🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
حضرت عبد اللہ محمد بن ابراہیم قریشی بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم القریشی الہاشمی علیہ الرحمۃ

آپ امام العارفین ، دلیل الساکین ، صاحب احوال فاخرہ اور کرامات میں روشن ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں ۔ العالم من نطق عن سرک واطلع علی عواقب امرک ـ یعنی در اصل عالم وہ ہے کہ وہ تیرے دل کی باتیں کرے اور تیرے انجام پر مطلع ہو ۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دن منا میں تھا ۔ کہیں مجھے پانی نہ ملا اور میرے پاس کچھ بھی نہ تھا کہ جس سے پانی مول لوں ۔ میں جا رہا تھا کہ کہیں کنواں ملے، جس سے پانی پئیوں ۔ آخر میں ایک کنواں پایا ۔ جس پر عجمی لوگ جمع ہو رہے تھے اور پانی کھینچتے تھے ۔ میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا کہ قدرے پانی اس لوٹا میں ڈال دو ۔ مجھ کو مارا اور لوٹے کو میرے ہاتھ سے چھین لیا اور پھینک دیا ۔ یہاں تک کہ میں نے لے لیا اور بہت شکتہ خاطر ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ چو بچہ میں میٹھا پانی ہے ۔ اس میں سے میں نے پانی لیا اور پیا ۔ میں نے لوٹے کو پانی سے بھر لیا اور دوستوں کے پاس لایا ۔ انہوں نے بھی اس سے پیا ۔ میں نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ۔ یہ سب وہاں گئے ۔ تاکہ اس سے پانی لیں ۔ جب پھر گئے تو وہاں نہ پانی تھا اور نہ اس کا کچھ اثر تھا ۔ میں نے یہ جانا کہ یہ خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی تھی ۔

و عن الشیخ بن الکسائی قال مرالشیخ ابو عبید اللہ علیہ الرحمۃ فی بعض قری مصرومعہ جماعہ من اصحابہ فوجدوا القریۃ عامرۃ بالبیوت والبساتین ولم یروابھا احد افسئال الشیخ عن سبب خلوھا فقیل لہ انھا مشہورۃ بمسکن الجن ومن سکنھامن الناس اذوہ اذی قطیعا وقد تفرق اھلھا فی القری فقال الشیخ لبعض الفقراء نادیا علی صوتک فی ارجاء القریہ معاشرہ الجان قدامرکم القرشی ان تر تحلوا عن ھذہ القریۃ ثم لا تعودو الیھا ولا توذواو احد من اھلھا اینما کانواومن خالف منکم ھلک فقال الرجل ینادی والفقراء یسمعون من القریۃ جائتہ مرحال فقال الشیخ ارتحلوا ولم یبق منھم عنھا احد فتسامع اھل ھذا القریہ وجاؤ ھاو عمرت بالناس ولم یتازا حدمنھم من الجان بعد ذالک ومن کلامہ مافی الوجود اعز من الاخ فا اللہ فاذا ظفرت بہ فاشدد یدک علیہ ومن لم یحفظ الادب ادرکہ العطب ومن لم یصحب الفقراء بالادب حرم برکتم ومن اعظم النقم ورود النقص علی العھد وھو لا یشعر من لکم یکن فی قلبہ شاھدا یستحیی منہ فی حرکاتہ لہ لم یتم لہ امرا ـ

یعنی: شیخ ابن کسائی سے منقول ہے کہ شیخ ابو عبد اللہ علیہ الرحمہ مصر کے ایک گاؤں میں گئے اور ان کے ساتھ فقراء کی ایک جماعت تھی ۔ اس گاؤں کو گھروں اور باغوں سے تو آباد پایا، لیکن اس میں کوئی آدمی نہ تھا ۔ تب شیخ نے اس کے خالی رہنے کی بابت پوچھا تو آپ سے کہا گیاکہ یہ گاؤں جنوں کی جگہ مشہور ہے اور جو لوگ اس میں رہتے تھے ۔ ان کو بہت ستایا کرتے تھے ۔ اس لیے وہ گاؤں چھوڑ کر نکل گئے ہیں ۔ تب شیخ نے اپنے ایک فقیر سے کہا کہ تم گاؤں کے اطراف میں پکار کر کہہ دو ۔ اے جنوں تم کو فرشی حکم دیتا ہے کہ اس گاؤں سے نکل جاؤ ۔ پھر کبھی یہاں نہ آنا اور یہاں کے کسی آدمی کو کہیں بھی ہو تکلیف نہ دینا ۔ جو تم سے ان کی مخالفت کرے گا ۔ ہلاک ہوگا ۔ وہ شخص پکارتا تھا اور فقراء سن رہے تھے ۔

شیخ نے کہا اب وہ چلے گئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا۔اس گاؤں والوں نے یہ واقعہ سنا تو سب آکر آباد ہو گئے اور جنوں سے پھر کسی نے بھی تکلیف نہ اٹھائی ۔ آپ کا یہ کلام ہے کہ وجود میں خدائی بھائی سے بڑھ کر کوئی عریز نہیں ۔ سو جب تو اس پر قابو پائےتو اس کو مضبوطی سے پکڑ لے ۔ جو شخص کے ادب کی حفاظت نہیں کرتا ۔ وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور جو شخص فقراء کا ادب نہیں کرتا ۔ ان کی برکت سے محروم رہتا ہے ۔ بہت بڑا گناہ و غضب الہٰی یہ ہے کہ عہد کا نقص ہو اور اس کو خبر نہ ہو ۔ جس کے دل میں ایسا شاہد نہیں ۔ جس سے وہ حیا کرے تو اس کا کام پورا نہ ہوگا ۔

وصال:
آپ ۵۹۹ھ میں فوت ہوئے ۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-muhammad-bin-ibrahim-qureshi-baghdadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا اصل نام میراں محمد شاہ تھا ۔ عرفِ عام میں حضرت موج دریا بخاری رحمتہ اللہ علیہ کہا جاتا ہے، بخاری سادات میں سے تھے ۔

سلسلۂ نسب یوں ہیں:
میراں محمد شاہ بن سید صفی الدین بن سید نظام الدین بن سید علم الدین ثانی بن سید جلال الدین بن سید علم الدین اول سید ناصر الدین بن سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن سید شیر شاہ جلال الدین الا عظم امیر سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیہم ۔

تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1533ء میں " اوچ شریف " میں پیدا ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
لاہور میں آمد تذکرۃ الاولیاء، کرام میں لکھا ہے کہ جب شہنشاہ اکبر سے قلعہ چتوڑ فتح نہ ہو سکا تو اس نے درباریوں کے کہنے پر آپ سے دعا کے لئے استدعا کی چنانچہ آپ کی دعا سے قلعہ فتح ہو گیا تو بادشاہ نے آپ سے لاہور میں اقامت گزین ہونے کی درخواست کی جو آپ نے منظور فرمائی اور یہاں چلے آئے، بقول مصنف، تحقیقات چشتی، بادشاہ نے آپ کے نام نو لاکھ روپیہ کی جاگیر علاقہ بٹالہ میں وقف کر دی ـ

رائے بہادر کہنیا مصنف، تاریخ لاہور، نے لکھا ہے کہ بادشاہ نے بہ کمال ارادت دو لاکھ روپے کی جاگیر درویشان خانقاہ کے خرچ کے لئے دی تھی، سید محمد لطیف نے لکھا ہے جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ فرمان جس کی رو سے یہ جاگیر حضرت سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نذر ہوئی تھی ابھی تک اس خاندان کے پاس محفوظ ہے، اس شہنشاہ اکبر کی مہر اور اس کے دستخط موجود ہیں ۔

جب آپ لاہور تشریف لائے تو آپ نے علوم ظاہری و باطنی کی تاریج کے لئے ہر ممکن کوشش کی، فیضان حق کو حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے لوگ لاہور میں آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تو اپنے دامن کو ان نعمتوں سے مالا مال کرتے، آپ نے یہاں درس و تدریس کا خاص انتظام فرمایا، فقر اور خادماؤں کے لئے مکانات بنوائے، لنگر خانہ قائم کیا، لاہور کے لنگر خانہ کے علاوہ آنجناب نے دو اور لنگر خانہ بٹالہ اور خان فتا میں قائم کئے ۔

تاریخِ وصال:
حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 17 ربیع الثانی 1013ھ / بمطابق ستمبر 1604ء میں وصال فرمایا ۔

ماخذ و مراجع:
لاہور کے اولیائے سہروردیہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-meeran-muhammad-shah-moj-darya-bukhari-lahori
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری کندی والا بخاری علیہ الرحمہ

نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد شاہ تھا ۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے ۔

تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دینی تعلیم بخارا میں حاصل کی ۔

سیرت و خصائص:
صدیوں پہلے سندھ کی دھرتی پر آنے والے بزرگوں میں ایک شخصیت آپ کی ہے ۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اسلام کی تبلیغ کی خاطر وطن سے " سبزوار " علاقے کا قصد فرمایا اور یہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا ۔ اپ کے دست حق پر کئی ہزار کافر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے ۔

سبزوار سے آپ نے ہند کا قصد فرمایا اور کئی علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے سندھ میں تشریف لائے ۔ اور کراچی کے علاقے کھارا در میں مستقل قیام فرمایا اور کھارا در کے علاقے جعفر فدو ٹاور کے قریب جہاں آپ کا مزار ہے وہیں ایک جھونپڑی میں مشغول عبادت رہے، درگاہ شریف کے برابر میں موجودہ مسجد حیدری جو آج بھی قائم ہے ،۔ اس کی بنیاد آپ نے اپنے دست مبار ک سے رکھی ۔ اس زمانے میں جعفر فدو ٹاور روڈ پر آج کل کی طرح لمبی لمبی سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں نہ تھیں بلکہ وہاں لیاری ندی بہتی تھی اور سندھی زبان میں کنارہ کو ” کندی “ کہتے ہیں ۔ اور آپ نے اس ندی کے کنارے اپنا قیام فرمایا اس لیے آپ کو کندی والا بخاری کے نام سے بھی یاد کرنے لگے ۔ اور آج بھی آپ کا مزار اس نام سے مشہور ہے ۔

تاریخِ وصال:
دولہا شاہ سبزواری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 ربیع الثانی 701 ھ / بمطابق دسمبر 1301 ء کو کراچی میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ اولیاء سندھ ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-shah-dulha-sabzwari-hussaini-bukhari
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1445 ᴴ | 02-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1