🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-04-1445 ᴴ | 05-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا سیفی فریدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا سید مکرم علی شاہ سیفی فرید آبادی بن حضرت حکیم پیر سید امتیاز علی شاہ کاظمی نقوی نومبر ۱۸۹۴ء بمقام فرید آباد ضلع گڑگاواں (مشرقی پنجاب انڈیا) دہلی سے بارہ میل دور اپنے نانا جان حضرت سید ولادت حسین شاہ کے مکان پر تولد ہوئے۔
حکیم صاحب چھٹی پشت میں حضرت سید عبدالوہاب قادری بخاری علیہ الرحمۃ جو قطب عالم تھے ارو کراچی میں حضرت عالم شاہ بکاری کے نام و لقب سے مشہور ہیں، جامع کلاتھ ایم ۔ اے جناح روڈ میں مرجع خلائق ہیں۔ حکیم صاحب آگرہ میںمطب کرتے تھے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی پرورش ایک فارسی دان خاتون کی آغوش میں ہوئی تھی، اسلئے آپ کو فارسی زبان پر کاس طور پر عبور حاسل تھا۔ ابتدائی تعلیم فرید آباد کے مدرسہ میں حاصل کی۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد مدرسہ قادریہ بدایوں شریف (انڈیا) میں داخلہ لیا۔ آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں رقمطراز ہیں:
دینیات کی تعلیم مدرسہ قادریہ بدایوں میں ہوئی۔ حدیث و تفسیر ختم کرنے کے بعد خیال آیا کہ کوئی صیغہ روزگار بھی اختیار کرنا چاہئے اسلئے منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات مولوی اولاد حسین شاداں بلگرامی کی شاگردی میں پاس کئے۔ وہیں (رامپور میں) جناب منشی حیات بخش رسا رامپوری سے فن شعر و سخن میں شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ نے اپنے والد سے بھی اصلاح لی تھی وہ بھی حضرت رسا کے شاگرد تھے اور رسا رامپوری جناب مرزا داغ دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔
آپ نے پانی تعلیم کے متعلق لکھا ہے کہ منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات رامپور میں پاس کئے۔ جب کہ آپ کے سوانح نگار جناب الحاج سید فتح علی حیدر ی قادری خوشتر مرحوم (کراچی) رقمطراز ہیں: ’’مشنی فاضل اور عربی میں مولوی فاضؒ کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کئے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ۔ او ۔ ایل پاس کیا۔ بمبئی سے بار کونسل ایڈوکیٹ کا امتحان دے کر او ۔ ایس ایڈوکیٹ کا ڈپلومہ کیا۔
ملازت و وکالت:
ابتدائی ملازمت ریاست کوتہ بوندی راجپوتانہ میں کورٹ کی سرشتہ داری سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے جہاں پولیٹکل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ چونکہ وکالت پاس کر لی تھی اسلئے ریاست دھولپور (جودھپور) میں ڈپٹی جسٹس (سب جج) درجہ اول مقرر ہوئے لیکن تنخواہ کی کمی کے سبب اس عہدے سے مستعفی ہو کر وکالت شروع فرمائی بفضلہ تعالیٰ کامیاب وکلاء شمار ہونے لگا۔
۱۹۴۷ء کو آگرہ (اکبر آباد) سے نقل مکانی کرکے پاکستان (کراچی) آئے اور حیدرآباد سندھ میں رہائش اختیار کی وکالت کے پیشہ سے منسلک رہے لیکن یہاں بڑے بیٹے کے انقال کے سبب دل برداشتہ ہوگئے اور جلد ہی ملتان رخصت ہوگئے۔ ملتان میں بھی وہی پیشہ رہا بار کے انتخابات میں بلا مقابلہ وائس پریزیڈنٹ منتخب ہوئے۔ چنانچہ ۱۹۵۴ء تک ملتان ہی میں رہے۔
چھ سال ملتان میں قیام رہا چونکہ عزیز و اقارب کی کثرت اور تمام صاحبزادگان کراچی میں تھے اسلئے آپ بھی ملتان سے منتقل ہو کر ۱۹۵۴ء کو کراچی آگئے اور یہاں وکالت شروع کردی اور کچھ عرصہ میں کراچی جیسے عریض و بسیط شہر میں معروف وکلاء میں آپ کا شمار ہونے لگا۔
جب ضعیفی پیرانہ سالی کے باعث آپ سے کورٹ کے زینے چڑھنا مشکل ہوگیا تو آپ نے صرف ٹیبل ورک پر اکتفا کیا۔ لیکن خاص خاص معاملات اور ان کے نازک مراحل پر مثلاً بیانات پر جرح یا اہم بحث کے مواقع پر تکلیف سے سہی مگر جاتے ضرور تھے۔ انتقال سے چار دن قبل تک کورٹ میں تشریف لائے تھے آپ لمبی بحث نہیں کرتے تھے لین اپنی مختصر بیانی سے مد مقابل وکیل کو لا جواب کر دیتے تھے۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں اپنے والد ماجد حضرت حکیم سید امتیاز علی شاہ نقوی چشتی صابری فخری صمدی علیہ الرحمہ المعروف سیمات متھراوی ثم اکبر آبادی سے دست بعیت تھے اور حضرت علائو الدین شاہ چشتی علیہ الرحمۃ کے صاحب مجاز خلیفہ تھے ۔
مولانا سید مکرم علی شاہ سیفی فرید آبادی بن حضرت حکیم پیر سید امتیاز علی شاہ کاظمی نقوی نومبر ۱۸۹۴ء بمقام فرید آباد ضلع گڑگاواں (مشرقی پنجاب انڈیا) دہلی سے بارہ میل دور اپنے نانا جان حضرت سید ولادت حسین شاہ کے مکان پر تولد ہوئے۔
حکیم صاحب چھٹی پشت میں حضرت سید عبدالوہاب قادری بخاری علیہ الرحمۃ جو قطب عالم تھے ارو کراچی میں حضرت عالم شاہ بکاری کے نام و لقب سے مشہور ہیں، جامع کلاتھ ایم ۔ اے جناح روڈ میں مرجع خلائق ہیں۔ حکیم صاحب آگرہ میںمطب کرتے تھے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کی پرورش ایک فارسی دان خاتون کی آغوش میں ہوئی تھی، اسلئے آپ کو فارسی زبان پر کاس طور پر عبور حاسل تھا۔ ابتدائی تعلیم فرید آباد کے مدرسہ میں حاصل کی۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد مدرسہ قادریہ بدایوں شریف (انڈیا) میں داخلہ لیا۔ آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں رقمطراز ہیں:
دینیات کی تعلیم مدرسہ قادریہ بدایوں میں ہوئی۔ حدیث و تفسیر ختم کرنے کے بعد خیال آیا کہ کوئی صیغہ روزگار بھی اختیار کرنا چاہئے اسلئے منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات مولوی اولاد حسین شاداں بلگرامی کی شاگردی میں پاس کئے۔ وہیں (رامپور میں) جناب منشی حیات بخش رسا رامپوری سے فن شعر و سخن میں شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ نے اپنے والد سے بھی اصلاح لی تھی وہ بھی حضرت رسا کے شاگرد تھے اور رسا رامپوری جناب مرزا داغ دہلوی کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔
آپ نے پانی تعلیم کے متعلق لکھا ہے کہ منشی فاضل اور مولوی فاضل کے امتحانات رامپور میں پاس کئے۔ جب کہ آپ کے سوانح نگار جناب الحاج سید فتح علی حیدر ی قادری خوشتر مرحوم (کراچی) رقمطراز ہیں: ’’مشنی فاضل اور عربی میں مولوی فاضؒ کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کئے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ۔ او ۔ ایل پاس کیا۔ بمبئی سے بار کونسل ایڈوکیٹ کا امتحان دے کر او ۔ ایس ایڈوکیٹ کا ڈپلومہ کیا۔
ملازت و وکالت:
ابتدائی ملازمت ریاست کوتہ بوندی راجپوتانہ میں کورٹ کی سرشتہ داری سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے جہاں پولیٹکل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ چونکہ وکالت پاس کر لی تھی اسلئے ریاست دھولپور (جودھپور) میں ڈپٹی جسٹس (سب جج) درجہ اول مقرر ہوئے لیکن تنخواہ کی کمی کے سبب اس عہدے سے مستعفی ہو کر وکالت شروع فرمائی بفضلہ تعالیٰ کامیاب وکلاء شمار ہونے لگا۔
۱۹۴۷ء کو آگرہ (اکبر آباد) سے نقل مکانی کرکے پاکستان (کراچی) آئے اور حیدرآباد سندھ میں رہائش اختیار کی وکالت کے پیشہ سے منسلک رہے لیکن یہاں بڑے بیٹے کے انقال کے سبب دل برداشتہ ہوگئے اور جلد ہی ملتان رخصت ہوگئے۔ ملتان میں بھی وہی پیشہ رہا بار کے انتخابات میں بلا مقابلہ وائس پریزیڈنٹ منتخب ہوئے۔ چنانچہ ۱۹۵۴ء تک ملتان ہی میں رہے۔
چھ سال ملتان میں قیام رہا چونکہ عزیز و اقارب کی کثرت اور تمام صاحبزادگان کراچی میں تھے اسلئے آپ بھی ملتان سے منتقل ہو کر ۱۹۵۴ء کو کراچی آگئے اور یہاں وکالت شروع کردی اور کچھ عرصہ میں کراچی جیسے عریض و بسیط شہر میں معروف وکلاء میں آپ کا شمار ہونے لگا۔
جب ضعیفی پیرانہ سالی کے باعث آپ سے کورٹ کے زینے چڑھنا مشکل ہوگیا تو آپ نے صرف ٹیبل ورک پر اکتفا کیا۔ لیکن خاص خاص معاملات اور ان کے نازک مراحل پر مثلاً بیانات پر جرح یا اہم بحث کے مواقع پر تکلیف سے سہی مگر جاتے ضرور تھے۔ انتقال سے چار دن قبل تک کورٹ میں تشریف لائے تھے آپ لمبی بحث نہیں کرتے تھے لین اپنی مختصر بیانی سے مد مقابل وکیل کو لا جواب کر دیتے تھے۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں اپنے والد ماجد حضرت حکیم سید امتیاز علی شاہ نقوی چشتی صابری فخری صمدی علیہ الرحمہ المعروف سیمات متھراوی ثم اکبر آبادی سے دست بعیت تھے اور حضرت علائو الدین شاہ چشتی علیہ الرحمۃ کے صاحب مجاز خلیفہ تھے ۔
❤2