🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-04-1445 ᴴ | 07-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-04-1445 ᴴ | 07-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
شیخ مجدالدین بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مجد الدین ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: ابو الفتح ۔ بغداد کی نسبت سے بغدادی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الفتح مجد الدین شرف بن مؤید بن ابی الفتح بغدادی ۔ علیہم الرحمہ ۔ تصحیح: آپ کا اسمِ گرامی: مجَدُ الدّین ہے ۔ نہ کہ مجدد الدین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 554ھ / مطابق 1159ء کو بغداد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والدِ گرامی اور والدہ محترمہ اپنے وقت کے تعلیم یافتہ انسان تھے ۔ والد اور والدہ دونوں طبیب تھے ۔ بغداد میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ ان کی مہارت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب شاہِ خوارزم نے خلیفہ بغداد سے اپنے علاج کے لئے کوئی طبیب مانگا، تو انہوں نے آپ کے والد کو بھیج دیا ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والدین کے زیر سایہ ہوئی ۔ پھر بغداد کے صاحبانِ علم سے تحصیلِ علم کیا ۔ آپ کا شمار اس وقت کے کاملین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
امام الاولیاء حضرت شیخ نجم الدین کبری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سید الاولیاء، شیخ الاصفیاء، مجاہدِ کبیر، ولیِ کامل، واعظِ اسلام، حضرت شیخ مجد الدین بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اکابر اولیاءِ کرام میں ہوتا ہے ۔ آپ بہت خوب صورت تھے ۔ جب شیخ نجم الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ان کو وضو کے پانی بھرنے کی خدمت میں مشغول رکھا ۔ ان کی والدہ نے سنا وہ طبیبہ تھیں ۔ شیخ بھی (روحانی و جسمانی) طبیب تھے ۔
ان کی والدہ نے کسی کو شیخ کے پاس بھیجا کہ فرزند مجد الدین ایک نازک آدمی ہے یہ کام اس سے مشکل ہوگا ۔ اگر آپ فرمائیں ۔ تو میں دس غلام ترکی بھیج دیتی ہوں کہ وہ پانی کی خدمت کریں گے ۔ آپ اس کو کسی دوسری خدمت پر مقرر فرمائیں ۔ شیخ نے فرمایا کہ اس سے جا کر کہہ دو کہ یہ تمہاری عجیب بات ہے ۔ تم تو علمِ طب پڑھی ہوئی ہو ۔ تم خوب جانتی ہو کہ اگر تمہارے بیٹے کو صفراوی تپ ہو تو میں اس کی دوا ترکی غلام کو دوں، تو تیرا بیٹا کیسے تندرست ہوگا ۔ مقصدیہ تھا کہ ہم اس کی روحانی تربیت کر رہے ہیں ۔ ان کی نزاکت ختم کرکے انہیں مجاہد بنانا ہے ۔
خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت:
شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ فرماتے ہیں: کہ شیخ مجد الدین نے فرمایا: میں بغداد سے شام کو جا رہا تھا، تا کہ وہاں سے روم جاؤں ۔ جب موصل تک پہنچا تو ایک رات جامع مسجد میں گزاری ۔ جب میں سو گیا تو دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے وہاں نہیں جاتے ہو کہ فائدہ حاصل کرو ۔ میں نے دیکھا تو ایک جماعت حلقہ مار کر بیٹھی ہوئی تھی ۔ ایک شخص ان کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ۔ جن کا نور ان کے سر سے آسمان تک پہنچا ہوا تھا وہ باتیں کر رہے تھے، اور سب سن رہے تھے ۔
میں نے کہا یہ حضرت کون ہیں ۔ لوگوں نے کہا: کہ یہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ ہیں ۔ آگے بڑھا اور سلام عرض کیا: آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا، اور مجھے حلقہ میں جگہ دی ۔
جب میں بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ما یقول فی حق ابن سینا ؟ (1) یعنی: آپ بو علی سینا کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اضلہ اللہ تعالیٰ علی علمہ ۔ یعنی وہ شخص ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے بوجود علم کے گمراہ کر دیا ۔
پھر میں نے عرض کی:
ما نقول فی حق شھاب الدین المقتول؟یعنی آپ شہاب الدین مقتول کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ۔ فرمایا: ھو من متبعیہ ـ یعنی: وہ اسی کے تابع ہے ۔
اس کے بعد میں نے علمائے اسلام کی بارے پوچھنا شروع کیا ۔ میں نے عرض کیا: ما تقول فی حق حجۃ الاسلام محمد الغزالی ـ یعنی: حجۃ الاسلام امام غزالی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ۔ فرمایا: ھو رجل وصل الی مقصودہ ۔ یعنی: وہ ایک ایسا شخص ہے جو کہ اپنے مقصود تک پہنچ گیا ہے ۔
پھر میں نے عرض کیا: ما تقول فی حق امام الحرمین ۔ یعنی: آپ امام الحرمین کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: فرمایا: ھو ممن نصر دینی ۔ وہ ایسا شخص ہے جس نے میرے دین کی حمایت کی ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مجد الدین ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: ابو الفتح ۔ بغداد کی نسبت سے بغدادی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الفتح مجد الدین شرف بن مؤید بن ابی الفتح بغدادی ۔ علیہم الرحمہ ۔ تصحیح: آپ کا اسمِ گرامی: مجَدُ الدّین ہے ۔ نہ کہ مجدد الدین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 554ھ / مطابق 1159ء کو بغداد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والدِ گرامی اور والدہ محترمہ اپنے وقت کے تعلیم یافتہ انسان تھے ۔ والد اور والدہ دونوں طبیب تھے ۔ بغداد میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ ان کی مہارت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب شاہِ خوارزم نے خلیفہ بغداد سے اپنے علاج کے لئے کوئی طبیب مانگا، تو انہوں نے آپ کے والد کو بھیج دیا ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والدین کے زیر سایہ ہوئی ۔ پھر بغداد کے صاحبانِ علم سے تحصیلِ علم کیا ۔ آپ کا شمار اس وقت کے کاملین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
امام الاولیاء حضرت شیخ نجم الدین کبری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سید الاولیاء، شیخ الاصفیاء، مجاہدِ کبیر، ولیِ کامل، واعظِ اسلام، حضرت شیخ مجد الدین بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اکابر اولیاءِ کرام میں ہوتا ہے ۔ آپ بہت خوب صورت تھے ۔ جب شیخ نجم الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ان کو وضو کے پانی بھرنے کی خدمت میں مشغول رکھا ۔ ان کی والدہ نے سنا وہ طبیبہ تھیں ۔ شیخ بھی (روحانی و جسمانی) طبیب تھے ۔
ان کی والدہ نے کسی کو شیخ کے پاس بھیجا کہ فرزند مجد الدین ایک نازک آدمی ہے یہ کام اس سے مشکل ہوگا ۔ اگر آپ فرمائیں ۔ تو میں دس غلام ترکی بھیج دیتی ہوں کہ وہ پانی کی خدمت کریں گے ۔ آپ اس کو کسی دوسری خدمت پر مقرر فرمائیں ۔ شیخ نے فرمایا کہ اس سے جا کر کہہ دو کہ یہ تمہاری عجیب بات ہے ۔ تم تو علمِ طب پڑھی ہوئی ہو ۔ تم خوب جانتی ہو کہ اگر تمہارے بیٹے کو صفراوی تپ ہو تو میں اس کی دوا ترکی غلام کو دوں، تو تیرا بیٹا کیسے تندرست ہوگا ۔ مقصدیہ تھا کہ ہم اس کی روحانی تربیت کر رہے ہیں ۔ ان کی نزاکت ختم کرکے انہیں مجاہد بنانا ہے ۔
خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت:
شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ فرماتے ہیں: کہ شیخ مجد الدین نے فرمایا: میں بغداد سے شام کو جا رہا تھا، تا کہ وہاں سے روم جاؤں ۔ جب موصل تک پہنچا تو ایک رات جامع مسجد میں گزاری ۔ جب میں سو گیا تو دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے وہاں نہیں جاتے ہو کہ فائدہ حاصل کرو ۔ میں نے دیکھا تو ایک جماعت حلقہ مار کر بیٹھی ہوئی تھی ۔ ایک شخص ان کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ۔ جن کا نور ان کے سر سے آسمان تک پہنچا ہوا تھا وہ باتیں کر رہے تھے، اور سب سن رہے تھے ۔
میں نے کہا یہ حضرت کون ہیں ۔ لوگوں نے کہا: کہ یہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ ہیں ۔ آگے بڑھا اور سلام عرض کیا: آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا، اور مجھے حلقہ میں جگہ دی ۔
جب میں بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ما یقول فی حق ابن سینا ؟ (1) یعنی: آپ بو علی سینا کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اضلہ اللہ تعالیٰ علی علمہ ۔ یعنی وہ شخص ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے بوجود علم کے گمراہ کر دیا ۔
پھر میں نے عرض کی:
ما نقول فی حق شھاب الدین المقتول؟یعنی آپ شہاب الدین مقتول کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ۔ فرمایا: ھو من متبعیہ ـ یعنی: وہ اسی کے تابع ہے ۔
اس کے بعد میں نے علمائے اسلام کی بارے پوچھنا شروع کیا ۔ میں نے عرض کیا: ما تقول فی حق حجۃ الاسلام محمد الغزالی ـ یعنی: حجۃ الاسلام امام غزالی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ۔ فرمایا: ھو رجل وصل الی مقصودہ ۔ یعنی: وہ ایک ایسا شخص ہے جو کہ اپنے مقصود تک پہنچ گیا ہے ۔
پھر میں نے عرض کیا: ما تقول فی حق امام الحرمین ۔ یعنی: آپ امام الحرمین کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: فرمایا: ھو ممن نصر دینی ۔ وہ ایسا شخص ہے جس نے میرے دین کی حمایت کی ہے ۔
❤1
پھر میں نے عرض کیا: ما نقول فی حق ابی الحسن الاشعری ۔ یعنی: امام ابو الحسن اشعری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: آپ نے فرمایا: انا قلت و قولی صدق الایمان یمان و الحکمۃ یمانیۃ ۔ یعنی: میں پہلے ہی فرما چکا ہوں، اور میری بات سچی ہے کہ ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت یمانی ہے ۔
اس کے بعد ایک شخص نے جو میرے نزدیک بیٹھا ہوا تھا ۔ مجھے کہا: کہ یہ سوالات کیوں کرتے ہو ۔ دعا کے لیے درخواست کرو کہ جس سے تمھارا فائدہ ہو ۔
اس کے بعد میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی دعا سکھلائیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللھم تب علی حتی اتوب و اعصمنی حتی لا اعود وحبب الی الطاعات و کرہ الی الخطیآت ۔ یعنی: اے پروردگار میری طرف نظرِ رحمت فرما یہاں تک کہ میں توبہ کروں، اور مجھ کو بچا لے ۔ یہاں تک کہ پھر گناہ نہ کروں ۔ مجھے عبادت کی محبت اور گناہوں کی کراہت دے ۔
اس کے بعد مجھ سے حضور ﷺ نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو ۔ میں نے عرض کیا روم کی طرف ۔ فرمایا: الروم ما دخلہ المعصوم ۔ یعنی: روم میں معصوم داخل نہیں ہوتا ۔
جب میں اس خواب سے بیدار ہوا ۔ وہاں ایک بالا خانہ تھا ۔ جس میں مولانا موفق الدین کواشی رہتے تھے ۔ اور آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے ۔ میں نے ان کی زیارت کی ۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا ۔ پوچھا کہاں سے آئے ہو ۔ میں نے کہا: بغداد ۔ پوچھا اب کہاں جاؤ گے؟ میں نے کہا ۔ روم ۔ کہا روم کی طرف جاتے ہو ۔ میں نے کہا: ہاں ۔ کہا: الروم ما دخلہ المعصوم ۔ جب انہوں نے یہ کلمہ کہا، تو میں تعجب کرنے لگا ۔ میں نے کہا شاید آپ کل کی مجلس میں موجود تھے ۔ کہا: دعنی دعنی یعنی: اس بات کو رہنے دو، اور میں واپس آ گیا ۔
وصال:
شیخ مجد الدین بغدادی کو 23 ربیع الثانی607ھ، اور بعض کے نزدیک 610ھ، کو شہید کیا گیا ۔ اسی طرح آپ کے مدفن کے بارے میں بھی اختلاف ہے ۔
صحیح قول کے مطابق نیشا پور میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ کے مزار میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ ضیائے ربیع الثانی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ibn-al-moayyad-bin-abul-fatah-sheikh-mujaddiduddi
اس کے بعد ایک شخص نے جو میرے نزدیک بیٹھا ہوا تھا ۔ مجھے کہا: کہ یہ سوالات کیوں کرتے ہو ۔ دعا کے لیے درخواست کرو کہ جس سے تمھارا فائدہ ہو ۔
اس کے بعد میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی دعا سکھلائیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللھم تب علی حتی اتوب و اعصمنی حتی لا اعود وحبب الی الطاعات و کرہ الی الخطیآت ۔ یعنی: اے پروردگار میری طرف نظرِ رحمت فرما یہاں تک کہ میں توبہ کروں، اور مجھ کو بچا لے ۔ یہاں تک کہ پھر گناہ نہ کروں ۔ مجھے عبادت کی محبت اور گناہوں کی کراہت دے ۔
اس کے بعد مجھ سے حضور ﷺ نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو ۔ میں نے عرض کیا روم کی طرف ۔ فرمایا: الروم ما دخلہ المعصوم ۔ یعنی: روم میں معصوم داخل نہیں ہوتا ۔
جب میں اس خواب سے بیدار ہوا ۔ وہاں ایک بالا خانہ تھا ۔ جس میں مولانا موفق الدین کواشی رہتے تھے ۔ اور آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے ۔ میں نے ان کی زیارت کی ۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا ۔ پوچھا کہاں سے آئے ہو ۔ میں نے کہا: بغداد ۔ پوچھا اب کہاں جاؤ گے؟ میں نے کہا ۔ روم ۔ کہا روم کی طرف جاتے ہو ۔ میں نے کہا: ہاں ۔ کہا: الروم ما دخلہ المعصوم ۔ جب انہوں نے یہ کلمہ کہا، تو میں تعجب کرنے لگا ۔ میں نے کہا شاید آپ کل کی مجلس میں موجود تھے ۔ کہا: دعنی دعنی یعنی: اس بات کو رہنے دو، اور میں واپس آ گیا ۔
وصال:
شیخ مجد الدین بغدادی کو 23 ربیع الثانی607ھ، اور بعض کے نزدیک 610ھ، کو شہید کیا گیا ۔ اسی طرح آپ کے مدفن کے بارے میں بھی اختلاف ہے ۔
صحیح قول کے مطابق نیشا پور میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ کے مزار میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ ضیائے ربیع الثانی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ibn-al-moayyad-bin-abul-fatah-sheikh-mujaddiduddi
❤1
حضرت مولانا حکیم فخر الدین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا حکیم فخر الدین احمد الہ آباد کے مشہور مشائخ خاندان کے فرد تھے ۔
ولادت:
۱۲۳۱ھ میں دائرہ شاہ رفیع الزماں میں آپ کی ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
لکھنؤ جاکر مولانا مفتی محمد یوسف ومولانا مفتی محمد اصغر فرنگی محلی سے علوم مروجہ کی تکمیل کی ـ
وطن واپس ہوکر خاندانی سجادہ کو رونق دی، معرکہ علاج کرتے تھے، حکیم بادشاہ کے لقب سے مشہور تھے، ساتھ ہی درس و تدریس اور تصنیف کا مشغلہ بھی رکھتے تھے ۔
مولوی محمد اسماعیل دہلوی کے رسالہ تقویۃ الایمان کے رد میں ’’ ازالۃ الشکوک والا بام ‘‘ آپ کی عمدہ اور کامیاب تصنیف ہے ۔
وصال:
۲۳ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ میں آپ نے وفات پائی محلہ یحییٰ پور الہ آباد میں دفن ہوئے ۔
( تذکرہ کاملان رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-fakhruddin-ahmad-allahabadi
حضرت مولانا حکیم فخر الدین احمد الہ آباد کے مشہور مشائخ خاندان کے فرد تھے ۔
ولادت:
۱۲۳۱ھ میں دائرہ شاہ رفیع الزماں میں آپ کی ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
لکھنؤ جاکر مولانا مفتی محمد یوسف ومولانا مفتی محمد اصغر فرنگی محلی سے علوم مروجہ کی تکمیل کی ـ
وطن واپس ہوکر خاندانی سجادہ کو رونق دی، معرکہ علاج کرتے تھے، حکیم بادشاہ کے لقب سے مشہور تھے، ساتھ ہی درس و تدریس اور تصنیف کا مشغلہ بھی رکھتے تھے ۔
مولوی محمد اسماعیل دہلوی کے رسالہ تقویۃ الایمان کے رد میں ’’ ازالۃ الشکوک والا بام ‘‘ آپ کی عمدہ اور کامیاب تصنیف ہے ۔
وصال:
۲۳ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ میں آپ نے وفات پائی محلہ یحییٰ پور الہ آباد میں دفن ہوئے ۔
( تذکرہ کاملان رامپور )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-fakhruddin-ahmad-allahabadi
❤1
حضرت مولانا سید عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ
ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ
تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔
عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔
عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔
وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔
1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ
ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ
تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔
عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔
عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔
وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔
1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-04-1445 ᴴ | 07-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-04-1445 ᴴ | 08-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1