🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-04-1445 ᴴ | 11-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
علی اصغر سید قادری جیلانی علیہ الرحمۃ ف ۱۲۰۰ھ
آپ حضور غوث الاعظم محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہیں ۔ علی اصغر بن فتح محمد شاہ جیلانی بن نور محمد شاہ جیلانی بن سید اسماعیل شاہ جیلانی بن شیخ سید شیخ ابو الوفا قادری شیخ سید شہاب الدین بن سید شیخ بدر الدین بن سید شیخ علاؤ الدین بن شیخ سید چراغ الدین بن شیخ سید محمد ثمین الدین بن شیخ سید قاضی القضاۃ عماد الدین بن شیخ سید ابو بکر تاج الدین بن حضرت شیخ الشیوخ سیدنا عبد الرزاق بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سید ابو محمد عبد القادر جیلانی قدس اللہ اسرارھم ۔
حضرت سید علی اصغر جیلانی المعروف، دریا کا پیر رحمہ اللہ کا شمار بڑے باکمال اولیاء کاملین و عارفین میں ہوتا ہے ۔ آپ نے اپنے برادر اکبر حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی رحمہ اللہ کے ساتھ دریائے مہران کے کنارہ درگاہ نوارئی شریف میں ایک اوطاق (بیٹھک) بنائی ہوئی تھی اس میں رہتے اور ریاضت و عبادت کرتے اور اپنے چشمہ فیض سے پیاسوں کو سیراب کرتے۔
حضرت مولانا سید محمد بخش جیلانی علیہ الرحمہ جو حضرت علی اصغر کے دربار کے صاحب سجادہ اور چشم و چراغ تھے، کا بیان ہے کہ ایک دن ایک بڑھیا روتی ہوئی آپ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ میرے تمام گھر والے اب سے تھوڑی دیر پہلے کشتی میں سوار تھے اور کشتی سمیت ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ اگر آپ واقعی اس پیران پیر کی اولاد سے ہیں جس نے مجھ جیسی بڑھیا کا ڈوبا ہوا بیڑا ترایا تھا تو خدا را میرا بیڑ بھی پار کیجیے ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالیے ۔
حضرت سید علی اکبر نے اپنے برادر اصغر حضرت سید علی اصغر جیلانی سے فرمایا تم دریا میں جاؤ اور کشتی نکلوا لاؤ۔ حضر ت علی اصغر جیلانی نے فوراً اپنے بھائی کےحکم کی تعمیل کی اور گھوڑےپر سوار ہو کردریا میں اسی مقام سے داخل ہوئے جہاں کشتی ڈوبی تھی۔ شاہ صاحب کا دریامیں جانا تھا کہ کشتی باسلامت باہر نکل آئی لیکن حضرت خود باہر نہ آئے! تمام لوگ لب دریا جمع ہوگئے اور حضرت کے نکلنے کا شدت سے انتظار کرنے کرنے لگے لوگوں کو حضرت کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔
غوطہ لگانے والوں نے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا لیکن حضرت کا کہیں بھی سراغ نہ مل سکا۔ اسی حالت میں چالیس دن گذرے کہ اچانک گھوڑے پر سوار باہر آئے آپ کے آتے ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ آپ سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت حضر علیہ السلام کے عطا کردہ چند تحائف بھی اپنے ساتھ لائے ، جائے نماز ایک ہزار دانوں والی تسبیح ،حمائل شریف اور ایک کشکول جو کہ آپ کے خاندان میں موجود تھے لیکن کسی ظالم نے اشیاء مذکورہ چرالیں اس واقعہ کے بعد آپ نے بحری زندگی اختیار کرلی۔ اور ایک کشتی کو اپنا مسکن بنایا اس ی میں اپنی زوجہ کے ساتھ رہتے اور عبادت و ریاضت کرتے اور اسی سبب سے آپ دریا کا پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔
اب دنیا آپ دریا کے پیر کے نام سے جانتی ہے اپ کو کوئی اولانہ ہوئی دربارنورائی شریف آپ کےنام سے مشہور ہوئی۔ آخر آپ نے کشتی میں ہی ۲۸ ربیع الاخر ۱۲۰۰ ھ میں وفات فرمائی۔ دریائے سندھ کے کنارے کوٹری پل سے متصل مشرقی جانب آپ کو چھ ماہ کے لیے بطور امانت مدفون کیاگیا ۔ (اور یہ مقام اب بھی موجود ہے جو دریا کے پیر کا تکیہ کہلاتا ہے وہاں پر آپ ہی کے خاندان میں سے حضرت فتح محمد شاہ جیلانی ثالث کا مزار زیارت خاص و عام ہے) چھ ماہ کے بعد آپ کی نعش مبارک کو نکال کر اس اوطاق (بیٹھک) نورائی شریف میں دفن کیا گیا جس میں آپ پہلے رہا کرتے تھے آپ کا مزار مقدس مرجع خلائق اور پریشانیوں کا حل ہے۔ تحفۃ الکرام جلد دوم میں حضرت کا تزکرہ موجود ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-asghar-syed-qadri-jilani
آپ حضور غوث الاعظم محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہیں ۔ علی اصغر بن فتح محمد شاہ جیلانی بن نور محمد شاہ جیلانی بن سید اسماعیل شاہ جیلانی بن شیخ سید شیخ ابو الوفا قادری شیخ سید شہاب الدین بن سید شیخ بدر الدین بن سید شیخ علاؤ الدین بن شیخ سید چراغ الدین بن شیخ سید محمد ثمین الدین بن شیخ سید قاضی القضاۃ عماد الدین بن شیخ سید ابو بکر تاج الدین بن حضرت شیخ الشیوخ سیدنا عبد الرزاق بن حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سید ابو محمد عبد القادر جیلانی قدس اللہ اسرارھم ۔
حضرت سید علی اصغر جیلانی المعروف، دریا کا پیر رحمہ اللہ کا شمار بڑے باکمال اولیاء کاملین و عارفین میں ہوتا ہے ۔ آپ نے اپنے برادر اکبر حضرت سید علی اکبر شاہ جیلانی رحمہ اللہ کے ساتھ دریائے مہران کے کنارہ درگاہ نوارئی شریف میں ایک اوطاق (بیٹھک) بنائی ہوئی تھی اس میں رہتے اور ریاضت و عبادت کرتے اور اپنے چشمہ فیض سے پیاسوں کو سیراب کرتے۔
حضرت مولانا سید محمد بخش جیلانی علیہ الرحمہ جو حضرت علی اصغر کے دربار کے صاحب سجادہ اور چشم و چراغ تھے، کا بیان ہے کہ ایک دن ایک بڑھیا روتی ہوئی آپ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ میرے تمام گھر والے اب سے تھوڑی دیر پہلے کشتی میں سوار تھے اور کشتی سمیت ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ اگر آپ واقعی اس پیران پیر کی اولاد سے ہیں جس نے مجھ جیسی بڑھیا کا ڈوبا ہوا بیڑا ترایا تھا تو خدا را میرا بیڑ بھی پار کیجیے ڈوبی ہوئی کشتی کو نکالیے ۔
حضرت سید علی اکبر نے اپنے برادر اصغر حضرت سید علی اصغر جیلانی سے فرمایا تم دریا میں جاؤ اور کشتی نکلوا لاؤ۔ حضر ت علی اصغر جیلانی نے فوراً اپنے بھائی کےحکم کی تعمیل کی اور گھوڑےپر سوار ہو کردریا میں اسی مقام سے داخل ہوئے جہاں کشتی ڈوبی تھی۔ شاہ صاحب کا دریامیں جانا تھا کہ کشتی باسلامت باہر نکل آئی لیکن حضرت خود باہر نہ آئے! تمام لوگ لب دریا جمع ہوگئے اور حضرت کے نکلنے کا شدت سے انتظار کرنے کرنے لگے لوگوں کو حضرت کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔
غوطہ لگانے والوں نے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا لیکن حضرت کا کہیں بھی سراغ نہ مل سکا۔ اسی حالت میں چالیس دن گذرے کہ اچانک گھوڑے پر سوار باہر آئے آپ کے آتے ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ آپ سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت حضر علیہ السلام کے عطا کردہ چند تحائف بھی اپنے ساتھ لائے ، جائے نماز ایک ہزار دانوں والی تسبیح ،حمائل شریف اور ایک کشکول جو کہ آپ کے خاندان میں موجود تھے لیکن کسی ظالم نے اشیاء مذکورہ چرالیں اس واقعہ کے بعد آپ نے بحری زندگی اختیار کرلی۔ اور ایک کشتی کو اپنا مسکن بنایا اس ی میں اپنی زوجہ کے ساتھ رہتے اور عبادت و ریاضت کرتے اور اسی سبب سے آپ دریا کا پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔
اب دنیا آپ دریا کے پیر کے نام سے جانتی ہے اپ کو کوئی اولانہ ہوئی دربارنورائی شریف آپ کےنام سے مشہور ہوئی۔ آخر آپ نے کشتی میں ہی ۲۸ ربیع الاخر ۱۲۰۰ ھ میں وفات فرمائی۔ دریائے سندھ کے کنارے کوٹری پل سے متصل مشرقی جانب آپ کو چھ ماہ کے لیے بطور امانت مدفون کیاگیا ۔ (اور یہ مقام اب بھی موجود ہے جو دریا کے پیر کا تکیہ کہلاتا ہے وہاں پر آپ ہی کے خاندان میں سے حضرت فتح محمد شاہ جیلانی ثالث کا مزار زیارت خاص و عام ہے) چھ ماہ کے بعد آپ کی نعش مبارک کو نکال کر اس اوطاق (بیٹھک) نورائی شریف میں دفن کیا گیا جس میں آپ پہلے رہا کرتے تھے آپ کا مزار مقدس مرجع خلائق اور پریشانیوں کا حل ہے۔ تحفۃ الکرام جلد دوم میں حضرت کا تزکرہ موجود ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-asghar-syed-qadri-jilani
❤2
استاذ العلماء ، فاضل شہر ، حضرت علامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ولادت:
استاذ العماء حضرت علامہ مولانا ابو سعید مفتی عبدالقیوم ہزاروی بن مولانا حمید اللہ ۲۹؍شعبان المعظم ۱۳۵۲ھ / ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۳ء میں بمقام میراہ علاقہ اپر تناول، مانسہرہ (ہزارہ) پیدا ہوئے۔
علمی خاندان:
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علم دین اور حفظِ قرآن کی لا زوال دولت سے بہرہ ور ہیں۔
تعلیم:
آپ نے ابتدائی کتب فارسی، جنیدھیڑ شریف ضلع گجرات میں اپنے چچا مولانا محبوب الرحمٰن سے پڑھیں، جبکہ مولانا مذکور انتہائی کتب وہاں مولانا محب النبی سے پڑھا کرتے تھے۔ فنون کی ابتدائی کتب مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب سے پڑھنے کے بعد باقی تمام کتب متداولہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب (فیصل آباد) سے دار العلوم جامعہ رضویہ منظرِ اسلام ہارون آباد (بہاول نگر) مدرسہ احیاء العلوم بورے والہ (ملتان) اور دارالعلوم حزب الاحناف میں پڑھیں۔ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات سید احمد مدظلہ سے دار العلوم حزب الاحناف میں اور پھر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہر اسلام (فیصل آباد) میں درسِ حدیث لے کر ہر دو اداروں سے ۱۹۵۵ء اور ۱۹۵۶ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
دارالعلوم حزب الاحناف میں آپ کی رسم دستار بندی کے موقع پر دیگر اکابر علماء اہل سنت کے علاوہ حضرت محدث کچھوچھوی اور قائدِ تحریک ختمِ نبوت حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہما اللہ، علامہ عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ اور علامہ سید احمد سعید کاظمی بھی موجود تھے۔
ابھی آپ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں درجہ حدیث کے متعلم تھے کہ جامعہ حنفیہ قصور کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب ایک مدرس کی تلاش میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور تشریف لائے، چنانچہ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات مد ظلہ نے آپ کو حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب کے ہمراہ جامعہ حنفیہ قصور میں تدریس کے لیے بھیجا، جہاں تقریباً بائیس اسباق کی تدریس آپ سے متعلق ہو گئی ۔ کثرتِ اسباق کی وجہ سے آپ بیمار پڑ گئے، چنانچہ دوسرے سال آپ کی خرابیٔ صحت کی بنا پر گھر آ گئے ۔ اسی دوران حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو فیصل آباد بُلا کر سمندری ضلع فیصل آباد میں خطابت اور قیامِ مدرسہ کے لیے بھیجا۔ چونکہ آپ کی طبیعت کا رجحان امامت و خطابت کی بجائے تدریس کی طرف زیادہ تھا، اس لیے چند دن بعد آپ واپس فیصل آباد آ کر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے دورۂ حدیث میں شامل ہو گئے ۔ جلسہ دستار فضیلت کے موقع پر حضرت مولانا عبد الغفور مہتمم جامعہ غوثیہ رضویہ غلہ منڈی پیر محل دارالعلوم کے لیے قابلِ مدرس حاصل کرنے کے لیے فیصل آباد آئے۔ جب طلباء سے آپ کی قابلیت اور لیاقت کا علم ہوا، تو حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے آپ کو بطور مدرس پیر محل لے گئے ۔ چونکہ یہ شعبان المعظم کا مہینہ تھا، اس لیے آپ نے تدریسی چارج سنبھالا اور رمضان المبارک کی تعطیل گزارنے اپنے گاؤں تشریف لائے۔
اسی دوران آپ کے استاذِ محترم حضرت علامہ مولانا غلام رسول (شیخ الحدیث) جامعہ رضویہ فیصل آباد) نے جامع مسجد خراسیاں لاہور میں ’’جامعہ نظامیہ رضویہ‘‘ کے نام سے ایک دارالعلوم کی بنیاد رکھی اور اپنی معاونت کے لیے آپ کو طلب کرنے کی غرض سے فیصل آباد خط لکھا خط ملنے پر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے حضرت مفتی صاحب کو فیصل آباد بُلا کر صورتِ حال پیش کی اور آپ سے رائے طلب کی۔ آپ نے کہا جس طرح حکم ہو، میں حاضر ہوں، جب بار بار طلب رائے پر حکم کے لیے اسرار بڑھا، تو محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو لاہور میں جا کر اپنے استاذِ محترم کی معاونت میں کام کرنے کا حکم فرمایا۔
چنانچہ آپ نے لاہور پہنچ کر تدریسی فرائض سر انجام دینے کے علاوہ جامعہ کے انتظامی معاملات اور سرمایہ کی فراہمی میں بھی حصہ لیا، بلکہ قلیل مشاہرہ کی صورت میں جملہ تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اسی دوران آپ نے دو سال موچی دروازہ اور پانچ سال تک آخری بس اسٹاپ کرشن نگر لاہور میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
یوں تو آپ جامعہ نظامیہ رضویہ کے قیام سے ہی جملہ انتظام و انصرام حتی کہ قابل مدرسین کے انتخاب و تقرری تک میں شریک کار رہے، لیکن جب یکم شعبان ۱۳۸۲ھ/ ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۲ء کو حضرت محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ وصال فرماکر اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے اور ان کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان جاری رکھنے کے لیے حضرت استاذ العلماء مولانا غلام رسول مدظلہ جامعہ رضویہ مظہراسلام فیصل آباد تشریف لے گئے، تو جامعہ نظامیہ رضویہ کے جملہ انتظامات آپ کے سپرد کیے گئے۔
ولادت:
استاذ العماء حضرت علامہ مولانا ابو سعید مفتی عبدالقیوم ہزاروی بن مولانا حمید اللہ ۲۹؍شعبان المعظم ۱۳۵۲ھ / ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۳ء میں بمقام میراہ علاقہ اپر تناول، مانسہرہ (ہزارہ) پیدا ہوئے۔
علمی خاندان:
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علم دین اور حفظِ قرآن کی لا زوال دولت سے بہرہ ور ہیں۔
تعلیم:
آپ نے ابتدائی کتب فارسی، جنیدھیڑ شریف ضلع گجرات میں اپنے چچا مولانا محبوب الرحمٰن سے پڑھیں، جبکہ مولانا مذکور انتہائی کتب وہاں مولانا محب النبی سے پڑھا کرتے تھے۔ فنون کی ابتدائی کتب مرکزی دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب سے پڑھنے کے بعد باقی تمام کتب متداولہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب (فیصل آباد) سے دار العلوم جامعہ رضویہ منظرِ اسلام ہارون آباد (بہاول نگر) مدرسہ احیاء العلوم بورے والہ (ملتان) اور دارالعلوم حزب الاحناف میں پڑھیں۔ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات سید احمد مدظلہ سے دار العلوم حزب الاحناف میں اور پھر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہر اسلام (فیصل آباد) میں درسِ حدیث لے کر ہر دو اداروں سے ۱۹۵۵ء اور ۱۹۵۶ء میں سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
دارالعلوم حزب الاحناف میں آپ کی رسم دستار بندی کے موقع پر دیگر اکابر علماء اہل سنت کے علاوہ حضرت محدث کچھوچھوی اور قائدِ تحریک ختمِ نبوت حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہما اللہ، علامہ عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ اور علامہ سید احمد سعید کاظمی بھی موجود تھے۔
ابھی آپ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں درجہ حدیث کے متعلم تھے کہ جامعہ حنفیہ قصور کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب ایک مدرس کی تلاش میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور تشریف لائے، چنانچہ مفتیٔ اعظم پاکستان علامہ ابو البرکات مد ظلہ نے آپ کو حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب کے ہمراہ جامعہ حنفیہ قصور میں تدریس کے لیے بھیجا، جہاں تقریباً بائیس اسباق کی تدریس آپ سے متعلق ہو گئی ۔ کثرتِ اسباق کی وجہ سے آپ بیمار پڑ گئے، چنانچہ دوسرے سال آپ کی خرابیٔ صحت کی بنا پر گھر آ گئے ۔ اسی دوران حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو فیصل آباد بُلا کر سمندری ضلع فیصل آباد میں خطابت اور قیامِ مدرسہ کے لیے بھیجا۔ چونکہ آپ کی طبیعت کا رجحان امامت و خطابت کی بجائے تدریس کی طرف زیادہ تھا، اس لیے چند دن بعد آپ واپس فیصل آباد آ کر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے دورۂ حدیث میں شامل ہو گئے ۔ جلسہ دستار فضیلت کے موقع پر حضرت مولانا عبد الغفور مہتمم جامعہ غوثیہ رضویہ غلہ منڈی پیر محل دارالعلوم کے لیے قابلِ مدرس حاصل کرنے کے لیے فیصل آباد آئے۔ جب طلباء سے آپ کی قابلیت اور لیاقت کا علم ہوا، تو حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ کی اجازت سے آپ کو بطور مدرس پیر محل لے گئے ۔ چونکہ یہ شعبان المعظم کا مہینہ تھا، اس لیے آپ نے تدریسی چارج سنبھالا اور رمضان المبارک کی تعطیل گزارنے اپنے گاؤں تشریف لائے۔
اسی دوران آپ کے استاذِ محترم حضرت علامہ مولانا غلام رسول (شیخ الحدیث) جامعہ رضویہ فیصل آباد) نے جامع مسجد خراسیاں لاہور میں ’’جامعہ نظامیہ رضویہ‘‘ کے نام سے ایک دارالعلوم کی بنیاد رکھی اور اپنی معاونت کے لیے آپ کو طلب کرنے کی غرض سے فیصل آباد خط لکھا خط ملنے پر حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ نے حضرت مفتی صاحب کو فیصل آباد بُلا کر صورتِ حال پیش کی اور آپ سے رائے طلب کی۔ آپ نے کہا جس طرح حکم ہو، میں حاضر ہوں، جب بار بار طلب رائے پر حکم کے لیے اسرار بڑھا، تو محدث اعظم رحمہ اللہ نے آپ کو لاہور میں جا کر اپنے استاذِ محترم کی معاونت میں کام کرنے کا حکم فرمایا۔
چنانچہ آپ نے لاہور پہنچ کر تدریسی فرائض سر انجام دینے کے علاوہ جامعہ کے انتظامی معاملات اور سرمایہ کی فراہمی میں بھی حصہ لیا، بلکہ قلیل مشاہرہ کی صورت میں جملہ تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اسی دوران آپ نے دو سال موچی دروازہ اور پانچ سال تک آخری بس اسٹاپ کرشن نگر لاہور میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
یوں تو آپ جامعہ نظامیہ رضویہ کے قیام سے ہی جملہ انتظام و انصرام حتی کہ قابل مدرسین کے انتخاب و تقرری تک میں شریک کار رہے، لیکن جب یکم شعبان ۱۳۸۲ھ/ ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۲ء کو حضرت محدث اعظم پاکستان رحمہ اللہ وصال فرماکر اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے اور ان کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان جاری رکھنے کے لیے حضرت استاذ العلماء مولانا غلام رسول مدظلہ جامعہ رضویہ مظہراسلام فیصل آباد تشریف لے گئے، تو جامعہ نظامیہ رضویہ کے جملہ انتظامات آپ کے سپرد کیے گئے۔
❤2
جامعہ نظامیہ رضویہ کی تاریخ، مصائب و آلام کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان ہے۔ جس باغیچی میں جامعہ قائم ہے۔ وہ غنڈہ گردی، بد معاشی، شراب نوشی غرضیکہ ہر قسم کے فسق و فجور کا مرکز بنی ہوئی تھی، جس کا مقابلہ کسی کے بس کا روگ نہ تھا۔ زمین کے حقوقِ دوامی پٹہ کی جامعہ کے نام منتقلی، نقشہ کی منظوری اور پھر تعمیریہ تینوں ادوار اپنی اپنی جگہ مستقل صبر آزما مراحل ہیں۔ علاوہ ازیں غنڈہ گردی کا مقابلہ، جامعہ کی ضروریات کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور پھر تدریس جس کے لیے ولولہ انگیز جذبات اور منصوبے، ان تمام حالات کے سامنے جس طرح آپ کوہِ گراں بن کر کھڑے ہوئے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔
اہلِ محلہ کا رویہ بعض اوقات نہایت شرمناک ہوتا جس سے طلبا کے جذبات بھڑک اٹھتے، لیکن حضرت مفتی صاحب کا مقصد عظیم کے حصول کی خاطر استقلال، طلباء اور آپ کے رفقا کو بھی خاموشی پر مجبور کردیتا۔
دس بارہ سال تک عدالتوں اور دفاتر کے چکر کاٹنے کے بعد نقشہ کی منظوری ہوئی اور پھر ناجائز قابضین سے جگہ خالی کرانے کے بعد تعمیر کی خاطر دوبارہ عدالتوں کے دروازوں پر دستک دی، پیپلز پارٹی کے بدمعاش وزیروں اور کارندوں کا مقابلہ کیا۔ بالآخر آپ کا حوصلہ استقلال اور یقینِ محکم رنگ لایا اور ۵؍جون ۱۹۷۲ء کو جامعہ کی دو منزلہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ایک سال میں نقشے کے مطابق عمارت کا نصف حصہ مکمل کرلیا گیا۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنی بڑی عمارت کی تعمیر، باوجودیکہ جامعہ کے دیگر شعبوں کے سالانہ اخراجات ڈیڑھ لاکھ روپے سے تجاوز کر رہے ہیں۔ آپ کی ہمت اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جامعہ کی ترقی اور دیگر دینی و مسلکی امور میں آپ کی دلچسپی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ نے گھریلو معاملات تک کو دینی خدمات پر قربان کر رکھا ہے اور صبح سے لے کر شام تک آپ کا عام وقت جامعہ میں یا کسی ملکی و ملی پروگرام میں صرف ہوتا ہے۔
۱۹۷۶ء میں آپ نے جامعہ کی طرف سے درجہ حدیث کی جماعت (جس میں راقم بھی شامل تھا) کو پنجاب کے مختلف مدارس اہل سنت کا تربیتی و معلوماتی دورہ کراکے تاریخِ مدارسِ عربیہ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
آپ جامع مسجد خراسیاں کی خطابت کے سلسلہ میں محکمہ اوقاف سے بھی منسلک رہے اور حق گوئی و جرأت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ محکمہ کی طرف سے کسی ناروا پابندی کو ہرگز قبول نہ کیا۔
مئی ۱۹۶۰ء میں تنظیم المدارس الاسلامیہ پاکستان کے نام سے سنی مدارس کی ایک تنظیم قائم ہوئی۔ قواعد و ضوابط مرتب ہوئے، لیکن بوجوہ وہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔
۱۹۷۳ء میں تنظیم المدارس کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے دارالعلوم امجدیہ کراچی سے تحریک پیدا ہوئی۔ شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری کی سر پرستی میں کراچی اور سندھ کے علماء کی مجلسِ مشاورت میں یہ طے پایا کہ تنظیم کے احیاء کے لیے ملک گیر کنونشن بلایا جائے۔ نیز تحریک کا دفتر پنجاب میں ہو۔ چنانچہ سوچ و بچار کے بعد قرعۂ فال آپ کے نام نکلا اور یہ کام آپ کے سپرد کر دیا گیا۔
چنانچہ اکابر علماء کے انتخاب اور اعتماد کے مطابق آپ نے شب و روز کی انتھک جدوجہد کے بعد جامعہ نظامیہ رضویہ میں ۱۴؍ذو الحجہ ۱۳۹۳ھ/ ۹؍جنوری ۱۹۷۴ء بروز بدھ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے سنی مدارس کا کنونشن بلایا اور علماء کرام کے اس جم غفیر میں آپ کو تنظیم المدارس کا ناظم اعلیٰ (مرکزی) مقرر کیا گیا۔
آپ نے نہایت محنت اور خلوص سے تنظیم کے کام کو چلایا یہاں تک کہ پہلے ہی سال ملکی سطح پر درجہ حدیث کے امتحان کا اہتمام کیا۔ پرچوں کی طباعت، مراکز اور ناظمین کا تعین، پرچوں پر نمبر لگانے اور نتیجہ کی تیاری تک تمام امور نہایت رازداری کے ساتھ طے پائے۔ تنظیم کے لیے قواعد و ضوابط اور نصابِ تعلیم مرتب کیے گئے۔
قومی اسمبلی اور سینٹ میں تنظیم المدارس کی سند ایم اے کے برابر قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرائی گئیں۔ صوبہ بلوچستان کے کئی مدارس کی سندات کو محکمہ تعلیم نے منظور کیا اور آپ کی انتھک جدوجہد سے سالوں کا کام مہینوں میں اور مہینوں کا کام دنوں میں ہوا اور الحمدللہ آج اہل سنت کے مدارس ایک لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ آپ کی اسی کوشش کے پیش نظر جب تنظیم کا باقاعدہ قواعد کے مطابق ۱۹۷۵ء میں انتخاب ہوا، تو علماء نے پھر آپ پر ہی اعتماد کیا اور جب ۱۹۷۷ء میں انتخابات کا مرحلہ آیا، تو باوجود یکہ سہ بارہ کسی عہدیدار کا انتخاب ضوابط کے خلاف تھا آپ کے عہدہ کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط میں ترمیم کردی گئی اور آپ کو پھر ناظمِ اعلیٰ مقرر کر دیا گیا اور آج آپ کا شمار ملک کے جید اور اکابر علماء میں ہوتا ہے اور اس طرح انجمن نعمانیہ کے دبیر کی وہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی جو اس نے آپ کو طالب علمی کے زمانے میں آپ کی پیشانی دیکھ کر کہی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر عظیم شخصیت بنے گا۔ والحمد للہ علیٰ ذالک۔
اہلِ محلہ کا رویہ بعض اوقات نہایت شرمناک ہوتا جس سے طلبا کے جذبات بھڑک اٹھتے، لیکن حضرت مفتی صاحب کا مقصد عظیم کے حصول کی خاطر استقلال، طلباء اور آپ کے رفقا کو بھی خاموشی پر مجبور کردیتا۔
دس بارہ سال تک عدالتوں اور دفاتر کے چکر کاٹنے کے بعد نقشہ کی منظوری ہوئی اور پھر ناجائز قابضین سے جگہ خالی کرانے کے بعد تعمیر کی خاطر دوبارہ عدالتوں کے دروازوں پر دستک دی، پیپلز پارٹی کے بدمعاش وزیروں اور کارندوں کا مقابلہ کیا۔ بالآخر آپ کا حوصلہ استقلال اور یقینِ محکم رنگ لایا اور ۵؍جون ۱۹۷۲ء کو جامعہ کی دو منزلہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ایک سال میں نقشے کے مطابق عمارت کا نصف حصہ مکمل کرلیا گیا۔ اتنے قلیل عرصے میں اتنی بڑی عمارت کی تعمیر، باوجودیکہ جامعہ کے دیگر شعبوں کے سالانہ اخراجات ڈیڑھ لاکھ روپے سے تجاوز کر رہے ہیں۔ آپ کی ہمت اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جامعہ کی ترقی اور دیگر دینی و مسلکی امور میں آپ کی دلچسپی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ نے گھریلو معاملات تک کو دینی خدمات پر قربان کر رکھا ہے اور صبح سے لے کر شام تک آپ کا عام وقت جامعہ میں یا کسی ملکی و ملی پروگرام میں صرف ہوتا ہے۔
۱۹۷۶ء میں آپ نے جامعہ کی طرف سے درجہ حدیث کی جماعت (جس میں راقم بھی شامل تھا) کو پنجاب کے مختلف مدارس اہل سنت کا تربیتی و معلوماتی دورہ کراکے تاریخِ مدارسِ عربیہ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
آپ جامع مسجد خراسیاں کی خطابت کے سلسلہ میں محکمہ اوقاف سے بھی منسلک رہے اور حق گوئی و جرأت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ محکمہ کی طرف سے کسی ناروا پابندی کو ہرگز قبول نہ کیا۔
مئی ۱۹۶۰ء میں تنظیم المدارس الاسلامیہ پاکستان کے نام سے سنی مدارس کی ایک تنظیم قائم ہوئی۔ قواعد و ضوابط مرتب ہوئے، لیکن بوجوہ وہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔
۱۹۷۳ء میں تنظیم المدارس کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے دارالعلوم امجدیہ کراچی سے تحریک پیدا ہوئی۔ شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری کی سر پرستی میں کراچی اور سندھ کے علماء کی مجلسِ مشاورت میں یہ طے پایا کہ تنظیم کے احیاء کے لیے ملک گیر کنونشن بلایا جائے۔ نیز تحریک کا دفتر پنجاب میں ہو۔ چنانچہ سوچ و بچار کے بعد قرعۂ فال آپ کے نام نکلا اور یہ کام آپ کے سپرد کر دیا گیا۔
چنانچہ اکابر علماء کے انتخاب اور اعتماد کے مطابق آپ نے شب و روز کی انتھک جدوجہد کے بعد جامعہ نظامیہ رضویہ میں ۱۴؍ذو الحجہ ۱۳۹۳ھ/ ۹؍جنوری ۱۹۷۴ء بروز بدھ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے سنی مدارس کا کنونشن بلایا اور علماء کرام کے اس جم غفیر میں آپ کو تنظیم المدارس کا ناظم اعلیٰ (مرکزی) مقرر کیا گیا۔
آپ نے نہایت محنت اور خلوص سے تنظیم کے کام کو چلایا یہاں تک کہ پہلے ہی سال ملکی سطح پر درجہ حدیث کے امتحان کا اہتمام کیا۔ پرچوں کی طباعت، مراکز اور ناظمین کا تعین، پرچوں پر نمبر لگانے اور نتیجہ کی تیاری تک تمام امور نہایت رازداری کے ساتھ طے پائے۔ تنظیم کے لیے قواعد و ضوابط اور نصابِ تعلیم مرتب کیے گئے۔
قومی اسمبلی اور سینٹ میں تنظیم المدارس کی سند ایم اے کے برابر قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرائی گئیں۔ صوبہ بلوچستان کے کئی مدارس کی سندات کو محکمہ تعلیم نے منظور کیا اور آپ کی انتھک جدوجہد سے سالوں کا کام مہینوں میں اور مہینوں کا کام دنوں میں ہوا اور الحمدللہ آج اہل سنت کے مدارس ایک لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ آپ کی اسی کوشش کے پیش نظر جب تنظیم کا باقاعدہ قواعد کے مطابق ۱۹۷۵ء میں انتخاب ہوا، تو علماء نے پھر آپ پر ہی اعتماد کیا اور جب ۱۹۷۷ء میں انتخابات کا مرحلہ آیا، تو باوجود یکہ سہ بارہ کسی عہدیدار کا انتخاب ضوابط کے خلاف تھا آپ کے عہدہ کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط میں ترمیم کردی گئی اور آپ کو پھر ناظمِ اعلیٰ مقرر کر دیا گیا اور آج آپ کا شمار ملک کے جید اور اکابر علماء میں ہوتا ہے اور اس طرح انجمن نعمانیہ کے دبیر کی وہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی جو اس نے آپ کو طالب علمی کے زمانے میں آپ کی پیشانی دیکھ کر کہی تھی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر عظیم شخصیت بنے گا۔ والحمد للہ علیٰ ذالک۔
❤2