🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مریدِ حضرتِ وارثِ پاک، حضرت علامہ
سیماب اکبر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


قادر الکلام شاعر و عالم مولانا عاشق حسین صدیقی المعروف سیماب اکبر آبادی بن مولانا محمد حسین صدیقی ، اکبر آباد (انڈیا) میں جمادی الاخر ۱۲۹۹ھ؍۱۸۸۰ ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
آپ کے گھر کا ماحول دینی روحانی تھا، اس لئے تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا اپنے والد ماجد سے دینی تعلیم حاصل کی اس کے بعد وقت کے مشاہیر علماء سے اکتساب فیض کیا ان میں سے حضرت مولانا جمال الدین سر حدی کا نام نمایاں ہے ۔

شاعری کا اعلی ذوق اور صلاحیت انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی ، کچھ ان کی اپنی کاوش و جفاکشی تھی ۔ فصیح الملک نواب مرزا داغ دہلوی سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا ۔

بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ وارثیہ میں حضرت حافظ حاجی سید وارث علی شاہ علیہ الرحمہ متوفی ۱۹۰۴ء (دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی ، یوپی ، انڈیا) سے بیعت ہوئے ۔

ذریعۂ معاش:
آپ نے ذریعہ معاش کے لئے ریلوے میں ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے دوران ہی مقامی اور بیرونی مشاعروں میں شرکت اور صدارت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، اس وقت کے موثر رسائل و جرائد میں آپ کا کلام خصوصی امتیاز کے ساتھ شائع ہوا کرتاتھا ۔ دادا صاحب کی وفات کے بعد بہت بڑے کنبے کی کفالت کا تمام تربار آپ کے کاندھوں پر آ پڑا تھا، لہذا ۱۹۲۲ء کو ریلوے کی ملازمت سے مستعفی ہو کر مستقلا آگرے ( اکبرآباد ) آگئے اور ُنا ادبی ادارہ ’’ قصر الادب ‘‘ قائم کر کے تصنیف و تالیف کو باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ دادا صاحب کا قائم کیا ہوا ایک چھوٹا سا کتب خانہ تھا اس میں مقدور بھر توسیع کی ۔

قصر الادب کا ذیلی ادارہ ’’ دار التصنیف ‘‘ قائم کیا جو کفالت کا بہترین ذریعہ بن گیا ۔ اور بہت جلد قصر الادب مرکز فیض بن گیا ۔

شادی و اولاد:
آپ نے انڈیا میں ۱۹۰۰ کو سکینہ بیگم سے عقد مسنون کیا ۔ جن سے دو بیٹیاں اور چار بیتے تولد ہوئے ۔

اسمائے اولاد:
حسینہ خاتون ، شمشاد حسین منظر ، جمیلہ خاتون ، اعجاز حسین اعجاز ، سجاد حسین ، مظہر حسین مظہر صدیقی مرحوم ۔

والد کے انتقال کے بعد مظہر صدیقی نے والد کے مشن کو جاری رکھا ناظم آباد میں ’’ سیماب اکیڈمی ‘‘ قائم کر کے والد کی گراں قدر کتب کو طباعت کے زیور سے آراستہ کر کے مطالعہ کی میز تک پہنچائیں ، اس کے علاوہ علماء دانشور اور مشاہیر امت کے تاثرات بھی ہر کتاب کے ساتھ شائع کئے ۔

علاوہ ازاں مظہر صدیقی نے ماہنامہ پرچم کا ’’ تعزیت نمبر ‘‘ شائع کیا تھا جس میں بھی ہند و پاک کے علماء ، مشائخ ، دانشور ، شعراء اور مشاہیر کے تاثرات ، مناقب اور تاریخی قطعات درج ہیں ۔

پاکستان میں آمد:
۱۹۴۷ء کو پاکستان قائم ہوا اور اگست ۱۹۴۸ء کو سیماب انڈیا سے پاکستان کراچی تشریف لائے اور ۱۹۵۱ء کو انتقال کیا اس طرح وہ سر زمین پاک میں فقط تین سال زندہ رہے ۔ اس سے واضح ہوا کہ آپ کی زندگی قصر الادب آگرہ میں علم و ادب کی خدمت میں بسر ہوئی ۔

تلامذہ:
قصر الادب سے نہ جانے کتنے حضرات میں شاعری کا ذوق ابھرا، نہ جانے کتنے لوگ صاحب دیوان بن گئے اور نہ جانے کتنے گمنام لوگوں کو شہرت دوام مل گئی ، تلامذہ کا مجموعہ روز بروز بڑھتا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ڈھائی ہزار تلامذہ نے آپ سے استفادہ کیا ۔

صحافت:
سیماب مرحوم کا کلام بے شمار اخبارات و رسائل میں شائع ہوا اور بہت سارے اخبارات و رسائل ان کی ذات کی وجہ سے وجود میں آئے ان میںسے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :

زیر ادارت:
ماہنامہ مرصع ، ماہنامہ پردہ نشین ، ہفت روز ہ تاج ، ماہنامہ شاعر ، ماہنامہ کنول ، سہ روزہ ایشیا، ماہنامہ پرچم کراچی ۔ وغیرہ
2
تحریک پاکستان:
سیماب نے ۱۹۳۰ء کو ایک نیا رسالہ ’’شاعر ، آگرہ سے جاری کیا ، اسی کے ساتھ ہفت روزہ ’’تاج ‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ ماہنامہ شاعر خالص ادبی وشعری رسالہ تھا اور ہفت روزہ ’’تاج ‘‘علمی ادبی اور سیاسی پرچہ تھا جو چار پانچ سال مسلسل شائع ہونے کے بعد کانگریس حکومت کے عتاب کی نذر ہو گیا ۔

۱۹۴۵ء تا ۱۹۴۸ء تک کا عرصہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے لئے کس قدر صبر آزما اور حوصلہ شکن رہا تھا باخبر بخوبی جانتے ہیں ۔ ادبی دنیا پر بھی ایک جمود سا طاری رہا، وسوسوں اور تذبذب کے سوا کچھ اور تھا ہی نہیں ، کسی نہ کسی طرح قصر الادب کا تھوڑا بہت کام چل رہا تھا ۔

ماہنامہ شاعر کبھی وقت پر اور کبھی تاخیر سے شائع ہوتا رہا ۔ اس عالم میں بھی سیماب مرحوم کا قلم مسلسل چلتا رہا وہ اپنی قومی نظموں کے ذریعہ قوم کو آزادی کا پیغام دیتے رہے ، صلح و آشتی کا پرچار کرتے رہے ، مسلمانان ہند کو ان کا وقار اور ان کے اسلاف کے مسلک سے آشنا کرتے رہے ، گوانہوں نے خود عملی طور پر سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا مگر اپنے اعلی سیاسی شعور و تدبر کو اپنی تخلیقات کے ذریعے اکابرین تک پہنچاتے رہے جو مسلمانوں کے تحفظ اور وقار کے لئے شمع آزادی روشن کرنے کی جدوجہد میں مسلسل کو شاں اور مصروف تھے ۔

( ماخوذ: لوح محفوظ : پیش لفظ ، مطبوعہ سیماب اکیڈمی )

تصنیف و تالیف:
آپ کی نظم ونثر میںچھوٹی بڑی تصانیف و تالیفات کی تعداد ۲۸۴ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے بعض مشہور و معروف تخلیقات کا تعارف درج ذیل ہے ۔

٭ وحی منظوم :
قرآن مجید کا مکمل منظوم اردو ترجمہ مع تشریح ، سیماب اکیڈمی کراچی نے نومبر ۱۹۸۱ء کو شائع کیا دوران طباعت ہی صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے اس منفرد و منظوم ترجمہ کو ’’ ہجرۃ ایوارڈ ‘‘ دیا ۔ ( تین جلدیں ) ـ

٭ ساز حجاز :
روح پرور نعتیہ کلام مطبوعہ سیماب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۲ء

٭ ستون کعبہ :
شہداء کربلا کو خراج عقیدت ـ

٭ استوار الاصلاح :
فن اصلاح پر مشتمل ہے ، آٹھواں ایڈیشن ۱۹۴۶ء کو شائع ہوا ۔

٭ الہام منظوم اردو ترجمہ مثنوی مولانا روم : مولانا فیروز الدین مالک فیروز اینڈ سنز کی فر مائش پر مکمل ترجمہ کیا جو کہ ۶ جلدوں میں شائع ہوا۔ مولانا نے پیش لفظ میں لکھا: یہ مشکل کام کسی بڑے سے بڑے شاعر کے بس کی بات نہ تھی ‘‘۔

٭ سیرت النبی ﷺ ( نثر ) :
تاج کمپنی لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائر یکٹر شیخ عنایت اللہ کی فرمائش پر تحریر کی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان ـ

٭ کلیم عجم :
پہلا دیوان جو کہ ۱۹۳۶ء کو شائع ہوا اس میں ان کے وہ چودہ خطبات بھی شامل ہیں جو کہ مختلف مشاعروں مین بحیثیت صدر پڑھ چکے تھے ۔

٭ کار امروز :
نظموں کا پہلا مجموعہ ۱۹۳۶ء کو آگرہ سے شائع ہوا ۔

٭ سدرۃ المنتہی :
غزلوں کا دوسرا دیوان شائع ہوا ۔

٭ سازو آہنگ :
نظموں کا خوبصورت مجموعہ شائع ہوا۔

٭ شعر انقلاب :
نظموں کا خوبصورت مجموعہ شائع ہوا۔

٭ قائد کی خوشبو :
قائداعظم کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر متعلق ولولہ انگیز نظموں پر مشتمل سیماب اکیڈمی کراچی نے شائع کی ۔

٭ نے ستاں :
ابتداء میں سب سے پہلا مجموعہ شائع ہوا جو کہ مذہبی نظموں ، نعتوں اور تصوف پر مبنی کلام پر مشتمل ہے ۔

٭ لوح محفوظ :
غزلوں کا آخری دیوان ہے جسے سیماب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۳ء کو شائع کیا ۔

٭ کلیات سیماب ۔

٭ ریاض الاظھر فی احوال سید البشر :(مولف مولوی محمد باقر آگاہ ) مرتبہ شارح ،سیماب طبع اول قومی پریس معسکر بنگلور انڈیا ۔ (بحوالہ: اردو میں میلاد النبی ﷺ ) ـ

* نمونہ کلام :
2
آپ کے کلام میں سے تبر کا کچھ اشعار نذر قارئین ہیں :

سر کار غوث اعظم، محبوب سبحانی ، قندیل نورانی ، قطب ربانی، حضور سید عبدالقادر جیلانی کے حضور اس طرح نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں :

خاک بوس آستان شاہ جیلانی ہوں میں
کاش! اسی مٹی میں مل جاوٗں اگر فانی ہوں میں

صدر محفل میں مرا منبر رہے سب سے بلند
مدح سنج حضرت محبوب سبحانی ہوں میں

ہے تصور کو میسر حاضری بغداد کی
غوث اعظم کا ارادت مند روحانی ہوں میں

سطوت ناز و نعم ہے میری نظروں میں حقیر
پر غرور اک بندہ درگاہ سلطانی ہوں میں

( لوح محفوظ )

حضت سیماب واعظین و ذاکرین کی محرم الحرام کے سلسلہ میں بعض غلط روایات کا اس طرح نوٹس لیتے ہیں، جس سے حضرت کی علمیت اور گہرے مطالعہ کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں:

آل عبا کی چادر سرکون پھاڑتا ہے، یہ ہے اک افترا
کیوں دامن ادب کی اڑاتا ہے دھجیاں، خاموش نوحہ خواں

کھینچی تھی کس نے بالیاں بنت حسین کی، ہے بات بے تکی
اس وقت کب عرب میں مروج تھیں بالیاں، خاموش نوحہ خوان

مہندی لگانا آج جو لوگوں میں عام ہے، مکروہ کام ہے
مہندی لگاتے ہاتھ  کیوں؟ قاسم جواں، خاموش نوحہ خواں

بین و بکا تو شیوہ آل عبا نہ تھا، شکوہ گلہ نہ تھا
صابر تھی خاندان امامت کی بیبیاں، خاموش نوحہ خواں

حضور پاک صاحب لولاک ﷺ کے معراج شریف کے متعلق سیماب نے اس طرح پھول کھلائے ہیں:

ہو چکے جب عبد اور معبود میں راز و نیاز
ہوگئی انسانیت روحانیت سے سرفراز

قربت محبوب تھی اک گو مگو کا ماجرا
یعنی جو دیکھا وہ دیکھا اور سنا جو کچھ سنا

تھا یہ منشا اب یہیں رہ جائو اے  میرے حبیب!
عرش و کرسی کو تمہارا فخر قربت ہو نصیب

سلسبیل  وکوثر و تسنیم کو دو آبرو
گلشن فردوس کو حاصل ہو تم سے رنگ و بو

آسمانوں کو تمہارا قرب وجہ ناز ہو
عالم لاہوت، پابوسی سے سر فراز ہو…

لوٹ آئے جانب دنیا رسو کائنات
پیکر مردہ میں جیسے عود کر آئے حیات

محفل انساں  میں پھر انسان کامل آگیا
قالب کونین میں کونین کا دل آگیا

عرش عالی ظرف انساں کے نہ قابل ہوسکا
آسمان بار نبوت کا نہ حاصل ہوسکا

جلوہ احمد سے دنیا ضوفشاں کردی گئی
یہ امانت پھر سپرد خاکداں کر دی گئی

( ساز حجاز صفحہ ۵۱ )

وصال:
فقید المثال، قادر الکلام شاعر، عربی فارسی انگریزی اور سنکسرت پر دسترس رکھنے والے محقق عالم، ولولہ انگیز نقاد محرر، انقلاب آفریں دانشور و صحافی سیماب اکبر آبادی نے ۳۱ جنوری ۱۹۵۱ء / ۱۳۷۱ھ کو کراچی میں اکہتر (۷۱) سال کی عمر میں انتقال کیا۔ شاہراہ قائدین سابقہ قائد آباد نزد مزار قائد مختصر قبرستان میں سبز گنبد کے اندر مزار واقع ہے ۔

اپنی اکہتر ۷۱ سالہ زندگی میں پچاس سال تک مسلسل اردو شعر و ادب اور صحافت کی گرانقدر اور بیش بہا خدمات انجام دیں جسے تا قیامت اہل علم یاد کرتے رہیں گے ۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ ) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-seemab-akbarabadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
مسعود ملت، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی ـ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
محمد مسعود احمد ۔ کنیت: ابو المسرور ۔ القاب: مسعودِ ملت، محقق و مجددِ اہلسنت، ماہرِ رضویات و ناشرِ مجددیات بہقیِ وقت وغیرہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی بن حضرت شاہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی بن شاہ محمد سعید بن شاہ مفتی محمد مسعود محدث دہلوی (علیہم الرحمہ) ۔

والد ماجد کی جانب سے سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، اور والدہ محترمہ کی جانب سے سلسلۂ نسب سرورِ عالم ﷺ تک منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1348ھ، مطابق 1930ء کو " دہلی " میں ہوئی ۔ آپ کی سعادت مندی کی بشارت آپ کے نانا محترم شیرِ اسلام سید واحد علی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی: " اگر دین کا چراغ روشن ہوگا تو میری صاحبزادی سے ہوگا"۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ایک علمی خاندان میں آنکھ کھولی تھی، جہاں ہر طرف قال اللہ، وقال رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوتیں تھیں ۔ قرآنِ کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔

1940ء میں مدرسہ عالیہ جامع مسجد فتح پوری دہلی میں داخلہ لیا اور باقاعدہ علومِ عربیہ کی تحصیل شروع کی ۔

1945ء میں آپ نے اورینٹل کالج دہلی میں داخل ہو کر دو سال فارسی زبان و ادب کی تحصیل کی ۔

1948ء میں آپ نے مشرقی پنجاب یونیورسٹی سے فاضل فارسی، فاضل اردو، فاضل درسِ نظامی، کا امتحان پاس کیا ۔

سندھ یونیورسٹی سے ایم اے ، اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ الحمدللہ آپ نےتمام امتحانات امتیازی پوزیشن سے حاصل کیے ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی دن کو فی سبیل اللہ تدریس کرتے تھے، اور رات کو خود پڑھتے تھے ۔

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی مفتیِ اعظم حضرت شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی سے بیعت و خلافت ۔ مفتی محمد محمود شاہ الوری سے خلافت و جازت، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں پیر زین العابدین شاہ گیلانی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (علیہم الرحمۃ اولرضوان) ـ

سیرت و خصائص:
مسعودِ ملت ، امینِ اہلِ سنت ، مجددِ ملت ، پیرِ طریقت ، رہبرِ شریعت ، سراپا عظمت ، پیکرِ علم و وجاہت ، عاملِ سنت عاشقِ مصطفیٰ ﷺ ، محبِ مجدد، و امام احمد رضا ، فخر المحققین ، ماہرِ رضویات ، ناشرِ مجددیات ، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔

حضرت مسعودِ ملت علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت سے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے، لیکن آپ کی مجدِّدَین (حضرت مجدد الفِ ثانی، اور مجدد امام احمد رضاخاں علیہما لرحمہ) پر جو خدمات ہیں ان کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائےگا ۔

بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نور اللہ مرقدہ کی عظیم شخصیت، اور ان کے دینی، تجدیدی، اصلاحی، علمی،ادبی، سماجی، سیاسی، قومی و ملی، و تقدیسی، کارناموں کو اجاگر کرکے ہندوسندھ سے لے کر تمام عالمِ اسلام، اور یورپ آسٹریلیا و افریقہ و امریکہ، کے کلیات و جامعات اور لائبریریوں میں اس طرح پہنچا دیا کہ آج دنیا امام احمد رضا خان کی عبقری شخصیت اور ان کے عظیم علمی کارناموں سے روشناس ہو رہی ہے ۔
2
ایک دفعہ ایک غیر مقلد مولوی نے کہاتھا! " کہ ہم امام احمد رضا بریلوی کو دفن کر چکے تھے ۔ لیکن ایک پروفیسر نے انہیں قبر سے نکال کر پھر زندہ کر دیا ہے، اب ہمیں مزید پچاس سال کام کرنا پڑےگا"۔ (تذکار مسعود ملت ، ص:219) ـ

شرفِ ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " ان کی تحریر میں متانت اور شائستگی ہے ۔ معقولیت اور تسلسل ہے، دریا کی روانی اور سمندر کی گہرائی ہے ۔ شبنم کی لطافت اور گلاب کی جاذبیت ہے ۔ جو لکھتے ہیں باحوالہ اور دلائل کی روشنی میں لکھتے ہیں ۔ عقیدے اور عقیدت کی بناء پر تاریخ وضع نہیں کرتے، بلکہ تاریخی حقائق کے رخ سے نقاب الٹ دیتے ہیں ۔ وہ جو کچھ لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا اور خوشنودی اور دین متین کا پیغام قارئین تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں"۔

حضرت پروفیسر صاحب کی شخصیت جتنی عظیم تھی، آپ کے اندر اس درجہ انکسار بھی تھا ۔ اہل علم سے ٹوٹ کر ملتے، ان کی قدر کرتے، کسرِ نفسی آپ کی خو تھی ۔ آپ کی گفتار عالمانہ تھی ۔ کردار زاہدانہ تھا ۔ شفقت و محبت جاودانہ تھی ۔ آپ اخلاق و ایثار، مؤدت و مروت، دانائی و حکمت، سنجیدگی و ظرافت کا ایک حسین پیکر تھے ۔ آپ سراپا اخلاق تھے ۔ جو شخص ایک مرتبہ آپ سے ملاقات کرتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا ۔

آپ سے تمام مذاہب کے افراد کا واسطہ رہتا تھا ۔ آپ ہر شخص سے اس کے مرتبے کے مطابق سلوک کرتے تھے ۔ جب آپ کا تبادلہ " مٹھی " کے دور دراز اور ایسے علاقے میں ہوا جہاں اسِّی فیصد ہندو تھے ۔

چنانچہ آپ نے اس تبادلے کو تبلیغِ اسلام کے لئے ایک انمول موقع جانا ، اور وہاں اپنے اعلیٰ کردار، اور اخلاقِ مصطفوی سے غیر مسلموں کے دل جیت لئے، بہت سوں کو قبولِ اسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔ ہندو کہا کرتے تھے: " مسلمان تو بس ایک ہی دیکھا ہے مولانا مسعود صاحب! " ۔

الغرض! آپ کی زندگی مجسمۂ سچائی، فرماں برداری، حق کی رہبری، خشیتِ ایزدی، حق کی روشنی، بے حد خوبیوں اور اعلیٰ صفات سے آپ کی ذات متصف تھی ۔

امتیازی اعزازات:
شعبہ تعلیم میں امتیازی خدمات کے اعتراف میں سابق صدرِ پاکستان فاروق احمد لغاری کی جانب سے 1992ء میں گولڈ میڈل اور اعزازِ فضیلت سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اداروں کی جانب سے گولڈ میڈلز اور تمغات سے نوازا گیا ۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر اعجاز انجم لطیفی نے 1997ء میں بہار یونیورسٹی بھارت سے مکمل کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔

تاریخِ وصال:
آپ 22 ربیع الثانی 1429ھ، مطابق 28 اپریل 2008ء بروز پیر بعد نماز مغرب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کا مزار شریف " ماڈل کالونی قبرستان " کراچی میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکار مسعودِ ملت ۔ مجدد عصر ۔ تعارف علماء اہلسنت ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات علمی اور ادبی خدمات پی ایچ ڈی مقالہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-masood-e-millat-professor-dr-masood-ahmed
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ المشائخ شبیہِ غوث الاعظم حضرت مولانا سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شاہ محمد علی حسین ، کنیت: ابو احمد ،خاندانی خطاب اشرفی میاں ۔

تاریخِ ولادت:
22 ربیع الثانی 1266ھ بروز پیر ، بوقت صبح صادق پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نے بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی، مولانا امانت علی کچھوچھوی، مولانا سلامت علی گور کھپوری اور مولانا قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمہ سے علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔

بیعت و خلافت:
1282ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین علیہ الرحمہ سے مرید ہو کر تکمیل سلوک فرما کر اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
خانوادۂ اشرفیہ کے مشہور و معروف بزرگ حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی تبلیغی خدمات اور ارشادات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ احاطۂ تحریر میں لانا مشکل ہے ۔ عہدِ خرد سے زندگی کی آخری لمحے تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشاں رہے ، اور دینِ اسلام کے فروغ کے لئے تا عمر جد و جہد کرتے رہے ۔

لاکھوں گم گشتہ راہوں کو راہِ مستقیم پر گامزن فرمایا ۔ تشنگان علوم و معرفت اور متلاشیان حق کو جامِ معرفت سے سرشار کرکے حق کی راہ دکھائی ۔ تبلیغ و ارشاد کا ہی جذبہ کار فرما تھا کہ آپ نے ہند و پاک کے علاوہ بہت سارے ممالک ِاسلامیہ کی سیر و سیاحت فرمائی ۔

اسی وجہ سے لوگ آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا پر تو، اور مخدوم اشرف کا مظہر اتم و حقیقی جانشین کہنے لگے ۔ اس ضمن مِیں آپ نے لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دستِ مبارک پر تائب ہوئے ۔

آپ کی ذات سے سلسلۂ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب، ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام روحانی تربیت کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ کی اجازت و خلافت سے سر فراز کیےگئے ۔

حضرت مخدوم سلطان اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلۂ عالیہ اشرفیہ میں آپ جیسا مرجع الخلائق کوئی دوسرا بزرگ نہیں گذرا ۔

حضور اشرفی میاں کو اللہ تعالیٰ نے حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت میں بھی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا ۔

آپ اعلیٰ اوصاف و خصوصیات کے ساتھ ، ظاہری شکل و صورت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے ۔

ہزارہا افراد تو صرف آپ کے حُسن خدا داد کی زیارت سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اربابِ مشاہدہ نے اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔

حضرت مولانا سید شاہ اظہار اشرف کی روایت ہے: کہ ایک مرتبہ حضر ت اشرفی میاں قدس سرہ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اللہ عنہ کے مزار پاک کے اندر سے فاتحہ پڑھ کر نکل رہے تھے، اور اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا علیہ الرحمہ بغرضِ فاتحہ اندر جا رہے تھے کہ فاضل بریلوی کی نظر آپ پر پڑی، دیکھا تو بالکل ہم شکل محبوب الٰہی و غوث الثقلین تھے، اسی وقت بر جستہ یہ شعر کہا :

؎ اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسنِ خوباں
اے نظر کردہ و پرور دہءِ سہ محبوباں

وصال:
11 رجب المرجب 1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد درگاہ مخدوم سید اشرف میں زیارت گاہِ عام و خاص ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ali-hussain-ashrafi-kachochavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-04-1445 ᴴ | 07-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2