🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا پیر محمد چشتی علیہ الرحمۃ
خود نوشت حالات
آج ۲۰۱۰ء سے تقریباً۷۳ سال قبل شاگروم میں پیدا ہوا۔شاگروم نام کا یہ وسیع و عریض گاؤں درہ تریچ کی آخری آبادی ہے ضلع چترال تحصیل ملکھو کا یہ میری پیدائش سے پہلے بھی مردم خیزی میں مشہور تھا جس میں نوابی دور کے علم دشمن ماحول میں بھی محمد جناب شاہ اور قاضی بدرالدین خواجہ جیسی ہستیاں بالترتیب عصری اور مذہبی علوم کی روشنی پھیلا رہی تھیں۔ نوابوں کے تعلیم دشمن ماحول سے آزاد اور ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوجانے کے بعد بھی چترال کے اس درہ سے اچھے خاصے اہل علم پیدا ہوئے میری پیدائش ریاستی دور کے جس ماحول میں ہوئی وہ کچھ اس طرح تھا کہ نوابوں کے بچوں کے لیے ابتدائی تعلیم کا انتظام مقامی طور پر میسر تھا جبکہ قرآن شریف ناظرہ پڑھنے اور نماز و روزہ جیسے ضروری احکام سے روشناس ہونے کے ساتھ مڈل تک دنیوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے پشاور، دہلی، لاہور اور انگلینڈ کا رخ کیا کرتے تھے جبکہ رعایا کے بچوں کی تعلیم کا قطعاً کوئی انتظام ہی نہیں تھا مگر یہ کہ نوابوں کے کارندوں سے چھپ کر ریاست کی حدود سے نکلنے میں کامیاب ہوتا تو سفر و غربت اور بے وطنی کی صعوبتیں برداشت کرکے مذہبی یا عصری تعلیم کی کچھ روشنی پاتا جن کی تعداد کائیوں سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔

فقدانِ تعلیم کی اس بدحالی کے ساتھ معاشی زبوں حالی کا یہ عام تھا کہ نوابوں کی گزراوقات رعایا سے ظلماً و صول کیے جانے والے غلہائے عشر پر ہوا کرتی تھی تو عام آدمیوں کی معیشت کا کہنا ہی کیا تھا درہ تریچ میں سب سے زیادہ قطعہ اراضی کے مالک ہونے کے باوجود ہمارے خاندان میں بھی عمومی خوراک جوکی روٹی یا باجرہ کی روٹی ہوا کرتی تھی لیکن اس کے ساتھ ہمارے خاندان پر رب کریم جل جلالہ و عم نوالہ کا خاص کرم یہ تھا کہ ہرن کے گوشت سے ہمارا گھر کبھی خالی نہ ہوتا تھا۔ میرے دادا جان (نام رحیم ولد عبدالکریم) جو اپنے وقت کے خدارسیدہ بزرگ تھے وفاداری، امانتداری، سخاوت، شجاعت اور صدقِ لہجہ میں مشہور تھے جن کی وفا شعاری کو دیکھ کر مہتر چترال نواب میں محمد ناصر الملک رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں امین دربار کے عہدے پر فائز کیا تھا جس کی بدولت ان کے بیٹوں کو شاگروم سے ملحق بالائی شکار گاہوں کی اختیارداری اور ہر جگہ سے شکار کی اجازت کی اجازت تھی۔ میرے تایا شہزادہ رحیم (مرحوم) سرکاری شکار ہونےکی بناء پر پورے چترال میں شکاری کے نام سے ہی مشہور تھے میرے (مرحوم) والد ان سے عمر میں تقریباً تیس سال چھوٹے تھے، گھریلو ذمہ داریوں سے زمینوں کی دیکھ بھال تک جملہ انتظامات کے نگران تھے جبکہ میرے چھوٹے چچا امام رحیم (مرحوم) ان کے نائب و معاون تھے۔ میرے والد محمد رحیم ہرن کے شکار سے لے کر ہر موسم کے پرندوں تک شکار کرنے میں پورے درہ تریچ میں اپنی مثال آپ تھے۔ شانِ قدرت ہے کہ شکار کرکے کھانے اور کھلانے والے اس عظیم شکاری کو اس حوالہ سے وہ شہرت نہ ملی جو ان کے بڑے بھائی شہزادہ رحیم کو ملی۔

علاقائی ماحول اور خاندانی روایات کا شعور پانے کے بعد میں بھی اس راپ پر چلنے لگا جس پر چلتےہوئے اپنے بڑوں کو دیکھا تھا لیکن شکار کے حوالہ سے میرے اور میرے بڑے بھائی جان مولانا شیر محمد مدظلہ العالی کا معاملہ اپنے بزرگوں سے مختلف رہا کیوں کہ ہمارے والد مرحوم و مغفور نور اللہ مرقدہ اپنے بڑےبھائی سے کئی گنا زیادہ فعا اور ہر موسم کے شکار کا بہترین شکاری ہونے کے با وجود اپنے بڑے بھائی جیسی شہرت اس حوالہ سے نہ پاسکے حالاں کہ وہ ہر موسم کے اچھے شکاری تھے چھوتے پرندوں کے شکار کے حوالہ سے میری فنکاری کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی درخت کے نیچے بیٹھ کر گھنٹہ سے دو گھنٹے کے دورانیہ میں پچاس ساٹھ کی تعداد میں پرندے مار گراتا تھا مجھے مواد پہنچانے اورذبح کرنے پر مقرر لڑکوں کو کہنا ہے کہ روزانہ کی یہ تعداد دوسو سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ (صحیح کے متعلق حتمی صور ت مجھے یاد نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

یہاں پر شاید قارئین کو ان پرندوں سے متعلق تعجب ہوا کہ اس کثرت سے آنے والے وہ کیسے پرندے ہوں گے اور وہ شکار گاہ کیسی ہوگی؟ تو اس کے متعلق یہ ہے کہ ان دنوں میں یعنی آج سے تقریباً نصف صدی قبل ہر قسم شکار کی بہتات ہونے کی طرح گندم اور باجرہ کی فصل جن پکنے کے قریب ہوتی تھی تو اسے کھانے کے لیے پرندوں کی یہ نسل کثیر تعداد میں آیا کرتی تھی۔ جس کو کھوار زبان میں شویچ کہا جاتا ہے جو جسامت میں اندازتاً تین چڑیوں کے برابر ہوتا ہے اور رنگت کے اعتبار سے ان کی دوقسمیں ہوتی ہیں۔ ایک خاکستری سفید، دوسری وہ جس کا سر اور گردن سمیت سینے کا بالائی حصہ سرخ باقی سارا حصہ خاکستری جو خوبصورتی و دلکشی میں اپنی مثال آپ ہیں اور گوشت اس کابہت لذیذ ہوتا ہے۔ دورہ تریچ سمیت چترال کے بالائی حصہ کی تینوں تحصیلوں میں اس کی کثرت کے ساتھ آمد کا موسم ماہ ستمبر ہوا کرتا تھا لیکن دنیا کی ارتقائی زندگی کے دوسرے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آنے کی طرح ہر موسم کے شکار میں
2
بھی کافی حد تک تبدیلیاں آچکی ہیں۔ کیمیائی کھادگی وجہ سے گندم کی پیدا وار زیادہ ہونے کی بناء پر بابرہ کی کاشت ہی ہمارے علاقہ سے ناپید ہوچکی ہے یہ باجرہ بھی خاص نسل کا ہوتا تھا جس کو کھوارزبان میں اڑین کہا جاتا تھا جو آج سے نصف صدی قبل ہماری عمومی خوراک ہوا کرتا تھا اور گندم کی فصل ستمبر میں پکنے کے بجائے ترقی کرکے اگست کے اوائل میں ہی تیار ہوتی ہے جس وجہ سے شویچ کی اس کثرت سے آمد رہی نہ اس کے شکار کا رواج۔ اگر کوئی اِکا دُکا دانہ اڑتا ہوا نظر آتا ہے اسے ماضی کی یادگار تصور کیا جاتا ہے۔ جس درخت کو میں نے شکار گاہ بنایا ہوا تھا وہ شتلک کی درمیانہ سائز کی لمبائی والا درخت تھا جس کی لمبائی اندازتاً ۱۵ سے ۲۰ فٹ تک ہوگی جس کے نیچے اندازتاً آٹھ کنال میں پھیلی ہوئی گندم کی فصل اور بعض سالوں میں اڑین کی فصل ہوا کرتی تھی۔ وہ دلکش و حسین منظر میرے لیے بھولنے کی چیز نہیں ہے جب لیسرک واشیر وسرک شویچ کا روم (سیل) آکر اوپر سے درخت کو ڈھانپتا تھا اور نیچے سے میں شونجور سے انہیں مارگرایا کرتا تھا۔ الغرض اس وقت کو شکار کے حوالہ سےاپنے ماضی کے کن کن حسین جھروکوں کا تصور کرتا بلکہ ایک ایک کے تصور پر کلام اقبال بے ساختہ زبان پر آتا ہے کہ

یاد آتا ہے مجھ کو گزرا ہوا زمانہ

مذہبی تعلیم نے آنے غیبی اسباب: برادری کی بزرگ ہستی صوفی گل محمد مرحوم کے پاس دوسرے لڑکوں کے ہمراہ قرآن شریف کا ناظرہ سبق پڑھ رہا تھا۔ ایک دن سبق یاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں مار پڑی انہوں نے کہا کہ ‘‘شیر دشمن بتی گوئے تہ کریمتو کتابان برے تان اچاکسیر’’ جس کاترجمہ یہ ہے کہ شیر محمد عالمِ دین بن کر آئے گا تجھ پر کتابیں لاد کر اپنے پیچھے پھیرائے گا۔ مزید وضاحت اس کی یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی صاحب کا نام شیر محمد ہے جس کو لڑکپن میں شیر کہہ کر پکارا جاتا تھا اور وہ مذہبی تعلیم کے لیے مسافرت میں تھا۔

صوفی گل محمد کی اس بات کا مجھ پر اتنا گہر اثر ہوا کہ میں نے بھی مذہبی تعلیم کے لیے مسافرت اختیار کی، عرصہ ایک سال تک انگور کلی علاقہ ورسک چارسدہ میں ترکی حاجی صاحب مرحوم کے مدرسہ میں اپنے بڑے بھائی مولانا شیر محمد اور گاؤں کے اور چند لڑکوں کے ہمراہ مولانا عبدالعزیز چترالی (مرحوم) کے درس میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دوسرے سال میں پشاور شہر میں آکر اس وقت کے دارالعلوم سرحد واقع مسجد غلام جیلانی میں داخلہ لیا تقریباً تین سال تک یہیں پر ابتدائی کتابیں حضرت مولانا مفتی عبداللطیف، حضرت مولانا پائندہ محمد عرف کابل استاذ، حضرت مولانا محمد عمر چکسر استاذ جیسے کہنہ مشق و مشفق اساتذہ سےپڑھی۔ اس دوران کے میرے رفقاء درس میں سے مولانا محمد وزیر سکنہ نشکو چترال (مرحوم)، مولانا کبیر شاہ سکنہ مدک چترال (حیات)، مولانا حاجی ابراہیم سکنہ ورکوپ چترال (حیات)، مجھے یاد ہیں جو ہر اعتبار سے قابل ستائش طلباء تھے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے ان تین سالوں میں دارالعلوم کے تمام طلباء میں نمایاں حیثیت رہی کسی بھی کتاب اور کسی بھی امتحان میں کوئی اور مجھ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے نہیں پایا۔ اس پرمستزادیہ کہ دارالعلوم کے سالانہ جلسہ میں طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے عربی زبان میں جو تقریر کیا کرتا تھا وہ مزید شہرت کا سبب بنی۔ تین سال یہیں پر اوسط درجہ تک کتابیں پڑھنے کے بعد اس وقت کے جامعہ اشرفیہ واقع ہندو متروکہ بلڈنگ نیلا گنبد لاہور چلا گیا لیکن لیٹ پہنچنے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا تو مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں داخلہ لیا اسباق میں تسلی نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ کر اس وقت کے احسن المدارس واقع جامع مسجد الحنفیہ راولپنڈی میں جاکر داخلہ لیا اور مولانا اللہ بخش نور اللہ مرقدہ اور سید عارف اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں چند کتابیں پڑھ کر سالانہ ماہ رمضان کی تعطیلات میں دورہ تفسیر پڑھنے کے لیے وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ حضرت ابو الحقائق مولانا عبدالغفور ہزاروی کے درس تفسیر میں شامل ہوا۔ جس میں (۴۰) شرکاء درس میں سے جن رفقاء کے نام مجھے یاد ہیں، ان میں:

(۱) پیر طریقت رہبر شریعت مولانا علاء الدین صدیقی مالک النور چینل انگلینڈ (حیات)۔

(۲) مولانا عبداللہ شاہ (مرحوم) مہتمم مدرسہ انوار الابرا ملتان۔

(۳) مولانا حافظ فضل احمد حال امریکہ۔

(۴) مولانا شیخ الحدیث نور حسین شیخ الدرس جامعہ مراڑیاں شریف گجرات۔

(۵) مولانا صادق شاہ کشمیری جن کی حیات و ممات کا علم نہیں ہے۔

(۶) پیر طریقت رہبر مولانا عابد حسین شاہ م (مرحوم) جو حضرت جماعت علی شاہ محدث علی پوری نارو وال پنجاب کے سجادہ نشین تھے۔

(۷) مولانا مفتی عبدالشکور جو حضرت ابو الحقائق نور اللہ مرقدہ کے صاحبزادے تھے جواب مرحوم ہوچکے ہیں۔

وزیر آباد کے دورہ تفسیر میں چالیس (۴۰) دن کا دورانیہ کامیابی کے ساتھ گزارنے اور امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد دوسرے سال مولانا غلام رسول رضوی شیخ الحدیث وبانی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے درس میں شامل ہوا اس
2
دوران ان سے استفادہ کرنے کے علاوہ اس وقت کے متعدد مشاہیر علماء لاہور سے بھی مستفیض ہونے کا اچھا موقع مل گیا۔ تعلیمی سال یہیں پر کامیابی کے ساتھ گزارنے اور امتیازی پویشن پانے کے بعد حضرت استاذ العلماء دنیائے تدریس کے تاجدار مولانا عطاء محمدچشتی نور اللہ مرقدہ الشریف کے درس میں سیال شریف حاضر ہوا یہیں پر ایک سال کامیابی سے گزارنے کے بعد جب استاذ مکرم بندیال کو منتقل ہوئے ان کی ہمراہی میں وہیں جاکر دوسال تک حضرت کی کفش برداری کو سعادت پائی۔ سیال شریف سے لے کر بندیال شریف تک اس دورانیہ میں حضرت مولانا صاحبزادہ عبدالحق بندیالوی، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد اشرف سیالوی، حضرت شیخ المعقولات والمنقولات مولانا غلام محمد تونسوی جیسے قابل فخر رفقاء درس کی معیت رہی، بحمدہ سبحانہٗ وتعالیٰ اب تک یہ سب کے ساب حیات ہیں، جو علمی امانت کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔

درس نظامی کی آخری کتابوں کے اختتام پر غالباً ۱۹۶۱؁ء تھا، ملتان جاکر دورہ حدیث شریف کی تکمیل کے لیے شیخ الحدیث مولانا السید احمد سعید الکاظمی نور اللہ مرقدہ کے درس حدیث میں شامل ہوا، اسی سال تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کے صدر حضرت غزالی زماں اور ناظم اعلیٰ مولانا غلام جہانیاں سکنہ ڈیرہ غازی خان مقرر ہوئے تھے ان ہی کی کوششوں سے ۱۹۶۱؁ء میں تنظیم المدارس پاکستان کے زیر انتظام مدارس کے ان طلباء کا تحریری امتحان لیا گیا تھا جو دورہ حدیث پڑھ کر فارغ تحصیل ہونے والے تھے وَن یونٹ کا زمانہ تھا موجودہ پاکستان کے چاروں صوبوں کو ملاکرمغربی پاکستان کہا جاتا تھا، سیاسی آزادی نہیں تھی، فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان مرحوم کا دور تھا، ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) ایوب خان کے وزیر خارجہ تھا۔ تنظیم المدارس پاکستان کے اس تاریخی امتحان میں مجھے ملک بھر سے فارغ تحصیل ہونے والوں میں پہلی پوزیشن پانے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ جس کے بعد میری تدریسی خدمات حاصل کرے کے یلے جامعہ غوثیہ کہروڑ پکا ملتان، جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعہ سراج العلوم خانپور رحیم یار خان کے منتظمین ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے جبکہ میرے شیخ فی الحدیث حضرت غزالی زماں نور اللہ مرقدہ مجھے اپنے مدرسہ انوار العلوم ملتان میں ہی مقرر کرنا چاہتے تھے لیکن خانپور کے حافظ سراج احمد رحمۃ اللہ علیہ کی طلب کو اپنی پسندپر ترجیح دیتے ہوئے مجھے خان پور ضلع رحیم یار خان بھیج دیا۔ جہاں پر تقریباً دو سال تک منتہی طلباء کو پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی جن میں سے مولانا سید محمد فاروق القادری سجادہ نشین خانقاہ قادریہ، گڑھی اختیار خان ضلع رحیم یارخان، مولانا عزیز الرحمٰن درانی سکنہ خانپور، مولاناحافظ محمد خان ، مولانا محمد احمد سکنہ خاص رحیم یار خان حال انگلینڈ، مولانا نذیر احمد حال مقیم مکہ معظمہ، مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم سکنہ دنین چترال کے نام اس وقت یاد ہیں جبکہ حافظ سراج احمد مرحوم اور ان کے صاحبزادے مولانا مختار احمد درانی مہتمم مدرسہ سراج العلوم جس اخلاص و محبت سے پیش آتے رہے، وہ اب بھی مجھے یاد ہے۔

۱۹۶۴؁ء میں جب جامعہ عباسیہ بہاولپور اسلامی یونیورسٹی میں تبدیل ہوکر تخصص فی التفسیر و الحدیث کے لیے امیدواروں کو امتحان کے لیے بلایاگیا میں بھی اپنے شیخ فی الحدیث کی ہدایات کے مطابق سراج العلوم خانپور کی تدریس سے استعفیٰ دے کر اس میں شامل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی غیبی توفیق سے اس تاریخی امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی جس کا ملک بھر میں چرچا ہوا، سکالر شپ کے خصوصی اعزاز کے ساتھ تخصص فی التفسیر والحدیث کی کلاسوں سے مستفیض ہونے کے ابھی صرف چھ ماہ گزرے تھے کہ جامعہ انوار العلوم ملتان کے طلباء نے کچھ داخلی سازشیوں کے دخل عمل سے ہنگامہ برپا کیا تو حضرت غزالی زماں نے حالات کنٹرول کرنے کے لیے شیخ الدرس بناکر انوار العلوم ملتان بھیج دیا۔ شبانہ وروز محنت کرکے جب یہاں پر خوشگوار علمی فضاقائم کرنے میں کامیاب ہوا تو یہاں کے کچھ کہنہ مشق سازشیوں نے میری سادگی اور نوجوانی کی ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھا کر اعتماد کا ایسا دھوکہ دیا کہ حضرت غزالی زماں اور مفتی مسعود علی القادری رحمہمااللہ تعالیٰ سے ہدایات لیے بغیر محض سازشیوں کے دھوکہ میں آکر موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔ میرا یہ فیصلہ نہ صرف دینی مدارس کے مزاج و روایت کے منافی تھا بلکہ ہر اعتبار سے نامناسب و غلط تھا مجھے اپنی اس غلطی کا احساس تب ہوا جب حضرت غزالی زماں نوراللہ مرقدہ کی طرف سےتفصیلی خط گھر کے پتہ پر وصول ہوا، جس میں اس کے پس منظر سے مجھے آگاہ کرنے کے ساتھ اس کو نوجوانی کا ناتجربہ کاری اور حاسدوں کی سازش سے بے علمی کا نتیجہ قرار دے کر مجھے جلد از جلد انوار العلوم واپس پہنچنے کا فرمایا گیا تھا۔ حضرت کا یہ مکتوب گرامی اس وقت مجھے وصول ہوا جب میں بیمار سے نڈھال تھا اور علاج کے لیے میوہسپتال لاہور جانے کی تیاری تھی جس کے بعد حضرت مفتی اعجاز ولی شیخ الحدیث جامعہ نعمانیہ لاہور نور اللہ مرقدہ کی وساطت سے میوہسپتال
2
لاہور کے ایک بڑے ڈاکٹر جو پیر محمد کرم شاہ الازہری مرحوم کے بردارِ محترم تھے جن کا نامِ گرامی یاد نہیں آرہا۔ اللہ تعالیٰ اس جہاں میں انہیں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے کی نگرانی میں زیر علاج رہا۔ تقریباً تین ماہ لاہور میں علاج کے اس دورانیہ میں جامعہ نظامیہ لاہور میں بڑی کلاسوں کو چند اسباق بھی پڑھاتا رہا، اس دوران مجھ سے استفادہ کرنے والوں میں سے قاری خوشی محمد مرحوم اور مولانا حکیم اللہ اوگی مانسہرہ (ابھی حیات ہے) کے نام اس وقت یاد ہیں۔ علاج سے فائدہ نہ ہونے پر کچھ تجربہ کار حضرات کے مشورے اور حضرت غزالی زماں کی نگرانی میں حضرت کے ہمسایہ حکیم عطاء اللہ مرحوم سکنہ محلہ قدیر آباد ملتان کے پاس پہنچا۔ نبض دیکھ کر انہوں نے مجھے تسلی دی اور فرمایا کہ جگر کی حرارت حد اعتدال سے تجاوز کئے ہوئے ایک سال سےزیادہ عرصہ ہوچکا ہے، ڈاکٹر کی غلط تشخیص اور بے مصرف گرم دوائیوں نے ‘‘جلتے پرتیل کا عمل کیا ’’ ہے۔انجام کار حکیم عطاء اللہ مرحوم کے علاج سے چند ہفتوں میں بیماری سے نجات پانے کے بعد تصوف کی جان ‘‘فصوص الحکم’’ شریف پڑھنے کا دیرینہ شوق پورا کرنے کے لیے حضرت غزالی زماں کی اجازت سے مہر آباد شریف گوگڑاں، ضلع لودھراں امام الواصلین، افضل العاملین، سند الکاملین، جامع المعقول والمنقول سیدی و سندی ومرشدی امام شاہ نوراللہ مرقدہ الشریف کی خدمت میں مہر آباد شریف پہنچا۔ صحیح النسب بخاری سادات کی یہ بستی کسی وقت ‘‘چاہ نئی والا’’کے نام سے مشہور تھی، لیکن حضرت امام الواصلین کی علمی شخصیت، قال اللہ قال الرسول کی تعلیم و تبلیغ اور خلق خدا کی روحانی تربیت کی بدولت آہستہ آہستہ بستی کا نام تبدیل ہوکر سیدوں کی بستی مشہور ہونے لگی اور جس روز حضرت پیر مہر علی شاہ نور اللہ مرقدہ اپنے چہیتے خلیفہ کی احوال پرسی کے لیے یہاں پر قدم رنجہ فرمایا اس دن سے اس کا نام مہر آباد شریف پڑ گیا اور یہ دلکش نام اتنا مشہور ہوا کہ نئی نسل کو پرانے نام کا پتہ ہی نہیں ہے یہیں پر ڈیڑھ ماہ میں حضرت امام الواصلین نور اللہ مرقدہ الشریف سے فصوص الحکم شریف کادرس سبقاً سبقاًپڑھا۔ درس کے اختتام پر عید الفطر کی صبح کو عیدگاہ جانے سے قبل اپنے مبارک ہاتھوں سے میری دستار بندی فرمائی۔ یہاں پر اگر مہر آباد میں قیام کے دوران حضرت کے لیل و النہار کے حوالہ سے اپنے حسین مشاہدات کا تذکرہ کروں یا فصوص الحکم شریف کے درس کے حوالہ سے فیوضات و برکات اور مکاشفات کی تفصیل میں جاؤں تو اس سے مستقل کتاب تیار ہوسکتی ہے لیکن میں نے یہیں پر اپنے ماضی کے جھروکوں کی صرف اور صرف اجمالی جھلک ضبط تحریر میں لانے کے سوا اور کچھ نہ کرنے کا التزام کیا ہوا ہے ورنہ مہر آباد شریف سے میری کافی سے زیادہ حسین یاد یں وابستہ ہیں۔ تاہم فرمان الہٰی ‘‘واما بنعمۃ ربک فحدث’’ پر عمل کرتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت کے فیض رساں درس میں فصوص الحکم شریف پڑھنے کےبعد شرح صدر کی و ہ توفیق مجھے میسر ہوئی جس کے بعد الہٰیات کے مشکل سے مشکل مسائل آسان ہونے لگے، درس نظامی کے جملہ فنون و کتب میں پوشیدہ رموز کا عقدہ کھلنے لگا اور بالخصوص قرآن و سنت کے معارف تک رسائی کی سبیل میسر ہوئی جس کے بعد فتاویٰ درالمختار کی اس بات پر مجھے حق الیقین کا درجہ حاصل ہوا جو انہوں نے امام مجدالدین فیروزآبادی صاحب القاموس فی اللغۃ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

‘‘ومن خواص کتبہ ان من واظب علی مطالعتھا انشرح صدرہ لفک المعضلات وحل المشکلات’’ (فتاویٰ الدرالمختار، جلد۱، صفحہ۳۵۸، مطبوعہ مجتبائی دہلی)

جس کا مفہوم یہ ہے کہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی کتابوں کی خصوصیات میں سے ہے کہ جو ہمیشہ ان کا مطالعہ کرتا ہے اس لا ینحل اور مشکل مسائل کا عقدہ کھولنے کے لیے شرح صدر کی توفیق نصب ہوتی ہے۔

اس کے بعد حضرت غزالی زماں نور اللہ مرقدہ کی طرف سے جامعہ غوثیہ سکھر جاکر شیخ الدرس کا منصب سنبھالنے کا حکم ملا۔ تقریباً دو سال تک وہیں پر حضرت مولانا مفتی محمد حسین قادری نور اللہ مرقدہ کی نگرانی میں خدمات انجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس دوران حضرت مفتی صاحب مرحوم کی کمالِ شفقت و محبت کے ساتھ نواب و حید احمد خان ایڈوکیٹ مرحوم کا اخلاص اور حاجی محمد یعقوب مرحوم اور ان کے بیٹوں کی میری ساتھ محبت بھولنے کی چیز نہیں ہے۔

یہاں پر مجھ سے درس پڑھنے والے حضرات میں صرف مولانا شمیم الحسن القادری حال خطیب کشمور، مولانا محمد فاروق مرحوم، مولانا مفتی محمد شریف خطیب روہڑی سکھر، مولانا حبیب احمد شیخ الحدیث جامعہ نوریہ کوئٹہ بلوچستان کے نام یہ ہیں۔

بعد ازاں حضرت غزالی زمان کی ہدایات کے مطابق غوثیہ معینیہ پشاور کی بنیاد ۳۱دسمبر ۱۹۶۶ء کو رکھ کر حسب استطاعت مذہبی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اب تک میرے حلقہ درس سے بلاواسطہ علم و عمل کی تربیت حاصل کرنے کے بعد نمایا ں خدمات انجام دینے والے حیات حضرات مندرجہ ذیل کے نام یاد ہیں:

۱۔ مولانا ڈاکٹر صدیق علی چشتی سئیڈن۔

۲۔ مولانا سید محم
2👍1
د فاروق القادر، سجادہ نشین خانقاہ قادریہ غفوریہ گڑھی اختیار خان، ضلع رحیم یارخان۔

۳۔ مولانا شاہ منیر چشتی، شیخ الحدیث دارلعلوم جامعہ جنیدیہ کار خانوخیبر روڈ پشاور۔

۴۔ مولانا سید محمد عرفان المشہدی خطیب یورپ۔

۵۔ مولانا حبیب احمد نقشبندی شیخ الحدیث جامعہ نوریہ کوئٹہ بلوچستان۔

۶۔ مولانا محمد قاسم چشتی شیخ الدرس دالعلوم جامع مسجد العربی النہان، خاران بلو چستان۔

۷۔ مولانا مفتی غلام صدیق قادری خطیب اعظم کوہ دامن اضاخیل متنی سرحد۔

۸۔ مولانا محمد صدیق نقشبندی شیخ الدرس دار العلوم غوثیہ خالو غازی ہری پور۔

۹۔ مولانا پیر سید شیخ الدرس دارالعلوم قادریہ غفوریہ طارق آباد سوات۔

۱۰۔ مولانا قاری محمد انور بیگ امجدی چشتی قادری خطیب الجامع السنہری مسجد پشاور و مہتمم مدرسہ حدیقۃ القرآن پشاور۔

۱۱۔ مولانا محمد یعقوب القادری خطیب بروٹھہ اٹک۔

۱۲۔ مولانا سید منیر اللہ شاہ قادری خانقاہ قادریہ گڑھی بلوچ پشاور۔

۱۳۔ مولانا محمد درود پکتیا افغانستان، (۱۴) مولانا محب الرحمٰن فاروقی ملکھو چترال۔

۱۴۔ مولانا قاری عطاء اللہ خطیب بلیم چترال۔

۱۵۔مولانا جہاں شاہ رائیں چترال۔

۱۶۔ مولانا محمد ضیاءالدین کراچی، استاذ جامعہ وقاریہ نارتھ ناظم آباد کراچی۔

۱۷۔ مولانا اخونزادہ عبدالرحمٰن لوگر افغانستان۔

۱۸۔ مولانا سید محمد صدیق بخاری خطیب شاہور جنوبی وزیرستان۔

۱۹۔ مولانا سید افضل مہتمم مدرسہ اسلامیہ حیات العلوم جلال آباد افغانستان۔

۲۰۔ مولانا حبیب اللہ خان شیخ الدرس دارالعلوم قادریہ اسبنڑلوئردیر۔

۲۱۔ مولانا محمد عزیز الرحمٰن درانی خان پور ضلع رحیم یار خان۔

۲۲۔ مولانا نعمت اللہ استاذِ جامعہ شمس العلوم نقشبندیہ خاران بلوچستان۔

۲۳۔ مولانا شادی خان چشتی خطیب ڈوڈالکی مروت۔

۲۴۔ مولانا صاحبزادہ عبدالولی مہتمم مدرسہ جامعہ مومنیہ قادریہ ماشوگگر ضلع پشاور۔

۲۵۔ مولانا صاحبزادہ حمدُاللہ سجادہ نشین حاجی محمد امین عمر زئی چار سدہ۔

۲۶۔ مولانا میاں محمد عمر انبار مہمند ایجنسی۔

۲۷۔ مولانا محمد اسحاق صدیقی شیخ الدرس فیضان مدینہ ایبٹ آباد۔

۲۸۔ مولانا الشیخ محمد عبداللہ خطیب داؤد زئی پشاور۔

۲۹۔ مولانا محمد صاحب الحق کٹھانہ پاتراک کوہستان ضلع دیر۔

۳۰۔ مولانا عبدالقادر چشتی خطیب کالام ضلع سوات۔

۳۱۔ مولانا احسان الملک باچا خطیب راموڑہ چکدرہ۔

۳۲۔ مولانا صاحبزادہ فضلِ منان خطیب کوہاٹ۔

۳۳۔ مولانا نور عزیز چشتی لیکچرار ڈگری کالج بروک و سپور چترال۔

۳۴۔ مولانا حبیب اللہ چشتی ناظم اعلیٰ جامعہ غوثیہ معینیہ پشاور۔

۳۵۔مولانا کلیم اللہ استاذ دارالعلوم جامعہ غوثیہ معینیہ پشاور۔

۳۶۔ مولانا قاری محمد حکیم مہتمم و خطیب جامعہ نجم النساء، گلبہار پشاور، ۔۔۔۔۔ الحمدللہ علی توفیقہ افاضہ وتربیت کا یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔

عمر کی اس منزل میں ماضی کے نشیب و فراز کے آئینہ سبق سے جن تلخ و شیرین تجربات کا احساس کر رہاہوں انہیں آئندہ کی امانتِ حیات کو بامقصد بنانے کےلیے رہنما اصول سمجھ کر سفرِ حیات طے کر رہا ہوں، جن کی کچھ جھلکیاں یہ ہیں۔

جوانی کی عمر میں جو کام مجھے کرنے چاہیے تھے اور جن کو بہتر انداز میں انجام دے سکتا تھا وہ نہ کرپایا، جس کی سب سے بڑی وجہ مذہبی تعصب سے آلودہ معاشعرہ ہے، تحقیق دشمن ماحول اور محدودیت کا زندان ہے، سیاست نا آشنا معاشرہ کا حصہ ہونا ہے، اپنے وجود میں موجود خدادا صلاحیتوں سے بے اعتنائی اور زنگ آلود ماحول کی خرابی سے ناتجربہ کاری تھی۔اے کاش! عمر کی اس منزل میں پہنچ کر تجربہ کی جو روشنی محسوس کر رہوں یہ اگر جوانی میں مجھے حاصل ہوتی تو

ہم بھی آدمی تھے بڑے کام کے

اللہ تعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ کا بے حد احسان ہے کہ عصبیت کے اس حصار سے نکال کر حق پرستی، حق جوئی او ر حق بینی کی شاہراہِ استقامت پر چلنے کی توفیق دی، لقمۂ حلال نصیب فرمایا، صبرو استقامت اور قناعت کی دولت سے سرفراز فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت مجھ پر یہ بھی ہوئی کہ ابناء جنس کی روش کے برعکس کسی مذہبی ادارہ، انجمن، مدرسہ اور کسی بھی فورم کو حصولِ دنیا کا ذریعہ بنایا بلکہ عائلی مصارف سے اضافی و سائل کو دینی مدرسہ سے لے کر تبلیغِ حق کی راہ میں صرف کرنے کی توفیق شامل حال رہی، تقریر سے لے کر تحریر تک اور خطابت سے لے کر تدریس تک حسب استطاعت جس کی توفیق مل رہی ہے۔ اسے دنیاوی لالچ، شہرت، معاوضہ، نام و نمود وغیرہ کسی بھی دنیوی مفاد سے بالا تررہ کر حسبۃ للہ انجام دینے کی بھی توفیق مل رہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان دراحسان اور کرم بالائے کرم سمجھتا ہوں۔
رب کریم جل جلالہ وعم نوالہ کی مجھ پر خصوصی عنایت یہ بھی رہی کہ قناعت کی توفیق سے مجھے نوازا ہے کہ عائلی زندگی میں مابہالکفاف سے زیادہ کی خواہش کبھی نہیں کی۔ ضروریاتِ زندگی کے تمام گوشوں میں کفایت شعاری کی اس توفیق کا ثمرہ ہے کہ کئی بار گزرا اوقات مشکل سے ہونے کے باوجود کسی کو بھی اپنی بے استطاعتی پر مطلع ہونے نہیں دیا، اپنے کسی بھی قریبی دوس
ت احباب اور عقیدت کیشوں کا زیر احسان نہ ہوا، ہر حال میں ورثہ نبوت، محراب ومنبر کے تقدس اور علمی وقار کے تحفظ کو پیش نظر رکھا۔ یہاں تک کہ اپنے ہاتھ سے قائم کردہ دارالعلوم کے مصارف کے لیے حکومت امدادیا اہل ثروت کی زکوٰۃ و خیرات کو بھی کبھی خاطر میں نہیں لایا، دنیا سے استغناء کی یہ توفیق رب کریم جل جلالہ وعم نوالہ کی مجھ پر خصوصی عنایت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ورنہ ؎
من انم کہ من دانم

وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد وآلہٖ الطیبین الطاھرین و صحابتہ اجمعین

وانا العبدالضعیف

پیر محمد

چشتی طریقۃً، والحنفی مسلکًا، والمسلم مذھبًا،

والچترالی مولدًا، واپشاوری مَسکنًا

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-peer-muhammad-chishti-peshawar
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا مفتی صالح نعیمی بھٹو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


صدر العلماء حضرت مولان مفتی محمد صالح نعیمی بن حاجی فیض محمد بن حاجی لال بخش بھٹو نے ۱۳۳۹ھ؍ ۱۹۲۰ء میں گوٹھ آگانی تحصیل و ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:

مختلف اساتذہ سے علوم دین حاصل کیا۔ مدرسہ عربیہ قاسم العلوم مشوری شریف میں فقیہ اعظم حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری ، مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ میں استاد العلماء مولانا تاج محمد کھوکھر ، گھوٹکی میں مولانا محمد اسماعیل سے اور مدرسہ سراج العلوم خانپور ضلع رحیم یار خان میں سراج الرفقہاء مولانا سراج احمد خانپوری وغیرہ ہم سے مختلف علوم فنون میں استفادہ کیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔ دورہ حدیث شریف کے لئے مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد ( انڈیا) تشریف لے گئے جہاں صدر الافاضل ، شیخ الحدیث علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے حدیث شریف کا درس لیا اور ۱۹۴۶ء میں دستار فضیلت حاصل کی۔

درس و تدریس :

آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز اپنے آبائی گوٹھ آگانی سے کیا، جہاں ۱۹۴۷ء میں مدرسہ نعیمیہ قائم فرمایا۔ اور آپ تقریبا نو سال وہیں پڑھاتے رہے ۔ چارسال دارالعلوم احسن البرکات حیدر آباد ۔ ۱۹۵۸ء میں مدرسہ قادریہ سکھر میں۔ ۱۹۶۸ء سے مدرسہ منظور الاسلام گوٹھ صدر جی بھٹی ضلع خیر پور میرس ، ۱۹۷۳ ء سے مدرسہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جیلانی لاڑکانہ ، ۱۹۷۴ء سے جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ لاڑکانہ میں درس تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ ۱۹۷۸ء میں محکمہ اوقاف کی جانب سے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ خطیب مقرر ہوئے اور امامت و خطابت مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری سے فرائض کا آغاز کیا اور تاحیات وابستہ رہے۔

لاڑکانہ شہر کے محلہ علی گوہر آباد میں احباب کے تعاون سے ’’ مدرسہ عربیہ نعیمیہ منظور الاسلام ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ اسی طرح زندگی بھر درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کاسلسلہ جاری رکھا ۔

بیعت :

۱۹۶۷ء میں آپ نے حضرت پیر طریقت منظور حسین خاص خیلی مدنی ( خیرس پور میرس ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔

شاد ی اولاد:

اپنے گوٹھ آگانی میں شادی کی اس میں سے ایک بیٹا نعیم الدین بھٹو اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔ سید سراج الاولیاء شاہ راشدی آپ کے داماد اور صاحب اولاد ہیں ۔

حج و عمرہ :

۱۹۷۰ء میں آپ نے عمرہ شریف کی سعادت حاصل کی اور ۱۹۷۷ء میں حج بیت اللہ شریف کا فریضہ ادا کیا اور روضہ رسول اللہ علی صاحبھاالصلوۃ والسلام کی زیارت شریف سے مشرف ہوئے۔

( تعارف علمائے اہلسنت ص ۳۱۱)

تصنیف و تالیف :

آپ تدریس اور فتاویٰ نویسی میں مشہور تھے، میراث میں مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کے منتشر فتاویٰ کی ترتیب و تدوین کا کام ہوتا تو آپ کی تصنیف وجود میں آتی لیکن یہ کام نہ ہو سکا۔ چند اور رسائل بھی لکھے تھے لیکن منظر شہود پر نہ آسکے ۔

رسالہ غفاریہ ( سندھی ) :

آپ کے نام سے شائع ہوا تھا باو ثوق ذرائع سے پتہ چلا کہ وہ آپ کی تصنیف نہ تھا۔ آپ صحیح العقیدۃ سنی عالم دین تھے ایسی غیر معتبر تحریر آپ کی نہیں ہو سکتی بلکہ آپ کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ۔

بہر حال اس رسالہ کا علماء اہل سنت نے نوٹس لیا اور کئی کتابیں اس د ور میں مارکیٹ میں آئیں اس میں سے مولانا عبداللطیف دیہاتی کی کتاب ’’الھدایۃ الضروریۃ لا صحاب الوجد الاختیاریۃ ‘‘ مشہور ہے جس پر وقت کے نامور و جید علماء اہل سنت کی تقاریظ رقم ہیں ۔ مثلا حضرت سر کار مشوری شریف ۔ مفتی صاحبداد خان وغیرہ

شخصیت :

آپ کی شخصیت پر کشش دلر با تھی جب اسٹیج پر تشریف رکھتے تو اسٹیج کا حسن دو بالا ہو جاتا اور جی چاہتا کہ آپ بیٹھے رہیں اور ہم دیکھتے رہیں ۔

تلامذہ :

آپ کے شاگردوں میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :

٭ مولانا مفتی الھہ ڈنہ جمارانی صدر مدرس مدرسہ دارالاشاعت محلہ لاہوری لاڑکانہ

٭ مولانا مفتی عبدالرحیم رضوی

مہتمم دارالعلوم غوثیہ رضویہ خضدار بلوچستان

٭ مولانا کریم بخش دایو

صدر مدرس جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ

٭ مولانا ہدایت اللہ آریجوی

مہتمم مدرسہ حسینیہ رضویہ خیر محمد آریجا

٭ مولانا صوفی رضا محمد عباسی

شیخ الفقہ دارالعلوم احسن البرکات حیدر آباد

٭ مولانا مفتی کریم بخش نقشبندی

در چھا نوچنہ ملیر کراچی

٭ مولانا ابو السعید خیر محمد رضوی

مہتمم جامعہ غوثیہ نزد لکی ہوٹل حب ریورروڈ کراچی ۵۱

٭ مولانا قاری خیر محمد قاسمی ،

خطیب جامعہ مسجد شیخ زید کا لونی لاڑکانہ

٭ مولانا عزیز اللہ الحبوی ،

مہتمم جامعہ رضویہ مخزن البرکات لاڑکانہ

٭ مولانا نثار احمد جھتیال،

صدر مدرس مدرسہ اللہ آباد کنڈ یارو

٭ مولانا خلیفہ نور محمد رتڑ ،

بانی درگاہ نور پور صوبھودیر و ضلع خیر پور میرس

٭ مولانا عبدالکریم عباسی مر
2
حوم ،

صدر مدرس مدرسہ جیلانیہ لاڑکانہ

دیگر خدمات :

جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی نائب صدر بھی رہے، اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے رکن بھی بنائے گئے۔ سیاسی طور پر’’پاکستان پیپلز پارٹی ‘‘ سے منسلک رہے، مسٹر ذوالفقار علی بھٹو سابق وزیر اوعظم پاکستان کے محبوب لیڈر تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو سابق وزیر اعظم کے ابتدائی دور میں ’’پیپلز علماء و مشائخ ونگ ‘‘ میں کام کیا اور اسی ونگ کے زیر اہتمام اپنی مسجد ( یعنی مسجد درگاہ قائم شاہ بخاری ) جہان امام و خطیب مقرر تھے وہاں ’’شہید ذوالفقار علی بھٹو کانفرنس ‘‘ بھی منعقد کی تھی۔

آخری تقریر :

مسجد شریف درگاہ حضرت قائم شاہ بخاری ؒ میں گیارہویں شریف کا جلسہ آپ کی صدارت میں منعقد تھا آپ نے علالت کے باوجود شرکت فرمائی ۔ ان دنوں مولوی تاج محمود امروٹی کا مسئلہ بھی زیر بحث تھا ۔ جلسہ سے مفتی الھڈنہ جمارانی ، مولانا محمد صدیق جتوئی اور قاری گل محمد قاسمی نے خطاب کیا اور خطاب کے دوران تاج محمود امروٹی کو وہابی قرار دیا۔ آخر میں سب کو آپ کی تقریر کا انتظار تھا کہ آپ فیصلہ کیا صادر فرماتے ہیں ، آپ نقاہت و ضعف کے سبب زیادہ دیر تقریر نہیں کر سکے لیکن تا ج محمود امروٹی کو کھلے الفاظ میں تین بار فرمایا: ’’مولوی امروٹی وہابی تھے ‘‘۔

وصال :

فالج کے سبب آپ بہت کمزور ہو گئے تھے لیکن چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ ۲۴، اکتوبر ۱۹۹۲ء بمطابق ۲۶، ربیع الآخر ۱۴۱۳ھ ہفتہ کی صبح ۵ بجے وصال فرمایا۔ مولانا احمد بخش قاسمی جمالی ، مولانا حسین علی غفاری اور مولانا ہدایت اللہ آریجوی نے غسل دیا۔ اور ۴ بجے شام جناح باغ میں نماز جنازہ ہوئی ۔ اور جامعہ نعیمیہ لاڑکانہ شہر میں آپ کی آخری آرامگاہ ہے جہاں ہر سال ماہ اکتوبر میں عرس و جلسہ منعقد ہو تا ہے۔ ( ماخوذ : تعارف علماء اہلنست اور ذاتی معلومات )


( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-saleh-naeemi-bhutto
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حمدِ ربّ العزّت جَلَّ جَلَالُہٗ و نعت حضور سیّدالانبیاء علیہ السلام کے بعد جس کا باَحسن وجوہ ادا کر سکنا امکانِ بشری سے باہر ہے۔ فرمائشاتِ مریدین و عقیدت مندوں کے بے شمار خطوط موصول ہوئے۔ ان میں بعض احباب کی فرمائش بھی ہوئی کہ بہ طریقتِ سلطانِ عظیم البرکۃ مجاہدین و ملت مسیح الملک رہبرِ راہِ حقیقت نورِ یزدانی شمع معرفت، غریب پرور حکیم سیّدنا محمد حسن قادری کوثر کوثر پیر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مختصر حالاتِ زندگی شائع کیے جائیں۔

اسلاف کی تاریخ قوم کی مردہ رگوں میں خونِ حیات پیدا کرتی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے حالات سے باخبر ہو کر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کے سبب اس کا کرم شامل حال رہے۔

خاندانی حالات:

ترکِ دنیا گیرتا سلطاں شوی

ورنہ ہمچو چرخ سرگرداں شوی

آپ حسنی حسینی سادات سے ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا سلسلۂ نسب مولائے کائنات کل غالب، امام المشر قین والمغربین اسد اللہ بو تراب علی ابنِ طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے فرزندِ ار جمند امام حسن پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ کے دادا ہیں اور آپ کے نانا سیّدنا امام عالی مقام امام حسین پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ ان کی اولاد غوثِ صمدانی محبوبِ سبحانی، قندیل نورانی، امام زمانی، شہباز لامکانی، غوثِ اعظم، پیر پیراں، میر میراں محی الدین (یعنی دین کو زندہ کرنے والا) سیّدنا شیخ عبد القادر بن امام ابو موسیٰ صالح (جنگی دوست) رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ غوث پاک کے ۱۱ فرزند ہیں جن میں امامِ ولایت الشیخ السید نا عبد الرزاق تاج الاولیاء العالیہ الجیلانیہ، الرزاقیہ البغدادیہ ہیں، آپ سلسلۃ الرزاقیہ کے بانی ہیں۔ آپ کا مزارِ اقدس اقراء (عراق) میں مرجع الخلائق ہے۔

ان کی اولاد بغداد سے ہجرت فرماکر ملکِ شام کے شہر ’’حماہ‘‘ کے گاؤں ’’عاصی‘‘ میں رہائش پذیر ہوئی اور وہیں مکین ہو گئی۔ "حماہ" شہر میں رہنے والے کو "الحموی" کہتے ہیں۔

(آپ کا نسب) سجادہ قدوۃ السالکین، برہان العاشقین، سلطان العارفین سیّدنا و مولانا سیّد رزق اللہ شاہ ثالث محی الدین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کو شہر حماہ کے گاؤں عاصی میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے اذن یعنی حکم صادر فرمایا:

آپ ہندوستان جائیں اور دینِ اسلام کی اشاعت فرمائیں۔

نبی کریم ﷺ کے ارشاد پر آپ حماہ سے شیستان یعنی خراساں ایران کے راستے سے ہوتے ہوئے افغانستان سے سندھو یعنی سندھ تشریف لائے۔ دریائے سندھ سے آپ نے جائے نماز پر سفر شروع کیا۔ آپ آسمانوں کی بلندیوں پر جا رہے تھے۔ آپ نے پہلا مقام بھاؤنگر سے ۳۰ کلو میٹر دور " گوگا" پر اپنا قدم مبارک رکھا۔ اس جگہ کو قدم غوث پاک کہتے ہیں۔ جائے نماز میں پھر آگے سفر میں جا رہے تھے کہ آپ کا گزر سمندر کے کنارے سے ہوا۔کوڈینار (یعنی مول دوار کا) کے گزر پر ایک مندر سے جادو گر نے آپ پر جادو کیا۔ آپ کا مصلیٰ (یعنی جائے نماز) تھر تھرانے لگا۔ آپ نے اس جادو گر پر کلامِ پاک پڑھ کر پھونکا جس کی وجہ سے اس جادو گر کے سینگ نکل آئے اور وہیں و اصل جہنم ہو گیا۔ آپ نے نمازِ عصر کے لئے مصلّٰی کو اتارا اور وہاں کے لوگوں سے وضو کے لئے پانی مانگا۔ انہوں نے پانی دینے سے انکار کیا۔ آپ نے اپنی جیب سے مسواک نکالی اور مسواک سے ایک چشمہ جاری کیا۔ اسی چشمے کا نام گیانی باوڑی یا جیلانی باوڑی (چشمہ) سے آج بھی مشہور ہے۔ آپ ترکی کے سلطان الپ ارسلان سلجوتی کے دور میں تشریف لائے۔ یہاں کے گورنر کا نام عبد اللہ مغل تھا۔ یہیں قیام پذیر ہوئے اور ۵ ربیع الثانی۱۰۰۶ء میں خالقِ حقیقی سے جا ملے ( انا للہ وانا الیہ راجعون) اسی دوران آپ نے لاکھوں غیر مذہبوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ سیّدنا رزق اللہ ثالث محی الدین کے تین بیٹے ہیں:

پہلے بیٹے سیّدنا علی قادری المحموی، دوسرے سیّدنا قطب الدین قادری الحموی، تیسرے بیٹے سیّدنا داؤد قادری الحموی ہیں۔

سیّدنا علی کی اولاد کو علوانی کہتے ہیں۔ سیّدنا قطب الدین کی اولاد کو قطبانی کہتے ہیں اور سیّدنا داؤد کی اولاد کو داؤدانی کہتے ہیں۔

سیّدنا رزق اللہ شاہ ثالث محی لدین کامل و اکمل بزرگ، مردِ حق اور ، مردِ قلندر ہیں۔ ہندوستان میں سلسلۂ عالیہ قادریہ، الرزاقیہ، الحمویہ کے بانی آپ ہیں۔

حضرت کوثر بابا کے والدِ ماجد

حکیم پیر سیّدنا محمد حسن قاسم علی کوثرعلیہ الرحمۃ:

حضرت سیّدنا قاسم علی کوثر الشیخ بن سیّدنا عبد اللطیف قادری العالیہ، القادریہ، الرزاقیہ الحمویہ نَوّرَ اللہُ تَعَالٰی مَرْقَدَہٗ کوڈینار میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہاں حاصل کی۔ آپ عربی، فارسی، ادیب، فاضل، منشی اور شاعر تھے۔ آپ کا تخلص کوثر ہے۔ آپ بمبئی اسٹینڈرڈ کے سب ایڈیٹر رہے ہیں۔ آپ نے گجرات میں اسکول کورس کی پہلی اسلامی دینی کتاب شائع کی۔ آپ نے دھوراجی میں رونقِ اسلام کی
2
بنیاد ۲۰ /اپریل۱۹۲۶ء میں رکھی۔ وہاں آپ پرنسپل تھے۔ عربی، فارسی میں بے انتہا مہارت اور عبور حاصل تھا۔ آپ نےدین اسلام کی خدمت میں اپنا وقت گزارا۔ اپنی آرام گاہ کے لئے جیت پور میں وہاں کے نواب پٹھیر یا دربار سے نقد روپے دے کر زمین خریدی۔ آپ کو رئیس اعظم کوڈینار کہتے ہیں۔ آپ نے چودہ شعبان المعظم کو عصر کے وقت پردہ کیا۔

آپ نے آخری وقت یہ ارشاد فرمایا:

میرا عرس تمام دنیا منائے گی۔

آخری وقت آپ نے کلمۂ طیبہ ادا کیا۔ آ پ کا مزارِ اقدس جیت پور( کاٹھی، گجرات) پھول واڑی بھا درد ریا کے کنارے آج بھی موجود ہے۔ بے شمار لوگ آپ کے در سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ برِّ صغیر ہندو پاک میں ہزاروں کی تعداد میں آپ کے مریدین، معتقدین، اہلِ نسبت رکھنے والے اور چاہنے والے موجود ہیں۔

والدۂ ماجدہ:

آپ کی والدۂ ماجدہ کا اسم گرامی حضرت سیّدہ صغریٰ ماں صاحبہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہا بنتِ سیّدنا عبدالرزّاق گوہر ہے۔ آپ کا مزارِ پُر انوار گجرات میں ویراول کے قریب گونج پورہ میں ہے۔

ولادتِ با سعادت:

حضرت کوثر بابا علیہ الرحمۃ کی ولادتِ با سعادت ویراول شریف، کوثر، منزل ہویڑا چوک میں بروز جمعرات ۱۹۲۴ء میں ہوئی۔ آپ کی دائی کا نام’’بوماں دائی‘‘ ہے۔ آپ کی پیدائش پر سیّدنا قاسم علی کوثر نے ۵ عدد بکرے کٹوائے۔ لوگوں میں عقیقے کا گوشت تقسیم کیا۔ دائی بوماں کو دو عدد سونے کے سکے اور نقد ۴۰ روپے سکّہ رائج الوقت دیا۔ ۴۰ دن تک سیّدہ صغریٰ ماں صاحبہ کی خدمت کرنے کے عوض دائی بوماں کو یہ چیز یں ملیں۔

تعلیم و تربیت:

آپ نے ابتدائی تعلیم سیّدہ زہرہ ماں بنتِ سیّد عبدالرزّاق گوہر، جو آپ کی پھوپھی ماں صاحبہ ہیں، ان سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ مدرسۂ تقویّت الاسلام ’’ویراول ہائی اسکول‘‘ جواب دلاور خانجی ہائی اسکول ہے، وہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ فارسی کے استاذ سیّد غلام حیدر (شاہ باپو)تھے۔ فارسی، عربی، حکمت، مدرسہ مہابت خانجی(بہاؤ الدین کالج) جونا گڑھ میں چھ روپے سالانہ بمع رہائش و طعام تھا۔ اس کے بعد بمبئی چلے آئے۔ یہاں پر انجمن حمایت الاسلام ہائی اسکول محمد علی روڈ کرافٹ مارکیٹ، بمبئی میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ جونا گڑھ کے نوابوں کے خاص حکیم عبد اللہ خاں سے سند حاصل کی ۱۹۴۵ء میں آپ نے پہلا دواخانہ جیت پور (کاٹھی) میں کوثر دواخانہ یونانی کھولا۔ علومِ ظاہری کی تحصیل سے فارغ ہو کر علوم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اس وقت کی برگزیدہ ہستیوں سے استفادہ کیا۔ آپ نے اپنے ماموں جان سے روحانی فیض حاصل کیا۔ آپ شاعر بھی تھے، آپ کا تخلص بھی کوثر ہے۔





ازواجِِ مطہرات:

سیّدنا محمد حسن قادری کوثر نے ۳ عدد شادیاں کیں۔ پہلی زوجہ سیّدہ خیر النساء ماں صاحبہ بنتِ مصطفیٰ میاں قادری کتیانہ والے کی صاحبزادی تھیں۔ شادی کتیانہ محلہ رسول واڑی میں ہوئی۔ سیّدنا محمد حسن قادری کوثر ہجرت کر کے جام نگر تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے کوثر یونانی دواخانہ کھولا تھا۔ آپ کی ایک عدد لڑکی سیّدہ اچوماں جام نگر میں پیدا ہوئیں۔ بچپن میں ہی انتقال ہوا۔ پاکستان وجود میں ۱۹۴۷ء میں آیا۔ آپ نے پاکستان جانے کا ارادہ کیا۔ آپ جھلنہ (حیدرآباد دکن، انڈیا) تشریف لے گئے۔ ممبئی سے پانی کے جہاز یعنی اسٹیمر سے شہر کراچی ۱۹۴۸ء میں تشریف لائے۔ آپ نے اولڈ ٹاؤن میٹھادر میں سکونت اختیار کی۔ وہاں آپ نے ۳۰۰ روپے میں ایک مکان خریدا ، یہ مکان بروکر اسماعیل کعبہ والی اوراسماعیل بیلم کے تعاون سے خریدا جوٹھا کر داوڑ لائن، ۵ نمبر ٹنکی، میٹھادر کراچی میں تھا۔ آپ کی پہلی زوجہ سیّدہ خیر النساء ماں صاحبہ بنتِ سیّد مصطفیٰ میاں کتیانہ والے کا وصال اسی مکان میں ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

حکیم صاحب! میرے مرنے کے بعد آپ شادی کر لینا۔ میں نے عزرائیل علیہ السلام کو روکے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا خیرو، میں شادی نہیں کرو ں گا۔ خیر النساء ماں نے فرمایا: میری روح نہیں نکلے گی۔ حکیم صاحب آپ ضرور شادی کریں گے، مجھ سے وعدہ کریں۔ میں کلمہ پڑھ کر کہتی ہوں اور میں عالم ارواح میں دیکھ رہی ہوں۔ ہمارے گھر ایک لڑکا ہو گا جو ہمارا لوبان یعنی فاتحہ خوانی کرے گا۔ اس کے بعد آپ نے کلمہ طیبہ ادا کیا اور خالق حقیقی سے جا ملیں۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) آپ کو دھوبی گھاٹ میوہ شاہ قبرستان میں دفن کیا گیا، جہاں آپ کا مزارِ اقدس موجود ہے جو "دربارِ خیروں ماں" سے مشہور ہے۔ آپ کی دوسری شادی سیّدہ آمنہ ماں سے ہوئی جو سیّد ابراہیم میاں کالے میاں جونا گڑھ والے سے مشہور تھے۔ ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی اور زچگی میں ہی انتقال ہو ا۔ سیّدہ خیر النساء، ماں صاحبہ، سیّدہ آمنہ ماں صاحبہ اور بچی کا مزار ایک ساتھ ہے۔ آپ کی تیسری اور آخری شادی حاجیانی سیّدہ نور ماں صاحبہ بنتِ سیّد حبیب میاں قادری کھڈیہ جونا گڑھ والے جو اپنے آپ کو کالا باغ کے سیّد کہلاتے ہیں۔ آپ کا تعلق اٹک یعنی کیمبل پور سے آگے گاؤں
2
بشال شریف سے ہے۔ بشال شریف میں آپ کے جدِّ امجد کا مزار سیّد امیر حمزہ کا مزار آج بھی موجود ہے۔ ان کی اولاد میں سیّد عبدالقادر جیلانی برق صاحب اور غلام ربانی صاحب، سیّد یحیی ہیں۔ سیّد عبدالقادر جیلانی برق صاحب نے "دو قرآن" کے نام کی کتاب لکھی ہے۔ سیّد حبیب میاں قادری نے اپنے ناخنوں سے دو عدد قرآن لکھے ہیں۔ سیّد حبیب میاں نے دربارِ کھڈیہ کی عورتوں کو قرآن پاک پڑھایا ہے۔ آپ کھڈیہ مسجد میں امامت فرماتے۔ جنات کو نماز پڑھواتے۔ آپ کا مزار کھڈیہ مسجد کے احاطے میں ہے۔ حاجیانی سیّدہ نور جہاں ماں صاحبہ سے تین بچے ہوئے۔ پہلی بیٹی سیّدہ نجم النساء قادری جو تقریباً ۲۰ پونڈ کی سیمنٹ ہسپتال کھرادر جنرل میں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد آپ نے میٹھادر کے مکان کو خیرباد کہہ دیا اور انجام کالونی کے جھونپڑے میں چلے گئے جہاں ایک سال بعد لڑکا پیدا ہوئے۔ اس کا نام سیّد عبد الحمید قادری رکھا گیا۔ جب لڑکا پیدا ہوا تو بہت زیادہ برسات ہو رہی تھی۔ آپ معصومین ہسپتال میں ایمبولینس لینے گئے۔ برسات کی وجہ سے ایمبولینس پانی میں بند ہو گئی۔ سیّدہ عبد الحمید قادری جھونپڑے میں پیدا ہوئے۔ تیسری اور آخری بیٹی سیّدہ زیب النساء قادری ہیں جو سیّد عبد الحمید قادری کے چھ سال بعد پیدا ہوئیں۔ آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے گھر انجام کالونی میں آگ لگنے کی وجہ سے جھونپڑے جل گئے۔ حکومت نے اعظم خان کے ذریعے بلدیہ ٹاؤن میں مکان دیے جس کانام نیو انجام کالونی (بلدیہ ٹاؤن) رکھا۔

سیرت پاک:آپ قادری سلسلے کے جلیل القدر بزرگ و غوث ہیں۔آپ ہر وقت ذکر و فکر، مراقبہ و محاسبہ اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے۔ کھانا پینا ترک دیتے۔ آستانہ کوثر عالیہ قادریہ میں گوشہ نشینی اختیار کرتے اور خلق سے بے نیاز ہو جاتے۔ شروع میں حکمت کرتے جو ورثہ والد ماجد سے عطا ہوا تھا۔ آپ مادر زاد ولی کامل، سماع سنتے تھے۔ لنگر آپ کا عام تھا کہ یہ والیت کی شرط ہے۔ طبعیت شریف میں جلال بہت تھا۔ جو فرماتے، وہی اور ایسا ہی ہوتا۔ بزرگوں کے عرسوں میں شریک ہوتے۔ اکثر حضرت سیّدنا علی ہجویری داتا گنج بخش کے عرس میں جاتے اور خود بھی عرس کرتے تھے۔ جس پر آپ کی نظر الطاف پڑتی، رنگ دیا جاتا۔ آپ کے فیض کا چشمہ ہر خاص و عام کے لئے جاری ہے۔ آپ کو حضرت مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر پیا سے بے حد محبّت ع عقیدت ہے، جس کی وجہ سے آپ بہت صاحب ہیں۔ آپ نے صابر پیا کے لیے منقبتیں بھی لکھی ہیں۔ آپ فرماتے:

مجھےجو کچھ ٹکڑا ملا ہے، وہ علاؤالدین علی احمد صابر پیا کا صدقہ ہے۔ (کلیر شریف) آپ زہد و تقویٰ، تحمل و بردباری، سخاوت و فیاضی، عطا و بخشش، قناعت و توکل اور مجاہدات میں یگانۂ عصر تھے۔ جو کچھ آتا، سب خرچ کر دیتے۔ مسجد میں امامت کیا کرتے تھے۔ پھر آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ نے 31 دن کا روزہ 1 کھجور پیشی سے رکھا۔ مسجد سے نکلنے پر لوگوں سے کہا میرا گھر کہاں ہے؟ وجدانی کیفیت طاری ہو چکی تھی۔ آپ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپانے کی بہت کوشش کرتے اور کچھ ایسی حرکات کرتے جو عقل بشری سے بالا تر ہوتی تاکہ لوگ آپ سے دور ہو جائیں لیکن عقیدت مند ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتے تھے۔ آپ عشقِ رسول ﷺ میں فنا تھے۔ آپ کا مشرب قلندرانہ ہے۔ آپ اس خیال سے متفق نہیں کہ مرنے کے بعد عشق و محبت کا تعلق بے کار ہے۔ آپ کے نزدیک ہر حالت میں عشق و محبت جائز اور روا ہے۔ حوصلہ، استغراق، استغنا، وقت کی مخالفت، احوال کا چھپانا، توحید و معارف، دلوں کو کھلونا، مریدوں پر مہربانی کرنے میں امتیازی شان رکھتے تھے۔ لوگ پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ اشارے سے دم فرماتے۔ دم کی برکت سے مریض اچھے ہوتے۔ آپ کی نگاہِ الفت ہی مریض کی دوا تھی۔ آپ کم گو، کم خورد اور کم گفت تھے۔ بلکہ اکثر و بیشتر ان کا ہاتھ چہرے پر ہلتا رہتا تھا۔ ذرا سی آہٹ سے فوراً ھاگ جاتے اور پوچھتے کیا ہورہا ہے۔ آپ خاندانِ رسالت کا بڑا احترام کرتے تھے۔ دور سالکی میں آپ آستانہ عالیہ قادریہ میں سگریٹ و بیڑی پینے سے منع فرماتے تھے۔

انکساری:

آپ میں انکساری اس حد تک تھی کہ بغیر ٹوپی کھانا نہ کھاتے۔ اگر کھاتے تو یاد آنے پر فوراً پہن لیتے۔ نماز ہمیشہ ٹوپی کے ساتھ پڑھتے۔ اکثر لال ٹوپی (ترکی) پہنتے۔ بہت آہستہ آہستہ چلتے۔ کیڑے مکوڑوں کے مرنے کا خاص خیال کرتے۔ جانوروں سے محبّت کرتے، جس کے نتیجے میں ان کے لئے کھانا ہوٹل سے منگواتے۔ پانی اپنے ہاتھوں سے بھر کر رکھتے تھے۔

تحمل:

حالت سلوک میں مرید بنایا کرتے تھے۔ مریدوں کے پیر کے نام کے ۱۲ نفل پڑھنے کو کہتے۔ نفل نماز پر اکثر زور دیتے۔ اکثر فرماتے میں وکیل ہوں۔ میرا کام پل صراط سے پار کروانا ہے۔ وہ پیر پیر نہیں جو مرید کو پل صراط سے پار نہ کر واسکے۔ اگر پیر اپنی خواہشات کی مطابقت کرتا ہے تو پیر نہیں بلکہ راہِ دین محمدی ﷺ کا رہزن ہے۔ پیر وہ ہے جو اپنی نمازِ جنازہ خود ا
3
دا کر لے۔ آپ فرماتے میں نے اپنی نماز جنازہ خود ادا کر لی ہے۔ اکثر بھوکے رہا کرتے تھے۔ کہتے تھے چمڑے کی جھونپڑی میں آگ لگی ہے۔ بھوک کا پہلا مقام غذا، پانی اور طعام، دوسرا مقام درود و محبت و عشق جس کی غذا خون وجگر خاکساری ہے۔ تیسرے مقام کو محبوب و معشوق کی آگ کہتے ہیں جس کی غذا حسن و جمال اور اوصاف و کمال ہیں۔ آپ نے بارہ سال کھانا نہیں کھایا، جس کی وجہ سے ظاہری حالت بے انتہا کمزور ہو گئی ۔ حکیموں اور ڈاکٹروں کو دکھایا گیا مگر علاج سمجھ میں نہ آسکا۔ آواز دستور کے مطابق گرجدار تھی مگر جسم شریف لا غرور کمزور پڑچکا تھا۔ یہ حضرت اہل دل ہوتے ہیں، نہ کہ اہل جسم۔ آپ فنافی اللہ کی منزل کو پہنچ چکے تھے۔ آپ کی دونوں آنکھیں صحیح تھیں لیکن بعد میں ایک آنکھ بند کر لی تھی۔ پوچھنے پر بتایا جس آنکھ سے جلوۂ یار دیکھا ہے، اس سے کسی اور کو دیکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ اپنی زندگی میں کبھی نہیں کہا کہ مجھے درد ہو رہا ہے، یا آج کون سا دن ہے۔ بے انتہا ظاہری کمزوری ہو چکی تھی۔ آخری وقت میں اپنے سجادہ نشین سیّد عبد الحمید قادری کو ثر کو سینے سے لگایا اور دونوں ہاتھوں سے زور سے دبایا۔ تقریباً نو ماہ سے کھانا بند کر دیا تھا۔ آخری دنوں میں خون کی رپورٹ ڈاکٹروں نے منگوائی تھی۔ رپورٹ بالکل صحیح تھی۔ طبعیت بہتر ہوئی۔ پانی نہ پینے کی وجہ سے زبان بالکل خشک ہو چکی تھی۔ شام ۷ بجے کے قریب کمال اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر کمال الدین خان سے احوال طبعیت پوچھا تو کہا دعا کے علاوہ چارہ نہیں ہے۔ اسی دن رات داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔

وفاتِ حسرت آیات:

۲۶/ربیع الثانی ۱۴۱۱ ؁ھ یعنی ۱۴/نومبر ۱۹۹۰ ؁ھ بروز بدھ، رات ۱۱ بج کر ۲۰منٹ پر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

آپ کی نمازِ جنازہ جمعرات کو بعد نمازِ مغرب ککری گراؤنڈ محمد علی پارک میٹھادر میں علامہ قاری رضاء المصطفیٰ اعظمی نے ادا کی۔ نمازِ جنازہ میں ۷۲ صفیں بنیں۔ایک صف تقریباً ۳۰۰ آدمیوں پر مشتمل تھی۔ بعد میں ککری گرأؤنڈ سے جنازےکو آستانۂ کوثر عالیہ لایا گیا۔ بعدۂ آپ کو اپنی آرام گاہ میں رکھا گیا جس میں میئر کراچی ڈاکٹر فاروق عبد الستار نے شرکت کی۔ بہت سے علما و مشائخ نے بھی شرکت کی۔ آ پ کا سوئم نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ میں ہوا جہاں قاری رضا ء المصطفیٰ اعظمی نے آپ کے اکلوتے بیٹے الشیخ عبد الحمید کوثر قادری کی دستار بندی کی تھی۔ دستار بندی میں قصیدۂ بردہ شریف پڑھا گیا۔ بعد میں دعائے خیر ہوئی۔ اس کے بعد آستانۂ کوثر کاغذی بازار پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ بعد ازاں غریبوں میں لنگر تقسیم کیا گیا۔ کئی قرآن ختم ہوئے، بے شمار کلمۂ طیبہ پڑھایا گیا اور ان شاء اللہ ہمیشہ پڑھاجاتارہے گا اور اسی طرح آبِ کوثر کا یہ چشمہ قیامت تک جاری رہے گا۔ بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی۔

اللہ ربّ العزّت سے دعا ہے کہ وہ ذات ہم سب کو اولیائے کرام کے فیضان سے بہرہ ور فرمائے ۔(آمین)

بجاہ حبیبہ الکریم علیہ الصلاۃ والتسلیم ط

الداعی الی الخیر

الشیخ السیّد عبد الحمید قادری کوثر

خاکپائے اولیاء اللہ پیر و مرشد اولادِ مولائے پاک

سجادہ نشین دربارِ کوثر، کاغذی بازار، میٹھا در، کراچی
https://scholars.pk/ur/scholar/muhammad-hassan-qadri-hazrat-syed-kausar-baba
3