🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-04-1445 ᴴ | 11-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-04-1445 ᴴ | 11-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-04-1445 ᴴ | 11-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-04-1445 ᴴ | 11-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
شیخ الاسلام حضرت غلام محمد محدث گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: غلام محمد ۔ لقب: شیخ الجامعہ، شیخ الاسلام، محدث گھوٹوی ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام علامہ غلام محمد گھوٹوی بن چوہدری محمد عبد اللہ بن صوفی محمد خان بن چوہدری احمد یار خان بن چوہدری پیر محمد خان بن حضرت بخت جمال خان ۔ چوہدری بخت جمال خان ایک مردِ صالح اور مستجاب الدعوات تھے ۔ درود شریف کے عامل، اور زبان میں خاص تاثیر حاصل تھی ۔ آپ کا تعلق " کنگ جٹ " برادری سے ہے ۔ آپ کے ننھیال " وڑائچ " قوم سے ہیں ۔
سلسلۂ نسب نوشیرواں عادل بادشاہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ قصبہ گھوٹہ ضلع ملتان میں قیام کی وجہ سے " گھوٹوی " معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ جمادی الاولی ٰ1302ھ / مطابق جنوری 1885ء کو موضع " گمرالی " نزد منگووال ضلع گجرات پنجاب، پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حفظ قرآن ، فارسی اور صرف ونحو کی کتابیں چکوڑی (گجرات) میں مولانا محمد چراغ سے پڑھیں، پھر قصبہ گھوٹہ (ضلع ملتان ) میں سیبو یہ زمانہ مولانا حافظ محمد جمال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر قطبی اور میبذی تک کتابیں پڑھیں ۔
بعد ازاں مولانا علامہ سید غلام حسین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت یں موضع تلیری (مظفر گڑھ) حاضر ہوئے اور اکتساب علوم کیا ، پھر بمقام چکی ( مضافات کیمل پور ) مولانا علامہ محمد زمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچے، انہیں آپ کی ظاہری حالت بکھرے ہوئے بال اور پرانے کپڑے دیکھ کر گمان ہوا کہ یہ پڑھنے والا طالب علم نہیں ہے اس لئے انہوں نے داخلے کی اجازت نہ دی ، مولانا خاموشی سے بیٹھ گئے ، اتفاقاً صدرا (شرح ہدایۃ الحکمۃ) کا ایک مشکل ترین مقام زیر درس تھا، مولانا محمد زمان نے اس مقام کی تقریری کی او ر طلبہ کو تقریر دہرانے کے لئے کہا لیکن کوئی بھی اسے دہرانہ سکا ۔
علامہ گھوٹوی نے اجازت طلب کی اور پوری تفصیل سے اس مقام کو بیان کردیا ۔ اب جو مولانا محمد زمان کو ان کی قابلیت کا پتہ چلا تو نہ صرف داخلے کی اجازت دی بلکہ انہیں قرب خاص سے نوازا ۔ وہاں کچھ عرصہ استفادہ کرنے کے بعد جامعہ نعمانیہ لاہور چلے آئے اور مولانا علامہ غلام احمد حافظ آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کیا، پھر علامہ زمن مولانا احمد حسن کانپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاکر فنون عالیہ کا درس لیا، ڈیڑھ سال بعد جب ان کا وصال ہو گیا تو آپ مدرسہ عالیہ رامپور میں مولانا فضل حق رامپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے درس میں شریک ہوئے اور کسبِ فیض کیا ۔طب اور صحاح کا درس حضرت مولانا وزیر حسن رامپوری سے لیا ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام مرشد المسلمین حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، امام الہند، محدث اعظم، شیخ الاسلام، شیخ الجامعہ، زینت التدریس، استاذ الاساتذہ، فخر العلماء والصلحاء، سرخیلِ سنیت، فاتحِ مرزائیت شیخ المحدثین، امام المناظرین، فخر المحققین حضرت علامہ غلام محمد گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے عظیم مدرس ومحقق اور نامور محدث و مناظر، علم و معرفت کے بحر بے کنار تھے ۔ ساری زندگی حضرت محبوبِ سبحانی رضی اللہ عنہ کے اس قول پر عمل پیرار ہے ۔ " درست العلم حتی صرت قطباً " ۔ پھر شیخِ کامل غوث الاسلام حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ کی تربیت اور نظر نے ایسا کمال کیا کہ ساری زندگی قال اللہ وقال رسول اللہ زبان پر جاری رہا اور اسی پر خاتمہ بالخیر ہوا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: غلام محمد ۔ لقب: شیخ الجامعہ، شیخ الاسلام، محدث گھوٹوی ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام علامہ غلام محمد گھوٹوی بن چوہدری محمد عبد اللہ بن صوفی محمد خان بن چوہدری احمد یار خان بن چوہدری پیر محمد خان بن حضرت بخت جمال خان ۔ چوہدری بخت جمال خان ایک مردِ صالح اور مستجاب الدعوات تھے ۔ درود شریف کے عامل، اور زبان میں خاص تاثیر حاصل تھی ۔ آپ کا تعلق " کنگ جٹ " برادری سے ہے ۔ آپ کے ننھیال " وڑائچ " قوم سے ہیں ۔
سلسلۂ نسب نوشیرواں عادل بادشاہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ قصبہ گھوٹہ ضلع ملتان میں قیام کی وجہ سے " گھوٹوی " معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ جمادی الاولی ٰ1302ھ / مطابق جنوری 1885ء کو موضع " گمرالی " نزد منگووال ضلع گجرات پنجاب، پاکستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حفظ قرآن ، فارسی اور صرف ونحو کی کتابیں چکوڑی (گجرات) میں مولانا محمد چراغ سے پڑھیں، پھر قصبہ گھوٹہ (ضلع ملتان ) میں سیبو یہ زمانہ مولانا حافظ محمد جمال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر قطبی اور میبذی تک کتابیں پڑھیں ۔
بعد ازاں مولانا علامہ سید غلام حسین رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت یں موضع تلیری (مظفر گڑھ) حاضر ہوئے اور اکتساب علوم کیا ، پھر بمقام چکی ( مضافات کیمل پور ) مولانا علامہ محمد زمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچے، انہیں آپ کی ظاہری حالت بکھرے ہوئے بال اور پرانے کپڑے دیکھ کر گمان ہوا کہ یہ پڑھنے والا طالب علم نہیں ہے اس لئے انہوں نے داخلے کی اجازت نہ دی ، مولانا خاموشی سے بیٹھ گئے ، اتفاقاً صدرا (شرح ہدایۃ الحکمۃ) کا ایک مشکل ترین مقام زیر درس تھا، مولانا محمد زمان نے اس مقام کی تقریری کی او ر طلبہ کو تقریر دہرانے کے لئے کہا لیکن کوئی بھی اسے دہرانہ سکا ۔
علامہ گھوٹوی نے اجازت طلب کی اور پوری تفصیل سے اس مقام کو بیان کردیا ۔ اب جو مولانا محمد زمان کو ان کی قابلیت کا پتہ چلا تو نہ صرف داخلے کی اجازت دی بلکہ انہیں قرب خاص سے نوازا ۔ وہاں کچھ عرصہ استفادہ کرنے کے بعد جامعہ نعمانیہ لاہور چلے آئے اور مولانا علامہ غلام احمد حافظ آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہ کیا، پھر علامہ زمن مولانا احمد حسن کانپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاکر فنون عالیہ کا درس لیا، ڈیڑھ سال بعد جب ان کا وصال ہو گیا تو آپ مدرسہ عالیہ رامپور میں مولانا فضل حق رامپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے درس میں شریک ہوئے اور کسبِ فیض کیا ۔طب اور صحاح کا درس حضرت مولانا وزیر حسن رامپوری سے لیا ۔
بیعت و خلافت:
شیخ الاسلام مرشد المسلمین حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، امام الہند، محدث اعظم، شیخ الاسلام، شیخ الجامعہ، زینت التدریس، استاذ الاساتذہ، فخر العلماء والصلحاء، سرخیلِ سنیت، فاتحِ مرزائیت شیخ المحدثین، امام المناظرین، فخر المحققین حضرت علامہ غلام محمد گھوٹوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے عظیم مدرس ومحقق اور نامور محدث و مناظر، علم و معرفت کے بحر بے کنار تھے ۔ ساری زندگی حضرت محبوبِ سبحانی رضی اللہ عنہ کے اس قول پر عمل پیرار ہے ۔ " درست العلم حتی صرت قطباً " ۔ پھر شیخِ کامل غوث الاسلام حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ کی تربیت اور نظر نے ایسا کمال کیا کہ ساری زندگی قال اللہ وقال رسول اللہ زبان پر جاری رہا اور اسی پر خاتمہ بالخیر ہوا ۔
❤3
درس و تدریس سے قلبی لگاؤ تھا ۔ ابتداً معقولات کی طرف زیادہ رجحان تھا، ان علوم میں آپ کی شہرت ہند سے نکل کر افغانستان، اور دیگر ممالک تک جا پہنچی، شائقینِ علم سفر کرکے آپ کے پاس آنے لگے، اور علم و عرفان کی دولتِ لازوال سے مالا مال ہونے لگے ۔ آپ شہنشاہ تدریس تھے ۔ فجر کی نماز کے بعد سے عشاء کی نماز تک تمام فنون کی کتب کا درس جاری رہتا ۔ حافظ عبد الحق مرحوم سکنہ گھوٹہ ملتان فرماتے ہیں: آپ کی محبوبیت کایہ عالم تھا کہ آپ کی برکت سے اس دار العلوم کو چار چاند لگ گئے ۔ اس کی شہرت چہار اطراف عالم میں پھیل گئی ۔ اس دار العلوم کے طلباء کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ طلباء تعطیلات کے مواقع پر اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لئے گھوٹہ سے نکلتے تو یہاں سے ملتان ریلوے اسٹیشن تک قطار در قطار طلباء ہی نظر آتے تھے ۔ طلباء سے ایسی شفقت کہ جیسے والدین اپنی اولاد سے کرتے ہیں ۔
بحر العلوم ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج تھے ۔ علماء و صلحاء کی بے انتہاء قدر فرماتے تھے ۔ کبھی دنیاوی لالچ نہیں کیا اور نہ ہی علم کو حصول ِدنیا کا ذریعہ بنایا ۔ خود داری ایسی کہ بڑے بڑے رئیسوں اور نوابوں نے بڑے مشاہرے اور مراعات کے عوض آپ کی خدمات حاصل کرنے کی کوششیں کی لیکن آپ نے کم مشاہرے کو ترجیح دی، اور ایک چھوٹی سی بستی گھوٹہ میں رہ کر علم و عرفان کے دیپ جلا کر قرونِ اولیٰ کے علماء کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ کئی جامعات و مدارس کے اعزازی پرنسپل تھے ۔
جب 1911ء کو دیارِ حبیب ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے، اور محبوب ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔ اس دوران آپ کے نصیب جاگے، اپنے شیخ کی معیت میں زیارتِ خیر الانام ﷺ سے مشرف ہوئے ۔ دربارِ رسالت سے آپ کو " خدمتِ حدیث " پر مامور کیا جاتا ہے ۔ پھر بقیہ تمام زندگی خدمتِ حدیث میں گزاری ۔ (حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی، ص:40) ـ
آپ مذاہبِ باطلہ کے خلاف بالعموم اور قادیانیوں کے خلاف بالخصوص ساری زندگی معرکہ آرا رہے ۔ بحمدہ تعالیٰ ہر جگہ باطل سے مقابلہ کیا اور اس کو شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کی زندگی کا سب سے عظیم کار نامہ یہ ہے کہ آپ نے " قادیانیوں کو ریاستی سطح پر غیر مسلم اور مرتد قرار دلوایا، فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی زندہ مثال ہے " ۔ اس مقدمے کا اجمال یہ ہے کہ غلام عائشہ بنت مولوی الہی بخش کا نکاح ان کے ایک رشتے دار عبد الرزاق سے ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، کہ مذکورہ شخص قادیانی ہو گیا ۔ اس نے رخصتی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ کافر و مرتد سے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔
24 جولائی 1926ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی عدالت میں فسخِ نکاح مقدمہ دائر کیا گیا ۔ قادیانیوں کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ لینا بہت دشوار تھا، کیونکہ اس وقت قادیانیوں کی پشت پناہ گورنمنٹ آف برطانیہ تھی ۔ بہت سے مقامات پر آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور نے بلا سوچے سمجھے اس مقدمے کو خارج کر دیا ۔ جس سے تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوئی ۔
مولانا حافظ عبدالرحمن جامعی فرماتے ہیں:حضرت گھوٹوی فرماتے تھے: "مجھےسرورعالمﷺکی طرف سےحکم ملاہے کہ تم علم ِکتاب اللہ،اورسنتِ رسول اللہﷺکوظاہرکرو،اورایمان کی طاقت سےمخالفینِ ختم نبوت کوپسپاکردو"۔ چنانچہ تائیدِ ایزدی،اوراشارہ نبوی ﷺسےسرشارہوکر "چیف کورٹ آف بہاولپور"میں اپیل دائرکی اوراپنی تمام ترکاوشیں اس میں صرف کردیں،کئی وزیروں سےملاقات کی،اور اس مسئلہ کی حساسیت کی طرف توجہ دلائی،اوران کوقائل کیا۔بالآخر دلائل کی روشنی میں قادیانیوں کوشکستِ فاش دی،عدالت اورمجلس شوریٰ نےمتفقہ فیصلہ دیاکہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ مسلمان کا قادیانی سےنکاح باطل ہے ۔ یہ تاریخی فیصلہ 3 ذیقعدہ 1353ھ / مطابق 7 فروری 1935ء کو ہوا ۔ یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا ۔
بحر العلوم ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج تھے ۔ علماء و صلحاء کی بے انتہاء قدر فرماتے تھے ۔ کبھی دنیاوی لالچ نہیں کیا اور نہ ہی علم کو حصول ِدنیا کا ذریعہ بنایا ۔ خود داری ایسی کہ بڑے بڑے رئیسوں اور نوابوں نے بڑے مشاہرے اور مراعات کے عوض آپ کی خدمات حاصل کرنے کی کوششیں کی لیکن آپ نے کم مشاہرے کو ترجیح دی، اور ایک چھوٹی سی بستی گھوٹہ میں رہ کر علم و عرفان کے دیپ جلا کر قرونِ اولیٰ کے علماء کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ کئی جامعات و مدارس کے اعزازی پرنسپل تھے ۔
جب 1911ء کو دیارِ حبیب ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے، اور محبوب ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔ اس دوران آپ کے نصیب جاگے، اپنے شیخ کی معیت میں زیارتِ خیر الانام ﷺ سے مشرف ہوئے ۔ دربارِ رسالت سے آپ کو " خدمتِ حدیث " پر مامور کیا جاتا ہے ۔ پھر بقیہ تمام زندگی خدمتِ حدیث میں گزاری ۔ (حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی، ص:40) ـ
آپ مذاہبِ باطلہ کے خلاف بالعموم اور قادیانیوں کے خلاف بالخصوص ساری زندگی معرکہ آرا رہے ۔ بحمدہ تعالیٰ ہر جگہ باطل سے مقابلہ کیا اور اس کو شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کی زندگی کا سب سے عظیم کار نامہ یہ ہے کہ آپ نے " قادیانیوں کو ریاستی سطح پر غیر مسلم اور مرتد قرار دلوایا، فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی زندہ مثال ہے " ۔ اس مقدمے کا اجمال یہ ہے کہ غلام عائشہ بنت مولوی الہی بخش کا نکاح ان کے ایک رشتے دار عبد الرزاق سے ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، کہ مذکورہ شخص قادیانی ہو گیا ۔ اس نے رخصتی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ کافر و مرتد سے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔
24 جولائی 1926ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی عدالت میں فسخِ نکاح مقدمہ دائر کیا گیا ۔ قادیانیوں کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ لینا بہت دشوار تھا، کیونکہ اس وقت قادیانیوں کی پشت پناہ گورنمنٹ آف برطانیہ تھی ۔ بہت سے مقامات پر آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور نے بلا سوچے سمجھے اس مقدمے کو خارج کر دیا ۔ جس سے تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوئی ۔
مولانا حافظ عبدالرحمن جامعی فرماتے ہیں:حضرت گھوٹوی فرماتے تھے: "مجھےسرورعالمﷺکی طرف سےحکم ملاہے کہ تم علم ِکتاب اللہ،اورسنتِ رسول اللہﷺکوظاہرکرو،اورایمان کی طاقت سےمخالفینِ ختم نبوت کوپسپاکردو"۔ چنانچہ تائیدِ ایزدی،اوراشارہ نبوی ﷺسےسرشارہوکر "چیف کورٹ آف بہاولپور"میں اپیل دائرکی اوراپنی تمام ترکاوشیں اس میں صرف کردیں،کئی وزیروں سےملاقات کی،اور اس مسئلہ کی حساسیت کی طرف توجہ دلائی،اوران کوقائل کیا۔بالآخر دلائل کی روشنی میں قادیانیوں کوشکستِ فاش دی،عدالت اورمجلس شوریٰ نےمتفقہ فیصلہ دیاکہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ مسلمان کا قادیانی سےنکاح باطل ہے ۔ یہ تاریخی فیصلہ 3 ذیقعدہ 1353ھ / مطابق 7 فروری 1935ء کو ہوا ۔ یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا ۔
❤3
اس میں حضرت گھوٹوی علیہ الرحمہ کی نوسال کی شب وروزکی کوششیں شامل تھیں۔بلاشبہ پوری امت جج جناب محمد اکبر خان مرحوم کی مرہونِ منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل و انصاف اور محنت و عرق ریزی سے ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل ثابت ہوا ۔ قادیانیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں سر ظفر اللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ و بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی ۔ جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر بحث کی تو انہوں نے " مقدمہ بہاولپور " کے تمام مباحث و اقتباسات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کیا ۔ (ایضاً، ص:222) ـ
حضرت سیدنا پیر مہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الجامعہ پر بہت شفقت فرماتے تھے، اور آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ مسائل میں آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ۔ بعض مناظروں میں تو حضرت غوث الاسلام نے آپ کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا ۔ اہل سنت کی صداقت، اور اکابرینِ اہلسنت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر زمانے میں تحفظِ ختم نبوت و عظمت ِمصطفیٰ ﷺ کا دفاع علماء اہلسنت نے کیا ہے ۔ حضرت پیر مہر علی شاہ نے مرزے دجال کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کے بعد آپ کے مریدین نے ان کو ہر جگہ ذلیل کیا فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی واضح دلیل ہے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد علماء اہلسنت نے مولانا نورانی کی قیادت میں 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے ان کو کافر و مرتد قرار دلوا کر ہمیشہ کے لئے ذلت ان کا مقدر فرما دی ۔
تاریخِ وصال:
بروز سوموار 27 ربیع الثانی1367ھ / مطابق 8 مارچ 1948ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف نور محل کے قریب قبرستان ملوک شاہ، بہاولپور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-muhammad-gothvi
حضرت سیدنا پیر مہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الجامعہ پر بہت شفقت فرماتے تھے، اور آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ مسائل میں آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ۔ بعض مناظروں میں تو حضرت غوث الاسلام نے آپ کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا ۔ اہل سنت کی صداقت، اور اکابرینِ اہلسنت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر زمانے میں تحفظِ ختم نبوت و عظمت ِمصطفیٰ ﷺ کا دفاع علماء اہلسنت نے کیا ہے ۔ حضرت پیر مہر علی شاہ نے مرزے دجال کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔ آپ کے بعد آپ کے مریدین نے ان کو ہر جگہ ذلیل کیا فیصلہ مقدمہ بہاولپور اس کی واضح دلیل ہے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد علماء اہلسنت نے مولانا نورانی کی قیادت میں 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے ان کو کافر و مرتد قرار دلوا کر ہمیشہ کے لئے ذلت ان کا مقدر فرما دی ۔
تاریخِ وصال:
بروز سوموار 27 ربیع الثانی1367ھ / مطابق 8 مارچ 1948ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف نور محل کے قریب قبرستان ملوک شاہ، بہاولپور میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ حیات شیخ الاسلام محدث گھوٹوی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-muhammad-gothvi
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Muhammad Gothvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2