🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت علامہ مولانا پیر محمد چشتی علیہ الرحمۃ
خود نوشت حالات
آج ۲۰۱۰ء سے تقریباً۷۳ سال قبل شاگروم میں پیدا ہوا۔شاگروم نام کا یہ وسیع و عریض گاؤں درہ تریچ کی آخری آبادی ہے ضلع چترال تحصیل ملکھو کا یہ میری پیدائش سے پہلے بھی مردم خیزی میں مشہور تھا جس میں نوابی دور کے علم دشمن ماحول میں بھی محمد جناب شاہ اور قاضی بدرالدین خواجہ جیسی ہستیاں بالترتیب عصری اور مذہبی علوم کی روشنی پھیلا رہی تھیں۔ نوابوں کے تعلیم دشمن ماحول سے آزاد اور ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوجانے کے بعد بھی چترال کے اس درہ سے اچھے خاصے اہل علم پیدا ہوئے میری پیدائش ریاستی دور کے جس ماحول میں ہوئی وہ کچھ اس طرح تھا کہ نوابوں کے بچوں کے لیے ابتدائی تعلیم کا انتظام مقامی طور پر میسر تھا جبکہ قرآن شریف ناظرہ پڑھنے اور نماز و روزہ جیسے ضروری احکام سے روشناس ہونے کے ساتھ مڈل تک دنیوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے پشاور، دہلی، لاہور اور انگلینڈ کا رخ کیا کرتے تھے جبکہ رعایا کے بچوں کی تعلیم کا قطعاً کوئی انتظام ہی نہیں تھا مگر یہ کہ نوابوں کے کارندوں سے چھپ کر ریاست کی حدود سے نکلنے میں کامیاب ہوتا تو سفر و غربت اور بے وطنی کی صعوبتیں برداشت کرکے مذہبی یا عصری تعلیم کی کچھ روشنی پاتا جن کی تعداد کائیوں سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔
فقدانِ تعلیم کی اس بدحالی کے ساتھ معاشی زبوں حالی کا یہ عام تھا کہ نوابوں کی گزراوقات رعایا سے ظلماً و صول کیے جانے والے غلہائے عشر پر ہوا کرتی تھی تو عام آدمیوں کی معیشت کا کہنا ہی کیا تھا درہ تریچ میں سب سے زیادہ قطعہ اراضی کے مالک ہونے کے باوجود ہمارے خاندان میں بھی عمومی خوراک جوکی روٹی یا باجرہ کی روٹی ہوا کرتی تھی لیکن اس کے ساتھ ہمارے خاندان پر رب کریم جل جلالہ و عم نوالہ کا خاص کرم یہ تھا کہ ہرن کے گوشت سے ہمارا گھر کبھی خالی نہ ہوتا تھا۔ میرے دادا جان (نام رحیم ولد عبدالکریم) جو اپنے وقت کے خدارسیدہ بزرگ تھے وفاداری، امانتداری، سخاوت، شجاعت اور صدقِ لہجہ میں مشہور تھے جن کی وفا شعاری کو دیکھ کر مہتر چترال نواب میں محمد ناصر الملک رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں امین دربار کے عہدے پر فائز کیا تھا جس کی بدولت ان کے بیٹوں کو شاگروم سے ملحق بالائی شکار گاہوں کی اختیارداری اور ہر جگہ سے شکار کی اجازت کی اجازت تھی۔ میرے تایا شہزادہ رحیم (مرحوم) سرکاری شکار ہونےکی بناء پر پورے چترال میں شکاری کے نام سے ہی مشہور تھے میرے (مرحوم) والد ان سے عمر میں تقریباً تیس سال چھوٹے تھے، گھریلو ذمہ داریوں سے زمینوں کی دیکھ بھال تک جملہ انتظامات کے نگران تھے جبکہ میرے چھوٹے چچا امام رحیم (مرحوم) ان کے نائب و معاون تھے۔ میرے والد محمد رحیم ہرن کے شکار سے لے کر ہر موسم کے پرندوں تک شکار کرنے میں پورے درہ تریچ میں اپنی مثال آپ تھے۔ شانِ قدرت ہے کہ شکار کرکے کھانے اور کھلانے والے اس عظیم شکاری کو اس حوالہ سے وہ شہرت نہ ملی جو ان کے بڑے بھائی شہزادہ رحیم کو ملی۔
علاقائی ماحول اور خاندانی روایات کا شعور پانے کے بعد میں بھی اس راپ پر چلنے لگا جس پر چلتےہوئے اپنے بڑوں کو دیکھا تھا لیکن شکار کے حوالہ سے میرے اور میرے بڑے بھائی جان مولانا شیر محمد مدظلہ العالی کا معاملہ اپنے بزرگوں سے مختلف رہا کیوں کہ ہمارے والد مرحوم و مغفور نور اللہ مرقدہ اپنے بڑےبھائی سے کئی گنا زیادہ فعا اور ہر موسم کے شکار کا بہترین شکاری ہونے کے با وجود اپنے بڑے بھائی جیسی شہرت اس حوالہ سے نہ پاسکے حالاں کہ وہ ہر موسم کے اچھے شکاری تھے چھوتے پرندوں کے شکار کے حوالہ سے میری فنکاری کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی درخت کے نیچے بیٹھ کر گھنٹہ سے دو گھنٹے کے دورانیہ میں پچاس ساٹھ کی تعداد میں پرندے مار گراتا تھا مجھے مواد پہنچانے اورذبح کرنے پر مقرر لڑکوں کو کہنا ہے کہ روزانہ کی یہ تعداد دوسو سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ (صحیح کے متعلق حتمی صور ت مجھے یاد نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)
یہاں پر شاید قارئین کو ان پرندوں سے متعلق تعجب ہوا کہ اس کثرت سے آنے والے وہ کیسے پرندے ہوں گے اور وہ شکار گاہ کیسی ہوگی؟ تو اس کے متعلق یہ ہے کہ ان دنوں میں یعنی آج سے تقریباً نصف صدی قبل ہر قسم شکار کی بہتات ہونے کی طرح گندم اور باجرہ کی فصل جن پکنے کے قریب ہوتی تھی تو اسے کھانے کے لیے پرندوں کی یہ نسل کثیر تعداد میں آیا کرتی تھی۔ جس کو کھوار زبان میں شویچ کہا جاتا ہے جو جسامت میں اندازتاً تین چڑیوں کے برابر ہوتا ہے اور رنگت کے اعتبار سے ان کی دوقسمیں ہوتی ہیں۔ ایک خاکستری سفید، دوسری وہ جس کا سر اور گردن سمیت سینے کا بالائی حصہ سرخ باقی سارا حصہ خاکستری جو خوبصورتی و دلکشی میں اپنی مثال آپ ہیں اور گوشت اس کابہت لذیذ ہوتا ہے۔ دورہ تریچ سمیت چترال کے بالائی حصہ کی تینوں تحصیلوں میں اس کی کثرت کے ساتھ آمد کا موسم ماہ ستمبر ہوا کرتا تھا لیکن دنیا کی ارتقائی زندگی کے دوسرے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آنے کی طرح ہر موسم کے شکار میں
خود نوشت حالات
آج ۲۰۱۰ء سے تقریباً۷۳ سال قبل شاگروم میں پیدا ہوا۔شاگروم نام کا یہ وسیع و عریض گاؤں درہ تریچ کی آخری آبادی ہے ضلع چترال تحصیل ملکھو کا یہ میری پیدائش سے پہلے بھی مردم خیزی میں مشہور تھا جس میں نوابی دور کے علم دشمن ماحول میں بھی محمد جناب شاہ اور قاضی بدرالدین خواجہ جیسی ہستیاں بالترتیب عصری اور مذہبی علوم کی روشنی پھیلا رہی تھیں۔ نوابوں کے تعلیم دشمن ماحول سے آزاد اور ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوجانے کے بعد بھی چترال کے اس درہ سے اچھے خاصے اہل علم پیدا ہوئے میری پیدائش ریاستی دور کے جس ماحول میں ہوئی وہ کچھ اس طرح تھا کہ نوابوں کے بچوں کے لیے ابتدائی تعلیم کا انتظام مقامی طور پر میسر تھا جبکہ قرآن شریف ناظرہ پڑھنے اور نماز و روزہ جیسے ضروری احکام سے روشناس ہونے کے ساتھ مڈل تک دنیوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے پشاور، دہلی، لاہور اور انگلینڈ کا رخ کیا کرتے تھے جبکہ رعایا کے بچوں کی تعلیم کا قطعاً کوئی انتظام ہی نہیں تھا مگر یہ کہ نوابوں کے کارندوں سے چھپ کر ریاست کی حدود سے نکلنے میں کامیاب ہوتا تو سفر و غربت اور بے وطنی کی صعوبتیں برداشت کرکے مذہبی یا عصری تعلیم کی کچھ روشنی پاتا جن کی تعداد کائیوں سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔
فقدانِ تعلیم کی اس بدحالی کے ساتھ معاشی زبوں حالی کا یہ عام تھا کہ نوابوں کی گزراوقات رعایا سے ظلماً و صول کیے جانے والے غلہائے عشر پر ہوا کرتی تھی تو عام آدمیوں کی معیشت کا کہنا ہی کیا تھا درہ تریچ میں سب سے زیادہ قطعہ اراضی کے مالک ہونے کے باوجود ہمارے خاندان میں بھی عمومی خوراک جوکی روٹی یا باجرہ کی روٹی ہوا کرتی تھی لیکن اس کے ساتھ ہمارے خاندان پر رب کریم جل جلالہ و عم نوالہ کا خاص کرم یہ تھا کہ ہرن کے گوشت سے ہمارا گھر کبھی خالی نہ ہوتا تھا۔ میرے دادا جان (نام رحیم ولد عبدالکریم) جو اپنے وقت کے خدارسیدہ بزرگ تھے وفاداری، امانتداری، سخاوت، شجاعت اور صدقِ لہجہ میں مشہور تھے جن کی وفا شعاری کو دیکھ کر مہتر چترال نواب میں محمد ناصر الملک رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں امین دربار کے عہدے پر فائز کیا تھا جس کی بدولت ان کے بیٹوں کو شاگروم سے ملحق بالائی شکار گاہوں کی اختیارداری اور ہر جگہ سے شکار کی اجازت کی اجازت تھی۔ میرے تایا شہزادہ رحیم (مرحوم) سرکاری شکار ہونےکی بناء پر پورے چترال میں شکاری کے نام سے ہی مشہور تھے میرے (مرحوم) والد ان سے عمر میں تقریباً تیس سال چھوٹے تھے، گھریلو ذمہ داریوں سے زمینوں کی دیکھ بھال تک جملہ انتظامات کے نگران تھے جبکہ میرے چھوٹے چچا امام رحیم (مرحوم) ان کے نائب و معاون تھے۔ میرے والد محمد رحیم ہرن کے شکار سے لے کر ہر موسم کے پرندوں تک شکار کرنے میں پورے درہ تریچ میں اپنی مثال آپ تھے۔ شانِ قدرت ہے کہ شکار کرکے کھانے اور کھلانے والے اس عظیم شکاری کو اس حوالہ سے وہ شہرت نہ ملی جو ان کے بڑے بھائی شہزادہ رحیم کو ملی۔
علاقائی ماحول اور خاندانی روایات کا شعور پانے کے بعد میں بھی اس راپ پر چلنے لگا جس پر چلتےہوئے اپنے بڑوں کو دیکھا تھا لیکن شکار کے حوالہ سے میرے اور میرے بڑے بھائی جان مولانا شیر محمد مدظلہ العالی کا معاملہ اپنے بزرگوں سے مختلف رہا کیوں کہ ہمارے والد مرحوم و مغفور نور اللہ مرقدہ اپنے بڑےبھائی سے کئی گنا زیادہ فعا اور ہر موسم کے شکار کا بہترین شکاری ہونے کے با وجود اپنے بڑے بھائی جیسی شہرت اس حوالہ سے نہ پاسکے حالاں کہ وہ ہر موسم کے اچھے شکاری تھے چھوتے پرندوں کے شکار کے حوالہ سے میری فنکاری کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی درخت کے نیچے بیٹھ کر گھنٹہ سے دو گھنٹے کے دورانیہ میں پچاس ساٹھ کی تعداد میں پرندے مار گراتا تھا مجھے مواد پہنچانے اورذبح کرنے پر مقرر لڑکوں کو کہنا ہے کہ روزانہ کی یہ تعداد دوسو سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ (صحیح کے متعلق حتمی صور ت مجھے یاد نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)
یہاں پر شاید قارئین کو ان پرندوں سے متعلق تعجب ہوا کہ اس کثرت سے آنے والے وہ کیسے پرندے ہوں گے اور وہ شکار گاہ کیسی ہوگی؟ تو اس کے متعلق یہ ہے کہ ان دنوں میں یعنی آج سے تقریباً نصف صدی قبل ہر قسم شکار کی بہتات ہونے کی طرح گندم اور باجرہ کی فصل جن پکنے کے قریب ہوتی تھی تو اسے کھانے کے لیے پرندوں کی یہ نسل کثیر تعداد میں آیا کرتی تھی۔ جس کو کھوار زبان میں شویچ کہا جاتا ہے جو جسامت میں اندازتاً تین چڑیوں کے برابر ہوتا ہے اور رنگت کے اعتبار سے ان کی دوقسمیں ہوتی ہیں۔ ایک خاکستری سفید، دوسری وہ جس کا سر اور گردن سمیت سینے کا بالائی حصہ سرخ باقی سارا حصہ خاکستری جو خوبصورتی و دلکشی میں اپنی مثال آپ ہیں اور گوشت اس کابہت لذیذ ہوتا ہے۔ دورہ تریچ سمیت چترال کے بالائی حصہ کی تینوں تحصیلوں میں اس کی کثرت کے ساتھ آمد کا موسم ماہ ستمبر ہوا کرتا تھا لیکن دنیا کی ارتقائی زندگی کے دوسرے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں آنے کی طرح ہر موسم کے شکار میں
❤2
بھی کافی حد تک تبدیلیاں آچکی ہیں۔ کیمیائی کھادگی وجہ سے گندم کی پیدا وار زیادہ ہونے کی بناء پر بابرہ کی کاشت ہی ہمارے علاقہ سے ناپید ہوچکی ہے یہ باجرہ بھی خاص نسل کا ہوتا تھا جس کو کھوارزبان میں اڑین کہا جاتا تھا جو آج سے نصف صدی قبل ہماری عمومی خوراک ہوا کرتا تھا اور گندم کی فصل ستمبر میں پکنے کے بجائے ترقی کرکے اگست کے اوائل میں ہی تیار ہوتی ہے جس وجہ سے شویچ کی اس کثرت سے آمد رہی نہ اس کے شکار کا رواج۔ اگر کوئی اِکا دُکا دانہ اڑتا ہوا نظر آتا ہے اسے ماضی کی یادگار تصور کیا جاتا ہے۔ جس درخت کو میں نے شکار گاہ بنایا ہوا تھا وہ شتلک کی درمیانہ سائز کی لمبائی والا درخت تھا جس کی لمبائی اندازتاً ۱۵ سے ۲۰ فٹ تک ہوگی جس کے نیچے اندازتاً آٹھ کنال میں پھیلی ہوئی گندم کی فصل اور بعض سالوں میں اڑین کی فصل ہوا کرتی تھی۔ وہ دلکش و حسین منظر میرے لیے بھولنے کی چیز نہیں ہے جب لیسرک واشیر وسرک شویچ کا روم (سیل) آکر اوپر سے درخت کو ڈھانپتا تھا اور نیچے سے میں شونجور سے انہیں مارگرایا کرتا تھا۔ الغرض اس وقت کو شکار کے حوالہ سےاپنے ماضی کے کن کن حسین جھروکوں کا تصور کرتا بلکہ ایک ایک کے تصور پر کلام اقبال بے ساختہ زبان پر آتا ہے کہ
یاد آتا ہے مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
مذہبی تعلیم نے آنے غیبی اسباب: برادری کی بزرگ ہستی صوفی گل محمد مرحوم کے پاس دوسرے لڑکوں کے ہمراہ قرآن شریف کا ناظرہ سبق پڑھ رہا تھا۔ ایک دن سبق یاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں مار پڑی انہوں نے کہا کہ ‘‘شیر دشمن بتی گوئے تہ کریمتو کتابان برے تان اچاکسیر’’ جس کاترجمہ یہ ہے کہ شیر محمد عالمِ دین بن کر آئے گا تجھ پر کتابیں لاد کر اپنے پیچھے پھیرائے گا۔ مزید وضاحت اس کی یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی صاحب کا نام شیر محمد ہے جس کو لڑکپن میں شیر کہہ کر پکارا جاتا تھا اور وہ مذہبی تعلیم کے لیے مسافرت میں تھا۔
صوفی گل محمد کی اس بات کا مجھ پر اتنا گہر اثر ہوا کہ میں نے بھی مذہبی تعلیم کے لیے مسافرت اختیار کی، عرصہ ایک سال تک انگور کلی علاقہ ورسک چارسدہ میں ترکی حاجی صاحب مرحوم کے مدرسہ میں اپنے بڑے بھائی مولانا شیر محمد اور گاؤں کے اور چند لڑکوں کے ہمراہ مولانا عبدالعزیز چترالی (مرحوم) کے درس میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دوسرے سال میں پشاور شہر میں آکر اس وقت کے دارالعلوم سرحد واقع مسجد غلام جیلانی میں داخلہ لیا تقریباً تین سال تک یہیں پر ابتدائی کتابیں حضرت مولانا مفتی عبداللطیف، حضرت مولانا پائندہ محمد عرف کابل استاذ، حضرت مولانا محمد عمر چکسر استاذ جیسے کہنہ مشق و مشفق اساتذہ سےپڑھی۔ اس دوران کے میرے رفقاء درس میں سے مولانا محمد وزیر سکنہ نشکو چترال (مرحوم)، مولانا کبیر شاہ سکنہ مدک چترال (حیات)، مولانا حاجی ابراہیم سکنہ ورکوپ چترال (حیات)، مجھے یاد ہیں جو ہر اعتبار سے قابل ستائش طلباء تھے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے ان تین سالوں میں دارالعلوم کے تمام طلباء میں نمایاں حیثیت رہی کسی بھی کتاب اور کسی بھی امتحان میں کوئی اور مجھ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے نہیں پایا۔ اس پرمستزادیہ کہ دارالعلوم کے سالانہ جلسہ میں طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے عربی زبان میں جو تقریر کیا کرتا تھا وہ مزید شہرت کا سبب بنی۔ تین سال یہیں پر اوسط درجہ تک کتابیں پڑھنے کے بعد اس وقت کے جامعہ اشرفیہ واقع ہندو متروکہ بلڈنگ نیلا گنبد لاہور چلا گیا لیکن لیٹ پہنچنے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا تو مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں داخلہ لیا اسباق میں تسلی نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ کر اس وقت کے احسن المدارس واقع جامع مسجد الحنفیہ راولپنڈی میں جاکر داخلہ لیا اور مولانا اللہ بخش نور اللہ مرقدہ اور سید عارف اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں چند کتابیں پڑھ کر سالانہ ماہ رمضان کی تعطیلات میں دورہ تفسیر پڑھنے کے لیے وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ حضرت ابو الحقائق مولانا عبدالغفور ہزاروی کے درس تفسیر میں شامل ہوا۔ جس میں (۴۰) شرکاء درس میں سے جن رفقاء کے نام مجھے یاد ہیں، ان میں:
(۱) پیر طریقت رہبر شریعت مولانا علاء الدین صدیقی مالک النور چینل انگلینڈ (حیات)۔
(۲) مولانا عبداللہ شاہ (مرحوم) مہتمم مدرسہ انوار الابرا ملتان۔
(۳) مولانا حافظ فضل احمد حال امریکہ۔
(۴) مولانا شیخ الحدیث نور حسین شیخ الدرس جامعہ مراڑیاں شریف گجرات۔
(۵) مولانا صادق شاہ کشمیری جن کی حیات و ممات کا علم نہیں ہے۔
(۶) پیر طریقت رہبر مولانا عابد حسین شاہ م (مرحوم) جو حضرت جماعت علی شاہ محدث علی پوری نارو وال پنجاب کے سجادہ نشین تھے۔
(۷) مولانا مفتی عبدالشکور جو حضرت ابو الحقائق نور اللہ مرقدہ کے صاحبزادے تھے جواب مرحوم ہوچکے ہیں۔
وزیر آباد کے دورہ تفسیر میں چالیس (۴۰) دن کا دورانیہ کامیابی کے ساتھ گزارنے اور امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد دوسرے سال مولانا غلام رسول رضوی شیخ الحدیث وبانی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے درس میں شامل ہوا اس
یاد آتا ہے مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
مذہبی تعلیم نے آنے غیبی اسباب: برادری کی بزرگ ہستی صوفی گل محمد مرحوم کے پاس دوسرے لڑکوں کے ہمراہ قرآن شریف کا ناظرہ سبق پڑھ رہا تھا۔ ایک دن سبق یاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں مار پڑی انہوں نے کہا کہ ‘‘شیر دشمن بتی گوئے تہ کریمتو کتابان برے تان اچاکسیر’’ جس کاترجمہ یہ ہے کہ شیر محمد عالمِ دین بن کر آئے گا تجھ پر کتابیں لاد کر اپنے پیچھے پھیرائے گا۔ مزید وضاحت اس کی یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی صاحب کا نام شیر محمد ہے جس کو لڑکپن میں شیر کہہ کر پکارا جاتا تھا اور وہ مذہبی تعلیم کے لیے مسافرت میں تھا۔
صوفی گل محمد کی اس بات کا مجھ پر اتنا گہر اثر ہوا کہ میں نے بھی مذہبی تعلیم کے لیے مسافرت اختیار کی، عرصہ ایک سال تک انگور کلی علاقہ ورسک چارسدہ میں ترکی حاجی صاحب مرحوم کے مدرسہ میں اپنے بڑے بھائی مولانا شیر محمد اور گاؤں کے اور چند لڑکوں کے ہمراہ مولانا عبدالعزیز چترالی (مرحوم) کے درس میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دوسرے سال میں پشاور شہر میں آکر اس وقت کے دارالعلوم سرحد واقع مسجد غلام جیلانی میں داخلہ لیا تقریباً تین سال تک یہیں پر ابتدائی کتابیں حضرت مولانا مفتی عبداللطیف، حضرت مولانا پائندہ محمد عرف کابل استاذ، حضرت مولانا محمد عمر چکسر استاذ جیسے کہنہ مشق و مشفق اساتذہ سےپڑھی۔ اس دوران کے میرے رفقاء درس میں سے مولانا محمد وزیر سکنہ نشکو چترال (مرحوم)، مولانا کبیر شاہ سکنہ مدک چترال (حیات)، مولانا حاجی ابراہیم سکنہ ورکوپ چترال (حیات)، مجھے یاد ہیں جو ہر اعتبار سے قابل ستائش طلباء تھے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے ان تین سالوں میں دارالعلوم کے تمام طلباء میں نمایاں حیثیت رہی کسی بھی کتاب اور کسی بھی امتحان میں کوئی اور مجھ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے نہیں پایا۔ اس پرمستزادیہ کہ دارالعلوم کے سالانہ جلسہ میں طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے عربی زبان میں جو تقریر کیا کرتا تھا وہ مزید شہرت کا سبب بنی۔ تین سال یہیں پر اوسط درجہ تک کتابیں پڑھنے کے بعد اس وقت کے جامعہ اشرفیہ واقع ہندو متروکہ بلڈنگ نیلا گنبد لاہور چلا گیا لیکن لیٹ پہنچنے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا تو مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں داخلہ لیا اسباق میں تسلی نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ کر اس وقت کے احسن المدارس واقع جامع مسجد الحنفیہ راولپنڈی میں جاکر داخلہ لیا اور مولانا اللہ بخش نور اللہ مرقدہ اور سید عارف اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں چند کتابیں پڑھ کر سالانہ ماہ رمضان کی تعطیلات میں دورہ تفسیر پڑھنے کے لیے وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ حضرت ابو الحقائق مولانا عبدالغفور ہزاروی کے درس تفسیر میں شامل ہوا۔ جس میں (۴۰) شرکاء درس میں سے جن رفقاء کے نام مجھے یاد ہیں، ان میں:
(۱) پیر طریقت رہبر شریعت مولانا علاء الدین صدیقی مالک النور چینل انگلینڈ (حیات)۔
(۲) مولانا عبداللہ شاہ (مرحوم) مہتمم مدرسہ انوار الابرا ملتان۔
(۳) مولانا حافظ فضل احمد حال امریکہ۔
(۴) مولانا شیخ الحدیث نور حسین شیخ الدرس جامعہ مراڑیاں شریف گجرات۔
(۵) مولانا صادق شاہ کشمیری جن کی حیات و ممات کا علم نہیں ہے۔
(۶) پیر طریقت رہبر مولانا عابد حسین شاہ م (مرحوم) جو حضرت جماعت علی شاہ محدث علی پوری نارو وال پنجاب کے سجادہ نشین تھے۔
(۷) مولانا مفتی عبدالشکور جو حضرت ابو الحقائق نور اللہ مرقدہ کے صاحبزادے تھے جواب مرحوم ہوچکے ہیں۔
وزیر آباد کے دورہ تفسیر میں چالیس (۴۰) دن کا دورانیہ کامیابی کے ساتھ گزارنے اور امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد دوسرے سال مولانا غلام رسول رضوی شیخ الحدیث وبانی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے درس میں شامل ہوا اس
❤2