🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
حضرت مولانا مفتی سعد اللہ رامپور کے صاحبزادے ۱۲۵۴ھ میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے ـ تاریخی نام: ” مظہر الحق “ ـ

تعلیم:
تعلیم والد ماجد اور علماء رامپور سے پائی، مدرسہ عالیہ میں اول ہوئے پھر بھوپال چلے گئے ـ

والد کا انتقال:
۱۲۹۴ھ میں والد کا انتقال ہوا ـ تو آپ علیہ الرحمہ رامپور آئے، اعلیٰ حضرت حاجی نواب کلب علی خاں قدس سرہٗ سے والد کی جگہ مفتی، قاضی اور حاکم مرافعہ مقرر کیا ـ

عیدین کی امامت بھی سپرد ہوئی، نہایت پرہیزگار اور عابد تھے، معاملات عدالت میں کبھی کسی دباؤ میں نہ آئے، آپ کی عدالت و دیانت کے اہل شہر معترف تھے، مدرسہ انوار العلوم قائم کیا، اس پر خود بھی خرچ کرتے اور اہل شہر سے بھی چندہ کرتے ـ

اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتاویٰ پر بکثرت تائیدی دستخط کیے ـ

وصال:
اکیسویں ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ کو دو شنبہ کے دن وفات ہوئی، قبر والد کے پہلو میں احاطہ شاہ بغدادی میں ہے ۔

(تذکرہ کاملان رامپور تذکرہ علمائے ہند)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-lutfullah-rampuri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ محب اللہ چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
شیخ محب اللہ چشتی صابری ـ لقب: امام العارفین ۔ آپ کا وطن اصلی ’’ صدر پور ‘‘ تھا ۔ پھر یہاں سے ہجرت کرکے الہ آباد منتقل ہو گئے تھے ۔

تحصیلِ علم:
حضرت شیخ محب اللہ چشتی صابری جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔ ابتدا میں علوم عقلیہ سے خصوصی شغف تھا ۔ آپ کے علمی کمالات کا اندازہ آپ کی تصانیف اور ملفوظات سے عیاں ہے ۔ پھر دل میں طلبِ حق پیدا ہوئی، اور روحانیت و معرفت کی طرف منہمک ہو گئے ۔

تلاشِ حق:
جب آپ علم ظاہری تفسیر و حدیث و فقہ ، فلسفہ و منطق وغیرہ سے فارغ ہوئے تو دل میں طلبِ حق پیدا ہوئی ۔ چنانچہ آپ اس سلسلہ میں بہت سے بزرگان دین کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا ۔

بالآخر آپ دہلی تشریف لے گئے وہاں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر معتکف ہوئے، وہاں سے ارشاد ہوا کہ اس وقت حضرت مخدوم سید علاءالدین صابر کلیری کے سلسلہ میں خوب رونق ہے، اور ان کے سلسلہ میں حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی چشتی صابری علیہ الرحمہ کی ولایت کا بہت شہرہ اور چرچا ہے لہٰذا آپ گنگوہ تشریف لے جائیں ۔

بیعت و خلافت:
دہلی میں خواجہ صاحب سے اشارہ پا کر آپ وہاں سے روانہ ہو کر گنگوہ شریف ضلع انبالہ میں حضرت شیخ شاہ ابو سعید گنگوہی کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر ان کے دستِ حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے ۔

آپ کو بیعت فرمانے کے بعد حضرت شاہ ابو سعید گنگوہی اپنے مرید خاص شیخ مجاہد سے فرمایا کہ دو رکعت نماز نفل ادا کر کے یہ معلوم کرو کہ شیخ محب اللہ کی استعداد کس نبی کی ولایت کے ساتھ ہے ۔ تاکہ اس کے موافق تعلیم دی جا سکنا جس ۔ اُس خادم نے دو نفل ادا کر کے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ شیخ محب اللہ کی مناسبت ولایت موسوی سے ہے ۔ اس کے بعد حضرت شاہ ابو سعید گنگوہی چشتی صابری نے ذکر نفی و اثبات اور اسم ذات کی تعلیم دے کر چلہ میں بٹھا دیا ۔ اور تصور شیخ کی تاکید فرمائی ۔ مرشد کے فرمان سے آپ چلہ میں یکسوئی کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس خلوت میں آپ کو اس قدر تصفیہ حاصل ہوا کہ علوم باطنی آپ پر اچھی طرح واضح ہونے لگے اور تجلیات ملکوتیہ و جبروتیہ سے بہرہ ہوئے ۔ (اقتباس الانوار، ص746) ـ

مقصود کی تکمیل:
ایک مرتبہ حضرت شاہ ابو سعید نے ارشاد فرمایا: اے محب اللہ! میرے نزدیک آؤ تمہیں منزل مقصود تک پہنچادوں ۔ اس وقت بعض خدام جو عرصہ دراز سے خانقاہ میں مجاہدات کر رہے تھے انہوں نے عرض کیا حضرت ہم ایک عرصے سے یہاں پڑے ہوئے ہیں اور ان کی طرف آپ نے التفات بھی نہیں فرمایا، اور ایک نَو وارد شخص جس کو تھوڑا سا عرصہ ہوا ہے، اس کی تکمیل بھی فرمادی، اور خلافت بھی دے دی ۔

حضرت شیخ نے فرمایا:
ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ۔ اس کے بعد فقراء کو نصیحتیں فرمائیں کہ ہرشخص کاحال یکساں نہیں ہوتا ۔ بعض حضرات بڑے مجاہدوں کے محتاج ہوتے ہیں، اور بعض کو تھوڑی سی مشقت میں تجلیات حاصل ہوجاتی ہیں ۔ پھر حضرت شیخ ابو سعید کی توجہ شیخ محب اللہ پر برابر جاری تھی کہ جس کو آپ زیادہ برداشت نہ کرسکے اور مرشد کی بارگاہ میں عرض کیا حضور اتنا ہی کافی ہے ۔ اب مزید ہمت نہیں ہے ۔ آپ کے مرشد نے آپ کے لیے رب کریم بارگاہ میں دعا کی کہ آپ مغلوب الحال نہ ہوں بلکہ تمکین کی حالت میں رہیں ۔ اس کے بعد آپ اپنے مرشد گرامی سے خرقہ خلافت حاصل کر کے واپس اپنے وطن صدر پور تشریف لے آئے ۔ (مرآۃ الاسرار، ص 1194) ـ

سیرت و خصائص:
امام العارفین، برھان الواصلین، دلیل الکاملین، عالم ربانی حضرت شاہ محب اللہ الٰہ آبادی صدر پوری چشتی صابری گنگوہی ـ

آپ اپنے زمانے کے جید عالم دین اور بلند پایہ عارفِ کامل تھے ۔ عبادت و ریاضت میں آپ کے یکتائے زمانہ تھے ۔ زہد و تقویٰ میں بے مثال فقر و وفاقہ اور ترک و تجرید میں کمال درجہ کی خاصیت رکھتے تھے ۔ علوم دینیہ میں دسترس حاصل تھی۔ منطق و فلسفہ، اور علم الکلام سےبالخصوص شغف تھا ۔ پھر ساری زندگی عبادت و ریاضت اور مخلوق خداکی خدمت میں گزار دی ۔ آپ کے ملفوظات شریف مختلف کتب میں موجود ہیں جو قابل مطالعہ ہیں ۔

صدر پور سے الٰہ آباد میں ورودِ مسعود: گنگوہ شریف سے خرقہ خلافت حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے آبائی علاقہ صدر پور تشریف لے آئے اور وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد آپ نے وہاں رہنا پسند نہیں کیا ۔ اگرچہ یہ علاقہ آپ کا آبائی علاقہ تھا۔ مگر فقر اوردرویشی کے لیے مناسب نہ تھا ۔ اس لیے آپ نے توکل و تجرید پر عمل کرتے ہوئے اس کو خیر باد کہا اور وہاں سے ہجرت کر کے الٰہ آباد کے لیے روانہ ہو گئے ۔
2
شیخ احمد عبد الحق ردولوی کے مزار پر حاضری: جب آپ صدر پور سے ردولوی شریف پہنچے تو سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کی معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت شیخ عبد الرحمن چشتی صابری مصنف کتاب ” مرآۃ الاسرار “ بھی ردولوی شریف میں موجود تھے ۔ جن سے آپ کی پرانی دوستی اور تعلق تھا ۔ یہ دونوں بزرگ ردولوی شریف میں اکٹھے رہے، اور ایک دوسرے سے فیض یاب ہوتے رہے ۔

قصبہ ردولوی سے الٰہ آباد کی جانب روانگی اختیار کی اور الٰہ آباد پہنچ کر اس جگہ کو اپنا مستقل مسکن قرار دے کر وہاں ایک خانقاہ قائم کی اور سلسلہ رشد و ہدایت کا آغاز کیا ۔ جہاں پر عوام کا جم غفیر ہر وقت آپ کے گرد جمع رہنے لگا ۔ ہزاروں افراد آپ کی صحبت سے مستفید و مستفیض ہوئے ۔ آپ کی ذات والا صفات علوم ظاہری و باطنی کا مرجع تھی ۔ اس لیے آپ کی زبان ترجمان سے حقائق و معارف سن کر کئی گمراہوں کو راہ ہدایت ملی اور کئی طالبان حق اپنی منزلوں کو پہنچے ۔ اکثر علماء جو تصوف کے خلاف تھے ۔ آپ کے فیض صحبت سے آپ کے گرویدہ ہو گئے اور یہی مسلک اختیار کیا ۔

آپ نے الٰہ آباد میں تقریباً بیس برس تک مسند ارشاد پر بیٹھ کر خلق خدا کو ظاہری و باطنی و علوم اور دینی دنیاوی دولت سے مالا مال کیا ۔ آپ کے مسلک و مشرب اور ظاہری و باطنی علوم کا اندازہ آپ کی کتابوں سے لگایا جاسکتا ہے۔کچھ ملفوظات صاحب ’’ اقتباس الانوار ‘‘ جمع فرمائے ہیں ۔ ان میں سے چند اہم بیان کئے جاتے ہیں ۔

اقسامِ خلافت:
اقسام خلافت پر آپ نے بہترین کلام فرمایا ہے ۔ خلافت کی مختلف اقسام اور ان کی تعریفات بیان فرمائی ہیں ۔

خلافت کی اقسام:
خلافت اصالت، خلافت اجازت، خلافت اجماعی، خلافت وراثت، خلافت حکمی، خلافت تکلیف، خلافت اویسی، خلافت مستقل، خلافت نیابت، خلافت صغریٰ، خلافت کبریٰ ۔ ان میں سے کچھ مقبول اور کچھ مردود ہیں ۔

خلافت کا مستحق کون:
ہمارے زمانے (1441ھ/2020ء) میں خلافت و اجازت ایسے تقسیم ہو رہی ہے کہ لگتا ہے کہ اس سے سستی چیز کوئی اور نہیں ہے ۔ بےفیض اور روحانیت سے عاری ’’ پیروں ‘‘ کی بہتات ہے ۔ جنہیں سلاسل کے صحیح نام تک نہیں آتے، وہ بھی خلافتیں لیے پھرتے ہیں، کچھ حضرات ایسے بھی ہیں کہ جنہیں بے ریاضت مختلف جانشینوں سے خلافتیں حاصل کرنے کا شوق ہے ۔ اگر ہم سلف صالحین کی کتب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کے لئے کتنی ریاضتیں اور سخت مجاہدات کرائے جاتے تھے ۔

اس کے باوجود بھی ضروری نہیں تھا کہ خلافت حاصل ہوجائے ۔ حضرت شیخ محب اللہ فرماتے ہیں: ’’ محققین کا کہنا ہے کہ جب سالک مقام فنافی الرسول ﷺ اور عالم جبروت تک پہنچ جاتا ہے شیخ کے لئے جائز ہے کہ اُسے خلافت عطا فرمائے ۔ لیکن اس مقام پر خلافت عطا کرنا ضروری نہیں ہے ہاں جب سالک کی رسائی شہود ذات تک ہو جائے تو شیخ پر لازم ہے کہ اُسے خلافت دے دے ۔ بعض حضرات تو اس شخص کو بھی خلافت دینا جائز سمجھتے ہیں جو عالم ملکوت تک پہنچ جائے لیکن ہمارے مشائخ عظام کا یہ دستور نہیں ہے ۔ جیسا کہ منقول ہے کہ جب ایک درویش جو واصلِ ملکوت تھے حضرت شیخ داؤد گنگوہی سے خرقۂ خلافت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم ابھی مشائخ عظام کی خلافت کے قابل نہیں ہو ۔

اس سے وہ حضرت اقدس سے رنجیدہ خاطر ہوکر چلا گیا آپ نے فرمایا رنجیدہ ہو یا خوش ہو میں تجھے خلافتِ مشائخ نہیں دوں گا ۔ بعض کہتے ہیں کہ جب مرید خطرۂ شیطانی اور رحمانی کے درمیان تمیز کر سکے تو پیر کیلئے لازم ہے کہ اُسے خلافت دے دے ۔ بعض کہتے ہیں کہ جب حق تعالی کی جناب سے یا حضرت رسالت پناہ ﷺ کی طرف سے کسی مرید کو خلافت دینے کا حکم ملے تو شیخ پر واجب ہے کہ اُسے خلافت دیدے ۔ (اقتباس الانوار، ص749) ـ

تاریخِ وصال:
9 رجب المرجب 1058ھ مطابق 30 جولائی 1648ء، بروز جمعرات بوقت غروب آفتاب یہ آفتاب ہدایت بھی غروب ہوا ۔ مزار پُر انوار الٰہ آباد انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے ۔ (اقتباس الانوار، ص: 768 / مرآۃ الاسرار، ص: 1195 / تاریخِ مشائخِ چشت، ص: 222 ) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhibullah-chishti-sabri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا شاہ محمد علی حسین مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
مولانا محمد علی حسین صاحب ابن حضرت مولانا شاہ اعظم حسین خیر آبادی قدس سرہما ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ میں بھوپال میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
اُردو فارسی کی ابتدائی تعلیم مولانا یُد اللہ سنبھلی سے حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا، معقول و منقول کی تکمیل والد ماجد سے کی ـ

۱۹۰۳ء میں والد ماجد کے ساتھ مدینہ طیّبہ چلے گئے، اور وہیں سے بلاد عرب عراق و شام و مصر کا سفر کیا، اور عتبات عالیہ کی زیارت کی ـ

۱۳۳۶ھ میں آپ نے دمشق میں امام الدھر حافظ العصر شیخ بدر الدین دمشقی سے اُن کے صاحبزادے مولانا تاج الدین کی معیت میں شرح وقایہ کا درس لیا، حضرت مولانا محمد عبد الباقی فرنگی محلی مدنی المتوفی ۱۳۶۴ھ کے درس میں مختصر المعانی، تلخیص المفتاح پڑھی، صحیح مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث کا حضرت مولانا شاہ محمد معصوم ابن شاہ عبد الرشید ابن حضرت شاہ احمد سعید مجددی سے درس لیا، شیخ المحدثین مدینہ منورہ سید علی بن ظاہر الوتری سے بھی کسب فیض کیا ـ

۱۳۲۷ھ میں حضرت مولانا شاہ محمد نعیم نبیرہ حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی نے فاتحۂ تشکر کے بعد دستار فضیلت باندھی اور سند مرحمت فرمائی ـ

فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ فراغت کے بعد دور عثمانی و ہاشمی میں حضرت مولانا عبد الباقی کے مدرسۂ نظامیہ میں عرصہ تک درس دیا، نجدی تسلط کے بعد اپنے مکان پر یہ سلسلہ جاری رکھا ۔

بیعت و خلافت:
آپ کے اپنے والد ماجد سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت و خلافت تھی، ان کے علاوہ (۱) حضرت شاہ معصوم (۲) مولانا عبد الباقی (۳) سید علی الوتری (۴) امام الدھر شیخ بدر الدین الحسنی الدمشقی (۵) شیخ عبد الحکیم افغانی (۶) شیخ احمد شمس مالکی قادری (۷) علامہ شیخ صلاح (۸) شیخ علی مبارک المغربی (۹) حضرت امین رضوان شیخ الدلائل مدینہ منورہ (۱۰) حسان الزمان مدافع عن سید الاکوان صلی اللہ علیہ وسلم شیخ یوسف بن اسمٰعیل النہبانی سے بھی اجازت و خلافت تھی، مگر آپ بیعت والد ماجد کے طریقہ قادری میں کرتے تھے ـ

مدینہ طیّبہ کے آداب میں آپ کے اطوار امام مالک جیسے تھے، جہاں بھی ہوتے ہمیشہ یہ خیال رکھتے کہ حرم شریف کی طرف پیٹھ نہ ہو (۲) جس راستہ سے بھی گذر ہوتا اور گنبد خضراء نظر آتا تو آپ فوراً مؤدب دست بستہ سلام عرض کرتے، پھر آگے پڑھتے، (۳) مسجد نبوی میں داخل ہونے سے پہلے سلام عرض کر کے داخلہ کی درخواست کرتے اور تھوڑا وقفہ ٹھہر کر قدم بڑھاتے، عموماً نمازیں حجرۂ سید النساء کے متصل ادا کرتے، (۴) حرم شریف نبوی میں سر جھکائے رکھتے، اور کسی سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرتے، سلام کا جواب اشارہ سے دیتے، اور اگر کوئی گفتگو کی کوشش کرتا تو اشارے سے بتاتے کہ گھر پر آو، (۵) نجدی اندامات قبور کے بعد جنۃ البقیع میں کبھی داخل نہیں ہوئے (۶) فصیل شہر اقدس کے اندر کبھی سواری کا استعمال نہیں کیا (۷) امر بالمعروف اور نہی من المنکر آپ کا خاص شیوہ تھا، اس میں امیر و غریب کی کوئی قید نہ تھی، جس کو غلطی کرتے دیکھتے فوراً ٹوک دیتے (۸) بد مذہبوں سے آپ کو سخت نفرت تھی، نجدی عقائد کے متبعین کو ابن تیمیہ وغیرہ کے اقوال ہی سے قائل کر دیتے، آپ کو معاملات فقہی پر غیر معمولی عبور تھا، مقدمات میں شرعی نکات معلوم کرنے والوں کا آپ کے یہاں مجمع لگا رہتا تھا، نجدی قاضی و علماء آپ سے بہت گھبراتے تھے، اختلاف عقائد و مسلک کے باوجود سلاطین نجد آپ کے تبحر علمی سے مرعوب تھے ۔

وصال:
۱۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۷۴ھ کو بعد فجر اللہ اللہ کہتے ہوئے جاں بحق ہوئے ۔ اور سیدنا ابراہیم ابن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جوار میں اپنے والد ماجد کے قریب دفن کیے گئے، اسی روز ریڈیو جدّہ نے آپ کے وفات کی خبر نشر کی ـ

تصانیف:
(۱) الصواعق الملکوت علی استاذ شلتوت المصری ثبوت حیات سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کے بارے میںشیخ الازہر شلتوت مصری کے فاسد عقائد کا رد (عربی)

(۲) سیرت شیخ یوسف النبہانی (غیر مطبوع، عربی) (۳) سیرت اعظم حسین رحمۃ اللہ علیہ (عربی، غیر مطبوعہ) (۴) رد تجدید و احیاء دین، ابو الاعلیٰ مودودی کے مزعومات کا رد (اُردو مطبوعہ) آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد علاء الدین مدنی مالک فندق طیبہ مدینہ طیّبہ اعلیٰ اخلاق واوصاف اور فقہی مہارت میں نامور ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-mohammad-ali-hussain-madani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں قدس سرہٗ

ولادتِ با سعادت:
حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں کی ولادت 21 ربیع الآخر 1177ھ کو ہوئی ۔

والد کا اسم گرامی:
سید شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔

سکونت:
چھ برس کی عمر میں آپ کے ماموں نواب سید نور الحسن خاں صاحب منھ بولا بیٹا بنا کر اپنے ساتھ اپنی جاگیر واقع صوبہ بہار لے گئے، اور آپ نے وہیں پر عمر گزار دی ۔ آپ کبھی مارہرہ واپس نہیں آئے ۔ آپ کے بھائی آپ سے ملنے بہار جاتے تھے ۔

زوجہ کا نام:
سیدہ خیر الفاطمہ بنت سید نور الحسن خاں ۔

اولادِ امجاد:
دو صاحبزادے:
(۱) حضرت سید محمد سعید خاں
(۲) حضرت سید محمد تقی خاں ـ

بیعت و اجازت:
والدِ ماجد حضرت سید شاہ حمزہ عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ۔

اہم کار نامہ:
آپ کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ اپنے مامو ں کی مسند ریاست (واقع صوبہ بہار) پر بیٹھنے کے باوجود آپ نے پوری عمر عبادت و ریاضت اور یاد الہی میں بسر فرمائی ۔

تاریخ وفات:
5 جمادی الاولیٰ 1235ھ ۔

مزار پاک:
کوات میں نواب نور الحسن کے مقبرہ کے نیچے جانب شمال میں ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ ـ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-aal-e-hussain-sachay-miyan
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-04-1445 ᴴ | 05-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-04-1445 ᴴ | 06-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2