عہدۂ قاضی القضاۃ:
بتاریخ 622ھ کو الظاہر بامر اللہ کی طرف سے آپ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اور خلیفہ مذکورہ کے انتقال تک آپ منصب قضا پر فائز رہے، اس عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے اخلاق وعادات اور آپ کی تواضع وانکساری میں مطلقاً کچھ بھی فرق نہیں آیا بلکہ سابقہ دستور کے مطابق آپ ویسے ہی خلیق، تواضع پسند اور کریم النفس رہے۔ آپ کے اجلاس میں شہادتیں قلم بند کرلی جایا کرتی تھیں۔ خلیفہ نے آپ کے پاس دس ہزار دینار صرف اس غرض سے روانہ کیے تھے کہ اس روپیہ سے جتنے بھی مفلس، قرض دار، محبوس ہیں ان کا قرض ادا کرکے انہیں رہا کر دیا جائے اور خلیفہ موصوف نے آپ ہی کو اوقاف عامہ مثلاً مدارس حنفیہ، شافعیہ، جامع السلطان اور جامع ابن المطلب وغیرہ کا ناظر و نگراں مقرر فرمایا، آپ کو ان اوقاف میں ہر طرح کی ترمیم و تنسیخ اور ہر طرح کی بحالی و برطرفی کا پورا پورا اختیار دے دیا تھا اور مدرسہ نظامیہ میں بحالی و برطرفی بھی آپ ہی کے ذمے ہو گئی تھی۔ آپ آثار سلف صالحین کے قدم بقدم چلتے اور نہایت سرگرمی واہتمام سےا پنے منصب ِ قضا کو انجام دیتے رہے۔
شانِ قضاء:
آپ کے عہد ولایت کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کے اجلاس ہی میں اذان دی جاتی تھی اور آپ سب کو شریک نماز کرکے جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے، جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد میں پیادہ پا تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ خلیفہ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا المستنصر باللہ نے اپنے ابتدائی عہدِ خلافت سے چارماہ بعد 623ھ میں آپ کو منصبِ قضا سے معزول کر دیا ۔ اس معزولی کی خوشی پر آپ نے ایک قصیدہ تحریر فرمایا ۔ جس کا ایک شعر یہ ہے :
حمدت اللہ عزوجل لما
قضیٰ لی بالخلاص من القضاء
ترجمہ:
میں خدائے عزوجل کا شکر ادا کرتا ہوں ، جس نے مجھے قضا کے عہدے سے رہائی عطاء کر دی۔
درس و تدریس:
معزولی کے بعد آپ نے اپنے مدرسہ میں درس وافتاء کاسلسلہ شروع کیا اور بڑی بڑی مجلسیں آپ کے یہاں ہونے لگیں۔ بےشمار لوگوں نے آپ سے علم فقہ وحدیث سیکھا اور فیض حاصل کیا۔ آپ کے تفقہ کا اعتراف کرتے ہوئےصرصریؔ شاعر نے آپ کی مدح میں قصیدۂ لامیہ لکھا ۔ پھر دوبارہ مستنصر باللہ نے آپ کوکلیسائے روم کا (جس کو اس نے خانقاہ میں تبدیل کرکے حکومتی تحویل میں لےلیا تھا) صدر بنادیا۔ وہاں آپ کو بے حد تکریم وتعظیم حاصل ہوئی، عوام الناس بہت بڑی بڑی رقمیں آپ کی خدمت میں اس اختیار کے ساتھ روانہ کرتے کہ آپ جہاں چاہیں اس رقم کو خرچ کرسکتے ہیں۔
تصانیف:
افسوس کہ آپ کے علمی، فقہی وتحقیقی خدمات کی کوئی تفصیل مورخین نے نہیں لکھی میں صرف ایک کتاب کا پتہ لگ سکا ہے جو ’’ارشاد المبتدئین ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور علم فقہ میں اپنی نظیر آپ ہے۔
خلفاء:
آپ کے خلفاء کرام کی نیز اولاد امجاد کی کوئی بھی تفصیل کتب تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے صرف حضرت محی الدین ابو نصر محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتذکرہ اکثر مورخین نے تحریر فرمایا ہے۔ اور انہیں کو آپ نے اپنی خلافت ونیابت سے نوازا ہے۔
وصال:
آپ مطابق شجرۃ قادریہ رضویہ 27رجب المرجب 632ھ کو محبوب حقیقی سے جاملے۔ ’’اِنَّا لِلہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ مگر بعض لوگوں نے 6 شوال،13/شوال، 16شوّال 633ھ لکھا ہے۔ آپ نے ستر سال کی عمر میں صبح صادق کے وقت وصال فرمایا۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار مقدس بغداد شریف میں روضۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرجع خلائق ہے۔
ماخوذ از:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
نصربی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیات دیں محی جاں فزا کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-imaduddin-abu-saleh-nasr
بتاریخ 622ھ کو الظاہر بامر اللہ کی طرف سے آپ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اور خلیفہ مذکورہ کے انتقال تک آپ منصب قضا پر فائز رہے، اس عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے اخلاق وعادات اور آپ کی تواضع وانکساری میں مطلقاً کچھ بھی فرق نہیں آیا بلکہ سابقہ دستور کے مطابق آپ ویسے ہی خلیق، تواضع پسند اور کریم النفس رہے۔ آپ کے اجلاس میں شہادتیں قلم بند کرلی جایا کرتی تھیں۔ خلیفہ نے آپ کے پاس دس ہزار دینار صرف اس غرض سے روانہ کیے تھے کہ اس روپیہ سے جتنے بھی مفلس، قرض دار، محبوس ہیں ان کا قرض ادا کرکے انہیں رہا کر دیا جائے اور خلیفہ موصوف نے آپ ہی کو اوقاف عامہ مثلاً مدارس حنفیہ، شافعیہ، جامع السلطان اور جامع ابن المطلب وغیرہ کا ناظر و نگراں مقرر فرمایا، آپ کو ان اوقاف میں ہر طرح کی ترمیم و تنسیخ اور ہر طرح کی بحالی و برطرفی کا پورا پورا اختیار دے دیا تھا اور مدرسہ نظامیہ میں بحالی و برطرفی بھی آپ ہی کے ذمے ہو گئی تھی۔ آپ آثار سلف صالحین کے قدم بقدم چلتے اور نہایت سرگرمی واہتمام سےا پنے منصب ِ قضا کو انجام دیتے رہے۔
شانِ قضاء:
آپ کے عہد ولایت کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کے اجلاس ہی میں اذان دی جاتی تھی اور آپ سب کو شریک نماز کرکے جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے، جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد میں پیادہ پا تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ خلیفہ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا المستنصر باللہ نے اپنے ابتدائی عہدِ خلافت سے چارماہ بعد 623ھ میں آپ کو منصبِ قضا سے معزول کر دیا ۔ اس معزولی کی خوشی پر آپ نے ایک قصیدہ تحریر فرمایا ۔ جس کا ایک شعر یہ ہے :
حمدت اللہ عزوجل لما
قضیٰ لی بالخلاص من القضاء
ترجمہ:
میں خدائے عزوجل کا شکر ادا کرتا ہوں ، جس نے مجھے قضا کے عہدے سے رہائی عطاء کر دی۔
درس و تدریس:
معزولی کے بعد آپ نے اپنے مدرسہ میں درس وافتاء کاسلسلہ شروع کیا اور بڑی بڑی مجلسیں آپ کے یہاں ہونے لگیں۔ بےشمار لوگوں نے آپ سے علم فقہ وحدیث سیکھا اور فیض حاصل کیا۔ آپ کے تفقہ کا اعتراف کرتے ہوئےصرصریؔ شاعر نے آپ کی مدح میں قصیدۂ لامیہ لکھا ۔ پھر دوبارہ مستنصر باللہ نے آپ کوکلیسائے روم کا (جس کو اس نے خانقاہ میں تبدیل کرکے حکومتی تحویل میں لےلیا تھا) صدر بنادیا۔ وہاں آپ کو بے حد تکریم وتعظیم حاصل ہوئی، عوام الناس بہت بڑی بڑی رقمیں آپ کی خدمت میں اس اختیار کے ساتھ روانہ کرتے کہ آپ جہاں چاہیں اس رقم کو خرچ کرسکتے ہیں۔
تصانیف:
افسوس کہ آپ کے علمی، فقہی وتحقیقی خدمات کی کوئی تفصیل مورخین نے نہیں لکھی میں صرف ایک کتاب کا پتہ لگ سکا ہے جو ’’ارشاد المبتدئین ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور علم فقہ میں اپنی نظیر آپ ہے۔
خلفاء:
آپ کے خلفاء کرام کی نیز اولاد امجاد کی کوئی بھی تفصیل کتب تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے صرف حضرت محی الدین ابو نصر محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتذکرہ اکثر مورخین نے تحریر فرمایا ہے۔ اور انہیں کو آپ نے اپنی خلافت ونیابت سے نوازا ہے۔
وصال:
آپ مطابق شجرۃ قادریہ رضویہ 27رجب المرجب 632ھ کو محبوب حقیقی سے جاملے۔ ’’اِنَّا لِلہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ مگر بعض لوگوں نے 6 شوال،13/شوال، 16شوّال 633ھ لکھا ہے۔ آپ نے ستر سال کی عمر میں صبح صادق کے وقت وصال فرمایا۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار مقدس بغداد شریف میں روضۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرجع خلائق ہے۔
ماخوذ از:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
نصربی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیات دیں محی جاں فزا کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-imaduddin-abu-saleh-nasr
scholars.pk
Hazrat Sheikh Imaduddin Abu Saleh Nasr
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
سید ابو صالح عبد اللہ نصر رضی الله عنه نام و نسب: کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔ سلسلۂ نسب: سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت…
نصربی صالح کا صدقہ
صالح و منصور رکھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/45582
دے حیات دیں محی
جاں فزا کے واسطے
صالح و منصور رکھ
https://t.me/islaamic_Knowledge/45582
دے حیات دیں محی
جاں فزا کے واسطے
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1