش قصوری آپ کے ہمراہ تھے۔ اسی دوران سنی رسائل نے آپ سے دینی مدارس کی اہمیت اور دیگر معاملات پر انٹرویو لیے۔ اس سے قبل بھی آپ تنظیم کو فعال بنانے کی خاطر ۔۔۱۹ء میں کراچی اور مئی ۱۹۷۶ء میں صوبہ بلوچستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ آپ کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں تنظیم ترقی پذیر ہے۔
جامعہ کے انتظامی تدریسی اُمور کے علاوہ ملک کے اطراف و اکناف سے آنے والے سوالات کے جواب میں فقہ حنفی کے مطابق فتاویٰ جاری کرنا ایسی مصروفیات ہیں جن کی بناء پر آپ مستقلاً سیاست میں حصہ نہیں لیتے، لیکن بایں ہمہ جمعیت علماء پاکستان کی صاف ستھری سیاست مقامِ مصطفےٰ کا تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ کا نفاذ کی خاطر آپ کسی قسم کی خدمت سے نہیں ہچکچاتے۔ جب بعض مفاد پرست افراد نے جمعیت علماء پاکستان کو ذاتی اعراض کے لیے استعمال کرکے علماء اہل سنّت کے بے داغ ماضی کو داغدار کرنے کی غلطی کا ارتکاب کیا تو مخلص علماء اہل سنت اسے برداشت نہ کرسکے اور ۱۹۶۸ء میں جمعیت کی تطہیر کے لیے تحریک چلائی گئی۔ اس تحریک کا کنویز حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی مقرر ہوئے۔ اس وقت آپ نے شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی، حضرت علامہ عبدالنبی کوکب رحمہما اللہ حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، حضرت صاحبزادہ قاضی محمد فضلِ رسول اور حضرت مولانا احمد علی قصوری وغیرہم کے ساتھ مل کر ملک بھر کے دورے کیے اور ایک عظیم الشان کنونشن جامعہ نعیمیہ میں منعقد ہوا، جس میں حضرت شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کو صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر چنا گیا۔
اسی کنونشن میں آپ کو جمعیت علماء پاکستان لاہور کا صدر اور مرکزی ناظم نشر و اشاعت مقرر کیا گیا۔ اس وقت بحالیٔ جمہوریت کی تحریک کے آغاز کا سہرا جمعیت علماء پاکستان کے سر ہے اور اس سلسلے میں نکالے جانے والے مختلف جلوسوں میں سے مرکزی جلوس جامعہ نظامیہ رضویہ سے ۱۷؍جنوری ۱۹۶۹ء کو آپ کی قیادت میں نکالا گیا۔ جب خانیوال کنونشن میں حضرت علامہ شاہ احمد نورانی جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر اور مجاہدِ ملت علامہ عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تو لاہور میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں آپ کو خازن بنانے کی پیشکش کی گئی، لیکن آپ بوجہ مصروفیات معذرت خواہ ہوئے۔
۱۹۷۷ء کے آخر میں قائدین جمعیت صوبہ سرحد اور بلوچستان کا دورہ کرکے دونوں صوبوں میں جمعیت کا قیام عمل میں لائے۔ ان دوروں کی کامیابی میں آپ کی کاوشوں کا بہت بڑا دخل ہے۔
تنظیم المدارس (اہل سنّت) پاکستان کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آپ نے ایک طرف قائدینِ جمعیت کو دعوت دی اور دوسری طرف صوبہ سرحد اور بلوچستان کے علماء کو بلایا اور ہر دو صوبوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اجلاس رکھ کر قائدین سے تعارف اور مجوزہ دوروں کے لیے پروگرام تشکیل دیا گیا علاوہ ازیں ہزارہ ڈویژن کے دورہ میں آپ بھی قائدین کے ساتھ رہے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ کی ہدایت کے مطابق جامعہ کے طلباء، مدرسین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حتی کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
قومی اسمبلی میں حوالہ جات کے لیے کتب کی ضرورت میں آپ نے حضرت قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی حتی الامکان معاونت کی۔ مرزائیوں کے شرعی بائیکاٹ کے بارے میں ایک مدلل فتویٰ جاری کیا جسے انجمن طلباء اسلام نے شائع کیا۔
تحریکِ نظامِ مصطفےٰ ۱۹۷۷ء میں بھی آپ کی دلچسپی اور ہدایات کے مطابق مدرسین و طلباء جامعہ نے پوری قوم کے دوش بدوش تحریک میں حصّہ لیا۔ یہاں تک کہ سانحۂ مسلم مسجد میں جامعہ کے دو مدرسین اور گیارہ طلباء زخمی ہوئے اور گرفتار بھی ہوئے۔
۹؍اپریل کو جعلی اسمبلی کے ڈھونگ رچانے پر جب پوری قوم میدانِ عمل میں آئی، تو جامعہ کے تمام اساتذہ اور طلباء نے حصہ لیا۔
آپ نے ۱۹۵۳ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
آپ کے چار صاحبزادے (محمد سعید، محمد عبدالمصطفےٰ، محمد عبدالمجتبیٰ اور محمد عبدالمرتضیٰ) اور چار صاحبزادیاں ہیں بڑے صاحبزادے محمد سعید احمد بیرونِ ملک ہیں اور باقی صاحبزادے ابھی کمسن ہیں۔ (اللہ تعالیٰ تمام صاحبزادگان کو آپ کا صحیح جانشین بنائے، آمین)
جامعہ کے انتظامی تدریسی اُمور کے علاوہ ملک کے اطراف و اکناف سے آنے والے سوالات کے جواب میں فقہ حنفی کے مطابق فتاویٰ جاری کرنا ایسی مصروفیات ہیں جن کی بناء پر آپ مستقلاً سیاست میں حصہ نہیں لیتے، لیکن بایں ہمہ جمعیت علماء پاکستان کی صاف ستھری سیاست مقامِ مصطفےٰ کا تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ کا نفاذ کی خاطر آپ کسی قسم کی خدمت سے نہیں ہچکچاتے۔ جب بعض مفاد پرست افراد نے جمعیت علماء پاکستان کو ذاتی اعراض کے لیے استعمال کرکے علماء اہل سنّت کے بے داغ ماضی کو داغدار کرنے کی غلطی کا ارتکاب کیا تو مخلص علماء اہل سنت اسے برداشت نہ کرسکے اور ۱۹۶۸ء میں جمعیت کی تطہیر کے لیے تحریک چلائی گئی۔ اس تحریک کا کنویز حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی مقرر ہوئے۔ اس وقت آپ نے شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی، حضرت علامہ عبدالنبی کوکب رحمہما اللہ حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، حضرت صاحبزادہ قاضی محمد فضلِ رسول اور حضرت مولانا احمد علی قصوری وغیرہم کے ساتھ مل کر ملک بھر کے دورے کیے اور ایک عظیم الشان کنونشن جامعہ نعیمیہ میں منعقد ہوا، جس میں حضرت شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کو صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر چنا گیا۔
اسی کنونشن میں آپ کو جمعیت علماء پاکستان لاہور کا صدر اور مرکزی ناظم نشر و اشاعت مقرر کیا گیا۔ اس وقت بحالیٔ جمہوریت کی تحریک کے آغاز کا سہرا جمعیت علماء پاکستان کے سر ہے اور اس سلسلے میں نکالے جانے والے مختلف جلوسوں میں سے مرکزی جلوس جامعہ نظامیہ رضویہ سے ۱۷؍جنوری ۱۹۶۹ء کو آپ کی قیادت میں نکالا گیا۔ جب خانیوال کنونشن میں حضرت علامہ شاہ احمد نورانی جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر اور مجاہدِ ملت علامہ عبدالستار خان نیازی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تو لاہور میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں آپ کو خازن بنانے کی پیشکش کی گئی، لیکن آپ بوجہ مصروفیات معذرت خواہ ہوئے۔
۱۹۷۷ء کے آخر میں قائدین جمعیت صوبہ سرحد اور بلوچستان کا دورہ کرکے دونوں صوبوں میں جمعیت کا قیام عمل میں لائے۔ ان دوروں کی کامیابی میں آپ کی کاوشوں کا بہت بڑا دخل ہے۔
تنظیم المدارس (اہل سنّت) پاکستان کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آپ نے ایک طرف قائدینِ جمعیت کو دعوت دی اور دوسری طرف صوبہ سرحد اور بلوچستان کے علماء کو بلایا اور ہر دو صوبوں کے لیے علیحدہ علیحدہ اجلاس رکھ کر قائدین سے تعارف اور مجوزہ دوروں کے لیے پروگرام تشکیل دیا گیا علاوہ ازیں ہزارہ ڈویژن کے دورہ میں آپ بھی قائدین کے ساتھ رہے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ کی ہدایت کے مطابق جامعہ کے طلباء، مدرسین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حتی کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
قومی اسمبلی میں حوالہ جات کے لیے کتب کی ضرورت میں آپ نے حضرت قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی حتی الامکان معاونت کی۔ مرزائیوں کے شرعی بائیکاٹ کے بارے میں ایک مدلل فتویٰ جاری کیا جسے انجمن طلباء اسلام نے شائع کیا۔
تحریکِ نظامِ مصطفےٰ ۱۹۷۷ء میں بھی آپ کی دلچسپی اور ہدایات کے مطابق مدرسین و طلباء جامعہ نے پوری قوم کے دوش بدوش تحریک میں حصّہ لیا۔ یہاں تک کہ سانحۂ مسلم مسجد میں جامعہ کے دو مدرسین اور گیارہ طلباء زخمی ہوئے اور گرفتار بھی ہوئے۔
۹؍اپریل کو جعلی اسمبلی کے ڈھونگ رچانے پر جب پوری قوم میدانِ عمل میں آئی، تو جامعہ کے تمام اساتذہ اور طلباء نے حصہ لیا۔
آپ نے ۱۹۵۳ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
آپ کے چار صاحبزادے (محمد سعید، محمد عبدالمصطفےٰ، محمد عبدالمجتبیٰ اور محمد عبدالمرتضیٰ) اور چار صاحبزادیاں ہیں بڑے صاحبزادے محمد سعید احمد بیرونِ ملک ہیں اور باقی صاحبزادے ابھی کمسن ہیں۔ (اللہ تعالیٰ تمام صاحبزادگان کو آپ کا صحیح جانشین بنائے، آمین)
❤2
تلامذہ:
یوں تو بے شمار طلباء آپ سے اکتساب فیض کر چکے ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۲۔ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی، مجاہدِ تحریک نظام مصطفےٰ ہری پور (ہزارہ)
۳۔ حضرت مولاناسید مزمل حسین شاہ، ناظم اعلیٰ جامعہ حسینیہ رضویہ ،لاہور
۴۔ حضرت مولانا محمد صدیق، انگلینڈ
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب صدیقی اچھرہ، لاہور
۶۔ حضرت مولانا گل محمد صاحب عتیقی، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۷۔ حضرت مولانا مفتی ہدایت اللہ، مدرس جامعہ رضویہ مظہرالعلوم ملتان
۸۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب، دوبئی
۹۔ حضرت مولانامفتی محمد منیب الرحمٰن ہزاروی ایم اے، مدرس دارالعلوم نعیمیہ کراچی
۱۰۔ حضرت مولانا محمد طفیل، ناظمِ اعلیٰ شمس العلوم جامعہ رضویہ کراچی
۱۱۔ حضرت مولانا سید خادم حسین شاہ، مدرس کاہنہ نو
۱۲۔ حضرت مولانا قاری عبدالرشید سیالوی، ناظمِ اعلیٰ دارالعلوم غوثیہ بندر روڈ شیراکوٹ لاہور
۱۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالستار نظامی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۴۔ حضرت مولانا سیّد غلام مصطفےٰ بخاری، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۵۔ محمد صدیق ہزاروی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۶۔ مولانا محمد بشیر نقشبندی، خطیب، لاہور
۱۷۔ مولانا حافظ احسان اللہ ہزاروی [۱]
[۱] ۔ یہ تمام کوائف حضرت استاد محترم مدظلہ سے براہ راست حاصل کیے ـ (مرتب)
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-qayyum-hazarvi
یوں تو بے شمار طلباء آپ سے اکتساب فیض کر چکے ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری، صدر مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۲۔ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی، مجاہدِ تحریک نظام مصطفےٰ ہری پور (ہزارہ)
۳۔ حضرت مولاناسید مزمل حسین شاہ، ناظم اعلیٰ جامعہ حسینیہ رضویہ ،لاہور
۴۔ حضرت مولانا محمد صدیق، انگلینڈ
۵۔ حضرت مولانا عبدالتواب صدیقی اچھرہ، لاہور
۶۔ حضرت مولانا گل محمد صاحب عتیقی، مدرس جامعہ رضویہ فیصل آباد
۷۔ حضرت مولانا مفتی ہدایت اللہ، مدرس جامعہ رضویہ مظہرالعلوم ملتان
۸۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب، دوبئی
۹۔ حضرت مولانامفتی محمد منیب الرحمٰن ہزاروی ایم اے، مدرس دارالعلوم نعیمیہ کراچی
۱۰۔ حضرت مولانا محمد طفیل، ناظمِ اعلیٰ شمس العلوم جامعہ رضویہ کراچی
۱۱۔ حضرت مولانا سید خادم حسین شاہ، مدرس کاہنہ نو
۱۲۔ حضرت مولانا قاری عبدالرشید سیالوی، ناظمِ اعلیٰ دارالعلوم غوثیہ بندر روڈ شیراکوٹ لاہور
۱۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالستار نظامی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۴۔ حضرت مولانا سیّد غلام مصطفےٰ بخاری، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۵۔ محمد صدیق ہزاروی، مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۶۔ مولانا محمد بشیر نقشبندی، خطیب، لاہور
۱۷۔ مولانا حافظ احسان اللہ ہزاروی [۱]
[۱] ۔ یہ تمام کوائف حضرت استاد محترم مدظلہ سے براہ راست حاصل کیے ـ (مرتب)
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-qayyum-hazarvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Mufti Muhammad Abdul Qayyum Hazarwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ
ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ
حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ
ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ
حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Ajmal Sumbhuli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
scholars.pk
Hazrat Mohiuddin Ibne Arabi Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام و نسب: الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب…
سید الکاشفین سیدنا ابو عبد اللہ شیخ اکبر ابو عبد اللہ محی الدین ابن العربی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/63095
ولادت: 17 رمضان المبارک 860ھ
یوم وصال: 28 ربیع الآخر 638 ھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/63095
ولادت: 17 رمضان المبارک 860ھ
یوم وصال: 28 ربیع الآخر 638 ھ
❤2