حضرت مولانا حکیم فخر الدین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا حکیم فخر الدین احمد الہ آباد کے مشہور مشائخ خاندان کے فرد تھے ۔
ولادت:
۱۲۳۱ھ میں دائرہ شاہ رفیع الزماں میں آپ کی ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
لکھنؤ جاکر مولانا مفتی محمد یوسف ومولانا مفتی محمد اصغر فرنگی محلی سے علوم مروجہ کی تکمیل کی ـ
وطن واپس ہوکر خاندانی سجادہ کو رونق دی، معرکہ علاج کرتے تھے، حکیم بادشاہ کے لقب سے مشہور تھے، ساتھ ہی درس و تدریس اور تصنیف کا مشغلہ بھی رکھتے تھے ۔
مولوی محمد اسماعیل دہلوی کے رسالہ تقویۃ الایمان کے رد میں ’’ ازالۃ الشکوک والا بام ‘‘ آپ کی عمدہ اور کامیاب تصنیف ہے ۔
وصال:
۲۳ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ میں آپ نے وفات پائی محلہ یحییٰ پور الہ آباد میں دفن ہوئے ۔
( تذکرہ کاملان رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-fakhruddin-ahmad-allahabadi
حضرت مولانا حکیم فخر الدین احمد الہ آباد کے مشہور مشائخ خاندان کے فرد تھے ۔
ولادت:
۱۲۳۱ھ میں دائرہ شاہ رفیع الزماں میں آپ کی ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
لکھنؤ جاکر مولانا مفتی محمد یوسف ومولانا مفتی محمد اصغر فرنگی محلی سے علوم مروجہ کی تکمیل کی ـ
وطن واپس ہوکر خاندانی سجادہ کو رونق دی، معرکہ علاج کرتے تھے، حکیم بادشاہ کے لقب سے مشہور تھے، ساتھ ہی درس و تدریس اور تصنیف کا مشغلہ بھی رکھتے تھے ۔
مولوی محمد اسماعیل دہلوی کے رسالہ تقویۃ الایمان کے رد میں ’’ ازالۃ الشکوک والا بام ‘‘ آپ کی عمدہ اور کامیاب تصنیف ہے ۔
وصال:
۲۳ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ میں آپ نے وفات پائی محلہ یحییٰ پور الہ آباد میں دفن ہوئے ۔
( تذکرہ کاملان رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-fakhruddin-ahmad-allahabadi
❤1
حضرت مولانا سید عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ
ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ
تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔
عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔
عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔
وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔
1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ
ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ
تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔
عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔
عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔
وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔
1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-04-1445 ᴴ | 07-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1