🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نکاح پڑھانے کی اجرت
نکاح پڑھانے کا ہدیہ
اجرت طے کئے بغیر نکاح پڑھانا
کم سے کم مہر | مہر کی کم سے کم
اور زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی یے؟
حضرت فاطمہ کا حق مہر کتنا تھا ؟
دولہا بن کر نکلنے والے جس دن جنازہ
جنت میں مردوں کو حوریں ملیں‌گی
تو جنت میں عورتوں کو کیا ملےگا ؟
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا انوار اللہ خاں حیدر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
حضرت مولانا انور اللہ خاں 24 ربیع الثانی 1264ھ میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
حضرت مولانا عبد الحلیم رزاق فرنگی محلی اور اُن کے نامور صاحبزادہ مولانا عبد الحئی سے علوم کی تحصیل کی اور مدارج کمال کو پہونچے ـ

ساری عمر خدمت و اشاعت دین میں بسر کی ـ ۱۲۵۵ھ میں انتظام کے اُستاد مقرر ہوئے ـ ۱۳۳۰ھ میں محکمۂ احتساب سپرد ہوا ـ ۱۳۳۳ھ میں فضیلت جنگ کا خطاب، ملا اور وزیر اوقاف مقرر ہوئے ـ

مولانا کی زندگی عبات و ریاضت سے پُر نور تھی، درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کی طرف خاص توجہ تھی ـ

قادیانیت کی شورش اور فتنہ انگیزی کے انسداد میں افادۃ الانھام ’’ تالیف فرمائی ـ

وصال:
۱۳۳۵ھ میں وفات ہوئی ـ
بتاریخ 24 ربیع الآخر 1335ھ

آپ کے حالات و خدمات میں ” انور الحق “ مفصل کتاب ہے ۔ انور احمد کی تالیف ہے (دکن میں اُردو) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-anwarullah-khan-hyderabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
سید ابو صالح عبد اللہ نصر رضی الله عنه

نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔

سلسلۂ نسب:
سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا ۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر و برکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں ۔ بغداد شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔

تحصیل علم:
حضرت ابو صالح نصر نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔

سیرت و خصائص:
شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ علیہ الرحمہ

آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔

حافظ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیا ہے کہ: آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت، فقیہ، مناظر، محدث، عابد و زاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جد امجد سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے مدرسہ کے متولی تھے ۔ آپ انتہائی فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے، آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی، روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔

بد مذہب سے آپ کی بیزاری:
آپ شریعت و طریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے اور خلافِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔

چنانچہ اپنا ایک واقعہ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کے مکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کر رہا تھا اور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اور ابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کو سلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیا لیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو ابن کرم یہودی ہے جو ٹکسال کا گورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر کر میرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیا تو میں نے اس سے کہا کہ: اس جگہ سے کھڑے ہو جاؤ ہلاکت تیرا مقدر ہو، تو جب داخل ہوا تو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیماً کھڑا ہو گیا تھا حالانکہ فقیہ ہونا تو درکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہو کر سنتا رہا اور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلا گیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقرر تھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتا تھا مگر میں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی الله تعالیٰ عنه کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تو مجھ سے کہا گیا کہ: آپ کا وظیفہ تو ابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کر لیں ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اور نہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
1
عہدۂ قاضی القضاۃ:
بتاریخ 622ھ کو الظاہر بامر اللہ کی طرف سے آپ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اور خلیفہ مذکورہ کے انتقال تک آپ منصب قضا پر فائز رہے، اس عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے اخلاق وعادات اور آپ کی تواضع وانکساری میں مطلقاً کچھ بھی فرق نہیں آیا بلکہ سابقہ دستور کے مطابق آپ ویسے ہی خلیق، تواضع  پسند اور کریم النفس رہے۔ آپ کے اجلاس میں شہادتیں قلم بند کرلی جایا کرتی تھیں۔ خلیفہ نے آپ کے پاس دس ہزار دینار صرف اس غرض سے روانہ کیے تھے کہ اس روپیہ سے جتنے بھی مفلس، قرض دار، محبوس ہیں ان کا قرض ادا کرکے انہیں رہا کر دیا جائے اور خلیفہ موصوف نے آپ ہی کو اوقاف عامہ مثلاً مدارس حنفیہ، شافعیہ، جامع السلطان اور جامع ابن المطلب وغیرہ کا ناظر و نگراں مقرر فرمایا، آپ کو ان اوقاف میں ہر طرح کی ترمیم و تنسیخ اور ہر طرح کی بحالی و برطرفی کا پورا پورا اختیار دے دیا تھا اور مدرسہ نظامیہ میں بحالی و برطرفی بھی آپ ہی کے ذمے ہو گئی تھی۔ آپ آثار سلف صالحین کے قدم بقدم چلتے اور نہایت سرگرمی واہتمام سےا پنے منصب ِ قضا کو انجام دیتے رہے۔

شانِ قضاء:
آپ کے عہد ولایت کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کے اجلاس ہی میں اذان دی جاتی تھی اور آپ سب کو شریک نماز کرکے جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے، جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد میں پیادہ پا تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ خلیفہ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا المستنصر باللہ نے اپنے ابتدائی عہدِ خلافت سے چارماہ بعد 623ھ میں آپ کو منصبِ قضا سے معزول کر دیا ۔ اس معزولی کی خوشی پر آپ نے ایک قصیدہ تحریر فرمایا ۔ جس کا ایک شعر یہ ہے :

حمدت اللہ عزوجل لما
قضیٰ لی بالخلاص من القضاء

ترجمہ:
میں خدائے عزوجل کا شکر ادا کرتا ہوں ، جس نے مجھے قضا کے عہدے سے رہائی عطاء کر دی۔

درس و تدریس:
معزولی کے بعد آپ نے اپنے مدرسہ میں درس وافتاء کاسلسلہ شروع کیا اور بڑی بڑی مجلسیں آپ کے یہاں ہونے لگیں۔ بےشمار لوگوں نے آپ سے علم فقہ وحدیث سیکھا اور فیض حاصل کیا۔ آپ کے تفقہ کا اعتراف کرتے ہوئےصرصریؔ شاعر نے آپ کی مدح میں قصیدۂ لامیہ لکھا ۔ پھر دوبارہ مستنصر باللہ نے آپ کوکلیسائے روم کا (جس کو اس نے خانقاہ میں تبدیل کرکے حکومتی تحویل میں لےلیا تھا) صدر بنادیا۔ وہاں آپ کو بے حد تکریم وتعظیم حاصل ہوئی، عوام الناس بہت بڑی بڑی رقمیں آپ کی خدمت میں اس اختیار کے ساتھ روانہ کرتے کہ آپ جہاں چاہیں اس رقم کو خرچ کرسکتے ہیں۔

تصانیف:
افسوس کہ آپ کے علمی، فقہی وتحقیقی خدمات کی کوئی تفصیل مورخین نے نہیں لکھی میں صرف ایک کتاب کا پتہ لگ سکا ہے جو ’’ارشاد المبتدئین ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور علم فقہ میں اپنی نظیر آپ ہے۔

خلفاء:
آپ کے خلفاء کرام کی نیز اولاد امجاد کی کوئی بھی تفصیل کتب تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے صرف حضرت محی الدین ابو نصر محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتذکرہ اکثر مورخین نے تحریر فرمایا ہے۔ اور انہیں کو آپ نے اپنی خلافت ونیابت سے نوازا ہے۔

وصال:
آپ مطابق شجرۃ قادریہ رضویہ 27رجب المرجب 632ھ کو محبوب حقیقی سے جاملے۔ ’’اِنَّا لِلہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ مگر بعض لوگوں نے 6 شوال،13/شوال، 16شوّال 633ھ لکھا ہے۔ آپ نے ستر سال کی عمر میں صبح صادق کے وقت وصال فرمایا۔

مزار مبارک:
آپ کا مزار مقدس بغداد شریف میں روضۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرجع خلائق ہے۔

ماخوذ از:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:

نصربی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیات دیں محی جاں فزا کے واسطے

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-imaduddin-abu-saleh-nasr
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-04-1445 ᴴ | 09-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1