درس و تدریس سے قلبی لگاؤ تھا ۔ ابتداً معقولات کی طرف زیادہ رجحان تھا، ان علوم میں آپ کی شہرت ہند سے نکل کر افغانستان، اور دیگر ممالک تک جا پہنچی، شائقینِ علم سفر کرکے آپ کے پاس آنے لگے، اور علم و عرفان کی دولتِ لازوال سے مالا مال ہونے لگے ۔ آپ شہنشاہ تدریس تھے ۔ فجر کی نماز کے بعد سے عشاء کی نماز تک تمام فنون کی کتب کا درس جاری رہتا ۔ حافظ عبد الحق مرحوم سکنہ گھوٹہ ملتان فرماتے ہیں: آپ کی محبوبیت کایہ عالم تھا کہ آپ کی برکت سے اس دار العلوم کو چار چاند لگ گئے ۔ اس کی شہرت چہار اطراف عالم میں پھیل گئی ۔ اس دار العلوم کے طلباء کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ طلباء تعطیلات کے مواقع پر اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لئے گھوٹہ سے نکلتے تو یہاں سے ملتان ریلوے اسٹیشن تک قطار در قطار طلباء ہی نظر آتے تھے ۔ طلباء سے ایسی شفقت کہ جیسے والدین اپنی اولاد سے کرتے ہیں ۔
بحر العلوم ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج تھے ۔ علماء و صلحاء کی بے انتہاء قدر فرماتے تھے ۔ کبھی دنیاوی لالچ نہیں کیا اور نہ ہی علم کو حصول ِدنیا کا ذریعہ بنایا ۔ خود داری ایسی کہ بڑے بڑے رئیسوں اور نوابوں نے بڑے مشاہرے اور مراعات کے عوض آپ کی خدمات حاصل کرنے کی کوششیں کی لیکن آپ نے کم مشاہرے کو ترجیح دی، اور ایک چھوٹی سی بستی گھوٹہ میں رہ کر علم و عرفان کے دیپ جلا کر قرونِ اولیٰ کے علماء کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ کئی جامعات و مدارس کے اعزازی پرنسپل تھے ۔
جب 1911ء کو دیارِ حبیب ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے، اور محبوب ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔ اس دوران آپ کے نصیب جاگے، اپنے شیخ کی معیت میں زیارتِ خیر الانام ﷺ سے مشرف ہوئے ۔ دربارِ رسالت سے آپ کو " خدمتِ حدیث " پر مامور کیا جاتا ہے ۔ پھر بقیہ تمام زندگی خدمتِ حدیث میں گزاری ۔ (حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی، ص:40) ـ
آپ مذاہبِ باطلہ کے خلاف بالعموم اور قادیانیوں کے خلاف بالخصوص ساری زندگی معرکہ آرا رہے ۔ بحمدہ تعالیٰ ہر جگہ باطل سے مقابلہ کیا اور اس کو شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کی زندگی کا سب سے عظیم کار نامہ یہ ہے کہ آپ نے " قادیانیوں کو ریاستی سطح پر غیر مسلم اور مرتد قرار دلوایا، فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی زندہ مثال ہے " ۔ اس مقدمے کا اجمال یہ ہے کہ غلام عائشہ بنت مولوی الہی بخش کا نکاح ان کے ایک رشتے دار عبد الرزاق سے ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، کہ مذکورہ شخص قادیانی ہو گیا ۔ اس نے رخصتی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ کافر و مرتد سے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔
24 جولائی 1926ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی عدالت میں فسخِ نکاح مقدمہ دائر کیا گیا ۔ قادیانیوں کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ لینا بہت دشوار تھا، کیونکہ اس وقت قادیانیوں کی پشت پناہ گورنمنٹ آف برطانیہ تھی ۔ بہت سے مقامات پر آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور نے بلا سوچے سمجھے اس مقدمے کو خارج کر دیا ۔ جس سے تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوئی ۔
مولانا حافظ عبدالرحمن جامعی فرماتے ہیں:حضرت گھوٹوی فرماتے تھے: "مجھےسرورعالمﷺکی طرف سےحکم ملاہے کہ تم علم ِکتاب اللہ،اورسنتِ رسول اللہﷺکوظاہرکرو،اورایمان کی طاقت سےمخالفینِ ختم نبوت کوپسپاکردو"۔ چنانچہ تائیدِ ایزدی،اوراشارہ نبوی ﷺسےسرشارہوکر "چیف کورٹ آف بہاولپور"میں اپیل دائرکی اوراپنی تمام ترکاوشیں اس میں صرف کردیں،کئی وزیروں سےملاقات کی،اور اس مسئلہ کی حساسیت کی طرف توجہ دلائی،اوران کوقائل کیا۔بالآخر دلائل کی روشنی میں قادیانیوں کوشکستِ فاش دی،عدالت اورمجلس شوریٰ نےمتفقہ فیصلہ دیاکہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ مسلمان کا قادیانی سےنکاح باطل ہے ۔ یہ تاریخی فیصلہ 3 ذیقعدہ 1353ھ / مطابق 7 فروری 1935ء کو ہوا ۔ یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا ۔
بحر العلوم ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج تھے ۔ علماء و صلحاء کی بے انتہاء قدر فرماتے تھے ۔ کبھی دنیاوی لالچ نہیں کیا اور نہ ہی علم کو حصول ِدنیا کا ذریعہ بنایا ۔ خود داری ایسی کہ بڑے بڑے رئیسوں اور نوابوں نے بڑے مشاہرے اور مراعات کے عوض آپ کی خدمات حاصل کرنے کی کوششیں کی لیکن آپ نے کم مشاہرے کو ترجیح دی، اور ایک چھوٹی سی بستی گھوٹہ میں رہ کر علم و عرفان کے دیپ جلا کر قرونِ اولیٰ کے علماء کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ کئی جامعات و مدارس کے اعزازی پرنسپل تھے ۔
جب 1911ء کو دیارِ حبیب ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے، اور محبوب ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔ اس دوران آپ کے نصیب جاگے، اپنے شیخ کی معیت میں زیارتِ خیر الانام ﷺ سے مشرف ہوئے ۔ دربارِ رسالت سے آپ کو " خدمتِ حدیث " پر مامور کیا جاتا ہے ۔ پھر بقیہ تمام زندگی خدمتِ حدیث میں گزاری ۔ (حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی، ص:40) ـ
آپ مذاہبِ باطلہ کے خلاف بالعموم اور قادیانیوں کے خلاف بالخصوص ساری زندگی معرکہ آرا رہے ۔ بحمدہ تعالیٰ ہر جگہ باطل سے مقابلہ کیا اور اس کو شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کی زندگی کا سب سے عظیم کار نامہ یہ ہے کہ آپ نے " قادیانیوں کو ریاستی سطح پر غیر مسلم اور مرتد قرار دلوایا، فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی زندہ مثال ہے " ۔ اس مقدمے کا اجمال یہ ہے کہ غلام عائشہ بنت مولوی الہی بخش کا نکاح ان کے ایک رشتے دار عبد الرزاق سے ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، کہ مذکورہ شخص قادیانی ہو گیا ۔ اس نے رخصتی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ کافر و مرتد سے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔
24 جولائی 1926ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی عدالت میں فسخِ نکاح مقدمہ دائر کیا گیا ۔ قادیانیوں کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ لینا بہت دشوار تھا، کیونکہ اس وقت قادیانیوں کی پشت پناہ گورنمنٹ آف برطانیہ تھی ۔ بہت سے مقامات پر آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور نے بلا سوچے سمجھے اس مقدمے کو خارج کر دیا ۔ جس سے تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوئی ۔
مولانا حافظ عبدالرحمن جامعی فرماتے ہیں:حضرت گھوٹوی فرماتے تھے: "مجھےسرورعالمﷺکی طرف سےحکم ملاہے کہ تم علم ِکتاب اللہ،اورسنتِ رسول اللہﷺکوظاہرکرو،اورایمان کی طاقت سےمخالفینِ ختم نبوت کوپسپاکردو"۔ چنانچہ تائیدِ ایزدی،اوراشارہ نبوی ﷺسےسرشارہوکر "چیف کورٹ آف بہاولپور"میں اپیل دائرکی اوراپنی تمام ترکاوشیں اس میں صرف کردیں،کئی وزیروں سےملاقات کی،اور اس مسئلہ کی حساسیت کی طرف توجہ دلائی،اوران کوقائل کیا۔بالآخر دلائل کی روشنی میں قادیانیوں کوشکستِ فاش دی،عدالت اورمجلس شوریٰ نےمتفقہ فیصلہ دیاکہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ مسلمان کا قادیانی سےنکاح باطل ہے ۔ یہ تاریخی فیصلہ 3 ذیقعدہ 1353ھ / مطابق 7 فروری 1935ء کو ہوا ۔ یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا ۔
❤3
اس میں حضرت گھوٹوی علیہ الرحمہ کی نوسال کی شب وروزکی کوششیں شامل تھیں۔بلاشبہ پوری امت جج جناب محمد اکبر خان مرحوم کی مرہونِ منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل و انصاف اور محنت و عرق ریزی سے ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل ثابت ہوا ۔ قادیانیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں سر ظفر اللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ و بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی ۔ جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر بحث کی تو انہوں نے " مقدمہ بہاولپور " کے تمام مباحث و اقتباسات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کیا ۔ (ایضاً، ص:222) ـ
حضرت سیدنا پیر مہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الجامعہ پر بہت شفقت فرماتے تھے، اور آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ مسائل میں آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ۔ بعض مناظروں میں تو حضرت غوث الاسلام نے آپ کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا ۔ اہل سنت کی صداقت، اور اکابرینِ اہلسنت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر زمانے میں تحفظِ ختم نبوت و عظمت ِمصطفیٰ ﷺ کا دفاع علماء اہلسنت نے کیا ہے ۔ حضرت پیر مہر علی شاہ نے مرزے دجال کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کے بعد آپ کے مریدین نے ان کو ہر جگہ ذلیل کیا فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی واضح دلیل ہے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد علماء اہلسنت نے مولانا نورانی کی قیادت میں 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے ان کو کافر و مرتد قرار دلوا کر ہمیشہ کے لئے ذلت ان کا مقدر فرما دی ۔
تاریخِ وصال:
بروز سوموار 27 ربیع الثانی1367ھ / مطابق 8 مارچ 1948ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف نور محل کے قریب قبرستان ملوک شاہ، بہاولپور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-muhammad-gothvi
حضرت سیدنا پیر مہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الجامعہ پر بہت شفقت فرماتے تھے، اور آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ مسائل میں آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ۔ بعض مناظروں میں تو حضرت غوث الاسلام نے آپ کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا ۔ اہل سنت کی صداقت، اور اکابرینِ اہلسنت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر زمانے میں تحفظِ ختم نبوت و عظمت ِمصطفیٰ ﷺ کا دفاع علماء اہلسنت نے کیا ہے ۔ حضرت پیر مہر علی شاہ نے مرزے دجال کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کے بعد آپ کے مریدین نے ان کو ہر جگہ ذلیل کیا فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی واضح دلیل ہے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد علماء اہلسنت نے مولانا نورانی کی قیادت میں 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے ان کو کافر و مرتد قرار دلوا کر ہمیشہ کے لئے ذلت ان کا مقدر فرما دی ۔
تاریخِ وصال:
بروز سوموار 27 ربیع الثانی1367ھ / مطابق 8 مارچ 1948ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف نور محل کے قریب قبرستان ملوک شاہ، بہاولپور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-muhammad-gothvi
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Muhammad Gothvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: تاج العلماء۔ والد کااسمِ گرامی: محمد صدیق مرادآبادی علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 27 ربیع الثانی 1311ھ،بمطابق اکتوبر 1893ء کو بمقام مرادآباد (صوبہ اترپردیش،انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم جناب منشی شمس الدین سے حاصل کی،قرآن مجید الحاج حافظ محمد حسین سے پڑھا۔فارسی اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں مولانا نظام الدین سے پڑھیں، پھر درس نظامی کے لیے حضرت صدر الافاضل مفسر قرآن مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے بقیہ درس نظامی کی مکمل تعلیم صدر الافاضل ہی سے حاصل کی، 1324ھ، بمطابق 1906ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ آپ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب فرماتے تھے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کی رسمِ دستاربندی امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوئی،اور اس وقت کی قابلِ فخر شخصیات نے شرکت فرمائی۔ استاد محترم کے ارشاد کے مطابق آپ نے انہی کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں تدریس شروع کی اور نصف صدی تک علم و عرفان کے جام لٹاتے رہے۔
بیعت وخلافت:
1325ھ،بمطابق 1907ء کو شیخ المشائخ حضرت سید علی حسین اشرفی رحمۃاللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 1329ھ کو اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔ بقول مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سےبھی خلافت حاصل تھی۔(تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ:159)
سیرت وخصائص:
محسنِ ملت،فقیہِ امت،کامل مفسر ومحدث،تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔ درمیانہ قد،کشادہ پیشانی،صاف رنگ،خوبصورت چہرہ،سراپا علم وفضل،پیکرِ زہدوتقویٰ،مجسمۂ اخلاق ومروت،عظیم محدث وفقیہ، مفسروادیب، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺپر ہمہ وقت عمل پیرارہنے والی شخصیت تھے۔ آپ علیہ الرحمہ ہر لحاظ سےیادگارِ اسلاف تھے۔
آپ حضرت صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار اورقابلِ فخر تلامذہ میں سے تھے۔آپ قیام مراد آباد کے دوران 1919ء میں نہایت اہم ماہنامہ" السواد الاعظم" صدرالافاضل علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں جاری کیا۔یہ جریدہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک علوم اسلامیہ اور سنیت کا سرگرم نقیب رہا۔حالات حاضرہ اور ملکی سیاست پر زبر دست تنقید و تبصرہ کے علاوہ دینی نقطۂ نظر سے راہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتا رہا۔مفتی صاحب نے "آل انڈیا سنی کانفرنس" کے نائب ناظم کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں 1946ء میں بنارس کے تاریخی اجلاس میں تحریک پاکستان کی پر زور تائید فرمائی۔
کنزالایمان کی طباعتِ اول:
مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نمایاں دینی وعلمی خدمات میں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمۂ قرآن بنام"کنزالایمان" کی پہلی اشاعت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔اس کے بعد تفسیری حاشیہ "خزائن العرفان" کی املاء اور کتابت،پروف ریڈنگ، پیسٹنگ،جلدسازی اور اشاعت کے سلسلے میں اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرنا ،اور مجلہ "السوادالاعظم"کے لئے مضامین کی فراہمی اور اس کی اشاعت ،"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے ذریعےمسلمانانِ ہند کی بیداری ،اور تحریکِ پاکستان کے مخالفین کو منہ توڑجواب دینا ۔یہ سب آپ نے صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ہمراہ انجام دیے۔(ایضاً:173)
تقسیم ملک کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عافیت سے رہنا مشکل ہے (کیونکہ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کوشش کی وجہ سے مرادآباد اور قرب وجوار کے ہندو آپ کے سخت مخالف ہوگئے تھے)تو ہجرت کر کے بغداد شریف جانے کے ارادے سےکراچی تشریف لائے اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے اصرار پر کراچی ہی میں قیام پذیر ہو گئے"دار العلوم مخزن علوم عربیہ "جاری کیا اور جامع مسجد آرام باغ میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
جب 1953ء میں "تحریک ختم نبوت" چلی تو ملک کے طول وعرض سے علماء و عوام اہل سنت سر بکف میدان عمل میں داخل ہوگئے، کراچی میں مفتی صاحب نے ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر بے مثال جدو جہد کی اور بالآ خر آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جو ہمیشہ اہل اللہ کا مقدر رہی ہیں۔بس جرم یہی تھا۔۔۔۔
؏:خون نہ کردہ ام کسے رانہ کشتہ ام
جرم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ام
وصال:
23 ذیقعدہ 1385ھ، بمطابق مارچ 1966ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مسجد دار الصلوٰۃ ناظم آباد کراچی میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیاءِ سندھ۔روشن دریچے۔تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-ul-ulama-hazrat-allama-mufti-muhammad-umar-naeemi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: تاج العلماء۔ والد کااسمِ گرامی: محمد صدیق مرادآبادی علیہ الرحمہ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 27 ربیع الثانی 1311ھ،بمطابق اکتوبر 1893ء کو بمقام مرادآباد (صوبہ اترپردیش،انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم جناب منشی شمس الدین سے حاصل کی،قرآن مجید الحاج حافظ محمد حسین سے پڑھا۔فارسی اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں مولانا نظام الدین سے پڑھیں، پھر درس نظامی کے لیے حضرت صدر الافاضل مفسر قرآن مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے بقیہ درس نظامی کی مکمل تعلیم صدر الافاضل ہی سے حاصل کی، 1324ھ، بمطابق 1906ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ آپ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب فرماتے تھے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ کی رسمِ دستاربندی امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوئی،اور اس وقت کی قابلِ فخر شخصیات نے شرکت فرمائی۔ استاد محترم کے ارشاد کے مطابق آپ نے انہی کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں تدریس شروع کی اور نصف صدی تک علم و عرفان کے جام لٹاتے رہے۔
بیعت وخلافت:
1325ھ،بمطابق 1907ء کو شیخ المشائخ حضرت سید علی حسین اشرفی رحمۃاللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 1329ھ کو اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔ بقول مفتی محمد اطہر نعیمی زید مجدہ آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سےبھی خلافت حاصل تھی۔(تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ:159)
سیرت وخصائص:
محسنِ ملت،فقیہِ امت،کامل مفسر ومحدث،تاج العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عمر نعیمی رحمۃ اللہ علیہ۔ درمیانہ قد،کشادہ پیشانی،صاف رنگ،خوبصورت چہرہ،سراپا علم وفضل،پیکرِ زہدوتقویٰ،مجسمۂ اخلاق ومروت،عظیم محدث وفقیہ، مفسروادیب، اور سنتِ مصطفیٰ ﷺپر ہمہ وقت عمل پیرارہنے والی شخصیت تھے۔ آپ علیہ الرحمہ ہر لحاظ سےیادگارِ اسلاف تھے۔
آپ حضرت صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہونہار اورقابلِ فخر تلامذہ میں سے تھے۔آپ قیام مراد آباد کے دوران 1919ء میں نہایت اہم ماہنامہ" السواد الاعظم" صدرالافاضل علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں جاری کیا۔یہ جریدہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک علوم اسلامیہ اور سنیت کا سرگرم نقیب رہا۔حالات حاضرہ اور ملکی سیاست پر زبر دست تنقید و تبصرہ کے علاوہ دینی نقطۂ نظر سے راہنمائی کے فرائض بھی انجام دیتا رہا۔مفتی صاحب نے "آل انڈیا سنی کانفرنس" کے نائب ناظم کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں 1946ء میں بنارس کے تاریخی اجلاس میں تحریک پاکستان کی پر زور تائید فرمائی۔
کنزالایمان کی طباعتِ اول:
مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی نمایاں دینی وعلمی خدمات میں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمۂ قرآن بنام"کنزالایمان" کی پہلی اشاعت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔اس کے بعد تفسیری حاشیہ "خزائن العرفان" کی املاء اور کتابت،پروف ریڈنگ، پیسٹنگ،جلدسازی اور اشاعت کے سلسلے میں اہلِ خیر حضرات سے رابطہ کرنا ،اور مجلہ "السوادالاعظم"کے لئے مضامین کی فراہمی اور اس کی اشاعت ،"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے ذریعےمسلمانانِ ہند کی بیداری ،اور تحریکِ پاکستان کے مخالفین کو منہ توڑجواب دینا ۔یہ سب آپ نے صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ہمراہ انجام دیے۔(ایضاً:173)
تقسیم ملک کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ہندوستان میں عافیت سے رہنا مشکل ہے (کیونکہ تحریکِ پاکستان میں بھرپور کوشش کی وجہ سے مرادآباد اور قرب وجوار کے ہندو آپ کے سخت مخالف ہوگئے تھے)تو ہجرت کر کے بغداد شریف جانے کے ارادے سےکراچی تشریف لائے اور مبلغ اسلام مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے اصرار پر کراچی ہی میں قیام پذیر ہو گئے"دار العلوم مخزن علوم عربیہ "جاری کیا اور جامع مسجد آرام باغ میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
جب 1953ء میں "تحریک ختم نبوت" چلی تو ملک کے طول وعرض سے علماء و عوام اہل سنت سر بکف میدان عمل میں داخل ہوگئے، کراچی میں مفتی صاحب نے ناموس مصطفیٰ ﷺ کی خاطر بے مثال جدو جہد کی اور بالآ خر آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جو ہمیشہ اہل اللہ کا مقدر رہی ہیں۔بس جرم یہی تھا۔۔۔۔
؏:خون نہ کردہ ام کسے رانہ کشتہ ام
جرم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ام
وصال:
23 ذیقعدہ 1385ھ، بمطابق مارچ 1966ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف مسجد دار الصلوٰۃ ناظم آباد کراچی میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیاءِ سندھ۔روشن دریچے۔تحریکِ پاکستان میں مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی اور ان کے مشاہیر خلفاء کا حصہ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-ul-ulama-hazrat-allama-mufti-muhammad-umar-naeemi
scholars.pk
Taj ul Ulama Hazrat Allama Mufti Muhammad Umer Naeemi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-04-1445 ᴴ | 11-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-04-1445 ᴴ | 12-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2