Forwarded from حسن نوری گونڈوی
مداریہ کے مبلغ ہمارے یوپی سدھارتھ نگر کے خطیب مولانا قیصر رضا
مکن پور شریف کے مولانا حبیب علوی مداری صاحب
جناب ازہر مداری صاحب اور موجودہ مداریوں کے سر کردہ حضرات
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ سرکار مدار پاک ہمارے سر کا تاج ہیں
لہذا آپ اپنے فاسد نظریات چھپانے کے لئے گفتگو کا رخ ہرگز نہ موڑیں
موجودہ مداریہ اور ان کے نظریات اہلسنت سے متصادم ہیں
مداریہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بابت سوء ظن رکھتے ہیں جبکہ آپ سے سوء ظن رفض ہے دیکھیے "شریعت و طریقت از شاہ ابوالحسین نوری میاں علیہ الرحمہ
مداریہ جناب ابوطالب کے متعلق غلو کے قائل ہیں نہ صرف ایمان ابو طالب کا عقیدہ بلکہ عدم ایمان کا قول کرنے والوں پر طعن و تشنیع کرتے ہیں دیکھیے کتب مداریہ
موجودہ مداریہ قطب الاقطاب سیدنا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا قول مبارک قدمی ھذہ علی رقبۃ الخ میں سیدنا بدیع الدین زندہ شاہ مدار علیہ الرحمہ کو شامل مانتے ہیں یا نہیں؟
موجودہ مداریہ مصنف: سیف مدار: اور کتاب سیف مدار کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہیں جبکہ اس کتاب میں سبع سنابل شریف (جو مقبول بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہے) کو غلیظ کتاب لکھا ہے اور سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ کی شان میں انتہائی سنگین گستاخی کی ہے
موجودہ مداریہ کیا دارا شکوہ کو اولیاء کی صف میں شمار کرتے ہیں؟ جبکہ دارا شکوہ کا عقیدہ اسلامی عقائد کے خلاف تھا
جناب قیصر رضا صاحب کی کتاب " تجلیات مداریت کے آخر میں ایک عبارت لکھتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے عرش بنانے کے بعد مدار پاک کے کندھوں پر قدم رکھ کر عرش پر جا بیٹھا (یاد رہے 2011 میں ایک نسخہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا) اسے درمیانی امت نامی کتاب مولانا تطھیر صاحب نے بھی رد کیا ہے
مداریہ ' کہتے ہیں آدم علیہ السلام تو مسجود ملائکہ تھے مگر مدار پاک مسجود خلائق ہیں اور حوالہ اخبار الاخیار کا دیا جبکہ ایسا ہرگز نہیں
مداریہ کہتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ و سلم قبل از نبوت درجہ قطب مدار میں تھے اور حوالہ دیتے ہیں "لطائف اشرفی" جبکہ ایسا اس کتاب میں ہرگز نہیں ہے
مداریہ اپنے عقائد و نظریات کا دفع کریں اور لکھ کر دیں
مکن پور شریف کے مولانا حبیب علوی مداری صاحب
جناب ازہر مداری صاحب اور موجودہ مداریوں کے سر کردہ حضرات
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ سرکار مدار پاک ہمارے سر کا تاج ہیں
لہذا آپ اپنے فاسد نظریات چھپانے کے لئے گفتگو کا رخ ہرگز نہ موڑیں
موجودہ مداریہ اور ان کے نظریات اہلسنت سے متصادم ہیں
مداریہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بابت سوء ظن رکھتے ہیں جبکہ آپ سے سوء ظن رفض ہے دیکھیے "شریعت و طریقت از شاہ ابوالحسین نوری میاں علیہ الرحمہ
مداریہ جناب ابوطالب کے متعلق غلو کے قائل ہیں نہ صرف ایمان ابو طالب کا عقیدہ بلکہ عدم ایمان کا قول کرنے والوں پر طعن و تشنیع کرتے ہیں دیکھیے کتب مداریہ
موجودہ مداریہ قطب الاقطاب سیدنا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا قول مبارک قدمی ھذہ علی رقبۃ الخ میں سیدنا بدیع الدین زندہ شاہ مدار علیہ الرحمہ کو شامل مانتے ہیں یا نہیں؟
موجودہ مداریہ مصنف: سیف مدار: اور کتاب سیف مدار کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہیں جبکہ اس کتاب میں سبع سنابل شریف (جو مقبول بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہے) کو غلیظ کتاب لکھا ہے اور سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ کی شان میں انتہائی سنگین گستاخی کی ہے
موجودہ مداریہ کیا دارا شکوہ کو اولیاء کی صف میں شمار کرتے ہیں؟ جبکہ دارا شکوہ کا عقیدہ اسلامی عقائد کے خلاف تھا
جناب قیصر رضا صاحب کی کتاب " تجلیات مداریت کے آخر میں ایک عبارت لکھتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے عرش بنانے کے بعد مدار پاک کے کندھوں پر قدم رکھ کر عرش پر جا بیٹھا (یاد رہے 2011 میں ایک نسخہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا) اسے درمیانی امت نامی کتاب مولانا تطھیر صاحب نے بھی رد کیا ہے
مداریہ ' کہتے ہیں آدم علیہ السلام تو مسجود ملائکہ تھے مگر مدار پاک مسجود خلائق ہیں اور حوالہ اخبار الاخیار کا دیا جبکہ ایسا ہرگز نہیں
مداریہ کہتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ و سلم قبل از نبوت درجہ قطب مدار میں تھے اور حوالہ دیتے ہیں "لطائف اشرفی" جبکہ ایسا اس کتاب میں ہرگز نہیں ہے
مداریہ اپنے عقائد و نظریات کا دفع کریں اور لکھ کر دیں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 امام احمد رضا خان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
کو اعلی حضرت کا لقب کس نے دیا؟
سوال :
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب اعلی حضرت کیسے پڑا ؟ بعض اشخاص کہتے ہیں کہ وارث پاک عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کے یہاں سے، اور کچھ لوگ کہتے ہیں مخدوم اشرف سمنانی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کے یہاں سے
اب علماء کرام معتبر تاریخ کی روشنی میں تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں
سائل محمد مشکور علی رضوی
https://t.me/islaamic_Knowledge/6285
جواب :
لقب اعلٰی حضرت کی تحقیق :
یہ بات کلی طور پر پایہ تحقیق کو نہیں پہنچ سکی کہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کو پہلی بار کب اور کس نے اعلٰی حضرت کہا
البتہ یہ بات ضرور ثابت ہے کہ انہیں ان کی حیات میں ہی اعلٰی حضرت کہا، اور لکھا جانے لگا تھا، تحفہ حنفیہ پٹنہ کے شماروں سے پتہ چلتا ہے کہ ۳۲۳۱ھ سے آپ کے لئے اعلیٰ حضرت لکھا جانا شروع ہوا 📖 تحفہ حنفیہ جلد⁹ پرچہ نمبر⁴ بابت ماہ ربیع الآخر ۳۲۳۱ھ میں امام احمد رضا خان فاضل بریلوی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کے لئے مجدد مائۃ حاضرہ موئید ملت طاہرہ جامع معقول و منقول، حاوی فروغ و اصول، عالم اہلسنت ، اعلٰی حضرت، اعلم علمائے زماں، مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مد ظلہ رب العالمین وصانہ عن شرور الحاسدین لکھا گیا
فتاوٰی رضویہ کی مختلف جلدوں میں بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے مریدین نے اعلٰی حضرت لکھا ہے ( فتاوٰی رضویہ جلد ششم، رسالہ حجب العوار عن مخدوم بہار میں اعلٰی حضرت کے ساتھ عظیم البرکت بھی لکھا گیا ہے۔
ممکن ہے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ۳۲۳۱ھ ۵۰۹۱ء سے پہلے بھی اعلیٰ حضرت کہا گیا ہو۔ کیونکہ انہیں ۸۱۳۱ھ ۰۰۹۱ء میں پٹنہ کے روندوہ کے اجلاس میں پہلی بار حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء فضلاء کی موجودگی میں مجدد کہا تھا الفاظ اس طرح ہیں جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی ( دبدبہ سکندری رام پور 11 اکتوبر ۸۴۹۱ء صـ⁵ چودہویں صدی کے مجدد از ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری صـ¹¹ )
بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو ۸۸۳۱ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا جاتا ہے تو جل اٹھتے ہیںـ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے۔ جو امر ہے۔ زندہ ہے۔ اور رہتی دنیا تک چودہویں صدی ہجری کے اس مجدد عاشق مصطفٰی اور عبد المصطفٰی کو زمانہ اعلیٰ حضرت کہہ کر یاد کرتا رہے گاـ
محمد امتیاز القادری 8651215859
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کو اعلی حضرت کا لقب کس نے دیا؟
سوال :
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب اعلی حضرت کیسے پڑا ؟ بعض اشخاص کہتے ہیں کہ وارث پاک عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کے یہاں سے، اور کچھ لوگ کہتے ہیں مخدوم اشرف سمنانی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کے یہاں سے
اب علماء کرام معتبر تاریخ کی روشنی میں تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں
سائل محمد مشکور علی رضوی
https://t.me/islaamic_Knowledge/6285
جواب :
لقب اعلٰی حضرت کی تحقیق :
یہ بات کلی طور پر پایہ تحقیق کو نہیں پہنچ سکی کہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کو پہلی بار کب اور کس نے اعلٰی حضرت کہا
البتہ یہ بات ضرور ثابت ہے کہ انہیں ان کی حیات میں ہی اعلٰی حضرت کہا، اور لکھا جانے لگا تھا، تحفہ حنفیہ پٹنہ کے شماروں سے پتہ چلتا ہے کہ ۳۲۳۱ھ سے آپ کے لئے اعلیٰ حضرت لکھا جانا شروع ہوا 📖 تحفہ حنفیہ جلد⁹ پرچہ نمبر⁴ بابت ماہ ربیع الآخر ۳۲۳۱ھ میں امام احمد رضا خان فاضل بریلوی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ کے لئے مجدد مائۃ حاضرہ موئید ملت طاہرہ جامع معقول و منقول، حاوی فروغ و اصول، عالم اہلسنت ، اعلٰی حضرت، اعلم علمائے زماں، مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مد ظلہ رب العالمین وصانہ عن شرور الحاسدین لکھا گیا
فتاوٰی رضویہ کی مختلف جلدوں میں بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے مریدین نے اعلٰی حضرت لکھا ہے ( فتاوٰی رضویہ جلد ششم، رسالہ حجب العوار عن مخدوم بہار میں اعلٰی حضرت کے ساتھ عظیم البرکت بھی لکھا گیا ہے۔
ممکن ہے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ۳۲۳۱ھ ۵۰۹۱ء سے پہلے بھی اعلیٰ حضرت کہا گیا ہو۔ کیونکہ انہیں ۸۱۳۱ھ ۰۰۹۱ء میں پٹنہ کے روندوہ کے اجلاس میں پہلی بار حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء فضلاء کی موجودگی میں مجدد کہا تھا الفاظ اس طرح ہیں جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی ( دبدبہ سکندری رام پور 11 اکتوبر ۸۴۹۱ء صـ⁵ چودہویں صدی کے مجدد از ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری صـ¹¹ )
بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو ۸۸۳۱ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا جاتا ہے تو جل اٹھتے ہیںـ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے۔ جو امر ہے۔ زندہ ہے۔ اور رہتی دنیا تک چودہویں صدی ہجری کے اس مجدد عاشق مصطفٰی اور عبد المصطفٰی کو زمانہ اعلیٰ حضرت کہہ کر یاد کرتا رہے گاـ
محمد امتیاز القادری 8651215859
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 حضرت سیدنا وارث پاک سے
امام اہل سنت فاضل بریلوی کی ملاقات
اور لقب اعلیٰ حضرت، مجدد مائۃ حاضرہ
واللہ میں بھی پہلی بار اس اُلجھن سے نکلا ہوں کہ وہ کون قلندر تھے جس نے امام اہلسنت فاضل بریلوی کو اعلیٰ حضرت کے لقب سے ملقب فرمایا تھا
حضرت سیدنا وارث علی شاہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے پائے کے بزرگ گزرے ہیں، بڑی سادہ زندگی گزاری۔ جب آپ حضور ﷺ کے شہر مدینہ شریف پہنچے تو جُوتی اُتار دی پھر اس موقع کے بعد آپ نے پوری زندگی جُوتی کے بغیر ہی گزاردی ۔
جب اعلیٰ حضرت نے سیدنا وارث علی شاہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ فرمایا، اس وقت آپ کی عمر 25 سال تھی، آپ سید صاحب کی زِیارت کے لیے ’’دیواشریف‘‘ پہنچے۔ اعلیٰ حضرت اور سیدنا وارث پاک کا اس وقت تک آپس میں کوئی تعارف نہیں تھا ، ملاقات کا یہ پہلا موقعہ تھا، سیدنا وارث پاک رونق افروز تھے ، مریدین آپ کی خدمت میں حاضر تھے۔ جب اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی پہنچے تو سید صاحب فوراً سنبھل کر بَیٹھ گئے اور فرمایا : مولانا اعلیٰ حضرت آ گئے
حضرت سیدنا وارث علی شاہ صاحب کے پاس بڑے بڑے علماء کرام آیا کرتے تھے - آپ کسی کو مَولانا نہیں کہتے تھے اور نہ ہی اعلیٰ حضرت کہتے تھے۔ پہلی مرتبہ آپ نے جس کو مَولانا اور اعلیٰ حضرت کہا تو وہ سیدی امام احمد رضا خان ہی ہیں۔
(چہرۂ والضحیٰ از مولانا الہٰی بخش قادری
مطبوعہ انجمن غلامانِ قطبِ مدینہ لاہور ص¹⁰⁵)
دُوسرا لقب وہ ہے جس کو مذہب اسلام کے نمائیندوں نے دینے میں نہ تو کسی طرح کی کوئی عجلت برتی اور نہ ہی کسی طرح کا سیاسی پروپگنڈہ اپنایا
بلکہ حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء و فضلاء کی مَوجودگی میں پٹنہ کے روندہ کے اجلاس میں 1318ھ 1900ء میں آپ کو مجدد مائة حاضرہ فرمایا تھا
الفاظ کُچھ اِس طرح ہیں۔
جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ
حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی
( دبدبہ سکندری رام پور
11 اکتوبر 1948ء ص 5)
( چودہویں صدی کے مجدد = از
ملک العلماء علامہ ظفر الدین ص¹¹
✍️ دانش القادِری مَنظری مُرادآباد
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
امام اہل سنت فاضل بریلوی کی ملاقات
اور لقب اعلیٰ حضرت، مجدد مائۃ حاضرہ
واللہ میں بھی پہلی بار اس اُلجھن سے نکلا ہوں کہ وہ کون قلندر تھے جس نے امام اہلسنت فاضل بریلوی کو اعلیٰ حضرت کے لقب سے ملقب فرمایا تھا
حضرت سیدنا وارث علی شاہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے پائے کے بزرگ گزرے ہیں، بڑی سادہ زندگی گزاری۔ جب آپ حضور ﷺ کے شہر مدینہ شریف پہنچے تو جُوتی اُتار دی پھر اس موقع کے بعد آپ نے پوری زندگی جُوتی کے بغیر ہی گزاردی ۔
جب اعلیٰ حضرت نے سیدنا وارث علی شاہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ فرمایا، اس وقت آپ کی عمر 25 سال تھی، آپ سید صاحب کی زِیارت کے لیے ’’دیواشریف‘‘ پہنچے۔ اعلیٰ حضرت اور سیدنا وارث پاک کا اس وقت تک آپس میں کوئی تعارف نہیں تھا ، ملاقات کا یہ پہلا موقعہ تھا، سیدنا وارث پاک رونق افروز تھے ، مریدین آپ کی خدمت میں حاضر تھے۔ جب اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی پہنچے تو سید صاحب فوراً سنبھل کر بَیٹھ گئے اور فرمایا : مولانا اعلیٰ حضرت آ گئے
حضرت سیدنا وارث علی شاہ صاحب کے پاس بڑے بڑے علماء کرام آیا کرتے تھے - آپ کسی کو مَولانا نہیں کہتے تھے اور نہ ہی اعلیٰ حضرت کہتے تھے۔ پہلی مرتبہ آپ نے جس کو مَولانا اور اعلیٰ حضرت کہا تو وہ سیدی امام احمد رضا خان ہی ہیں۔
(چہرۂ والضحیٰ از مولانا الہٰی بخش قادری
مطبوعہ انجمن غلامانِ قطبِ مدینہ لاہور ص¹⁰⁵)
دُوسرا لقب وہ ہے جس کو مذہب اسلام کے نمائیندوں نے دینے میں نہ تو کسی طرح کی کوئی عجلت برتی اور نہ ہی کسی طرح کا سیاسی پروپگنڈہ اپنایا
بلکہ حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء و فضلاء کی مَوجودگی میں پٹنہ کے روندہ کے اجلاس میں 1318ھ 1900ء میں آپ کو مجدد مائة حاضرہ فرمایا تھا
الفاظ کُچھ اِس طرح ہیں۔
جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ
حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی
( دبدبہ سکندری رام پور
11 اکتوبر 1948ء ص 5)
( چودہویں صدی کے مجدد = از
ملک العلماء علامہ ظفر الدین ص¹¹
✍️ دانش القادِری مَنظری مُرادآباد
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وارثیہ سلسلہ میں
مرید ہونا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت اس مسئلہ میں کہ سلسلہ وارثیہ میں مرید ہو سکتے ہیں یا نہیںـ کچھ لوگ سلسلہ وارثیہ سے مرید کرتے ہیں اور وہ لوگ نماز بالکل بھی نہیں پڑھتے اور اگر ان سے کوئی کہے نماز پڑھنے کو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم عشق والے ہیں شریعت والے نہیں نیز جو حضرات سلسلہ وارثیہ سے مرید کرتے ہیں ان کے گھروں پر حضرت وارث پاک رحمت اللہ علیہ کی تصویر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور وہ صبح و شام تصویر پر اگربتی جلاتے ہیں
سائل محمد راشد کالپی شریف
الجواب بعون الملك الوھاب :
(١) سلسلہ وارثیہ میں مرید ہونے سے علماء اہلسنت و جماعت نے منع فرمایا ہے، جیسا کہ فتاویٰ شارح بخاری میں مرقوم ہے :
حضور وارث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے کسی کو خلافت نہیں دی لہذا اس سلسلہ میں مرید ہونا صحیح نہیں ہے -
فتاوی شارح بخاری جلد دوم
کتاب العقائد صفحہ نمبر ٢٤٤
(٢) نیز جو شریعت مطہرہ کا انکار، اور نماز کو معمولی سمجھنا دونوں کفر ہے اور اگر پہلے ایسا نہیں تھا مرید ہونے کے بعد ایسا بکنے لگا تو مرتد ہو گیا، جس کی تصریح اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں فرمائی ہے :
شریعت سے نفرت دلانا
شریعت کو راہ خدا نہ ماننا
بالجملہ زید (یعنی ایسا بکنے والا) ان
کافروں میں ہے جن کو فرمایاگیا ہے :
من شک فی عذاب وکفرہ فقد کفر ‼
ترجمہ : جو اس کے کافر ہونے میں
شک کرے خود کافر ہے !
درمختار، باب المرتد
مطبع مجتبائی دہلی، ۱/ ۳۵۶
اب ایسے لوگوں کے لیے کیا احکام شرع ہیں اس کو یوں مفصلاً آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :
سلطنت اسلام ہوتی تو اس کی تعزیز یہ تھی کہ بادشاہ اسلام اسے قتل کرتا، اس کا اختیار غیر سلطان کو یہاں نہیں۔ مسلمانوں کو اس سے میل جول حرام، اس سے سلام کلام حرام، اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کا وعظ سننا حرام، وہ بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام، مرجائے تو غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، جنازہ اٹھانا حرام، جنازہ کے ساتھ چلنا حرام، اس پر نماز حرام، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام، اسے مسلمانوں کی طرح دفن کرنا حرام، اس کے لئے دعا ئے بخشش کرنا حرام، اسے کچھ ثواب پہنچانا حرام، اسکی قبر پر جانا حرام، جو ان باتوں میں سے کوئی بات اسے مسلمان جان کر کرے گا یا اس کی موت کے بعد اس کے لئے دعائے بخشش کرے گا یا اسے ثواب پہنچائے گا اگر چہ اسے کافر جان کر وہ خود کافر ہوجائے گا
فتاویٰ رضویہ ،کتاب السیر ج¹⁵ ص²⁷⁷
(٣) گھر میں تصویر لٹکانا شرع مطہر میں ناجائز و حرام اور اس کے اگربتی وغیرہ جلانا تو أشد حرام ہے کیونکہ یہ مشابہت کفار ہے، جیسا کہ علامہ شارح بخاری امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :
تصویر سامنے رکھ کر ورد وظائف کرنا (اگربتی سلگانا) اشد حرام ہے کسی بھی جاندار کی تصویر کا رکھنا ہی حرام ہے اگر چہ وہ بزرگ ہوں اور تصویر سامنے رکھ کر ورد وظائف کرنا بت پرستی کے مشابہ ہے
فتاوی شارح بخاری جلد² صفحہ²⁴⁵
هذا ما ظهر لي و الله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب
محمد امتیاز القادری 7634094126
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مرید ہونا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت اس مسئلہ میں کہ سلسلہ وارثیہ میں مرید ہو سکتے ہیں یا نہیںـ کچھ لوگ سلسلہ وارثیہ سے مرید کرتے ہیں اور وہ لوگ نماز بالکل بھی نہیں پڑھتے اور اگر ان سے کوئی کہے نماز پڑھنے کو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم عشق والے ہیں شریعت والے نہیں نیز جو حضرات سلسلہ وارثیہ سے مرید کرتے ہیں ان کے گھروں پر حضرت وارث پاک رحمت اللہ علیہ کی تصویر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور وہ صبح و شام تصویر پر اگربتی جلاتے ہیں
سائل محمد راشد کالپی شریف
الجواب بعون الملك الوھاب :
(١) سلسلہ وارثیہ میں مرید ہونے سے علماء اہلسنت و جماعت نے منع فرمایا ہے، جیسا کہ فتاویٰ شارح بخاری میں مرقوم ہے :
حضور وارث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے کسی کو خلافت نہیں دی لہذا اس سلسلہ میں مرید ہونا صحیح نہیں ہے -
فتاوی شارح بخاری جلد دوم
کتاب العقائد صفحہ نمبر ٢٤٤
(٢) نیز جو شریعت مطہرہ کا انکار، اور نماز کو معمولی سمجھنا دونوں کفر ہے اور اگر پہلے ایسا نہیں تھا مرید ہونے کے بعد ایسا بکنے لگا تو مرتد ہو گیا، جس کی تصریح اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں فرمائی ہے :
شریعت سے نفرت دلانا
شریعت کو راہ خدا نہ ماننا
بالجملہ زید (یعنی ایسا بکنے والا) ان
کافروں میں ہے جن کو فرمایاگیا ہے :
من شک فی عذاب وکفرہ فقد کفر ‼
ترجمہ : جو اس کے کافر ہونے میں
شک کرے خود کافر ہے !
درمختار، باب المرتد
مطبع مجتبائی دہلی، ۱/ ۳۵۶
اب ایسے لوگوں کے لیے کیا احکام شرع ہیں اس کو یوں مفصلاً آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :
سلطنت اسلام ہوتی تو اس کی تعزیز یہ تھی کہ بادشاہ اسلام اسے قتل کرتا، اس کا اختیار غیر سلطان کو یہاں نہیں۔ مسلمانوں کو اس سے میل جول حرام، اس سے سلام کلام حرام، اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کا وعظ سننا حرام، وہ بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام، مرجائے تو غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، جنازہ اٹھانا حرام، جنازہ کے ساتھ چلنا حرام، اس پر نماز حرام، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام، اسے مسلمانوں کی طرح دفن کرنا حرام، اس کے لئے دعا ئے بخشش کرنا حرام، اسے کچھ ثواب پہنچانا حرام، اسکی قبر پر جانا حرام، جو ان باتوں میں سے کوئی بات اسے مسلمان جان کر کرے گا یا اس کی موت کے بعد اس کے لئے دعائے بخشش کرے گا یا اسے ثواب پہنچائے گا اگر چہ اسے کافر جان کر وہ خود کافر ہوجائے گا
فتاویٰ رضویہ ،کتاب السیر ج¹⁵ ص²⁷⁷
(٣) گھر میں تصویر لٹکانا شرع مطہر میں ناجائز و حرام اور اس کے اگربتی وغیرہ جلانا تو أشد حرام ہے کیونکہ یہ مشابہت کفار ہے، جیسا کہ علامہ شارح بخاری امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :
تصویر سامنے رکھ کر ورد وظائف کرنا (اگربتی سلگانا) اشد حرام ہے کسی بھی جاندار کی تصویر کا رکھنا ہی حرام ہے اگر چہ وہ بزرگ ہوں اور تصویر سامنے رکھ کر ورد وظائف کرنا بت پرستی کے مشابہ ہے
فتاوی شارح بخاری جلد² صفحہ²⁴⁵
هذا ما ظهر لي و الله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب
محمد امتیاز القادری 7634094126
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
Ajmal Khan:
محترم علمائے اہلسنت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
سلسلۂ وارثیہ میں بیعت ہونا کیسا ہے ؟
کُچھ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ منسوخ ہے‼ حضرت وارث پاک علیہ الرحمہ نے کسی کو خلافت ہی نہیں دیا ہے ‼ رہنمائی فرمائیں ‼ کرم ہوگا ‼
المستفتی : اجمل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " مشہور یہ ہے کہ حضرت حاجی وارث شاہ علیہ الرحمہ نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا اگر یہ صحیح ہے تو سلسلہ وارثیہ میں بیعت ہونا درست نہیں اور ان کےمزار پاک کی چادر پکڑا کر بیعت کرنا غلط ہے اگر یہ صحیح ہوتا تو محبوب سبحانی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی اور خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رضی اللہ تعالی عنہما کی چادریں پکڑ کر لوگ براہ راست ان سے مرید ہو جاتے اور ان کے خلفاء سے مرید نہ ہوتے " اھ ( فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 412 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
محترم علمائے اہلسنت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع
متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
سلسلۂ وارثیہ میں بیعت ہونا کیسا ہے ؟
کُچھ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ منسوخ ہے‼ حضرت وارث پاک علیہ الرحمہ نے کسی کو خلافت ہی نہیں دیا ہے ‼ رہنمائی فرمائیں ‼ کرم ہوگا ‼
المستفتی : اجمل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " مشہور یہ ہے کہ حضرت حاجی وارث شاہ علیہ الرحمہ نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا اگر یہ صحیح ہے تو سلسلہ وارثیہ میں بیعت ہونا درست نہیں اور ان کےمزار پاک کی چادر پکڑا کر بیعت کرنا غلط ہے اگر یہ صحیح ہوتا تو محبوب سبحانی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی اور خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رضی اللہ تعالی عنہما کی چادریں پکڑ کر لوگ براہ راست ان سے مرید ہو جاتے اور ان کے خلفاء سے مرید نہ ہوتے " اھ ( فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص 412 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت زندہ شاہ مدار عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
نے کسی کو خلافت نہیں دیا تھا !
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
سبع سنابل شریف صفحہ¹¹²-¹¹⁵
✍ سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی
مترجم📝مفتی خلیل خان برکاتی
عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ 📇 فرید بک سٹال
نے کسی کو خلافت نہیں دیا تھا !
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
سبع سنابل شریف صفحہ¹¹²-¹¹⁵
✍ سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی
مترجم📝مفتی خلیل خان برکاتی
عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ 📇 فرید بک سٹال
سلسلۂ_مداریہ_وَ_وارثیہ_منسوخ_ہیں.pdf
109.1 KB
سلسلۂ مداریہ وَ وارثیہ منسوخ ہیں
@islaamic_Knowledge
حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جِـ² صـ⁴¹²
✍مفتی جلال الدین احمد امجدی
@islaamic_Knowledge
حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جِـ² صـ⁴¹²
✍مفتی جلال الدین احمد امجدی
سلسلۂ_وارثیہ_و_مداریہ_منسوخ_ہیں.pdf
1020 KB
سلسلۂ وارثیہ وَ مداریہ منسوخ ہیں
@islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری 📖 ج² ص²⁴⁴
✍ مفتی شریف الحق امجدی
@islaamic_Knowledge
فتاویٰ شارح بخاری 📖 ج² ص²⁴⁴
✍ مفتی شریف الحق امجدی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *وصال پرملال*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہےکہ امانت اعلیحضرت پیرطریقت خلیفہ حضورمفتئ اعظم ہندحضرت مولاناقاری محمد امانت رسول صاحب قادری برکاتی رضوی پیلی بھیتی کی 108سالہ والدہ ماجدہ حجن صاحبہ کا آج بتاریخ 17/ شعبان المعظم مطابق12/اپریل کو وصال پرملال ہوگیا۔
*انا للہ وانا الیہ راجعون*
تمام احباب سے گذارش ہے کہ حجن صاحبہ مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں۔
شریک غم:
عاشق رضاامانتی المدنی
داماد خلیفہ حضور مفتئ اعظم ہند
7860031981
بڑے افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہےکہ امانت اعلیحضرت پیرطریقت خلیفہ حضورمفتئ اعظم ہندحضرت مولاناقاری محمد امانت رسول صاحب قادری برکاتی رضوی پیلی بھیتی کی 108سالہ والدہ ماجدہ حجن صاحبہ کا آج بتاریخ 17/ شعبان المعظم مطابق12/اپریل کو وصال پرملال ہوگیا۔
*انا للہ وانا الیہ راجعون*
تمام احباب سے گذارش ہے کہ حجن صاحبہ مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں۔
شریک غم:
عاشق رضاامانتی المدنی
داماد خلیفہ حضور مفتئ اعظم ہند
7860031981
😢1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📰 ٹیلی گرام اردو میں چلائیں 📰
https://t.me/setlanguage/urduindia
ٹیلی گرام کو اردو میں کرنے کیلئے اس 👆 لنک پہ کلک کیجئے! اس کے بعد change پہ کلک کیجئے! بس دیکھئے ٹیلی گرام اردو میں
https://t.me/setlanguage/urduindia
ٹیلی گرام کو اردو میں کرنے کیلئے اس 👆 لنک پہ کلک کیجئے! اس کے بعد change پہ کلک کیجئے! بس دیکھئے ٹیلی گرام اردو میں
Telegram
Change Language: Urdu
Opening this link will translate the interface of Telegram to a different language. You can change the language back in Settings.