🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا سیفی فریدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا سید مکرم علی شاہ سیفی فرید آبادی بن حضرت حکیم پیر سید امتیاز علی شاہ کاظمی نقوی نومبر ۱۸۹۴ء بمقام فرید آباد ضلع گڑگاواں (مشرقی پنجاب انڈیا) دہلی سے بارہ میل دور اپنے نانا جان حضرت سید ولادت حسین شاہ کے مکان پر تولد ہوئے۔
حکیم صاحب چھٹی پشت میں حضرت سید عبدالوہاب قادری بخاری علیہ الرحمۃ جو قطب عالم تھے ارو کراچی میں حضرت عالم شاہ بکاری کے نام و لقب سے مشہور ہیں، جامع کلاتھ ایم ۔ اے جناح روڈ میں مرجع خلائق ہیں۔ حکیم صاحب آگرہ میںمطب کرتے تھے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی پرورش ایک فارسی دان خاتون کی آغوش میں ہوئی تھی، اسلئے آپ کو فارسی زبان پر کاس طور پر عبور حاسل تھا۔ ابتدائی تعلیم فرید آباد کے مدرسہ میں حاصل کی۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد مدرسہ قادریہ بدایوں شریف (انڈیا) میں داخلہ لیا۔ آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں رقمطراز ہیں:
دینیات کی تعلیم مدرسہ قادریہ بدایوں میں ہوئی۔ حدیث و تفسیر ختم کرنے کے بعد خیال آیا کہ کوئی صیغہ روزگار بھی اختیار کرنا چاہئے اسلئے منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات مولوی اولاد حسین شاداں بلگرامی کی شاگردی میں پاس کئے۔ وہیں (رامپور میں) جناب منشی حیات بخش رسا رامپوری سے فن شعر و سخن میں شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ نے اپنے والد سے بھی اصلاح لی تھی وہ بھی حضرت رسا کے شاگرد تھے اور رسا رامپوری جناب مرزا داغ دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔
آپ نے پانی تعلیم کے متعلق لکھا ہے کہ منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات رامپور میں پاس کئے۔ جب کہ آپ کے سوانح نگار جناب الحاج سید فتح علی حیدر ی قادری خوشتر مرحوم (کراچی) رقمطراز ہیں: ’’مشنی فاضل اور عربی میں مولوی فاضؒ کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کئے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ۔ او ۔ ایل پاس کیا۔ بمبئی سے بار کونسل ایڈوکیٹ کا امتحان دے کر او ۔ ایس ایڈوکیٹ کا ڈپلومہ کیا۔
ملازت و وکالت:
ابتدائی ملازمت ریاست کوتہ بوندی راجپوتانہ میں کورٹ کی سرشتہ داری سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے جہاں پولیٹکل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ چونکہ وکالت پاس کر لی تھی اسلئے ریاست دھولپور (جودھپور) میں ڈپٹی جسٹس (سب جج) درجہ اول مقرر ہوئے لیکن تنخواہ کی کمی کے سبب اس عہدے سے مستعفی ہو کر وکالت شروع فرمائی بفضلہ تعالیٰ کامیاب وکلاء شمار ہونے لگا۔
۱۹۴۷ء کو آگرہ (اکبر آباد) سے نقل مکانی کرکے پاکستان (کراچی) آئے اور حیدرآباد سندھ میں رہائش اختیار کی وکالت کے پیشہ سے منسلک رہے لیکن یہاں بڑے بیٹے کے انقال کے سبب دل برداشتہ ہوگئے اور جلد ہی ملتان رخصت ہوگئے۔ ملتان میں بھی وہی پیشہ رہا بار کے انتخابات میں بلا مقابلہ وائس پریزیڈنٹ منتخب ہوئے۔ چنانچہ ۱۹۵۴ء تک ملتان ہی میں رہے۔
چھ سال ملتان میں قیام رہا چونکہ عزیز و اقارب کی کثرت اور تمام صاحبزادگان کراچی میں تھے اسلئے آپ بھی ملتان سے منتقل ہو کر ۱۹۵۴ء کو کراچی آگئے اور یہاں وکالت شروع کردی اور کچھ عرصہ میں کراچی جیسے عریض و بسیط شہر میں معروف وکلاء میں آپ کا شمار ہونے لگا۔
جب ضعیفی پیرانہ سالی کے باعث آپ سے کورٹ کے زینے چڑھنا مشکل ہوگیا تو آپ نے صرف ٹیبل ورک پر اکتفا کیا۔ لیکن خاص خاص معاملات اور ان کے نازک مراحل پر مثلاً بیانات پر جرح یا اہم بحث کے مواقع پر تکلیف سے سہی مگر جاتے ضرور تھے۔ انتقال سے چار دن قبل تک کورٹ میں تشریف لائے تھے آپ لمبی بحث نہیں کرتے تھے لین اپنی مختصر بیانی سے مد مقابل وکیل کو لا جواب کر دیتے تھے۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں اپنے والد ماجد حضرت حکیم سید امتیاز علی شاہ نقوی چشتی صابری فخری صمدی علیہ الرحمہ المعروف سیمات متھراوی ثم اکبر آبادی سے دست بعیت تھے اور حضرت علائو الدین شاہ چشتی علیہ الرحمۃ کے صاحب مجاز خلیفہ تھے ۔
مولانا سید مکرم علی شاہ سیفی فرید آبادی بن حضرت حکیم پیر سید امتیاز علی شاہ کاظمی نقوی نومبر ۱۸۹۴ء بمقام فرید آباد ضلع گڑگاواں (مشرقی پنجاب انڈیا) دہلی سے بارہ میل دور اپنے نانا جان حضرت سید ولادت حسین شاہ کے مکان پر تولد ہوئے۔
حکیم صاحب چھٹی پشت میں حضرت سید عبدالوہاب قادری بخاری علیہ الرحمۃ جو قطب عالم تھے ارو کراچی میں حضرت عالم شاہ بکاری کے نام و لقب سے مشہور ہیں، جامع کلاتھ ایم ۔ اے جناح روڈ میں مرجع خلائق ہیں۔ حکیم صاحب آگرہ میںمطب کرتے تھے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی پرورش ایک فارسی دان خاتون کی آغوش میں ہوئی تھی، اسلئے آپ کو فارسی زبان پر کاس طور پر عبور حاسل تھا۔ ابتدائی تعلیم فرید آباد کے مدرسہ میں حاصل کی۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد مدرسہ قادریہ بدایوں شریف (انڈیا) میں داخلہ لیا۔ آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں رقمطراز ہیں:
دینیات کی تعلیم مدرسہ قادریہ بدایوں میں ہوئی۔ حدیث و تفسیر ختم کرنے کے بعد خیال آیا کہ کوئی صیغہ روزگار بھی اختیار کرنا چاہئے اسلئے منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات مولوی اولاد حسین شاداں بلگرامی کی شاگردی میں پاس کئے۔ وہیں (رامپور میں) جناب منشی حیات بخش رسا رامپوری سے فن شعر و سخن میں شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ نے اپنے والد سے بھی اصلاح لی تھی وہ بھی حضرت رسا کے شاگرد تھے اور رسا رامپوری جناب مرزا داغ دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔
آپ نے پانی تعلیم کے متعلق لکھا ہے کہ منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات رامپور میں پاس کئے۔ جب کہ آپ کے سوانح نگار جناب الحاج سید فتح علی حیدر ی قادری خوشتر مرحوم (کراچی) رقمطراز ہیں: ’’مشنی فاضل اور عربی میں مولوی فاضؒ کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کئے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ۔ او ۔ ایل پاس کیا۔ بمبئی سے بار کونسل ایڈوکیٹ کا امتحان دے کر او ۔ ایس ایڈوکیٹ کا ڈپلومہ کیا۔
ملازت و وکالت:
ابتدائی ملازمت ریاست کوتہ بوندی راجپوتانہ میں کورٹ کی سرشتہ داری سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے جہاں پولیٹکل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ چونکہ وکالت پاس کر لی تھی اسلئے ریاست دھولپور (جودھپور) میں ڈپٹی جسٹس (سب جج) درجہ اول مقرر ہوئے لیکن تنخواہ کی کمی کے سبب اس عہدے سے مستعفی ہو کر وکالت شروع فرمائی بفضلہ تعالیٰ کامیاب وکلاء شمار ہونے لگا۔
۱۹۴۷ء کو آگرہ (اکبر آباد) سے نقل مکانی کرکے پاکستان (کراچی) آئے اور حیدرآباد سندھ میں رہائش اختیار کی وکالت کے پیشہ سے منسلک رہے لیکن یہاں بڑے بیٹے کے انقال کے سبب دل برداشتہ ہوگئے اور جلد ہی ملتان رخصت ہوگئے۔ ملتان میں بھی وہی پیشہ رہا بار کے انتخابات میں بلا مقابلہ وائس پریزیڈنٹ منتخب ہوئے۔ چنانچہ ۱۹۵۴ء تک ملتان ہی میں رہے۔
چھ سال ملتان میں قیام رہا چونکہ عزیز و اقارب کی کثرت اور تمام صاحبزادگان کراچی میں تھے اسلئے آپ بھی ملتان سے منتقل ہو کر ۱۹۵۴ء کو کراچی آگئے اور یہاں وکالت شروع کردی اور کچھ عرصہ میں کراچی جیسے عریض و بسیط شہر میں معروف وکلاء میں آپ کا شمار ہونے لگا۔
جب ضعیفی پیرانہ سالی کے باعث آپ سے کورٹ کے زینے چڑھنا مشکل ہوگیا تو آپ نے صرف ٹیبل ورک پر اکتفا کیا۔ لیکن خاص خاص معاملات اور ان کے نازک مراحل پر مثلاً بیانات پر جرح یا اہم بحث کے مواقع پر تکلیف سے سہی مگر جاتے ضرور تھے۔ انتقال سے چار دن قبل تک کورٹ میں تشریف لائے تھے آپ لمبی بحث نہیں کرتے تھے لین اپنی مختصر بیانی سے مد مقابل وکیل کو لا جواب کر دیتے تھے۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں اپنے والد ماجد حضرت حکیم سید امتیاز علی شاہ نقوی چشتی صابری فخری صمدی علیہ الرحمہ المعروف سیمات متھراوی ثم اکبر آبادی سے دست بعیت تھے اور حضرت علائو الدین شاہ چشتی علیہ الرحمۃ کے صاحب مجاز خلیفہ تھے ۔
❤2
عادات و خصائل:
آپ مقدمات لینے میں پوری احتیاط فرماتے ، جھوٹے مقدمات ت وکجا ایسے مقدمات تک کو قبول نہ فرماتے جس میں کوئی دینی خلل پیدا ہوتا ہو۔ اپنی قابلیت اور پچاس ساٹھ سالہ تجربہ کی بنیاد پر اور مقدمات میں سو فیصد کامیابیوں کے باعث زیادہ فیس مل سکتی تھی لیکن آپ ہمیشہ مختصر فیس لیتے تھے۔ خاص عزیز اور خصوصی احباب کے مقدمات میں بلا فیس پیروی کرتے۔ غریب اور نادار کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ بہترین حافطہ کی دولت سے نوازے گئے تھے۔ آخری عمر تک قانونی دفعات اور متعلقہ کتب کے صفحات تک یاد تھے۔ بیشتر وکلاء صاحبان آپ سے مشورہ لیتے اپنی عرضی دعوے، جواب دعویٰ کے سلسلہ میں آپ کی رہنمائی لیتے تھے۔ اککل حلال اور طہارت غذا و خوراک آپ کا معمول خاص تھا، اخلاص، خدا ترسی اور دلجوئی آپ کی سرشت میں داخل تھی۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی بدرجہ اتم موجود تھی عبادات و ریاضت اور مجاہدات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے کرم، پیران عظام کی مدد سے وقلب جاری تھا۔ دروج تاج شریف کے عامل تھے۔
تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں چند کتابوں پر مطلع ہو سکا وہ نذر قارئین ہیں:
٭ صہبائے پارسی :
سلطان الہند خواجہ سید معین الدین چشتی غریب نوا زقدس سرہ الاقدس (اجمیر شریف) کے نام منسوب ’’ دیوان فارسی ‘‘ کا آپ نے اردو میں کامیاب منظوم ترجمہ کیا ۔ مناجات حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہٗ کا منظوم اردو ترجمہ کیا ۔
٭ ارمغان سیفی :
مرتبہ علامہ شمس بریلوی
مطبوعہ کراچی ۱۹۸۴ء
مولانا سیفی کے صاحبزادے سید سلطان احمد نقوی نے مولانا کے انتقال کے بعد تمام قلمی کلام الحاج سید فتح علی حیدری کی وساطت سے علامہ شمس بریلوی کی خدمت میں پیش کیا انہوں نے ترتیب کے علاوہ مولانا کی شاعری پر طویل مقدمہ قلمبند فرمایا اور نام ارمغان سیفی تجویز کیا ۔
سلطان صاحب (نارتھ ناظم آباد کراچی) نے خود اپنی طرف سے ۱۹۸۴ء کو شائع کیا۔ ملنے کا پتہ و ایڈریس درج نہیں ۔
شادی و اولاد:
آپ نے شادی کی جس سے چار بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئے ۔
٭ سید شفیق احمد رف سلطان احمد نقوی نارتھ ناظم آباد کراچی ۔
٭ سیدل لئیق احمد
٭ سید خلیق احمد ، پی آئی بی کالونی کرچی۔
٭ سید عتیق احمد
شاعری:
علامہ سیفی کی شاعری حمد، نعت ،غزل ، منقبت ، قطعہ تاریخ اور صوفیانہ کلام پر مشتمل ہے۔ مولانا شمس بریلوی، سیفی کی شاعری کے متعلق اپنے مقدمہ میں رقمطراز ہیں: ’’حضرت سیفی کی شاعری میں بیساختگی کو بڑا دخل ہے جس نے ان کو مقبول عام و خاص شاعر بنا دیا تھا اور سامعین ان کے کلام سے لطف اندوز اور محظوظ ہوتے تھے یہ بیساختگی جس طرح زبان کی صحت و صفائی کی آئینہ دار ہوتی ہے اسی طرح کلام کی فصاحت اس کا ثمرہ ہے ، کلام فصیح کیلئے ضروری ہے کہ وہ صحت زبان ، سلاست بیان، تنافر کلمات، مخالفت قیاس لغوی، تعقید لفظی و معنوی اور توائی اضاحت سے پاک و صاف ہو، میں حضرت سیفی کے کلام سے صحت زبان سلاست بیان اور طرز ادا کی بیساختگی کے تحت متعدد اشعار پیش کر چکا ہوں…‘‘
دوسرے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’حضرت سیفی کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت بھی عطا فرمائی تھی ، بلند پایہ دینی کتب کے مطالعہ سے بہرہ ور تھے ، سیرت طیبہ کی خصوصیات اور معجزات پر ان کی نظر تھی، یہی سبب ہے کہ عرفان محمد ﷺ کے ساتھ ساتھ ان کی نعت میں عشق محمد ﷺ کی لہریں بھی موجزن ہیں ۔ ( ارمغان سیفی مقدمہ ) ـ
آپ مقدمات لینے میں پوری احتیاط فرماتے ، جھوٹے مقدمات ت وکجا ایسے مقدمات تک کو قبول نہ فرماتے جس میں کوئی دینی خلل پیدا ہوتا ہو۔ اپنی قابلیت اور پچاس ساٹھ سالہ تجربہ کی بنیاد پر اور مقدمات میں سو فیصد کامیابیوں کے باعث زیادہ فیس مل سکتی تھی لیکن آپ ہمیشہ مختصر فیس لیتے تھے۔ خاص عزیز اور خصوصی احباب کے مقدمات میں بلا فیس پیروی کرتے۔ غریب اور نادار کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ بہترین حافطہ کی دولت سے نوازے گئے تھے۔ آخری عمر تک قانونی دفعات اور متعلقہ کتب کے صفحات تک یاد تھے۔ بیشتر وکلاء صاحبان آپ سے مشورہ لیتے اپنی عرضی دعوے، جواب دعویٰ کے سلسلہ میں آپ کی رہنمائی لیتے تھے۔ اککل حلال اور طہارت غذا و خوراک آپ کا معمول خاص تھا، اخلاص، خدا ترسی اور دلجوئی آپ کی سرشت میں داخل تھی۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی بدرجہ اتم موجود تھی عبادات و ریاضت اور مجاہدات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے کرم، پیران عظام کی مدد سے وقلب جاری تھا۔ دروج تاج شریف کے عامل تھے۔
تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں چند کتابوں پر مطلع ہو سکا وہ نذر قارئین ہیں:
٭ صہبائے پارسی :
سلطان الہند خواجہ سید معین الدین چشتی غریب نوا زقدس سرہ الاقدس (اجمیر شریف) کے نام منسوب ’’ دیوان فارسی ‘‘ کا آپ نے اردو میں کامیاب منظوم ترجمہ کیا ۔ مناجات حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہٗ کا منظوم اردو ترجمہ کیا ۔
٭ ارمغان سیفی :
مرتبہ علامہ شمس بریلوی
مطبوعہ کراچی ۱۹۸۴ء
مولانا سیفی کے صاحبزادے سید سلطان احمد نقوی نے مولانا کے انتقال کے بعد تمام قلمی کلام الحاج سید فتح علی حیدری کی وساطت سے علامہ شمس بریلوی کی خدمت میں پیش کیا انہوں نے ترتیب کے علاوہ مولانا کی شاعری پر طویل مقدمہ قلمبند فرمایا اور نام ارمغان سیفی تجویز کیا ۔
سلطان صاحب (نارتھ ناظم آباد کراچی) نے خود اپنی طرف سے ۱۹۸۴ء کو شائع کیا۔ ملنے کا پتہ و ایڈریس درج نہیں ۔
شادی و اولاد:
آپ نے شادی کی جس سے چار بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئے ۔
٭ سید شفیق احمد رف سلطان احمد نقوی نارتھ ناظم آباد کراچی ۔
٭ سیدل لئیق احمد
٭ سید خلیق احمد ، پی آئی بی کالونی کرچی۔
٭ سید عتیق احمد
شاعری:
علامہ سیفی کی شاعری حمد، نعت ،غزل ، منقبت ، قطعہ تاریخ اور صوفیانہ کلام پر مشتمل ہے۔ مولانا شمس بریلوی، سیفی کی شاعری کے متعلق اپنے مقدمہ میں رقمطراز ہیں: ’’حضرت سیفی کی شاعری میں بیساختگی کو بڑا دخل ہے جس نے ان کو مقبول عام و خاص شاعر بنا دیا تھا اور سامعین ان کے کلام سے لطف اندوز اور محظوظ ہوتے تھے یہ بیساختگی جس طرح زبان کی صحت و صفائی کی آئینہ دار ہوتی ہے اسی طرح کلام کی فصاحت اس کا ثمرہ ہے ، کلام فصیح کیلئے ضروری ہے کہ وہ صحت زبان ، سلاست بیان، تنافر کلمات، مخالفت قیاس لغوی، تعقید لفظی و معنوی اور توائی اضاحت سے پاک و صاف ہو، میں حضرت سیفی کے کلام سے صحت زبان سلاست بیان اور طرز ادا کی بیساختگی کے تحت متعدد اشعار پیش کر چکا ہوں…‘‘
دوسرے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’حضرت سیفی کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت بھی عطا فرمائی تھی ، بلند پایہ دینی کتب کے مطالعہ سے بہرہ ور تھے ، سیرت طیبہ کی خصوصیات اور معجزات پر ان کی نظر تھی، یہی سبب ہے کہ عرفان محمد ﷺ کے ساتھ ساتھ ان کی نعت میں عشق محمد ﷺ کی لہریں بھی موجزن ہیں ۔ ( ارمغان سیفی مقدمہ ) ـ
❤2
ان کی نعتیہ غزلوں سے
چند اشعار ملاحظہ کیجئے:
حسن مطلق ہوا مشتاق وصال محبوب
مرحبا، صلی علی ، حسن و جمال محبوب
انبیاء حاصل معراج کمالات بشر
فوق معراج کمالات، کمال محبوب
اور جب اسی زمین میں وہ کمالات و خصائص مصطفوی ﷺ کو بیان کرتے ہیں تو اس طرح کہتے ہیں:
خط قوسین دوئی سے خط او ادنیٰ تک
پر پرواز، خرد سوز، کمال محبوب
قول واللہ یتم کے یہ معنی نکلے!
کہ مقدر نہ ہو اکوئی زوال محبوب
کہہ کے انتم طلقاء کر لیا اعداء کو غلام
مرحبا! حسن سیامت و نوال محبوب
آپ کی پرواز او ادنیٰ کی یہ تفیسر ہے
’’لا‘‘ سے آگے بھی خط الا اھاطہ گیر ہے
انبیاء ہی تک نہیں محدود میثاق ازل
عہد میثاق ازل، مشتاق عالمگیر ہے
معنی آفرینی کے ساتھ انداز بیان ملاحظہ کیجئے:
جبیں طور پر نور خدا کی جلوہ سامانی
کہ تھی قد جاء کم نور من اللہ کی وہ تابانی
تمہاری خاک حزالبلد کی جان صفت ہے
زہے والتین و الزیتون کے اسرار پنہانی
فروغ جلوہ پیہم حریف ما طغیٰ کیوں ہو؟
کہ عرض صاعقہ سے انکسار ضبط انسانی
اللہ ترے محبوب حقیقی کا شباب
لن ترانی ک اوہ ڈالے ہوئے چہرہ پر نقاب
اذن منی کی صدائوں سے کیا تجھ کو خطاب
شب اسری ترے آگے ہوا بے حجب و حجاب
چھپنے والے ترے چھپنے کی ادا کیا کہنا
اک نظر باز کا مازاغ و طغیٰ کیا کہنا
چشم موسیٰ نے جو دیکھا تھا پس پردہ طور
چشم مازاغ نے دیکھا وہی جلوہ بھر پور
ماظفی وصف نظر تھا نہ خلاف دستور
تم تواب واسطہ غیر ہو، اللہ کے نور
کبھی دیکھی ہے نظر ایسی نہ ناظر ایسا
اس سے پہلے سفری ایسا نہ مسافر ایسا
نبی کا نعت خواں ہوں نعتیہ دیوان لایا ہوں
جو جنت ہی میں رکھا جائے وہ سامان لایا ہوں
نبی کے مصحف رخ کا تصور ہے میرے دل میں
فشار قبر سے بچنے کو یہ قرآن لایا ہوں
سرکار غوث اعطم شہنشاء بغداد سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی شان میں مولانا سیفی لکھتے ہیں:
عروج عاشقی کو بت پرستی لوگ کہتے ہیں
تصور میں نظر اایا ہے چہرہ غوث اعظم کا
اب اس کو چھوڑ کر جائوں تو سیفیؔ کہاں جائوں
بری مشکل سے ہاتھ آیا ہے روضہ غوث اعظم کا
نبی کا ہے جس پر قدم غوث اعظم
وہ تم ہو خدا کی قسم غوث اعظم
فقیری میں سیفیؔ کرے بادشاہی
کچھ ایسی ہو چشم کرم غوث اعظم
وصال:
حضرت مولاناسید مکرم علی سیفی نقوی نے ۲۲ ، ربیع الاخر ۱۴۰۱ھ بمطابق ۲۸ فروری ۱۹۸۱ء کو بروز ہفتہ بوقت فجر سن عیسوی کے حساب سے ۸۷ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
( ارمغان سیفی مرتبہ شمس بریلوی، مطبوعہ کراچی ۱۹۸۳ء سے حالات اخذ کئے گئے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ جناب غوث میاں (شاہ فیصل کالونی نمبر ۳ ) کے پاس محفوظ ہے۔ انہوں نے ازراہ کرم برائے مطالعہ فراہم کیا ۔ فقیر ممنون ہے ) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-saifi-fareedi
چند اشعار ملاحظہ کیجئے:
حسن مطلق ہوا مشتاق وصال محبوب
مرحبا، صلی علی ، حسن و جمال محبوب
انبیاء حاصل معراج کمالات بشر
فوق معراج کمالات، کمال محبوب
اور جب اسی زمین میں وہ کمالات و خصائص مصطفوی ﷺ کو بیان کرتے ہیں تو اس طرح کہتے ہیں:
خط قوسین دوئی سے خط او ادنیٰ تک
پر پرواز، خرد سوز، کمال محبوب
قول واللہ یتم کے یہ معنی نکلے!
کہ مقدر نہ ہو اکوئی زوال محبوب
کہہ کے انتم طلقاء کر لیا اعداء کو غلام
مرحبا! حسن سیامت و نوال محبوب
آپ کی پرواز او ادنیٰ کی یہ تفیسر ہے
’’لا‘‘ سے آگے بھی خط الا اھاطہ گیر ہے
انبیاء ہی تک نہیں محدود میثاق ازل
عہد میثاق ازل، مشتاق عالمگیر ہے
معنی آفرینی کے ساتھ انداز بیان ملاحظہ کیجئے:
جبیں طور پر نور خدا کی جلوہ سامانی
کہ تھی قد جاء کم نور من اللہ کی وہ تابانی
تمہاری خاک حزالبلد کی جان صفت ہے
زہے والتین و الزیتون کے اسرار پنہانی
فروغ جلوہ پیہم حریف ما طغیٰ کیوں ہو؟
کہ عرض صاعقہ سے انکسار ضبط انسانی
اللہ ترے محبوب حقیقی کا شباب
لن ترانی ک اوہ ڈالے ہوئے چہرہ پر نقاب
اذن منی کی صدائوں سے کیا تجھ کو خطاب
شب اسری ترے آگے ہوا بے حجب و حجاب
چھپنے والے ترے چھپنے کی ادا کیا کہنا
اک نظر باز کا مازاغ و طغیٰ کیا کہنا
چشم موسیٰ نے جو دیکھا تھا پس پردہ طور
چشم مازاغ نے دیکھا وہی جلوہ بھر پور
ماظفی وصف نظر تھا نہ خلاف دستور
تم تواب واسطہ غیر ہو، اللہ کے نور
کبھی دیکھی ہے نظر ایسی نہ ناظر ایسا
اس سے پہلے سفری ایسا نہ مسافر ایسا
نبی کا نعت خواں ہوں نعتیہ دیوان لایا ہوں
جو جنت ہی میں رکھا جائے وہ سامان لایا ہوں
نبی کے مصحف رخ کا تصور ہے میرے دل میں
فشار قبر سے بچنے کو یہ قرآن لایا ہوں
سرکار غوث اعطم شہنشاء بغداد سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی شان میں مولانا سیفی لکھتے ہیں:
عروج عاشقی کو بت پرستی لوگ کہتے ہیں
تصور میں نظر اایا ہے چہرہ غوث اعظم کا
اب اس کو چھوڑ کر جائوں تو سیفیؔ کہاں جائوں
بری مشکل سے ہاتھ آیا ہے روضہ غوث اعظم کا
نبی کا ہے جس پر قدم غوث اعظم
وہ تم ہو خدا کی قسم غوث اعظم
فقیری میں سیفیؔ کرے بادشاہی
کچھ ایسی ہو چشم کرم غوث اعظم
وصال:
حضرت مولاناسید مکرم علی سیفی نقوی نے ۲۲ ، ربیع الاخر ۱۴۰۱ھ بمطابق ۲۸ فروری ۱۹۸۱ء کو بروز ہفتہ بوقت فجر سن عیسوی کے حساب سے ۸۷ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
( ارمغان سیفی مرتبہ شمس بریلوی، مطبوعہ کراچی ۱۹۸۳ء سے حالات اخذ کئے گئے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ جناب غوث میاں (شاہ فیصل کالونی نمبر ۳ ) کے پاس محفوظ ہے۔ انہوں نے ازراہ کرم برائے مطالعہ فراہم کیا ۔ فقیر ممنون ہے ) ـ
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-saifi-fareedi
❤2
مریدِ حضرتِ وارثِ پاک، حضرت علامہ
سیماب اکبر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قادر الکلام شاعر و عالم مولانا عاشق حسین صدیقی المعروف سیماب اکبر آبادی بن مولانا محمد حسین صدیقی ، اکبر آباد (انڈیا) میں جمادی الاخر ۱۲۹۹ھ؍۱۸۸۰ ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے گھر کا ماحول دینی روحانی تھا، اس لئے تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا اپنے والد ماجد سے دینی تعلیم حاصل کی اس کے بعد وقت کے مشاہیر علماء سے اکتساب فیض کیا ان میں سے حضرت مولانا جمال الدین سر حدی کا نام نمایاں ہے ۔
شاعری کا اعلی ذوق اور صلاحیت انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی ، کچھ ان کی اپنی کاوش و جفاکشی تھی ۔ فصیح الملک نواب مرزا داغ دہلوی سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا ۔
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ وارثیہ میں حضرت حافظ حاجی سید وارث علی شاہ علیہ الرحمہ متوفی ۱۹۰۴ء (دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی ، یوپی ، انڈیا) سے بیعت ہوئے ۔
ذریعۂ معاش:
آپ نے ذریعہ معاش کے لئے ریلوے میں ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے دوران ہی مقامی اور بیرونی مشاعروں میں شرکت اور صدارت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، اس وقت کے موثر رسائل و جرائد میں آپ کا کلام خصوصی امتیاز کے ساتھ شائع ہوا کرتاتھا ۔ دادا صاحب کی وفات کے بعد بہت بڑے کنبے کی کفالت کا تمام تربار آپ کے کاندھوں پر آ پڑا تھا، لہذا ۱۹۲۲ء کو ریلوے کی ملازمت سے مستعفی ہو کر مستقلا آگرے ( اکبرآباد ) آگئے اور ُنا ادبی ادارہ ’’ قصر الادب ‘‘ قائم کر کے تصنیف و تالیف کو باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ دادا صاحب کا قائم کیا ہوا ایک چھوٹا سا کتب خانہ تھا اس میں مقدور بھر توسیع کی ۔
قصر الادب کا ذیلی ادارہ ’’ دار التصنیف ‘‘ قائم کیا جو کفالت کا بہترین ذریعہ بن گیا ۔ اور بہت جلد قصر الادب مرکز فیض بن گیا ۔
شادی و اولاد:
آپ نے انڈیا میں ۱۹۰۰ کو سکینہ بیگم سے عقد مسنون کیا ۔ جن سے دو بیٹیاں اور چار بیتے تولد ہوئے ۔
اسمائے اولاد:
حسینہ خاتون ، شمشاد حسین منظر ، جمیلہ خاتون ، اعجاز حسین اعجاز ، سجاد حسین ، مظہر حسین مظہر صدیقی مرحوم ۔
والد کے انتقال کے بعد مظہر صدیقی نے والد کے مشن کو جاری رکھا ناظم آباد میں ’’ سیماب اکیڈمی ‘‘ قائم کر کے والد کی گراں قدر کتب کو طباعت کے زیور سے آراستہ کر کے مطالعہ کی میز تک پہنچائیں ، اس کے علاوہ علماء دانشور اور مشاہیر امت کے تاثرات بھی ہر کتاب کے ساتھ شائع کئے ۔
علاوہ ازاں مظہر صدیقی نے ماہنامہ پرچم کا ’’ تعزیت نمبر ‘‘ شائع کیا تھا جس میں بھی ہند و پاک کے علماء ، مشائخ ، دانشور ، شعراء اور مشاہیر کے تاثرات ، مناقب اور تاریخی قطعات درج ہیں ۔
پاکستان میں آمد:
۱۹۴۷ء کو پاکستان قائم ہوا اور اگست ۱۹۴۸ء کو سیماب انڈیا سے پاکستان کراچی تشریف لائے اور ۱۹۵۱ء کو انتقال کیا اس طرح وہ سر زمین پاک میں فقط تین سال زندہ رہے ۔ اس سے واضح ہوا کہ آپ کی زندگی قصر الادب آگرہ میں علم و ادب کی خدمت میں بسر ہوئی ۔
تلامذہ:
قصر الادب سے نہ جانے کتنے حضرات میں شاعری کا ذوق ابھرا، نہ جانے کتنے لوگ صاحب دیوان بن گئے اور نہ جانے کتنے گمنام لوگوں کو شہرت دوام مل گئی ، تلامذہ کا مجموعہ روز بروز بڑھتا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ڈھائی ہزار تلامذہ نے آپ سے استفادہ کیا ۔
صحافت:
سیماب مرحوم کا کلام بے شمار اخبارات و رسائل میں شائع ہوا اور بہت سارے اخبارات و رسائل ان کی ذات کی وجہ سے وجود میں آئے ان میںسے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :
زیر ادارت:
ماہنامہ مرصع ، ماہنامہ پردہ نشین ، ہفت روز ہ تاج ، ماہنامہ شاعر ، ماہنامہ کنول ، سہ روزہ ایشیا، ماہنامہ پرچم کراچی ۔ وغیرہ
سیماب اکبر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قادر الکلام شاعر و عالم مولانا عاشق حسین صدیقی المعروف سیماب اکبر آبادی بن مولانا محمد حسین صدیقی ، اکبر آباد (انڈیا) میں جمادی الاخر ۱۲۹۹ھ؍۱۸۸۰ ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے گھر کا ماحول دینی روحانی تھا، اس لئے تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا اپنے والد ماجد سے دینی تعلیم حاصل کی اس کے بعد وقت کے مشاہیر علماء سے اکتساب فیض کیا ان میں سے حضرت مولانا جمال الدین سر حدی کا نام نمایاں ہے ۔
شاعری کا اعلی ذوق اور صلاحیت انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی ، کچھ ان کی اپنی کاوش و جفاکشی تھی ۔ فصیح الملک نواب مرزا داغ دہلوی سے بھی شرف تلمذ حاصل کیا ۔
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ وارثیہ میں حضرت حافظ حاجی سید وارث علی شاہ علیہ الرحمہ متوفی ۱۹۰۴ء (دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی ، یوپی ، انڈیا) سے بیعت ہوئے ۔
ذریعۂ معاش:
آپ نے ذریعہ معاش کے لئے ریلوے میں ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے دوران ہی مقامی اور بیرونی مشاعروں میں شرکت اور صدارت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، اس وقت کے موثر رسائل و جرائد میں آپ کا کلام خصوصی امتیاز کے ساتھ شائع ہوا کرتاتھا ۔ دادا صاحب کی وفات کے بعد بہت بڑے کنبے کی کفالت کا تمام تربار آپ کے کاندھوں پر آ پڑا تھا، لہذا ۱۹۲۲ء کو ریلوے کی ملازمت سے مستعفی ہو کر مستقلا آگرے ( اکبرآباد ) آگئے اور ُنا ادبی ادارہ ’’ قصر الادب ‘‘ قائم کر کے تصنیف و تالیف کو باقاعدہ کام شروع کر دیا۔ دادا صاحب کا قائم کیا ہوا ایک چھوٹا سا کتب خانہ تھا اس میں مقدور بھر توسیع کی ۔
قصر الادب کا ذیلی ادارہ ’’ دار التصنیف ‘‘ قائم کیا جو کفالت کا بہترین ذریعہ بن گیا ۔ اور بہت جلد قصر الادب مرکز فیض بن گیا ۔
شادی و اولاد:
آپ نے انڈیا میں ۱۹۰۰ کو سکینہ بیگم سے عقد مسنون کیا ۔ جن سے دو بیٹیاں اور چار بیتے تولد ہوئے ۔
اسمائے اولاد:
حسینہ خاتون ، شمشاد حسین منظر ، جمیلہ خاتون ، اعجاز حسین اعجاز ، سجاد حسین ، مظہر حسین مظہر صدیقی مرحوم ۔
والد کے انتقال کے بعد مظہر صدیقی نے والد کے مشن کو جاری رکھا ناظم آباد میں ’’ سیماب اکیڈمی ‘‘ قائم کر کے والد کی گراں قدر کتب کو طباعت کے زیور سے آراستہ کر کے مطالعہ کی میز تک پہنچائیں ، اس کے علاوہ علماء دانشور اور مشاہیر امت کے تاثرات بھی ہر کتاب کے ساتھ شائع کئے ۔
علاوہ ازاں مظہر صدیقی نے ماہنامہ پرچم کا ’’ تعزیت نمبر ‘‘ شائع کیا تھا جس میں بھی ہند و پاک کے علماء ، مشائخ ، دانشور ، شعراء اور مشاہیر کے تاثرات ، مناقب اور تاریخی قطعات درج ہیں ۔
پاکستان میں آمد:
۱۹۴۷ء کو پاکستان قائم ہوا اور اگست ۱۹۴۸ء کو سیماب انڈیا سے پاکستان کراچی تشریف لائے اور ۱۹۵۱ء کو انتقال کیا اس طرح وہ سر زمین پاک میں فقط تین سال زندہ رہے ۔ اس سے واضح ہوا کہ آپ کی زندگی قصر الادب آگرہ میں علم و ادب کی خدمت میں بسر ہوئی ۔
تلامذہ:
قصر الادب سے نہ جانے کتنے حضرات میں شاعری کا ذوق ابھرا، نہ جانے کتنے لوگ صاحب دیوان بن گئے اور نہ جانے کتنے گمنام لوگوں کو شہرت دوام مل گئی ، تلامذہ کا مجموعہ روز بروز بڑھتا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ڈھائی ہزار تلامذہ نے آپ سے استفادہ کیا ۔
صحافت:
سیماب مرحوم کا کلام بے شمار اخبارات و رسائل میں شائع ہوا اور بہت سارے اخبارات و رسائل ان کی ذات کی وجہ سے وجود میں آئے ان میںسے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں :
زیر ادارت:
ماہنامہ مرصع ، ماہنامہ پردہ نشین ، ہفت روز ہ تاج ، ماہنامہ شاعر ، ماہنامہ کنول ، سہ روزہ ایشیا، ماہنامہ پرچم کراچی ۔ وغیرہ
❤2
تحریک پاکستان:
سیماب نے ۱۹۳۰ء کو ایک نیا رسالہ ’’شاعر ، آگرہ سے جاری کیا ، اسی کے ساتھ ہفت روزہ ’’تاج ‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ ماہنامہ شاعر خالص ادبی وشعری رسالہ تھا اور ہفت روزہ ’’تاج ‘‘علمی ادبی اور سیاسی پرچہ تھا جو چار پانچ سال مسلسل شائع ہونے کے بعد کانگریس حکومت کے عتاب کی نذر ہو گیا ۔
۱۹۴۵ء تا ۱۹۴۸ء تک کا عرصہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے لئے کس قدر صبر آزما اور حوصلہ شکن رہا تھا باخبر بخوبی جانتے ہیں ۔ ادبی دنیا پر بھی ایک جمود سا طاری رہا، وسوسوں اور تذبذب کے سوا کچھ اور تھا ہی نہیں ، کسی نہ کسی طرح قصر الادب کا تھوڑا بہت کام چل رہا تھا ۔
ماہنامہ شاعر کبھی وقت پر اور کبھی تاخیر سے شائع ہوتا رہا ۔ اس عالم میں بھی سیماب مرحوم کا قلم مسلسل چلتا رہا وہ اپنی قومی نظموں کے ذریعہ قوم کو آزادی کا پیغام دیتے رہے ، صلح و آشتی کا پرچار کرتے رہے ، مسلمانان ہند کو ان کا وقار اور ان کے اسلاف کے مسلک سے آشنا کرتے رہے ، گوانہوں نے خود عملی طور پر سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا مگر اپنے اعلی سیاسی شعور و تدبر کو اپنی تخلیقات کے ذریعے اکابرین تک پہنچاتے رہے جو مسلمانوں کے تحفظ اور وقار کے لئے شمع آزادی روشن کرنے کی جدوجہد میں مسلسل کو شاں اور مصروف تھے ۔
( ماخوذ: لوح محفوظ : پیش لفظ ، مطبوعہ سیماب اکیڈمی )
تصنیف و تالیف:
آپ کی نظم ونثر میںچھوٹی بڑی تصانیف و تالیفات کی تعداد ۲۸۴ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے بعض مشہور و معروف تخلیقات کا تعارف درج ذیل ہے ۔
٭ وحی منظوم :
قرآن مجید کا مکمل منظوم اردو ترجمہ مع تشریح ، سیماب اکیڈمی کراچی نے نومبر ۱۹۸۱ء کو شائع کیا دوران طباعت ہی صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے اس منفرد و منظوم ترجمہ کو ’’ ہجرۃ ایوارڈ ‘‘ دیا ۔ ( تین جلدیں ) ـ
٭ ساز حجاز :
روح پرور نعتیہ کلام مطبوعہ سیماب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۲ء
٭ ستون کعبہ :
شہداء کربلا کو خراج عقیدت ـ
٭ استوار الاصلاح :
فن اصلاح پر مشتمل ہے ، آٹھواں ایڈیشن ۱۹۴۶ء کو شائع ہوا ۔
٭ الہام منظوم اردو ترجمہ مثنوی مولانا روم : مولانا فیروز الدین مالک فیروز اینڈ سنز کی فر مائش پر مکمل ترجمہ کیا جو کہ ۶ جلدوں میں شائع ہوا۔ مولانا نے پیش لفظ میں لکھا: یہ مشکل کام کسی بڑے سے بڑے شاعر کے بس کی بات نہ تھی ‘‘۔
٭ سیرت النبی ﷺ ( نثر ) :
تاج کمپنی لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائر یکٹر شیخ عنایت اللہ کی فرمائش پر تحریر کی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان ـ
٭ کلیم عجم :
پہلا دیوان جو کہ ۱۹۳۶ء کو شائع ہوا اس میں ان کے وہ چودہ خطبات بھی شامل ہیں جو کہ مختلف مشاعروں مین بحیثیت صدر پڑھ چکے تھے ۔
٭ کار امروز :
نظموں کا پہلا مجموعہ ۱۹۳۶ء کو آگرہ سے شائع ہوا ۔
٭ سدرۃ المنتہی :
غزلوں کا دوسرا دیوان شائع ہوا ۔
٭ سازو آہنگ :
نظموں کا خوبصورت مجموعہ شائع ہوا۔
٭ شعر انقلاب :
نظموں کا خوبصورت مجموعہ شائع ہوا۔
٭ قائد کی خوشبو :
قائداعظم کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر متعلق ولولہ انگیز نظموں پر مشتمل سیماب اکیڈمی کراچی نے شائع کی ۔
٭ نے ستاں :
ابتداء میں سب سے پہلا مجموعہ شائع ہوا جو کہ مذہبی نظموں ، نعتوں اور تصوف پر مبنی کلام پر مشتمل ہے ۔
٭ لوح محفوظ :
غزلوں کا آخری دیوان ہے جسے سیماب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۳ء کو شائع کیا ۔
٭ کلیات سیماب ۔
٭ ریاض الاظھر فی احوال سید البشر :(مولف مولوی محمد باقر آگاہ ) مرتبہ شارح ،سیماب طبع اول قومی پریس معسکر بنگلور انڈیا ۔ (بحوالہ: اردو میں میلاد النبی ﷺ ) ـ
* نمونہ کلام :
سیماب نے ۱۹۳۰ء کو ایک نیا رسالہ ’’شاعر ، آگرہ سے جاری کیا ، اسی کے ساتھ ہفت روزہ ’’تاج ‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ ماہنامہ شاعر خالص ادبی وشعری رسالہ تھا اور ہفت روزہ ’’تاج ‘‘علمی ادبی اور سیاسی پرچہ تھا جو چار پانچ سال مسلسل شائع ہونے کے بعد کانگریس حکومت کے عتاب کی نذر ہو گیا ۔
۱۹۴۵ء تا ۱۹۴۸ء تک کا عرصہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے لئے کس قدر صبر آزما اور حوصلہ شکن رہا تھا باخبر بخوبی جانتے ہیں ۔ ادبی دنیا پر بھی ایک جمود سا طاری رہا، وسوسوں اور تذبذب کے سوا کچھ اور تھا ہی نہیں ، کسی نہ کسی طرح قصر الادب کا تھوڑا بہت کام چل رہا تھا ۔
ماہنامہ شاعر کبھی وقت پر اور کبھی تاخیر سے شائع ہوتا رہا ۔ اس عالم میں بھی سیماب مرحوم کا قلم مسلسل چلتا رہا وہ اپنی قومی نظموں کے ذریعہ قوم کو آزادی کا پیغام دیتے رہے ، صلح و آشتی کا پرچار کرتے رہے ، مسلمانان ہند کو ان کا وقار اور ان کے اسلاف کے مسلک سے آشنا کرتے رہے ، گوانہوں نے خود عملی طور پر سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا مگر اپنے اعلی سیاسی شعور و تدبر کو اپنی تخلیقات کے ذریعے اکابرین تک پہنچاتے رہے جو مسلمانوں کے تحفظ اور وقار کے لئے شمع آزادی روشن کرنے کی جدوجہد میں مسلسل کو شاں اور مصروف تھے ۔
( ماخوذ: لوح محفوظ : پیش لفظ ، مطبوعہ سیماب اکیڈمی )
تصنیف و تالیف:
آپ کی نظم ونثر میںچھوٹی بڑی تصانیف و تالیفات کی تعداد ۲۸۴ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے بعض مشہور و معروف تخلیقات کا تعارف درج ذیل ہے ۔
٭ وحی منظوم :
قرآن مجید کا مکمل منظوم اردو ترجمہ مع تشریح ، سیماب اکیڈمی کراچی نے نومبر ۱۹۸۱ء کو شائع کیا دوران طباعت ہی صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے اس منفرد و منظوم ترجمہ کو ’’ ہجرۃ ایوارڈ ‘‘ دیا ۔ ( تین جلدیں ) ـ
٭ ساز حجاز :
روح پرور نعتیہ کلام مطبوعہ سیماب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۲ء
٭ ستون کعبہ :
شہداء کربلا کو خراج عقیدت ـ
٭ استوار الاصلاح :
فن اصلاح پر مشتمل ہے ، آٹھواں ایڈیشن ۱۹۴۶ء کو شائع ہوا ۔
٭ الہام منظوم اردو ترجمہ مثنوی مولانا روم : مولانا فیروز الدین مالک فیروز اینڈ سنز کی فر مائش پر مکمل ترجمہ کیا جو کہ ۶ جلدوں میں شائع ہوا۔ مولانا نے پیش لفظ میں لکھا: یہ مشکل کام کسی بڑے سے بڑے شاعر کے بس کی بات نہ تھی ‘‘۔
٭ سیرت النبی ﷺ ( نثر ) :
تاج کمپنی لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائر یکٹر شیخ عنایت اللہ کی فرمائش پر تحریر کی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان ـ
٭ کلیم عجم :
پہلا دیوان جو کہ ۱۹۳۶ء کو شائع ہوا اس میں ان کے وہ چودہ خطبات بھی شامل ہیں جو کہ مختلف مشاعروں مین بحیثیت صدر پڑھ چکے تھے ۔
٭ کار امروز :
نظموں کا پہلا مجموعہ ۱۹۳۶ء کو آگرہ سے شائع ہوا ۔
٭ سدرۃ المنتہی :
غزلوں کا دوسرا دیوان شائع ہوا ۔
٭ سازو آہنگ :
نظموں کا خوبصورت مجموعہ شائع ہوا۔
٭ شعر انقلاب :
نظموں کا خوبصورت مجموعہ شائع ہوا۔
٭ قائد کی خوشبو :
قائداعظم کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر متعلق ولولہ انگیز نظموں پر مشتمل سیماب اکیڈمی کراچی نے شائع کی ۔
٭ نے ستاں :
ابتداء میں سب سے پہلا مجموعہ شائع ہوا جو کہ مذہبی نظموں ، نعتوں اور تصوف پر مبنی کلام پر مشتمل ہے ۔
٭ لوح محفوظ :
غزلوں کا آخری دیوان ہے جسے سیماب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۳ء کو شائع کیا ۔
٭ کلیات سیماب ۔
٭ ریاض الاظھر فی احوال سید البشر :(مولف مولوی محمد باقر آگاہ ) مرتبہ شارح ،سیماب طبع اول قومی پریس معسکر بنگلور انڈیا ۔ (بحوالہ: اردو میں میلاد النبی ﷺ ) ـ
* نمونہ کلام :
❤2
آپ کے کلام میں سے تبر کا کچھ اشعار نذر قارئین ہیں :
سر کار غوث اعظم، محبوب سبحانی ، قندیل نورانی ، قطب ربانی، حضور سید عبدالقادر جیلانی کے حضور اس طرح نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں :
خاک بوس آستان شاہ جیلانی ہوں میں
کاش! اسی مٹی میں مل جاوٗں اگر فانی ہوں میں
صدر محفل میں مرا منبر رہے سب سے بلند
مدح سنج حضرت محبوب سبحانی ہوں میں
ہے تصور کو میسر حاضری بغداد کی
غوث اعظم کا ارادت مند روحانی ہوں میں
سطوت ناز و نعم ہے میری نظروں میں حقیر
پر غرور اک بندہ درگاہ سلطانی ہوں میں
( لوح محفوظ )
حضت سیماب واعظین و ذاکرین کی محرم الحرام کے سلسلہ میں بعض غلط روایات کا اس طرح نوٹس لیتے ہیں، جس سے حضرت کی علمیت اور گہرے مطالعہ کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں:
آل عبا کی چادر سرکون پھاڑتا ہے، یہ ہے اک افترا
کیوں دامن ادب کی اڑاتا ہے دھجیاں، خاموش نوحہ خواں
کھینچی تھی کس نے بالیاں بنت حسین کی، ہے بات بے تکی
اس وقت کب عرب میں مروج تھیں بالیاں، خاموش نوحہ خوان
مہندی لگانا آج جو لوگوں میں عام ہے، مکروہ کام ہے
مہندی لگاتے ہاتھ کیوں؟ قاسم جواں، خاموش نوحہ خواں
بین و بکا تو شیوہ آل عبا نہ تھا، شکوہ گلہ نہ تھا
صابر تھی خاندان امامت کی بیبیاں، خاموش نوحہ خواں
حضور پاک صاحب لولاک ﷺ کے معراج شریف کے متعلق سیماب نے اس طرح پھول کھلائے ہیں:
ہو چکے جب عبد اور معبود میں راز و نیاز
ہوگئی انسانیت روحانیت سے سرفراز
قربت محبوب تھی اک گو مگو کا ماجرا
یعنی جو دیکھا وہ دیکھا اور سنا جو کچھ سنا
تھا یہ منشا اب یہیں رہ جائو اے میرے حبیب!
عرش و کرسی کو تمہارا فخر قربت ہو نصیب
سلسبیل وکوثر و تسنیم کو دو آبرو
گلشن فردوس کو حاصل ہو تم سے رنگ و بو
آسمانوں کو تمہارا قرب وجہ ناز ہو
عالم لاہوت، پابوسی سے سر فراز ہو…
لوٹ آئے جانب دنیا رسو کائنات
پیکر مردہ میں جیسے عود کر آئے حیات
محفل انساں میں پھر انسان کامل آگیا
قالب کونین میں کونین کا دل آگیا
عرش عالی ظرف انساں کے نہ قابل ہوسکا
آسمان بار نبوت کا نہ حاصل ہوسکا
جلوہ احمد سے دنیا ضوفشاں کردی گئی
یہ امانت پھر سپرد خاکداں کر دی گئی
( ساز حجاز صفحہ ۵۱ )
وصال:
فقید المثال، قادر الکلام شاعر، عربی فارسی انگریزی اور سنکسرت پر دسترس رکھنے والے محقق عالم، ولولہ انگیز نقاد محرر، انقلاب آفریں دانشور و صحافی سیماب اکبر آبادی نے ۳۱ جنوری ۱۹۵۱ء / ۱۳۷۱ھ کو کراچی میں اکہتر (۷۱) سال کی عمر میں انتقال کیا۔ شاہراہ قائدین سابقہ قائد آباد نزد مزار قائد مختصر قبرستان میں سبز گنبد کے اندر مزار واقع ہے ۔
اپنی اکہتر ۷۱ سالہ زندگی میں پچاس سال تک مسلسل اردو شعر و ادب اور صحافت کی گرانقدر اور بیش بہا خدمات انجام دیں جسے تا قیامت اہل علم یاد کرتے رہیں گے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-seemab-akbarabadi
سر کار غوث اعظم، محبوب سبحانی ، قندیل نورانی ، قطب ربانی، حضور سید عبدالقادر جیلانی کے حضور اس طرح نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں :
خاک بوس آستان شاہ جیلانی ہوں میں
کاش! اسی مٹی میں مل جاوٗں اگر فانی ہوں میں
صدر محفل میں مرا منبر رہے سب سے بلند
مدح سنج حضرت محبوب سبحانی ہوں میں
ہے تصور کو میسر حاضری بغداد کی
غوث اعظم کا ارادت مند روحانی ہوں میں
سطوت ناز و نعم ہے میری نظروں میں حقیر
پر غرور اک بندہ درگاہ سلطانی ہوں میں
( لوح محفوظ )
حضت سیماب واعظین و ذاکرین کی محرم الحرام کے سلسلہ میں بعض غلط روایات کا اس طرح نوٹس لیتے ہیں، جس سے حضرت کی علمیت اور گہرے مطالعہ کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں:
آل عبا کی چادر سرکون پھاڑتا ہے، یہ ہے اک افترا
کیوں دامن ادب کی اڑاتا ہے دھجیاں، خاموش نوحہ خواں
کھینچی تھی کس نے بالیاں بنت حسین کی، ہے بات بے تکی
اس وقت کب عرب میں مروج تھیں بالیاں، خاموش نوحہ خوان
مہندی لگانا آج جو لوگوں میں عام ہے، مکروہ کام ہے
مہندی لگاتے ہاتھ کیوں؟ قاسم جواں، خاموش نوحہ خواں
بین و بکا تو شیوہ آل عبا نہ تھا، شکوہ گلہ نہ تھا
صابر تھی خاندان امامت کی بیبیاں، خاموش نوحہ خواں
حضور پاک صاحب لولاک ﷺ کے معراج شریف کے متعلق سیماب نے اس طرح پھول کھلائے ہیں:
ہو چکے جب عبد اور معبود میں راز و نیاز
ہوگئی انسانیت روحانیت سے سرفراز
قربت محبوب تھی اک گو مگو کا ماجرا
یعنی جو دیکھا وہ دیکھا اور سنا جو کچھ سنا
تھا یہ منشا اب یہیں رہ جائو اے میرے حبیب!
عرش و کرسی کو تمہارا فخر قربت ہو نصیب
سلسبیل وکوثر و تسنیم کو دو آبرو
گلشن فردوس کو حاصل ہو تم سے رنگ و بو
آسمانوں کو تمہارا قرب وجہ ناز ہو
عالم لاہوت، پابوسی سے سر فراز ہو…
لوٹ آئے جانب دنیا رسو کائنات
پیکر مردہ میں جیسے عود کر آئے حیات
محفل انساں میں پھر انسان کامل آگیا
قالب کونین میں کونین کا دل آگیا
عرش عالی ظرف انساں کے نہ قابل ہوسکا
آسمان بار نبوت کا نہ حاصل ہوسکا
جلوہ احمد سے دنیا ضوفشاں کردی گئی
یہ امانت پھر سپرد خاکداں کر دی گئی
( ساز حجاز صفحہ ۵۱ )
وصال:
فقید المثال، قادر الکلام شاعر، عربی فارسی انگریزی اور سنکسرت پر دسترس رکھنے والے محقق عالم، ولولہ انگیز نقاد محرر، انقلاب آفریں دانشور و صحافی سیماب اکبر آبادی نے ۳۱ جنوری ۱۹۵۱ء / ۱۳۷۱ھ کو کراچی میں اکہتر (۷۱) سال کی عمر میں انتقال کیا۔ شاہراہ قائدین سابقہ قائد آباد نزد مزار قائد مختصر قبرستان میں سبز گنبد کے اندر مزار واقع ہے ۔
اپنی اکہتر ۷۱ سالہ زندگی میں پچاس سال تک مسلسل اردو شعر و ادب اور صحافت کی گرانقدر اور بیش بہا خدمات انجام دیں جسے تا قیامت اہل علم یاد کرتے رہیں گے ۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ ) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-seemab-akbarabadi
❤2
مسعود ملت، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد مسعود احمد ۔ کنیت: ابو المسرور ۔ القاب: مسعودِ ملت، محقق و مجددِ اہلسنت، ماہرِ رضویات و ناشرِ مجددیات بہقیِ وقت وغیرہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی بن حضرت شاہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی بن شاہ محمد سعید بن شاہ مفتی محمد مسعود محدث دہلوی (علیہم الرحمہ) ۔
والد ماجد کی جانب سے سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، اور والدہ محترمہ کی جانب سے سلسلۂ نسب سرورِ عالم ﷺ تک منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1348ھ، مطابق 1930ء کو " دہلی " میں ہوئی ۔ آپ کی سعادت مندی کی بشارت آپ کے نانا محترم شیرِ اسلام سید واحد علی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی: " اگر دین کا چراغ روشن ہوگا تو میری صاحبزادی سے ہوگا"۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ایک علمی خاندان میں آنکھ کھولی تھی، جہاں ہر طرف قال اللہ، وقال رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوتیں تھیں ۔ قرآنِ کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔
1940ء میں مدرسہ عالیہ جامع مسجد فتح پوری دہلی میں داخلہ لیا اور باقاعدہ علومِ عربیہ کی تحصیل شروع کی ۔
1945ء میں آپ نے اورینٹل کالج دہلی میں داخل ہو کر دو سال فارسی زبان و ادب کی تحصیل کی ۔
1948ء میں آپ نے مشرقی پنجاب یونیورسٹی سے فاضل فارسی، فاضل اردو، فاضل درسِ نظامی، کا امتحان پاس کیا ۔
سندھ یونیورسٹی سے ایم اے ، اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ الحمدللہ آپ نےتمام امتحانات امتیازی پوزیشن سے حاصل کیے ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی دن کو فی سبیل اللہ تدریس کرتے تھے، اور رات کو خود پڑھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی مفتیِ اعظم حضرت شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی سے بیعت و خلافت ۔ مفتی محمد محمود شاہ الوری سے خلافت و جازت، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں پیر زین العابدین شاہ گیلانی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (علیہم الرحمۃ اولرضوان) ـ
سیرت و خصائص:
مسعودِ ملت ، امینِ اہلِ سنت ، مجددِ ملت ، پیرِ طریقت ، رہبرِ شریعت ، سراپا عظمت ، پیکرِ علم و وجاہت ، عاملِ سنت عاشقِ مصطفیٰ ﷺ ، محبِ مجدد، و امام احمد رضا ، فخر المحققین ، ماہرِ رضویات ، ناشرِ مجددیات ، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت مسعودِ ملت علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت سے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے، لیکن آپ کی مجدِّدَین (حضرت مجدد الفِ ثانی، اور مجدد امام احمد رضاخاں علیہما لرحمہ) پر جو خدمات ہیں ان کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائےگا ۔
بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نور اللہ مرقدہ کی عظیم شخصیت، اور ان کے دینی، تجدیدی، اصلاحی، علمی،ادبی، سماجی، سیاسی، قومی و ملی، و تقدیسی، کارناموں کو اجاگر کرکے ہندوسندھ سے لے کر تمام عالمِ اسلام، اور یورپ آسٹریلیا و افریقہ و امریکہ، کے کلیات و جامعات اور لائبریریوں میں اس طرح پہنچا دیا کہ آج دنیا امام احمد رضا خان کی عبقری شخصیت اور ان کے عظیم علمی کارناموں سے روشناس ہو رہی ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد مسعود احمد ۔ کنیت: ابو المسرور ۔ القاب: مسعودِ ملت، محقق و مجددِ اہلسنت، ماہرِ رضویات و ناشرِ مجددیات بہقیِ وقت وغیرہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی بن حضرت شاہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی بن شاہ محمد سعید بن شاہ مفتی محمد مسعود محدث دہلوی (علیہم الرحمہ) ۔
والد ماجد کی جانب سے سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، اور والدہ محترمہ کی جانب سے سلسلۂ نسب سرورِ عالم ﷺ تک منتہی ہوتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1348ھ، مطابق 1930ء کو " دہلی " میں ہوئی ۔ آپ کی سعادت مندی کی بشارت آپ کے نانا محترم شیرِ اسلام سید واحد علی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی: " اگر دین کا چراغ روشن ہوگا تو میری صاحبزادی سے ہوگا"۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ایک علمی خاندان میں آنکھ کھولی تھی، جہاں ہر طرف قال اللہ، وقال رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوتیں تھیں ۔ قرآنِ کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔
1940ء میں مدرسہ عالیہ جامع مسجد فتح پوری دہلی میں داخلہ لیا اور باقاعدہ علومِ عربیہ کی تحصیل شروع کی ۔
1945ء میں آپ نے اورینٹل کالج دہلی میں داخل ہو کر دو سال فارسی زبان و ادب کی تحصیل کی ۔
1948ء میں آپ نے مشرقی پنجاب یونیورسٹی سے فاضل فارسی، فاضل اردو، فاضل درسِ نظامی، کا امتحان پاس کیا ۔
سندھ یونیورسٹی سے ایم اے ، اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ الحمدللہ آپ نےتمام امتحانات امتیازی پوزیشن سے حاصل کیے ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی دن کو فی سبیل اللہ تدریس کرتے تھے، اور رات کو خود پڑھتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی مفتیِ اعظم حضرت شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی سے بیعت و خلافت ۔ مفتی محمد محمود شاہ الوری سے خلافت و جازت، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں پیر زین العابدین شاہ گیلانی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (علیہم الرحمۃ اولرضوان) ـ
سیرت و خصائص:
مسعودِ ملت ، امینِ اہلِ سنت ، مجددِ ملت ، پیرِ طریقت ، رہبرِ شریعت ، سراپا عظمت ، پیکرِ علم و وجاہت ، عاملِ سنت عاشقِ مصطفیٰ ﷺ ، محبِ مجدد، و امام احمد رضا ، فخر المحققین ، ماہرِ رضویات ، ناشرِ مجددیات ، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ۔
حضرت مسعودِ ملت علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت سے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے، لیکن آپ کی مجدِّدَین (حضرت مجدد الفِ ثانی، اور مجدد امام احمد رضاخاں علیہما لرحمہ) پر جو خدمات ہیں ان کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائےگا ۔
بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نور اللہ مرقدہ کی عظیم شخصیت، اور ان کے دینی، تجدیدی، اصلاحی، علمی،ادبی، سماجی، سیاسی، قومی و ملی، و تقدیسی، کارناموں کو اجاگر کرکے ہندوسندھ سے لے کر تمام عالمِ اسلام، اور یورپ آسٹریلیا و افریقہ و امریکہ، کے کلیات و جامعات اور لائبریریوں میں اس طرح پہنچا دیا کہ آج دنیا امام احمد رضا خان کی عبقری شخصیت اور ان کے عظیم علمی کارناموں سے روشناس ہو رہی ہے ۔
❤2
ایک دفعہ ایک غیر مقلد مولوی نے کہاتھا! " کہ ہم امام احمد رضا بریلوی کو دفن کر چکے تھے ۔ لیکن ایک پروفیسر نے انہیں قبر سے نکال کر پھر زندہ کر دیا ہے، اب ہمیں مزید پچاس سال کام کرنا پڑےگا"۔ (تذکار مسعود ملت ، ص:219) ـ
شرفِ ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " ان کی تحریر میں متانت اور شائستگی ہے ۔ معقولیت اور تسلسل ہے، دریا کی روانی اور سمندر کی گہرائی ہے ۔ شبنم کی لطافت اور گلاب کی جاذبیت ہے ۔ جو لکھتے ہیں باحوالہ اور دلائل کی روشنی میں لکھتے ہیں ۔ عقیدے اور عقیدت کی بناء پر تاریخ وضع نہیں کرتے، بلکہ تاریخی حقائق کے رخ سے نقاب الٹ دیتے ہیں ۔ وہ جو کچھ لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا اور خوشنودی اور دین متین کا پیغام قارئین تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں"۔
حضرت پروفیسر صاحب کی شخصیت جتنی عظیم تھی، آپ کے اندر اس درجہ انکسار بھی تھا ۔ اہل علم سے ٹوٹ کر ملتے، ان کی قدر کرتے، کسرِ نفسی آپ کی خو تھی ۔ آپ کی گفتار عالمانہ تھی ۔ کردار زاہدانہ تھا ۔ شفقت و محبت جاودانہ تھی ۔ آپ اخلاق و ایثار، مؤدت و مروت، دانائی و حکمت، سنجیدگی و ظرافت کا ایک حسین پیکر تھے ۔ آپ سراپا اخلاق تھے ۔ جو شخص ایک مرتبہ آپ سے ملاقات کرتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا ۔
آپ سے تمام مذاہب کے افراد کا واسطہ رہتا تھا ۔ آپ ہر شخص سے اس کے مرتبے کے مطابق سلوک کرتے تھے ۔ جب آپ کا تبادلہ " مٹھی " کے دور دراز اور ایسے علاقے میں ہوا جہاں اسِّی فیصد ہندو تھے ۔
چنانچہ آپ نے اس تبادلے کو تبلیغِ اسلام کے لئے ایک انمول موقع جانا ، اور وہاں اپنے اعلیٰ کردار، اور اخلاقِ مصطفوی سے غیر مسلموں کے دل جیت لئے، بہت سوں کو قبولِ اسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔ ہندو کہا کرتے تھے: " مسلمان تو بس ایک ہی دیکھا ہے مولانا مسعود صاحب! " ۔
الغرض! آپ کی زندگی مجسمۂ سچائی، فرماں برداری، حق کی رہبری، خشیتِ ایزدی، حق کی روشنی، بے حد خوبیوں اور اعلیٰ صفات سے آپ کی ذات متصف تھی ۔
امتیازی اعزازات:
شعبہ تعلیم میں امتیازی خدمات کے اعتراف میں سابق صدرِ پاکستان فاروق احمد لغاری کی جانب سے 1992ء میں گولڈ میڈل اور اعزازِ فضیلت سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اداروں کی جانب سے گولڈ میڈلز اور تمغات سے نوازا گیا ۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر اعجاز انجم لطیفی نے 1997ء میں بہار یونیورسٹی بھارت سے مکمل کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔
تاریخِ وصال:
آپ 22 ربیع الثانی 1429ھ، مطابق 28 اپریل 2008ء بروز پیر بعد نماز مغرب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کا مزار شریف " ماڈل کالونی قبرستان " کراچی میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکار مسعودِ ملت ۔ مجدد عصر ۔ تعارف علماء اہلسنت ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات علمی اور ادبی خدمات پی ایچ ڈی مقالہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-masood-e-millat-professor-dr-masood-ahmed
شرفِ ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " ان کی تحریر میں متانت اور شائستگی ہے ۔ معقولیت اور تسلسل ہے، دریا کی روانی اور سمندر کی گہرائی ہے ۔ شبنم کی لطافت اور گلاب کی جاذبیت ہے ۔ جو لکھتے ہیں باحوالہ اور دلائل کی روشنی میں لکھتے ہیں ۔ عقیدے اور عقیدت کی بناء پر تاریخ وضع نہیں کرتے، بلکہ تاریخی حقائق کے رخ سے نقاب الٹ دیتے ہیں ۔ وہ جو کچھ لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا اور خوشنودی اور دین متین کا پیغام قارئین تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں"۔
حضرت پروفیسر صاحب کی شخصیت جتنی عظیم تھی، آپ کے اندر اس درجہ انکسار بھی تھا ۔ اہل علم سے ٹوٹ کر ملتے، ان کی قدر کرتے، کسرِ نفسی آپ کی خو تھی ۔ آپ کی گفتار عالمانہ تھی ۔ کردار زاہدانہ تھا ۔ شفقت و محبت جاودانہ تھی ۔ آپ اخلاق و ایثار، مؤدت و مروت، دانائی و حکمت، سنجیدگی و ظرافت کا ایک حسین پیکر تھے ۔ آپ سراپا اخلاق تھے ۔ جو شخص ایک مرتبہ آپ سے ملاقات کرتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا ۔
آپ سے تمام مذاہب کے افراد کا واسطہ رہتا تھا ۔ آپ ہر شخص سے اس کے مرتبے کے مطابق سلوک کرتے تھے ۔ جب آپ کا تبادلہ " مٹھی " کے دور دراز اور ایسے علاقے میں ہوا جہاں اسِّی فیصد ہندو تھے ۔
چنانچہ آپ نے اس تبادلے کو تبلیغِ اسلام کے لئے ایک انمول موقع جانا ، اور وہاں اپنے اعلیٰ کردار، اور اخلاقِ مصطفوی سے غیر مسلموں کے دل جیت لئے، بہت سوں کو قبولِ اسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔ ہندو کہا کرتے تھے: " مسلمان تو بس ایک ہی دیکھا ہے مولانا مسعود صاحب! " ۔
الغرض! آپ کی زندگی مجسمۂ سچائی، فرماں برداری، حق کی رہبری، خشیتِ ایزدی، حق کی روشنی، بے حد خوبیوں اور اعلیٰ صفات سے آپ کی ذات متصف تھی ۔
امتیازی اعزازات:
شعبہ تعلیم میں امتیازی خدمات کے اعتراف میں سابق صدرِ پاکستان فاروق احمد لغاری کی جانب سے 1992ء میں گولڈ میڈل اور اعزازِ فضیلت سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اداروں کی جانب سے گولڈ میڈلز اور تمغات سے نوازا گیا ۔ آپ کی زندگی ہی میں آپ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر اعجاز انجم لطیفی نے 1997ء میں بہار یونیورسٹی بھارت سے مکمل کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔
تاریخِ وصال:
آپ 22 ربیع الثانی 1429ھ، مطابق 28 اپریل 2008ء بروز پیر بعد نماز مغرب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کا مزار شریف " ماڈل کالونی قبرستان " کراچی میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکار مسعودِ ملت ۔ مجدد عصر ۔ تعارف علماء اہلسنت ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات علمی اور ادبی خدمات پی ایچ ڈی مقالہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-masood-e-millat-professor-dr-masood-ahmed
❤2