🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
شیخ نور الدین المشہور قطب عالم پنڈوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی نور الدین اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی علاء الحق تھا رحمۃ اللہ علیہما ۔
آپ " قطبِ عالم " کے لقب سے مشہور معروف ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ علاء الدین علاء الحق بنگالی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ طریقت تھے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ نور الدین المشہور قطب عالم پنڈوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہندوستان کے مشہور مشائخ میں مانے جاتے ہیں، بڑے صاحب عشق و محبت اور ذوق و شوق کے مالک تھے ۔ صاحب تصرف و کرامات تھے اپنے والد کی خدمت میں رہ کر بڑی روحانی منزلیں طے کیں اور درجہ قطبیت کو پہنچے اس طرح آپ قطب عالم کے خطاب سے مشہور ہوئے ۔
آپ اپنے والد کی خانقاہ کے تمام امور کو اپنے ہاتھ سے سر انجام دیا کرتے تھے کپڑے دھونا، خانقاہ کو صاف کرنا، پانی لاکر نمازیوں اور مسافروں کو مہیا کرنا، جنگل سے لکڑیاں لاکر لنگر تیار کرنا سب آپ کے ذمہ تھا ۔ حتٰی کہ درویشوں کے کپڑے دھونا، گندگی کا اٹھانا اور بیت الخلاء کی نجاست ہٹانا بھی آپ کے ذمہ تھا ۔
ایک دن ایک درویش کو آدھی رات کے وقت پیٹ میں درد اٹھا وہ بیت الخلاء کی طرف بھاگا وہاں شیخ علاء الحق اپنی روز مرہ کی خدمت پر مصروف تھے ۔ اس درویش کو زور سے جو پاخانہ آیا اس کا کچھ قطبِ عالم کے کپڑوں پر جا پڑا، حتٰی کہ آپ کا جسم بھی آلودہ ہو گیا، مگر آپ کے چہرے پر نہ ملال آیا نہ آپ نے اس بات کو ناگوار محسوس کیا ۔ دوسری طرف آپ کے والد اپنے بیٹے کی اس انکساری اور خدمت کو دیکھ رہے تھے اس قوت برداشت کو دیکھ کر فرمایا: بیٹا! مجھے تمہاری اس خدمت سے بہت خوشی ہوئی ہے ۔ مگر آج کے بعد تمہیں کسی اعلیٰ منصب پر مقرر کیا جاتا ہے ۔
شیخ حسام الدین مانک پوری رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں یہ واقعہ درج ہے کہ جن دنوں شیخ علاءالحق اپنے والد کی خانقاہ میں لکڑیاں لاکر مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ آپ کا ایک بھائی اعظم خان بادشاہ وقت سلطان تغلق کا وزیر تھا ایک دن شیخ قطبِ عالم سر پر لکڑیاں اٹھائے گزرے تو اعظم خان نے روک کر کہا بھائی کب تک خانقاہ کی لکڑیاں اٹھاتے رہوگے ۔ آؤ! میں تمہیں کسی اعلیٰ منصب پر لگا دیتا ہوں جہاں تم آرام سے زندگی بسر کر سکو، آپ نے فرمایا: " تمہارا منصب اور آرام عارضی اور وقتی ہے مگر میری خدمات ہمیشہ ہمیشہ یاد گار رہیں گی میں ان خدمات کو چھوڑ کر منصب شاہی قبول کرنے کو تیار نہیں " ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا سال وصال 18 ربیع الثانی 851ھ / بمطابق جولائی 1447 ء میں ہوا ۔ آپ کا مزار قصبہ پنداوہ بنگال میں واقع مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nooruddin-noor-qutb-alam-pindwi
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی نور الدین اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی علاء الحق تھا رحمۃ اللہ علیہما ۔
آپ " قطبِ عالم " کے لقب سے مشہور معروف ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ علاء الدین علاء الحق بنگالی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ طریقت تھے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ نور الدین المشہور قطب عالم پنڈوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہندوستان کے مشہور مشائخ میں مانے جاتے ہیں، بڑے صاحب عشق و محبت اور ذوق و شوق کے مالک تھے ۔ صاحب تصرف و کرامات تھے اپنے والد کی خدمت میں رہ کر بڑی روحانی منزلیں طے کیں اور درجہ قطبیت کو پہنچے اس طرح آپ قطب عالم کے خطاب سے مشہور ہوئے ۔
آپ اپنے والد کی خانقاہ کے تمام امور کو اپنے ہاتھ سے سر انجام دیا کرتے تھے کپڑے دھونا، خانقاہ کو صاف کرنا، پانی لاکر نمازیوں اور مسافروں کو مہیا کرنا، جنگل سے لکڑیاں لاکر لنگر تیار کرنا سب آپ کے ذمہ تھا ۔ حتٰی کہ درویشوں کے کپڑے دھونا، گندگی کا اٹھانا اور بیت الخلاء کی نجاست ہٹانا بھی آپ کے ذمہ تھا ۔
ایک دن ایک درویش کو آدھی رات کے وقت پیٹ میں درد اٹھا وہ بیت الخلاء کی طرف بھاگا وہاں شیخ علاء الحق اپنی روز مرہ کی خدمت پر مصروف تھے ۔ اس درویش کو زور سے جو پاخانہ آیا اس کا کچھ قطبِ عالم کے کپڑوں پر جا پڑا، حتٰی کہ آپ کا جسم بھی آلودہ ہو گیا، مگر آپ کے چہرے پر نہ ملال آیا نہ آپ نے اس بات کو ناگوار محسوس کیا ۔ دوسری طرف آپ کے والد اپنے بیٹے کی اس انکساری اور خدمت کو دیکھ رہے تھے اس قوت برداشت کو دیکھ کر فرمایا: بیٹا! مجھے تمہاری اس خدمت سے بہت خوشی ہوئی ہے ۔ مگر آج کے بعد تمہیں کسی اعلیٰ منصب پر مقرر کیا جاتا ہے ۔
شیخ حسام الدین مانک پوری رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں یہ واقعہ درج ہے کہ جن دنوں شیخ علاءالحق اپنے والد کی خانقاہ میں لکڑیاں لاکر مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ آپ کا ایک بھائی اعظم خان بادشاہ وقت سلطان تغلق کا وزیر تھا ایک دن شیخ قطبِ عالم سر پر لکڑیاں اٹھائے گزرے تو اعظم خان نے روک کر کہا بھائی کب تک خانقاہ کی لکڑیاں اٹھاتے رہوگے ۔ آؤ! میں تمہیں کسی اعلیٰ منصب پر لگا دیتا ہوں جہاں تم آرام سے زندگی بسر کر سکو، آپ نے فرمایا: " تمہارا منصب اور آرام عارضی اور وقتی ہے مگر میری خدمات ہمیشہ ہمیشہ یاد گار رہیں گی میں ان خدمات کو چھوڑ کر منصب شاہی قبول کرنے کو تیار نہیں " ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا سال وصال 18 ربیع الثانی 851ھ / بمطابق جولائی 1447 ء میں ہوا ۔ آپ کا مزار قصبہ پنداوہ بنگال میں واقع مرجع خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع: اخبار الاخیار ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-nooruddin-noor-qutb-alam-pindwi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Nooruddin Noor Qutb Alam Pindwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الہی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد نظام الدین ۔ القاب: محبوبِ الہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء، نظام الدین اولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید محمد بن سید احمد بن سید علی بخاری بن سید عبد اللہ خلمی بن سید حسن خلمی بن سید علی مشہدی بن سید احمد مشہدی بن سید ابی عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام علی ہادی نقی بن امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ (اقتباس الانوار: 473 / مجلہ معارف اولیاء، اگست، 2006) ۔
آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ بی بی زلیخا علیہا الرحمہ اپنی وقت کی رابعہ ثانی تھیں ۔ یہ حضرت خواجہ عرب بخاری کی اکلوتی صاحبزادی تھیں ۔ حضرت خواجہ عرب کے والدِ گرامی سید ابو المفاخر بن سید محمد طاہر، حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی کے خلیفہ تھے ۔سید محمد طاہر بن سید حسین بن سید علی ۔ جن کا ذکر سلسلۂ نسب میں ہو چکا ہے ۔ (اقتباس الانوار: 473) ۔ یہ عظیم خاندان ساداتِ بخارا سے تعلق رکھتا ہے ۔ ان کا مسکن ’’ بخارا ‘‘ تھا ۔ جب چنگیز خان نے وسط ایشیائی علاقوں کو تاراج کرنا شروع کیا تو حضرت محبوب الہی کے دادا سید علی بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان کا رخ کیا ۔ ابتداً کچھ عرصہ لاہور میں قیام پذیر رہے ۔ پھر بدایوں چلے آئے۔بدایوں میں ہی مستقل سکونت اختیار کرلی ۔(بہار ِچشت: 93)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 صفر المظفر 636ھ مطابق 6 اکتوبر 1238ء، بروز بدھ ’’ بدایوں ئہ‘‘ ہند میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت محبوب الہی صرف پانچ سال کے تھےکہ والد گرامی کاوصال ہوگیا۔اس طرح تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ کو نبھانا پڑی۔عجب اتفاق ہے کہ حضرت محبوب ِ سبحانی ہوں،یا حضرت محبوب ِالٰہی،ان مقدس ماؤں نے اپنی اولادکی ایسی تربیت کی کہ تاریخ ان ماؤں کی حسنِ تربیت کی آج بھی معترف ہے۔جب پڑھنے کےلائق ہوئے تو مولانا علاؤالدین اصولی سے فقہ واصول ِ فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ علم کی مزید تڑپ پیداہوئی تو دہلی آگئے،دہلی ان دنوں علم وفن کامرکز تھا۔وہاں خواجہ شمس الدین خوارزمی، امامِ لغت وحدیث مولانا رضی الدین حسن صاغانی،علامہ کمال الدین زاہد،مولانا برہان الدین محمود،مولانا امین الدین محدث تبریزی علیہم الرحمہ سےتمام علوم منقولات ومعقولات میں کمال حاصل کیا۔
خوش قسمتی کی انتہایہ ہوئی کہ جس محلے میں ان کا قیام تھا وہیں پڑوس میں قطبِ وقت حضرت شیخ نجیب الدین متوکل (برادر حضرت بابا فرید) رہائش پذیر تھے۔انہوں نےآپ کو دیکھتےہی فرمایا تم اجودھن(پاکپتن) میں شیخ العالم فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں جاؤ۔
حضرت محبوب الہی بیس سال کی عمر میں 15 رجب 655ھ کو پاکپتن حاضر ہوئے۔اس وقت حضرت بابا فرید خود تدریس فرماتےتھے۔ ان کی درگاہ نشرِ علم کا بہت بڑا حوالہ تھی۔جب درس میں شریک ہوئے تو محسوس ہوا یہ علم کا بحرِ بےکنار ہیں۔تمام علوم میں دریا کی روانی محسوس ہوتی تھی۔پوچھا کہاں تک پڑھا ہے؟ عرض کیا۔ تمام مروجہ نصاب کی تکمیل کی ہوئی ہے۔فرمایا۔قرآنِ مجید حفظ کیا ہے۔عرض کیا نہیں۔چھ پارے تجوید کےساتھ خود پڑھائے۔اس کےبعد عوارف المعارف،تمہید ابوشکور سالمی،تمہید المبتدی اور دیگر کتب پڑھائیں۔(ہمارے زمانے میں پیر ہوتا ہی وہی ہے جو درس وتدریس، علم وعمل سے کوسوں دور ہو، بقول حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اِس وقت جو اپنی ولایت کو چھپانا چاہے،وہ علماء کی صف میں شامل ہوجائے،کوئی اس کو ولی تسلیم ہی نہیں کرےگا۔تونسوی ؔغفرلہ)
بیعت و خلافت:
اسی حاضر ی میں ہی قطب العالم،شیخ شیوخ العالم حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے اور651ھ میں خلافت سے مشرف ہوئے۔حضرت گنج شکر نے روانہ کرتے وقت ارشاد فرمایا: ’’برو ملک ہند بگیر‘‘جاؤ مُلک ِ ہندوستان تمھاری ملکیت میں دیاہے اسے سنبھالو۔تاریخ آج بھی اس ارشاد کی صداقت پر شاہد ہے ۔ (بہارِ چشت94) ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید محمد نظام الدین ۔ القاب: محبوبِ الہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء، نظام الدین اولیاء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت سید محمد بن سید احمد بن سید علی بخاری بن سید عبد اللہ خلمی بن سید حسن خلمی بن سید علی مشہدی بن سید احمد مشہدی بن سید ابی عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام علی ہادی نقی بن امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ (اقتباس الانوار: 473 / مجلہ معارف اولیاء، اگست، 2006) ۔
آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ بی بی زلیخا علیہا الرحمہ اپنی وقت کی رابعہ ثانی تھیں ۔ یہ حضرت خواجہ عرب بخاری کی اکلوتی صاحبزادی تھیں ۔ حضرت خواجہ عرب کے والدِ گرامی سید ابو المفاخر بن سید محمد طاہر، حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی کے خلیفہ تھے ۔سید محمد طاہر بن سید حسین بن سید علی ۔ جن کا ذکر سلسلۂ نسب میں ہو چکا ہے ۔ (اقتباس الانوار: 473) ۔ یہ عظیم خاندان ساداتِ بخارا سے تعلق رکھتا ہے ۔ ان کا مسکن ’’ بخارا ‘‘ تھا ۔ جب چنگیز خان نے وسط ایشیائی علاقوں کو تاراج کرنا شروع کیا تو حضرت محبوب الہی کے دادا سید علی بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان کا رخ کیا ۔ ابتداً کچھ عرصہ لاہور میں قیام پذیر رہے ۔ پھر بدایوں چلے آئے۔بدایوں میں ہی مستقل سکونت اختیار کرلی ۔(بہار ِچشت: 93)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 صفر المظفر 636ھ مطابق 6 اکتوبر 1238ء، بروز بدھ ’’ بدایوں ئہ‘‘ ہند میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت محبوب الہی صرف پانچ سال کے تھےکہ والد گرامی کاوصال ہوگیا۔اس طرح تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ کو نبھانا پڑی۔عجب اتفاق ہے کہ حضرت محبوب ِ سبحانی ہوں،یا حضرت محبوب ِالٰہی،ان مقدس ماؤں نے اپنی اولادکی ایسی تربیت کی کہ تاریخ ان ماؤں کی حسنِ تربیت کی آج بھی معترف ہے۔جب پڑھنے کےلائق ہوئے تو مولانا علاؤالدین اصولی سے فقہ واصول ِ فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ علم کی مزید تڑپ پیداہوئی تو دہلی آگئے،دہلی ان دنوں علم وفن کامرکز تھا۔وہاں خواجہ شمس الدین خوارزمی، امامِ لغت وحدیث مولانا رضی الدین حسن صاغانی،علامہ کمال الدین زاہد،مولانا برہان الدین محمود،مولانا امین الدین محدث تبریزی علیہم الرحمہ سےتمام علوم منقولات ومعقولات میں کمال حاصل کیا۔
خوش قسمتی کی انتہایہ ہوئی کہ جس محلے میں ان کا قیام تھا وہیں پڑوس میں قطبِ وقت حضرت شیخ نجیب الدین متوکل (برادر حضرت بابا فرید) رہائش پذیر تھے۔انہوں نےآپ کو دیکھتےہی فرمایا تم اجودھن(پاکپتن) میں شیخ العالم فرید الدین مسعود گنج شکر کی خدمت میں جاؤ۔
حضرت محبوب الہی بیس سال کی عمر میں 15 رجب 655ھ کو پاکپتن حاضر ہوئے۔اس وقت حضرت بابا فرید خود تدریس فرماتےتھے۔ ان کی درگاہ نشرِ علم کا بہت بڑا حوالہ تھی۔جب درس میں شریک ہوئے تو محسوس ہوا یہ علم کا بحرِ بےکنار ہیں۔تمام علوم میں دریا کی روانی محسوس ہوتی تھی۔پوچھا کہاں تک پڑھا ہے؟ عرض کیا۔ تمام مروجہ نصاب کی تکمیل کی ہوئی ہے۔فرمایا۔قرآنِ مجید حفظ کیا ہے۔عرض کیا نہیں۔چھ پارے تجوید کےساتھ خود پڑھائے۔اس کےبعد عوارف المعارف،تمہید ابوشکور سالمی،تمہید المبتدی اور دیگر کتب پڑھائیں۔(ہمارے زمانے میں پیر ہوتا ہی وہی ہے جو درس وتدریس، علم وعمل سے کوسوں دور ہو، بقول حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اِس وقت جو اپنی ولایت کو چھپانا چاہے،وہ علماء کی صف میں شامل ہوجائے،کوئی اس کو ولی تسلیم ہی نہیں کرےگا۔تونسوی ؔغفرلہ)
بیعت و خلافت:
اسی حاضر ی میں ہی قطب العالم،شیخ شیوخ العالم حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے اور651ھ میں خلافت سے مشرف ہوئے۔حضرت گنج شکر نے روانہ کرتے وقت ارشاد فرمایا: ’’برو ملک ہند بگیر‘‘جاؤ مُلک ِ ہندوستان تمھاری ملکیت میں دیاہے اسے سنبھالو۔تاریخ آج بھی اس ارشاد کی صداقت پر شاہد ہے ۔ (بہارِ چشت94) ـ
👍1
سیرت و خصائص:
محبوبِ الہی،سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء،سید الاولیاء،زینۃ الاصفیاء،عمدۃ الاتقیاء،حضرت سیدنانظام الدین اولیاء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوبیت اور قربِ خاص کے مقام پر فائز تھے۔ آپ کی برکات کے اثرات سے ہندوستان لبریز ہے۔آپ جیسے اسرارِ طریقت وحقیقت میں اولیاء کامل و مکمل تھے ویسے ہی علومِ فقہ و حدیث و تفسیر و صرف و نحو،منطق،معانی،ادب میں فاضل اجل عالم اکمل تھے۔ حضرت نظام الدین اولیا ءکو اللہ تعالیٰ نے کافی مقبولیت دی، عام و خاص سب لوگ آپ کی طرف رجوع کرنے لگے۔شیخ العالم حضرت بابافرید الدین مسعود گنج ِشکر کی خانقاہ میں رشدوہدایت کے ساتھ ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ بھی رہتا تھا۔اس لیے مرشدِ کریم نے حضرت محبوب الہی کو بھی یہ سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:’’شاگردوں کو تعلیم دیں، خطا وتصحیف سے بچتے رہیں، لغزشوں کی اصلاح اور تنقیح میں پوری کوشش کریں،جو کچھ مجھ سے سنا اور اسے یاد رکھنا اور دوسروں تک پہنچانا‘‘۔
؏: خوشا مسجد ومدرسہ و خانقاہے
کہ در وے قیل و قال محمد ﷺ
حضرت محبوب الہی نے اپنے مرشدِ برحق کی ہدایات پردل وجان سے عمر بھر عمل کیا۔آپ نے بحکمِ مرشد دہلی میں رہائش اختیار فرمائی تو اس وقت معز الدین کیقباد تختِ دہلی پر متمکن تھا۔جو عیش ونشاط میں غرق ہوکر رہ گیا تھا،اور پھر یہی رنگ ڈھنگ عوام میں بھی سرایت کرگیا۔ہرطرف فسق و فجورکا دور دورہ تھا،مسجدیں اور خانقاہیں ویران ہوگئیں۔اخلاقی بے راہ روی نے ہر کس وناکس کو متاثر کررکھاتھا۔حضرت محبوبِ الہی بھی اس ماحول کو دیکھ کر اتنے آزردہ خاطر ہوئے کہ دہلی سے ہجرت کا ارادہ کرلیا تھا۔لیکن بعد میں یہیں رہنے کاعزم ِ مصمم کرلیا۔بڑی قوت وتندہی کے ساتھ تبلیغِ اسلام میں مصروف ہوگئے۔تو پھر کیا تھا کہ گناہوں میں غرق افراد گروہ در گروہ آپ کی بارگا ہ میں حاضر ہوکر تائب ہونے لگے۔تاریخ فیروز شاہی میں ہے کہ حضرت کی برکت سے عوام کا رجحان دین داری کی طرف بہت ہوگیا تھا۔حضرت کے اکثر مرید دوتہائی ، یاتین رات تمام سال قیام الیل میں گزارتے۔عام لوگوں کی زبان پر بھی شراب وشاہد،فسق وفجور، قمار بازی، فحش حرکات کا ذکر تک نہ آتا تھا۔دوکانداروں میں جھوٹ،کم تولنا،مکاری ودغا،دھوکہ دہی اور نادانوں کا پیسہ دبالینا سب قطعی طور پر ختم ہوگئے تھے۔ (ضیائے حرم شمس العارفین نمبر:38)
حضرت کا فیض عام لوگوں تک محدود نہ تھا بلکہ دربارِ سلطانی سے منسلک امراء ورؤساء کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ تھی۔شراب وکباب کےدلدادہ یہ لوگ آپ کی برکت سے چاشت،اور اشراق کی نمازیں اداکرتے ،اور ایامِ بیض اور عشرۂ ذوالحجہ کے روزےرکھتےتھے۔پھر سے اللہ جل شانہ اور اس کے حبیب ِ پاکﷺ سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال ہوگیا۔یہ صرف آٹھ سال کے قلیل عرصے میں دہلی کا اخلاقی اور معاشرتی نقشہ بدل کر رکھ دیا،اور بڑی خاموشی کے ساتھ ایک نئی تہذیب کی بنیاد ڈالی، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔(مجلہ معارفِ اولیا،اگست،2006:)
حضرت محبوب الہی ان جلیل القدر شخصیات میں سے ہیں جنہیں قدرت نے تجدید واحیائے دین کےلئے منتخب فرمایا۔آپ نے ساتویں صدی ہجری میں ہندوستانی مسلمانوں پر آنے والی علمی،اخلاقی،سماجی زوال کے دور میں اصلاح احوال کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔اللہ جل شانہ نے آپ کو ’’محبوبیت‘‘ کےمقام پر فائز فرمایا۔گزشتہ سات صدیوں سے آپ کو’’محبوبِ الہی‘‘ کےلقب سے یادکیا جارہاہے۔آپ کی ولادت باسعادت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی سے تہتر سال بعد ہوئی۔دونوں بزرگوں نے اپنی تجدیدی کاششوں اور کاوشوں کی بدولت امت کے نحیف وناتواں بدن ایک نئی روح پھونک دی۔ان دونوں حضرات کو اللہ جل شانہ نے محبوبیت کے منفرد مقام پر فائز فرمایا۔بقول حضرت غوث علی شاہ قلندر پانی پتی فرماتے ہیں: ’’اس امت میں لاکھوں اولیاء ہوئے ہیں۔لیکن محبوبیت کے جس مقام پر محبوب سبحانی حضر ت شیخ عبدالقادر جیلانی اور حضرت محبوب ِ الہی خواجہ نظام الدین اولیاء پہنچے ہیں ،وہاں کوئی اورنہیں پہنچا۔(ایضا: 85)۔
تعلیمات:
(1) کسی نے کانٹا رکھا تم نے بھی کانٹا رکھا تو اس طرح ہر طرف کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے،اور تم کانٹے اٹھانے والے بنو۔(2) خلقِ خدا سے جدا ہوکر اللہ اللہ کرنا جواں مردی نہیں،جواں مردی یہ ہے کہ درمیان میں رہو جفااور ظلم برداشت کرو۔
تاریخِ وصال:
18 ربیع الثانی 725ھ مطابق 4 اپریل 1325ء بروز بدھ ، واصل باللہ ہوئے۔مزار مبارک دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار۔بہار چشت ۔ ضیائے حرم ۔ مجلہ معارفِ اولیاء ۔
مفکرِ اسلام شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا خراجِ عقیدت:
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری، فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
نہاں ہے تیری محبت میں رنگِ محبوبی
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تیرا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-nizamuddin-auliya
محبوبِ الہی،سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء،سید الاولیاء،زینۃ الاصفیاء،عمدۃ الاتقیاء،حضرت سیدنانظام الدین اولیاء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوبیت اور قربِ خاص کے مقام پر فائز تھے۔ آپ کی برکات کے اثرات سے ہندوستان لبریز ہے۔آپ جیسے اسرارِ طریقت وحقیقت میں اولیاء کامل و مکمل تھے ویسے ہی علومِ فقہ و حدیث و تفسیر و صرف و نحو،منطق،معانی،ادب میں فاضل اجل عالم اکمل تھے۔ حضرت نظام الدین اولیا ءکو اللہ تعالیٰ نے کافی مقبولیت دی، عام و خاص سب لوگ آپ کی طرف رجوع کرنے لگے۔شیخ العالم حضرت بابافرید الدین مسعود گنج ِشکر کی خانقاہ میں رشدوہدایت کے ساتھ ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ بھی رہتا تھا۔اس لیے مرشدِ کریم نے حضرت محبوب الہی کو بھی یہ سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:’’شاگردوں کو تعلیم دیں، خطا وتصحیف سے بچتے رہیں، لغزشوں کی اصلاح اور تنقیح میں پوری کوشش کریں،جو کچھ مجھ سے سنا اور اسے یاد رکھنا اور دوسروں تک پہنچانا‘‘۔
؏: خوشا مسجد ومدرسہ و خانقاہے
کہ در وے قیل و قال محمد ﷺ
حضرت محبوب الہی نے اپنے مرشدِ برحق کی ہدایات پردل وجان سے عمر بھر عمل کیا۔آپ نے بحکمِ مرشد دہلی میں رہائش اختیار فرمائی تو اس وقت معز الدین کیقباد تختِ دہلی پر متمکن تھا۔جو عیش ونشاط میں غرق ہوکر رہ گیا تھا،اور پھر یہی رنگ ڈھنگ عوام میں بھی سرایت کرگیا۔ہرطرف فسق و فجورکا دور دورہ تھا،مسجدیں اور خانقاہیں ویران ہوگئیں۔اخلاقی بے راہ روی نے ہر کس وناکس کو متاثر کررکھاتھا۔حضرت محبوبِ الہی بھی اس ماحول کو دیکھ کر اتنے آزردہ خاطر ہوئے کہ دہلی سے ہجرت کا ارادہ کرلیا تھا۔لیکن بعد میں یہیں رہنے کاعزم ِ مصمم کرلیا۔بڑی قوت وتندہی کے ساتھ تبلیغِ اسلام میں مصروف ہوگئے۔تو پھر کیا تھا کہ گناہوں میں غرق افراد گروہ در گروہ آپ کی بارگا ہ میں حاضر ہوکر تائب ہونے لگے۔تاریخ فیروز شاہی میں ہے کہ حضرت کی برکت سے عوام کا رجحان دین داری کی طرف بہت ہوگیا تھا۔حضرت کے اکثر مرید دوتہائی ، یاتین رات تمام سال قیام الیل میں گزارتے۔عام لوگوں کی زبان پر بھی شراب وشاہد،فسق وفجور، قمار بازی، فحش حرکات کا ذکر تک نہ آتا تھا۔دوکانداروں میں جھوٹ،کم تولنا،مکاری ودغا،دھوکہ دہی اور نادانوں کا پیسہ دبالینا سب قطعی طور پر ختم ہوگئے تھے۔ (ضیائے حرم شمس العارفین نمبر:38)
حضرت کا فیض عام لوگوں تک محدود نہ تھا بلکہ دربارِ سلطانی سے منسلک امراء ورؤساء کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ تھی۔شراب وکباب کےدلدادہ یہ لوگ آپ کی برکت سے چاشت،اور اشراق کی نمازیں اداکرتے ،اور ایامِ بیض اور عشرۂ ذوالحجہ کے روزےرکھتےتھے۔پھر سے اللہ جل شانہ اور اس کے حبیب ِ پاکﷺ سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال ہوگیا۔یہ صرف آٹھ سال کے قلیل عرصے میں دہلی کا اخلاقی اور معاشرتی نقشہ بدل کر رکھ دیا،اور بڑی خاموشی کے ساتھ ایک نئی تہذیب کی بنیاد ڈالی، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔(مجلہ معارفِ اولیا،اگست،2006:)
حضرت محبوب الہی ان جلیل القدر شخصیات میں سے ہیں جنہیں قدرت نے تجدید واحیائے دین کےلئے منتخب فرمایا۔آپ نے ساتویں صدی ہجری میں ہندوستانی مسلمانوں پر آنے والی علمی،اخلاقی،سماجی زوال کے دور میں اصلاح احوال کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔اللہ جل شانہ نے آپ کو ’’محبوبیت‘‘ کےمقام پر فائز فرمایا۔گزشتہ سات صدیوں سے آپ کو’’محبوبِ الہی‘‘ کےلقب سے یادکیا جارہاہے۔آپ کی ولادت باسعادت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی سے تہتر سال بعد ہوئی۔دونوں بزرگوں نے اپنی تجدیدی کاششوں اور کاوشوں کی بدولت امت کے نحیف وناتواں بدن ایک نئی روح پھونک دی۔ان دونوں حضرات کو اللہ جل شانہ نے محبوبیت کے منفرد مقام پر فائز فرمایا۔بقول حضرت غوث علی شاہ قلندر پانی پتی فرماتے ہیں: ’’اس امت میں لاکھوں اولیاء ہوئے ہیں۔لیکن محبوبیت کے جس مقام پر محبوب سبحانی حضر ت شیخ عبدالقادر جیلانی اور حضرت محبوب ِ الہی خواجہ نظام الدین اولیاء پہنچے ہیں ،وہاں کوئی اورنہیں پہنچا۔(ایضا: 85)۔
تعلیمات:
(1) کسی نے کانٹا رکھا تم نے بھی کانٹا رکھا تو اس طرح ہر طرف کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے،اور تم کانٹے اٹھانے والے بنو۔(2) خلقِ خدا سے جدا ہوکر اللہ اللہ کرنا جواں مردی نہیں،جواں مردی یہ ہے کہ درمیان میں رہو جفااور ظلم برداشت کرو۔
تاریخِ وصال:
18 ربیع الثانی 725ھ مطابق 4 اپریل 1325ء بروز بدھ ، واصل باللہ ہوئے۔مزار مبارک دہلی میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار۔بہار چشت ۔ ضیائے حرم ۔ مجلہ معارفِ اولیاء ۔
مفکرِ اسلام شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا خراجِ عقیدت:
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری، فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
نہاں ہے تیری محبت میں رنگِ محبوبی
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تیرا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khwaja-nizamuddin-auliya
scholars.pk
Hazrat Khwaja Nizamuddin Auliya
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Sultan-ul-Hind Hazrat Khwaja Nizamuddin Auliya