حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اصل نام میراں محمد شاہ تھا ۔ عرفِ عام میں حضرت موج دریا بخاری رحمتہ اللہ علیہ کہا جاتا ہے، بخاری سادات میں سے تھے ۔
سلسلۂ نسب یوں ہیں:
میراں محمد شاہ بن سید صفی الدین بن سید نظام الدین بن سید علم الدین ثانی بن سید جلال الدین بن سید علم الدین اول سید ناصر الدین بن سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن سید شیر شاہ جلال الدین الا عظم امیر سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیہم ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1533ء میں " اوچ شریف " میں پیدا ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
لاہور میں آمد تذکرۃ الاولیاء، کرام میں لکھا ہے کہ جب شہنشاہ اکبر سے قلعہ چتوڑ فتح نہ ہو سکا تو اس نے درباریوں کے کہنے پر آپ سے دعا کے لئے استدعا کی چنانچہ آپ کی دعا سے قلعہ فتح ہو گیا تو بادشاہ نے آپ سے لاہور میں اقامت گزین ہونے کی درخواست کی جو آپ نے منظور فرمائی اور یہاں چلے آئے، بقول مصنف، تحقیقات چشتی، بادشاہ نے آپ کے نام نو لاکھ روپیہ کی جاگیر علاقہ بٹالہ میں وقف کر دی ـ
رائے بہادر کہنیا مصنف، تاریخ لاہور، نے لکھا ہے کہ بادشاہ نے بہ کمال ارادت دو لاکھ روپے کی جاگیر درویشان خانقاہ کے خرچ کے لئے دی تھی، سید محمد لطیف نے لکھا ہے جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ فرمان جس کی رو سے یہ جاگیر حضرت سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نذر ہوئی تھی ابھی تک اس خاندان کے پاس محفوظ ہے، اس شہنشاہ اکبر کی مہر اور اس کے دستخط موجود ہیں ۔
جب آپ لاہور تشریف لائے تو آپ نے علوم ظاہری و باطنی کی تاریج کے لئے ہر ممکن کوشش کی، فیضان حق کو حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے لوگ لاہور میں آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تو اپنے دامن کو ان نعمتوں سے مالا مال کرتے، آپ نے یہاں درس و تدریس کا خاص انتظام فرمایا، فقر اور خادماؤں کے لئے مکانات بنوائے، لنگر خانہ قائم کیا، لاہور کے لنگر خانہ کے علاوہ آنجناب نے دو اور لنگر خانہ بٹالہ اور خان فتا میں قائم کئے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 17 ربیع الثانی 1013ھ / بمطابق ستمبر 1604ء میں وصال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع:
لاہور کے اولیائے سہروردیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-meeran-muhammad-shah-moj-darya-bukhari-lahori
نام و نسب:
آپ کا اصل نام میراں محمد شاہ تھا ۔ عرفِ عام میں حضرت موج دریا بخاری رحمتہ اللہ علیہ کہا جاتا ہے، بخاری سادات میں سے تھے ۔
سلسلۂ نسب یوں ہیں:
میراں محمد شاہ بن سید صفی الدین بن سید نظام الدین بن سید علم الدین ثانی بن سید جلال الدین بن سید علم الدین اول سید ناصر الدین بن سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن سید شیر شاہ جلال الدین الا عظم امیر سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیہم ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1533ء میں " اوچ شریف " میں پیدا ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
لاہور میں آمد تذکرۃ الاولیاء، کرام میں لکھا ہے کہ جب شہنشاہ اکبر سے قلعہ چتوڑ فتح نہ ہو سکا تو اس نے درباریوں کے کہنے پر آپ سے دعا کے لئے استدعا کی چنانچہ آپ کی دعا سے قلعہ فتح ہو گیا تو بادشاہ نے آپ سے لاہور میں اقامت گزین ہونے کی درخواست کی جو آپ نے منظور فرمائی اور یہاں چلے آئے، بقول مصنف، تحقیقات چشتی، بادشاہ نے آپ کے نام نو لاکھ روپیہ کی جاگیر علاقہ بٹالہ میں وقف کر دی ـ
رائے بہادر کہنیا مصنف، تاریخ لاہور، نے لکھا ہے کہ بادشاہ نے بہ کمال ارادت دو لاکھ روپے کی جاگیر درویشان خانقاہ کے خرچ کے لئے دی تھی، سید محمد لطیف نے لکھا ہے جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ فرمان جس کی رو سے یہ جاگیر حضرت سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نذر ہوئی تھی ابھی تک اس خاندان کے پاس محفوظ ہے، اس شہنشاہ اکبر کی مہر اور اس کے دستخط موجود ہیں ۔
جب آپ لاہور تشریف لائے تو آپ نے علوم ظاہری و باطنی کی تاریج کے لئے ہر ممکن کوشش کی، فیضان حق کو حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے لوگ لاہور میں آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تو اپنے دامن کو ان نعمتوں سے مالا مال کرتے، آپ نے یہاں درس و تدریس کا خاص انتظام فرمایا، فقر اور خادماؤں کے لئے مکانات بنوائے، لنگر خانہ قائم کیا، لاہور کے لنگر خانہ کے علاوہ آنجناب نے دو اور لنگر خانہ بٹالہ اور خان فتا میں قائم کئے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 17 ربیع الثانی 1013ھ / بمطابق ستمبر 1604ء میں وصال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع:
لاہور کے اولیائے سہروردیہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-meeran-muhammad-shah-moj-darya-bukhari-lahori
scholars.pk
Hazrat Syed Meeran Muhammad Shah Moj Darya Bukhari Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری کندی والا بخاری علیہ الرحمہ
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد شاہ تھا ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دینی تعلیم بخارا میں حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
صدیوں پہلے سندھ کی دھرتی پر آنے والے بزرگوں میں ایک شخصیت آپ کی ہے ۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اسلام کی تبلیغ کی خاطر وطن سے " سبزوار " علاقے کا قصد فرمایا اور یہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا ۔ اپ کے دست حق پر کئی ہزار کافر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے ۔
سبزوار سے آپ نے ہند کا قصد فرمایا اور کئی علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے سندھ میں تشریف لائے ۔ اور کراچی کے علاقے کھارا در میں مستقل قیام فرمایا اور کھارا در کے علاقے جعفر فدو ٹاور کے قریب جہاں آپ کا مزار ہے وہیں ایک جھونپڑی میں مشغول عبادت رہے، درگاہ شریف کے برابر میں موجودہ مسجد حیدری جو آج بھی قائم ہے ،۔ اس کی بنیاد آپ نے اپنے دست مبار ک سے رکھی ۔ اس زمانے میں جعفر فدو ٹاور روڈ پر آج کل کی طرح لمبی لمبی سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں نہ تھیں بلکہ وہاں لیاری ندی بہتی تھی اور سندھی زبان میں کنارہ کو ” کندی “ کہتے ہیں ۔ اور آپ نے اس ندی کے کنارے اپنا قیام فرمایا اس لیے آپ کو کندی والا بخاری کے نام سے بھی یاد کرنے لگے ۔ اور آج بھی آپ کا مزار اس نام سے مشہور ہے ۔
تاریخِ وصال:
دولہا شاہ سبزواری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 ربیع الثانی 701 ھ / بمطابق دسمبر 1301 ء کو کراچی میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ اولیاء سندھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-shah-dulha-sabzwari-hussaini-bukhari
نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد شاہ تھا ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دینی تعلیم بخارا میں حاصل کی ۔
سیرت و خصائص:
صدیوں پہلے سندھ کی دھرتی پر آنے والے بزرگوں میں ایک شخصیت آپ کی ہے ۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اسلام کی تبلیغ کی خاطر وطن سے " سبزوار " علاقے کا قصد فرمایا اور یہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا ۔ اپ کے دست حق پر کئی ہزار کافر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے ۔
سبزوار سے آپ نے ہند کا قصد فرمایا اور کئی علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے سندھ میں تشریف لائے ۔ اور کراچی کے علاقے کھارا در میں مستقل قیام فرمایا اور کھارا در کے علاقے جعفر فدو ٹاور کے قریب جہاں آپ کا مزار ہے وہیں ایک جھونپڑی میں مشغول عبادت رہے، درگاہ شریف کے برابر میں موجودہ مسجد حیدری جو آج بھی قائم ہے ،۔ اس کی بنیاد آپ نے اپنے دست مبار ک سے رکھی ۔ اس زمانے میں جعفر فدو ٹاور روڈ پر آج کل کی طرح لمبی لمبی سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں نہ تھیں بلکہ وہاں لیاری ندی بہتی تھی اور سندھی زبان میں کنارہ کو ” کندی “ کہتے ہیں ۔ اور آپ نے اس ندی کے کنارے اپنا قیام فرمایا اس لیے آپ کو کندی والا بخاری کے نام سے بھی یاد کرنے لگے ۔ اور آج بھی آپ کا مزار اس نام سے مشہور ہے ۔
تاریخِ وصال:
دولہا شاہ سبزواری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 ربیع الثانی 701 ھ / بمطابق دسمبر 1301 ء کو کراچی میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ اولیاء سندھ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-shah-dulha-sabzwari-hussaini-bukhari
scholars.pk
Hazrat Syed Muhammad Shah Dulha Sabzwari Hussaini Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2