بہاءالدین محمد بن جلال الدین رومی معروف بہ سلطان ولد رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: بہاء الدین محمد ۔ لقب: سلطان ولد ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا بہاءالدین محمد بن مولائے روم مولانا محمد جلال الدین رومی بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔
آپ مولائے روم حضرت مولانا محمد جلال الدین رومی کے فرزندِ اکبر اور دوسرے جانشین تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 25 ربیع الآخر 623ھ / مطابق ماہ اپریل 1226ء کو " لارندہ " میں ہوئی، جسے اب " قرامان " کہتے ہیں ۔
قرامان یہ قونیہ شریف سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع ترکی کا ایک مرکزی شہر ہے ۔
تحصیل علم:
ابتدا ہی سے دانائے امت مولانا جلال الدین رومی ان پر خاص لطف و عنایت روا رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے بارہا اس توجہ اور مہربانی کا ذکر فرماتے تھے ۔
مولانا نے خود انہیں برہان الدین ابو بکر مرغینانی کی کتاب ہدایہ پڑھائی تھی اور جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گئے تو بہاء الدین اور ان کے بھائی علاء الدین کو انہوں نے حلب اور دمشق بھیج دیا ۔
شام سے واپسی کے بعد بہاء الدین نے اپنے والد مولانا روم، برہان الدین محقق ترمذی، حضرت شمس تبریزی، صلاح الدین فریدون زرکوب اور حسام الدین چلپی سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
مولانا سلطان ولد نے اپنے والد گرامی حضرت مولائے روم دانائے امت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ سے ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل کی، اور ان کے بعد ان کے سلسلہ مولویہ کے منتظم و جانشین قرار پائے ۔ اسی طرح حضرت شمس تبریزی، اور مولانا حسام الدین چلپی سے بھی روحانی استفادہ فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاجل، عالم اکمل، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، نائبِ دانائے امت مولائے روم، بہاءالدین محمد المعروف سلطان ولد رومی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت مولائے روم کے پرتو جمیل، اور جانشینِ صادق تھے ۔ علم و عمل، ذہانت و فطانت، اور شکل و شباہت میں ثانیِ مولائے روم حضرت جلال الدین رومی تھے ۔ ان کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی تربیت و اشاعت کی ذمہ دای آپ پر آئی، اور آپ نے اس کو بطریق احسن نبھایا ۔
یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ مولانا نے اپنی وفات کے بعد اپنے مرید و خلیفہ خاص مولانا حسام الدین چلپی علیہ الرحمہ کو اپنا نائب و جانشین منتخب کیا تھا ۔ جو گیارہ سال تک مولانا روم کے وصال کے بعد ان کے جانشین، اور علمی و روحانی امانتوں کے وارث رہے ۔
اس وقت مولانا روم کے صاحبزادے سلطان ولد بھی موجود تھے، اور تمام کمالات کے جامع تھے ۔ لیکن ان کا مقام مولانا چلپی سے کم تھا ۔ اس لئے ان کو منتخب کیا گیا، اور سلطان ولد علیہ الرحمہ گیارہ سال تک ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کے حکم کی تعمیل فرماتے رہے ۔ (فی زمانہ اس کی مثال ہمیں نظر نہیں آئی، پیر صاحب کے وصال کے بعد ہر حال میں ان کا صاحبزادہ ہی جانشین ہوگا، چاہے وہ بالکل صفر ہی کیوں نہ ہو، اور پیر صاحب کے مریدوں میں چاہے کوئی کتنا ہی صاحب کمال کیوں نہ ہو، وہ ان کی گدی کا وارث نہیں بن سکتا ہے ۔
اس موروثی سلسلے نے ہمارے خانقاہی نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور پھر جہالت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ اور اب مدارس میں بھی یہی موروثی سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے مدارس کی حالت ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہی رہے ۔ الا ماشاء اللہ) ۔
مولانا بہاءالدین کا اپنے والد کے ساتھ بڑا قریبی تعلق تھا اور اپنے بھائی کے بر خلاف، کہ جنہیں صوفیانہ طریقِ زندگی اور سلوک سے چنداں علاقہ نہیں تھا، وہ ہمیشہ مولانا کی پیروی کرتے تھے، ان کے دوستوں اور مریدوں کے بیچ حاضر ہوتے اور ان کی روش و منش کو اپنے لیے نمونہ قرار دیتے تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا اپنے مریدوں اور اقرباء میں سے صلاح الدین زرکوب، حسام الدین چلبی اور بہاء الدین محمد کو اپنے نزدیک ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے ۔ بہاءالدین صوفیوں کی اکثر محفلوں میں اپنے والد کے ہمراہ حاضر ہوتے تھے اور ان کی اپنے والد سے اتنی شباہتِ ظاہری تھی کہ اغلب انہیں مولانا کا بھائی سمجھا جاتا تھا ۔ شکل وشباہت میں اپنے والد کے مشابہ تھے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: بہاء الدین محمد ۔ لقب: سلطان ولد ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا بہاءالدین محمد بن مولائے روم مولانا محمد جلال الدین رومی بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔
آپ مولائے روم حضرت مولانا محمد جلال الدین رومی کے فرزندِ اکبر اور دوسرے جانشین تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 25 ربیع الآخر 623ھ / مطابق ماہ اپریل 1226ء کو " لارندہ " میں ہوئی، جسے اب " قرامان " کہتے ہیں ۔
قرامان یہ قونیہ شریف سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع ترکی کا ایک مرکزی شہر ہے ۔
تحصیل علم:
ابتدا ہی سے دانائے امت مولانا جلال الدین رومی ان پر خاص لطف و عنایت روا رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے بارہا اس توجہ اور مہربانی کا ذکر فرماتے تھے ۔
مولانا نے خود انہیں برہان الدین ابو بکر مرغینانی کی کتاب ہدایہ پڑھائی تھی اور جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گئے تو بہاء الدین اور ان کے بھائی علاء الدین کو انہوں نے حلب اور دمشق بھیج دیا ۔
شام سے واپسی کے بعد بہاء الدین نے اپنے والد مولانا روم، برہان الدین محقق ترمذی، حضرت شمس تبریزی، صلاح الدین فریدون زرکوب اور حسام الدین چلپی سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔
بیعت و خلافت:
مولانا سلطان ولد نے اپنے والد گرامی حضرت مولائے روم دانائے امت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ سے ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل کی، اور ان کے بعد ان کے سلسلہ مولویہ کے منتظم و جانشین قرار پائے ۔ اسی طرح حضرت شمس تبریزی، اور مولانا حسام الدین چلپی سے بھی روحانی استفادہ فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاجل، عالم اکمل، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، نائبِ دانائے امت مولائے روم، بہاءالدین محمد المعروف سلطان ولد رومی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت مولائے روم کے پرتو جمیل، اور جانشینِ صادق تھے ۔ علم و عمل، ذہانت و فطانت، اور شکل و شباہت میں ثانیِ مولائے روم حضرت جلال الدین رومی تھے ۔ ان کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی تربیت و اشاعت کی ذمہ دای آپ پر آئی، اور آپ نے اس کو بطریق احسن نبھایا ۔
یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ مولانا نے اپنی وفات کے بعد اپنے مرید و خلیفہ خاص مولانا حسام الدین چلپی علیہ الرحمہ کو اپنا نائب و جانشین منتخب کیا تھا ۔ جو گیارہ سال تک مولانا روم کے وصال کے بعد ان کے جانشین، اور علمی و روحانی امانتوں کے وارث رہے ۔
اس وقت مولانا روم کے صاحبزادے سلطان ولد بھی موجود تھے، اور تمام کمالات کے جامع تھے ۔ لیکن ان کا مقام مولانا چلپی سے کم تھا ۔ اس لئے ان کو منتخب کیا گیا، اور سلطان ولد علیہ الرحمہ گیارہ سال تک ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کے حکم کی تعمیل فرماتے رہے ۔ (فی زمانہ اس کی مثال ہمیں نظر نہیں آئی، پیر صاحب کے وصال کے بعد ہر حال میں ان کا صاحبزادہ ہی جانشین ہوگا، چاہے وہ بالکل صفر ہی کیوں نہ ہو، اور پیر صاحب کے مریدوں میں چاہے کوئی کتنا ہی صاحب کمال کیوں نہ ہو، وہ ان کی گدی کا وارث نہیں بن سکتا ہے ۔
اس موروثی سلسلے نے ہمارے خانقاہی نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور پھر جہالت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ اور اب مدارس میں بھی یہی موروثی سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے مدارس کی حالت ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہی رہے ۔ الا ماشاء اللہ) ۔
مولانا بہاءالدین کا اپنے والد کے ساتھ بڑا قریبی تعلق تھا اور اپنے بھائی کے بر خلاف، کہ جنہیں صوفیانہ طریقِ زندگی اور سلوک سے چنداں علاقہ نہیں تھا، وہ ہمیشہ مولانا کی پیروی کرتے تھے، ان کے دوستوں اور مریدوں کے بیچ حاضر ہوتے اور ان کی روش و منش کو اپنے لیے نمونہ قرار دیتے تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا اپنے مریدوں اور اقرباء میں سے صلاح الدین زرکوب، حسام الدین چلبی اور بہاء الدین محمد کو اپنے نزدیک ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے ۔ بہاءالدین صوفیوں کی اکثر محفلوں میں اپنے والد کے ہمراہ حاضر ہوتے تھے اور ان کی اپنے والد سے اتنی شباہتِ ظاہری تھی کہ اغلب انہیں مولانا کا بھائی سمجھا جاتا تھا ۔ شکل وشباہت میں اپنے والد کے مشابہ تھے ۔
❤1
مولانا حسام الدین چلپی کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی از سر تشکیل نو اور شکل گیری کا آغاز مولانا سلطان ولد کی خلافت ہی میں ہوا تھا ۔ انہوں نے اپنے والد کے مریدوں کو اپنے گرد جمع کیا اور اس طریقے کے امور کو نظم بخشا اور مریدوں کی مدد سے قونیہ میں واقع مولانا کے مزار پر قبہ بنوایا جس نے اس شہر کو مرکزیت بخش دی ۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی تیس سالہ پیشوائی کے دور میں مولویہ طریقے کے آداب وضع کیے اور مختلف شہروں میں مولویہ خانقاہیں قائم کروا کر اور اپنے نائبوں اور نمائندوں کو بھیج کر مولویہ طریقے کی ترویج کی کوشش کی ۔
سلطان ولد اپنے والد کے پہلے سوانح نگار اور ان کے افکار و اشعار کے پہلے مفسر تھے ۔ انہوں نے سپہ سالار اور افلاکی سے قبل مولانا کی زندگی اور مولویہ سلسلے کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کیا اور ان کی کتابیں مولانا رومی کے بارے میں قابلِ اعتماد ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں ۔ چند محققوں کے مطابق وہ اولین شخص تھے جنہوں نے مولانا رومی کے خطبوں اور مجالس کو جمع کرنا شروع کیا تھا ۔ نیز کچھ لوگوں کے مطابق مقالاتِ شمس کا قدیم ترین نسخہ بھی سلطان ولد کے ہاتھوں سے لکھا گیا ہے ۔
اسی طرح مولانا سلطان ولد علیہ الرحمہ ایک زبردست محقق، فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، اور ادیب و شاعر تھے، ان کی شاعری میں حضرت مولائے روم کی جھلک پائی جاتی تھی ۔ آپ پہلے شاعر ہیں جنہوں نےترکی شاعری کو فارسی اوزان و قواعد میں بیان کیا ۔ ترکی کی مقامی اور قومی زبان کی وجہ سے ان کی شاعری کو بہت اہمیت حاصل ہوئی ۔ اسی بناء پر آپ کو عثمانی ملت کا قومی شاعر، اور اس طرز ادب کا بانی کہا ہے ۔
آپ کا دیوان تیرہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے علاوہ مثنوی ولد نامہ یا ابیات نامہ یہ دس ہزار ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان کی شاعری عربی، فارسی، ترکی، یونانی زبانوں پر محیط ہے ۔ لیکن ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جو ان کے والد گرامی مولائے روم کے حصے میں آیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی نظم و نثر میں ان بہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 رجب المرجب 712ھ / مطابق اول ماہ نومبر 1312ء کو ہوا ۔ اپنے والد کے قرب " قونیہ شریف " ترکی میں محو استراحت ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی معنوی ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-walad-bin-molana-room
اس کے بعد انہوں نے اپنی تیس سالہ پیشوائی کے دور میں مولویہ طریقے کے آداب وضع کیے اور مختلف شہروں میں مولویہ خانقاہیں قائم کروا کر اور اپنے نائبوں اور نمائندوں کو بھیج کر مولویہ طریقے کی ترویج کی کوشش کی ۔
سلطان ولد اپنے والد کے پہلے سوانح نگار اور ان کے افکار و اشعار کے پہلے مفسر تھے ۔ انہوں نے سپہ سالار اور افلاکی سے قبل مولانا کی زندگی اور مولویہ سلسلے کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کیا اور ان کی کتابیں مولانا رومی کے بارے میں قابلِ اعتماد ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں ۔ چند محققوں کے مطابق وہ اولین شخص تھے جنہوں نے مولانا رومی کے خطبوں اور مجالس کو جمع کرنا شروع کیا تھا ۔ نیز کچھ لوگوں کے مطابق مقالاتِ شمس کا قدیم ترین نسخہ بھی سلطان ولد کے ہاتھوں سے لکھا گیا ہے ۔
اسی طرح مولانا سلطان ولد علیہ الرحمہ ایک زبردست محقق، فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، اور ادیب و شاعر تھے، ان کی شاعری میں حضرت مولائے روم کی جھلک پائی جاتی تھی ۔ آپ پہلے شاعر ہیں جنہوں نےترکی شاعری کو فارسی اوزان و قواعد میں بیان کیا ۔ ترکی کی مقامی اور قومی زبان کی وجہ سے ان کی شاعری کو بہت اہمیت حاصل ہوئی ۔ اسی بناء پر آپ کو عثمانی ملت کا قومی شاعر، اور اس طرز ادب کا بانی کہا ہے ۔
آپ کا دیوان تیرہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے علاوہ مثنوی ولد نامہ یا ابیات نامہ یہ دس ہزار ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان کی شاعری عربی، فارسی، ترکی، یونانی زبانوں پر محیط ہے ۔ لیکن ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جو ان کے والد گرامی مولائے روم کے حصے میں آیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی نظم و نثر میں ان بہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 رجب المرجب 712ھ / مطابق اول ماہ نومبر 1312ء کو ہوا ۔ اپنے والد کے قرب " قونیہ شریف " ترکی میں محو استراحت ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی معنوی ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-walad-bin-molana-room
❤1
حضرت شیخ حمزہ دہرسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے، اور آپ کا سلسلہ میر سید محمد گیسودراز تک پہنچتا ہے۔ آپ بڑے بابرکت، صاحبِ نعمت و کرامت اور دائم العبادت بزرگ تھے، اوقات کے بہت پابند تھے، آپ کی عمر بھی بہت طویل تھی، سلطان بہلول کے زمانہ سے اسلام شاہ کے دَور سلطنت تک زندہ رہے، اوائل عمر میں آپ نے کسی سلطان کے ہاں ملازمت بھی کی تھی، کہتے ہیں کہ ایک رات اس کے محل کی آپ نگرانی کررہے تھے کہ اچانک آپ کے دل میں خیال آیا کہ مجھے اس کا کام کرنا چاہیے جو میری حفاظت کرتا ہونہ اس کا جس کی میں حفاظت کروں، اس خیال کے آنے کے بعد آپ خواجہ معین الدین کے پاس اجمیر چلے گئے اور وہاں جاتے ہی ایک دیوانے سے ملاقات ہوگئی جس کا نام بھی معین الدین ہی تھا چنانچہ آپ نے انہی سے فیض حاصل کیا اور علاوہ ازیں شیخ احمد مجدی کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوئے تھے اور اس کے بعد اجمیر سے اپنے وطن دھرسو واپس تشریف لائے جو نارنول سے صرف تین میل کے فاصلہ پرواقع ہے اورپھر مستقل وہیں رہنے لگے، آپ کے والد محترم اور دیگر رشتہ دار نرھر میں رہتے تھے لیکن آپ دھر سو میں اس لیے مقیم ہوئے کہ یہاں کے اکثر سادات عملاً ٹھیک نہ رہے تھے اور اپنے اسلاف کی وضع قطع سے کوسوں دور جاپڑے تھے، آپ ان کی تربیت کرنے کی غرض سے یہاں گئے، چنانچہ آپ نے انھیں ابتداً علم سے روشناس کرانے کے لیے عربی اورفارسی زبان کے دو استادوں کا تقرر کیا، طالب علموں اور فقیروں سے محبت کیا کرتے تھے اور غیب سے اللہ تعالیٰ آپ کے تمام تر اخراجات پورے فرما دیا کرتے تھے چنانچہ آپ کو جتنا کچھ غیب سے ملتا تھا وہ تمام ہی خرچ فرمادیا کرتے تھے اس میں سے کچھ بچایا نہ کرتے تھے اپنے اہل و عیال کو بھی اس میں سے بقدر حصہ دیتے تھے، آپ نے جس دن سے خلوت نشینی اختیار کی اس دن کے بعد نہ خود اور نہ ہی کسی اپنے خادم کو کسی اہل دنیا کی طرف بھیجا۔
آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ ہمیشہ جمعہ کی نماز کے لیے دھر سو سے نار نول آتے، راستے میں لکڑیوں کو جمع کرتے چلے آتے اور جہاں کوئی فقیر مل جاتا تو ان میں سے کچھ لکڑیاں اس کو دے دیا کرتے تھے۔
دُنیا آگ ہے:
آپ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا آگ کی مانند ہے، اس آگ کو اتنا لیا جائے کہ جس کے ذریعہ کچھ پکار کرسکیں اور سردیوں میں گرم رہیں، یہ آگ جب زیادہ ہوجاتی ہے تو جلا کر راکھ کردیتی ہے، آپ کا ایک مرید کہا کرتا تھا کہ آپ نے ایک دن مجھے ایک ریگستان کی جانب بھیجا چنانچہ میں آپ کے ارشاد کے مطابق وہاں چلاگیا مگر ریگزاروں میں تو کوئی چیز کھانے اور پینے کی ہوا نہیں کرتی اس لیے میں بھوک اور پیاس سے سخت پریشان ہوگیا، میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا کہ پیر اپنے مریدوں کو وہاں بھیجا کرتے ہیں جہاں پانی کے بجائے دودھ ملا کرتا ہے، اور ایک میرر مُرشِد ہیں کہ جنھوں نے مجھے ایسی جگہ بھیجا ہے جہاں پانی تک میسر نہیں، اسی دَوران بہت دُور ایک گڈریا نظر آیا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا، میں نے اُس کے پاس پہنچ کر کہا کہ تم اپنی مشک سے چند قطرے پانی کے میرے منہ میں ٹپکا دو میں پیاس سے مر رہا ہوں، اس نے کہا کہ اس میں پانی نہیں، بلکہ دودھ ہے اور تھوڑا سا دودھ مجھے دیدیا، اس کے بعد میں آگے روانہ ہوا اور پیاس نے مجھے پھر بےتاب کردیا، چنانچہ اس ریگزار میں اچانک میری نظر ایک نشیبی مقام پر پڑی جہاں میٹھے اور ٹھنڈ سے پانی کا ایک چشمہ تھا، اس سے میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اس کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا مجھے ازسرنو زندگی مل گئی ہے آپ کی وفات 957ھ میں ہوئی، 25؍ ربیع الثانی کو مغرب کی دورکعت پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ رحمۃ اللہ علیہ
اخبار الاخیار
حضرت شیخ حمزہ دھرسوی(رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت شیخ حمزہ صاحب کرامت بزرگ تھے۔
خاندانی حالات:
آپ حضرت شیخ بہاءالدین زکریاملتانی رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسے ہیں۔آپ کاسلسلہ نسب حضرت سید محمدگیسودرازرحمتہ اللہ علیہ سےملتاہے،آپ کےوالدین نرہرمیں تھے۔
ملازمت:
آپ شاہی لشکرمیں ملازم تھے۔
کایاپلٹ:
ایک رات کاواقعہ ہےکہ آپ شاہی محل کاپہرہ دےرہےتھے۔یکایک آپ کے دل میں خیال آیاکہ "کسی ایسے شخص کی خدمت کرنی چاہیے،جومیری حفاظت کرےنہ ایسے کی جس کی میں حفاظت کروں۔"اس خیال کاآناتھاکہ آپ ملازمت چھوڑ کرتلاش حق میں چل نکلے۔
اجمیرمیں آمد:
آپ اجمیرآئےاورحضرت خواجہ غریب نوازکےمزارکی زیارت سےمشرف ہوئے،اجمیرمیں رہنے لگے۔
حضرت شیخ احمدمجدشیبانی رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی مستفیدہوئے۔
اجمیرمیں ایک مجذوب سے ملاقات ہوئی،ان کانام باین تھا،ان سےبھی نعمت وبرکت پائی۔
واپسی:
اجمیرسےواپس اپنےوطن نرہرآئے،کچھ دنوں نرہرمیں رہے۔
دھرسومیں قیام:
نرہرسےسکونت ترک کرکےآپ دھرسوتشریف لائےاوروہیں مستقل سکونت اختیارکی۔ آپ کے دھرسومیں رہنےکی وجہ یہ تھی کہ وہاں جوسیدرہتےتھے،ان کی اخلاقی حالت خراب تھی۔آپ ان لوگوں کوسدھارناچاہتےتھے۔آپ نےان کی تعلیم وترب
آپ شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے، اور آپ کا سلسلہ میر سید محمد گیسودراز تک پہنچتا ہے۔ آپ بڑے بابرکت، صاحبِ نعمت و کرامت اور دائم العبادت بزرگ تھے، اوقات کے بہت پابند تھے، آپ کی عمر بھی بہت طویل تھی، سلطان بہلول کے زمانہ سے اسلام شاہ کے دَور سلطنت تک زندہ رہے، اوائل عمر میں آپ نے کسی سلطان کے ہاں ملازمت بھی کی تھی، کہتے ہیں کہ ایک رات اس کے محل کی آپ نگرانی کررہے تھے کہ اچانک آپ کے دل میں خیال آیا کہ مجھے اس کا کام کرنا چاہیے جو میری حفاظت کرتا ہونہ اس کا جس کی میں حفاظت کروں، اس خیال کے آنے کے بعد آپ خواجہ معین الدین کے پاس اجمیر چلے گئے اور وہاں جاتے ہی ایک دیوانے سے ملاقات ہوگئی جس کا نام بھی معین الدین ہی تھا چنانچہ آپ نے انہی سے فیض حاصل کیا اور علاوہ ازیں شیخ احمد مجدی کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوئے تھے اور اس کے بعد اجمیر سے اپنے وطن دھرسو واپس تشریف لائے جو نارنول سے صرف تین میل کے فاصلہ پرواقع ہے اورپھر مستقل وہیں رہنے لگے، آپ کے والد محترم اور دیگر رشتہ دار نرھر میں رہتے تھے لیکن آپ دھر سو میں اس لیے مقیم ہوئے کہ یہاں کے اکثر سادات عملاً ٹھیک نہ رہے تھے اور اپنے اسلاف کی وضع قطع سے کوسوں دور جاپڑے تھے، آپ ان کی تربیت کرنے کی غرض سے یہاں گئے، چنانچہ آپ نے انھیں ابتداً علم سے روشناس کرانے کے لیے عربی اورفارسی زبان کے دو استادوں کا تقرر کیا، طالب علموں اور فقیروں سے محبت کیا کرتے تھے اور غیب سے اللہ تعالیٰ آپ کے تمام تر اخراجات پورے فرما دیا کرتے تھے چنانچہ آپ کو جتنا کچھ غیب سے ملتا تھا وہ تمام ہی خرچ فرمادیا کرتے تھے اس میں سے کچھ بچایا نہ کرتے تھے اپنے اہل و عیال کو بھی اس میں سے بقدر حصہ دیتے تھے، آپ نے جس دن سے خلوت نشینی اختیار کی اس دن کے بعد نہ خود اور نہ ہی کسی اپنے خادم کو کسی اہل دنیا کی طرف بھیجا۔
آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ ہمیشہ جمعہ کی نماز کے لیے دھر سو سے نار نول آتے، راستے میں لکڑیوں کو جمع کرتے چلے آتے اور جہاں کوئی فقیر مل جاتا تو ان میں سے کچھ لکڑیاں اس کو دے دیا کرتے تھے۔
دُنیا آگ ہے:
آپ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا آگ کی مانند ہے، اس آگ کو اتنا لیا جائے کہ جس کے ذریعہ کچھ پکار کرسکیں اور سردیوں میں گرم رہیں، یہ آگ جب زیادہ ہوجاتی ہے تو جلا کر راکھ کردیتی ہے، آپ کا ایک مرید کہا کرتا تھا کہ آپ نے ایک دن مجھے ایک ریگستان کی جانب بھیجا چنانچہ میں آپ کے ارشاد کے مطابق وہاں چلاگیا مگر ریگزاروں میں تو کوئی چیز کھانے اور پینے کی ہوا نہیں کرتی اس لیے میں بھوک اور پیاس سے سخت پریشان ہوگیا، میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا کہ پیر اپنے مریدوں کو وہاں بھیجا کرتے ہیں جہاں پانی کے بجائے دودھ ملا کرتا ہے، اور ایک میرر مُرشِد ہیں کہ جنھوں نے مجھے ایسی جگہ بھیجا ہے جہاں پانی تک میسر نہیں، اسی دَوران بہت دُور ایک گڈریا نظر آیا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا، میں نے اُس کے پاس پہنچ کر کہا کہ تم اپنی مشک سے چند قطرے پانی کے میرے منہ میں ٹپکا دو میں پیاس سے مر رہا ہوں، اس نے کہا کہ اس میں پانی نہیں، بلکہ دودھ ہے اور تھوڑا سا دودھ مجھے دیدیا، اس کے بعد میں آگے روانہ ہوا اور پیاس نے مجھے پھر بےتاب کردیا، چنانچہ اس ریگزار میں اچانک میری نظر ایک نشیبی مقام پر پڑی جہاں میٹھے اور ٹھنڈ سے پانی کا ایک چشمہ تھا، اس سے میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اس کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا مجھے ازسرنو زندگی مل گئی ہے آپ کی وفات 957ھ میں ہوئی، 25؍ ربیع الثانی کو مغرب کی دورکعت پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ رحمۃ اللہ علیہ
اخبار الاخیار
حضرت شیخ حمزہ دھرسوی(رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت شیخ حمزہ صاحب کرامت بزرگ تھے۔
خاندانی حالات:
آپ حضرت شیخ بہاءالدین زکریاملتانی رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسے ہیں۔آپ کاسلسلہ نسب حضرت سید محمدگیسودرازرحمتہ اللہ علیہ سےملتاہے،آپ کےوالدین نرہرمیں تھے۔
ملازمت:
آپ شاہی لشکرمیں ملازم تھے۔
کایاپلٹ:
ایک رات کاواقعہ ہےکہ آپ شاہی محل کاپہرہ دےرہےتھے۔یکایک آپ کے دل میں خیال آیاکہ "کسی ایسے شخص کی خدمت کرنی چاہیے،جومیری حفاظت کرےنہ ایسے کی جس کی میں حفاظت کروں۔"اس خیال کاآناتھاکہ آپ ملازمت چھوڑ کرتلاش حق میں چل نکلے۔
اجمیرمیں آمد:
آپ اجمیرآئےاورحضرت خواجہ غریب نوازکےمزارکی زیارت سےمشرف ہوئے،اجمیرمیں رہنے لگے۔
حضرت شیخ احمدمجدشیبانی رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی مستفیدہوئے۔
اجمیرمیں ایک مجذوب سے ملاقات ہوئی،ان کانام باین تھا،ان سےبھی نعمت وبرکت پائی۔
واپسی:
اجمیرسےواپس اپنےوطن نرہرآئے،کچھ دنوں نرہرمیں رہے۔
دھرسومیں قیام:
نرہرسےسکونت ترک کرکےآپ دھرسوتشریف لائےاوروہیں مستقل سکونت اختیارکی۔ آپ کے دھرسومیں رہنےکی وجہ یہ تھی کہ وہاں جوسیدرہتےتھے،ان کی اخلاقی حالت خراب تھی۔آپ ان لوگوں کوسدھارناچاہتےتھے۔آپ نےان کی تعلیم وترب
❤1
یت کامعقول انتظام فرمایا۔
وفات:
آپ نے ۲۵ربیع الثانی ۹۵۷ھ کووفات پائی۔۱؎مزاردھرسومیں ہے۔
سیرت:
آپ عبادات ومجاہدات میں مشغول رہتےتھے۔خاندان سادات کی بہت عزت کرتےتھے۔ہر طرح سے ان کی امدادکرتےتھے،آپ کےپاس جونذرانےآتے،آپ سب خرچ کردیتے تھے۔ بیوی بچوں کےحصہ میں جوآتا،وہ ان کودیتے،حصے سے زیادہ نہ دیتے،دنیاسےکنارہ کش ہوکر عزلت میں دن گزارتےتھے،کسی دنیادارکےگھرنہ جاتےتھے۔
فرمان:
آپ فرماتےہیں کہ۔
"دنیاآگ کےمثل ہے،یہ اتنی ہی کافی ہے کہ جس سے کوئی چیزپکاکرکھالیں اورسردی میں گرم ہوجائیں،جب زیادہ ہوجاتی ہےتوجلاکرہلاک کردیتی ہے"۔
حواشی
۱؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)صفحہ ۳۸۳
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)
آپ حضرت شیخ الاسلام زکریا ملتانی قدس سرہ کی اولاد سے تھے نسبت طریقت میر سید گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ سے تھا بڑے عظیم اور باکرامت بزرگ تھے معمور الاوقات اور دائم العبادت تھے سلطان بہلول کے زمانہ اقتدار سے اسلام شاہ کے دور حکومت تک زندہ رہے ابتدائی زندگی میں بادشاہ کی ملازمت کرتے تھے آپ کو قلعہ کی نگرانی دے رکھی تھی ایک رات پہرہ دیتے ہوئے دل میں خیال آیا مجھے اس کی ملازمت کرنا چاہیے جو میرا محافظ بن سکے یہ خیال اتنا پختہ ہوا کہ چند روز بعد اجمیر شریف چلے گئے وہاں ایک دیوانہ مجذوب حمزہ نامی ملا اس سے روحانی فیض ملا بعد میں شیخ احمد مجد شیبانی سے بیعت ہونے اور منازل سلوک طے کرنے لگے اپنے وطن واپس آئے۔ ملازمت ترک کی قصبہ دہر سو جو نارنول سے تین میل کے فاصلہ پر ہے قیام کرلیا۔ دہر سو کے سادات جاہل تھے اور شرافت کی زندگی سے دُور جا چکے تھے آپ نے ان لوگوں کو ظاہری اور باطنی علوم سے آگاہ کیا لوگوں سے نذرانے آتے آپ ان سادات پر خرچ کر دیتے تھے زیادہ فتوحات آنے لگیں تو فقرا و مساکین میں بانٹنے لگے اپنے اہل و عیال کو بھی اتنا ہی حصہ دیتے جتنا عام لوگوں کو نصیب ہوتا تھا۔
اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ حمزہ قدس سرہ نے اپنے ایک مرید خاص کو ریگستان کے علاقہ میں کسی کام کے لیے بھیجا وہ ریگستان میں پیاسہ مرنے لگا اس نے دل میں خیال کیا کہ پہلے بزرگ اپنے مریدوں کا اتنا خیال رکھاتے تھے تو پانی کی بجائے دودھ ملا کرتا تھا۔ میں آج پانی کے قطرے کو ترس ترس کر مررہا ہوں دور سے ایک چرواہا بھیڑ بکریاں ہانکتے نظر آیا جب پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بغل میں ایک مشکیزہ ہے جس میں پانی موجود ہے مرید نے کہا میں پیاسہ ہوں اس مشکیزے سے مجھے تھوڑا سا پانی پلادو اس نے کہا اس ریگستان میں پانی کہاں اس میں دودھ ہے اگر چاہو تو پلادوں جتنا پی سکتا تھا پیا کچھ دور چلا تو پیاس نے دوبارہ آلیا بڑا پریشان ہوا سامنے ایک جگہ نظر پڑی میٹھے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا پاس گیا سیراب ہوکر پیا اور خیال کیا یہ تمام حضرت شیخ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت سے ہے۔
صاحب اخبار الاخیار نے لکھا ہے حضرت حمزہ پچیس ربیع الثانی ۹۵۷ھ کو نماز مغرب پڑھ رہے تھے دو رکعت پڑھ لیں تیسری میں سجدہ ریز ہوئے تو واصل بحق ہوگئے۔
مقیم روضہ خلد بریں شُد
جو قطب اولیا مخدوم حمزہ
بگو افضل ولی تاریخ ترحیل
۹۵۷ھ
دگر اہل صفا مخدوم حمزہ
۹۵۷ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hamza-daharsavi
وفات:
آپ نے ۲۵ربیع الثانی ۹۵۷ھ کووفات پائی۔۱؎مزاردھرسومیں ہے۔
سیرت:
آپ عبادات ومجاہدات میں مشغول رہتےتھے۔خاندان سادات کی بہت عزت کرتےتھے۔ہر طرح سے ان کی امدادکرتےتھے،آپ کےپاس جونذرانےآتے،آپ سب خرچ کردیتے تھے۔ بیوی بچوں کےحصہ میں جوآتا،وہ ان کودیتے،حصے سے زیادہ نہ دیتے،دنیاسےکنارہ کش ہوکر عزلت میں دن گزارتےتھے،کسی دنیادارکےگھرنہ جاتےتھے۔
فرمان:
آپ فرماتےہیں کہ۔
"دنیاآگ کےمثل ہے،یہ اتنی ہی کافی ہے کہ جس سے کوئی چیزپکاکرکھالیں اورسردی میں گرم ہوجائیں،جب زیادہ ہوجاتی ہےتوجلاکرہلاک کردیتی ہے"۔
حواشی
۱؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)صفحہ ۳۸۳
(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)
آپ حضرت شیخ الاسلام زکریا ملتانی قدس سرہ کی اولاد سے تھے نسبت طریقت میر سید گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ سے تھا بڑے عظیم اور باکرامت بزرگ تھے معمور الاوقات اور دائم العبادت تھے سلطان بہلول کے زمانہ اقتدار سے اسلام شاہ کے دور حکومت تک زندہ رہے ابتدائی زندگی میں بادشاہ کی ملازمت کرتے تھے آپ کو قلعہ کی نگرانی دے رکھی تھی ایک رات پہرہ دیتے ہوئے دل میں خیال آیا مجھے اس کی ملازمت کرنا چاہیے جو میرا محافظ بن سکے یہ خیال اتنا پختہ ہوا کہ چند روز بعد اجمیر شریف چلے گئے وہاں ایک دیوانہ مجذوب حمزہ نامی ملا اس سے روحانی فیض ملا بعد میں شیخ احمد مجد شیبانی سے بیعت ہونے اور منازل سلوک طے کرنے لگے اپنے وطن واپس آئے۔ ملازمت ترک کی قصبہ دہر سو جو نارنول سے تین میل کے فاصلہ پر ہے قیام کرلیا۔ دہر سو کے سادات جاہل تھے اور شرافت کی زندگی سے دُور جا چکے تھے آپ نے ان لوگوں کو ظاہری اور باطنی علوم سے آگاہ کیا لوگوں سے نذرانے آتے آپ ان سادات پر خرچ کر دیتے تھے زیادہ فتوحات آنے لگیں تو فقرا و مساکین میں بانٹنے لگے اپنے اہل و عیال کو بھی اتنا ہی حصہ دیتے جتنا عام لوگوں کو نصیب ہوتا تھا۔
اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ حمزہ قدس سرہ نے اپنے ایک مرید خاص کو ریگستان کے علاقہ میں کسی کام کے لیے بھیجا وہ ریگستان میں پیاسہ مرنے لگا اس نے دل میں خیال کیا کہ پہلے بزرگ اپنے مریدوں کا اتنا خیال رکھاتے تھے تو پانی کی بجائے دودھ ملا کرتا تھا۔ میں آج پانی کے قطرے کو ترس ترس کر مررہا ہوں دور سے ایک چرواہا بھیڑ بکریاں ہانکتے نظر آیا جب پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بغل میں ایک مشکیزہ ہے جس میں پانی موجود ہے مرید نے کہا میں پیاسہ ہوں اس مشکیزے سے مجھے تھوڑا سا پانی پلادو اس نے کہا اس ریگستان میں پانی کہاں اس میں دودھ ہے اگر چاہو تو پلادوں جتنا پی سکتا تھا پیا کچھ دور چلا تو پیاس نے دوبارہ آلیا بڑا پریشان ہوا سامنے ایک جگہ نظر پڑی میٹھے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا پاس گیا سیراب ہوکر پیا اور خیال کیا یہ تمام حضرت شیخ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت سے ہے۔
صاحب اخبار الاخیار نے لکھا ہے حضرت حمزہ پچیس ربیع الثانی ۹۵۷ھ کو نماز مغرب پڑھ رہے تھے دو رکعت پڑھ لیں تیسری میں سجدہ ریز ہوئے تو واصل بحق ہوگئے۔
مقیم روضہ خلد بریں شُد
جو قطب اولیا مخدوم حمزہ
بگو افضل ولی تاریخ ترحیل
۹۵۷ھ
دگر اہل صفا مخدوم حمزہ
۹۵۷ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hamza-daharsavi
❤1
مولوی حکیم محمد قطب الدین جھنگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مناظر جلیل،طبیب حاذق حضر ت علامہ مولانا حکیم محمد قطب الدین ابن مولوی احمد بخش موضع پر کوٹ سدانہ (ضلع جھنگ) میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی بعد ازاں صرف ونحو کے امام مولانا حافظ جمال اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں گھوٹہ(ضلع ملتان) میں حاضر ہوئے اور صرف سے لے کر عبد الغفور (حاشیۂ شرحی جامی) اور متن متین تک کتابیں پڑھیں، حضرت حافظ صاحب کے وصال کے بعد دہلی چلے گئے اور طبیہ کاج دہلی میں داخل ہوئے۔یکم رمضان المبارک، ۱۳جولائی(۱۳۳۳ھ؍۱۹۱۵ئ) کو فاضل طب و جراحت کی سند اور تمغہ حاصل کر کے واپس پنجاب تشریف لائے۔
آپ کو طالب علمی کے دور ہی سے تقریر و مناظرہ سے دلچسپی تھی۔ قیام دہلی کے دوران مسلمانان دہلی نے فوارہ کے مقام پر مخافلین اسلام کے اعتراضات کے جوا دینے کے لئے آپ ہی کو منتخب کیا ہوا تھا۔ آپ نے دہلی،آگرہ وغیر وہ مقامات میں دیسائی اور آریہ مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں شکست فاش دی،بڑے بڑے مناظرہ ہوا،شرائط مناظرہ میں ایک بات یہ طے ہوئی کہ کوئی ایسا مسئلہ پیش نہ کیا جائے جو فریقین مین مشترک ہو۔آریہ نے اسلام پر اعتراض کیا کہ اس مذہب میں انصاف نہیں ہے ،مثلاً جب کسی مسلمان کی ہو خارج ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا اور پھر لطف یہ کہ جہاں سے ہوا خارج ہوئی اس جگہ کو دھونے کی بجائے دوسرے اعضاء کو دھونا شروع کردیا جاتا ہے ، مولا نا نے فرمایا: تم شرائط مناظرہ کی خلاف ورزی کر رہے ہو کیونکہ یہ مسئلہ فریقین میں مشترک ہے،دیکھو جب تمہارا کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کے چند کاص رشتہ دار چاہے اس سے ہزاروں میل کے فاصلے پر یوں خبر ملتے ہی غسل کرتے ہیں،کپڑے دھوتے ہیں،برتنوں اور چوکے کی صٖفائی کرتے ہیں، مرنے والا ہزاروں میل دور ہے اور اس کی پلیدی یہاں اثر کر رہی ہے، وضو کے اعضاء تو پھر قریب ہیں۔
آریہ مناظر نے دوسرا اعتراض کیا:
تم چند کلمات پڑھ کر جانور کو چھری، چاقو سے ذبح کرتے ہو،میں پوچھتا ہوںوہ جانور پہلے حلال تھا یا ان کلمات کے پڑھنے سے حلال ہوا؟ اگر پہلے ہی حلال تھا تو کلمات پڑھنے کی کیا ضرورت؟ اور اگر ان کلمات کے پڑھنے سے حلال ہوا ہے تو چاہئے کہ بلی کتے پر بھی یہی کلمات پڑھ کر ذبح کر کے کھا جائو ،مولانا نے فرمایا: پنڈت صاحب ذرا ہوش سے بات کرو،تم پرشرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہو،کیونکہ یہ مسئلہ بھی فریقین میں مشترک ہے۔دیکھئے جب آپ کا برہمن’’بھوج‘‘ پڑھتا ہے اور دولہا کودلہن کے گرد چند چکر دلاتا ہے۔ اب بتائیے کہ بھوج پڑھنے اور چکر دلانے سے دلہن،دولہا پر حلال ہوئی ہے یا پہلے ہی حلال تھی؟ اگر پہلے ہی حلال تھی تو بھوج پڑھنے کی کیا ضرورت؟ اور اگر ان سے حلال ہوئی ہے تو چاہئے کہ بھوج پرھ کر اور چکر کاٹ کر ماں مہن کو بھی حلال کر کے نکاح میں لے آئو! غرض مولانا کی سخت گرفت پر آریہ مناظر کو راہ فرار کے علاوہ اور کوئی چارئہ کارنظرنہ آیا۔
مسئلۂ تقلید شخصی پر موضع بدوآنہ تحصیل شور کوٹ ضلع جنگ میں مولوی ثناء اللہ امر تسری سے مناظرہ کیا اور فتح مبین حاصل کی ،اس مناظرہ میں احناف کی طرف سے مولانا محمد قطب الدین کے علاوہ مولانا غلما حسین تلیری ، مولانا غلام محمد گھوٹوی اور مولانا نظام الدین ملتانی شریک تے،اور غیرمقلدین کی طرف سے مولوی ثناء اللہ، مولوی عبد الحمید بدو آنوی، مولوی عبد الوہاب دہلوی اور مولوی محمد یارحویلی بہادر شاہ موجود تے۔ ۲۵ستمبر ۱۹۲۵ء کو روڈ چدھڑ (ضلع لائل پور) میں مولوی فیض محمد لکھیانوی (مخالف صحابہ) سے مناظرہ کیا اور تاریخ اہم مسائل پر گفتگو کر کے زبردست فتح حاصل کی، مولانا نے اپنی تمام زندگی م ذہب اسلام اور مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ اور اشاعت میں بسر کی۔
مولانا منفرد انشا پر داز صاحب قلم تھے،آپ کے مضامین عرصہ تک مجلّہ طبّیہ دہلی، المنیر دہلی،الفقیہ امر تسر، شمس الاسلام بھیرہ، لمعات الصوفیہ اور انوار الصوفیہ سیالکوٹ وغیرہ جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ آپ کی تصانیف میں سے دور سالے ’’فیصلہ شرعیہ‘‘(رد روافض) اور خونی داستان چھپ چکے ہیں ۔
مناظر جلیل،طبیب حاذق حضر ت علامہ مولانا حکیم محمد قطب الدین ابن مولوی احمد بخش موضع پر کوٹ سدانہ (ضلع جھنگ) میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی بعد ازاں صرف ونحو کے امام مولانا حافظ جمال اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں گھوٹہ(ضلع ملتان) میں حاضر ہوئے اور صرف سے لے کر عبد الغفور (حاشیۂ شرحی جامی) اور متن متین تک کتابیں پڑھیں، حضرت حافظ صاحب کے وصال کے بعد دہلی چلے گئے اور طبیہ کاج دہلی میں داخل ہوئے۔یکم رمضان المبارک، ۱۳جولائی(۱۳۳۳ھ؍۱۹۱۵ئ) کو فاضل طب و جراحت کی سند اور تمغہ حاصل کر کے واپس پنجاب تشریف لائے۔
آپ کو طالب علمی کے دور ہی سے تقریر و مناظرہ سے دلچسپی تھی۔ قیام دہلی کے دوران مسلمانان دہلی نے فوارہ کے مقام پر مخافلین اسلام کے اعتراضات کے جوا دینے کے لئے آپ ہی کو منتخب کیا ہوا تھا۔ آپ نے دہلی،آگرہ وغیر وہ مقامات میں دیسائی اور آریہ مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں شکست فاش دی،بڑے بڑے مناظرہ ہوا،شرائط مناظرہ میں ایک بات یہ طے ہوئی کہ کوئی ایسا مسئلہ پیش نہ کیا جائے جو فریقین مین مشترک ہو۔آریہ نے اسلام پر اعتراض کیا کہ اس مذہب میں انصاف نہیں ہے ،مثلاً جب کسی مسلمان کی ہو خارج ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا اور پھر لطف یہ کہ جہاں سے ہوا خارج ہوئی اس جگہ کو دھونے کی بجائے دوسرے اعضاء کو دھونا شروع کردیا جاتا ہے ، مولا نا نے فرمایا: تم شرائط مناظرہ کی خلاف ورزی کر رہے ہو کیونکہ یہ مسئلہ فریقین میں مشترک ہے،دیکھو جب تمہارا کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کے چند کاص رشتہ دار چاہے اس سے ہزاروں میل کے فاصلے پر یوں خبر ملتے ہی غسل کرتے ہیں،کپڑے دھوتے ہیں،برتنوں اور چوکے کی صٖفائی کرتے ہیں، مرنے والا ہزاروں میل دور ہے اور اس کی پلیدی یہاں اثر کر رہی ہے، وضو کے اعضاء تو پھر قریب ہیں۔
آریہ مناظر نے دوسرا اعتراض کیا:
تم چند کلمات پڑھ کر جانور کو چھری، چاقو سے ذبح کرتے ہو،میں پوچھتا ہوںوہ جانور پہلے حلال تھا یا ان کلمات کے پڑھنے سے حلال ہوا؟ اگر پہلے ہی حلال تھا تو کلمات پڑھنے کی کیا ضرورت؟ اور اگر ان کلمات کے پڑھنے سے حلال ہوا ہے تو چاہئے کہ بلی کتے پر بھی یہی کلمات پڑھ کر ذبح کر کے کھا جائو ،مولانا نے فرمایا: پنڈت صاحب ذرا ہوش سے بات کرو،تم پرشرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہو،کیونکہ یہ مسئلہ بھی فریقین میں مشترک ہے۔دیکھئے جب آپ کا برہمن’’بھوج‘‘ پڑھتا ہے اور دولہا کودلہن کے گرد چند چکر دلاتا ہے۔ اب بتائیے کہ بھوج پڑھنے اور چکر دلانے سے دلہن،دولہا پر حلال ہوئی ہے یا پہلے ہی حلال تھی؟ اگر پہلے ہی حلال تھی تو بھوج پڑھنے کی کیا ضرورت؟ اور اگر ان سے حلال ہوئی ہے تو چاہئے کہ بھوج پرھ کر اور چکر کاٹ کر ماں مہن کو بھی حلال کر کے نکاح میں لے آئو! غرض مولانا کی سخت گرفت پر آریہ مناظر کو راہ فرار کے علاوہ اور کوئی چارئہ کارنظرنہ آیا۔
مسئلۂ تقلید شخصی پر موضع بدوآنہ تحصیل شور کوٹ ضلع جنگ میں مولوی ثناء اللہ امر تسری سے مناظرہ کیا اور فتح مبین حاصل کی ،اس مناظرہ میں احناف کی طرف سے مولانا محمد قطب الدین کے علاوہ مولانا غلما حسین تلیری ، مولانا غلام محمد گھوٹوی اور مولانا نظام الدین ملتانی شریک تے،اور غیرمقلدین کی طرف سے مولوی ثناء اللہ، مولوی عبد الحمید بدو آنوی، مولوی عبد الوہاب دہلوی اور مولوی محمد یارحویلی بہادر شاہ موجود تے۔ ۲۵ستمبر ۱۹۲۵ء کو روڈ چدھڑ (ضلع لائل پور) میں مولوی فیض محمد لکھیانوی (مخالف صحابہ) سے مناظرہ کیا اور تاریخ اہم مسائل پر گفتگو کر کے زبردست فتح حاصل کی، مولانا نے اپنی تمام زندگی م ذہب اسلام اور مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ اور اشاعت میں بسر کی۔
مولانا منفرد انشا پر داز صاحب قلم تھے،آپ کے مضامین عرصہ تک مجلّہ طبّیہ دہلی، المنیر دہلی،الفقیہ امر تسر، شمس الاسلام بھیرہ، لمعات الصوفیہ اور انوار الصوفیہ سیالکوٹ وغیرہ جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ آپ کی تصانیف میں سے دور سالے ’’فیصلہ شرعیہ‘‘(رد روافض) اور خونی داستان چھپ چکے ہیں ۔
❤1
حضرت مولانا،تحصیل علم کے بعد امیر ملت پیر سید مجاعت علی شاہ قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے،حضرت امیرملت کی معیت میں دو دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے۔آپ ہی کی استدعا پر حضرت امیر ملت کی تشریف آوری جھنگ میں ہوئی،جابجا تبلیغی جلسے ہوئے اور کثیر التعداد بندگان خدا شرف بیعت سے بہرہ ور ہوئے۔آپ کو اپنے شیخ سے بہت عقیدت تھی،حضرت امیر ملت بھی آپ پر بڑی شفقت فرماتے تھے،آپ کو خلافت عنایت فرمائی اور ہمیشہ الطاف خسروانہ سے نوازتے رہے۔
حضرت مولانا محمد قطب الدین رحمہ اللہ تعالیٰ فن طب میںکامل دستگاہ رکھتے تھے،قرآن مجید اور علوم دینیہ سے تو انہیں اتنا لگائو تھا کہ اپنے صاحبزادوں اور صاحبزادیوںکو حفظ قرآن کرایا تھا ایک صاحبزادی ک ومشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف پڑھا رہے تھے کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
آپ کے دو صاحبزادے ہیں، ایک حافظ، عالم اور طبیب حکیم محمود الحسن،طب کی خدمت انجام دیتے رہے ہیں اور دوسرے اہل سنت کے مایہ ناز مدرس،مناظرہ اور خطیب مولانا عبد الرشید جھنگوی مدظلہ دینمتین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہیں۔
مولانا محمد قطب الدینجنگوی قدس سرہ ۲۵ ربیع الثانی ،۲۹ اکتوبر (۱۳۷۹ھ؍ ۱۹۵۹ء ) بروز جمعرات تین بجے دن واصل بحق ہوئے[1]
آپ کا مرقد انور قطب آباد(چک ۲۳۲ جو تیانوالہ، ڈاک خانہ چک ۲۳۳، ضلع جھنگ) میں ہے۔ آپ کی یاد میں مزار شریف کے پاس ’’جامعہ قطبیہ رضویہ‘‘ قائم کیا گیا ہے، حضرت مولانا حکیم خادم علی قدس سرہ نے تاریخ وفات کہی ،چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
عالم و فاضل ، فقیہ ما مدار
بودر دنیا ، ز دنیا بر کنار
ماہر اسرار تفسیر و حدیث
مخزن انوار و شیخ روزگار
در شریعت بد مثال کو ہسار
در طریقت بحر نا پیدا کنار
حامل تاثیر ہا تقریر او
بود تحریرش چو در شا ہوار
فیض یاب از آفتابمعرفت
حضرت شاہ جماعت با وقار
از نگاہش قطبدیں ابدال شد
کر دس میں سینہ اش راز ر نگار
آہ! آں فرخ سیر شیریں مقال
شد درون خک مر قد پردہ دار
ہست در الفاظ سال رحلتش
سہ صدر و ہفتا د ونہ بایک ہزار
از ربیع الآخر آمد بست و پنج
چوں برفت اوجانت دار القرار
وقت ظہرش بود وقت انتقال
روز پنج شنبہ بیامد در شمار [2]
[1] فضل حسین فضل ،حکیم:ہفت روزہ محبو ب حق،لائل پور ، ۲۰ ستمبر ۱۹۶۳ء ، ص ۶۔۷
[2] ہفت روزہ (اب ماہنامہ ہے) رضائے مصطفی گوجرانولہ، یہ شمارہ اس وقت پیش نظر نہیں ہے ۔
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/molvi-hakeem-muhammad-qutubuddin-jhangvi
حضرت مولانا محمد قطب الدین رحمہ اللہ تعالیٰ فن طب میںکامل دستگاہ رکھتے تھے،قرآن مجید اور علوم دینیہ سے تو انہیں اتنا لگائو تھا کہ اپنے صاحبزادوں اور صاحبزادیوںکو حفظ قرآن کرایا تھا ایک صاحبزادی ک ومشکوٰۃ شریف اور جلالین شریف پڑھا رہے تھے کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
آپ کے دو صاحبزادے ہیں، ایک حافظ، عالم اور طبیب حکیم محمود الحسن،طب کی خدمت انجام دیتے رہے ہیں اور دوسرے اہل سنت کے مایہ ناز مدرس،مناظرہ اور خطیب مولانا عبد الرشید جھنگوی مدظلہ دینمتین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہیں۔
مولانا محمد قطب الدینجنگوی قدس سرہ ۲۵ ربیع الثانی ،۲۹ اکتوبر (۱۳۷۹ھ؍ ۱۹۵۹ء ) بروز جمعرات تین بجے دن واصل بحق ہوئے[1]
آپ کا مرقد انور قطب آباد(چک ۲۳۲ جو تیانوالہ، ڈاک خانہ چک ۲۳۳، ضلع جھنگ) میں ہے۔ آپ کی یاد میں مزار شریف کے پاس ’’جامعہ قطبیہ رضویہ‘‘ قائم کیا گیا ہے، حضرت مولانا حکیم خادم علی قدس سرہ نے تاریخ وفات کہی ،چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
عالم و فاضل ، فقیہ ما مدار
بودر دنیا ، ز دنیا بر کنار
ماہر اسرار تفسیر و حدیث
مخزن انوار و شیخ روزگار
در شریعت بد مثال کو ہسار
در طریقت بحر نا پیدا کنار
حامل تاثیر ہا تقریر او
بود تحریرش چو در شا ہوار
فیض یاب از آفتابمعرفت
حضرت شاہ جماعت با وقار
از نگاہش قطبدیں ابدال شد
کر دس میں سینہ اش راز ر نگار
آہ! آں فرخ سیر شیریں مقال
شد درون خک مر قد پردہ دار
ہست در الفاظ سال رحلتش
سہ صدر و ہفتا د ونہ بایک ہزار
از ربیع الآخر آمد بست و پنج
چوں برفت اوجانت دار القرار
وقت ظہرش بود وقت انتقال
روز پنج شنبہ بیامد در شمار [2]
[1] فضل حسین فضل ،حکیم:ہفت روزہ محبو ب حق،لائل پور ، ۲۰ ستمبر ۱۹۶۳ء ، ص ۶۔۷
[2] ہفت روزہ (اب ماہنامہ ہے) رضائے مصطفی گوجرانولہ، یہ شمارہ اس وقت پیش نظر نہیں ہے ۔
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/molvi-hakeem-muhammad-qutubuddin-jhangvi
❤1
مولانا نور الدین رحمۃ اللہ (والدِ گرامی خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ )
مفتی محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
دورانِ تعلیم ایک دن راقم نے اپنے مرشد کریم (قبلہ شاہ جمالی)سے پوچھا حضور: میں نے سنا ہے کہ آپ کے والد صاحب مسلمان ہوئے تھے؟ فرمایا !ہاں میرے دادا کے گھر اولاد نہ ہوتی تھی۔ میرے پر دادا نے پیر غائبی کی خانقاہ پہ جا کر دعا کی "کہ اے اللہ میرے بیٹے کے گھر صاحب جمال و بخت والا بیٹا پیدا ہو"۔ (پیر غائبی کے مزار پہ لوگوں کی مُرادیں پوری ہوتی تھیں)۔
راقم نے عرض کیا حضور! آپ کے اجداد کہاں رہتے تھے۔؟ اور کیا کام کرتے تھے۔؟ فرمایا :نواب ریاست" خیر پور میرس"کے خزانچی و معاون تھے اور تمام آمد و خرچ و حساب و کتاب میرے اجداد کے پاس رہتا تھا، میری قوم کو دیوان کہاجاتا تھا اور نواب صاحب کی معتمد علیہ قوم تھی۔
غرض یہ کہ بفضل خدا میرے دادا صاحب کے گھر میرے والد صاحب(مولانا نور محمد ) پیدا ہوئے۔ میرے والد صاحب بچپن ہی سے بہت ذہین اور بڑے خوبصورت تھے۔ سرکاری اسکول میں اُردو تعلیم حاصل کرتے تھے، کلاس میں تمام ساتھیوں سے زیادہ نمبر حاصل کرتے۔ اتفاقاً ایک ماسٹر صاحب جو کہ مولانا عبد الرحمن صاحب قادری سکھر والے کے مرید تھے، کے پاس میرے والد صاحب کے اسباق تھے۔ میرے والد صاحب مذہبی گفتگو میں بہت ہوشیار تھے، مسلمان لڑکوں کو سوال و جواب میں حیران کردیتے جن کا حل ان کے مسلمان اُستاد کرتے تھے"۔
آخرالامر میرے والد صاحب پہ استاد بزرگ کا ایسا اثر پڑا کہ بچپن ہی میں خواجہ عبدالرحمن قادری کے پاس گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔
میرے والد صاحب کا نام نامی اسمِ گرامی خواجہ نور الدین تھا اور آپ کی وفات ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ کو ہوئی مسلمان ہونے کے بعد حضرت خواجہ عبدالرحمٰن صاحب کے گھر ان کے بچوں میں رہنے لگے، جب میرے دادا صاحب کو خبر ہوئی تو میرے والد صاحب کو سکھر سے اپنے گھرلے آئے خواجہ عبدالرحمن صاحب کے طلباء غمگین ہوگئے کہ ہمارے شیخ کو ہم سے دور کرلیا گیا ہے، دوسری صبح کو خواجہ صاحب کی لڑکی نے اپنے والد صاحب کو خواب سُنایا، کہ نور الدین صاحب کو حضرت مولا علی مشکل کشا اپنے ساتھ لیے جارہے ہیں تو خواجہ صاحب نے فرمایا :مبُارک ہو کہ شیخ نور الدین اسلام میں پختہ ہیں، انکا ہاتھ حضرت مولا علی کے ہاتھ میں آگیا ہے۔
حضرت شیخ نور الدّین خیرپور میرس میں آکر پنجگانہ اذان و نماز شروع کردی، والدین اور دوسرے رشتہ داروں نے ہر طریقہ سے اسلام سے ہٹانے کی کوشش کی اور دھمکا یا ۔مگرآپ کے قلب میں اسلام مکمل طور پر رچ بس چکا تھا کہ کچھ اثر نہ ہوا۔ ماں باپ کے آپ اکلوتے بیٹے تھے اور حسین و جمیل تھے، آخر کار والدین خاموش ہوگئے، لیکن خواجہ عبد الرحمن صاحب پہ عدالت میں مقدمہ دائر کردیا گیا ، کہ انہوں نے نابالغ بچے کو مسلمان کیا ہے۔ قادری صاحب کو عدالت میں بلایا گیا، حاکم نے پوچھا کہ اس بچے کو تم نے کیوں مسلمان کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اس کو مسلمان کرنے والے نے مسلمان کیاہے ، تین بار یہی سوال و جواب ہوتا رہا تو حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحب جلال میں آگئے اور ایک قریب کھڑے ہوئے ہندو کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ کیا اس کو میں نے مسلمان کیا ہے؟ تو وہ ہندو بے ساختہ کلمہ پڑھنے لگا، اسی طرح وہاں موجود ایک ایک ہندو کی طرف اشارہ کرتے گئے ار فرماتے گئے کہ کیا اسکو بھی میں نے مسلمان کیا ہے! جس طرف اشارہ کرتے گئے اسکے منہ سے کلمہ طیبہ جاری ہوتا گیا اور باقی ہندو بھاگ گئے ۔ آپ کی اس کرامت کی وجہ سے مقدمہ خارج ہوگیا۔
مولانا نور الدین صاحب آزاد ہوکر مولانا عبدالغفور صاحب کے مدرسہ میں پڑھنے لگے، بعدہٗ سیت پور ضلع مظفر گڑھ تشریف لائے اور مولانا جندوڈہ صاحب (خلیفہ خواجہ اللہ بخش تونسوی)کے پاس علم حاصل کرتے رہے، استاد محترم کی نظرِ شفقت سے آپ کو سلسلہ جمالیہ عبیدیہ میں بیعت نصیب ہوئی ۔ خواجہ عبیداللہ صاحب ملتانی جو کہ خلیفہ ہیں خواجہ خدا بخش صاحب خیر پوری اور خواجہ عبدالرحمن صاحب ملتانی ثم العربی (جو کہ قبلہ شاہجمالی کریم کے مرشد ہیں) کے والد ہیں، مولانا جندوڈہ صاحب کے پاس کچھ عرصہ پڑھتے رہے۔
خواجہ نورالدّین رحمۃاللہ علیہ کاتقوٰی:
ایک عورت آپ کے حسن و جمال پہ فریفتہ ہوگئی، ملاقات کے کئی طریقے اختیار کیے، لیکن خدا کے فضل و کرم سے اُس کے مکر سے محفوظ رہے۔
ایک دفعہ رات کے وقت آپ ایک بستی سے روٹیاں لے کر آرہے تھے کہ راستہ میں اُسی عورت نے آپ پہ حملہ کردیا، فوراً آپ نے آہ و فغاں شروع کردی، روٹیاں اور سالن وغیرہ گرگئے ، زور زور سےکہتے ہوئے پکارا تو مدرسہ سے طلباء اور دوسرے لوگ دوڑے ہوئے آگئے لیکن قدموں کے نشان کے علاوہ کچھ نہ پایا، آپ نے عورت کا نام تک بھی نہیں لیا، صرف یہی فرماتے رہے کہ بلا تھی، اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا سے بچا لیا۔ اسی وجہ سے آپ سیت پور چھوڑ کر قصبہ شاہجمال ضلع ڈیرہ غازی خاں میں حضرت مولانا نصیر بخش صا
مفتی محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
دورانِ تعلیم ایک دن راقم نے اپنے مرشد کریم (قبلہ شاہ جمالی)سے پوچھا حضور: میں نے سنا ہے کہ آپ کے والد صاحب مسلمان ہوئے تھے؟ فرمایا !ہاں میرے دادا کے گھر اولاد نہ ہوتی تھی۔ میرے پر دادا نے پیر غائبی کی خانقاہ پہ جا کر دعا کی "کہ اے اللہ میرے بیٹے کے گھر صاحب جمال و بخت والا بیٹا پیدا ہو"۔ (پیر غائبی کے مزار پہ لوگوں کی مُرادیں پوری ہوتی تھیں)۔
راقم نے عرض کیا حضور! آپ کے اجداد کہاں رہتے تھے۔؟ اور کیا کام کرتے تھے۔؟ فرمایا :نواب ریاست" خیر پور میرس"کے خزانچی و معاون تھے اور تمام آمد و خرچ و حساب و کتاب میرے اجداد کے پاس رہتا تھا، میری قوم کو دیوان کہاجاتا تھا اور نواب صاحب کی معتمد علیہ قوم تھی۔
غرض یہ کہ بفضل خدا میرے دادا صاحب کے گھر میرے والد صاحب(مولانا نور محمد ) پیدا ہوئے۔ میرے والد صاحب بچپن ہی سے بہت ذہین اور بڑے خوبصورت تھے۔ سرکاری اسکول میں اُردو تعلیم حاصل کرتے تھے، کلاس میں تمام ساتھیوں سے زیادہ نمبر حاصل کرتے۔ اتفاقاً ایک ماسٹر صاحب جو کہ مولانا عبد الرحمن صاحب قادری سکھر والے کے مرید تھے، کے پاس میرے والد صاحب کے اسباق تھے۔ میرے والد صاحب مذہبی گفتگو میں بہت ہوشیار تھے، مسلمان لڑکوں کو سوال و جواب میں حیران کردیتے جن کا حل ان کے مسلمان اُستاد کرتے تھے"۔
آخرالامر میرے والد صاحب پہ استاد بزرگ کا ایسا اثر پڑا کہ بچپن ہی میں خواجہ عبدالرحمن قادری کے پاس گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔
میرے والد صاحب کا نام نامی اسمِ گرامی خواجہ نور الدین تھا اور آپ کی وفات ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ کو ہوئی مسلمان ہونے کے بعد حضرت خواجہ عبدالرحمٰن صاحب کے گھر ان کے بچوں میں رہنے لگے، جب میرے دادا صاحب کو خبر ہوئی تو میرے والد صاحب کو سکھر سے اپنے گھرلے آئے خواجہ عبدالرحمن صاحب کے طلباء غمگین ہوگئے کہ ہمارے شیخ کو ہم سے دور کرلیا گیا ہے، دوسری صبح کو خواجہ صاحب کی لڑکی نے اپنے والد صاحب کو خواب سُنایا، کہ نور الدین صاحب کو حضرت مولا علی مشکل کشا اپنے ساتھ لیے جارہے ہیں تو خواجہ صاحب نے فرمایا :مبُارک ہو کہ شیخ نور الدین اسلام میں پختہ ہیں، انکا ہاتھ حضرت مولا علی کے ہاتھ میں آگیا ہے۔
حضرت شیخ نور الدّین خیرپور میرس میں آکر پنجگانہ اذان و نماز شروع کردی، والدین اور دوسرے رشتہ داروں نے ہر طریقہ سے اسلام سے ہٹانے کی کوشش کی اور دھمکا یا ۔مگرآپ کے قلب میں اسلام مکمل طور پر رچ بس چکا تھا کہ کچھ اثر نہ ہوا۔ ماں باپ کے آپ اکلوتے بیٹے تھے اور حسین و جمیل تھے، آخر کار والدین خاموش ہوگئے، لیکن خواجہ عبد الرحمن صاحب پہ عدالت میں مقدمہ دائر کردیا گیا ، کہ انہوں نے نابالغ بچے کو مسلمان کیا ہے۔ قادری صاحب کو عدالت میں بلایا گیا، حاکم نے پوچھا کہ اس بچے کو تم نے کیوں مسلمان کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اس کو مسلمان کرنے والے نے مسلمان کیاہے ، تین بار یہی سوال و جواب ہوتا رہا تو حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحب جلال میں آگئے اور ایک قریب کھڑے ہوئے ہندو کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ کیا اس کو میں نے مسلمان کیا ہے؟ تو وہ ہندو بے ساختہ کلمہ پڑھنے لگا، اسی طرح وہاں موجود ایک ایک ہندو کی طرف اشارہ کرتے گئے ار فرماتے گئے کہ کیا اسکو بھی میں نے مسلمان کیا ہے! جس طرف اشارہ کرتے گئے اسکے منہ سے کلمہ طیبہ جاری ہوتا گیا اور باقی ہندو بھاگ گئے ۔ آپ کی اس کرامت کی وجہ سے مقدمہ خارج ہوگیا۔
مولانا نور الدین صاحب آزاد ہوکر مولانا عبدالغفور صاحب کے مدرسہ میں پڑھنے لگے، بعدہٗ سیت پور ضلع مظفر گڑھ تشریف لائے اور مولانا جندوڈہ صاحب (خلیفہ خواجہ اللہ بخش تونسوی)کے پاس علم حاصل کرتے رہے، استاد محترم کی نظرِ شفقت سے آپ کو سلسلہ جمالیہ عبیدیہ میں بیعت نصیب ہوئی ۔ خواجہ عبیداللہ صاحب ملتانی جو کہ خلیفہ ہیں خواجہ خدا بخش صاحب خیر پوری اور خواجہ عبدالرحمن صاحب ملتانی ثم العربی (جو کہ قبلہ شاہجمالی کریم کے مرشد ہیں) کے والد ہیں، مولانا جندوڈہ صاحب کے پاس کچھ عرصہ پڑھتے رہے۔
خواجہ نورالدّین رحمۃاللہ علیہ کاتقوٰی:
ایک عورت آپ کے حسن و جمال پہ فریفتہ ہوگئی، ملاقات کے کئی طریقے اختیار کیے، لیکن خدا کے فضل و کرم سے اُس کے مکر سے محفوظ رہے۔
ایک دفعہ رات کے وقت آپ ایک بستی سے روٹیاں لے کر آرہے تھے کہ راستہ میں اُسی عورت نے آپ پہ حملہ کردیا، فوراً آپ نے آہ و فغاں شروع کردی، روٹیاں اور سالن وغیرہ گرگئے ، زور زور سےکہتے ہوئے پکارا تو مدرسہ سے طلباء اور دوسرے لوگ دوڑے ہوئے آگئے لیکن قدموں کے نشان کے علاوہ کچھ نہ پایا، آپ نے عورت کا نام تک بھی نہیں لیا، صرف یہی فرماتے رہے کہ بلا تھی، اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا سے بچا لیا۔ اسی وجہ سے آپ سیت پور چھوڑ کر قصبہ شاہجمال ضلع ڈیرہ غازی خاں میں حضرت مولانا نصیر بخش صا
❤1
حب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چلے گئے، وہاں آپ نے تمام علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے۔
حضرت مولانا نور الدین صاحب، صاحب، وجدو حال و عارف و کامل تھے، اذان خود دیتے تھے جب اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ،پر پہنچتے تو محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مستغرق ہوجاتے اور وجد کی حالت میں منبر پہ گِر پڑتے، پھر اُٹھتے اور اَذان کہتے ایک رات آپ تہجد کی نماز پڑھ کر سوگئے، خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک خوانچہ اُتر رہا ہے، پوچھا کس کے لیے ہے جواب ملا کہ مولانا نور الدین صاحب کیلیے ہے، لیکن وہ سوگئے اس رات کے بعد پھر کبھی تہجد کے بعد نہ سوتے، بعد اشراق قیلولہ فرماتے۔
استاذیم مولانا غلام حسن صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں مولانا نور الدین صاحب کی خدمت میں تحفۃ الاحرار پڑھتا تھا تو ایک مرتبہ استاذیم صاحب نے مجھے فرمایا "میرے ساتھ دریائے سندھ کے پار چلو، جب ہم دریا کے کنارےپہنچے تو کشتی موجود نہ تھی تو استاذیم صاحب نے فرمایا "غلام حسن ! پانی (ایک ہاتھ) ہے میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ" فقیر استاذیم صاحب کے قدموں پہ قدم رکھتا گیا حتٰی کہ ہم دریائے سندھ کے پار پہنچ گئے اور پانی ٹخنوں کے اُوپر بھی نہ گیا، میں حیران رہ گیا کہ استاذیم صاحب کتنے صاحب کمال ہیں۔
حضور قبلہ شاہجمالی کریم کا دستور تھا کہ جب آپ وعظ فرماتے تو اپنے ساتھ اپنے والد کریم کو چارپائی پہ بٹھاتے اور تقریر فرماتے مرشدی قبلہ شاہجمالی نے فرمایا کہ ایک رات محفل میلاد یا محفل معراج ہونی تھی تو حضرت مولانا نور الدین صاحب کو سخت بخار تھا، قبلہ شاہجمالی نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور! آپ کو بخار ہے محفل میں نہ جائیں، گھر پہ سوجائیں۔ آپ قبلہ شاہجمالی کے مشورے سے گھر پہ سوگئے۔ حضور قبلہ شاہجمالی نے وعظ شروع فرمایا، حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں تقریر بامِ عروج پہ تھی حضور والد کرم گھر میں تقریر سُن رہے تھے، عالم وجد میں بستر علالت سے اُٹھ کر روتے ہوئے مجلسِ وعظ میں آپہنچے تمام لوگوں پہ وجد طاری تھا، عشّاقانِ مصطفٰی تڑپ رہے تھے اور ساقی جامِ وحدت کے چھلکتے جام پلا رہا تھا، عالم مستی میں مست ہو کر پا کوباں و گریہ کناں تڑپ رہے تھے۔
مرشدی شاہجمالی کریم سے آپ کو بے پناہ محبت تھی، آپ ہرّیو گئے تو وہاں بیمار ہوگئے، مرشدی شاہجمالی اپنے والد کرم کی خدمت کے لیے ہرّہو پہنچے، طبع پرسی فرمائی تو والدِ کریم نے فرمایا کہ تم آگئے مجھے شفا ہوگئی۔ لِقَاءُ الْخَلِیْلِ شِفَاءُ الْعَلِیْلِ،
اے آمد نت باعث آباویٔ ما
دیدارِ شما باعثِ شفا یابی ما
مولانا فتح محمد صاحب نے فرمایا کہ والد صاحب بحالت بخار استاذیم مولانا شاہجمالی کےپاس تشریف لائے جب کہ استاذیم صاحب مسجد کے جنوبی کنارہ کے قریب پڑھا رہے تھے آپ آکر سوگئے اور فرمایا "میری قبر مسجد کے جنوبی طرف بنانا" اس کے بعد دو یا تین دن ہی گذرے کہ ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ کو اس دارِ فانی کو الوداع کہہ کر دارِ آخرت کو رحلت فرمائی۔ حسبِ وصیّت مسجد کے جنوب کی طرف آپ کے استاد حضرت مولانا نصیر بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ آپ کو دفن کیا گیا۔ حضرت صاحب نے خود آپ کو شرقًا غربًا لٹا کر غسل دیا ور اپنے ہاتھ سے تجہیز و تکفین کرکے جنازہ پڑھایا ۔
( ماخوذ از: درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہ جمالی ۔ مؤلفہ: مولانا محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-nooruddin-shah-jamali
حضرت مولانا نور الدین صاحب، صاحب، وجدو حال و عارف و کامل تھے، اذان خود دیتے تھے جب اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ،پر پہنچتے تو محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مستغرق ہوجاتے اور وجد کی حالت میں منبر پہ گِر پڑتے، پھر اُٹھتے اور اَذان کہتے ایک رات آپ تہجد کی نماز پڑھ کر سوگئے، خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک خوانچہ اُتر رہا ہے، پوچھا کس کے لیے ہے جواب ملا کہ مولانا نور الدین صاحب کیلیے ہے، لیکن وہ سوگئے اس رات کے بعد پھر کبھی تہجد کے بعد نہ سوتے، بعد اشراق قیلولہ فرماتے۔
استاذیم مولانا غلام حسن صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں مولانا نور الدین صاحب کی خدمت میں تحفۃ الاحرار پڑھتا تھا تو ایک مرتبہ استاذیم صاحب نے مجھے فرمایا "میرے ساتھ دریائے سندھ کے پار چلو، جب ہم دریا کے کنارےپہنچے تو کشتی موجود نہ تھی تو استاذیم صاحب نے فرمایا "غلام حسن ! پانی (ایک ہاتھ) ہے میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ" فقیر استاذیم صاحب کے قدموں پہ قدم رکھتا گیا حتٰی کہ ہم دریائے سندھ کے پار پہنچ گئے اور پانی ٹخنوں کے اُوپر بھی نہ گیا، میں حیران رہ گیا کہ استاذیم صاحب کتنے صاحب کمال ہیں۔
حضور قبلہ شاہجمالی کریم کا دستور تھا کہ جب آپ وعظ فرماتے تو اپنے ساتھ اپنے والد کریم کو چارپائی پہ بٹھاتے اور تقریر فرماتے مرشدی قبلہ شاہجمالی نے فرمایا کہ ایک رات محفل میلاد یا محفل معراج ہونی تھی تو حضرت مولانا نور الدین صاحب کو سخت بخار تھا، قبلہ شاہجمالی نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور! آپ کو بخار ہے محفل میں نہ جائیں، گھر پہ سوجائیں۔ آپ قبلہ شاہجمالی کے مشورے سے گھر پہ سوگئے۔ حضور قبلہ شاہجمالی نے وعظ شروع فرمایا، حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں تقریر بامِ عروج پہ تھی حضور والد کرم گھر میں تقریر سُن رہے تھے، عالم وجد میں بستر علالت سے اُٹھ کر روتے ہوئے مجلسِ وعظ میں آپہنچے تمام لوگوں پہ وجد طاری تھا، عشّاقانِ مصطفٰی تڑپ رہے تھے اور ساقی جامِ وحدت کے چھلکتے جام پلا رہا تھا، عالم مستی میں مست ہو کر پا کوباں و گریہ کناں تڑپ رہے تھے۔
مرشدی شاہجمالی کریم سے آپ کو بے پناہ محبت تھی، آپ ہرّیو گئے تو وہاں بیمار ہوگئے، مرشدی شاہجمالی اپنے والد کرم کی خدمت کے لیے ہرّہو پہنچے، طبع پرسی فرمائی تو والدِ کریم نے فرمایا کہ تم آگئے مجھے شفا ہوگئی۔ لِقَاءُ الْخَلِیْلِ شِفَاءُ الْعَلِیْلِ،
اے آمد نت باعث آباویٔ ما
دیدارِ شما باعثِ شفا یابی ما
مولانا فتح محمد صاحب نے فرمایا کہ والد صاحب بحالت بخار استاذیم مولانا شاہجمالی کےپاس تشریف لائے جب کہ استاذیم صاحب مسجد کے جنوبی کنارہ کے قریب پڑھا رہے تھے آپ آکر سوگئے اور فرمایا "میری قبر مسجد کے جنوبی طرف بنانا" اس کے بعد دو یا تین دن ہی گذرے کہ ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ کو اس دارِ فانی کو الوداع کہہ کر دارِ آخرت کو رحلت فرمائی۔ حسبِ وصیّت مسجد کے جنوب کی طرف آپ کے استاد حضرت مولانا نصیر بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ آپ کو دفن کیا گیا۔ حضرت صاحب نے خود آپ کو شرقًا غربًا لٹا کر غسل دیا ور اپنے ہاتھ سے تجہیز و تکفین کرکے جنازہ پڑھایا ۔
( ماخوذ از: درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہ جمالی ۔ مؤلفہ: مولانا محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-nooruddin-shah-jamali
❤1
شیخ الشیوخ قطبِ عالم سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: سید عبد الوہاب شاہ ۔ لقب: پیر قطب ۔ اور " عالم شاہ " مشہور و معروف ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام " اوچ شریف " ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ پھر دیگر علومِ دینیہ وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والدِ بزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ سے خرقہ و دستارِ جدی و طریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الشیوخ، قطبِ عالم حضرت سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم و حکمت اور سرِ باری تعالیٰ تھے ۔
آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔ آپ نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کر لی ۔
آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک " سبز علم " بھی عطا فرما کر اشاعتِ دینیہ کا حکم دیا ۔ آپ اپنے والد کا حکم پاکر اطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی و روحانی کا فریضہ " سبز علم " لیے ادا فرماتے رہے ۔
پھر پا پیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرما کر مدینۂ منورہ شریف روضۂ رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر مسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
آپ حضور ﷺ کا حکم پاتے ہی ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں وارد ہوئے ۔
اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پر کچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے ۔ اس وقت کراچی شہر کو " در بور بندر " کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگا مارا قبائل کے، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔
سید عالم شاہ نے سب سے پہلے ٹانگا مارا قبائل کی بستی میں قیام فرما کر ان لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پُورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے ۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا بلکہ اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِ خدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کا اقرار کروایا اور دل سے تصدیق ۔
تاریخِ وصال:
سید عبد الوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ / بمطابق ستمبر 1636ء میں رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار پر انوار عید گاہ جامع کلاتھ کراچی میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عبد الوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutb-e-alam-shah-bukhari
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: سید عبد الوہاب شاہ ۔ لقب: پیر قطب ۔ اور " عالم شاہ " مشہور و معروف ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:
عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام " اوچ شریف " ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ پھر دیگر علومِ دینیہ وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والدِ بزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ سے خرقہ و دستارِ جدی و طریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الشیوخ، قطبِ عالم حضرت سید عبد الوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم و حکمت اور سرِ باری تعالیٰ تھے ۔
آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔ آپ نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کر لی ۔
آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک " سبز علم " بھی عطا فرما کر اشاعتِ دینیہ کا حکم دیا ۔ آپ اپنے والد کا حکم پاکر اطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی و روحانی کا فریضہ " سبز علم " لیے ادا فرماتے رہے ۔
پھر پا پیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرما کر مدینۂ منورہ شریف روضۂ رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر مسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔
آپ حضور ﷺ کا حکم پاتے ہی ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں وارد ہوئے ۔
اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پر کچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے ۔ اس وقت کراچی شہر کو " در بور بندر " کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں ۔ اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگا مارا قبائل کے، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکے گزر بسر کرتے تھے ۔
سید عالم شاہ نے سب سے پہلے ٹانگا مارا قبائل کی بستی میں قیام فرما کر ان لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پُورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے ۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا بلکہ اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِ خدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کا اقرار کروایا اور دل سے تصدیق ۔
تاریخِ وصال:
سید عبد الوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ / بمطابق ستمبر 1636ء میں رحلت فرمائی ۔ آپ کا مزار پر انوار عید گاہ جامع کلاتھ کراچی میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
عبد الوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-qutb-e-alam-shah-bukhari
scholars.pk
Hazrat Syed Qutb-e-Alam Shah Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-04-1445 ᴴ | 10-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1