🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بہاءالدین محمد بن جلال الدین رومی معروف بہ سلطان ولد رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
بہاء الدین محمد ۔ لقب: سلطان ولد ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا بہاءالدین محمد بن مولائے روم مولانا محمد جلال الدین رومی بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) ۔

آپ مولائے روم حضرت مولانا محمد جلال الدین رومی کے فرزندِ اکبر اور دوسرے جانشین تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 25 ربیع الآخر 623ھ / مطابق ماہ اپریل 1226ء کو " لارندہ " میں ہوئی، جسے اب " قرامان " کہتے ہیں ۔

قرامان یہ قونیہ شریف سے 100 کلو میٹر جنوب میں واقع ترکی کا ایک مرکزی شہر ہے ۔

تحصیل علم:
ابتدا ہی سے دانائے امت مولانا جلال الدین رومی ان پر خاص لطف و عنایت روا رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے بارہا اس توجہ اور مہربانی کا ذکر فرماتے تھے ۔

مولانا نے خود انہیں برہان الدین ابو بکر مرغینانی کی کتاب ہدایہ پڑھائی تھی اور جب وہ سنِ بلوغ کو پہنچ گئے تو بہاء الدین اور ان کے بھائی علاء الدین کو انہوں نے حلب اور دمشق بھیج دیا ۔

شام سے واپسی کے بعد بہاء الدین نے اپنے والد مولانا روم، برہان الدین محقق ترمذی، حضرت شمس تبریزی، صلاح الدین فریدون زرکوب اور حسام الدین چلپی سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔

بیعت و خلافت:
مولانا سلطان ولد نے اپنے والد گرامی حضرت مولائے روم دانائے امت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ سے ظاہر و باطنی علوم کی تحصیل کی، اور ان کے بعد ان کے سلسلہ مولویہ کے منتظم و جانشین قرار پائے ۔ اسی طرح حضرت شمس تبریزی، اور مولانا حسام الدین چلپی سے بھی روحانی استفادہ فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
شیخ الاجل، عالم اکمل، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، نائبِ دانائے امت مولائے روم، بہاءالدین محمد المعروف سلطان ولد رومی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت مولائے روم کے پرتو جمیل، اور جانشینِ صادق تھے ۔ علم و عمل، ذہانت و فطانت، اور شکل و شباہت میں ثانیِ مولائے روم حضرت جلال الدین رومی تھے ۔ ان کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی تربیت و اشاعت کی ذمہ دای آپ پر آئی، اور آپ نے اس کو بطریق احسن نبھایا ۔

یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ مولانا نے اپنی وفات کے بعد اپنے مرید و خلیفہ خاص مولانا حسام الدین چلپی علیہ الرحمہ کو اپنا نائب و جانشین منتخب کیا تھا ۔ جو گیارہ سال تک مولانا روم کے وصال کے بعد ان کے جانشین، اور علمی و روحانی امانتوں کے وارث رہے ۔

اس وقت مولانا روم کے صاحبزادے سلطان ولد بھی موجود تھے، اور تمام کمالات کے جامع تھے ۔ لیکن ان کا مقام مولانا چلپی سے کم تھا ۔ اس لئے ان کو منتخب کیا گیا، اور سلطان ولد علیہ الرحمہ گیارہ سال تک ان کی خدمت کرتے رہے اور ان کے حکم کی تعمیل فرماتے رہے ۔ (فی زمانہ اس کی مثال ہمیں نظر نہیں آئی، پیر صاحب کے وصال کے بعد ہر حال میں ان کا صاحبزادہ ہی جانشین ہوگا، چاہے وہ بالکل صفر ہی کیوں نہ ہو، اور پیر صاحب کے مریدوں میں چاہے کوئی کتنا ہی صاحب کمال کیوں نہ ہو، وہ ان کی گدی کا وارث نہیں بن سکتا ہے ۔

اس موروثی سلسلے نے ہمارے خانقاہی نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور پھر جہالت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ اور اب مدارس میں بھی یہی موروثی سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے مدارس کی حالت ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہی رہے ۔ الا ماشاء اللہ) ۔

مولانا بہاءالدین کا اپنے والد کے ساتھ بڑا قریبی تعلق تھا اور اپنے بھائی کے بر خلاف، کہ جنہیں صوفیانہ طریقِ زندگی اور سلوک سے چنداں علاقہ نہیں تھا، وہ ہمیشہ مولانا کی پیروی کرتے تھے، ان کے دوستوں اور مریدوں کے بیچ حاضر ہوتے اور ان کی روش و منش کو اپنے لیے نمونہ قرار دیتے تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا اپنے مریدوں اور اقرباء میں سے صلاح الدین زرکوب، حسام الدین چلبی اور بہاء الدین محمد کو اپنے نزدیک ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے ۔ بہاءالدین صوفیوں کی اکثر محفلوں میں اپنے والد کے ہمراہ حاضر ہوتے تھے اور ان کی اپنے والد سے اتنی شباہتِ ظاہری تھی کہ اغلب انہیں مولانا کا بھائی سمجھا جاتا تھا ۔ شکل وشباہت میں اپنے والد کے مشابہ تھے ۔
1
مولانا حسام الدین چلپی کے وصال کے بعد سلسلۂ مولویہ کی از سر تشکیل نو اور شکل گیری کا آغاز مولانا سلطان ولد کی خلافت ہی میں ہوا تھا ۔ انہوں نے اپنے والد کے مریدوں کو اپنے گرد جمع کیا اور اس طریقے کے امور کو نظم بخشا اور مریدوں کی مدد سے قونیہ میں واقع مولانا کے مزار پر قبہ بنوایا جس نے اس شہر کو مرکزیت بخش دی ۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی تیس سالہ پیشوائی کے دور میں مولویہ طریقے کے آداب وضع کیے اور مختلف شہروں میں مولویہ خانقاہیں قائم کروا کر اور اپنے نائبوں اور نمائندوں کو بھیج کر مولویہ طریقے کی ترویج کی کوشش کی ۔

سلطان ولد اپنے والد کے پہلے سوانح نگار اور ان کے افکار و اشعار کے پہلے مفسر تھے ۔ انہوں نے سپہ سالار اور افلاکی سے قبل مولانا کی زندگی اور مولویہ سلسلے کی تاریخ کی تدوین کا آغاز کیا اور ان کی کتابیں مولانا رومی کے بارے میں قابلِ اعتماد ماخذ کا درجہ رکھتی ہیں ۔ چند محققوں کے مطابق وہ اولین شخص تھے جنہوں نے مولانا رومی کے خطبوں اور مجالس کو جمع کرنا شروع کیا تھا ۔ نیز کچھ لوگوں کے مطابق مقالاتِ شمس کا قدیم ترین نسخہ بھی سلطان ولد کے ہاتھوں سے لکھا گیا ہے ۔

اسی طرح مولانا سلطان ولد علیہ الرحمہ ایک زبردست محقق، فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ، اور ادیب و شاعر تھے، ان کی شاعری میں حضرت مولائے روم کی جھلک پائی جاتی تھی ۔ آپ پہلے شاعر ہیں جنہوں نےترکی شاعری کو فارسی اوزان و قواعد میں بیان کیا ۔ ترکی کی مقامی اور قومی زبان کی وجہ سے ان کی شاعری کو بہت اہمیت حاصل ہوئی ۔ اسی بناء پر آپ کو عثمانی ملت کا قومی شاعر، اور اس طرز ادب کا بانی کہا ہے ۔

آپ کا دیوان تیرہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے علاوہ مثنوی ولد نامہ یا ابیات نامہ یہ دس ہزار ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان کی شاعری عربی، فارسی، ترکی، یونانی زبانوں پر محیط ہے ۔ لیکن ان کو وہ مقام نہیں مل سکا جو ان کے والد گرامی مولائے روم کے حصے میں آیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی نظم و نثر میں ان بہترین کتب تصنیف فرمائی ہیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10 رجب المرجب 712ھ / مطابق اول ماہ نومبر 1312ء کو ہوا ۔ اپنے والد کے قرب " قونیہ شریف " ترکی میں محو استراحت ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی معنوی ۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-walad-bin-molana-room
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ حمزہ دہرسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے، اور آپ کا سلسلہ میر سید محمد گیسودراز تک پہنچتا ہے۔ آپ بڑے بابرکت، صاحبِ نعمت و کرامت اور دائم العبادت بزرگ تھے، اوقات کے بہت پابند تھے، آپ کی عمر بھی بہت طویل تھی، سلطان بہلول کے زمانہ سے اسلام شاہ کے دَور سلطنت تک زندہ رہے، اوائل عمر میں آپ نے کسی سلطان کے ہاں ملازمت بھی کی تھی، کہتے ہیں کہ ایک رات اس کے محل کی آپ نگرانی کررہے تھے کہ اچانک آپ کے دل میں خیال آیا کہ مجھے اس کا کام کرنا چاہیے جو میری حفاظت کرتا ہونہ اس کا جس کی میں حفاظت کروں، اس خیال کے آنے کے بعد آپ خواجہ معین الدین کے پاس اجمیر چلے گئے اور وہاں جاتے ہی ایک دیوانے سے ملاقات ہوگئی جس کا نام بھی معین الدین ہی تھا چنانچہ آپ نے انہی سے فیض حاصل کیا اور علاوہ ازیں شیخ احمد مجدی کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوئے تھے اور اس کے بعد اجمیر سے اپنے وطن دھرسو واپس تشریف لائے جو نارنول سے صرف تین میل کے فاصلہ پرواقع ہے اورپھر مستقل وہیں رہنے لگے، آپ کے والد محترم اور دیگر رشتہ دار نرھر میں رہتے تھے لیکن آپ دھر سو میں اس لیے مقیم ہوئے کہ یہاں کے اکثر سادات عملاً ٹھیک نہ رہے تھے اور اپنے اسلاف کی وضع قطع سے کوسوں دور جاپڑے تھے، آپ ان کی تربیت کرنے کی غرض سے یہاں گئے، چنانچہ آپ نے انھیں ابتداً علم سے روشناس کرانے کے لیے عربی اورفارسی زبان کے دو استادوں کا تقرر کیا، طالب علموں اور فقیروں سے محبت کیا کرتے تھے اور غیب سے اللہ تعالیٰ آپ کے تمام تر اخراجات پورے فرما دیا کرتے تھے چنانچہ آپ کو جتنا کچھ غیب سے ملتا تھا وہ تمام ہی خرچ فرمادیا کرتے تھے اس میں سے کچھ بچایا نہ کرتے تھے اپنے اہل و عیال کو بھی اس میں سے بقدر حصہ دیتے تھے، آپ نے جس دن سے خلوت نشینی اختیار کی اس دن کے بعد نہ خود اور نہ ہی کسی اپنے خادم کو کسی اہل دنیا کی طرف بھیجا۔

آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ ہمیشہ جمعہ کی نماز کے لیے دھر سو سے نار نول آتے، راستے میں لکڑیوں کو جمع کرتے چلے آتے اور جہاں کوئی فقیر مل جاتا تو ان میں سے کچھ لکڑیاں اس کو دے دیا کرتے تھے۔

دُنیا آگ ہے:
آپ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا آگ کی مانند ہے، اس آگ کو اتنا لیا جائے کہ جس کے ذریعہ کچھ پکار کرسکیں اور سردیوں میں گرم رہیں، یہ آگ جب زیادہ ہوجاتی ہے تو جلا کر راکھ کردیتی ہے، آپ کا ایک مرید کہا کرتا تھا کہ آپ نے ایک دن مجھے ایک ریگستان کی جانب بھیجا چنانچہ میں آپ کے ارشاد کے مطابق وہاں چلاگیا مگر ریگزاروں میں تو کوئی چیز کھانے اور پینے کی ہوا نہیں کرتی اس لیے میں بھوک اور پیاس سے سخت پریشان ہوگیا، میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا کہ پیر اپنے مریدوں کو وہاں بھیجا کرتے ہیں جہاں پانی کے بجائے دودھ ملا کرتا ہے، اور ایک میرر مُرشِد ہیں کہ جنھوں نے مجھے ایسی جگہ بھیجا ہے جہاں پانی تک میسر نہیں، اسی دَوران بہت دُور ایک گڈریا نظر آیا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا، میں نے اُس کے پاس پہنچ کر کہا کہ تم اپنی مشک سے چند قطرے پانی کے میرے منہ میں ٹپکا دو میں پیاس سے مر رہا ہوں، اس نے کہا کہ اس میں پانی نہیں، بلکہ دودھ ہے اور تھوڑا سا دودھ مجھے دیدیا، اس کے بعد میں آگے روانہ ہوا اور پیاس نے مجھے پھر بےتاب کردیا، چنانچہ اس ریگزار میں اچانک میری نظر ایک نشیبی مقام پر پڑی جہاں میٹھے اور ٹھنڈ سے پانی کا ایک چشمہ تھا، اس سے میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اس کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا مجھے ازسرنو زندگی مل گئی ہے آپ کی وفات 957ھ میں ہوئی، 25؍ ربیع الثانی کو مغرب کی دورکعت پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ رحمۃ اللہ علیہ

اخبار الاخیار

حضرت شیخ حمزہ دھرسوی(رحمتہ اللہ علیہ)

حضرت شیخ حمزہ صاحب کرامت بزرگ تھے۔

خاندانی حالات:

آپ حضرت شیخ بہاءالدین زکریاملتانی رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسے ہیں۔آپ کاسلسلہ نسب حضرت سید محمدگیسودرازرحمتہ اللہ علیہ سےملتاہے،آپ کےوالدین نرہرمیں تھے۔

ملازمت:

آپ شاہی لشکرمیں ملازم تھے۔

کایاپلٹ:

ایک رات کاواقعہ ہےکہ آپ شاہی محل کاپہرہ دےرہےتھے۔یکایک آپ کے دل میں خیال آیاکہ "کسی ایسے شخص کی خدمت کرنی چاہیے،جومیری حفاظت کرےنہ ایسے کی جس کی میں حفاظت کروں۔"اس خیال کاآناتھاکہ آپ ملازمت چھوڑ کرتلاش حق میں چل نکلے۔

اجمیرمیں آمد:

آپ اجمیرآئےاورحضرت خواجہ غریب نوازکےمزارکی زیارت سےمشرف ہوئے،اجمیرمیں رہنے لگے۔

حضرت شیخ احمدمجدشیبانی رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی مستفیدہوئے۔

اجمیرمیں ایک مجذوب سے ملاقات ہوئی،ان کانام باین تھا،ان سےبھی نعمت وبرکت پائی۔

واپسی:

اجمیرسےواپس اپنےوطن نرہرآئے،کچھ دنوں نرہرمیں رہے۔

دھرسومیں قیام:

نرہرسےسکونت ترک کرکےآپ دھرسوتشریف لائےاوروہیں مستقل سکونت اختیارکی۔ آپ کے دھرسومیں رہنےکی وجہ یہ تھی کہ وہاں جوسیدرہتےتھے،ان کی اخلاقی حالت خراب تھی۔آپ ان لوگوں کوسدھارناچاہتےتھے۔آپ نےان کی تعلیم وترب
1
یت کامعقول انتظام فرمایا۔

وفات:

آپ نے ۲۵ربیع الثانی ۹۵۷ھ کووفات پائی۔۱؎مزاردھرسومیں ہے۔

سیرت:

آپ عبادات ومجاہدات میں مشغول رہتےتھے۔خاندان سادات کی بہت عزت کرتےتھے۔ہر طرح سے ان کی امدادکرتےتھے،آپ کےپاس جونذرانےآتے،آپ سب خرچ کردیتے تھے۔ بیوی بچوں کےحصہ میں جوآتا،وہ ان کودیتے،حصے سے زیادہ نہ دیتے،دنیاسےکنارہ کش ہوکر عزلت میں دن گزارتےتھے،کسی دنیادارکےگھرنہ جاتےتھے۔

فرمان:

آپ فرماتےہیں کہ۔

"دنیاآگ کےمثل ہے،یہ اتنی ہی کافی ہے کہ جس سے کوئی چیزپکاکرکھالیں اورسردی میں گرم ہوجائیں،جب زیادہ ہوجاتی ہےتوجلاکرہلاک کردیتی ہے"۔

حواشی

۱؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)صفحہ ۳۸۳

(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)



آپ حضرت شیخ الاسلام زکریا ملتانی قدس سرہ کی اولاد سے تھے نسبت طریقت میر سید گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ سے تھا بڑے عظیم اور باکرامت بزرگ تھے معمور الاوقات اور دائم العبادت تھے سلطان بہلول کے زمانہ اقتدار سے اسلام شاہ کے دور حکومت تک زندہ رہے ابتدائی زندگی میں بادشاہ کی ملازمت کرتے تھے آپ کو قلعہ کی نگرانی دے رکھی تھی ایک رات پہرہ دیتے ہوئے دل میں خیال آیا مجھے اس کی ملازمت کرنا چاہیے جو میرا محافظ بن سکے یہ خیال اتنا پختہ ہوا کہ چند روز بعد اجمیر شریف چلے گئے وہاں ایک دیوانہ مجذوب حمزہ نامی ملا اس سے روحانی فیض ملا بعد میں شیخ احمد مجد شیبانی سے بیعت ہونے اور منازل سلوک طے کرنے لگے اپنے وطن واپس آئے۔ ملازمت ترک کی قصبہ دہر سو جو نارنول سے تین میل کے فاصلہ پر ہے قیام کرلیا۔ دہر سو کے سادات جاہل تھے اور شرافت کی زندگی سے دُور جا چکے تھے آپ نے ان لوگوں کو ظاہری اور باطنی علوم سے آگاہ کیا لوگوں سے نذرانے آتے آپ ان سادات پر خرچ کر دیتے تھے زیادہ فتوحات آنے لگیں تو فقرا و مساکین میں بانٹنے لگے اپنے اہل و عیال کو بھی اتنا ہی حصہ دیتے جتنا عام لوگوں کو نصیب ہوتا تھا۔

اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ حمزہ قدس سرہ نے اپنے ایک مرید خاص کو ریگستان کے علاقہ میں کسی کام کے لیے بھیجا وہ ریگستان میں پیاسہ مرنے لگا اس نے دل میں خیال کیا کہ پہلے بزرگ اپنے مریدوں کا اتنا خیال رکھاتے تھے تو پانی کی بجائے دودھ ملا کرتا تھا۔ میں آج پانی کے قطرے کو ترس ترس کر مررہا ہوں دور سے ایک چرواہا بھیڑ بکریاں ہانکتے نظر آیا جب پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بغل میں ایک مشکیزہ ہے جس میں پانی موجود ہے مرید نے کہا میں پیاسہ ہوں اس مشکیزے سے مجھے تھوڑا سا پانی پلادو اس نے کہا اس ریگستان میں پانی کہاں اس میں دودھ ہے اگر چاہو تو پلادوں جتنا پی سکتا تھا پیا کچھ دور چلا تو پیاس نے دوبارہ آلیا بڑا پریشان ہوا سامنے ایک جگہ نظر پڑی میٹھے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا پاس گیا سیراب ہوکر پیا اور خیال کیا یہ تمام حضرت شیخ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت سے ہے۔

صاحب اخبار الاخیار نے لکھا ہے حضرت حمزہ پچیس ربیع الثانی ۹۵۷ھ کو نماز مغرب پڑھ رہے تھے دو رکعت پڑھ لیں تیسری میں سجدہ ریز ہوئے تو واصل بحق ہوگئے۔

مقیم روضہ خلد بریں شُد
جو قطب اولیا مخدوم حمزہ
بگو افضل ولی تاریخ ترحیل
۹۵۷ھ
دگر اہل صفا مخدوم حمزہ
۹۵۷ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hamza-daharsavi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1