🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
شخصیت:
آپ نہ صرف مدرس ، مفتی اورقاضی تھے بلکہ ادیب ، شاعر، محقق مصنف اور حاضر جواب مناظر تھے۔ عربی و فارسی زبان اور شعر و ادب پر اس قدر دسترس رکھتے تھے جس قدر اپنی مادری زبان سندھی پر اور اس کے شعر و ادب پر رکھتے تھے۔ زندہ دلی ، شگفتگی ، سخن فہمی اور نکتہ رسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ مزاج میں بے انتہا خود داری اور خود اعتمادی تھی ۔ کتب متداولہ کا عمر بھر درس دیا ان کی امتیاز ی خصوصیت یہ تھی کہ فقہ اور اصول فقہ میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے بے شمار فتاویٰ موجود ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً ہر مسئلہ پر تحریر کئے ہیں ۔ آپ کا ہر فتویٰ مدلل اور مستند حوالہ جات سے مزین ہوتا تھا۔ آپ اہل سنت و جماعت کے قابل فخر سر مایہ تھے ۔ اہل سنت و جماعت سندھ کی تنظیم ’’ جمعیت الاحناف سندھ ‘‘ جو کہ سندھ کے نامور علماء نے فرقہ جدیدہ وہابیت دیوبند یت کے اصل کردار کر واضح کرنے اور عوام الناس کو ان کے عقائد باطلہ سے بچانے کے لئے بناتی تھی آپ اس تنظیم کے ناظم تھے اسی لئے اپنا پہلا تخلص ’’ حافظ ‘‘ ترک کر کے ’’ ناظم ‘‘ تخلص اختیار کیا ۔

مولانا محمد ابراہیم انتہائی نیکو کار، متقی اور عبادت گذار تھے ۔ سنت نبوی کے تابع اور حضور اکرم ﷺ کے عاشق زار، گھر کے قریب مسجد تھی نصف شب کے بعد مسجد میں جاتے تہجد ادا کر کے پہلے ذکر و فکر میں مشغول ہوتے اور پھر کھڑ ے ہو کر ہاتھ باندھ کر قصیدہ بردہ شریف پڑھنے اور جب اس شعر پر پہنچتے تو بار بار اس کی تکرار کرتے کہ:

ھو الحبیب الذی ترجیٰ شفاعتہ
لکل ھول من الاھوال مقتحم

اور زار وقطار روتے ہوئے اور اسی کیفیت میں پڑھتے اور قصیدہ بردہ شریف کا ختم فرماتے ۔

سراج العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی ( کوٹ مٹھن شریف ) کے خلیفہ ، عاشق رسول ، بلبل چمن رسالت مولانا محمد یار گڑھی شریف والے مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہیں:

خلیل وقت ابراہیم نامے
امامے حجت ہر خاص دعائے

اولاد:
آپ کو اکلوتا بیٹا حاجی محمد احسان سومرو پیدا ہوا، ان کا آپ کی زندگی میں ۱۹۶۰ء کو انتقال ہوا ۔

وصال:
مفتی محمد ابراہیم نے ۷ شعبان المعظم ۱۳۸۴ھ بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۶۴ء کو ۷۷ سال کی عمر میں ندائے ارجعی کو لبیک کہہ کر واصل بحق ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف گڑھی یسین میں زائرین کیلئے حصول برکت کا ذریعہ ہے ۔ آپ نے اپنے وصال سے قبل خود اپنا قطعہ تاریخ وصال کہاجو کہ درج ذیل ہے: ( مفتی محمد قاسم یاسینی اویسی کے ارسال کردہ مواد سے ماخوذ ہے ) ـ

ہرچہ آن دوست نمودہ است ہمہ دان کہ نکواست
باشد پسندیدہ دل آنچہ پسندیدہ اوست

خود بگفتا بدم آخر باطبع پاک
حمد اللہ کہ نمردیم رسیدیم بدوست
۱۲۷۷۔۱۰۷۔ ۱۳۸۴ھ

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-qasim-yasini
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ بدر الدین غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے، آپ کا وطن غزنی تھا، اکثر سماع میں محو رہتے، وقت کے مشائخ آپ کی بزرگی کے معترف تھے اور آپ کا ذکر اچھے طریقے سے کرتے، آپ خود بھی مجلسِ وعظ برپا کرتے آپ کی ایسی مجالس میں حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر حاضر ہوا کرتے تھے ۔

جن دنوں آپ غزنی سے بر صغیر ہندوستان میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے لاہور میں قیام کیا اور پھر دہلی گئے، وہاں جاکر قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے ۔

سیر الاولیاء کے مصنف نے لکھا ہے کہ شیخ بدر الدین حضرت خضر علیہ السلام سے ملا کرتے تھے، حضرت خضر بھی آپ کی مجالس میں تشریف لاتے، ایک دن آپ کے والد نے کہا کہ اگر میری حضرت خضر سے ملاقات کرا دو تو بڑی اچھی بات ہوگی، ایک دن آپ مسجد میں تقریر کر رہے تھے تو ایک شخص عام لوگوں سے ہٹ کر دور بیٹھا ہوا تھا حضرت شیخ بدرالدین نے اپنے والد کو اشارہ کرکے کہا کہ دیکھیے وہ خواجہ خضر بیٹھے ہیں، والد نے دل میں کہا کہ مجلسِ وعظ کے بعد میں خواجہ خضر سے مل لوں گا مجلسِ ختم ہوئی تو حضرت خضر بھی غائب تھے ۔

شیخ بدرالدین ۶۵۷ھ ( 16 ربیع الآخر 657 ) میں فوت ہوئے آپ کا مزار خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں کی طرف ہے ۔

بدر الدین چوں بخلد روشن شد
سالِ ترحیل آں شہِ حق بیں

کاشف راز اولیاء فرما ۶۵۷ھ
نیز پیر سعید بدرالدین ۶۵۷ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-badruddin-ghaznavi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
عبدالکریم ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ القاب: زین الاسلام، استاذ الصوفیاء، شیخ الجماعۃ، مقدمۃ الطائفہ، صاحبِ رسالہ قشیریہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو القاسم عبد الکریم قشیری بن ہوازن بن عبد الملک بن طلحہ بن محمد نیشاپوری ۔ قبیلۂ قشیر کی نسبت سے قشیری کہلاتے ہیں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الاول 376ھ /مطابق جولائی 986ء کو بمقام " استواء " مضافاتِ نیشاپور میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے علم کے لئے کئی بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا اور متعدد مشاہیرِ اسلام سے اخذ ِعلم کیا ۔ جن ابوالحسین بن بشران ، ابن الفضل بغدادی، ابو محمد کوفی، ابو نعیم، ابو القاسم بن حبیب قاضی، ابو بکر طوسی ۔ مشہور محدث امام ابو بکر بیہقی اور امام الحرمین جوینی کی صحبت میں رہے، اور ان کی معیت میں حج کی سعادت بھی حاصل کی، اسی طرح تصوف اور اخلاق کے متعدد شیوخ ہیں ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت شیخ ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
زین الاسلام ،حجۃ الاسلام ، شیخ الاسلام ، امام الاولیاء ، استاذ الصوفیاء ، رئیس العرفاء شیخ ابو القاسم عبد الکریم قشیری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے سب سے بڑے فقیہ، صوفی، عابد، زاہد، متکلم، اور متشرع تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ ظاہری و باطنی علوم میں " مرج البحرین " تھے ۔

تصنیفات:
آپ کی بہت تصانیف ہیں ۔ ان میں سے زیادہ مشہور " رسالہ قشیریہ " اور " لطائف الاشارات فی التفسیر " ہیں ۔

داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ علیہ الرحمہ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ہے ۔ اس لحاظ سے داتا صاحب آپ کے شاگرد ہیں ۔

داتا صاحب فرماتے ہیں:
متأخرین صوفیہ کے امام، الاستاذ، زین الاسلام، شیخ ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن ہواز قشیری رحنمۃ اللہ علیہ ۔ اپنے زمانے کے بدیع المثال لوگوں میں سے تھے ۔ مرتبے میں رفیع المثال، اور منازلِ سلوک میں علو الحال تھے ۔ ان کی بزرگی کا زمانہ معترف ہے ۔ ان کے فضائل بے شمار ہیں ۔ ہر علم میں ان کے لطائف بے حد و بے حساب ہیں ۔ تصانیف بہت زیادہ ہیں ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کے حال و قال کو حشو و زوائد سے محفوظ فرما دیا تھا ۔ (کشف المحجوب ، ص:328) ـ

خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
آپ ثقہ، واعظ، نکتہ داں، مذہبِ اشاعرہ کے اصول، اور مذہبِ شافعی کے فروع میں مہارت رکھتے تھے ۔

ابن الصلاح فرماتے ہیں:
حدیث، تفسیر، فقہ، اصول، ادب، صرف، نحو، شعر، تصوف، اور شریعت و حقیقت کے جامع تھے ۔

ابو اسحاق الصیرفینی فرماتے ہیں:
میں نے آپ جیسا صاحبِ علم و فن، جامع شریعت و طریقت نہیں دیکھا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز اتوار 16 ربیع الثانی 465ھ / مطابق 29 دسمبر 1072ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار نیشاپور میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
کشف المحجوب ، طبقات الشافعیہ ۔ وفیات الاعیان ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-qushayri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-04-1445 ᴴ | 31-10-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-04-1445 ᴴ | 01-11-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3