🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نکاح پڑھانے کی اجرت
نکاح پڑھانے کا ہدیہ
اجرت طے کئے بغیر نکاح پڑھانا
کم سے کم مہر | مہر کی کم سے کم
اور زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی یے؟
حضرت فاطمہ کا حق مہر کتنا تھا ؟
دولہا بن کر نکلنے والے جس دن جنازہ
جنت میں مردوں کو حوریں ملیںگی
تو جنت میں عورتوں کو کیا ملےگا ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نکاح پڑھانے کی اجرت
نکاح پڑھانے کا ہدیہ
اجرت طے کئے بغیر نکاح پڑھانا
کم سے کم مہر | مہر کی کم سے کم
اور زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی یے؟
حضرت فاطمہ کا حق مہر کتنا تھا ؟
دولہا بن کر نکلنے والے جس دن جنازہ
جنت میں مردوں کو حوریں ملیںگی
تو جنت میں عورتوں کو کیا ملےگا ؟
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا انوار اللہ خاں حیدر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا انور اللہ خاں 24 ربیع الثانی 1264ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
حضرت مولانا عبد الحلیم رزاق فرنگی محلی اور اُن کے نامور صاحبزادہ مولانا عبد الحئی سے علوم کی تحصیل کی اور مدارج کمال کو پہونچے ـ
ساری عمر خدمت و اشاعت دین میں بسر کی ـ ۱۲۵۵ھ میں انتظام کے اُستاد مقرر ہوئے ـ ۱۳۳۰ھ میں محکمۂ احتساب سپرد ہوا ـ ۱۳۳۳ھ میں فضیلت جنگ کا خطاب، ملا اور وزیر اوقاف مقرر ہوئے ـ
مولانا کی زندگی عبات و ریاضت سے پُر نور تھی، درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کی طرف خاص توجہ تھی ـ
قادیانیت کی شورش اور فتنہ انگیزی کے انسداد میں افادۃ الانھام ’’ تالیف فرمائی ـ
وصال:
۱۳۳۵ھ میں وفات ہوئی ـ
بتاریخ 24 ربیع الآخر 1335ھ
آپ کے حالات و خدمات میں ” انور الحق “ مفصل کتاب ہے ۔ انور احمد کی تالیف ہے (دکن میں اُردو) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-anwarullah-khan-hyderabadi
ولادت:
حضرت مولانا انور اللہ خاں 24 ربیع الثانی 1264ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
حضرت مولانا عبد الحلیم رزاق فرنگی محلی اور اُن کے نامور صاحبزادہ مولانا عبد الحئی سے علوم کی تحصیل کی اور مدارج کمال کو پہونچے ـ
ساری عمر خدمت و اشاعت دین میں بسر کی ـ ۱۲۵۵ھ میں انتظام کے اُستاد مقرر ہوئے ـ ۱۳۳۰ھ میں محکمۂ احتساب سپرد ہوا ـ ۱۳۳۳ھ میں فضیلت جنگ کا خطاب، ملا اور وزیر اوقاف مقرر ہوئے ـ
مولانا کی زندگی عبات و ریاضت سے پُر نور تھی، درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کی طرف خاص توجہ تھی ـ
قادیانیت کی شورش اور فتنہ انگیزی کے انسداد میں افادۃ الانھام ’’ تالیف فرمائی ـ
وصال:
۱۳۳۵ھ میں وفات ہوئی ـ
بتاریخ 24 ربیع الآخر 1335ھ
آپ کے حالات و خدمات میں ” انور الحق “ مفصل کتاب ہے ۔ انور احمد کی تالیف ہے (دکن میں اُردو) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-anwarullah-khan-hyderabadi
❤1
سید ابو صالح عبد اللہ نصر رضی الله عنه
نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔
سلسلۂ نسب:
سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا ۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر و برکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں ۔ بغداد شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔
تحصیل علم:
حضرت ابو صالح نصر نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔
سیرت و خصائص:
شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ علیہ الرحمہ
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔
حافظ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیا ہے کہ: آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت، فقیہ، مناظر، محدث، عابد و زاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جد امجد سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے مدرسہ کے متولی تھے ۔ آپ انتہائی فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے، آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی، روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔
بد مذہب سے آپ کی بیزاری:
آپ شریعت و طریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے اور خلافِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔
چنانچہ اپنا ایک واقعہ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کے مکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کر رہا تھا اور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اور ابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کو سلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیا لیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو ابن کرم یہودی ہے جو ٹکسال کا گورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر کر میرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیا تو میں نے اس سے کہا کہ: اس جگہ سے کھڑے ہو جاؤ ہلاکت تیرا مقدر ہو، تو جب داخل ہوا تو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیماً کھڑا ہو گیا تھا حالانکہ فقیہ ہونا تو درکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہو کر سنتا رہا اور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلا گیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقرر تھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتا تھا مگر میں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی الله تعالیٰ عنه کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تو مجھ سے کہا گیا کہ: آپ کا وظیفہ تو ابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کر لیں ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اور نہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔ اسم گرامی: عبد اللہ نصر ۔ لقب: عماد الدین ۔
سلسلۂ نسب:
سید ابو عبد اللہ نصر بن سید عبد الرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام: ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا ۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر و برکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں ۔ بغداد شریف میں ہی آپ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔
تحصیل علم:
حضرت ابو صالح نصر نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔
سیرت و خصائص:
شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ علیہ الرحمہ
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔
حافظ ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیا ہے کہ: آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت، فقیہ، مناظر، محدث، عابد و زاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جد امجد سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله تعالیٰ عنه کے مدرسہ کے متولی تھے ۔ آپ انتہائی فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے، آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی، روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔
بد مذہب سے آپ کی بیزاری:
آپ شریعت و طریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے اور خلافِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔
چنانچہ اپنا ایک واقعہ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کے مکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کر رہا تھا اور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اور ابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کو سلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیا لیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو ابن کرم یہودی ہے جو ٹکسال کا گورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کے پاس سے گزر کر میرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیا تو میں نے اس سے کہا کہ: اس جگہ سے کھڑے ہو جاؤ ہلاکت تیرا مقدر ہو، تو جب داخل ہوا تو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیماً کھڑا ہو گیا تھا حالانکہ فقیہ ہونا تو درکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہو کر سنتا رہا اور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ میرے سامنے سے دفع ہو جاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلا گیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقرر تھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتا تھا مگر میں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی الله تعالیٰ عنه کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کر رہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تو مجھ سے کہا گیا کہ: آپ کا وظیفہ تو ابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کر لیں ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اور نہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
❤1